شیعیت

جنگ تبوک سخت گرمی اور معاشی تنگی کی حالت میں ہوئی اہم اصحاب رسول نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

کہا جاتا ہے غزوہ تبوک کے موقعہ پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کو مدینہ میں چھوڑا اور کہا کہ علی  کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ویسی ہی نسبت ہے جیسی کہ موسی و ہارون میں تھی –

اہل سنت کے مطابق یہ علی کی منقبت ہے اور یہ اسی طرح کا قول ہے جیسا کہ رسول الله نے دیگر اصحاب کے لئے کہا مثلا ابو عبیدہ  کو کہا کہ اس امت کے امین ہیں اور ان کو نجران بھیجا- کہا جا سکتا ہے خلافت کا حقدار صرف وہی ہے جو سب سے بڑھ کر امین ہو – لیکن اس طرح کا نتیجہ  نکالنے کا مقصد علی کی منقبت پر شک نہیں لیکن ان کے غالی شیعوں کے لئے مثال ہے

 کعب بن مالک اور دو اور صحابیوں کا نبی صلی الله علیہ وسلم نے تبوک  سے واپس آ کر   بائیکاٹ بھی کرایا تھا اور اس پر قرآن میں تبصرہ بھی ہے- نہایت مناسب ہوتا کہ امامت جیسے اہم مسئلہ پر بھی قرآن میں کوئی حکم آ جاتا  لیکن ایسا نہیں ہوا اور امت اس کے علم سے محروم رہ گئی

 شیعہ عقیدے کے مطابق حدیث منزلت  علی کی خلافت پر نص ہے-  مناسب ہے اس کو دیکھا جائے کہ اس میں کیا کہا گیا ہے

غَزْوَةُ تَبُوكَ سن ٩ ہجری  کے لئے ابن اسحاق سیرت میں لکھتے ہیں

 وَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، عَلَى أَهْلِهِ، وَأَمَرَهُ بِالْإِقَامَةِ فِيهِمْ، فَأَرْجَفَ بِهِ الْمُنَافِقُونَ، وَقَالُوا: مَا خَلَّفَهُ إلَّا اسْتِثْقَالًا لَهُ، وَتَخَفُّفًا مِنْهُ. فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ الْمُنَافِقُونَ، أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ سِلَاحَهُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجُرْفِ  ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زَعَمَ الْمُنَافِقُونَ أَنَّكَ إنَّمَا خَلَّفَتْنِي أَنَّكَ اسْتَثْقَلْتنِي وَتَخَفَّفَتْ مِنِّي، فَقَالَ: كَذَبُوا، وَلَكِنَّنِي خَلَّفْتُكَ لِمَا تَرَكْتُ وَرَائِي، فَارْجِعْ فَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي وَأَهْلِكَ، أَفَلَا تَرْضَى يَا عَلِيُّ أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، فَرَجَعَ عَلَيَّ إلَى الْمَدِينَةِ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَفَرِهِ.قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ هَذِهِ الْمَقَالَةَ.

 اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو اپنے گھر والوں کے لئے پیچھے چھوڑا تو مناقفوں نے اس پر افواہ پھیلائی اور کہا کہ اس کو اس لئے رکھا ہے کیونکہ اس کے لئے یہ کام بھاری ہے اور یہ کمزور ہے ، پس جب مناقفوں نے یہ بات کی تو علی بن ابی طالب نے اپنا اسلحہ لیا اور رسول الله کے پاس پہنچے اور نبی چٹانوں تک (مدینہ سے باہر) جا چکے تھے علی نے کہا اے نبی الله ! منافق کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے چھوڑا ہے کیونکہ مجھ پر یہ بھاری ہے اور میں اس قابل نہیں ؟ رسول الله نے کہا جھوٹ بولتے ہیں لیکنتم کو بنایا گیا ہے کہ تم میرے پیچھے رہو اور واپس میرے اور اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، کیا تم راضی نہیں اے علی کہ تمہارا درجہ میرے لئے ایسا ہو جیسا ہارون کا موسی کے لئے تھا؟  خبر دار میرے بعد کوئی نبی نہیں ! پس علی (یہ سن کر) واپس لوٹ گئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا – ابن اسحاق نے کہا مجھ سے مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ نے روایت کیا اس نے إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے اس نے   سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ سب علی کو کہتے سنا

ابن اسحاق اس کو إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے وہ   سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے روایت کرتے ہیں

 صحیح بخاری اور صحیح مسلم ، سنن ترمدی، ابن ماجہ ، مسند احمد،  میں مصعب بن سعد بن أبى وقاص اس کو سعد بن أبى وقاص سے روایت کرتے ہیں

سيرة ابن إسحاق  جس کے مؤلف  محمد بن إسحاق بن يسار المطلبي  (المتوفى: 151هـ) ہے   دار الفكر ، بيروت سے ١٩٧٨ میں شائع ہوئی ہے اس میں صحابیوں کا ذکر ملتا ہے جن کو مدینہ پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی غیر موجودگی میں مقرر کیا –  اسی طرح  السيرة النبوية لابن هشام  ،  شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده بمصر سے سن ١٩٥٥ میں چھپی ہے اس میں بھی  صحابیوں کا ذکر ملتا ہے جن کو مدینہ پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی غیر موجودگی میں مقرر کیا- ان کتب میں ان اصحاب رسول  کے نام ہیں جن کو رسول الله نے مدینہ پر اپنی غیر موجودگی میں مقرر کیا تھا – ان ناموں کی لسٹ یہ ہے

صحابی رسول رضی الله عنہما کو مدینہ پر نائب کیا موقعہ و محل
سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ نبی صلی الله علیہ وسلم مدینہ سے باہر گئے
   السَّائِبَ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ غَزْوَةُ بُوَاطٍ
  زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ غَزْوَةُ صَفْوَانَ وَهِيَ غَزْوَةُ بَدْرٍ الْأُولَى
سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيَّ  یا  ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ غَزْوَةُ بَنِي سُلَيْمٍ بِالْكَدَرِ
    أَبُو لُبَابَةَ بَشِيرَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ غَزْوَةُ السَّوِيقِ
عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ غَزْوَةُ ذِي أَمَرَ
ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ  غَزْوَةُ بَنِي النَّضِيرِ
أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ  اور کہا جاتا ہے عُثْمَانَ ابْن عَفَّانَ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بن سَلُولَ الْأَنْصَارِيَّ غَزْوَةُ بَدْرٍ
سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيَّ غَزْوَةُ دَوْمَةَ الْجَنْدَلِ
ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ غَزْوَةُ  خندق
ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ غَزْوَةُ  بنی قُرَيْظَةَ
ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ غَزْوَةُ بَنِي لِحْيَانَ
أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، اور کہا جاتا ہے نُمَيْلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللَّيْثِيُّ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ
نُمَيْلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللَّيْثِيُّ أَمْرُ الْحُدَيْبِيَةِ
نُمَيْلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللَّيْثِيُّ ، وَدَفَعَ الرَّايَةَ إلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَتْ بَيْضَاءَ

 

نبی صلی الله علیہ وسلم نے نُمَيْلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ اللَّيْثِيُّ کو نائب مدینہ مقرر کیا اور علی کو لشکر پر علم بردار کیا جو سفید تھا

 

غَزْوَةُ خَيْبَر
عُوَيْفَ بْنَ الْأَضْبَطِ الدِّيلِيَّ عمرہ کے لئے ذِي الْقَعْدَةِ میں مدینہ سے نکلے

 

 

محمد بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ یا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ غَزْوَةُ  تبوک

 

معلوم ہوا کہ علی رضی الله عنہ کو کسی بھی موقعہ پر مدینہ میں نائب نہیں کیا گیا بلکہ تبوک میں بھی ان کو صرف اہل بیت کی خواتین کی دیکھ بھال کے لئے چھوڑا گیا تھا  جو ایک ضروری امر تھا اور خود علی کو یہ نا پسند ہوا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کو عورتوں اور بچوں  کے ساتھ کیوں چھوڑ رہے ہیں – لہذا تالیف قلب کے لئے رسول الله نے ان کو کہا کہ جس طرح قوم بنی اسرائیل کو ہارون کے حوالے کر کے موسی کوہ طور گئے تھے اسی طرح علی کو منافقین کے ساتھ چھوڑا گیا ہے

اس حدیث سے علی کی خلافت پر اشارہ لینا بھی عبث ہے کیونکہ علی،  ہارون علیہ السلام جیسے تھے جو موسی علیہ السلام کے خلیفہ نہ ہوئے بلکہ یوشع بن نون ہوئے-

شیعہ حضرات کے اصول پر یہ روایت بنو امیہ کی گھڑی ہوئی بنتی ہے کیونکہ اس کی تمام صحیح اسناد  میں  سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ کا تفرد ہے جو شیعان معاویہ میں سے تھے-

حدیث کی صحاح ستہ سے باہر کی ایک دو کتب میں اس کو أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بھی روایت کرتی ہیں جو ابو بکر کی بیوی تھیں اور مرض وفات میں  دوا پلانے والے واقعہ میں دوا انہی کی بنائی ہوئی تھی ،جس کے لئے شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ اس میں زہر تھا – کسی خاتوں کا اس کو روایت کرنا بھی بحث سے خالی نہیں کیونکہ یقینا وہ اس موقعہ پر موجود نہ ہوں گی جب رسول الله نے علی کو یہ سب کہا، کیونکہ تمام مسلم خواتین مدینہ میں تھیں

شیعہ عالم مدقق آمدی حدیث منزلت  کو قبول نہیں کرتے اور رد کرتے ہیں

لب لباب یہ ہے کہ اس حدیث کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ علی رضی الله عنہ کو تبوک کے موقعہ پر اہل بیت کے بچوں اور خواتین کی دیکھ بھال پر مقرر کیا گیا تھا جو نبی صلی الله علیہ وسلم کا ایک خاندانی حکم تھا  اور مدینہ میں منافقین پر نظر رکھنے کے لئے ایک سیاسی حکمت عملی تھی   لیکن اس ذمہ داری میں وہ اکیلے نہیں تھے محمد بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ یا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ بھی ان کے ساتھ تھے بلکہ خود علی پر  اولوالامر  محمد بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ یا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ  کی اطاعت واجب تھی کیونکہ مدینہ پر نائب علی نہیں محمد بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ یا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ تھے

اہل سنت شروع سے ہی علی کی امامت کے انکاری رہے ہیں اس کی وجہ  یہ تھی کہ اس رائے پر کوئی نص نہ قرآن میں تھی نہ حدیث میں- علی خود بھی اس کے قائل نہیں تھے یہی وجہ تھی کہ غلو کے قائل لوگوں کے لئے قنبر کو پکارا

لما رأيت الأمر أمراً منكراً *** أوقدت ناري ودعوت قنبرا
جب میں نے  امر منکر دیکھا میں نے اگ بھڑکائی اور قنبر کو پکارا

 شیعان علی کے لشکر می صحابہ بھی  تھے لیکن جنگوں کے بعد سب صحابہ ایک ہو گئے – خود حسن رضی الله عنہ اور حسین رضی الله عنہ نے بھی امامت کے انکاری معاویہ رضی الله عنہ سے صلح کر لی – رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اس حدیث کا ان کو علم نہ تھا جو بعد کے شیعہ حواریوں نے سنائی

کتاب  اليقين – السيد ابن طاووس – ص 294 –  میں  علی کی امامت پر روایت ہے جس  کی سند اور متن ہے

حدثنا أحمد بن إدريس قال : حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى قال : حدثنا الحسين بن سعيد عن فضالة بن أيوب عن أبي بكر الحضرمي عن أبي عبد الله عليه السلام قال : أتى رجل إلى أمير المؤمنين وهو في مسجد الكوفة وقد احتبى بحمائل سيفه . فقال : يا أمير المؤمنين ، إن في القرآن آية قد أفسدت علي ديني وشككتني في ديني ! قال : وما ذاك ؟ قال : قول الله عز وجل * ( واسئل من أرسلنا من قبلك من رسلنا ، أجعلنا من دون الرحمان آلهة يعبدون ) *   ، فهل في ذلك الزمان نبي غير محمد صلى الله عليه وآله فيسأله عنه ؟ . فقال له أمير المؤمنين عليه السلام : إجلس أخبرك إنشاء الله ، إن الله عز وجل يقول في كتابه : * ( سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا ) * ، فكان من آيات الله التي أريها محمد صلى الله عليه وآله أنه انتهى جبرئيل إلى البيت المعمور وهو المسجد الأقصى ، فلما دنا منه أتى جبرئيل عينا فتوضأ منها ، ثم قال يا محمد ، توضأ . ‹ صفحة 295 › ثم قام جبرئيل فأذن ثم قال للنبي صلى الله عليه وآله : تقدم فصل واجهر بالقراءة ، فإن خلفك أفقا من الملائكة لا يعلم عدتهم إلا الله جل وعز . وفي الصف الأول : آدم ونوح وإبراهيم وهو وموسى وعيسى ، وكل نبي بعث الله تبارك وتعالى منذ خلق الله السماوات والأرض إلى أن بعث محمدا صلى الله عليه وآله . فتقدم رسول الله صلى الله عليه وآله فصلى بهم غير هائب ولا محتشم . فلما انصرف أوحى الله إليه كلمح البصر : سل يا محمد * ( من أرسلنا من قبلك من رسلنا أجعلنا من دون الرحمان آلهة يعبدون ) * . فالتفت إليهم رسول الله صلى الله عليه وآله بجميعه فقال : بم تشهدون ؟ قالوا : نشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأنت رسول الله وأن عليا أمير المؤمنين وصيك ، وأنت رسول الله سيد النبيين وإن عليا سيد الوصيين ، أخذت على ذلك مواثيقنا  لكما بالشهادة . فقال الرجل : أحييت قلبي وفرجت عني يا أمير المؤمنين

ایک شخص، علی رضی الله عنہ کے پاس آیا اور وہ مسجد کوفہ میں تھے اور ان کی تلوار ان کی کمر سے بندھی تھی – اس شخص نے علی سے کہا اے امیر المومنین قرآن میں آیت ہے جس نے  مجھے اپنے دین میں اضطراب میں مبتلا کیا ہے انہوں نے پوچھا کون سی آیت ہے وہ شخص بولا

  واسئل من أرسلنا من قبلك من رسلنا ، أجعلنا من دون الرحمان آلهة يعبدون

اور پوچھو  پچھلے بھیجے جانے والے رسولوں  میں سے کیا ہم نے  رحمان کے علاوہ کوئی اور الہ بنایا جس کی انہوں نے  عبادت  کی ؟

امام علی نے کہا بیٹھ جاؤالله نے چاہا تو میں بتاتا ہوں- الله نے قرآن میں کہا متبرک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو رات میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصی جس کو با برکت بنایا تاکہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے

ایک نشانی جو دکھائی گئی وہ یہ تھی کہ محمد صلی الله علیہ و الہ کو جبریل بیت المعمور لے گئے جو مسجد الاقصی ہے – وہ وضو کا پانی لائے اور جبریل نے اذان دی اور محمد کو کہا کہ آگے آئیے اور امامت کرائیے- فرشتے صفوں میں کھڑے ہوئے اور ان کی تعداد الله ہی جانتا ہے اور پہلی صف میں آدم، عیسیٰ اور ان سے پہلے گزرے انبیاء  تھے – جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو کہا گیا کہ رسولوں سے پوچھیں کہ کیا انہوں نے الله کے سوا دوسرے خدائوں کی عبادت کی ؟ تو جب انہوں نے پوچھا تو رسولوں نے کہا ہم گواہی دتیے ہیں کہ الله کے سوا کوئی الہ نہیں، آپ الله کے رسول ہیں اور علی امیر المومنین آپ کے وصی ہیں – آپ سید الانبیاء ہیں اور علي،  سيد الوصيين ہیں اس کے بعد انہوں نےعہد کیا  – وہ شخص بولا اے امیر المومنین آپ نے میرے دل کو خوشی دی اور مسئلہ کھول دیا

بحار الأنوار – العلامة المجلسي – ج 18 – ص ٣٩٤ میں  اس  روایت کی سند ہے

 كشف اليقين : محمد بن العباس ، عن أحمد بن إدريس ، عن ابن عيسى ، عن الأهوازي عن فضالة ، عن الحضرمي عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) قال : أتى رجل إلى أمير المؤمنين ( عليه السلام ) وهو في مسجد الكوفة

کتاب  تأويل الآيات – شرف الدين الحسيني – ج 2 – ص  ٥٦٤ کے مطابق سند ہے

وروى محمد بن العباس ( رحمه الله ) في سورة الإسراء عن أحمد بن إدريس عن أحمد بن محمد بن عيسى ، عن الحسين بن سعيد ، عن فضالة بن أيوب ، عن أبي بكر الحضرمي ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : أتى رجل إلى أمير المؤمنين عليه السلام وهو في مسجد الكوفة وقد احتبى بحمائل سيفه ، فقال : يا أمير المؤمنين إن في القرآن آية قد أفسدت علي ديني وشككتني في ديني قال : وما ذاك ؟ قال : قول الله عز وجل : ( وسئل من أرسلنا من قبلك من رسلنا أجعلنا من دون الرحمن آلهة يعبدون ) فهل كان في ذلك الزمان نبي غير محمد فيسأله عنه ؟

أحمد بن محمد بن عيسى الأشعري کو   أحمد بن محمد أبو جعفر اور أحمد بن محمد بن عيسى الأشعري القمي بھی کہا جاتا ہے یہ الحسين بن سعيد الأهوازي سے روایت کرتے ہیں مندرجہ بالا تمام کتب میں مرکزی راوی  الحسين بن سعيد ہیں  جو فضالة سے روایت کرتے ہیں  کتاب  معجم رجال الحديث – السيد الخوئي – ج 14 – ص 290 – ٢٩١ کے مطابق

 قال لي أبو الحسن بن البغدادي السوراني البزاز : قال لنا الحسين ابن يزيد السوراني : كل شئ رواه الحسين بن سعيد عن فضالة فهو غلط ، إنما هو الحسين عن أخيه الحسن عن فضالة ، وكان يقول إن الحسين بن سعيد لم يلق فضالة ، وإن أخاه الحسن تفرد بفضالة دون الحسين ، ورأيت الجماعة تروي ‹ صفحة 291 › بأسانيد مختلفة الطرق ، والحسين بن سعيد عن فضالة ، والله أعلم

ابو الحسن نے کہا کہ الحسین بن یزید  نے کہا کہ جو کچھ بھی حسین بن سعید ، فضالة سے روایت کرتا ہے وہ غلط ہے بے شک وہ حسین اپنے بھائی حسن سے اور وہ فضالة سے روایت کرتا ہے اور کہتے تھے کہ حسین کی فضالة

 سے تو ملاقات تک نہیں ہوئی اور ان کا بھائی حسن ، فضالة سے روایت میں منفرد ہے  اور ایک جماعت  اس سے روایت کرتی ہے .. و الله اعلم

شیعہ علماء جرح و تعدیل  کے مطابق یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس میں سماع ثابت نہیں-  لہذا یہ دلیل میں پیش نہیں کی  جانی چاہئے،  افسوس  کافی علماء اس کو پیش کرتے ہیں

معراج مکہ میں ہوئی لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم نے علی کی امامت کاعقیدہ امت پر پیش نہیں کیا- نہ ہی قرآن میں بیان ہوا اور یہاں تک کہ حج سے واپسی پر غدیر خم پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

من کنت مولاہ فعلی مولاہ

میں جس کا دوست ، علی بھی اس کا دوست

 بس اس کے علاوہ علی کو کچھ نہ کہا -امام و وصی  ہونے  کا تو ذکر ہی نہیں- ان الفاظ سے شیعہ حضرات کا علی کی امامت کا دعوی کرنا رات میں آفتاب دکھانے کے مترادف ہے-  کہا جاتا ہے یہ حدیث متواتر ہے  – ہو گی- نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ علی کی منقبت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جس کی قائل ساری امت ہے – لیکن اس سے  نہ ہی علی امام ثابت ہوتے ہیں نہ ہی خلیفہ

 مسئلہ کو بھانپتے ہوئے شیعہ علماء نے قرآن میں تحریف کا عقیدہ اختیار کیا جس کو ١٠ عیسوی صدی تک رکھا پھر اس سے توبہ کی اور اب سب جید شیعہ علماء کی رائے یہی ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی بلکہ حدیث میں ہوئی اور اس کے پیچھے بنو امیہ کا ہاتھ تھا

انصاف یہی ہے کہ کم از کم شیعہ اور سنی ان مسائل پر متفق ہوں جو دونوں میں ایک ہیں

قل ياأهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم ألا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا أربابا من دون الله فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون  64 

کہو اے اہل کتاب اس بات کی طرف آو جو ہم تم میں ایک ہے کہ ہم صرف الله کی عبادت کریں اس کے ساتھ شریک نہ کریں اور ایک دوسرے کو الله کے ساتھ رب نہ بنائیں اور اگر یہ منہ موڑیں تو کہو گواہ رہو ہم اطاعت گزار ہیں

لہذا دونوں شیعہ اور سنی  صرف الله کی عبادت کریں، قبر پرستی اور اولیاء پرستی اور اکابر پرستی چھوڑ دیں اور الله کی کتاب سے عقیدہ  درست کریں

دوم  ایک دوسرے سے مسلسل  اختلاف کرنے کی بجائے پہلے کم از کم انسانوں کی طرح  ساتھ رہنا  سیکھیں پھر آپ کے دین کی قدر بھی ہو گی اور غیر مسلم بھی  آپ کی بات سنیں گے

سوره الرعد آیت ٤٣ ہے

وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلاً قُلْ كَفى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتابِ

یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں۔ آپ جواب دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہی دینے والا کافی ہے اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔

اس آیت میں کتاب کا علم سے مراد اہل کتاب ہیں جس کی تائید دوسری آیات سے بھی ہوتی ہے مثلا الْأَعْرَافِ ١٥٧ میں ہے

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الذين يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ

جو اس امی ،رسول ،نبی کی اتباع کرتے ہیں جس کے لئے التَّوْرَاةِ  اور الْإِنْجِيلِ  میں جو ان کے پاس ہے، لکھا پاتے ہیں

یہود کے مطابق الله کا اسم اعظم ، جس کو شم ہا مفورش   کہا جاتا ہے ٧٢ حروف پر مشتمل ہے-  اس کا استخراج عبرانی تورات میں  کتاب خروج  باب ١٤  آیت ١٩ سے ٢١ سے کیا جاتا ہے کیونکہ ان تین  اہم آیات کے عبرانی حروف ٧٢، ٧٢، ٧٢ ہیں لہذا اللہ کا اسم ٧٢ پر مشتمل ہے جس کی مدد سے بحر احمر کو موسی نے پھاڑا اور خشک رستہ بنا آیات ہیں

http://fa.wikipedia.org/wiki/شمهمفوراش

וַיִּסַּע מַלְאַךְ הָאֱלֹהִים, הַהֹלֵךְ לִפְנֵי מַחֲנֵה יִשְׂרָאֵל, וַיֵּלֶךְ, מֵאַחֲרֵיהֶם; וַיִּסַּע עַמּוּד הֶעָנָן, מִפְּנֵיהֶם, וַיַּעֲמֹד, מֵאַחֲרֵיהֶם

וַיָּבֹא בֵּין מַחֲנֵה מִצְרַיִם, וּבֵין מַחֲנֵה יִשְׂרָאֵל, וַיְהִי הֶעָנָן וְהַחֹשֶׁךְ, וַיָּאֶר אֶת-הַלָּיְלָה; וְלֹא-קָרַב זֶה אֶל-זֶה, כָּל-הַלָּיְלָה

וַיֵּט מֹשֶׁה אֶת-יָדוֹ, עַל-הַיָּם, וַיּוֹלֶךְ יְהוָה אֶת-הַיָּם בְּרוּחַ קָדִים עַזָּה כָּל-הַלַּיְלָה, וַיָּשֶׂם אֶת-הַיָּם לֶחָרָבָה; וַיִּבָּקְעוּ, הַמָּיִם

اُس وقت خدا وند کا فرشتہ اسرائیلی خیمہ کے پیچھے گیا۔ اس لئے بادل کا ستون لوگوں کے آگے سے ہٹ گیا اور اُن کے پیچھے آ گیا۔

اس طرح بادل مصریوں کے خیمہ اور اِسرائیلیوں کے خیمہ کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ بنی اسرائیلیوں کے لئے روشنی تھی لیکن مصریوں کے لئے اندھیرا۔ اِس لئے مصری اس رات اِسرائیلیوں کے قریب نہ آسکے۔

موسیٰ نے اپنا ہاتھ بحر قلزم کے اوپر اٹھا ئے اور خدا وند نے مشرق سے تیز آندھی چلا ئی۔ آندھی تمام رات چلتی رہی سمندر پھٹا اور ہوا نے زمین کو خشک کیا۔

یہودی تصوف کے مطابق موسی نے ٧٢ حروف پر منبی  اسم الاعظم کے حروف ادا کیے اور سمندر پھٹ گیا اور بحر احمر میں سے خروج کیا  یہودی تصوف کی  کتاب،  کتاب سفر یطذیرہ  (کتاب الخلق ) میں  اس کا ذکر ملتا ہے جو ایک  قدیم کتاب ہے  اور اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح حروف الله نے بولے اور ان سے تخلیق ہوتی گئی

.اسم الاعظم کا ٧٢  حروف کا عقیدہ  اسلامی شیعہ کتب میں بھی  موجود ہے

الكافي از الكليني – ج 1 – ص ٢٣٠ ،٢٣١ باب  ما أعطى الأئمة عليهم السلام من اسم الله الأعظم  کی روایات ہیں

محمد بن يحيى وغيره ، عن أحمد بن محمد ، عن علي بن الحكم ، عن محمد بن الفضيل قال : أخبرني شريس الوابشي، عن جابر ، عن أبي جعفر عليه السلام قال : إن اسم الله الأعظم على ثلاثة وسبعين حرفا وإنما كان عند آصف منها حرف واحد فتكلم به فخسف بالأرض ما بينه وبين سرير بلقيس حتى تناول السرير بيده ثم عادت الأرض كما  كانت أسرع من طرفة عين ونحن عندنا من الاسم الأعظم اثنان وسبعون حرفا ، وحرف  واحد عند الله تعالى استأثر به في علم الغيب عنده ، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي  العظيم

محمد بن یحیی اور دیگر ، احمد بن محمد سے ، وہ علی بن الحکم سے وہ محمّد بن الفضیل سے کہتے ہیں مجھ کو شريس الوابشي نے خبر دی کہ امام جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک الله کا اسم اعظم ٧٣ حروف کا ہے اور اس میں سے اصف کے پاس ایک حرف تھا جس کو اس نے بولا تو اس کے اور بلقیس کے درمیان زمین دھنس گئی کہ  اس کا ہاتھ تخت پر لگا پھر زمین واپس ویسی ہی ہوئی جیسی کہ تھی پلک جھپکتے میں –  اور ہمارے پاس اسم الأعظم کے ٧٢ حروف ہیں اور ایک حرف الله نے ہم سے چھپایا ہے جو علم الغیب میں اس کے ہے ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي  العظيم

محمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد ، عن الحسين بن سعيد ومحمد بن خالد ،  عن زكريا بن عمران القمي ، عن هارون بن الجهم ، عن رجل من أصحاب أبي عبد الله  عليه السلام لم أحفظ اسمه قال سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول : إن عيسى ابن مريم عليه السلام  أعطي حرفين كان يعمل بهما وأعطي موسى أربعة أحرف ، وأعطي إبراهيم ثمانية

أحرف ، وأعطي نوح خمسة عشر حرفا ، وأعطي آدم خمسه وعشرين حرفا ، وإن الله  تعالى جمع ذلك كله لمحمد صلى الله عليه وآله وإن اسم الله الأعظم ثلاثة وسبعون حرفا ، أعطى  محمدا صلى الله عليه وآله اثنين وسبعين حرفا وحجب عنه حرف واحد

محمد بن يحيى، احمد بن محمّد سے وہ الحسين بن سعيد اور محمد بن خالد سے وہ زكريا بن عمران القمي سے وہ هارون بن الجهم سے وہ أبي عبد الله  عليه السلام کے اصحاب سے نقل کرتے ہیں جن کا نام یاد نہیں ہے کہ ابی عبد الله امام جعفر کو سنا کہا بے شک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دو حرف عطا کیے گئے جن سے وہ عمل کرتے اور موسی علیہ السلام کو چار حرف ملے اور ابراہیم کو آٹھ اور نوح کو پندرہ اور آدم کو ٢٥ حروف ملے اور الله نے ان سب کو محمّد صلی الله علیہ و الہ کے لئے جمع کر دیا اور بے شک الله کا نام ٧٣ حرفی ہے محمد صلی الله علیہ وسلم کو ٧٢ حروف ملے اور ایک ان سے چھپا لیا گیا

بعض شیعہ کتب کے مطابق یہ کلمات علی رضی الله عنہ نے بولے تھے جو سلیمان کے دربار میں موجود تھے زمان و مکان کی قید سے آزاد علی کا تصرف بیان سے باہر ہے

کتاب بصائر الدرجات کی روایت ہے

وعن ابن بكير، عن أبي عبد الله [عليه السلام]، قال: كنت عنده، فذكروا سليمان وما أعطي من العلم، وما أوتي من الملك.

 فقال لي: وما أعطي سليمان بن داود؟ إنما كان عنده حرف واحد من الاسم الأعظم، وصاحبكم الذي قال الله تعالى: قل: كفى بالله شهيداً بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب. وكان ـ والله ـ عند علي [عليه السلام]، علم الكتاب.

 فقلت: صدقت والله جعلت فداك

ابن بکیر ابی عبد الله امام جعفر سے روایت کرتے ہیں  کہ میں ان کے پاس تھا پس سلیمان اور ان کو جو علم عطا ہوا اس کا ذکر ہوا اور جو فرشتہ لے کر آیا  پس انہوں (امام جعفر) نے مجھ سے کہا اور سلیمان بن داود کو کیا ملا ؟ اس کے پاس تو الاسم الأعظم کا صرف ایک ہی حرف تھا اور ان کے صاحب جن کے لئے الله تعالی کہتا ہے : قل كفى بالله شهيداً بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب الرعد: 43  اور وہ تو الله کی قسم ! علی علیہ السلام کے پاس ہے علم الکتاب

تفسير القمي ج1 ص368 کے مطابق

عن أبي عبد الله [عليه السلام]، قال: الذي عنده علم الكتاب هو أمير المؤمنين

ابی عبد الله سے روایت ہے کہ  قال الذي عنده علم الكتاب  یہ امیر المومنین (علی) ہیں

ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ

عن الحارث عن علي قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ابو بكر وعمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين لا تخبرهما يا علي ما داما حيين

 علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے جنتیوں کے كهول کے سردار ہوں گے، اور فرمایا اے علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا

دین کوئی ایسی بات نہیں جو نبی علیہ السلام نے چھپائی ہو یا اس کو ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا ہو لیکن اس کے باوجود

اس روایت کو البانی صحیح کہتے ہیں

روایت میں  «كہول» کا لفظ ہے جو  جمع ہے «كہل» کی-  «كہل» سے مراد وہ مرد ہوتے ہیں  جن کی عمر تیس سے متجاوز ہو گئی ہو، اور بعضوں نے کہا چالیس سے اور بعضوں نے تینتیس سے پچپن تک-  تاریخ کے مطابق حسن کی پیدائش ٣ ہجری اور وفات ٥٠ ہجری میں ہوئی اور حسین کی پیدائش ٤ ہجری اور شہادت ٦١ ہجری میں ہوئی –

حسین رضی الله عنہ کی شہادت کے وقت ٥٧ سال عمر تھی اور حسن رضی الله عنہ کی ٤٧ سال تھی لہذا دونوں اس کھول کی تعریف پر پورا اترتے ہیں- لہذا ابو بکر ہوں یا عمر یا حسن یا حسین سب کھول بن کر اس دنیا سے گئے –

حُذَيْفَةَ رضی الله عنہ   کی سند

ایک دوسری روایت ہے

أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

اس روایت کو ترمذی نے بھی عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ  کی سند سے نقل کیا ہے اور وہ کہتے ہیں

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ

یہ حدیث حسن غریب ہے اس طرق سے اس کو ہم نہیں جانتے سوائے اسرئیل  کی سند سے

سند میں  إِسْرَائِيلَ  بْنُ يُونُسَ بن أبى إسحاق السبيعى الهمدانى ہے

مسند احمد میں یہ إِسْرَائِيلُ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ کی سند سے نقل ہوئی ہے

الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

وَرَوَى: عَبَّاسٌ، عَنْ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: كَانَ القَطَّانُ لاَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْرَائِيْلَ، وَلاَ عَنْ شَرِيْكٍ.

عبّاس کہتے ہیں کہ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ کہتے ہیں کہ یحیی القَطَّانُ اسرائیل اور شریک سے روایت نہیں کرتے تھے

احمد کہتے ہیں یہ مناکیر روایت کرتے ہیں

إِسْرَائِيلَ  بْنُ يُونُسَ صحیحین کے راوی ہیں لیکن ان کی ظاہر ہے بعض مناکیر  نقل نہیں کی گئیں- سند میں المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو بھی ہے جو روایت کرتا تھا کہ معاویہ نے سنت کو بدلا اور علی صدیق اکبر ہیں  لہذا ایسے مفرط شیعوں کی روایت کس طرح قابل قبول ہے؟

روایت کی ایک تاویل کی جاتی ہے کہ اس دنیا کے وہ لوگ جو جوانی میں ہلاک ہوئے ان کے سردار حسنین ہوں گے

لیکن حدیث کے الفاظ اس مفروضے کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں ہے کہ اہل جنت کے جوانوں کے سردار حسنین ہوں گے

یہ مفروضہ اس لئے گھڑا گیا  کیونکہ دیگر صحیح روایات کے مطابق جنت میں سب ہی جوان ہوں گے جن میں انبیاء و رسل

بھی شامل ہیں اس حساب سے  زیر بحث روایت حسنین کو انبیاء و رسل کا سردار بھی بنا دیتی ہے جو اہل جنت میں سے ہیں

أَبِي سَعِيدٍ رضی الله عنہ  کی سند

یہ روایت ایک اور سند سے بھی ترمذی اور  مسند احمد میں  آئی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

اس کی سند میں عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ہیں جن کے لئے میزان میں الذھبی لکھتے ہیں كوفي، تابعي مشهور ہیں

وقال أحمد بن أبي خيثمة، عن ابن معين، قال: ابن أبي نعم ضعيف، كذا

نقل ابن القطان، وهذا لم يتابعه عليه أحد.

ابن معین، ابن القطان ان کو ضعیف کہتے ہیں

عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي صحیحین کے راوی ہیں لیکن یہ مخصوص روایت صحیح میں نہیں دوم ان سے سنے والے يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ہیں جو کوفہ کے کٹر شیعہ ہیں

أبي هُرَيْرَة  رضی الله عنہ کی سند

نسائی نے یہ روایت کتاب خصائص علی میں أبي هُرَيْرَة کی سند سے نقل کی ہے

أخبرنَا مُحَمَّد بن مَنْصُور قَالَ حَدثنَا الزبيرِي مُحَمَّد بن عبد الله قَالَ حَدثنَا أَبُو جَعْفَر واسْمه مُحَمَّد بن مَرْوَان قَالَ حَدثنِي أَبُو حَازِم عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ أَبْطَأَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَنَّا يَوْم صدر النَّهَار فَلَمَّا كَانَ العشى قَالَ لَهُ قائلنا يَا رَسُول الله قد شقّ علينا لم نرك الْيَوْم قَالَ إِن ملكا من السَّمَاء لم يكن رَآنِي فَأَسْتَأْذِن الله فِي زيارتي فَأَخْبرنِي أَو بشرني أَن فَاطِمَة ابْنَتي سيدة نسَاء أمتِي وَإِن حسنا وَحسَيْنا سيدا شباب أهل الْجنَّة

محمد بن مروان الذهلى ، أبو جعفر الكوفى مجھول ہے جس کا کسی نے ذکر نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کی سند

ابن ماجہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا”

حسن و حسین اہل جنت کے سردار ہیں اور ان کے باپ ان سے بہتر ہیں

ضعفاء العقيلي کے مطابق

قال أَبُو داود  : سمعت يحيى بْن مَعِين: وسئل عن المعلى ابن عَبْد الرحمن – فقال: أحسن أحواله عندي أنه قيل لَهُ عند موته: ألا تستغفر اللَّهِ. فقال: ألا أرجو أن يغفر لي وقد وضعت فِي فضل علي بْن أَبي طالب سبعين حديثا

ابو داود کہتے ہیں میں نے  يحيى بْن مَعِين سے سنا اور ان سے  المعلى ابن عَبْد الرحمن کے حوالے سے سوال کیا انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حال احسن ہے ان کی موت کے وقت ان سے کہا گیا کہ آپ الله سے توبہ کریں پس کہا بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میری مغفرت ہو گی اور میں نے علی بن ابی طالب کی فضیلت میں ٧٠ حدیث گھڑیں

البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں اور امام حاکم مستدرک میں اس کو اسی سند سے نقل کرتے ہیں

چونکہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں لہذا یہ روایت امام ترمذی کے حساب سے حسن ہے – اس کو منقبت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن اس کا متن جلیل القدر اصحاب رسول کو بھی حسن و حسین کی سرداری قبول کروا رہا ہے حالانکہ خود ان اصحاب رسول نے اپنی زندگی میں حسین  کی بغاوت کو قبول نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کا موقف خروج حسین پرامام بخاری  بیان کرتے ہیں کہ

باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان  والوں کو جمع کیا اور  کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ  ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس  آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع  پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے

عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»

نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله  بن  نِ مُطِيعٍ  کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں  سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا

جو اصحاب رسول زندگی میں حسین کو سردار نہیں مان رہے وہ ان کو اہل جنت کا سردار کہیں نہایت عجیب  بات ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ روایت مشکوک ہے

واضح رہے کہ بحث اس پر ہے ہی نہیں کہ حسنین اہل بہشت میں سے ہیں یا نہیں- بحث  اس  مسئلہ پر ہے کہ کیا جنت  میں بھی اس دنیا کی طرح کا کوئی نظام ہے جس میں سردار یا غیر سردار کی تقسیم ہو گی

قرآن جو نقشہ کھینچتا ہے اس میں تو سب جنتی سرداروں کی طرح مسندوں پر ہوں گے

گروہ بندی اور سرداری تو دنیا کی سیاست کے معاملات ہیں جن میں ایک گروہ کسی سردار پر متفق ہوتا ہے اور

 اس کی سربراہی میں کام کرتا ہے  جبکہ جنت تو کسی بھی سیاست سے پاک ہو گی اوراس طرح کی گروہ بندی یا سرداری کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا اب

چونکہ یہ کہنا ہی صحیح نہیں لہذا یہ ایک مہمل بات بنتی ہے جو حدیث رسول نہیں ہو سکتی

ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں

ارقبوا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم  في أھل بیتہ

محمد صلی الله علیہ وسلم  کے اہلِ بیت (سے محبت) میں آپ صلی الله علیہ وسلم  کی محبت تلاش کرو۔

صحیح البخاری

لیکن محبت میں غلو سب کے لئے منع ہے  اور اس میں احتیاط ضروری ہے

جنگ بدر میں مسلمانوں کو کفار پر فتح نصیب ہوئی اس کے نتیجے میں جو مال غنیمت ملا اس کی تقسیم پر الله نے حکم دیا سوره انفال

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

[41]

 اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمد ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

سارا مال پانچ برابر حصوں میں تقسیم ہو گا اور اس کے پانچوں حصوں کی  تقسیم اس طرح ہو گی

پہلا حصہ  الله اور اس کے رسول کا

دوسرا حصہ  الله کے رسول کے رشتہ دار

تیسرا حصہ  یتیم کا

چوتھا حصہ مسکین کا

پانچواں حصہ  مسافر

بنو نضیر ایک  یہودی آبادی تھی جو مدینہ میں تھی یہ لوگ کھیتی باڑی، تجارت اور لیں دیں کا کاروبار کرتے تھے اور ان کے مشرکین مکہ سے بھی اچھے تعلقات تھے لیکن بد قسمتی سے ان کا میلان نبی صلی الله علیہ وسلم کی مسلسل مخالفت اور سازش کرنا تھا یہاں تک کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی جس کی خبر الله نے اپنے نبی کو دی اور  ان کو مدینہ سے نکال دیا گیا  اور مال و متاع لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی بس جان بخشی ہوئی – یہی یہودی  مدینہ کے  مغرب میں جا کر ایک دوسری یہودی بستی میں بس گئے  وہاں بھی سازشی ماحول کی وجہ سے سن ٧ ہجری میں ان پر حملہ (خیبر) کیا گیا اور سوره الحشر میں اس پر تبصرہ کیا گیا اس میں بہت سے باغات ملے جن کو مال فیے کہا جاتا ہے  یہ الله کی طرف سے نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے خاص تحفہ تھے

سوره الحشر میں ہے

وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

[6]

 اور جو (مال) الله نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن الله اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور الله ہر چیز پر قادر ہے

 مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

[7]

 جو مال الله نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ الله کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور الله سے ڈرتے رہو۔ بےشک الله سخت عذاب دینے والا ہے

انہی باغوں میں فدک کے باغ تھے جو الله نے نبی صلی الله علیہ وسلم قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کو دیے

بخاری کی ابو ہریرہ رضی الله عنہ  حدیث ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ

میری وراثت کا دینار تقسیم نہیں ہو گا میں جو چھوڑوں اس میں ازواج کے نفقہ اور عامل کی تنخواہ کے علاوہ سب صدقه ہے

اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ فاطمہ اور عبّاس  دونوں  ابوبکر صدیق  کے پاس آئے آپ کا ترکہ مانگتے تھے یعنی جو زمین آپ کی فدک میں تھی او رجوحصہ خیبر کی اراضی میں تھا طلب کررہے تھے۔ ابوبکر نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ  سے سنا ہے آپ نے فرمایا ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ بات یہ ہے کہ محمد کی آل اس میں سے کھاتی پیتی رہے گی۔ ابوبکر نے یہ فرمایاکہ اللہ کی قسم جس نے رسول اللہ  کوجو کام کرتے دیکھا میں اسے ضرور کروں گا اسے کبھی چھوڑنے کا نہی

عائشہ رضی الله عنہا  فرماتی ہیں کہ

فقال لها أبو بكر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا نورث، ما تركنا صدقة»، فغضبت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهجرت أبا بكر، فلم تزل مهاجرته حتى توفيت، وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة أشهر

رسول اللہ کی بیٹی  فاطمہ رضی الله عنہا  نے ابوبکر رضی الله عنہ سے رسول کی وفات کے بعد میراث طلب کی  جس پر ابو بکر رضی الله عنہ نے کہا وہ صدقه ہے اس پر فاطمۂ ناراض ہوئیں اور انہوں نے اپنی وفات تک خلیفئہ اول  کو چھوڑا ( ترک کلام رکھا)  یہ رسول الله  کی وفات کے بعد چھہ ماہ تک زندہ رہی

یہی مطالبہ امہات المومنین نے بھی ابو بکر سے  کرنا چاہا

عن عائشه أن أزواج النبی صلی اللہ علیه وسلم حین توفی رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم أردن أن یبعثن عثمان إلی أبی بکر یسألنه مبراثھن فقالت عائشة ألیس قد قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم لا نورث ماترکنا صدقة»( صحیح بخاری کتاب الفرائض باب قول النبی لانورث ماترکنا صدقة)

عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم  کی وفات ہوگئی تو آپ  کی بیویوں نے یہ ارادہ کیاکہ عثمان کو ابوبکر  کے پاس بھیجیں اور اپنے ورثہ کا مطالبہ کریں تو اس پر میں ان کو کہا کیا تم کو معلوم نہیں کہ رسول الله  نے یہ فرمایا ہے: ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔‘

در حقیقیت نبی صلی الله علیہ وسلم نے کچھ دینار و درہم  چھوڑا بھی نہیں تھا بخاری کی حدیث ہے

عمرو بن الحارث کہتے ہیں کہ

ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته درهما ولا دينارا

رسول الله نے اپنی موت پر نہ کوئی دینار چھوڑا نہ درہم

فدک و خیبر کے  باغات صرف اہل بیت کے لئے نہیں تھے ان میں غیر اہل بیت یتیم ، حاجت مند اور مسافروں کا بھی حق تھا لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کو اہل بیت کو نہیں دیا گیا اور ابو بکر رضی الله عنہ نے ان کا انتظام  اپنے ہاتھ میں رکھا عمر رضی الله عنہ نے باغ فدک  کا انتظام علی اور عباس رضی الله عنہ کے باتھ میں اس شرط پر دیا کہ یہ اس کو انہی مدوں میں خرچ کریں گے جن میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے کیا

کتاب فتوح البلدان از البَلَاذُري (المتوفى: 279هـ) کے مطابق

حدثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثُ صَفَايَا، مَالُ بَنِي النَّضِيرِ وَخَيْبَرَ، وَفَدَكَ، فَأَمَّا أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ فَكَانَتَ حَبْسًا لِنَوَائِبِهِ، وَأَمَّا فَدَكُ فَكَانَتْ لأَبْنَاءِ السَّبِيلِ، وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَهَا ثَلاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَقَسَّمَ جُزْأَيْنِ منها بين المسلمين وحبسر جُزْءًا لِنَفْسِهِ وَنَفَقَةِ أَهْلِهِ، فَمَا فَضَلَ مِنْ نَفَقَتِهِمْ رَدَّهُ إِلَى فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ

عمر رضی الله عنہ نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے مال غنیمت سے آمدنی کے تین ذرائع تھے   مال بنو النَّضِيرِ  اور مال خیبر اور مال فدک -پس مال بنو النَّضِيرِ  کو کیا  نوائب کے لئے اور فدک کو مسافر کے لئے اور خیبر  کو تین حصوں میں تقسیم کیا جن میں سے دو حصے (غریب) مسلمانوں کے لئے کیے اور ایک حصہ اپنے اور اہل کے نفقے کے لئے کیا اور جو زیادہ ہوتا تو اس کو (بھی) فقراء مہاجرین کو دیتے

اسی کتاب کی دوسری روایت ہے

حَدَّثَنَا الْحُسَيْن بن الأسود، قال حدثنا يحيى بن آدم، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَان عَنِ الزهري قَالَ. كانت أموال بني النضير مما أفاء اللَّه عَلَى رسوله ولم يوجف المسلمون عَلَيْهِ بخيل ولا ركاب فكانت لرسول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خالصة فقسمها بَيْنَ المهاجرين ولم يعط أحدا منَ الأنصار منها شيئا إلا رجلين كانا فقيرين، سماك بْن خرشة أَبَا دجانة، وسهل بْن حنيف

الزہری کہتے ہیں کہ بنو النضير  کے اموال رسول الله کے لئے خاص تھے …..پس اپ نے (اپنی خوشی سے) ان

 کو مہاجرین میں تقسیم کیا اور انصار میں سے کسی کو کچھ نہ دیا سوائے دو افراد کے جو

فقیر تھے ایک  سماك بْن خرشة أَبَا دجانة   اوردوسرے  سهل بْن حنيف   تھے

درحقیقت عباس اور علی رضی الله عنہما نے ایک زبردست ذمہ داری کو  اٹھا لیا کہ وہ مال فدک میں نہ صرف اہل بیت حصہ نکالیں گے بلکہ الله اور اس کے رسول کا ، مسافروں، یتیموں ،مسکینوں کا بھی حصہ نکالیں گے اگر یہ کام خلیفہ کو دیا جاتا تو اس میں انتظام کا مسئلہ نہیں ہوتا

اہل بیت پر صدقه کی حرمت

اہل بیت پر ان خصوصی انعام و اکرام کے ساتھ یہ پابندی بھی لگائی جا چکی تھی  کہ ان پر صدقه حرام کر دیا گیا تھا جس پر شیعہ و سنی دونوں متفق ہیں-

مسند احمد کی  بريدة  رضی الله عنہ کی حدیث ہے

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا زيد بن الحباب حدثني حسين حدثني عبد الله بن بريدة قال سمعت بريدة يقول : جاء سلمان إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حين قدم المدينة بمائدة عليها رطب فوضعها بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما هذا يا سلمان قال صدقة عليك وعلى أصحابك قال أرفعها فانا لا نأكل الصدقة

سلمان رضی الله عنہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کو تازہ کھجور پیش کی پس رسول الله نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ سلمان رضی الله عنہ نے کہا یہ صدقه ہے آپ اور آپ کے لوگوں کے لئے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اس کو اٹھا لو ہم صدقه نہیں کھاتے

ایک دفعہ حسن رضی الله عنہ نے بچپن میں صدقه کی کھجور اپنے منہ میں ڈالی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو ان کے منہ سے نکالا

صدقه کی یہ پابندی اس قدر تھی کہ گھر والیوں اور غلاموں اور عام رشتہ داروں سب پر لاگو ہوتی تھی

مسند احمد کی روآیت ہے

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا وكيع ثنا سفيان عن عطاء بن السائب قال أتيت أم كلثوم ابنة علي بشيء من الصدقة فردتها وقالت حدثني مولى للنبي صلى الله عليه و سلم يقال له مهران أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن آل محمد لا تحل لنا الصدقة ومولى القوم منهم

عطاء بن السائب کہتے ہیں میں أم كلثوم بن علی کے پاس گیا صدقه لے کر انہوں نے اس کو لوٹا دیا اور کہا مجھ کو رسول الله کے آزاد کردہ غلام مهران نے کہا کہ ال محمّد صدقه نہیں کھاتے اور ان کے غلام بھی

مسلم کی حدیث ہے

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا يحيى بن آدم ثنا بن المبارك عن يونس عن الزهري عن عبد الله بن الحرث بن نوفل عن عبد المطلب بن ربيعة بن الحرث انه هو والفضل أتيا رسول الله صلى الله عليه و سلم ليزوجهما ويستعملهما على الصدقة فيصيبان من ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذه الصدقة إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد

نبی صلی الله علیہ وسلم نے عبد المطلب بن ربيعة بن الحرث اور الفضل بن عباس کو صدقه کے معاملات دینے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ لوگوں کا میل ہے اور محمّد اور ال محمد پر حرام ہے

ال محمد سے مراد  نبی صلی الله  علیہ وسلم کی ازواج ،  چار بیٹیاں یعنی زینب ، رقیہ ، ام کلثوم اور فاطمہ  رضی اللہ عنہما  ہیں اور  نبی صلی الله علیہ وسلم کے خاندان والے

 مسلم میں ہے

يزيد بن حيان التيمي کہتے ہیں میں اور حصين بن سبرة اور عمر بن مسلم ،  زيد بن أرقم رضی الله عنہ کے پاس گئے

 فقال له حصين ( بن سبرة)  ومن أهل بيته يا زيد (بن أرقم) أليس نساؤه من أهل بيته قال ان نساءه من أهل بيته ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده قال ومن هم قال هم آل على وآل عقيل وآل جعفر وآل عباس قال أكل هؤلاء حرم الصدقة قال نعم

حصين ( بن سبرة)  نے  زيد (بن أرقم) سے پوچھا کہ اے زید  کیا نبی کی ازواج ان اہل بیت میں سے نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا بے شک وہ اہل بیت میں سے ہیں لیکن اہل بیت وہ (بھی) ہیں جن پر صدقه حرام ہے ان کے بعد پوچھا وہ کون ؟ کہا وہ ال علی ال عقیل ال جعفر ال عباس ہیں کہا ان سب پر صدقه حرام ہے ؟ کہا ہاں

اس میں امہات المومنین کو بھی اہل بیت کہا گیا ہے

مسلم میں اسی روایت کی  دوسری سند میں الفاظ ہیں جن میں امہات المومنین کو خارج کیا گیا ہے جو زید بن ارقم کی روایت میں الفاظ کا اضطراب ہے  کیونکہ مسلم کی دوسری روایت میں یہ الفاظ  نہیں ہیں  اس مخصوص روایت کے الفاظ ہیں

مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: لَا، وَايْمُ اللهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ، وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَه

اہل بیت کون ہیں ؟ ازواج؟ زید نے کہا الله کی قسم ایک عورت آدمی کے ساتھ ہوتی ہے ایک عرصۂ تک پھر وہ اس کو طلاق دیتا ہے اور وہ اپنے باپ اور قوم میں لوٹ جاتی ہے اور اہل بیت تو اصل والے اور جڑ والے ہیں جن پر صدقه حرام ہے

 اس کی سند میں حسان بن إبراهيم بن عبد الله الكرمانى المتوفی ١٨٩ یا ١٨٦ ھ ہیں جن کو  النسائى : ليس بالقوى کہتے ہیں ، ابن حجر ،  صدوق يخطىء  صدوق غلطیاں کرتے تھے کہتے ہیں  ابن عدی کہتے ہیں  من أهل الصدق إلا أنه يغلط في الشئ ولا يتعمد یہ اہل صدق میں سے ہیں لیکن غلطیاں کرتے ہیں اور قابل اعتماد نہیں ہیں

اس کی واضح مخالف حدیث بخاری میں موجود ہے

عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک آزاد کردہ  لونڈی بریرہ نام کی تھی ان کے پاس کہیں سے صدقہ کا گوشت آیا جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بھیج دیا تو اس گوشت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اچھا یہ وہی ہے جو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے۔ یہ ان کے لیے تو صدقہ ہے لیکن ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔

ابن عبّاس رضی الله عنہ کی بخاری کی روایت ہے

وجد النبي صلى الله عليه وسلم شاة ميتة، أعطيتها مولاة لميمونة من الصدقة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «هلا انتفعتم بجلدها؟» قالوا: إنها ميتة: قال: «إنما حرم أكلها

نبی صلی الله علیہ وسلم کو ایک بکری ملی نظر آئی جو مری پڑی تھی اور میمونہ رضی الله عنہا کی لونڈی کو کسی نے صدقه میں دی ، نبی صلی الله علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہواتو آپ نے فرمایا: ” ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے ” ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ نے فرمایا: ” صرف اس کا کھانا حرام ہے

الغرض صدقه کی پابندی میں امہات المومنین، نبی صلی الله علیہ وسلم  کی بیٹیاں ، نبی صلی الله علیہ وسلم  کے خاندان بنو عبد المطلب  کے مسلم افراد  اور ان کے لونڈی غلام (الا یہ کہ ان کو آزاد کر دیا جائے) سب شامل تھے

حدیث کساء کی حیثیت

صحیح مسلم میں عائشہ رضی الله عنہا سے مروی حدیث ہے

خرج النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ غداةً وعليه مِرْطٌ مُرحَّلٌ ، من شعرٍ أسودٍ . فجاء الحسنُ بنُ عليٍّ فأدخلَه . ثم جاء الحسينُ فدخل معه . ثم جاءت فاطمةُ فأدخلها . ثم جاء عليٌّ فأدخلَه . ثم قال ” إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ” [ 33 / الأحزاب / 33 ] .

عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت ایک اونی منقش چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے تو آپ کے پاس حسن بن علی رضی اﷲ عنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل کر لیا، پھر حسین رضی اللہ عنہ آئے اور وہ بھی ان کے ہمراہ چادر میں داخل ہو گئے، پھر فاطمہ رضی اﷲ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں بھی اس چادر میں داخل کر لیا، پھر علی رضی الله عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی : بے شک اللہ چاہتا ھے کہ  وہ تم اہل بیت سے رجس کو دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔

امام مسلم اس کی سند دیتے ہیں

وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،

اس کی سند میں مصعب بن شيبة بن جبير بن شيبة کا تفرد ہے – امام احمد اس روایت کو پسند نہیں کرتے

قال أحمد بن محمد بن هانىء: ذكرت لأبي عبد الله الوضوء من الحجامة، فقال: ذاك حديث منكر، رواه مصعب بن شيبة، أحاديثه مناكير، منها هذا الحديث، وعشيرة من الفطرة، وخرج رسول الله – صلى الله عليه وسلم – وعليه مرط مرجل. «ضعفاء العقيلي» (1775)

احمد بن محمد بن ہانی کہتے ہیں میں نے ابی عبد الله سے حدیث ذکر کی کہ حجامہ میں وضو پس کہا یہ حدیث منکر ہے اس کو  مُصْعَبِ بْنِ شيبة  روایت کرتا ہے اس کی حدیثیں منکر ہیں جن میں یہ حدیث ہے اور … اور نبی صلی الله علیہ وسلم   ایک اونی منقش چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے والی

  • وقال أبو بكر الأثرم: سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل يقول: مصعب بن شيبة روى أحاديث مناكير. «الجرح والتعديل» 8/ (1409) .

کتاب ضعفاء العقيلي میں امام احمد اس کی خاص اس ایک اونی منقش چادر والی روایت کو رد کرتے ہیں

ترمذی میں بھی یہ موجود ہے جہاں اس کی سند ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ إِلَى خَيْرٍ

نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے گھر نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت ”اہلِ بیت! اللہ چاہتا ھے کہ وہ تم سے  رجس دُور کر دے اور تمہیں  طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔” نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ اور حسنین سلام اﷲ علیہم کو بلایا اور انہیں ایک کملی میں ڈھانپ لیا۔ علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی! میں (بھی) ان کے ساتھ ہوں، فرمایا : تم اپنی جگہ رہو اور تم تو بہتر مقام پر فائز ہو۔”

امام ترمذی اس کو حسن بھی نہیں کہتے بلکہ لکھتے ہیں وهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ یہ حدیث انوکھی ہے اس طرق سے

دونوں احادیث میں ایک ہی واقعہ ہے- ایک دفعہ اس میں عائشہ رضی الله عنہا کو دکھایا گیا اور دوسری دفعہ ام سلمہ رضی الله عنہا کو – ظاہر ہے یہ ایک دفعہ ہی ہوا ہو گیا اگر ہوا بھی – مسلم کی حدیث امام احمد کے نزدیک  ضعیف ہے

اہل سنت کے جن علماء نے اس کو لکھا ہے ان کے نزدیک یہ حدیث امہات المومنین کو اہل بیت میں سے خارج نہیں کرتی لہذا یہ متنا صحیح ہے کیونکہ اس میں ہے کہ تم خیر میں ہو

امہات المومنین

وفات نکاح امہات المومنین رضی الله عنہما
١٠بعد بعثت ١٥ قبل نبوت خدیجہ بنت خویلد
٢٢ ھ ١٠ بعد بعثت  شوال سودہ بنت زمعہ
٥٣ یا ٥٧ ھ ٢ ھ شوال عائشہ بنت ابی بکر
٤٥ھ ٣ھ شعبان حفصہ بنت عمر
٤ھ ٤ ھ زینب بنت خزیمہ
٥٩ھ ٤ھ شوال ام سلمہ  ہند بنت ابی امیہ
٢٠ھ ٥ ھ  ذیقعدہ زینب بنت جحش
٥٠ھ ٦ ھ شعبان جویریہ بنت حارث
٤٤ھ ٦ھ ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان
٥٠ھ ٧ھ محرم صفیہ بنت حی بن اخطب
٥١ھ ٧ھ  ذیقعدہ میمونہ بنت حارث

یہ سب امت کی مائیں ہیں اور اہل بیت میں سے ہیں سوره الاحزاب کی آیات تطہیر  بھی انہی سے متعلق  ہیں انہی کو ہدایات دی جا رہی ہیں کہ آگے مستقبل  میں کیا کیا کرنا ہے جس کے بعد وہ منافقین کے کسی بھی رجس سے پاک رہیں گی یا با الفاظ دیگر منافقین ان کے حوالے سے کچھ بھی پروپیگنڈا کرنے میں ناکام رہیں گے

اس آیت کے نزول کے وقت   میمونہ بنت حارث ، زینب بنت جحش ، جویریہ بنت حارث،صفیہ بنت حی بن اخطب، ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان رضی الله عنہما آپ صلی الله علیہ وسلم کے نکاح میں نہیں تھیں لیکن اس میں الله کا ارادہ کا ذکر ہے جو ظاہر ہے سب بعد میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے نکاح میں انے والیوں کے لئے  ہے

 اہل بیت کے الفاظ  نبی صلی الله علیہ وسلم کے خاندان کے لئے اس لئے بعض حلقوں میں  مخصوص ہوئے کیونکہ

امہات المومنین کے انتقال کے بعد وہی اہل بیت میں سے باقی رہ گئے تھے اور انہوں نے اپنی تقریروں میں بنو امیہ سے بلند دکھانے کے لئے ان الفاظ کو استمعال کیا لیکن انہوں نے کہیں بھی دعوی نہیں کیا کہ امہات المومنین اہل بیت نہیں تھیں

شیعہ نقطۂ نظر

شیعہ پہلے آیات کو ان کے محل سے ہٹا کر ان کے مفہوم سے امہات المومنین کو نکالتے ہیں پھر آیت تطہیر کو  پانچ لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں اس کے بعد اہل بیت میں معصوم لوگوں کا عقیدہ نکالتے ہیں اور اس کے بعد امامت کا عقیدہ

 شیعہ مذھب میں حدیث کساء نہایت مقبول ہے  لیکن انہوں نے بھی اس کے نقص پر غور نہیں کیا -شیعہ مذھب کے مطابق اہل بیت معصومین تو پیدا ہی الگ طرح ہوتے ہیں ان کی تخلیق ہی کائنات کے رازوں میں سے ہے لہذا ان سب افراد کی پیدائش کے اتنے عرصہ بعد ان کو رجس سے پاک کرنا کیا مطلب ہوا؟  اگر یہ صرف دکھانے کے لئے تھا تو بھی تک نہیں بنتی اس کا مطلب ہے مخصوص اہل بیت کے معصوم  ہونے کا عقیدہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے امت پر  پیش تک نہیں کیا تھا – شیعوں نے افراط میں  امہات المومنین کو  اہل بیت سے نکال دیا لیکن  اس کاوش میں  خدیجہ رضی الله عنہا کو بھی اہل بیت سے نکال دیا گیا

آیات کو ان کے محل سے ہٹا کر دیکھنا ، کیا صحیح طرز عمل ہے؟ – آیت تطہیر پر عمل

حسین کی ولادت کے بعد ہوا ، کیا اس سے پہلے یہ پانچ  معصومین تھے یا نہیں ؟

انبیاء کی وراثت پر ان کے دلائل  درج ذیل ہیں

شیعہ کتب کے مطابق داود علیہ السلام نے سلیمان علیہ السلام کو اپنا وارث بنایا اگر داود نے کوئی میراث نہیں چھوری تھی تو سلیمان کو وارث بنانے کا مقصد کیا تھا -حالانکہ قرآن میں یہ سرے سے ہے ہی نہیں کہ انبیاء کسی کو وارث بولتے ہوں قرآن میں ہے

وورث سليمان داود

اور سلیمان، داود کا وارث ہوا

قرآن نے صرف ایک وقوعہ بتایا ہے-  کیا نبوت اور  جائداد میں کوئی فرق نہیں ؟کیا موسی علیہ السلام کسی جائداد کے مالک تھے جب بنی اسرائیل صحرا میں تھے؟ ان کے بیٹے تو ان کے وارث نہیں تھے بلکہ یوشع بن نوں خلیفہ ہوئے؟

قرآن میں زکریا علیہ السلام کی دعا ہے کہ ایک بیٹا دے جو

يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيّا

میرا اور ال یعقوب کا وارث ہو

زکریا علیہ السلام اس وقت کس سلطنت کے حاکم تھے؟  اس میں ان کے پاس کیا جائداد تھی جس کے ضائع ہونے کا ان کو خطرہ تھا کچھ بیان نہیں ہوا بلکہ رومیوں کے دور میں تو ان پر ایک ظالم بادشاہ حاکم تھا-  ال یعقوب کہہ کر زکریا علیہ السلام نے اس وراثت  کو بنوت و رسالت کی طرف موڑ دیا

الکافی    کی روایت ہے  الكافي – از الكليني – ج 1 – ص ٣٤  باب ثواب العالم والمتعلم

محمد بن الحسن وعلي بن محمد ، عن سهل بن زياد ، ومحمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد جميعا ، عن جعفر بن محمد الأشعري ، عن عبد الله بن ميمون القداح ، وعلي بن  إبراهيم ، عن أبيه ، عن حماد بن عيسى ، عن القداح ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : قال  رسول الله صلى الله عليه وآله : من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة

وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به وإنه يستغفر لطالب العلم من  في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر ، وفضل العالم على العابد كفضل  القمر على سائر النجوم ليلة البدر ، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا

دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر

 جعفر صادق نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا …. بے شک علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اس لیےکہ انبیاء علیہم السلام کی وراثت درہم و دینار کی صورت میں نہیں ہوتی وہ اپنی باتیں وراثت میں چھوڑتے ہیں جو انہیں لے لیتا ہے اس نے پورا حصہ پالیا

الكافي از  الكليني – ج 5 – ص ١٣ / ١٥ کی   روایت ہے کہ

علي بن إبراهيم ، عن أبيه ، عن بكر بن صالح ، عن القاسم بن بريد ، عن أبي عمرو الزبيري ، عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) قال

ثم أخبر عن هذه الأمة وممن  هي وأنها من ذرية إبراهيم ومن ذرية إسماعيل من سكان الحرم ممن لم يعبدوا غير الله
قط الذين وجبت لهم الدعوة ، دعوة إبراهيم وإسماعيل من أهل المسجد الذين أخبر عنهم  في كتابه أنه أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا الذين وصفناهم قبل هذا في صفة أمة إبراهيم

امام جعفر کہتے ہیں پھر الله نے خبر دی اس امت کے بارے میں اور یہ ابراہیم کی نسل میں سے ہے اور اسمٰعیل کی نسل میں سے جو حرم میں اقامت پذیر ہوئے ان میں سے جو غیر الله کی عبادت نہیں کرتے ہوں ان پر دعوت واجب ہوئی ابراہیم اور اسمعیل کی دعوت مسجد والوں کے لئے جن کے لئے کتاب میں خبر دی گئی کہ ان سے رجس (شرک) کو دور کیا گیا اور ان کو پاک کیا گیا اور اس صفت سے ان سے پہلے امت ابراہیم کو بھی متصف کیا گیا

کتب  جرح و تعدیل میں بعض راویوں کے لئے ملتا  ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ علی بادلوں میں ہیں. اس عقیدے کو ابن سبا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے

البيان  از جاحظ کے مطابق ان لوگوں کے لئے المعتمر شعر پڑھا کرتے تھے

ومن قوم إذا ذكروا عليا … يردون السلام على السحاب

اور ایک قوم ہے کہ جب علی کا ذکر ہوا    انہوں نے بادل کو سلام کیا

کتاب  سير أعلام النبلاء  از الذہبی کے مطابق  إِسْحَاقُ بنُ سُنَيْنٍ  روایت کرتے ہیں کہ ابْنِ المُبَارَكِ کہتے تھے

 ولا أقول علي في السحاب لقد … أقول فيه إذا جورا وعدوانا

اور نہیں کہتا کہ علی بادل میں ہیں    گر کہہ دوں تو یہ ظلم و زیادتی ہے

امام مسلم صحیح مسلم کے مقدمے میں لکھتے ہیں

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ [ص:21]: {فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ} [يوسف: 80]، فَقَالَ جَابِرٌ: «لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ»، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَذَبَ، فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ: وَمَا أَرَادَ بِهَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ الرَّافِضَةَ تَقُولُ: إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ، فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ، يَقُولُ جَابِرٌ: «فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ، وَكَذَبَ، كَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

روافض سوره یوسف کی آیت فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ کی تشریح اس سے کرتے کہ علی بادلوں میں ہیں اور وہ ان سے نہیں نکلیں گے یہاں تک کہ ان کی اولاد میں سے ایک شخص آئے جس کے لئے آسمان سے علی  منادی کریں گے کہ فلاں کے ساتھ خروج کرو اور یہ تاویل جابر الجعفی کیا کرتا تھا

کتاب تهذيب التهذيب از ابن حجر میں سنن ابن ماجہ کے راوی عمرو بن جابر الحضرمي  جو امام مہدی کی روایت کے راوی ہیں ،ان کے لئے بتاتے ہیں

 عمرو بن جابر الحضرمي  کے لئے أبو زرعة المصري کہتے تھے

قال بن أبي مريم قلت لابن لهيعة من عمرو بن جابر هذا قال شيخ منا أحمق كان يقول أن عليا في السحاب

ابن ابی مریم کہتے ہیں میں نے ابن لهيعة سے پوچھا کہ عمرو بن جابر کون ہے بولے ایک بوڑھا احمق کہتا تھا علی بادلوں میں ہیں

ابن ماجہ کی روایت  جو یہ بیان کیا کرتا تھا وہ یہ ہے

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِىُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِىِّ ». يَعْنِى سُلْطَانَهُ.

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِىِّ کہتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مشرق سے لوگ نکلیں گے جو المہدی کے لئے راہ ہموار کریں گے یعنی ان کی حکومت

 کتاب لسان الميزان  از ابن حجر میں مسند ابی یعلی کے راوی فرات بن الأحنف  کے لئے ابن نمير  کہتے ہیں

قال ابن نمير: كان من أولئك الذين يقولون: علي في السحاب

ابن نمير کہتے ہیں یہ ان میں سے ہیں جو کہتے ہیں علی بادل میں ہیں

 کتاب لسان الميزان  از ابن حجر میں راوی مسعدة بن اليسع الباهلي کے لئے کہتے ہیں

قال جعفر: قال أبي: فحرفها هؤلاء وقالوا: علي في السحاب

جعفر کہتے ہیں میرے باپ نے کہا ان لوگوں نے (دین میں) تحریف کی اور کہا علی بادل میں ہیں

 کتاب بصائر الدرجات از محمد بن الحسن الصفار،تصحيح وتعليق وتقديم: الحاج ميرزا حسن كوچه باغي، مطبعة الأحمدي –   طهران منشورات الأعلمي – طهران کے مطابق

 أبو جعفر محمد بن الحسن بن فروخ الصفار المتوفى سنة ٢٩٠ جو الإمام الحسن العسكري کے اصحاب میں سے تھے باب في ركوب أمير المؤمنين ع السحاب وترقيه في الأسباب والأفلاك (باب امیر المومنین علی علیہ السلام کا بادل کی سواری کرنا اور اس میں اسباب و افلاک پر بلند ہونا  ) میں  روایت کرتے ہیں

 حدثنا أحمد بن محمد عن الحسين بن سعيد عن عثمان بن عيسى عن سماعة بن مهران عن أبي بصير عن أبي جعفر عليه السلام أنه قال إن عليا عليه السلام ملك ما في الأرض و ما في تحتها فعرضت له السحابان الصعب والذلول فاختار الصعب وكان في الصعب ملك ما تحت الأرض وفى الذلول ملك ما فوق الأرض واختار الصعب على الذلول فدارت به سبع أرضين فوجد ثلث خراب  وأربع عوامر

al-saab

ابی بصیر، أبي جعفر عليه السلام سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک علی کی تمکنت میں ہے جو کچھ زمین میں اور تحت الثری میں ہے پس ان پر دو بادل پیش کیے گئے الصعب (مشکل) اورالذلول (آسانی). انہوں نے الصعب کو الذلول پر منتخب کیا پس الصعب پر انہوں نے سات زمینوں کی سیر کی اور اس میں سے ایک تہائی کو ویران و برباد پایا اور باقی کو  آباد

ابی جعفر ایک اور روایت میں الصعب کی تفصیل بتاتے ہیں

al-saab2

احمد بن محمّد کہتے ہیں ابو جعفر علیہ السلام نے بات شروع کی اور کہا کہ ذوالقرنین نے دو بادلوں میں سے الذلول کو لیا اور تمھارے صاحب نے الصعب کو لیا میں نے پوچھا یہ  الصعب کیا ہے؟ کہا وہ بادل جس میں  بجلی، اس کی کوند اور کڑک ہے پس تمھارے صاحب (علی ) اس کی سواری کرتے ہیں اور اسباب میں سے بلند ہوتے سات آسمان  کی سیر کرتے ہیں …ہ

صحیح مسلم میں ہے

وحدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني، حدثنا أبو عامر يعني العقدي، حدثنا رباح، عن قيس بن سعد، عن مجاهد، قال: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس، فجعل يحدث، ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل ابن عباس لا يأذن لحديثه، ولا ينظر إليه، فقال: يا ابن عباس، مالي لا أراك تسمع لحديثي، أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا تسمع، فقال ابن عباس: ” إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابتدرته أبصارنا، وأصغينا إليه بآذاننا، فلما ركب الناس الصعب، والذلول، لم نأخذ من الناس إلا ما نعرف

بشیر العدوی،  ابن عباس کے پاس آیا اور روایت کرنے لگا اور بولا رسول الله نے کہا ،رسول الله نے کہا ،پس ابن عباس نے اس کی حدیث کی اجازت نہیں دی اور نہ اس کی طرف دیکھا. اس پر وہ ابن عبّاس سے مخاطب ہوا  کیا وجہ ہے کہ اپ میری حدیث نہیں سنتے جبکہ میں رسول الله کی حدیث سنا رہاہوں؟ پس ابن عباس نے کہا  ایک وقت تھا جب ہم سنتے    کسی نے کہا قال رسول الله  ہم  نگاہ رکھتے اور اپنے کان اس (حدیث) پر  لگاتے . لیکن جب سے  لوگوں نے الصعب اور الذلول  کی سواری کی تو ہم روایات نہیں لیتے مگر صرف اس سے جس کو جانتے ہوں

الصعب اور الذلول کی اہل سنت میں کوئی حتمی رائے نہیں لیکن شیعہ کتب سے واضح ہے کہ یہ ابن سبا کا عقیدہ تھا اور ابن عباس اس پر جرح کر رہے ہیں

 ابن سبا جو اصلا ایک  یہودی تھا،  اس نے یہ عقیدہ کہاں سے لیا ؟ ہماری تحقیق کے مطابق یہ عقیدہ  یہودی تصوف سے آیا ہے  جو عیسی علیہ السلام سے بھی  پہلے  مروج ہو چکا تھا اور اس پر علماء یہود کا عمل نبی صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تھا

حزقی ایل کی کتاب کے مطابق، حزقی ایل کا تعلّق پروہت  طبقہ  سے تھا وہ یہودیوں کے اشرفیہ میں سے تھے جن کو بابلی غلام بنا کر بابل میں لے آئے تھے.  دریائے الخابور کے کنارے بابل میں ، تل آبیب میں حزقی ایل نے ایک عجیب مکاشفہ دیکھا. انہوں نے دیکھا کہ ایک بہت عظیم رتھ ہے جس کو چاروں جانب فرشتوں نے گھیرا ہوا ہے ( حزقیایل باب ١: ٢٨). اس رتھ کو حزقی ایل مرکبہ بولتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس میں نوراور بجلی کی کڑک تھی  اور یہ بادلوں میں تھا.  وقت کے ساتھ اسی رتھ نے اہمیت اختیار کر لی اور باقاعدہ مرکبه   سرّیت  (١) کے نام سے  یہودیوں میں سرّیت و تصوف کا آغاز ہوا جس کو مرکوه سرّیت  بھی کہا گیا. اس سرّیت کی ابتدا کا اندازہ ہے کہ ١٠٠  ق م سے لے کر ١٠٠٠ ب م تک ہے. گویا یہ طریقۂ کار عیسیٰ علیہ السلام سے ١٠٠ سال پہلے شروع ہوا اور نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں بھی اس پر عمل ہوتا رہا

(١)Merkabah Mysticism

 حزقی ایل کے مکاشفہ میں مرکبہ پر انسانی شکل میں موجود ایک شخص  سارے ملائکہ کو تدبیر عمل دے رہا ہوتا ہے.

ezekiel-1

ezekiel-2

++====================================================

ezekiel-3

ezekiel-4

ترجمہ جیو لنک ریسورس کنسلٹنٹ بار اول ٢٠١٠

اس پورے مکاشفہ میں اہم بات یہ ہے

حزقی ایل باب ١: ٢٦ میں لکھتے ہیں

וּמִמַּעַל, לָרָקִיעַ אֲשֶׁר עַל-רֹאשָׁם, כְּמַרְאֵה אֶבֶן-סַפִּיר, דְּמוּת כִּסֵּא; וְעַל, דְּמוּת הַכִּסֵּא, דְּמוּת כְּמַרְאֵה אָדָם עָלָיו, מִלְמָעְלָה

اور آسمان سے اوپر جو ان کے سروں پر تھا  ایک عرش تھا جیسا کہ نیلم کا پتھر ہوتا ہے اور اس عرش نما پر ایک انسان نما  تخت افروز تھا

یہودیت تصوف میں ان آیات کا مفہوم اللہ کے حوالے سے لیا جاتا ہے اور مرکبہ کو عرش ہی سمجھا جاتا ہے جو بادلوں اوربجلی کی کڑک میں  ہے

 الله ، مرکبہ پر  تھا جس کو چار فرشتے اٹھاتے ہیں اور وہ بادل میں ہے

ابن سبا نے اس عقیدے کو  علی رضی الله عنہ پر منطبق کر دیا   اسی وجہ سے السبئية کا غالی فرقہ علی میں الله کے حلول کا قائل ہوا اور مصر میں اس کی تبلیغ کرتا رہا

الشھرستانی  اپنی کتاب الملل و النحل ص ٥٠ پر لکھتے ہیں

  السبائية أصحاب عبد الله بن سبأ؛ الذي قال لعلي كرم الله وجهه: أنت أنت يعني: أنت الإله؛ فنفاه إلى المدائن. زعموا: أنه كان يهودياً فأسلم؛ وكان في اليهودية يقول في يوشع بن نون وصي موسى عليهما السلام مثل ما قال في علي رضي الله عنه. وهو أول من أظهر القول بالنص بإمامة علي رضي الله عنه. ومنه انشعبت أصناف الغلاة. زعم ان علياً حي لم يمت؛ ففيه الجزء الإلهي؛ ولا يجوز أن يستولي عليه، وهو الذي يجيء في السحاب، والرعد صوته، والبرق تبسمه: وأنه سينزل إلى الأرض بعد ذلك؛ فيملأ الرض عدلاً كما ملئت جوراً. وإنما أظهر ابن سبا هذه المقالة بعد انتقال علي رضي الله عنه، واجتمعت عليع جماعة، وهو أول فرقة قالت بالتوقف، والغيبة، والرجعة؛ وقالت بتناسخ الجزء الإلهي في الأئمة بعد علي رضي الله عنه.

 السبائية : عبداللہ بن سبا کے ماننے والے ۔ جس نے علی كرم الله وجهه سے کہا کہ:  تو، تو ہے یعنی تو خدا ہے پس علی نے اس کو  مدائن کی طرف ملک بدر کر دیا ۔ ان لوگوں کا دعوی ہے کہ وہ (ابن سبا) یہودی تھا پھر اسلام قبول کر لیا ۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ کا جانشین یوشع بن نون تھا اور اسی طرح علی ( اللہ ان سے راضی ہو) ۔ اور وہ (ابن سبا)  ہی ہے جس نے سب سے پہلے علی  کی امامت کے لئے بات پھیلآئی ۔ اور اس سے غالیوں کے بہت سے فرقے وابستہ ہیں ۔ ان کا خیال تھا کہ علی زندہ ہے اور انتقال نہیں کر گئے ۔ اور علی میں الوہی حصے تھے اور الله نے ان کو لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے اجازت نہیں دی ۔ اور وہ (علی) بادلوں کے ساتھ موجود ہیں اور آسمانی بجلی ان کی آواز ہے اور کوند انکی مسکراہٹ ہے اور وہ اس کے بعد زمین پر اتریں گے اور اس کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح یہ  زمین ظلم سے بھری ہے۔ اور علی کی وفات کے بعد ابن سبا نے اس کو پھیلایا۔ اور اس کے ساتھ (ابن سبا) کے ایک گروپ جمع ہوا اور یہ پہلا فرقہ جس نے توقف (حکومت کے خلاف خروج میں تاخر)، غیبت (امام کا کسی غار میں چھپنا) اور رجعت (شیعوں کا امام کے ظہور کے وقت زندہ ہونا) پر یقین رکھا ہے ۔ اور وہ علی کے بعد انپے اماموں میں الوہی اجزاء کا تناسخ کا عقید ہ رکھتے ہیں

بادل بجلی اور کڑک میں علی اتے ہیں جس طرح حزقی ایل کو ایک مرکبہ یا عرش پر ایک شخص نظر آیا تھا

 ایک دوسری بات بھی یہاں اہم ہے کہ عزیر کا ابن الله کا عقیدہ آج کل کے یہودیوں کا نہیں ہے لیکن عرب کے  یہودیوں کا تھا  جس کا ذکر قرآن میں ہے . موجودہ دور میں یہود، قرآن پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم عیسی کا انکار اس لئے کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ اس نے ابن الله کا دعوی کیا تو پھر ہم عزیر کو ابن للہ کیوں کہنے لگے؟

مودودی تفہیم القرآن میں سوره توبہ کی شرح میں لکھتے ہیں

ezra

  ایک مغربی محقق گورڈن درنیل نوبے  قران  کے حق میں  وضاحت کرتے ہیں

We can deduce that the inhabitants of Hijaz during Muhammad’s time knew portions, at least, of 3 Enoch in association with the Jews. The angels over which Metatron becomes chief are identified in the Enoch traditions as the sons of God, the Bene Elohim, the Watchers, the fallen ones as the causer of the flood. In 1 Enoch, and 4 Ezra, the term Son of God can be applied to the Messiah, but most often it is applied to the righteous men, of whom Jewish tradition holds there to be no more righteous than the ones God elected to translate to heaven alive. It is easy, then, to imagine that among the Jews of the Hijaz who were apparently involved in mystical speculations associated with the Merkabah, Ezra, because of the traditions of his translation, because of his piety, and particularly because he was equated with Enoch as the Scribe of God, could be termed one of the Bene Elohim. And, of course, he would fit the description of religious leader (one of the ahbar of the Qur’an 9:31) whom the Jews had exalted.” (from A History Of The Jews Of Arabia by Gordon Darnell Newby University Of South Carolina Press, p. 59, 1988)

ہم یہ استخراج کر سکتے ہیں کہ حجاز کے یہودی محمد (صلی الله علیہ وسلم) کے زمانے میں ٣ انوخ (إدريس) کے کچھ اجزاء سے واقف تھے جن کا تعلق یہود سے تھا. وہ ملائکہ جن کی سربراہی مطتروں (ایک خاص فرشتہ) کے پاس تھی ان کو انوخ کی روایات میں الله کا بیٹا، بنو الوھم، نگہباں  اور ہبوط کرد ہ ( یعنی جنت سے نکالے ہوئے) کے حوالے سے جانا جاتا ہے جن کی وجہ سے طوفان نوح برپا ہوا. کتاب انوخ اول اور چہارم میں بنو الوھم (الله کے بیٹے) کی آصطلاح، مسیح پر بھی استممال ہوئی ہے لیکن یہ اکثر نیک لوگوں کے لئے استعمال ہوتی ہے جو الله کی طرف سے چنیدہ ہوتے ہیں جن کے لئے یہودی روایات کے مطابق کہا جاتا ہے کہ  ان سے زیادہ صالح نہیں جن کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا. لہذا یہ سمجھنا اب آسان ہے کہ حجاز کے یہودی جو مرکبہ کے حوالے سے متصوفانہ روایت میں مبتلا تھے ان کے لئے عزیرکا ( تورات کا) ترجمہ کرنے پر اور   صالحیت کی وجہ سے  درجہ بلند ہو کر انوخ کاتب کے برابر ہو گیا ہو اور وہ بنو الوھم میں سے بن گیا ہو. اور بلاشبہ یہ تفصیل  عزیر پر ایک  رہبر  ( قرآن سوره ٩ آیت  ٣١ یہودی  احبار ) کے طور پر منطبق کی جا سکتی ہے جن کو یہود نے بلند کیا  ( کتاب، یہود عرب کی تاریخ از گورڈن درنیل نوبے ١٩٨٨

اس تفصیل کا مطلب ہے کہ یہودیوں میں  ایک قدیم کتاب انوخ بن جرید مشھور ہے. انوخ سے مراد إدريس علیہ السلام  کو بھی لیا جاتا ہے جن کے لئے  ہمارے اوران کے ہاں روایت مشھور ہے کہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا  گیا تھا. اسی طرح کچھ فرشتے تھے جن کو الله کے بیٹے کہا جاتا تھا  ان کا ذکر اس کتاب انوخ میں ہے . اسی کتاب میں الله کے بیٹے کی آصطلاح، مسیح پر بھی لگائی گئ ہے. محقق گورڈن درنیل نوبے  کے مطابق حجاز کے یہودیوں کی رسائی ہو سکتا ہے اس کتاب تک ہو. مزید یہ کہ وہ مرکبہ تصوف میں بھی مبتلا تھے اور اسی ملغوبے کو ماننے کی وجہ سے. ممکن ہے ان میں عزیر کی الوہیت کا عقیدہ آ گیا ہو گا

واضح رہے کہ عزیر ، یہودیوں کے مطابق ایک کاتب تھا نبی نہیں. لیکن اس کو  مسلمانوں نے نبی  کہنا دینا شروع کر دیا ہے اور اس کے ساتھ علیہ السلام کا لاحقہ بھی لگایا جاتا ہے جبکہ ابی داود کی حدیث ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

مَا أَدْرِي أَعُزَيْرٌ نَبِيٌّ هُوَ أَمْ لَا

مجھے نہیں پتا کہ عزیر نبی ہے یا نہیں

الغرض  یہ یہودی تصوف کی کارستانی تھی کہ عزیر کو نعوذ باللہ، اللہ کا بیٹا کہا گیا اور علی کو بادل میں پہنچایا گیا

اللہ اس شرک سے بلند اور پاک ہے

وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ا۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ  ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِـُٔوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ

یہودی کہتے ہیں کہ عُزَیر اللہ کا بیٹا ہے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔29 یہ بے حقیقت باتیں ہوتی ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں اُن لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کُفر میں مبتلا ہوئے تھے۔30 خدا کی مار اِن پر، یہ کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا ربّ بنا لیا ہے31

الله ہم کو غلو اور شرک سے بچائے

 عرش عظیم اور مرکبہ کو اٹھانے والے فرشتے

مرکبہ کو چار فرشتوں نے اٹھایا ہوا تھا جن کے چار چہرے تھے ایک انسان جیسا ایک شیر جیسا ایک بیل جیسا اور ایک عقاب جیسا تھا کچھ اسی طرح کی روایات ہماری کتب میں بھی ہیں

کتاب نقض الإمام أبي سعيد على المريسي العنيد  از عثمان بن سعید میں ایک مقطوع حدیث نقل ہوئی ہے جو کتاب حزقی ایل کی  آیت ١٠ کی نقل ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : ” حَمَلَةُ الْعَرْشِ مِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ الْإِنْسَانِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ النِّسْرِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ الثَّوْرِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ الْأَسَدِ

عروه کہتے ہیں کہ عرش کو جنہوں نے اٹھایا ہوا ہے ان میں انسانی صورت والے ہیں اور عقاب کی صورت والے اور بیل کی صورت والے اور شیر کی صورت والے

ابن ابی شیبہ کی  کتاب العرش  کی روایت ہے

حدثنا : علي بن مكتف بن بكر التميمي ، حدثنا : يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، عن أبيه ، عن محمد بن إسحاق ، عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة ، عن عبد الله بن أبي سلمة قال : أرسل إبن عمر (ر) إلى إبن عباس (ر) يسأله : هل رأى محمد ربه ؟ فأرسل إليه إبن عباس : أن نعم ، قال : فرد عليه إبن عمر رسوله أن كيف رآه ؟ ، قال : رآه في روضة خضراء ، روضة من الفردوس دونه فراش من ذهب ، على سرير من ذهب يحمله أربعة من الملائكة ، ملك في صورة رجل ، وملك في صورة ثور ، وملك في صورة أسد ، وملك في صورة نسر.

عبد الله بن أبي سلمة کہتے ہیں کہ  ابن عمر نے ابن عباس کے پاس بھیجا کہ کیا نبی نے الله کو دیکھا؟ ابن عباس نے کہا ہاں دیکھا. اس پر ابن عمر نے اس کو رد کیا اور کہا کیسے؟ ابن عباس نے کہا الله  کو سبز باغ میں دیکھا،  فردوس کے باغ میں جس میں سونے کا فرش تھا اور ایک تخت تھا سونے کا جس کو چار فرشتوں نے اٹھایا ہوا تھا، ایک کی شکل انسان جیسی، ایک کی بیل جیسی ،ایک کی شیر جیسی ،ایک کی عقاب جیسی تھی

اس سند سے عبدللہ بن احمد بھی کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں، إبن خزيمة – التوحيد – باب ذكر الأخبار المأثورة میں ، البيهقي – الأسماء والصفات – باب ما جاء في العرش والكرسي میں، الآجري – الشريعة میں روایت کرتے ہیں

اس کی سند میں محمد بن إسحاق بن يسار کا تفرد ہے جس کو امام مالک دجالوں میں سے ایک دجال کہتے  ہیں

ابن  الجوزی اس کو کتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں

هَذَا حَدِيثٌ لا يَصِحُّ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَقَدْ كَذَّبَهُ مَالِكٌ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ.

یہ حدیث صحیح نہیں اس میں محمد بن اسحاق کا تفرد ہے اور اس کو امام مالک اور ھشام بن عروہ جھوٹا کہتے ہیں

ابن کثیر سوره غافر کی آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں

 رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (8) وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (9)
يخبر تعالى عن الملائكة المقربين من حَمَلة العرش الأربعة، ومن حوله من الكروبيين، بأنهم يسبحون بحمد ربهم

الله نے خبر دی ان چار مقربین فرشتوں کے بارے میں جنہوں نے عرش کو اٹھایا ہوا ہے اور اس کے ارد گرد کروبیں کے بارے میں کہ وہ الله کی تسبیح کرتے ہیں اس کی تعریف کے ساتھ ……ہ

اس کے بعد ابن کثیر ایک روایت نقل کرتے ہیں جس میں محمد بن اسحاق ہے اور کے کچھ اشعار نقل ہوئے ہیں جن  میں آدمی بیل شیر عقاب کا ذکر ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم کہتے ہیں سچ کہا

 وقد قال الإمام أحمد: حدثنا عبد الله بن محمد -هو ابن أبي شيبة -حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن إسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن عكرمة عن ابن عباس [رضي الله عنه]  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صَدّق أمية في شيء من شعره، فقال:

رَجُلٌ وَثَور تَحْتَ رِجْل يَمينه … وَالنَّسْرُ للأخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ …فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “صدق”..

اس کے بعد ابن کثیر  کہتے ہیں

وهذا إسناد جيد: وهو يقتضي أن حملة العرش اليوم أربعة، فإذا كان يوم القيامة كانوا ثمانية

اس کی سند جید ہے عرش کو چار فرشتوں نے آج اٹھایا ہوا ہے پس جب قیامت ہو گی تو آٹھ اٹھائے ہوں گے

یہ روایات صحیح نہیں اور اسرائیلیآت میں سے ہیں

کروبیں کا لفظ اصل میں توریت کی کتاب الخروج کے باب ٢٥   کی آیت ١٨ میں موجود  ہے اس کو عبرانی میں  כְּ֝רוּבִ֗ים  لکھا جاتا ہے اور انگریزی میں   شروبیم (٢) کہا جاتا ہے

(٢) cherubim

محمّد بن اسحاق اہل کتاب سے مواد لے کر اپنی کتابوں میں پیش کرنے پر بدنام تھے اور ان کو ایسے پروتے تھے کہ سچ کا گمان ہو مثلا انہوں نے بحیرہ راہب کا قصہ پھیلایا جس  کے مطابق نسطوری عیسائی نبی صلی الله علیہ وسلم کو  بچپن سے ہی جانتے تھے  اسی طرح یہ روایات بھی عرش کو بیان کرتی ہیں جبکہ یہ مرکبہ کی تفصیل ہے

کتاب  بحر الفوائد المشهور بمعاني الأخبار ازالكلاباذي  الحنفي (المتوفى: 380هـ) کے مطابق

وَقِيلَ فِي حَمَلَةِ الْعَرْشِ إِنَّهُمْ أَمْلَاكٌ أَحَدُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْإِنْسَانِ، يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ فِي أَرْزَاقِهِمْ، وَالثَّانِي عَلَى صُورَةِ النَّسْرِ يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ فِي أَرْزَاقِ الطَّيْرِ، وَالثَّالِثُ عَلَى صُورَةِ الْأَسَدِ يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي أَرْزَاقِ الْبَهَائِمِ وَدَفْعِ الْأَذَى عَنْهُمْ، وَالرَّابِعُ عَلَى صُورَةِ الثَّوْرِ يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي أَرْزَاقِ الْبَهَائِمِ، وَدَفْعِ الْأَذَى عَنْهُمْ يُصَدِّقُ ذَلِكَ

کہا جاتا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک انسان کی شکل کا ہے جو الله سےانسانوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے دوسرا عقاب کی شکل کا ہے جو پرندوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے تیسرا شیر کی شکل کا ہے جو درندوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے چوتھا بیل کی شکل کا ہے جو چوپایوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے

سن ٥٣٧ ع بعد مسیح میں عسائیوں نے قسطنطنیہ میں ایک بہت بڑا چرچ بنایا اس میں گنبد  پر عرش بنایا گیا اور اس کے گرد چار فرشتوں کو بنایا گیا

seraphim

چار سرافیم یا کروبیں کا تصور اسلام سے پہلے سے موجود ہے جو عرش کے گرد رہتے ہیں

الله ہدایت دے اور گمراہی سے بچائے

عمار بن یاسر رضی الله عنہ کا قتل جنگ صفین میں ہوا. اس کی خبر نبی صلی الله علیہ وسلم نے دی تھی. بخاری کی روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

ويح عمار، تقتله الفئة الباغية، يدعوهم إلى الجنة، ويدعونه إلى النار» قال: يقول عمار: أعوذ بالله من الفتن

اے عمار تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا تم ان کو جنت کی طرف بلاؤ گے اور وہ تم کو اگ کی طرف

بخاری کی اس روایت کی صحیح تاویل  ہے کہ عمار کو ابن سبا کے  باغی گروہ  نے قتل کیا ، دونوں جانب مسلمانوں کو لڑا رہا تھا اس بات کی تائید  حدیث سے ہوتی ہے کہ عثمان کو منافق قمیص اتارنے کو کہیں گے اور الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا کہ تم اس کو نہ اتارنا سب نے اس سے مراد خلافت کے معزول ہونے کا سبائی ایجنڈا قرار دیا ہے جس کے سبب ان کی شہادت ہوئی

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم  نے فرمایا

يا عثمان انه لعل الله يقصك قميصا فان ارادوك على خلعه فلا تخلعه لهم

اے عثمان ! شاید اللہ تعالٰی تمہیں ایک قمیص پہنائیں ۔ اگر لوگ تم سے وہ قمیص اتروانا چاہیں تو ان کے لئے وہ قمیص نہ اتارنا۔

 اس حدیث کو امام ترمذی سنن میں، ابن حبان صحیح میں  ، حاکم  مستدرک میں روایت کرتے ہیں

مسلم کی حدیث ہے

وحَدَّثَني مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ – قَالَ عُقْبَةُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَرَنَا – غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَمَّارٍ: “تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ” ,

دوسری سند ہے

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ وَالْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِمَا، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِه.

تیسری سند ہے

وحَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ”

کتاب الثقات از ابن حبان کے مطابق

خَيْرَةُ مَوْلاةُ أم سَلَمَةَ وَالِدَةُ الْحَسَنِ بن أبي الْحسن يروي عَنْهَا ابْنهَا الْحسن بن أبي الْحسن عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ فِي عَمَّارٍ تَقْتُلُكَ الفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

خَيْرَةُ مَوْلاةُ أم سَلَمَةَ، حسن بصری کی والدہ ہیں

 امام احمد کے نزدیک، صحیح مسلم کی  سند معلول ہے اس کا ذکر وہ مسند میں کرتے ہیں پہلے یہی مسلم کی سند لاتے ہیں پھر ابن سیرین کی بات نقل کرتے ہیں

 مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ، وَقَدْ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ» قَالَ: فَرَأَى عَمَّارًا، فَقَالَ: «وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ: عَنْ أُمِّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا، تَلِجُ عَلَيْهَا

محمّد ابن سِيرِينَ نے پوچھا کہ حسن نے اپنی ماں سے روایت کیا کہا جی یا تو یہ اختلاط ہے یا اس میں کچھ اور بات مل گئی  ہے

 کتاب العلل ومعرفة الرجال از عبدللہ  کے مطابق

حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا مُحَمَّد بن أبي عدي عَن بن عون قَالَ فَذَكرته لمُحَمد فَقَالَ عَن أمه قلت نعم قَالَ أما أَنَّهَا قد كَانَت تخالطها تلج عَلَيْهَا يَعْنِي  حَدِيث الْحسن عَن أمه عَن أم سَلمَة فِي عمار تقتله الفئة الباغية

احمد کہتے ہیں میں نے محمّد بن سیرین سے ذکر کیا محمّد ابن سِيرِينَ نے پوچھا کہ حسن نے اپنی ماں سے روایت کیا کہا جی یا تو یہ اختلاط ہے یا اس میں کچھ اور بات مل گئی  ہے

مسند احمد میں امام احمد یہ الفاظ بھی نقل کرتے ہیں

قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: «عَنْ أُمِّهِ؟ أَمَا إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ تَلِجُ عَلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ»

احمد کہتے ہیں میں نے اس کا ابن سیرین سے ذکر کیا انہوں نے کہا (حسن) اپنی ماں سے روایت کیا ؟ بے شک انہوں نے (حسن کی والدہ) نے ام المومنین کی بات گڈمڈ کر دی

ابو بکر الخلال کتاب السنہ میں لکھتے ہیں

أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَيَّةَ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ فِي حَلْقَةٍ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَأَبَا خَيْثَمَةَ وَالْمُعَيْطِيَّ ذَكَرُوا: «يَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» فَقَالُوا: مَا فِيهِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ

محمّد بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ایک حلقہ میں سنا جس میں احمد بن حنبل ، یحیی بن معین  ابو  خَيْثَمَةَ اور وَالْمُعَيْطِيَّ  تھے اور روایت  يَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَة   عمار تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا  کا

ذکر ہوا سب نے کہا اس سلسلے میں ایک بھی حدیث صحیح نہیں

اسی کتاب میں یہ بات بھی لکھی ہے

سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: رُوِيَ فِي: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ثَمَانِيَةٌ وَعِشْرُونَ حَدِيثًا، لَيْسَ فِيهَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

میں نے محمّد بن عبد الله بن ابراہیم سے سنا کہا میں نے اپنے باپ سے سنا کہتے تھے میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا

عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا کو ٢٨ حدیثوں سے روایت کیا ایک بھی صحیح نہیں

قاتل صحابی رسول  تھا

مسند احمد کی ایک  روایت ہے

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ، وَكُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ، عَنْ أَبِي غَادِيَةَ، قَالَ: قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ قَاتِلَهُ، وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ»، فَقِيلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: قَاتِلَهُ، وَسَالِبَه.

كُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ کہتا ہے کہ  أَبِي غَادِيَةَ (رضی الله عنہ)، عمرو بن العاص (رضی الله عنہ) کے پاس پہنچے اور ان کو بتایا کہ عمار (رضی الله عنہ) شہید ہو گئے

ایک  روایت میں ہے کہ  ابو الغادیہ  رضی الله عنہ  نے عمار رضی الله عنہ  کو عثمان رضی الله عنہ پر سب و شتم کرتے سنا اس لئے قتل کیا

وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: ثَنَا كُلْثُومُ بن جبر، عن أبي الغادية قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَشْتِمُ عُثْمَانَ، فَتَوَعَّدْتُهُ بِالْقَتْلِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ طَعَنْتُهُ، فوقع، فقتلته

ان دونوں  کی سند میں َكُلْثُومُ بْنُ جَبْر المتوفی ١٣٠ ھ ہے . احمد  اس کو ثقہ جبکہ النسائي ليس بالقوى ، قوی نہیں کہتے ہیں

  ابن حجر ان کو  صدوق يخطىء  غلطیاں کرتا ہے کہتے ہیں

مسلم نے  كتاب القَدَر میں ایک روایت نقل کی ہے

امام مسلم نے  کلثوم بن جبر سے صرف ایک روایت نقل کی ہے کہ الله نے رحم پر فرشتہ مقرر کیا ہے جو امام مسلم نے شاہد کے طور پر پیش کی ہے

ابن حجر نے لسان المیزان ج ٣ ص ٤٠ میں ایک روایت الحسن بن دينار کے واسطے سے نقل کی ہے کہ عمار کو ابو الغادیہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ، لیکن کہا ہے  کہ یہ  متروک راوی ہے

طبقات ابن سعد میں بھی ایک روایت ہے کہ ابو الغادیہ نے عمار کا قتل کیا لیکن اس کی سند میں واقدی ہے لہذا روایت ضعیف ہے

أَبِي غَادِيَةَ يَاسِرُ بْنُ سَبْعٍ، مَدَنِيٌّ صحابی رسول ہیں ان کے اس قتل میں شامل ہونے کی ایک روایت بھی صحیح نہیں لیکن پھر بھی بعض محقیقن (الذھبی وغیرہ) نے ان پر یہ الزام لگایا ہے جو ہمارے نزدیک محتاج دلیل ہے

ایک مفرط اہل حدیث عالم زبیر علی زئی ، ایک سوال کے جواب میں  لکھتا ہے

 ابو الغادیہؓ کا سیدنا عمار بن یاسرؓ کو جنگِ صفین میں شہید کرنا ان کی اجتہادی خطا ہے جس کی طرف حافظ ابن حجر العسقلانی  نے اشارہ کیا ہے ۔ دیکھئے الاصابۃ (۱۵۱/۴ ت ۸۸۱، ابو الغادیۃ الجہنی) وما علینا إلا البلاغ    (۵ رمضان ۱۴۲۷؁ھ

معاویہ اور عمرو بن العاص رضی الله عنہما کے تبصرے

مسند احمد کی  روایت ہے

حدثنا يزيد أَخبرنا العوَّام حدثني أسْوَد بن مسعود عن حنظَلة بن خُويلد العَنَزِي قال: بينما أَنا عند معاوية، إذْ جاءَه رجلان يختصمانِ في رأس عَمّار، يقول كل واحد منهما: أنا قتلتُه، فقال عبد الله ابن عمرو: ليَطبْ به أحدكما نَفْساً لصاحبه، فإني سمعت رسول الله -صلي الله عليه وسلم – يقول: “تقتلَه اَلفئة الباغية”، قال معاوية: فما بالُك معنا؟!، قال: إن أبي شكاني إلى رسول الله -صلي الله عليه وسلم -، فقال: “أطِعْ أباك ما دام حياً ولا تَعْصه”، فأنا معكم، ولستَ أقاتل.

 حنظَلة بن خُويلد کہتا ہے  . معاوية کے سامنے جھگڑا ہوا کہ عمار کو کس نے قتل کیا .. معاوية نے عبد الله بن عمرو سے کہا تم ہمارے ساتھ کیوں ہو ؟

 اس کے راوی أسود بن مسعود کے لئے الذھبی میزان میں لکھتے ہیں حنظلة سے  روایت کی ہے، لا يدري من هو، میں نہیں جانتا کون ہے . لہذا  ضعیف روایت ہے

ایسے مجھول راوی کی روایت کو آج لوگ صحیح کہہ رہے  مثلا اہل حدیث محقق زبیر علی زئی جن پر شیعیت  کا اثر تھا اور شیعہ راویوں کے دفاع کے لئے مشھور تھے دوسرے اہل حدیث عالم مولانا اسحاق ہیں جو منہ بھر صحابہ پر سب و شتم کرتے  تھے

 مسند احمد کی ایک اور روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ، فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَوَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى [ص:317] أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا، – أَوْ قَالَ: بَيْنَ سُيُوفِنَا

ابو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جب عمار شہید ہوگئے تو عمرو بن حزم عمرو بن العاص کے پاس گئے اور کہا عمار قتل ہوگئے اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا تھا عمار تمہیں باغی اور نابکار جماعت قتل کرے گی ۔ عمرو بن العاص غمناک ہوکر اٹھے اور کہا «لا حول ولا قوة الا بالله» معاویہ کےپاس پہنچے تو معاویہ نے سوال کیا کہ کیا ہوا؟ کہا عمار قتل ہوگئے ہیں معاویہ نے کہا قتل ہوگئے تو ہوگئے اب کیا کریں؟ عمرو  نے کہا میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے سنا تھا کہ عمار کو ایک باغی اور ظالم لوگ قتل کرینگے معاویہ نے جواب دیا ہم نے  عمار کو قتل نہیں کیا عمار کو علی اور اسکے ساتھیوں نے قتل کیا ہے جو اسے اپنے ساتھ لائے اور انھوں نے   ان کو ہماری  تلواروں اور نیزوں کے سامنے کیا

عمرو بن حزم ، عمار بن یاسر کے قتل پر عمرو بن العاص کے پاس آئے اور انکو نبی کا قول سنایا…  مُعَاوِيَةُ نے کہا ان کو ہماری تلواروں کے آگے جس نے کیا اسی نے قتل کیا

 محمّد بن عمرو بن حزم  کہتے ہیں عمرو بن العاص کے پاس عمرو بن حزم داخل ہوئے اور بتایا کہ عمار قتل ہوئے

جبکہ کتاب الإصابة في تمييز الصحابة  کے مطابق

قال أبو نعيم: مات في خلافة عمر، كذا قال إبراهيم بن المنذر في الطبقات

أبو نعيم کہتے ہیں ان  (عمرو بن حزم) کا عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں انتقال ہوا اور ایسا ہی إبراهيم بن المنذر نے  الطبقات میں کہا ہے

 اگرچہ امام احمد نے اس کو عبد الرزاق سے سنا ہے لیکن مصنف عبد الرزاق میں یہ موجود نہیں شاید اس کی وجہ سند کا انقطاع ہے یہ روایت بھی ضعیف ہے

مسند احمد کی ایک اور روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: إِنِّي لَأَسِيرُ مَعَ مُعَاوِيَةَ فِي مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفِّينَ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: يَا أَبَتِ، مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ: «وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ؟ قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ:أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ هَذَا؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا تَزَالُ تَأْتِينَا بِهَنَةٍ أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ الَّذِينَ جَاءُوا بِهِ

اس روایت میں ہے کہ معاویہ رضی الله عنہ اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ میں عمار رضی الله عنہ کے قتل کے بعد بحث ہوئی معاویہ نے  عمرو کو ڈانٹا کہ جو سنتے ہو بولنے لگتے ہو نعوذ باللہ

 اس کی سند میں عبد الرحمن بن زياد بن أنعم الإفريقي ہیں ان کو  قال ابن حبان كان يدلس کہ یہ تدلیس کرتے ہیں.  امام احمد ليس بشيء کوئی چیز نہیں  اور لا تكتب   اس کی حدیث نہ لکھو کہتے ہیں

لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے

ابن الجوزی کتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية میں لکھتے ہیں

وأما قوله عليه السلام لعمار تقتلك الفيئة الباغية وقد أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيّ من حديث أَبِي قَتَادَة وأم سلمة إلا أن أَبَا بَكْر الخلال ذكر أن أَحْمَد بْن حنبل ويحيى بْن معين وأبا خيثمة والمعيطي ذكروا هَذَا الحديث تقتل عمارًا الفيئة الباغية فقال فِيهِ ما فِيهِ حديث صحيح وأن أَحْمَد قال قد روى فِي عمار تقتله الفيئة الباغية ثمانية وعشرون حديثًا ليس فيها حديث صحيح”.

اور جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ عمار کو با غی گروہ قتل کرے گا اس کی تخریج بخاری نے ابی قتادہ اور ام سلمہ  کی حدیث سے کی ہے. بے شک ابو بکر الخلال نے ذکر کیا ہے کہ  أَحْمَد بْن حنبل ويحيى بْن معين وأبا خيثمة والمعيطي نے اس باغی گروہ والی روایت کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے ایک بھی روایت صحیح نہیں. اور احمد نے ٢٨ روایات سے عمار تقتله الفيئة الباغية  کو روایت کیا جن میں ایک بھی صحیح نہیں ہے

کتاب الثقات از العِجْلِيُّ  کے مطابق  امام   عبد الرَّحْمَن بن إِبْرَاهِيم الدِّمَشْقِي  دُحَيْم  کہتے تھے

قَالَ أَحْمَدُ العِجْلِيُّ: دُحَيْمٌ ثِقَةٌ كَانَ يَخْتلِفُ إِلَى بَغْدَادَ فَذَكَرُوا الفِئَةَ البَاغِيَةَ هُم أَهْلُ الشَّامِ, فَقَالَ: مَنْ قَالَ هَذَا, فَهُوَ بن الفَاعِلَةِ.

العِجْلِيُّ کہتے ہیں دُحَيْمٌ ثقہ ہیں ان کا بغداد میں اختلاف ہوا پس باغی گروہ والی روایت سے لوگوں نے اہل شام مراد لئے اس پر امام دُحَيْم   نے کہا جو یہ کہے وہ فاحشہ کی اولاد ہے

محدثین اس روایت کو یا تو رد کرتے ہیں یا تاویل جیسا کہ اوپر پیش کی گئی ہے

بیہقی روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لوگوں کا اختلاف ہو گا تو عمار حق پر ہونگےاس کی سند ہے

عمَّار الدَّهني عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، إِذَا اخْتَلَفَ النَّاس كَانَ ابْنُ سُمَيَّةَ مَعَ الْحَقِّ

سند میں  سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، مدلس ہے جو کبار صحابہ سے تدلیس کرتا ہے

کتاب  جامع التحصيل في أحكام المراسيل کے مطابق

سالم بن أبي الجعد الكوفي مشهور كثير الإرسال عن كبار الصحابة كعمر وعلي وعائشة وابن مسعود وغيرهم رضي الله عنهم قال بن المديني لم يلق بن مسعود

ابن المدینی کہتے ہیں سالم کی ابن مسعود سے ملاقات نہیں ہوئی

یہ روایت بھی ضعیف ہے

الغرض عمار رضی الله عنہ کے قاتل جہنمی ہیں لیکن وہ اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نہیں ہیں

بعض مورخین (الذھبی، ابن حجر، الزركلي ) نے واقدی کے قول پر دعوی کیا ہے کہ جنگ صفین میں  صحابی رسول  خُزَيْمة بْن ثابت بْن الفاكه، أَبُو عِمارة الأنصاريّ الخطْمي، ذو الشهادتين رضی الله عنہ  بھی قتل ہوئے. روافض ان کا نام چھپاتے ہیں ان کی گواہی نبی صلی الله علیہ وسلم کے قول کے مطابق دو کے برابر  تھی. یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے قرآن کی سوره توبہ کی آیات پر گواہی دی تھی کہ وہ نازل ہوئی تھیں .روافض کی جانب سے ان پر جرح کی جاتی ہے کہ یہ مصحف عثمانی والی سازش میں شامل تھے. لیکن بعد میں یہ علی رضی الله عنہ کی طرف سے لڑے تھے اس کوچھپایا جاتا  ہے. ہمارے نزدیک ان کی وفات صفیں میں ہونے والی بات  صحیح نہیں ہے

إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں مغلطائ لکھتے ہیں

وفي «كتاب ابن عساكر»: قال محمد بن عبد الله: قيل للحكم: أشهد خزيمة بن ثابت ذو الشهادتين الجمل؟ قال: ليسبه، ولكنه غيره من الأنصار مات ذو الشهادتين في زمان عثمان بن عفان رضي الله عنهما.

اور کتاب ابن عساکر (تاریخ دمشق) میں ہے محمّد بن عبدللہ نے حکم سے پوچھا کہ خزيمة بن ثابت ذو الشهادتين  نے  جنگ جمل میں حصہ لیا ؟ کہا ایسا نہیں ہے .. ان کا انتقال عثمان رضی الله عنہ کے دور میں ہی ہو گیا تھا

اللہ ہم سب کو ہدایت دے

یہ پر آشوب وقت تھا جب عثمان رضی الله تعالی عنہ شہید کر دے گئے تھے.  خلیفہ  وقت کو مصر سے آئے ہوئے ایک گروہ نے گھر میں خفیہ داخل ہو کر قتل کر دیا تھا جبکہ صحابہ کی اکثریت حج  کی وجہ سے مکہ میں مشغول تھی

اسلامی تاریخ میں  وہ موقعہ آیا کہ ام المومنین رضی الله تعالی عنہا بھی میدان قتال میں نکلیں اور سبائی فتنہ پردازوں کا مقابلہ کیا

کتاب الاستقصا لأخبار دول المغرب الأقصى از السلاوي  کے مطابق

 أَن عَائِشَة كَانَت خرجت إِلَى مَكَّة زمَان حِصَار عُثْمَان فقضت نسكها وانقلبت تُرِيدُ الْمَدِينَة فلقيها الْخَبَر بمقتل عُثْمَان فأعظمت ذَلِك ودعت إِلَى الطّلب بدمه وَلحق بهَا طَلْحَة وَالزُّبَيْر وَعبد الله بن عمر وَجَمَاعَة من بني أُميَّة وَاتفقَ رَأْيهمْ على الْمُضِيّ إِلَى الْبَصْرَة

عائشہ رضی الله تعالی عنہا مکّہ سے نکلیں جبکہ عثمان  رضی الله تعالی عنہ  بلوائیوں کے حصار میں تھے اپنے مناسک حج کم کیے اور مدینہ کے لئے نکلیں. راستے میں عثمان رضی الله تعالی عنہ  کے قتل کی خبر آئی. اس کو بہت بڑی بات جانا اور ان کے خون کا قصاص کا مطالبہ کیا . طلحہ رضی الله تعالی عنہ ، زبیر رضی الله تعالی عنہ ، عبدللہ بن عمر رضی الله تعالی عنہ اور بنو امیہ کی ایک جماعت ساتھ ہوئی اور اتفاق رائے سے بصرہ کا رخ کیا

بصرہ کا رخ کرنے کی وجہ

الذھبی کتاب  سیر الاعلام میں لکھتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا، زبیر رضی الله عنہ اور طلحہ رضی الله عنہ نے بصرہ رخ کیا

فأمّا أهل مصر فكانوا يشتهون عليًّا، وأمّا أهل البصرة فكانوا يشتهون الزُّبَيْر، وأما أهل الكوفة فكانوا يشتهون طَلْحَةَ

اہل مصر علی کو پسند کرتے تھے اہل بصرہ زبیر کو پسند کرتے تھے اور کوفہ والے طلحہ کو پسند کرتے تھے

علی رضی الله عنہ کا کوفہ کو دار الخلافہ بنانے کی وجہ بھی طلحہ رضی الله عنہ کے حمایتیوں پر کنٹرول تھا ورنہ مدینہ چھوڑنے سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ لوگ مدینہ چھوڑ دیں گے حالانکہ وہ ان کے لئے بہتر ہو گا

 شیعہ ہی نہیں، اہل سنت و اہل حدیث  کے محراب و منبر سے بھی ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ واقعہ شہادت عثمان رضی الله تعالی عنہ کے بعد قصاص کا مطالبہ لے کر  بصرہ  جاتے ہوئے راستے میں ایک مقام پر عائشہ رضی الله تعالی عنہا  کے لشکر  نے رات کو پڑاؤ کیا

امام احمد مسند میں، ابن حبان صحیح میں ، حاکم مستدرک میں روایت کرتے ہیں کہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا نَبَحَتِ الْكِلَابُ، قَالَتْ: أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ قَالُوا: مَاءُ الْحَوْأَبِ قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا: بَلْ تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: “كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟

قیس بن ابی حازم کہتا ہے کہ پس جب عائشہ ( رضی الله تعالی عنہا) بنی عامر کے پانی ( تالاب)  پر رات میں  پہنچیں تو کتے بھونکے. عائشہ ( رضی الله تعالی عنہا) نے پوچھا یہ کون سا پانی ہے. بتایا گیا   الْحَوْأَبِ کا پانی ہے. آپ رضی الله تعالی عنہا نے کہا میں سمجھتی ہوں کہ مجھے اب واپس جانا چاہیے! اس پر ان کے ساتھ لوگوں نے کہا  نہیں آگے چلیں مسلمان اپ کو دیکھ رہے ہیں، پس الله ان کے درمیان سب ٹھیک کر دے گا. عائشہ ( رضی الله تعالی عنہا) نے کہا بے شک رسول  الله نے ایک روز (اپنی بیویوں سے) کہا تھا کہ کیسی ہو گی تم  میں سے ایک  جس پر الْحَوْأَبِ کے کتے بھونکیں گے

مسند احمد کی دوسری روایت میں ہے کہ واپس جانے سے روکنے والے زبیر رضی الله تعالی عنہ تھے

البانی کتاب الصحيحة میں اس روایت کو صحیح کہتے ہیں

إسناده صحيح جداً، صححه خمسة من كبار أئمة الحديث هم: ابن حبان، والحاكم، والذهبي، وابن كثير، وابن حجر سلسلة الأحاديث الصحيحة 1: 767 رقم 474

اس کی اسناد بہت صحیح ہیں پانچ ائمہ کبار نے اس کو صحیح کہا ہے ابن حبان، حاکم، ذھبی، ابن کثیر، ابن حجر

ہم کہتے ہیں یہ افک ہے

لولا إذ سمعتموه ظن المؤمنون والمؤمنات بأنفسهم خيرا وقالوا هذا إفك مبين

اس کی سند میں قَيْسُ بنُ أَبِي حَازِمٍ  ہے

 الذھبی سير أعلام النبلاء میں  قَيْسُ بنُ أَبِي حَازِمٍ کے ترجمے میں لکھتے ہیں کہ امام یحیی بن سعید اس روایت کو منکر کہتے ہیں

قال ابن المدينى عن يحيى بن سعيد : منكر الحديث ، ثم ذكر له حديث كلاب الحوأب

علی ابن المدينى ، يحيى بن سعيد سے نقل کرتے ہیں کہ قیس منکر الحدیث ہے پھر انہوں نے اسکی الحوأب کے کتوں والی روایت بیان کی

یحیی بن سعید القطان کے سامنے البانی ،الذھبی، حاکم، ابن حجر کی حثیت ہی کیا ہے

کتاب مَنْ تَكلَّم فيه الدَّارقطني في كتاب السنن من الضعفاء والمتروكين والمجهولين از ابن زريق (المتوفى: 803هـ)  کے مطابق الدارقطني اس کو  ليس بقوي  قوی نہیں کہتے ہیں

قَيْسُ بنُ أَبِي حَازِمٍ صحیح بخاری و مسلم کا راوی ہے لیکن پھر بھی اس کی یہ کتوں والی روایت صحیحین میں نہیں

امام بخاری اور مسلم نے قیس کی عائشہ رضی الله عنہا سے مروی کوئی روایت نقل نہیں کی

تاریخ بغداد کے مطابق

قد كان نزل الكوفة، وحضر حرب الخوارج بالنهروان مع علي بْن أبي طالب

قیس کوفہ گیا اور علی رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ خوارج سے قتال بھی کیا

دوسری روایت

طبرانی الاوسط میں یہ ایک دوسری سند سے ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، نا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ يَوْمٌ مِنَ السَّنَةِ تَجَمَّعَ فِيهِ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ، قَالَتْ: وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ: «أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا» . قَالَتْ: فَجَعَلْنَا نَتَذَارَعُ بَيْنَنَا أَيُّنَا أَطْوَلُ يَدَيْنِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلُهُنَّ يَدًا، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ عَلِمْنَا أَنَّهَا كَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فِي الْخَيْرِ وَالصَّدَقَةِ، قَالَتْ: وَكَانَتْ زَيْنَبُ تَغْزِلُ الْغَزْلَ، وَتُعْطِيهِ سَرَايَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخِيطُونَ بِهِ، وَيَسْتَعِينُونُ بِهِ فِي مَغَازِيهِمْ، قَالَتْ: وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ: «كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ»

لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُجَالِدٍ إِلَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ

اس روایت میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا باتھ لمبا ہو گا وہ سب سے پہلے (جنت میں مجھ سے) ملاقات کرے گی سب امہات المومنین نے باتھ ناپے اور سب سے لمبا ہاتھ سودا رضی الله تعالی عنہا کا نکلا لیکن جب زینب رضی الله تعالی عنہا کی وفات ہوئی تو جانا کہ لمبے ہاتھ سے مراد صدقه و خیرات ہے.  اس کے بعد عائشہ رضی الله تعالی عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا کیسی ہو گی تم  میں سے ایک  جس پر الْحَوْأَبِ کے کتے بھونکیں گے

اس کی سند میں مجالد  بنُ سَعِيْدِ بنِ عُمَيْرِ بنِ بِسْطَامَ الهَمْدَانِيُّ المتوفی ١٤٤ ھ ہے

أَبُو حَاتِمٍ کہتے ہیں لاَ يُحْتَجُّ بِهِ اس سے دلیل نہ لی جائے

ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں اس کی حدیث: لَهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ أَحَادِيْثُ صَالِحَةٌ  صالح ہیں

أَبُو سَعِيْدٍ الأَشَجُّ اس کو  شِيْعِيٌّ یعنی شیعہ کہتے ہیں

الميموني کہتے ہیں ابو عبدللہ کہتے ہیں

 قال أبو عبد الله: مجالد عن الشعبي وغيره، ضعيف الحديث.  احمد کہتے ہیں مجالد کی الشعبي سے روایت ضعیف ہے

ابن سعد کہتے ہیں  كان ضعيفا في الحديث، حدیث میں ضعیف ہے

 المجروحین میں ابن حبان کہتے ہیں كان رديء الحفظ يقلب الأسانيد ويرفع، ردی حافظہ اور اسناد تبدیل کرنا اور انکو اونچا کرنا  کام تھا

ابن حبان نے صحیح میں اس سے کوئی روایت نہیں لی

ابن حبان المجروحین میں لکھتے ہیں کہ امام الشافعی نے کہا

وَالْحَدِيثُ عَنْ مُجَالِدٍ يُجَالِدُ الْحَدِيثَ

اور مجالد   يُجَالِدُ الْحَدِيثَ ہے

تیسری روایت

مسند البزار کی سند ہے

حَدَّثنا سَهْل بن بحر، قَال: حَدَّثنا أَبُو نعيم، قَال: حَدَّثنا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ، عَن عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم لِنِسَائِهِ: لَيْتَ شعري أيتكن صاحبة الجمل الأدبب  ، تخرج كِلابُ حَوْأَبٍ، فَيُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا، وعَن يَسَارِهَا قَتْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ تَنْجُو بَعْدَ مَا كَادَتْ.

ابن عبّاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے کے  فرمایا  کاش کہ جان لے نشانی، بپھرے بالوں والے اونٹ والی ، اس پر حواب کے کتے نکلیں گے،  اس کے دائیں اور بائیں ڈھیروں  قتل ہوں گے  پھر (سازش) کر کرا کر بچ جائے گی

رافضیت سے پر اس روایت کی سند میں عصام بن قدامة ہے

 ابن القطان اس کو  لم يثبته،  مظبوط نہیں کہتے ہیں

أبو زرعة ، لا بأس به کہتے ہیں

النسائي ، ثقة کہتے ہیں

علم درایت اور محدثین

اس روایت کو متقدمین محدثین درایت کے اصولوں پر رد کر چکے ہیں

کتاب  العقد التليد في اختصار الدر النضيد از عبد الباسط بن موسى بن محمد بن إسماعيل العلموي ثم الموقت الدمشقي الشافعيّ (المتوفى: 981هـ) کے مطابق

عِلْمُ الحديث ضربان:  أحدهما: علم رواية، وحدُّه بأنه علم مشتمل على نقل ما ذكر، وموضوعه ذات النبي -صلى الله عليه وسلم- من حيث أنه نبي، وغايته الفوز بسعادة الدارين. الثاني: علم دراية، وهو المراد عند الإطلاق والذي كلامنا هنا فيه، ويحد أنه علم تعرف به معاني ما ذكر ومتنه، ورجاله، وطرقه، وصحيحه، وسقيمه، وعلله، وما يحتاج إليه فيه ليعرف المقبول منه والمردود، وموضوعه الراوي والمروي من حيث ذلك، وغايته: معرفة ما يقبل من ذلك ليعمل به، وما يرد منه ليجتنب، ومسائله ما ذكر في كتبه من المقاصد.

 علم حدیث دو قسموں کا ہے ایک علم روایت ہے یہ جو نقل کیا گیا ہے اس پر مشتمل ہے اور موضوع ذات نبی صلی الله علیہ وسلم ہے … دوسرا علم درایت ہے جو … علم معنی اور متن اور رجال اورطرق اور صحت اور سقم اور علت اور ہر وہ بات جو قبول و رد کو بیان کرتی ہے  اور اس کا موضوع راوی اور مروی ہے اور اس کا مقصد معرفت ہے کہ کس کو قبول کیا جائے اور عمل کیا جائے

 کتاب شرح علل الترمذي  ا بن رجب الحنبلي (المتوفى: 795هـ)   کے مطابق

أن علم العلل قسم من أقسام علم الحديث دراية

بے شک علم علل ،علم حدیث درایت کی قسموں میں سے ایک ہے

 کتاب السنة المفترى عليها کے مؤلف  سالم البهنساوي (المتوفى: 1427هـ) لکھتے ہیں

وعلم الحديث دراية وهو يبحث في حقيقة الرواية وشروطها وأحوال الرُواة وشروط قبولهم وأنواع الأحاديث ودرجتها. وهذا العلم يُسَمَّى علم أصول الحديث

اور علم حدیث درایت اور یہ بحث ہے روایت کی حقیقت اس کی شروط اور راوی کا احوال اور قبولیت کی شروط اور حدیث کی انواع اور درجے اور اس علم کا نام اصول حدیث ہے

کتاب علوم الحديث ومصطلحه – عرضٌ ودراسة  از  صبحي إبراهيم الصالح المتوفى 1407هـ

 کے مطابق

علم الحديث دراية، مجموعة من المباحث والمسائل يعرف بها حال الراوي والمروي من حيث القبول والرد

علم حدیث درایت، یہ مباحث اور مسائل کا مجموعہ ہے جس سے راوی  اور جو روایت کیا ہے اس کا حال پتا چلتا ہے  کہ قبول کیا جائے یا رد

 عبد الله بن عبد الرحمن الخطيب کتاب الرد على مزاعم المستشرقَين إجناتس جولدتسيهر ويوسف شاخت ومن أيدهما من المستغربين میں مستشرقین کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں

علم الحديث دراية أو علم مصطلح الحديث فهو كما يقول ابن جماعة: «معرفة القواعد التي يعرف بها أحوال السند والمتن

علم حدیث درایت یا علم مصطلح حدیث وہ، وہ ہے جیسا ابن جماعة نے کہا قواعد کی معرفت ہے جس سے سند اور متن کا احوال پتا چلتا ہے

کتاب  منهج النقد في علوم الحديث    میں نور الدين محمد عتر الحلبي  لکھتے ہیں

هو علم يشتمل على أقوال النبي صلى الله عليه وسلم وأفعاله وتقريراته وصفاته وروايتها وضبطها وتحرير ألفاظها”. ونزيد في التعريف أو الصحابي أو التابعي

علم روایت نبی صلی الله علیہ وسلم کے اقوال اور افعال اور تقریر اور صفات اور روایت اور ضبط اور تحریر الفاظ پر مشتمل ہے اور اس تعریف میں ہم صحابی یا التابعي کا بھی اضافہ کریں گے

کتاب  منهج النقد في علوم الحديث  میں نور الدين محمد عتر الحلبي  لکھتے ہیں

علم حدیث درایت کی بہترین تعریف عز الدين بن جماعة نے کی ہے کہ

علم بقوانين يعرف بها أحوال السند والمتن

ان قوانین کا علم جن سے سند اور متن کے احوال کا علم ہو

معلوم ہوا کہ حدیث کی سند صحیح بھی ہو تو اس کے متن میں علت ہو سکتی ہے اور علم علل علم حدیث درایت ہی ہے لہذا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جلیل القدر محدثین نے کیا کہا  ہے اوپر ہم پیش کر چکے ہیں کہ قیس کی کتوں والی روایت یحیی بن سعید رد کر چکے ہیں

کتاب العلل از ابن ابی حاتم کے مطابق ابن ابی حاتم  اپنے باپ اورأبو زرعة  سے سوال کرتے ہیں تو وہ دونوں جواب دیتے ہیں

لم يرو هذا الحديث غير عصام، وهو حديث منكر

وسُئِلَ أَبُو زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الحديثِ؟
فَقَالَ: هَذَا حديثٌ مُنكَرٌ  ، لا يُروى مِنْ طريقٍ غيرِه 

میرے باپ کہتے ہیں اس روایت کو سوائے  عصام کے کوئی اور روایت نہیں کرتا اوریہ حدیث منکر ہے اور میں نے أبو زرعة  سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا یہ حدیث منکر ہے اس کو صرف عصام رویت کرتا ہے

افسوس کہ البانی صاحب ان تمام اقوال کو خاطر میں نہیں لاتے اور اس روایت کی الصحیحہ میں  تصحیح پر قائم رہتے ہوئے انتقال کر گئے مقام حیرت ہے کہ اپنے اپ کو اہل حدیث اور سلفی کہنے والے محدثین کے منہج سے الگ ضعیف روایات کی تصحیح پر اتر آئے. کس قدر رجعت القھقہری ہے

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کتوں والی روایات کو رد کرنے والے لوگ ناصبی ہیں لیکن ان جاہل مطلق لوگوں کو یہ بھی نہیں پتا کہ یحیی بن سعید القطآن کون ہیں، ابن ابی حاتم کون ہیں .

 قاضی ابی بکر ابن العربی کون ہیں جو العواصم و القوآصم  ص ١٥٩ پر  اس کو رد کرتے ہیں لکھتے ہیں نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کچھ نہیں کہا

وأما الذي ذكرتم من الشهادة على ماء الحوأب، فقد بؤتم في ذكرها بأعظم حوب . ما كان قط شىء مما ذكرتم ، ولا قال النبي صلى الله عليه وسلم ذلك الحديث ، ولا جرى ذلك الكلام .اهـ 

اور جو تم نے حواب کے پانی پر شہادت دی ہے تو پس تم نے اس کا ذکر کر کے ایک گناہ کبیر اٹھا لیا اس میں وہ چیز نہیں جو تم نے کہی اور ایسا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا بھی نہیں اور نہ یہ کلام ان سے ادا ہوا

متقدمین محدثین نے ایسی روایات کو رد کیا جو الحمدللہ وعدہ الہی کی عملی شکل تھا کہ انا لہ لحافظون اورلتبین للناس لہذا محدثین نے اتمام حجت کر دیا .افسوس خلف اس پر قائم نہ رہ سکے اور انہی روایات کو صحیح کہنے لگ گئے اب بتائیے کتاب العلل از ابن ابی حاتم کی کیا حیثیت رہ جائے گی  اگر یہ مان لیا جائے کہ حواب کے کتوں والی روایت صحیح ہے اور ابی حاتم اور یحیی بن سعید اور ابو زرعہ سب غلط تھے؟ نہجانے ابن ابی حاتم متشدد ذہن کے ساتھ کیا کیا غلط لکھ گئے ہونگے

علامہ ابن وزير، العواصم والقواصم میں كہتے ہيں

 رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كا علم ہوتے ہوئے حديث كا انكار كرنا صريحا كفر ہے

ديكھيں: العواصم والقواصم ( 2 / 274

معلوم ہوا یہ ان کے نزدیک حدیث نہیں راوی کی بڑھ ہے

رافضیوں نے عائشہ رضی الله عنہ سے متعلق ، جنگ جمل والی روایات سے ایک کردار بی جمالو نکال لیا جو ادھر کی ادھر لگاتی ہو نعوذ باللہ

عثمان رضی الله عنہ پر جب تلوار چلی تو ان کی بیوی نائلہ نے اس کو باتھ سے روکنا چاہا  اور ان کی انگلیاں کٹ گئیں انہی انگلیوں کا قصاص بھی طلب کیا گیا کیونکہ قرآن میں ہے کہ دانت کے بدلے دانت کان کے بدلے کان. سبائیوں نے  اردو زبان میں اس پر محاورہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام کرنا ایجاد کیا

کیا  غنڈوں نے جو کیا اس کو معاف کیا جا سکتا تھا

اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے

http://ww2.anwar-e-islam.org/ast-anwar/node/8819#.VI0CIn9RJ34

کوئی تم میں سے سرخ اونٹ والی نکلے گی یہاں تک کہ اس پر حواب کے کتے بھونکیں گے اور اس کے گرد بہت سے لوگ مارے جائیں گے اور وہ نجات پائےگی،نجات جب کہ وہ قتل ہونے کے قریب ہوگی۔

یہ ترجمہ صحیح نہیں بلکہ بہت سے الفاظ کا سرے سے ترجمہ ہی نہیں گیا شاید مترجم جانتا تھا کہ روایت کے الفاظ مناسب نہیں لہذا اس نے احترم کو ملحوظ رکھتے ہوئے غلط ترجمہ  کیا

عربی لغت   تاج العروس کے مطابق

جَاءَ في الحَدِيثِ أَنَّ النبيّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِنسَائِه ” لَيْتَ شِعْرِي أَيَّتُكُنَّ صَاحِبَةُ الجَمَلِ الأَدْبَبِ تَخْرُجُ فَتَنْبَحُهَا كِلاَبُ الحَوْأَبِ ” أَرَادَ الأَدَبَّ وهو الكَثِيرُ الوَبَرِ أَو الكَثِيرُ وَبَرِ

حدیث میں اتا ہے  قَالَ لِنسَائِه ” لَيْتَ شِعْرِي أَيَّتُكُنَّ صَاحِبَةُ الجَمَلِ الأَدْبَبِ تَخْرُجُ فَتَنْبَحُهَا كِلاَبُ الحَوْأَبِ  ،  الأَدَبَّ سے مراد بہت بال ہونا  ہے 

روایت میں سرخ اونٹ کا ذکر نہیں بلکہ بہت روئے یا بالوں والے اونٹ کا ذکر ہے اس میں أيتكن کا لفظ بھی ہے جو آیت یا نشانی ہے لیکن ترجمہ میں اس کو بھی حذف کر دیا گیا ہے . پھر اس کے گرد کے الفاظ بھی روایت میں نہیں بلکہ يَمِينِهَا، وعَن يَسَارِهَا  کے الفاظ ہیں  یعنی اپنے دائیں اور بائیں.   الفاظ نجات جب کہ وہ قتل ہونے کے قریب ہوگی تو سرے سے موجود ہی نہیں .  ابن عبّاس کی روایت میں کتوں کے نکالنے یا لپکنے کے الفاظ ہیں بھونکنے کے  نہیں

ترجمہ تبدیل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں مثلا بیہقی  نے دلائل النبوه میں، ابو نعیم کتاب الفتن وغیرہ نے اس واقعہ کو  نبوت کی نشانی پر پیش کیا ہے   . دوم اس میں بعد ما کادت کے الفاظ ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کان بھرنے اور ادھر کی ادھر لگانے کی وجہ سے ہو گا لہذا اس کا ترجمہ تبدیل کر کے نجات پائے گی جب قتل کے قریب ہو گی کر دیا  گیا

الزرقانی کتاب شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية  میں  نبوت کی نشانی پر لکھتے ہیں

وعن ابن عباس مرفوعا: “أيتكن صاحبة الجمل الأدبب، تخرج حتى تنبحها كلاب الحوأب، ويقتل حولها قتلى كثيرة، تنجو بعدما كادت”. رواه البزار وأبو نعيم

اور ابن عباس سے مرفوع ہے ….اس پر الحواب کے کتے بھونکیں گے اور اس کے گرد بہت قتل ہونگے …. اس کو البزار اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے

لیکن یہ الزرقانی کی غلطی ہے . ان الفاظ کے ساتھ ابن عباس کی روایت البزار میں بیان نہیں ہوئی اور ابو نعیم  نے بھی اس کو اس طرح نقل نہیں کیا

 چھوٹی  اور پانچویں روایت

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ مَوْلَى بَنِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ»، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: أَنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَأَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا» (حم) 27198

نبی  صلی الله علیہ وسلم علی رضی الله عنہ سے کہا کہ تمھارے اور عائشہ کے درمیان ایک بات ہو گی  علی نے کہا میری ساتھ فرمایا ہاں پس اس کے بعد ان کو امن کے مقام پر لوٹا دینا

 – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي النُّمَيْرِيَّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلافٌ أَوْ أَمْرٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَلْ

ان دونوں روایات کی سند میں فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي النُّمَيْرِيَّ ہے جو ضعیف ہے أبو زرعة ، فضيل بن سليمان کو لين الحديث  کمزور حدیث والا کہتے ہیں. ابن معین لیس بشی کوئی چیز نہیں  کہتے ہیں

کہا جاتا ہے کہ یہ نبوت کی نشانی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی خبر پوری ہوئی.  لیکن اہل بیت رسول کی جس تنقیص کا اس میں ذکر ہے کیا وہ سچ ہے جبکہ امام المحدثین یحیی بن سعید اس کو منکر کہتے ہیں

الغرض جنگ جمل کے حوالے سے عائشہ رضی الله عنہا کی تنقیص میں کوئی روایت صحیح نہیں ہے جلیل القدر محدثین نے ایسی روایات کو منکر کہا ہے اور  شیعہ اور اہل سنت  کے جن لوگوں نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ان کو روز محشر اس کا جواب دینا ہو گا 

مستدرک حاکم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُرُوجَ بَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ: «انْظُرِي يَا حُمَيْرَاءُ، أَنْ لَا تَكُونِي أَنْتِ» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: «إِنْ وُلِّيتَ مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا فَارْفُقْ بِهَا

 ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم  نے اپنی بعض بیویوں کے خروج کا ذکر کیا، اس پر عائشہ ہنس پڑیں۔ نبی پاک نے کہا کہ اے حمیرا! دیکھنا کہ کہیں تم وہ نہ ہو۔ اس کے بعد آپ علی کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اے علی! اگر یہ امر تمہارے ہاتھ میں ہو تو نرمی برتنا

اس کی سند میں سالم بن ابی جعد ہے جس کا امہات المومنین سے سماع نہیں ہے کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از  صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ)

کے مطابق

لم يسمع من أم سلمة

اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا

شیعہ حضرات روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی نصیحت کہ عائشہ رضی الله عنہا کو امن  کی جگہ پہنچا دینا کو نظر انداز کر دیا  گیا اور علی رضی الله عنہ نے  اپنے لشکر کو حکم دیا کہ عائشہ رضی الله عنہا پر تیر چلائے

کتاب جمل من أنساب الأشراف از البَلَاذُري (المتوفى: 279هـ)   کے مطابق

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النصر، حدثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو:عَنِ ابْنِ حَاطِبٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ عَلِيٍّ يَوْمَ الْجَمَلِ إِلَى الْهَوْدَجِ وَكَأَنَّهُ شَوْكُ قُنْفُذٍ مِنَ النَّبْلِ، فَضَرَبَ الْهَوْدَجَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ حُمَيْرَاءَ إِرَمَ هَذِهِ أَرَادَتْ أَنْ تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ. فَقَالَ لَهَا أَخُوهَا مُحَمَّدٌ: هَلْ أَصَابَكِ شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: مِشْقَصٌ فِي عَضُدِي. فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ ثُمَّ جَرَّهَا إِلَيْهِ فَأَخْرَجَهُ.

ابن حاطب کہتے ہیں کہ میں علی علیہ السلام کے ساتھ عائشہ کے ہودج کے قریب آیا: اس وقت یہ ہودج تیروں کی بوچھار سے خاردار چوہے کی طرح لگ رہا تھا۔تو علی علیہ السلام نے اس ہودج کو مارا اور کہا:یہ حمیراء (عائشہ) ہے ، اس پر تیر چلاؤ ! یہ مجھے قتل کرناچاہتی ہے جس طرح اس نے عثمان کو قتل کیا ۔ عائشہ کے بھائی محمد بن ابی بکر نے عائشہ سے پوچھا: آپ کو کوئی تیرلگا تو نہیں؟ عائشہ نے کہا: میرے بازو میں ایک تیر پیوست ہے۔پھر محمد بن ابی بکر نے اپنا سر ھودج میں داخل کیا اور عائشہ کو اپنی طرف کھینچ کرتیر نکال دیا۔

سند میں راوی  إسحاق بن سعيد ہے جو مجھول ہے.  شیعہ کہتے ہیں کہ اس کی سند میں  إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد ہیں  لیکن ان کی روایت عن أبيه ، عن ابن عمر سے مروی ہیں.  اس کا دوسرا راوی  عمرو بن سعيد ہے جو مجھول ہے. روافض نے اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے سند ہی بدل دی ہے لہذا ان کی طرف سے یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ اسحاق بن سعید  اور عمربن سعید کے درمیان عن غلط ہے اسے بن سمجھا جائے تو یہ ایک راوی  ہو جاتا ہے لیکن یہ دعوی بلا دلیل ہے اور اسی صورت قبول ہو گا جب اور نسخوں میں ایسا ہو یا خارجی قرائین موجود ہوں

جنگ جمل کا پس منظر

محمد بن ابی بکر ، علی کے ساتھ جمل و صفین میں لڑا. اس پر قتل عثمان کا الزام تھا . یہ شخص چراغ تلے اندھیرا تھا اس کو عثمان رضی الله تعالی عنہ نے مصر کا امیر مقرر کیا تھا . اسی دور میں عبدللہ بن سبا بھی مصر پہنچا اور علی کے حوالے سے غلو کا عقیدہ اختیار کیا

 الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء  میں لکھتے ہیں

وممن قام على عثمان محمد بن أبي بكر الصديق، فسئل سالم بن عبد الله فيما قيل عن سبب خروج محمد قال: الغضب والطمع،

اور جو لوگ عثمان کے خلاف اٹھے ان میں محمّد بن ابی بکر صدیق تھا پس سالم بن عبدللہ سے پوچھا کہ اس کے خروج کا سبب کیا تھا کہا غصہ اور لالچ

فتنہ پردازوں نے  محمد بن ابی بکر کا دماغ نفرت سے بھر دیا تھا اور ایک تحریر عثمان سے منسوب کی جس میں لکھا تھا

إذا أتاك محمد، وفلان، وفلان فاستحل قتلهم، وأبطل كتابه

جب (گورنر مصر) محمّد بن ابی بکر پہنچے اور فلاں فلاں تو ان کا قتل حلال ہے اور اس حکم کو تلف کر دینا

لیکن یہ خط فتنہ پرداز لوگوں نے محمّد کو دکھایا اور عثمان سے نفرت کے بیج بوئے کہ عثمان نے ایک طرف تو تم کو امیر مقرر کیا ہے اوردوسری طرف قتل کا خفیہ حکم دیا ہے محمّد یہ سن کر بدک گیا اور مدینہ گیا

الذھبی لکھتے عمرو بن حزم کے گھر کے راستے سے عثمان پر بلوائی داخل ہوئے

فجاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا، فدخل حتى انتهى إلى عثمان، فأخذ بلحيته، فقال بها حتى سمعت وقع أضراسه، فقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما أغنت عنك كتبك. فقال: أرسل لحيتي يا ابن أخي

پس محمد بن ابی بکر تیس آدمیوں کے ساتھ آیا اور گھر میں داخل ہوا حتی کہ عثمان تک جا پہنچا اور ان کو داڑھی سے پکڑا اور کہا  تجھ کو معاوية نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، تجھ کو بنی عامر نے فائدہ نہیں پہنچایا، تجھ کو تیری تحریر نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، عثمان نے کہا اے بھائی کے بیٹے میری داڑھی چھوڑ دے

اسی بلوہ میں عثمان رضی الله عنہ شہید ہو گئے

ابن کثیر وغیرہ نے محمّد بن ابی بکر کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے  کہ ہر چند اس نے داڑھی پکڑی لیکن قتل نہیں کیا تھا .بعض کہتے ہیں  قتل كنانة ابن بشر التجيب نے کیا تھا. بعض کہتے ہیں رومان اليماني بصولجان نے کیا (تاریخ خلیفہ بن الخیاط). لیکن قرآن کہتا ہے فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے  مصریوں کا سرغنہ بن کر یہی گھر میں داخل ہوا

محمد بن ابی بکر حجه الوداع کے وقت  ابو بکر کی زوجہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوا . ابو بکر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے بعد اسماء سے علی رضی الله عنہ نے شادی کی اور محمّد بن ابی بکر ، علی کا سوتیلا بیٹا بن گیا. مالک الاشتر ، محمّد کا بچپن کا دوست تھا.  اس قتل عثمان کے وقت محمّد بن ابی بکر کی عمر ٢٦ سال ہو گی شاید یہ اس حدیث کا مصداق ہے جس میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ  میری امت قریش کے نو عمر کم عقلوں کے ہاتھوں تباہ ہو گی

  الذھبی سير أعلام النبلاء  لکھتے ہیں

وقال أبو عبيدة: كان على خيل علي يوم الجمل عمار، وعلى الرجالة محمد بن أبي بكر الصديق، وعلى الميمنة علباء بن الهيثم السدوسي، ويقال: عبد الله بن جعفر، ويقال: الحسن بن علي، وعلى الميسرة الحسين بن علي، وعلى المقدمة عبد الله بن عباس، ودفع اللواء إلى ابنه محمد ابن الحنفية

جنگ جمل میں علی رضی الله تعالی عنہ کی سواری کی رکاب پر محمد بن أبي بكر الصديق تھا

صفین کی جنگ کے بعد علی نے محمّد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر مقرر  کیا لیکن عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ نے اس کو شکست دی

سن ٣٧ ھ یا ٣٨ ھ میں یہ  ذلت کی موت مرا . الذھبی سير أعلام النبلاء  لکھتے ہیں کہ یہ مخالفین کے ہتھے چڑھا

فَقَتَلَهُ ودسَّه فِي بَطْنِ حِمَارٍ مَيِّتٍ، وَأَحْرَقَهُ

انہوں نے اس کا قتل کیا  اس کو مردہ گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلایا گیا

صحابی رسول صلی الله علیہ وسلم ،  معاوية بن حديج رضی الله عنہ  نے اس کو قتل کیا

کتاب تاریخ ابن یونس المصری کے مطابق آخری وقت محمّد نے کہا

فقال: احفظونى؛ لأبى بكر. فقال له معاوية بن حديج: قتلت ثمانين من قومى فى دم عثمان، وأتركك وأنت صاحبه؟! فقتله

مجھے ابو بکر کے واسطے چھوڑ دو! معاویہ بن خدیج نے کہا اپنی قوم کے ٨٠ لوگوں کا خون عثمان پر قتل کیا اور تو انہی کا صاحب تھا تجھے کیسے چھوڑ دوں

معاوية بن حديج کو امام بخاری اور جمہور محدثین صحابی مانتے ہیں صرف امام احمد  اس کی مخالفت کرتے ہی

کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائ  کے مطابق

 معاوية بن حديج قال الأثرم قال أحمد بن حنبل ليست لمعاوية بن حديج صحبة قلت بل له صحبة ثابتة قاله البخاري والجمهور

 الأثرم کہتے ہیں امام احمد کہتے ہیں  معاوية بن حديج  صحابی نہیں ہے میں کہتا ہوں صحابی ثابت ہیں بخاری اور جمہور ایسا کہتے ہیں

طرفہ تماشہ ہے کہ محمّد بن ابی بکر جو  وفات رسول کے وقت ایک سال کا ہو گا اس کو صحابی ثابت کرنے پر زور لگایا جاتا ہے  جبکہ اس نے اس عمر میں نبی سے کون سا علم حاصل کیا ظاہر ہے کہ یہ صرف لیپا پوتی ہے اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنا  ہے. صحابہ کے لئے کم سے کم عمر چار سال لی گئی ہے

کتاب الثقات میں العجلی کہتے ہیں

مُحَمَّد بن أبي بكر الصّديق لم يكن لَهُ صُحْبَة

محمد بن ابی بکر صحابی نہیں ہے

امام حسن بصری اس کو الفاسق محمد بن ابی بکر کہا کرتے تھے معجم الکبیر طبرانی

کتاب اسد الغابہ میں مورخ ابن اثیر ایک بات نقل کرتا ہے جو بلا سند ہے اور اس کا کذب ہونا ظاہر ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا کو اس کی موت کا افسوس ہوا اور پھر بھنا ہوا گوشت نہیں کھایا

 بعض مورخ  (آٹھویں صدی کے) لکھتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا نماز میں قنوت پڑھتی تھیں  اور عمرو بن العاص  کے لئے بد دعا کرتی تھیں لیکن یہ بھی بلا سند بات ہے

جس شخص نے سبائی ہتھیار کے طور پر کردار ادا کیا ہو اس کے لئے ام المومنین کی رائے اچھی کیسے ہو سکتی ہے

محمّد بن ابی بکر کی اولاد 

محمّد بن ابی بکر کے بیٹے  قاسم ایک ثقه تابعی ہیں . کتاب سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين  کے مطابق

ولم يلق القاسم بن محمد أباه

قاسم بن محمّد نے اپنے باپ کو نہیں پایا

ان کی تربیت ام المومنین عائشہ رضی الله تعالی عنہا نے کی

کتاب  سير أعلام النبلاء کے مطابق

وَرُبِّيَ القَاسِمُ فِي حَجْرِ عَمَّتِهِ أُمِّ المُؤْمِنِيْنَ عَائِشَةَ، وَتَفَقَّهَ مِنْهَا، وَأَكْثَرَ عَنْهَا.

اور قاسم کی پرورش پھوپی عائشہ کے حجرے میں ہوئی اور ان سے علم حاصل کیا اور بہت کچھ روایت کیا

دوسرے بیٹے عبد الله بن محمد بن أبى بكر الصديق ہیں جو ثقه ہیں

محمّدابن أَبِي حُذيفة

کتاب مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار از ابن حبان کے مطابق

محمد بن أبى حذيفة بن عتبة له صحبة كان عامل عثمان بن عفان على مصر

 محمد بن أبى حذيفة بن عتبة  صحابی ہے اس کو عثمان بن عفان نے  مصرپر عامل مقرر کیا تھا

وفات نبی کے وقت یہ بہت گیارہ سال کا تھا اور اس کی پرورش عثمان رضی الله عنہ نے کی

جبکہ کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل کے مطابق

 محمد بن أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة ولد أيضا بأرض الحبشة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وله رؤية

محمّد حبشہ میں پیدا ہوا اور اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو صرف دیکھا

الذھبی  تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

فنشأ مُحَمَّد فِي حُجْر عُثْمَان، ثُمَّ إنّه غضب على عُثْمَان لكونه لم يستعمله أو لغير ذلك، فصار إلْبًا على عُثْمَان

پس محمّد ،عثمان  رضی الله عنہ کے حجرے میں پلا بڑھا لیکن عثمان پر غضب ناک ہوا کہ انہوں نے اس کو کیوں عامل نہیں کیا اور انہی پر پلٹا

کتاب أسد الغابة کے مطابق

ولما قتل أبوه أَبُو حذيفة، أخذ عثمان بْن عفان مُحَمَّدا إليه فكفله إِلَى أن كبر ثُمَّ سار إِلَى مصر فصار من أشد الناس تأليبا عَلَى عثمان

جب محمّد کے باپ  شہید ہوئے تو اس کو عثمان نے  لے لیا اور کفالت کی یہاں تک کہ بڑا ہوا پھر مصر بھیجا

جھگڑا یہ ہوا کہ محمّد بن ابو حذیفہ کو عثمان نے امارت معزول کیا اور محمّد بن ابی بکر کو امیر مقرر کیا محمّدبن ابو حذیفہ نے محمّد ابن ابی بکر کے کان بھرے اور ساتھ قتل کرنے آیا

عبد الرحمن بن عُدَيْسٍ

یہ  عبدللہ بن ابی کی طرح کا ایک  منافق تھا . اس کو شرف صحابیت ملا لیکن یہ ایک فتنہ پرداز بن گیا

یہ بھی ایک مصری ٹولے کا سرغنہ تھا جس نے عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا

ابن يونس کتاب تاریخ مصر میں لکھتے ہیں  كان رئيس الخيل التي سارت من مصر الى عثمان  یہ  تھا ان کا رئيس الخيل جو عثمان کے لئے مصر سے آئے تھے

تاریخ دمشق از ابن عساکر، تاریخ مصر از ابن یونس اور تاریخ اسلام از الذھبی کے مطابق سن ٣٦ ھ میں

وكان ممن خرج على عثمان وسار إلى قتاله. نسأل الله العافية. ثمّ ظفر به معاوية فسجنه بفلسطين في جماعة، ثمّ هرب من السّجن، فأدركوه بجبل لبنان فقُتِلَ. ولمّا أدركوه قَالَ لمن قتله: وَيْحَكَ اتّقِ الله في دمي، فإنّي من أصحاب الشَّجرة، فَقَالَ: الشَّجَرُ بالجبل كثير، وقتله 

یہ ان میں سے تھا جنہوں نے عثمان کے خلاف خروج کیا تھا اور قتل کیا، ہم الله سے اس پر عافیت مانگتے ہیں، پھر معاویہ اس پر جھپٹے اور اس کو فلسطین میں قید کیا ایک جماعت کے ساتھ، پھر جیل سے فرار ہوا اور جبل لبنان پر جا کر پکڑا گیا اور اس کو قتل کیا گیا.  پس جب اس کو پکڑا اور قتل کرنے لگے تو اس نے کہا بربادی ہو! الله سے ڈر، میرے خون کے معاملے پر،  کیونکہ میں اصحاب شجرہ میں سے ہوں . کہا اس پہاڑ پر بھی بہت درخت ہیں اور اس کو قتل کیا

کتاب كتاب الولاة وكتاب القضاة للكندي کے مطابق اسی زمانے میں ٣٦ ھ میں ابن أَبِي حُذيفة، وابن عُديس، وكِنانة بْن بِشر بھی قتل کے گئے جو عثمان کے قتل میں شریک تھے

بعض لوگوں نے اس کو صحابی تسلیم کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ عثمان کا قاتل تھا لیکن اس راس الخیل کو صحابی کہنا صحابیت کی توہین ہے

 ان شر پسندوں نے عثمان رضی الله کو شہید کیا لیکن قصاص سے بچ نہ سکے اور پکڑے گئے اور قتل بھی ہوئے بلا شبہ اللہ مظلوم کا خون رائیگاں نہیں جانے دیتا

عبد الرحمن بن ملجم المرادىّ التّدؤلىّ

کتاب تاریخ مصر از ابن یونس کے مطابق

عبد الرحمن بن ملجم المرادىّ التّدؤلىّ نے معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کی اور مصر میں یہ شخص عبد الرحمن بن عديس کا پڑوسی تھا

صفين میں علی رضی الله عنہ کے ساتھ لڑا اور بعد میں ان کا مخالف بن  گیا اور علی کو شہید کیا

بیعت یا قصاص

علی رضی الله عنہ ہنگامی صورت حال میں خلیفہ ہوئے اس وجہ سے بعض صحابہ نے ان کی بیعت نہیں کی کیونکہ بہت سے اہم مسائل امت کے نزدیک تھے، مثلا ابن عمر رضی الله عنہ کے حوالے سے مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حدثنا ابن علية ، عن أيوب ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال : لما بويع لعلي أتاني فقال : إنك امرؤ محبب في أهل الشام ، وقد استعملتك عليهم ، فسر إليهم ، قال : فذكرت القرابة وذكرت الصهر ، فقلت : أما بعد فوالله لا أبايعك ، قال : فتركني وخرج ، فلما كان بعد ذلك جاء ابن عمر إلى أم كلثوم فسلم عليها وتوجه إلى مكة 

نافع ، عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر نے کہا: جب علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا آپ ایسے شخص ہیں جو اہل شام کی نظر میں محبوب ہیں ، اور میں آپ کو ان پر عامل بناتاہوں لہذا آپ ان کی طرف جائیں ۔ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے قرابت و رشتہ داری کا ذکر کیا اس کے بعد کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ کی بیعت نہیں کروں گا۔اس کے بعد ابن عمررضی اللہ عنہ ام کلثوم کے پاس آئے انہیں سلام کیا اور مکہ روانہ ہو گئے

عامہ صحابہ کا اجتہاد تھا کہ ابھی عثمان رضی الله عنہ کے قتل کا قصاص ضروری ہے اور بعض صحابہ کا اجتہاد تھا کہ خلیفہ کی بیعت ضروری ہے . علی رضی الله عنہ اپنی بیعت کے لئے جنگ کرتے رہے اور باقی قصاص کے مطالبہ کرتے رہے لیکن صورت حال اپ کے سامنے ہے ،وہ کیا اپنے حماتیوں سے قصاص لیتے  .یہی چیز ایک فتنہ تھی جس کو سبائی لوگ بھڑکا تے رہے

الغرض سبائی فتنہ پردازوں نے امت کو  مصیبت میں مبتلا رکھا ہزاروں  معصوم لوگ شہید ہوئے.  حتی کہ علی رضی الله عنہ کے حامیوں میں پھوٹ پڑی اور خوارج کا گروہ نکلا اور اسی گروہ نے ان کو شہید کیا اور حسن رضی الله عنہ نے معاویہ رضی الله عنہ سے صلح کر لی و للہ الحمد

امام احمد مسند میں روایت لکھتے ہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ” رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ

الْيَوْمَ ” قَالَ عَمَّارٌ: ” فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ

ابن عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں

میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں اس حال میں دیکھا کہ آپ کے بال بکھرے ہوۓ تھے، اور ان پر گرد و غبار پڑا ہوا تھا، اور ہاتھ میں خون سے بھری ایک بوتل تھی،میں نے پوچھا یا رسول الله یہ کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا  یہ حسین اور اسکے ساتھیوں کا خون ہے جسکو میں صبح سے جمع کر رہا ہوں

اسکی سند کا راوی مختلف فیہ ہے عمار بن أبي عمار مولى بني هاشم ہے کتاب  اکمال مغلطائی  میں ہے

 وقال البخاري: أكثر من روى عنه أهل البصرة…و لا یتابع علیہ

بخاری کہتے ہیں ان کی اکثر روایات اہل بصرہ سے ہیں جن کی کوئی متابعت نہیں کرتا

ابن حبان مشاہیر میں کہتے ہیں

وكان يهم في الشئ بعد الشئ

اسکو بات بے بات وہم ہوتا ہے

ابو داود کہتے ہیں شعبہ نے اس سے روایت لی لیکن کہا

وكان لا يصحح لي

میرے نزدیک صحیح نہیں

یحیی بن سعید کہتے ہیں شعبہ نے صرف ایک روایت اس سے لی

امام مسلم نےاس سےصرف ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ میں کتنے عرصے رہے لی

امام بخاری نے کوئی روایت نقل نہیں کی

زبیر علی زئی  مضمون شہادت حسین اور بعض غلط فہمیوں کا ازالہ  میں مقلدانہ انداز میں   ابن عبّاس کی اس روایت  کو حسن لذاتہ قرار دیتے  ہیں

اس روایت کو امام حاکم نے مستدرک میں حسن قرار دیا ہے الذھبی   موافقت کر بیٹھے ہیں

ابن کثیر اس کو اسنادہ قوی کہتے ہیں اور البانی بھی صحیح کہتے ہیں

حمود التویجری صحیح علی شرط مسلم کہتے ہیں

طبقات ابن سعد کی روایت ہے

قال: أخبرنا عفان بن مسلم. ويحيى بن عباد. وكثير بن هشام. وموسى بن إسماعيل. قالوا: حدثنا حماد بن سلمة. قال: حدثنا عمار بن أبي عمار. عن ابن عباس. قال: رأيت النبي ص فيما يرى النائم بنصف النهار وهو قائم أشعث أغبر. بيده قارورة فيها دم. فقلت بأبي وأمي ما هذا؟ قال: دم الحسين وأصحابه. أنا منذ اليوم  ألتقطه. قال فأحصي ذلك اليوم فوجدوه  قتل ذلك  في ذلك اليوم.

عمار بن أبي عمار کہتا ہے کہ ابن عباس نے کہا ہم نے اس خواب والے دن کو شمار کیا اور یہ پایا کہ اسی خواب والے دن حسین کا قتل ہوا

اسد الغابہ میں ہے فوجد قد قتل في ذلك اليوم  ہم نے پایا کہ حسین کا اسی دن قتل ہوا

کتاب بغية الطلب في تاريخ حلب از  ابن العديم کے مطابق  فأحصي ذلك اليوم فوجدوه يوم قتل الحسين رحمه الله

اسی خواب والے دن حسین کا قتل ہوا

مستدرک حاکم کی روایت جس کو امام حاکم صحیح کہتے ہیں اور الذھبی تلخیص میں مسلم کی شرط پر کہتے ہیں اس میں  ہے

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ” رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ نِصْفَ النَّهَارِ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ “، قَالَ: «فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْيَوْمُ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ قَبْلَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ

اس کے مطابق ابن عبّاس نے جب دن دیکھا تو پتا چلا ایک دن پہلے قتل ہوا

ابن حبان  کتاب مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار میں کہتے ہیں

وكان يهم في الشئ بعد الشئ

ان کو بات بات پر وہم ہوتا ہے

اس وہمی راوی کی روایت کیسے قبول کی جا سکتی ہے کبھی کہتا ہے اسی خواب والے دن قتل ہوا کبھی کہتا ہے ایک دن پہلے ہوا

 بخاری نے اس سے کوئی روایت نہیں لی مسلم نے بھی ایک عجوبہ روایت لی ہے کہ

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ، وَلَا يَرَى شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا

عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ کہتا ہے کہ ابن عباس نے کہا

 نبی صلی الله علیہ وسلم نبوت ملنے کے بعد ١٥ سال مکہ میں رہے جس میں سات سال تک آپ صرف آوازیں سنتے رہے اور روشنی دیکھتے رہے لیکن کسی فرشتے کو نہ دیکھا   اور (مکہ میں ہجرت سے پہلے) بس آٹھ سال وحی آئی

 بس یہ ایک روایت ہے جس کو کوئی بھی تاریخا صحیح نہیں کہتا دوم امام مسلم بھی پتا نہیں کیوں اس کو صحیح کہہ گئے اس قدر احمقانہ روایت آپ دیکھ سکتے ہیں اور اب اہل حدیث علماء اس راوی اور اس کی روایات کی حفاظت پر مقالے لکھ رہے ہیں

 مزید یہ کہ حسین کی شہادت تک میں اختلاف ہے کہ کب ہوئی

کتاب الإصابة في تمييز الصحابة کے مطابق

قال الزّبير بن بكّار: قتل الحسين يوم عاشوراء سنة إحدى وستين، وكذا قال الجمهور، وشذّ من قال غير ذلك.

الزّبير بن بكّار نے کہا حسین کا قتل یوں عاشور سن ٦١ ہجری میں ہوا ایسا ہی جمہور نے کہا اورشاذ ہے جس نے اس کے علاوہ کہا

تاریخ بغداد میں ہے

. أَخْبَرَنَا عبيد الله بن عمر الواعظ قال حدثني أبي قال نا عَبْد الله مُحَمَّد قَالَ حَدَّثَنِي هارون بْن عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سمعت أبا نعيم يقول: قتل الحسين بْن عَلِيّ سنة ستين، يوم السبت يوم عاشوراء

أبا نعيم نے کہا کہ حسین بن علی کا قتل سن ٦٠ ہجری میں  ہفتہ کو یوم عاشور میں ہوا

کتاب طرح التثريب في شرح التقريب  از العراقی کے مطابق

وَاخْتُلِفَ أَيْضًا فِي يَوْمِ وَفَاتِهِ فَالْمَشْهُورُ أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مِنْ سَنَةِ إحْدَى وَسِتِّينَ قَالَهُ قَتَادَةُ وَاللَّيْثُ وَالْوَاقِدِيُّ وَأَبُو مَعْشَرٍ وَجَمَاعَةٌ غَيْرُهُمْ وَقِيلَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَقِيلَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَقِيلَ كَانَ قَبْلَهُ فِي آخِرِ سَنَةٍ سِتِّينَ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ وَاَللَّهُ أَعْلَمُ.

 العراقی کہتے ہیں

اور اس میں بھی اختلاف ہے کہ حسین کی وفات کس روز ہوئی پس مشھور ہے عاشور کے روز سن ٦١ ھ میں ہوئی اس کو قتادہ اور لیث اور واقدی اور ابو معشر اور ایک جماعت نے کہا ہے اور دوسرے کہتے ہیں ہفتہ کو ہوئی اور بعض کہتے ہیں پیر کو ہوئی سن ٦٠ ھ کے آخر  میں اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے

مرض وفات کا ایک مشھور واقعہ ہے کہ صحیح بخاری کے مطابق جمعرات کے دن یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات سے چار دن پہلے، نبی صلی الله علیہ وسلم نے شدت مرض میں حکم دیا

قَالَ النَّبِى (صلى الله عليه وسلم) : (هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لا تَضِلُّوا بَعْدَهُ) ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِى عليه السلام قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ

جاؤ میں کچھ تمھارے لئے  تحریرلکھ  دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو.  پس عمر نے کہا کہ بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کا غلبہ ہو رہا ہے اور تمہارےپاس قرآن ہے ،کتاب الله ہمارے لئے کافی ہے ، پس اہل بیت کا اس پر اختلاف ہو گیا

نبی صلی الله علیہ وسلم کے سامنے شور ہوا کہ جاو قلم و تختی لےآؤ بعض نے کہا  نہیں اس پر آوازیں بلند ہوئیں اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے سب کو اٹھ جانے کا حکم دیا

صحیح مسلم ، دار إحياء التراث العربي – بيروت  کی تعلیق میں محمد فؤاد عبد الباقي  لکھتے ہیں

(فقال ائتوني أكتب لكم كتابا) اعلم أن النبي صلى الله عليه وسلم معصوم من الكذب ومن تغير شيء من الأحكام الشرعية في حال صحته وحال مرضه ومعصوم من ترك بيان ما أمر ببيانه وتبليغ ما أوجب الله عليه تبليغه وليس معصوما من الأمراض والأسقام العارضة للأجسام ونحوها مما لا نقص فيه لمنزلته ولا فساد لما تمهد من شريعته وقد سحر النبي صلى الله عليه وسلم حتى صار يخيل إليه أنه فعل الشيء ولم يكن فعله ولم يصدر منه صلى الله عليه وسلم في هذا الحال كلام في الأحكام مخالف لما سبق من الأحكام التي قررها فإذا علمت ما ذكرناه فقد اختلف العلماء في الكتاب الذي هم النبي صلى الله عليه وسلم به فقيل أراد أن ينص على الخلافة في إنسان معين لئلا يقع فيه نزاع وفتن وقيل أراد كتابا يبين فيه مهمات الأحكام ملخصة ليرتفع النزاع فيها ويحصل الاتفاق على المنصوص عليه وكان النبي صلى الله عليه وسلم هم بالكتاب حين ظهر له أنه مصلحة أو أوحي إليه بذلك ثم ظهر أن المصلحة تركه أو أوحي إليه بذلك ونسخ ذلك الأمر الأول وأما كلام عمر رضي الله عنه فقد اتفق العلماء المتكلمون في شرح الحديث على أنه من دلائل فقه عمر وفضائله ودقيق نظره لأنه خشي أن يكتب صلى الله عليه وسلم أمورا ربما عجزوا عنها واستحقوا العقوبة عليها لأنها منصوصة لا مجال للاجتهاد فيها فقال عمر حسبنا كتاب الله لقوله تعالى {ما فرطنا في الكتاب من شيء} وقوله {اليوم أكملت لكم دينكم} فعلم أن الله تعالى أكمل دينه فأمن الضلال على الأمة وأراد الترفيه على رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان عمر أفقه من ابن عباس وموافقيه.

پس (نبی صلی الله علیہ وسلم کا) یہ کہنا کہ کچھ تحریر لکھ دوں. جان لو کہ بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم  معصوم من الکذب  ہیں اور اس سے معصوم ہیں کہ شریعت کے احکام میں تبدیلی کریں حالت صحت اور مرض دونوں میں اور اس سے بھی معصوم ہیں کہ وہ تبلیغ جس کا کیا جانا واجب ہے اس کو نہ کیا ہو . لیکن وہ امراض و اسقام ، عارضہ اجسام اور اسی نو کی چیزوں سے معصوم نہیں  جس سے نبی کے درجے اور منزلت میں کوئی تنقیص نہیں آتی اور نہ کوئی فساد شریعت ہوتا ہے اور بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم پر جادو ہوا حتی کہ انہیں خیال ہوا کہ انہوں نے کوئی کام کیا ہے لیکن نہیں کیا ہوتا تھا  اور اس حال میں نبی سے کوئی ایسا حکم بھی  نہیں صادر ہوا جو پہلے سے الگ ہو پس  جو ہم نے کہا  اگر تم نے جان لیا تو پس (سمجھو) علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ وہ کیا تحریر تھی جو نبی صلی الله علیہ وسلم لکھوانا چاہتے تھے.  کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کو خلافت پر مقرر کرنا چاہتے تھے تاکہ نزآع یا فتنہ  رونما نہ ہو  اور کہا جاتا ہے کہ تحریر لکھوانا چاہتے تھے جس میں اہم احکام کی وضاحت کریں جو نزآع  بڑھا سکتے ہوں اور ان پر اتفاق حاصل کرنا چاہتے تھے … اور جہاں تک عمر رضی الله عنہ کے قول کا تعلق ہے تو اس پر متکلم علماء کا اتفاق ہے ،اس حدیث کی شرح میں کہ یہ عمر کی دقیق النظری اور فضیلت کی دلیل ہے کہ وہ ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں نبی صلی الله علیہ وسلم ایسا حکم نہ لکھوا دیں جس کو کر نہ سکیں …

روایت کے الفاظ  قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَع ( بے شک ان پر بیماری کی شدت ہے) کی شرح کی جاتی ہے

 شرح صحيح البخارى میں ابن بطال المتوفی ٤٤٩ ھ لکھتے ہیں

فقنع عمر بهذا، وأراد الترفيه عن النبى (صلى الله عليه وسلم) ، لاشتداد مرضه وغلبة الوجع عليه

پس عمر نے اس  (کتاب الله) پر  قناعت کی ان کا ارادہ نبی کو خوش کرنے کا تھا،  کیونکہ نبی پر مرض کی شدت اور بیماری غالب آ رہی  ہے 

ایک دوسری روایت میں ہے  فقالوا ما شأنه ؟ أهجر

پس صحابہ نے کہا ان کی کیا کیفیت ہے کیا انکو ھجر ہوا

أهجر  کے شروحات میں مختلف مفہوم ہیں

ابن الملقن المتوفی ٨٠٤ ھ کتاب آلتوضيح لشرح الجامع الصحيح میں لکھتے ہیں

أهجر سلف بيانه، وهو سؤال ممن حضر في البيت، هل هو هذيان؟ يقال: هجر العليل: إذا هذى، ويحتمل أن يكون من قائله على وجه الإنكار، كأنه قال: أتظنونه هجر؟ وقيل: إن عمر قال: غلبه الوجع، فيجوز أن يكون قال للذي ارتفعت أصواتهم على جهة الزجر، كقول القائل: نزل فلان الوجع فلا تؤذوه بالصوت

أهجر … یہ سوال تھا انکا  جو گھر میں اس وقت موجود تھے کیا یہ ہذیان ہے کہا هجر العليل (بیمار کو هجر) جب وہ ہذیان کہے اور احتمال ہے کہ کہنے والا اس کیفیت کا انکاری ہو جسے کہے کیا سمجھتے ہو کہ یہ ہذیان ہے ؟ اور کہا جاتا ہے عمر نے کہا ان پر بیماری کی شدت ہے پس جائز ہے کہ انہوں نے شور کرنے والوں کو ڈآٹنے کے لئے ایسا کہا ہو جیسے کوئی قائل کہے ان پر بیماری آئی ہے پس اپنی آوازوں سے ان کو اذیت نہ دو

القسطلاني  (المتوفى: 923هـ) کتاب  إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري میں لکھتے ہیں

وقال النووي: وإن صح بدون الهمزة فهو لما أصابه الحيرة والدهشة لعظيم ما شاهده من هذه الحالة الدالة على وفاته وعظم المصيبة أجرى الهجر مجرى شدة الوجع. قال الكرماني: فهو مجاز لأن الهذيان الذي للمريض مستلزم لشدة وجعه فأطلق الملزوم وأراد اللازم، وللمستملي والحموي: أهجر بهمزة الاستفهام الإنكاري أي أهذى إنكارًا على من قال: لا تكتبوا أي لا تجعلوه كأمر من هذى في كلامه أو على من ظنه بالنبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في ذلك الوقت لشدة المرض عليه.

اور النووی کہتے ہیں اور اگر یہ لفظ همزة (استفھامیہ) کے بغیر ہے (یعنی اس وقت کسی نے  یہ سوال نہیں کیا بلکہ انہوں نے ایسا کہا ) تو پس  جو انہوں نے یہ کیفیت دیکھی تو اس کو  نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات جانا اور بڑی  دہشت کے عالم میں ان سے یہ الفاظ  ادا ہوئے کہ بیماری کی شدت ہے . کرمانی کہتے ہیں یہ مجاز ہے کیونکہ  هذيان اس مریض کے لئے ہے جس پر بیماری کی شدت ہو

اس روایت کو شیعہ  دلیل بناتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ، علی  رضی الله تعالی عنہ کی امامت و خلافت کا حکم کرنے والے تھے جس کو بھانپتے ہوئے  نعوذ باللہ عمر رضی الله تعالی عنہ نے یہ چال چلی اور کہنا شروع کر دیا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت ہے

 نبی صلی الله علیہ وسلم تو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے صلح حدیبیہ میں بھی محمد رسول الله کے الفاظ علی رضی الله تعالی عنہ سے پوچھ کر منہا کئے لہذا عمررضی الله تعالی عنہ اس کیفیت کو پہچان گئے نبی صلی الله علیہ وسلم کا فرمانا کہ میں لکھ دو اس بات کا غماز ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت تھی. اس کے بعد چار دن میں کسی بھی وقت اپ نے واپس ایسا حکم نہیں دیا

لہذا غالب رائے یہی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت تھی ورنہ اپ ایسا حکم نہیں دیتے

ھجر کی شرح امام احمد ، مسند احمد ج ٣ ص ٤٠٨ ح  ١٩٣٥میں کرتے ہیں

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ [ص:409]: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟، ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ – وَقَالَ مَرَّةً: دُمُوعُهُ – الْحَصَى، قُلْنَا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ: وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ: «ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَتَنَازَعُوا وَلا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ» فَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ – قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي هَذَى – اسْتَفْهِمُوهُ، فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ» ، وَأَمَرَ بِثَلاثٍ – وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَوْصَى بِثَلاثٍ – قَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» وَسَكَتَ سَعِيدٌ عَنِ الثَّالِثَةِ، فَلا أَدْرِي أَسَكَتَ عَنْهَا عَمْدًا – وَقَالَ مَرَّةً: أَوْ نَسِيَهَا – وقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ تَرَكَهَا، أَوْ نَسِيَهَا

امام احمد، سفیان ابْن عُيَيْنَة کے حوالے سے واقعہ قرطاس پر  حدیث لکھتے ہیں .حدیث میں ھجر کے الفاظ کی تشریح کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کی شرح سفیان ابْن عُيَيْنَة کے لفظ  هَذَى یعنی ہذیان سے کرتے ہیں

شاید یہ سب سے قدیم شرح ہے جو حدیث ہی کی کتاب میں ملتی ہے نہ کہ ان پر لکھی جانے والی شروحات میں

آخر امام احمد نے ایسا کیوں کیا وہ چاہتے تو سفیان ابْن عُيَيْنَة  کے الفاظ نقل نہ کرتے اور ان کو چھپاتے

سفیان ابْن عُيَيْنَة  کے الفاظ نقل کرنے کا مطلب ہے احمد کی بھی یہی رائے ہے

صحیح مسلم کی ابن عبّاس سے مروی حدیث  ہے جس میں استفہام انکاری والی بات نہیں ہے بلکہ خبر ہے

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ، حَتَّى رَأَيْتُ عَلَى خَدَّيْهِ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ – أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ – أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا»، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ

ابن عباس کہتے ہیں جمعرات کا دن آہ جمعرات کا دن  پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے یہاں تک کہ موتیوں کی طرح ان کے گال پر تھے رسول الله نے کہا جاؤ کتف اور دوات لاو میں ایک تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد گمراہ نہ ہو پس کہا بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ھجر ادا ہوا

Salabi-Ali-٠ Salabi-Ali-2

عبد الرحمن الصلابی نے یہ تو مانا ہے کہ بعض صحابہ نے کہا کہ رسول الله سے ھجر ادا ہوا اور بعد میں استفہام انکاری والی بات کی تائید بھی کی ہے لیکن یہ سب اسی صورت صحیح ہوتا ہے جب دونوں باتیں اس وقت کہی گئی ہوں

غور کریں نبی صلی الله علیہ وسلم کیا کہہ رہے ہیں اکتب لکم کتابا کہ میں لکھ دوں ایک تحریر جبکہ اپ صلی الله علیہ وسلم لکھنا پڑھنا نہیں جانتے. نبی صلی الله علیہ وسلم کو جب کچھ لکھوانا ہوتا تھا تو اپ حکم کرتے  جیسے اپ نے ایک صحابی کی درخواست پر، حج کے موقعہ پر فرمایا اکتبو لابی شاہ کہ ابی شاہ کے لئے لکھ دو

واقعہ قرطاس بہت سادہ سا وقوعہ ہے جس کو بحث نے غیر ضروری طور پر اہم بنا دیا ہے.  نبی صلی الله علیہ وسلم کو بیماری کی شدت تھی اس کیفیت میں اپ نے ایک بات کہ دی جو حقیقت حال کے خلاف تھی. صحابہ اور اہل بیت نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی بعد میں اس پر کوئی جھگڑا ہوا اور نہ ہی طنزا علی رضی الله تعالی عنہ نے اس کو کبھی استمعال کیا نہ حسن نے نہ حسین نے . نبی  صلی الله علیہ وسلم نے اگلے چار دن واپس اس کا حکم نہیں دیا ، بس  اور یہ کچھ بھی نہیں

شیعہ حضرات کے لئے اس میں دلیل نہیں کیونکہ اگر نبی صلی الله علیہ وسلم ، علی کی خلافت کا حکم لکھوا بھی دیتے تو بھی علی خلیفہ نہیں بن پاتے کیونکہ ان کے خیال میں تو سب صحابہ نعوذ باللہ منافق تھے . علی رضی الله تعالی عنہ اس نوشتہ  کو بھی  علم باطن  ، قرآن اور علم جفر کی طرح چھپا کر  ہی رکھتے. یاد رہے کہ شیعوں کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم  حجه الوداع سے واپسی پر غدیر خم  کے مقام پر دبے لفظوں میں علی کو دوست کہہ چکے ہیں لیکن کھل کر ایک دفعہ بھی ان کو خلیفہ نہیں بتایا

مسلمانوں کی خلافت پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے کسی کو بھی مقرر نہیں کیا کیونکہ ان کا مقصد ہدایت پہنچانا تھا جو انہوں نے کر دیا تھا. اصل مسئلہ شرک کی طرف صحابہ کا پلٹنا تھا جس کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے خود  واضح فرمایا بخاری کی حدیث ہے

وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي

اور الله کی قسم مجھے اس کا خوف نہیں کہ تم شرک کرو گے

نبی صلی الله علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ امت بارہ خلفاء تک سر بلند رہے گی اور وہ سب قریشی ہونگے

اور تاریخ گواہ ہے ایسا ہی ہوا

راقم کے خیال میں نبی صلی الله علیہ وسلم اگر کچھ لکھواتے تو اس کا تعلق امت کی قبر پرستی سے ہوتا آخری لمحات میں اپ کپڑا چہرے پر ڈالتے اور ہٹاتے اور کہتے

اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاری پر جنہوں نے انبیاء و صلحاء کی قبروں کو مسجد بنا دیا

آج حب اہل بیت  پر انکی قبریں ہی پوجی جا رہی  ہیں

اہل سنت میں بھی قبر پرستی زوروں پر ہے اور اس کو سند جواز ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے علماء نے فراہم کیا ہے جس پر انکی کتب شاہد ہیں

نبی صلی الله علیہ وسلم کو زبردستی دوا پلائی گئی

ایک دوسرا واقعہ ہے جس میں ہے کہ  نبی صلی الله علیہ وسلم کے منع کرنے کے باوجود ان کو دوا پلا دی گئی . نبی صلی الله علیہ وسلم کو جب ہوش آیا تو اپ نے فرمایا کہ میرے منع کرنے کے باوجود دوا کیوں دی ؟ نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس وقت حجرے میں موجود سب کو جو اس وقت وہاں موجود تھے ان سب کو یہ دوا پلائی جائے سوائے ان کے چچا عبّاس کے کیونکہ وہ دوا پلاتے وقت وہاں نہیں تھے

بخاری کتاب الطب کی حدیث ہے

حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثنا موسى بن أبي عائشة، عن عبيد الله بن عبد الله قَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا، أَنْ لاَ تَلُدُّونِي‏.‏ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏”‏ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ‏”‏‏.‏ قُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ لاَ يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلاَّ لُدَّ ـ وَأَنَا أَنْظُرُ ـ إِلاَّ الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض ( وفات ) میں دوا آپ کے منہ میں ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ دو ا منہ میں نہ ڈالو ہم نے خیال کیا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے اس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما رہے ہیں پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ دوا میرے منہ میں نہ ڈالو ۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی دوا سے طبعی نفرت کی وجہ سے فرمایا ہو گا ۔ اس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب گھر میں جتنے لوگ اس وقت موجود ہیں سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا ، البتہ  عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ میرے منہ میں ڈالتے وقت موجود نہ تھے ، بعد میں آئے ،

 مسند احمد مستدرک الحاکم مسند اسحاق  میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت میں یہ بھی ہے کہ

فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ هَذَا مِنْ فِعْلِ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هُنَا وَأَشَارَ إِلَى الْحَبَشَةِ وَإِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ عَلَيَّ ذَاتَ الْجَنْبِ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَجْعَلَ لَهَا عَلَيَّ سُلْطَانًا وَاللَّهِ لَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ وَلَدَدْنَا مَيْمُونَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ

پس جب نبی صلی الله علیہ وسلم کو ہوش آیا تو اپ نے فرمایا یہ عورتوں کا کام ہے جو وہاں سے آئی ہیں اپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا اور (کہآ) کیا تم یہ دیکھتے ہو کہ الله ذَاتَ الْجَنْبِ (دوا کا عنصر) کو میرے اوپر مسلط کرے گا الله اس کو میرے اوپر اختیار نہیں دے گا . الله کی قسم ! اب گھر میں کوئی ایسا نہ رہے جس کو یہ دوا پلائی نہ جائے . پس کوئی نہ چھوڑا گیا جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی گئی ہو اور  (ام المومنین) مَيْمُونَةَ  (رضی الله عنہا) کو بھی پلائی جبکہ وہ روزے سے تھیں

شیعہ حضرات اس روایت سے دلیل لیتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو شبہ تھا کہ ان زہر دیا جا رہا ہے لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا اور نبی صلی الله علیہ وسلم کو زہردے کر شہید کیا گیا

افسوس ان کی عقل پر اہل بیت میں سے  عباس رضی الله تعالی عنہ کی موجوگی میں سب کو دوا پلائی گئی عائشہ رضی الله تعالی عنہا نے بھی پی لیکن سب زندہ رہے اگر اس دوا میں زہر تھا تو کسی اور کی وفات کیوں نہیں ہوئی

نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا المهلب کہتے ہیں

وجه ذلك – والله أعلم – أنه لما فعل به من ذلك ما لم يأمرهم به من المداواة بل نهاهم عنه

 شرح صحيح البخارى لابن بطال

اس کی وجہ اللہ کو پتا ہے ، پس جب انہوں نے ایسا کیا جس کا حکم نہیں دیا گیا تھا  تو منع کرنے کے لئے ایسا کیا  

نبی صلی الله علیہ وسلم نے شاید کسی بیماری میں  بھی دوا نہیں لی یہ ان کی خصوصیت تھی لیکن چونکہ مرض وفات میں شدت بہت تھی اس وجہ سے اہل بیت نے دوا پلا دی. نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا الله اس دوا کو میرے اوپر اختیار نہیں دے گا جس سے ظاہر ہے کہ اگر زہر ہوتا تو وفات نہیں ہوتی

نبی صلی الله علیہ وسلم کو اس وفات کی پہلے سے خبر تھی جیسا کہ  بخاری حدیث میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور کہا کہ

إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ

 الله نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ دنیا کی زینت لے یا وہ جو الله کے پاس ہے، پس اس  بندے نے اختیار کر لیا

 ان دو واقعات سے شیعہ حضرات کا اپنے عقائد کے لئے دلیل پکڑنا صحیح نہیں بلکہ ان کے مذھب میں تو امام سب کر سکتا ہے اس کے آگے کائنات کا زرہ رزہ سر نگوں ہوتا ہے. دوئم الله تعالی اپنا پرانا حکم بدل دیتا ہے لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم پر زہر کا اثر کیوں ہونے دیا گیا ؟ امام تو عالم الغیب ہوتا ہے . اس با خبری کے عالم میں تو یہ نعوذ باللہ علی رضی الله عنہ کی چال بنتی ہے کہ نبی  صلی الله علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دیا گیا  کہ جلدی خاتمہ ہو اور خلافت ملے

تاریخ الطبری میں ابو مخنف  (جو شیعوں کا معتبر راوی ہے ) کی روایت ہے کہ اس دوا پلانے والے واقعہ میں علی بن ابی طالب بھی شامل تھے

tibri-dwa

دوا اسماء بنت عمیس رضی الله تعالی عنہا نے بنائی جن سے ابو بکر رضی الله عنہ کی وفات کے بعد علی رضی الله عنہ نے  شادی کی ہمارا شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ  اگر یہ کوئی سازش تھی تو علی اس سازش کا بھرپور حصہ بنے اور ایسی عورت کو بعد میں نکاح میں لیا جو زہر بناتی تھی

اہل سنت سے بھی ہماری گزارش ہے کہ عمر رضی الله تعالی عنہ کے الفاظ کی وہی تاویل کریں جو حقیقت کے قریب ہو یہ کہنا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت نہیں تھی  بخاری کی حدیث کے خلاف ہے. نبی صلی الله علیہ وسلم پر اگر بیماری کی شدت نہیں تھی تو صحابہ  نے انکو زبردستی دوا کیوں پلائی

 عمر رضی الله تعالی عنہ کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کا گمان نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وفات النبی والے دن کہا کہ جو یہ کہے کہ نبی کی وفات ہو گئی اس کی میں گردن اڑا دوں گا

عائشہ رضی الله تعالی عنہا کو بھی آخری وقت تک نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کا گمان نہیں تھا لیکن جب نبی صلی الله علیہ وسلم نے آخری الفاظ کہے کہ

مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا

ان لوگوں کے ساتھ جن پر الله نے انعام کیا نبیوں صدیقین شہداء صالحین

فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ: {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ} [النساء: 69] الآيَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ

پس اس وقت میں جان گئی کہ آپ نے (دنیا کی رفاقت چھوڑنے کا) فیصلہ کر لیا

الله ہم  سب کو ہدایت دے

طبقات ابن سعد میں واقدی کہتا ہے کہ ہشام بن حسان نے ابن سیرین سے خبر دی

قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ [أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قَالَ لأَبِي ذَرٍّ: إِذَا بَلَغَ النَّبَأُ سِلَعًا فَاخْرُجْ مِنْهَا. وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ. وَلا أَرَى أُمَرَاءَكَ يَدَعُونَكَ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا أُقَاتِلُ مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ أَمْرِكَ؟ قَالَ: لا. قَالَ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ.] قَالَ: فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ: إِنَّ أَبَا ذَرٍّ قَدْ أَفْسَدَ النَّاسَ بِالشَّامِ. فَبَعَثَ إِلَيْهِ عُثْمَانُ فَقَدِمَ عَلَيْهِ. ثُمَّ بَعَثُوا أَهْلَهُ مِنْ بَعْدِهِ فَوَجَدُوا عِنْدَهُ كَيْسًا أو شيئا فظنوا أنها دَرَاهِمَ. فَقَالُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ! فَإِذَا هِيَ فُلُوسٌ. فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ قَالَ لَهُ عُثْمَانُ: كُنَّ عِنْدِي تَغْدُو عَلَيْكَ وَتَرُوحُ اللِّقَاحُ. قَالَ: لا حَاجَةَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ.

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ابو ذر کو کہا کہ جب تفرقہ کی خبر سنو تو اس طرف جانا اور شام کی طرف اشارہ کیا  اور میں نہیں دیکھتا کہ امراء تم کو بلائیں ابو ذر نے کہا اے رسول الله کیا میں ان سے قتال نہ کروں جو میرے اور آپ کے حکم کے درمیان حائل ہوں ؟ کہا نہیں ابو ذر نے کہا پس آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ کہا سمع و اطاعت کرنا چاہے کوئی حبشی ہو پس جب  ابو ذر شام گئے تو  معاویہ نے عثمان کو لکھا کہ یہ شخص بہت برا ہے لہذا ابو ذر کو عثمان نے  مدینہ طلب کیا  – اس کے بعد ان کے گھر والے ان کے پاس گئے ابو ذر نے گھر والوں کے پاس ایک تھیلا پایا اور انہوں نے گمان کیا اس میں درہم ہیں پس کہا جو الله کی مرضی یہ قیمت ہے ! پس جب مدینہ پہنچے تو  عثمان  نے کہا  میرے ساتھ ہو جاؤ  ابو ذر نے کہا  کہ مجھے تمہاری دنیا کی حاجت نہیں

یعنی عثمان رضی الله عنہ نے رشوت  دی  جس کو ابو ذر رضی الله عنہ نے ٹھکرا دیا

اس کی سند میں ہشام بن حسان  ہے

کتاب تعريف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس  از ابن حجر کے مطابق

هشام بن حسان البصري وصفه بذلك علي بن المديني وأبو حاتم قال جرير بن حازم قاعدت الحسن سبع سنين ما رأيت هشاما عنده قيل له قد حدث عن الحسن بأشياء فمن تراه أخذها قال من حوشب

هشام بن حسان البصري کو تدلیس سے متصف ابن المدینی اور ابو حاتم نے کیا کہا جریر نے کہا حسن بصری کے ساتھ سات سال رہا لیکن ایک دفعہ بھی ہشام کو  ان کے ساتھ  دیکھا  کہا کہ یہ تو حسن سے بہت چیزیں روایت کرتا ہے تو یہ سب اس کو کہاں سے ملیں کہا  حوشب سے

حوشب جن سے ہشام نے روایت لی وہ ابن مسلم ہے

الذہبی میزان میں کہتے ہیں

حوشب بن مسلم.

لا يدري من هو.

حوشب بن مسلم میں نہیں جانتا  کون ہے

معلوم ہوا کہ ہشام بن حسان  تدلیس کرتا تھا

مخلد بن حسین کہتے ہیں

أَرْسَلَ فِيْهِ فِي حَدِيْثِ ابْنِ سِيْرِيْنَ خَاصَّةً.

هشام بن حسان البصري خاص ابن سیرین کی روایت میں ارسال کرتا ہے

المیمونی کہتے ہیں امام احمد کہتے ہیں

قال: حدثنا عفان. قال: حدثنا معاذ. قال:  قال الأشعث: ما رأيت هشامًا، يعنى ابن حسان، عند الحسن قط

عثمان نے ہم سے روایت کیا ہے کہا معاذ نے بیان کیا کہا الأشعث نے کہا میں نے ہشام یعنی ابن حسان کو کبھی ہی حسن کے پاس نہ دیکھا

تاریخ مدینہ از ابن شبہ کے مطابق عثمان نے ابو ذر سے کچھ کہا ابو ذر بھڑک گئے اور بولے

ثُمَّ رَفَعَ أَبُو ذَرٍّ بِصَوْتِهِ الْأَشَدِّ فَقَالَ: ” {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [التوبة: 34] ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ “، فَأَمَرَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الرَّبَذَةِ

اس پر عثمان نے الرَّبَذَةِ  بھیج دیا

سند ہے

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ خِمَاشٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ بِأَبِي ذَرٍّ، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَرَاهُ أَوْ أَلْقَاهُ مِنْهُ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ

اس میں أَبِي عَمْرِو بْنِ خِمَاشٍ  مجھول ہے

تاریخ مدینہ ابن شبہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي ذَرٍّ فَقُلْتُ: مَا أَنْزَلَكَ مَنْزِلَكَ هَذَا؟ قَالَ: ” كُنْتُ بِالشَّامِ، فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [التوبة: 34] ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، وَقُلْتُ أَنَا: نَزَلَتْ فِينَا وَفِيهِمْ، فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَلَامٌ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْكُونِي، فَكَتَبَ إِلَيَّ عُثْمَانُ أَنْ أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، فَقَدِمْتُهَا، فَكَثُرَ النَّاسُ عَلَيَّ حَتَّى كَأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْنِي قَبْلَ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ تَنَحَّيْتَ وَكُنْتَ قَرِيبًا، لِذَلِكَ أَنْزَلَنِي هَذَا الْمَنْزِلَ، وَلَوْ أَمَّرُوا عَلَيَّ حَبَشِيًّا لَسَمِعْتُ، وَأَطَعْتُ “

زید بن وہب کہتا ہے میں ربذہ ابو ذر کے پاس پہنچا ان سے پوچھا یہاں کیسے ؟ کہنے لگے میں شام میں تھا وہاں معاویہ اور میرا اختلاف ہوا سوره توبہ کی آیت ٣٤ پر معاویہ نے کہا یہ اہل کتاب کے لئے ہے میں نے کہا ہمارے لئے ہے اور ان کے کے لئے بھی پس اس میں کلام ہوا انہوں نے عثمان کو لکھ بھیجا اور شکوہ کیا عثمان نے مجھے لکھا اور مدینہ بلایا پس اس قدر لوگ جمع ہوئے جتنا اس سے قبل نہ دیکھے پس عثمان سے ذکر کیا انہوں نے کہا اگر آپ کو پسند کریں تو  یہ منزل پاس بھی ہے یہاں سکونت کر لیں اور اگر آپ پر حکم کر دوں تو ایک لشکر میری بات سنتا اور اطاعت کرتا ہے

یعنی عثمان رضی الله عنہ نے دھمکی آمیز انداز میں ان کی خبر لی سندا اس میں حُصَيْن بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ہے جو مقبول ہے

الکامل از ابن عدی کے مطابق سند کے دوسرے راوی ھشیم  کے مطابق

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شيبة البغدادي، حَدَّثَنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ هُشَيْمًا يقول كان حصين كبير السن

حُصَيْن بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن عمر رسیده تھے

اس عمر میں یہ بھولتے بھی تھے یہاں تک کہ يزيد بن هارون  کہتے تھے کہ اختلاط کا شکار تھےکتاب  بَهْجَة المحَافِل وأجمل الوَسائل بالتعريف برواة الشَّمَائل از  إبراهيم بن إبراهيم بن حسن اللقاني کے مطابق وصلى عليه ابن مسعود

ابو ذر کی نماز جنازہ  ابن مسعود نے پڑھائی

 لیکن واقدی کی طبقات کی ہشام بن حسان کی روایت کے مطابق  ابو ذر تو مدینہ سے دور بے یار و مدد گار انتقال کر گئے

حاكم مستدرك مين روايت لکھتے ہیں کہ ابن مسعود نے کہا

فَقِيلَ: جِنَازَةُ أَبِي ذَرٍّ فَاسْتَهَلَّ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا ذَرٍّ يَمْشِي وَحْدَهُ، وَيَمُوتُ وَحْدَهُ، وَيُبْعَثُ وَحْدَهُ»

رسول الله نے سچ کہا تھا الله ابو ذر پر رحم کرے وہ اکیلے چلے اکیلے مرے اور اکیلے جی اٹھیں گے

الذھبی  تلخیص مستدرک میں کہتے ہیں اس روایت میں ارسال ہے

سند ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

سند میں یزید بن سفیان کو سب نے ضعیف کہا ہے

امام احمد اپنی مسند، ج 35، ص 300 پر ایک روایت درج کرتے ہیں

21373 – حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ، الْوَفَاةُ قَالَتْ: بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَا يَدَ لِي بِدَفْنِكَ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ فَأُكَفِّنَكَ فِيهِ.

حضرت ام ذر کہتی ہیں کہ جب حضرت ابو ذر کا آخری وقت آیا تو میں رونے لگی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو۔ جواب دیا کہ کیوں نہ رؤں کہ آپ اس جنگل میں مرنے والے ہیں، اور میرے پاس کچھ نہیں، کپڑا بھی نہیں کہ جس سے آپ کو کفن دے سکوں

محقق، شیخ شعیب الارناؤط نے سند کو حسن کہا ہے

یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس میں إِبْرَاهِيم بن الأشتر ہے جس کی توثیق نہیں ملی کہ علم حدیث میں کیا مقام ہے نہ حافظہ کا پتا ہے نہ عدل کا لہذا اس راوی کو قبول نہیں کیا جائے گا
یہاں تک کہ الذہبی نے کہا ہے
وما علمت له رواية
میں اس کی روایت کو نہیں جانتا

اسی طرح اس میں مُجَاهِد بْن سعيد بْن أبي زَيْنَب ہے جو مجھول ہے صرف ابن حبان کی توثیق ہے جو مجہولین کو ثقہ کہنے کے لئے مشھور ہیں

یہ روایت منقطع بھی ہے تاریخ الکبیر امام بخاری کے مطابق مجاہد نے عبد الله سے سنا ہے
عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ نا مُجَاهِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ الأَصْبَحِيُّ لَقِيتُهُ بِالْجَزِيرَةِ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ حَدَّثَنِي عَبْد اللَّه بْن مَالِكِ بْن إِبْرَاهِيم بْن الأَشْتَرِ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ
یعنی مجاہد نے عبد الله سے سنا نہ کہ اس کے باپ سے

الغرض مختلف روایات ہیں جو اکثر مبہم ہیں  اتنا کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی فتوحات کی بدولت ان کا رہن سہن بدل رہا تھا اور صحابہ فارغ البال ہو گئے  اس کا ابو ذر رضی الله عنہ  پر اثر ہوا اور وہ زہد کی طرف مائل ہوئے اور باقی اصحاب رسول سے اس سلسلے میں اختلاف کرنے لگے یہاں تک کہ شاید وہ کسی بھی قسم کا سونا چاندی رکھنے کے خلاف ہو گئے- ان کی تائید میں کسی اور نے ان کے جیسا عمل نہ کیا – علی رضی الله عنہ  نے بھی  خاموشی اختیار کی –  لہذا  یہ ابو ذر رضی الله عنہ کا خاص زہد پر منبی موقف تھا جس کی تائید نہ اہل بیت نے کی نہ اصحاب رسول

یہ ایک منطقی اعتراض ہے جو اہل سنت  کی جانب سے کیا جاتا ہے اس کا جواب تھا نہیں لہذا یہ روایت اس سسلے میں گھڑی گئی جس کو طبرسی نے اجتجاج میں بیان کیا لیکن سند نہیں دی

 علل الشرائع – الشيخ الصدوق – ج 1 – ص ١٤٨ تا ١٥٠ میں روایت ہے

حدثنا حمزة بن محمد العلوي قال : أخبرنا أحمد بن محمد بن سعيد قال : حدثني الفضل بن خباب الجمحي قال : حدثنا محمد بن إبراهيم الحمصي قال : حدثني محمد بن أحمد بن موسى الطائي ، عن أبيه ، عن ابن مسعود قال : احتجوا في مسجد الكوفة فقالوا ما بال أمير المؤمنين ” ع ” لم ينازع الثلاثة كما نازع طلحة والزبير وعايشة ومعاوية ، فبلغ ذلك عليا ” ع ” فأمر أن ينادي بالصلاة جامعة فلما اجتمعوا صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : معاشر الناس ، انه بلغني عنكم كذا وكذا ‹ صفحة 149 › قالوا صدق أمير المؤمنين قد قلنا ذلك ، قال فان لي بسنة الأنبياء أسوة فيما فعلت قال الله عز وجل في كتابه : ( لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة ) قالوا ومن هم يا أمير المؤمنين ؟ قال أولهم إبراهيم ” ع ” إذ قال لقومه : ( واعتزلكم وما تدعون من دون الله ) فإن قلتم ان إبراهيم اعتزل قومه لغير مكروه أصابه منهم فقد كفرتم وان قلتم اعتزلهم لمكروه رآه منهم فالوصي اعذر . ولي بابن خالته لوط أسوة إذ قال لقومه : لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد ، فان قلتم ان لوطا كانت له بهم قوة فقد كفرتم ، وان قلتم لم يكن له قوة فالوصي اعذر ، ولي بيوسف ” ع ” أسوة إذ قال : ( رب السجن أحب إلى مما يدعونني إليه ) فان قلتم ان يوسف دعا ربه وسأله السجن لسخط ربه فقد كفرتم ، وان قلتم انه أراد بذلك لئلا يسخط ربه عليه فاختار السجن فالوصي أعذر ، ولي بموسى ” ع ” أسوة إذ قال : ( ففررت منكم لما خفتكم ) فإن قلتم ان موسى فر من قومه بلا خوف كان له منهم فقد كفرتم ، وان قلتم ان موسى خاف منهم فالوصي اعذر ، ولي بأخي هارون ” ع ” أسوة إذ قال لأخيه : ( يا بن أم ان القوم استضعفوني وكادوا يقتلونني ) فإن قلتم لم يستضعفوه ولم يشرفوا على قتله فقد كفرتم وان قلتم استضعفوه وأشرفوا على قتله فلذلك سكت عنهم فالوصي اعذر . ولي بمحمد صلى الله عليه وآله أسوة حين فر من قومه ولحق بالغار من خوفهم وأنامني على فراشه ، فإن قلتم فر من قومه لغير خوف منهم فقد كفرتم وان قلتم خافهم وأنامني على فراشه ولحق هو بالغار من خوفهم فالوصي اعذر

 محمد بن أحمد بن موسى الطائي اپنے باپ سے وہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ مسجد کوفہ میں جھگڑا ہوا کہ امیر المومنین کیوں نہیں ان تین سے کیوں نہ لڑے جیسا کہ طلحہ اور زبیر اور عائشہ لڑے پس یہ بات علی تک پہنچی انہوں نے حکم دیا کہ لوگ نماز کے لئے جمع ہوں پس جب لوگ جمع ہوئے علی منبر پر چڑھے اور الله کی تعریف کی اور ثنا کی اور کہا اے لوگوں مجھ تک پہنچا کہ تم ایسا ایسا کہتے ہو لوگوں نے کہا امیر المومنین نے سچ کہا ہم ایسا کہتے ہیں علی بولے میں نے جو کیا اس میں اس وقت مجھ پر انبیاء کی اتباع لازم تھی جیسا الله نے کتاب میں کہا ہے کہ   لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة پوچھا گیا وہ کون سے رسول ہیں ؟ علی نے کہا سب سے پہلے نوح ع کی مثال میرے سامنے تھی جب انہیں انکی قوم نے مغلوب کیا تو فرمانے لگے ( رب انی مغلوب فانتصر- سورہ القمر -10) یعنی” اے اللہ میں مغلوب کردیا گیا ہوں. میری مدد کر”

 دوسری مثال لوط علیہ السلام کی تھی جو میرے سامنے تھی جس پر مجھے عمل کرنا تھا جب لوط نے کہا ( لو ان لی بکم قوة او آوی الی رکن شدید. ہود -80) یعنی ” اے کاش. میرے پاس اتنی قوت ہوتی کہ میں تمہارا مقابلہ کرسکتا یا مجھے مضبوط طاقت کی پناہ مل سکتی ”

 ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کی مثال بھی میرے سامنے تھی جب اپ نے اپنی قوم سے فرمایا ( واعتزلکم مما تعبدون من دون اللہ. مریم -48) یعنی ” میں تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ”

موسی علیہ السلام کی مثال بھی سامنے تھی جس پر عمل کرنا لازم تھا . جب موسی نے کہا ( ففررت لما خفتکم .الشعراء-21) اور میں نے تم ( فرعون) سے دوری اختیار کی جب مجھے اپنی جان کا خدشہ لاحق ہوا.

ہارون کی مثال بھی میرے سامنے تھی جب فرمایا ( یابن ام ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی.اعراف-50) یعنی ” اے میرے بھائی  اس امت نے مجھے کمزور کردیا اور میرے قتل پر امادہ ہوگئے ”

 سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی میرے پیش نظر تھی جس کی اتباع مجھ پر لازم تھی جب مجھے اپنے بستر پر سلا کر ہجرت فرمائی اور غار میں جا چھپے. یہ اپ کا یہ  چھپنا دشمنوں کے شر سے بچنے کے لیے تھا.

اس میں سند اندھیرے میں ہے محمد بن احمد بن موسی  مجھول الحال ہے جس کا ذکر نہ اہل سنت کی کتب میں ہے نہ شیعہ مصادر میں دوم ابن مسعود رضی الله عنہ کا انتقال تو دور عثمان میں ہوا تو پھر امیر المومنین علی سے کہاں ملاقات ہوئی اور علی کوفہ شہادت عثمان سے پہلے کیسے پہنچے

طبقات ابن سعد کی روایت ہے

قال: أخبرنا يحيى بن حماد. قال: حدثنا أبو عوانة. عن حصين. عن أبي حازم. [قال: لما حضر الحسن. قال للحسين: ادفنوني عند أبي- يعني النبي ص- إلا أن تخافوا الدماء. فإن خفتم الدماء فلا تهريقوا في دما. ادفنوني عند مقابر المسلمين. قال:] فلما قبض تسلح الحسين وجميع   مواليه. فقال له أبو هريرة: أنشدك الله ووصية أخيك فإن القوم لن يدعوك حتى يكون بينكم دما. قال: فلم يزل به حتى رجع. قال:ثم دفنوه في بقيع الغرقد «2» . فقال أبو هريرة: أرأيتم لو جيء بابن موسى ليدفن مع أبيه فمنع أكانوا قد ظلموه؟ قال: فقالوا: نعم. قال: فهذا ابن نبي الله قد جيء به ليدفن مع أبيه.

حصين بن عبد الرحمن السلمي أبو الهذيل ،  ابی حازم الاشجعی سے روایت کرتے ہیں کہ جب حسن بن علی کا آخری وقت آیا تو انہوں نے   حسین   سے کہا کہ مجھے میرے والد یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ دفن کرنا سوائے اس کے کہ خونریزی کا خطرہ ہو، اس صورت میں آگے نہ بڑھنا بلکہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کرنا پس   حسین   اور ان کے تمام آزاد کردہ غلاموں نے اسلحہ اٹھا لیا۔ اس وقت ابو ہریرہ نے کہا کہ میں تمہیں اللہ اور تمارے بھائی کی وصیت کا واسطہ دیتا ہوں، کہ ایک قوم نے تمہیں نہیں پکارا یہاں تک کہ تم دونوں کے درمیان خون خرابہ ہوا  پس وہ وہاں سے نہ ہٹے یہاں تک کہ حسین واپس چلے گئے۔ اس موقع پر ابو ہریرہ نے ایک سوال کیا کہ اگر موسی علیہ السلام کا بیٹا آ جاتا کہ مجھے میرے باپ  کے ساتھ دفن کرو، اور انہیں منع کیا جاتا، تو کیا یہ ظلم تھا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر ابو ہریرہ نے کہا: یہ اللہ کے نبی کے فرزند تھے، اور یہ آتے تھے کہ اپنے والد کے ساتھ دفن ہوتے

اس کی سند میں حصين بن عبد الرحمن السلمي أبو الهذيل ہیں جو ثقہ ہیں لیکن اختلاط کا شکار ہو گئے تھے – کتاب الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط  از  ابن العجمي کے مطابق

وقال أبو حاتم ثقة ساء حفظه في الآخر وقال النسائي تغير وعن يزيد بن هارون وكان قد نسي وعنه أيضا أنه قال اختلط وقد أنكر علي بن عاصم اختلاطه

ابو حاتم کہتے ہیں ثقہ ہیں آخری عمر میں حافظہ خراب ہوا اور نسائی کہتے ہیں تغیر آیا اور یزید بن ہارون کہتے ہیں یہ بھول جاتے تھے اور کہا کہ اختلاط ہوا اور اس کا علی بن عاصم نے انکار کیا

بخاری نے ان سے مسدد کی روایت لی ہے  رَوَى عَنهُ مُسَدّد فِي الطِّبّ والأنبياء

بخاری خود تاریخ الکبیر میں حصين بن عبد الرحمن السلمي أبو الهذيل پر  لکھتے ہیں وكان قد نسي یہ بھول جاتے تھے

امام مسلم اور بخاری نے حصين بن عبد الرحمن السلمي أبو الهذيل کی ابی حازم کی سند سے روایت نہیں لی جبکہ ابی حازم،  ابو ہریرہ رضی الله عنہ کے خاص شاگرد ہیں – معلوم ہوتا ہے ان دونوں کے نزدیک حصين بن عبد الرحمن السلمي أبو الهذيل کی  ابی حازم سے روایت درست نہیں ہے – بلکہ حصين بن عبد الرحمن السلمي کی ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ایک بھی روایت صحیحین میں نہیں ہے- مقصد یہ ہے کہ حصين بن عبد الرحمن السلمي ثقہ ہیں لیکن ان کے اختلاط کی وجہ سے ان کی تمام مرویات صحیح نہیں ہیں

یہ روایت تاریخا بھی  صحیح نہیں

اول اگرحسن رضی الله عنہ حجرہ عائشہ رضی الله عنہا میں دفن ہونا چاہتے تھے تو انہوں نے مناسب انداز میں اس خواہش کا ذکراپنی ماں عائشہ رضی الله عنہا سے کیوں نہ کیا جس طرح عمر رضی الله عنہ نے باقاعدہ اجازت لی –

 دوم وہ ایسا کرتے بھی نہیں کیونکہ ان کی تدفین کی صورت میں حجرہ عائشہ میں خود عائشہ رضی الله عنہا کے لئے جگہ باقی  نہیں رہتی

سوم شیعہ علماء کے مطابق اور الکافی کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات  حجرہ علی میں ہوئی اور وہیں تدفین ہوئی  تو پھر اب اس روایت کو کیوں پیش کرتے ہیں ؟ کیا  طبقات ابن سعد کی روایت ان کے نزدیک الکافی سے زیادہ معتبر ہے؟

چہارم موسی علیہ السلام  کا ذکر بھی خارج محل ہے کیونکہ موسی علیہ السلام کی قبر خود معلوم نہیں کہاں ہے- یہ بات  ابو ہریرہ رضی الله عنہ کو معلوم  ہو گی کیونکہ وہ سابقہ عیسائی تھے اور توریت و انجیل کے پڑھنے والے تھے اس کا ذکر بخاری کی حدیث میں بھی ہے جس کے راوی خود ابو ہریرہ رضی الله عنہ ہیں

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ” أُرْسِلَ مَلَكُ المَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لاَ يُرِيدُ المَوْتَ، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ، فَقُلْ لَهُ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ المَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ المُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ “، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ، إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، عِنْدَ الكَثِيبِ الأَحْمَرِ»

موسی علیہ السلام نے خواہش کی کہ ان کو مرتے وقت ارض مقدس کے پاس کر دیا جائے

یہ مقام سب سے پوشیدہ ہے کہ کہاں ہے

پنجم قرآن کہتا ہے کہ محمد مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں اور راوی مسلسل حسن سے یہ کہلوا رہے ہیں کہ محمد میرے باپ – یہ خلاف قرآن ہے اور اس کا صریح انکار ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ راوی فہم قرآن سے عاری تھے- جو چیز مالک کائنات کے قول کے خلاف ہو اس کو حسن کیسے بول سکتے ہیں

ششم  اس روایت کے مطابق کوئی فساد نہ ہوا جبکہ مقاتل الطالبین کی روایات کے مطابق بہت فساد ہوا یہاں تک کہ تیر اندازی بھی ہوئی

قال يحيى بن الحسن: وسمعت علي بن طاهر بن زيد يقول: لما أرادوا دفنه ركبت عائشة بغلا واستنفرت   بني أمية مروان بن الحكم، ومن كان هناك منهم ومن حشمهم، وهو القائل:  فيوما على بغل ويوما على جمل

ایک مجھول الحال یحییٰ بن الحسن کہتا ہے کہ عائشہ اور مروان بن الحکم  نے تدفین نہ ہونے دی

مقاتل الطالبین میں دو تین اور اسناد بھی ہیں لیکن یہ بھی عیب سے خالی نہیں مجھول راویوں کے اقوال ہیں

ہفتم اب اس تیر اندازی اور فساد کے بعد نماز جنازہ کا وقت ہوا اور یہ بھی ایک  فسانہ عجائب ہے

سیر الاعلا م النبلا از امام الذھبی کے مطابق

كَانَ مَرْوَانُ يَسُبُّ عَلِيّاً -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ – فِي الجُمَعِ، فَعُزِلَ بِسَعِيْدِ بنِ العَاصِ، فَكَانَ لاَ يَسُبُّهُ

مروان، علی رضی الله عنہ پر سب و شتم کرتا تھا  لہذا سعید بن العاص رضی الله عنہ کو معزول کیا کیونکہ وہ نہیں کرتے تھے

 لیکن مقاتل الطالبین کے مطابق حسین ان کو پسند نہ کرتے تھے اور جب انہوں نے حسن کی نماز جنازہ پڑھائی تو کہا

أن الحسين بن علي قدّم سعيد بن العاص للصلاة على الحسن بن علي، وقال: تقدم فلولا أنها سنة ما قدّمتك

حسین نے سعید بن العاص کو نماز جنازہ کے لئے آگے کیا اور کہا اگر سنت نہ ہوتی تو ایسا نہ کرتا

افسوس رافضیوں کے فہم دین پر – جو شخص ان کے نزدیک مرتد ہو اس کی کیا عبادت قبول ہوتی ہے- اگر سعید بن العاص  نے نماز پڑھائی تو نماز جنازہ تو ہوئی ہی نہیں ! جھوٹوں نے روایات گھڑیں اور احمقوں نے قبول کیں – اتنا بغض حسین رضی الله عنہ کو کیوں تھا جبکہ سعید بن العاص ان کے والد پر سب و شتم تک نہ کرتے تھے یہ بھی نہیں بتایا گیا

حسین رضی الله عنہ کی شہادت یزید بن معاویہ کے دور میں ہوئی جو خلافت کا قضیہ تھا – حسین اپنی خلافت کوفہ میں قائم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ سپورٹ حاصل نہ کر پائے جو ان کی خلافت کو برقرار بھی رکھ سکے – لہذا انہوں نے اغلبا آخری لمحات میں خلافت کے ارادے کو ترک کیا اور اپنے قافلے کا رخ کوفہ کی بجائے شمال کی طرف موڑ دیا – یہاں تک کہ کوفہ سے ٤٠ میل دور کربلا پہنچ گئے اور یہی شہید ہوئے جس پر امت ابھی تک غمگین ہے

قاتلین حسین پر الله کی مار ہو

ہم تک جو خبریں آئیں ہیں ان کو جرح و تعدیل کے میزان میں پرکھنا ضروری ہے

مسند احمد ج ١ ص ٨٥ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ، فَنَادَى عَلِيٌّ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: «بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ» قَالَ: فَقَالَ: «هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا

علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس گیا تو (دیکھا) آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو ناراض کردیا ہے ؟ آپ کی آنکھوں سے آنسو کیوں بہہ رہے ہیں؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میرے پاس ابھی جبریل (علیہ السلام) اُٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا۔

سند میں عَبْدِ الله بْنِ نُجَيٍّ ہے جس کے امام بخاری فیہ نظر کہتے ہیں

اسی الفاظ سے ابن عدی کہتے ہیں من الحديث وأخباره فيها نظر اپنی حدیث اور خبر میں

فیہ نظر ہے

فیہ نظر محدثین جرح کے لئے بولتے ہیں

ایک رافضی لکھتے ہیں

جہاں تک یہ کہنا کہ فیہ نظر جرح کے لیے استعمال ہوتی ہے یہ بھی یاد رکھیں کہ جرح اگر مفسر نہ ہو، تو تعدیل کو اہمیت دی جاتی ہے یعنی آپ صرف کسی کو ضعیف بھی کہہ دیں،تو فائدہ تب ہی دے گا جب آپ وجہ بھی بیان کریں کہ کیوں ضعیف ہے۔ آیا حافظہ ٹھیک نہیں، جھوٹ بولتا ہےآخر وجہ کیا ہے اسے جرح مفسر کہتے ہیں

دیکھتے ہیں کہ کیا فیہ نظر کو جرح غیر مفسر کہا جاتا ہے

السیوطی کتاب تدريب الراوي میں وضاحت کرتے ہیں

تنبيهات الأول البخاري يطلق فيه نظر وسكتوا عنه فيمن تركوا حديثه

پہلی تنبیہ بخاری اگرکسی راوی پر فیه نظر کا اطلاق کریں اور سكتوا عنه کہیں تو مراد حدیث ترک کرنا ہے

کتاب التنكيل از الشيخ المعلمي کے مطابق

وكلمة فيه نظر معدودة من أشد الجرح في اصطلاح البخاري

اور کلمہ فیہ نظر بخاری کی شدید جرح کی چند اصطلاح میں سے ہے

اللكنوي کتاب الرفع والتكميل في الجرح والتعديل میں اس پر کہتے ہیں

فيه نظر: يدل على أنه متهم عنده ولا كذلك عند غيره

فیہ نظر دلالت کرتا ہے کہ راوی بخاری کے نزدیک متہم ہے اور دوسروں کے نزدیک ایسا نہیں

رافضی کہتے ہیں إس کو فلاں اہل سنت کے امام نے ثقہ کہا ہے! سوال ہے کیا اہل تشیع علماء میں راویوں پر اختلاف نہیں ہے اگر کوئی مجروح ہے تو کیا سب کے نزدیک مجروح ہے؟ یا ثقہ ہے تو کیا سب کے نزدیک ثقہ ہے؟

رافضی لکھتے ہیں

علامہ شوکانی نے اپنی کتاب در السحابہ، ص 297 پر لکھا کہ اس کے راوی ثقہ ہیں

شوکانی ایک وقت تھا جب زیدیہ سے تعلق رکھتے تھے اسی دور میں انہوں نے در السحابہ لکھی تھی

البانی الصحیحہ میں لکھتے ہیں

قلت: وهذا إسناد ضعيف، نجي والد عبد الله لا يدرى من هو كما قال الذهبي ولم
يوثقه غير ابن حبان وابنه أشهر منه، فمن صحح هذا الإسناد فقد وهم.

میں کہتا ہوں اس کی اسناد ضعیف ہیں نجی والد عبد الله کا پتا نہیں کون ہے جیسا کہ الذھبی نے کہا ہے اور اس کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے اور اس کا بیٹا اس سے زیادہ مشھور ہے اور جس کسی نے بھی اس کی تصحیح کی اس کو اس پر وہم ہے

البانی اس کے بعد اس کی چھ اسناد دیتے ہیں اور ان پر جرح کرتے ہیں اور آخر میں اس روایت کوصحیح (لغیرہ) بھی کہہ دیتے ہیں

کتاب أعيان الشيعة – السيد محسن الأمين – ج 4 – ص ٥٣ پر ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے شیعہ عالم محسن آمین لکھتے ہیں

قلت إنما رواه عن علي رجل مجهول يقال له عبد الله بن نجي

،میں کہتا ہوں اس کو علی سے ایک مجھول شخص نے روایت کیا ہے جس کو عبد الله بن نجی کہا جاتا ہے

محسن امین کی بات صحیح ہے کہ اہل تشیع کے ہاں یہ مجھول ہے اس کا ترجمہ تک معجم رجال الحديث از الخوئی میں نہیں

مسند احمد کی روایت ہے

عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے، آپ کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی ۔ میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے ، میں اسے صبح سے اکٹھا کررہا ہوں

اسکی سند کا راوی عمار بن أبي عمار مولى بني هاشم مختلف فیہ ہے کتاب اکمال مغلطائی میں ہے

وقال البخاري: أكثر من روى عنه أهل البصرة…و لا یتابع علیہ

ابن حبان مشاہیر میں کہتے ہیں

وكان يهم في الشئ بعد الشئ

اسکو بات بے بات وہم ہوتا ہے

ابو داود کہتے ہیں شعبہ نے اس سے روایت لی لیکن کہا

وكان لا يصحح لي

میرے نزدیک صحیح نہیں

یحیی بن سعید کہتے ہیں شعبہ نے صرف ایک روایت اس سے لی

امام مسلم نےاس سےصرف ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ میں کتنے عرصے رہے

طبرانی روایت کرتے ہیں کہ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ کہتا ہے کہ

حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ: عَنْ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ
سَمِعْتُ الجِنَّ يَبكِيْنَ عَلَى حُسَيْنٍ، وَتَنُوحُ عَلَيْهِ

ام سلمہ کو سنا میں نے ایک جن کو سنا جو حسین پر نوحہ کر رہا تھا

جبکہ ام سلمہ تو حسین کی شہادت سے پہلے وفات پا چکی ہیں

خود عمار کی ایک روایت جو صحیح مسلم میں ہے اس پر روافض جرح کرتے ہیں کہ اس میں ہے نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ میں ١٥ سال رہے اور ان میں آٹھ سال تک کسی کو نہ دیکھا صرف روشنی دیکھتے رہے

جب صحیحین پر جرح کرنی ہوتی ہے تو روافض خود عمار بن ابی عمار کی روایت پیش کر دیتے ہیں اور جب وہ جنات کی خبریں دیتا ہے تو قبول کرتے ہیں

الأمالي – الشيخ الطوسي – ص 330
أخبرنا ابن خشيش ، قال : أخبرنا الحسين بن الحسن ، قال : حدثنا محمد بن دليل ، قال : حدثنا علي بن سهل ، قال : حدثنا مؤمل ، عن حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار ، قال : أمطرت السماء يوم قتل الحسين ( عليه السلام ) دما عبيط

شیخ الطوسی روایت کرتے ہیں کہ عمار بن ابی عمار کہتا ہے کہ قتل حسین کے دن آسمان سے تازہ خون کی بارش ہوئی

خون کی بارش کا ذکر اہل سنت کی صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں ہے عمار بن ابی عمار کی یہ قصہ گوئی ہے

عمار بن ابی عمار تو مدینہ میں تھا خون کی بارش ساری دنیا میں ہوئی؟ کہاں کہاں ہوئی؟ کس کس نے بیان کیا

مدینہ کا کوئی اور شخص اس کو نقل نہیں کرتا اگر کوفہ میں ہوئی تو اس کا فائدہ اس سے تو تمام شواہد مٹ گئے کس نے قتل کیا خون جب ہر طرف ہو گا تو مقتل کا نشان باقی نہ رہا

اتنا اہم ماحولیاتی تغیر اور اس خون سے جو فقہی مسائل پیدا ہوئے اور پینے کا پانی قابل استمعال نہ رہا اس پر کتب خاموش ہیں

لیکن لوگوں کو قصے پسند ہیں سن رہے ہیں اور قبول کر رہے ہیں

تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو عمر محمد بن العباس أنا أبو الحسن أحمد بن معروف أنا الحسين بن الفهم أنا محمد بن سعد أنا محمد بن عبد الله الأنصاري نا قرة بن خالد أخبرني عامر بن عبد الواحد عن شهر بن حوشب قال أنا لعند أم سلمة زوج النبي (صلى الله عليه وسلم) قال فسمعنا صارخة فأقبلت حتى انتهيت إلى أم سلمة فقالت قتل الحسين قالت قد فعلوها ملأ الله بيوتهم أو قبورهم عليهم نارا ووقعت مغشيا عليها وقمنا

شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے پاس موجود تھا۔ میں نے حسین کی شہادت کی خبر سنی تو ام سلمہ کو بتایا ۔(کہ سیدنا حسینؓ شہید ہوگئے ہیں) انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے یہ کام کردیاہے، اللہ ان کے گھروں یا قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ اور وہ (غم کی شدت سے ) بیہوش ہوگئی

سند میں شہر بن حوشب ہے اس پر بحث آ رہی ہے

تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي إملاء ح

وأخبرنا أبو نصر بن رضوان وأبو غالب أحمد بن الحسن وأبو محمد عبد الله بن محمد قالوا أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو بكر بن مالك أنا إبراهيم بن عبد الله نا حجاج نا حماد عن أبان عن شهر بن حوشب عن أم سلمة قالت كان جبريل عند النبي (صلى الله عليه وسلم) والحسين معي فبكى فتركته فدنا من النبي (صلى الله عليه وسلم) فقال جبريل أتحبه يا محمد فقال نعم قال جبرائيل إن أمتك ستقتله وإن شئت أريتك من تربة الأرض التي يقتل بها فأراه إياه فإذا الأرض يقال لها كربلا

شہر بن حوشب کہتا ہے کہ ام سلمة رضی الله عنہا نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور حسین ان کے ساتھ تھے پس وہ روئے…جبریل نے بتایا کہ اپ کی امت اس بچے کو قتل کرے گی اور اپ چاہیں تو میں وہ مٹی بھی دکھا دوں جس پر قتل ہونگے پس اپ صلی الله علیہ وسلم کو زمین دکھائی اور اپ نے اس کو كربلا کہا

ان دونوں روایات میں کی سند میں شہر بن حوشب ہے

النَّسَائِيُّ اپنی کتاب الضعفاء والمتروكون میں کہتے ہیں : لَيْسَ بِالقَوِيِّ، قوی نہیں .

ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں: لاَ يُحْتَجُّ بِهِ، وَلاَ يُتَدَيَّنُ بِحَدِيْثِهِ اس کی حدیث ناقابل دلیل ہے.

أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ کہتے ہیں: وَلاَ يُحْتَجُّ بِهِ، اس کی حدیث نا قابل دلیل ہے .

يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ کہتے ہیں.

عَبْدِ اللهِ بنِ عَوْنٍ، قَالَ: إِنَّ شَهْراً تَرَكُوْهُ اس کو متروک کہتے ہیں

الذھبی کہتے ہیں اس کی حدیث حسن ہے اگر متن صحیح ہو اور اگر متن صحیح نہ ہو تو اس سے دور رہا جائے کیونکہ یہ ایک احمق مغرور تھا

الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء میں اس پر لکھتے ہیں

قُلْتُ: مَنْ فَعَلَهُ لِيُعِزَّ الدِّيْنَ، وَيُرْغِمَ المُنَافِقِيْنَ، وَيَتَوَاضَعَ مَعَ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ، وَيَحْمَدَ رَبَّ العَالِمِيْنَ، فَحَسَنٌ، وَمَنْ فَعَلَهُ بَذْخاً وَتِيْهاً وَفَخْراً، أَذَلَّهُ اللهُ وَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَإِنْ عُوْتِبَ وَوُعِظِ، فَكَابَرَ، وَادَّعَى أَنَّهُ لَيْسَ بِمُخْتَالٍ وَلاَ تَيَّاهٍ، فَأَعْرِضْ عَنْهُ، فَإِنَّهُ أَحْمَقٌ مَغْرُوْرٌ بِنَفْسِهِ.

اس سے سنن اربعا اور مسلم نے مقرونا روایت لی ہے

کتاب رجال صحیح مسلم از ابن مَنْجُويَه (المتوفى: 428هـ) کے مطابق

مسلم نے صرف ایک روایت کہ کھمبی ، من میں سے ہے لی ہے

تاریخ دمشق ابن عساکر کی ایک اور روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين نا أبو الحسين بن المهتدي أنا أبو الحسن علي بن عمر الحربي نا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار نا عبد الرحمن يعني ابن صالح الأزدي نا أبو بكر بن عياش عن موسى بن عقبة عن داود قال قالت أم سلمة دخل الحسين على رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ففزع فقالت أم سلمة ما لك يا رسول الله قال إن جبريل أخبرني أن ابني هذا يقتل وأنه اشتد غضب الله على من يقتله

ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی

اس کی سند میں موسى بن عقبة ہے جو ثقہ ہیں لیکن مدلس. داود مجھول ہے جس سے یہ روایت نقل کر رہے ہیں

معجم الکبیر طبرانی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ: ” إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: تُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا مِنَ الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ “. فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ تُرْبَتِهَا، فَأَرَاهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُحِيطَ بِحُسَينٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ

جبریل نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کربلا کی مٹی دکھائی اور اس کو کرب و بلا کی زمیں کہا

اس کی سند میں عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَب ہے جو مجھول ہے

طبرانی الکبیر میں قول ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ فِيمَنْ قَتَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، ثُمَّ غُفِرَ لِي، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْظُرَ فِي وَجْهِي

ابراہیم بن یزید النخعی نے فرمایا:اگر میں ان لوگوں میں ہوتا جنہوں نے حسین بن علی کو قتل (شہید) کیا، پھر میری مغفرت کردی جاتی ، پھر میں جنت میں داخل ہوتا تو میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس گزرنے سے شرم کرتا کہ کہیں آپ میری طرف دیکھ نہ لیں۔

اس کی سند میں مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ ہے – الأزدي اس کو منكر الحديث کہتے ہیں ابن حجر صدوق کہتے ہیں

اسکی سند میں سعيد بن خثيم بن رشد الهلالى ہے جس ابن حجر ، صدوق رمى بالتشيع له أغاليط شیعیت میں مبتلا اور غلطیوں سے پر ہے ، کہتے ہیں

سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، أَبُو مَعْمَرٍ الْهِلالِيُّ الْكُوفِيّ اور اس کے استاد خالد دونوں کوالازدی نے منکر الحدیث کہا ہے
دیکھئے ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين از الذھبی

راویوں کا ہر قول نہیں لیا جاتا یہی وجہ ہے ابن عدی کہتے ہیں
سعيد بن خثيم الهلالي: قال الأزدي: منكر الحديث، وقال ابن عدي: مقدار ما يرويه غير محفوظ.
بہت کچھ جو سعید روایت کرتا ہے غیر محفوظ ہے

سند میں محمد بن عثمان بن أبي شيبة بھی ہے جس کو کذاب تک کہا گیا ہے دیکھئے میزان الاعتدال
از الذھبی
عبد الله بن أحمد بن حنبل فقال: كذاب.
وقال ابن خراش: كان يضع الحديث.
وقال مطين: هو عصا موسى تلقف ما يأفكون.
وقال الدارقطني: يقال إنه أخذ كتاب غير محدث

بحر الحال اس روایت کے صحیح ہونے یا نہ ہونے سے نفس مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ یہ ابراہیم کا قول ہے کوئی حدیث رسول نہیں ہے، ان کا قتل حسین سے کوئی تعلق نہ تھا

مشخیۃ ابراہیم بن طہمان کی روایت ہے

عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِيَ فَقَالَ: «لَا يَدْخُلُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا عِنْدَهُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَإِذَا هُوَ حَزِينٌ، أَوْ قَالَتْ: يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا لَكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ أُمَّتِي تَقْتُلُ هَذَا بَعْدِي فَقُلْتُ وَمَنْ يَقْتُلُهُ؟ فَتَنَاوَلَ مَدَرَةً، فَقَالَ:» أَهْلُ هَذِهِ الْمَدَرَةِ تَقْتُلُهُ “

ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس حسین بن علی موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی

سند میں عَبد الرحمن بن إسحاق (عَبد الرحمن بن إسحاق، وَهو عباد بن إسحاق وعباد لقب مديني) ہے جس کے لئے کتاب الكامل في ضعفاء الرجال کے ابن عدی مطابق

يَحْيى بن سَعِيد، قالَ: سَألتُ عن عَبد الرحمن بن إسحاق بالمدينة فلم أرهم يحمدونه.

یحیی بن سعید کہتے ہیں عبد الرحمان بن اسحاق کے بارے میں اہل مدینہ سے سوال کیا لیکن ایسا کوئی نہ تھا جو اس کی تعریف کرے

طبقات ابن سعد کے محقق محمد بن صامل السلمي جو مكتبة الصديق – الطائف اس روایت کے لئے کہتے ہیں

إسناده ضعيف.

معرفة الصحابة از ابو نعیم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ» احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلَنَّ أَحَدٌ ” قَالَ: فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى مَنْكِبَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَإِنَّ فِي أُمَّتِكَ مَنْ يَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ، فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا، قَالَ: كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّهُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ

عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ کہتا ہے ہم سے ثابت نے بیان کیا وہ کہتے ہیں ان سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ بارش کے فرشتے نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس انے کی اجازت مانگی پس اس کو اجازت دی اس نے ام سلمہ سے کہا کہ دروازہ کی حفاظت کریں کہ کوئی داخل نہ ہو پس حسین آ گئے اور اندر داخل ہوئے اور رسول الله کے شانے پر بیٹھ بھی گئے تو فرشتہ بولا کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں رسول الله نے کہا ہاں فرشتہ بولا اپ کی امت میں سے کچھ اس کا قتل کر دیں گے اور اگر آپ چاہیں تو اس مکان کو دکھا دوں جہاں یہ قتل ہونگے اس نے ہاتھ پر ضرب لگائی اور سرخ مٹی آپ نے دیکھی جس کو ام سلمہ نے سمیٹ کر اپنے کپڑے میں رکھا کہا ہم سنتے تھے کہ یہ کربلا میں قتل ہونگے

سند میں عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ہے جس کو محدثین ضعیف کہتے ہیں الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

قال البخاري: ربما يضطرب في حديثه.
وقال أحمد: له مناكير.
وقال أبو حاتم: يكتب حديثه ولا يحتج به.
وقال الدارقطني: ضعيف.
وقال أبو داود: ليس بذاك.
وقال أبو زرعة: لا بأس به.

البانی نے بھی اس کی روایت کو ضعیف کہا ہے مثلا ایک دوسری روایت پر الصحیحہ ج 5 ص ١٦٦ میں لکھتے ہیں

قلت: وهذا إسناد ضعيف
، عمارة بن زاذان صدوق سيء الحفظ

میں کہتا ہوں اس کی اسناد ضعیف ہیں اس میں عمارة بن زاذان ہے جو صدوق برے حافظہ والا ہے

اس مخصوص کربلا والی روایت کو البانی الصحیحہ میں ذکر کرتے ہیں

قلت: ورجاله ثقات غير عمارة هذا قال الحافظ: ” صدوق كثير الخطأ “. وقال
الهيثمي: ” رواه أحمد وأبو يعلى والبزار والطبراني بأسانيد وفيها عمارة بن
زاذان وثقه جماعة وفيه ضعف وبقية رجال أبي يعلى رجال الصحيح “.

میں کہتا ہوں اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے عمارہ کے ابن حجر کہتے ہیں صدوق ہے غلطیاں کرتاہے اور ہیثمی کہتے ہیں اس کو امام احمد ابو یعلی البزار اور الطبرانی نے جن اسانید سے روایت کیا ہے ان میں عمارہ ہے جن کو ایک جماعت نے ثقہ کہا ہے اور اس میں کمزوری ہے اور باقی رجال ابی یعلی کے رجال ہیں

البانی مبہم انداز میں اس کو رد کر رہے ہیں لیکن التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه میں کھل کراس روایت کی تعلیق میں لکھتے ہیں

صحيح لغيره

جبکہ دوسری تمام روایات کا ضعیف ہونا اوپر واضح کیا گیا ہے لہذا یہ صحیح الغیرہ نہیں ضعیف ہے

ام سلمہ رضي الله عنہا کي اوپر دي تمام احاديث ضعيف ہيں کيونکہ ان کي وفات حسين کي شہادت سے پہلے ہو گئي تھي
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْنِي فِي المَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ ، قَالَ: “شَهِدْتُ قَتْلَ الحُسَيْنِ آنِفًا” هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

سلمی سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ وزاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہے . کا سر اور ریش مبارک گرد آلود تھی.میں نے عرض کی ، یارسول ،آپ کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ رسول الله نے فرمایا: میں نے ابھی ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے

ترمذی اور مستدرک الحاکم میں یہ روایت نقل ہوئی ہے

اس کی سند میں سَلْمَى الْبَكْرِيَّةِ ہیں

تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں مبارکپوری لکھتے ہیں

هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ لِجَهَالَةِ سَلْمَى

سَلْمَى کے مجھول ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے

کتاب مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے مطابق

وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ

اور ام سلمہ کی وفات ٥٩ ھ میں ہوئی

تاریخ کے مطابق حسین کی شہادت سن ٦١ ہجری میں ہوئی

ام سلمہ رضی الله عنہا کی وفات

ایک رافضی لکھتے ہیں

اب مستند روایات تو یہ کہہ رہی ہے کہ بی بی ام سلمہ اس وقت موجود تھیں، اور یہ ناصبی یہ ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ جناب وہ تو پہلے انتقال کر چکی تھیں

ڈھول ہم ہی نہیں شیعان بھی پیٹ رہے ہیں دیکھیں اور وجد میں آئیں

المعارف از ابن قتیبہ کے مطابق

وتوفيت «أم سلمة» سنة تسع وخمسين، بعد «عائشة» بسنة وأيام.

ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں عائشہ کے ایک سال بعد یا کچھ دن بعد وفات ہوئی

کتاب جمل من أنساب الأشراف از أحمد بن يحيى بن جابر بن داود البَلَاذُري (المتوفى: 279هـ) کے مطابق
وتوفيت أم سلمة فِي شوال سنة تسع وخمسين، ودفنت بالبقيع
ام سلمہ کی وفات شوال ٥٩ ھ میں ہوئی اور بقیع میں دفن ہوئیں

طبقات ابن سعد کے مطابق واقدی کہتا ہے ام سلمہ رضی الله عنہا کی وفات ٥٩ ھ ہے
طبقات ابن سعد ” 4 / 340، 341

ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جو خود حسین سے پہلے انتقال کر گئے

ابن قتیبہ واقدی اور البَلَاذُري کے لئے کہا جاتا ہے کہ ان کا میلان شیعیت کی طرف تھا حسن اتفاق ہے ان سب کا ام سلمہ کی وفات پر اجماع ہے کہ وہ ٥٩ ھ میں حسین سے پہلے وفات پا چکی ہیں

کتاب تلقيح فهوم أهل الأثر في عيون التاريخ والسير از ابن جوزی کے مطابق
فَتزَوج رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أم سَلمَة فِي لَيَال بَقينَ من شَوَّال سنة أَربع وَتوفيت سنة تسع وَخمسين وَقيل سنة ثِنْتَيْنِ وَسِتِّينَ وَالْأول أصح

پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا سن 4 ھ میں شوال میں کچھ راتیں کم اور ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور کہا جاتا ہے سن ٦٢ ھ میں اور پہلا قول صحیح ہے

ابن حبان ثقات میں کہتے ہیں
وَمَاتَتْ أم سَلمَة سنة تسع وَخمسين
ام سلمہ ٥٩ ھ میں وفات ہوئی

الباجی کہتے ہیں کتاب التعديل والتجريح , لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح
توفيت فِي شَوَّال سنة تسع وَخمسين فصلى عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَ

ان کی وفات شوال سن ٥٩ ھ میں ہوئی ابو ہریرہ نے نماز پڑھائی

الذھبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

وَقَالَ بَعْضُهُمْ: تُوُفِّيَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ، وَهُوَ غَلَطٌ، لِأَنَّ فِي «صَحِيحِ مُسْلِمٍ» أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي خِلافَةِ يَزِيدَ
اور بعض نے کہا ان کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور یہ غلط ہے کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ عبد الله بن صفوان ان کے پاس داخل ہوا یزید کی خلافت کے دور میں

اسی کتاب میں [حَوَادِثُ] سَنَة تسع وخمسين میں الذھبی لکھتے ہیں
وَيُقَالُ: توفيت فِيهَا أم سلمة، وتأتي سَنَة إحدى وستين
اور کہا جاتا ہے کہ اس میں ام سلمہ کی وفات ہوئی اور آگے آئے گا کہ سن ٦١ ھ میں ہوئی

یہ الذھبی کی غلطی ہے صحیح مسلم کی معلول روایت میں ہے کہ راویوں نے ان سے ابن زبیر کے دور میں پوچھا جو ٦٤ ھ سے شروع ہوتا ہے

ابن اثیر الکامل میں لکھتے ہیں
وَمَاتَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ، وَقِيلَ: بَعْدَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اور ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور کہا جاتا ہے حسین کے قتل کے بعد ہوئی

ابن کثیر البداية والنهاية میں لکھتے ہیں
وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فِي ذِي الْقِعْدَةِ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ
البیہقی نے روایت کیا ہے کہ ام سلمہ کی وفات ذیقعدہ سن ٥٩ ھ میں ہوئی
اسی کتاب میں ابن کثیر لکھتے ہیں
قَالَ الْوَاقِدِيُّ: تُوُفِّيَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ وَصَلَّى عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَةَ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ: تُوُفِّيَتْ فِي أيَّام يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
قُلْتُ: وَالْأَحَادِيثُ الْمُتَقَدِّمَةُ فِي مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا عَاشَتْ إِلَى مَا بَعْدَ مَقْتَلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

واقدی کہتا ہے ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی ابو ہریرہ نے نماز پڑھائی
ابن ابی خیثمہ کہتا ہے ان کی وفات یزید کے دور میں ہوئی
میں کہتا ہوں اور شروع کی احادیث جو مقتل حسین کے بارے میں ہیں ان سے دلالت ہوتی ہے کہ یہ ان کے قتل کے بعد بھی زندہ رہیں

قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ام سلمہ کی وفات کے حوالے سے موقف ان روایات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بدلا گیا جبکہ یہ خود تاریخ کے مطابق غلط ہیں

ایک رافضی جھوٹ کھلتا دیکھ کر اس قدر گھبرا کر لکھتے ہیں

اب یہ مستند روایت بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ بی بی ام سلمہ امام حسین کی شہادت کے وقت موجود تھیں۔ کسی کو اگر اس پر اعتراض ہے، تو اسے کوئی مستند روایت پیش کرنی ہو گی جو یہ ثابت کر سکے کہ ان کا اس وقت انتقال ہو چکا تھا۔ صرف مولویوں کی رائے پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں

لیکن خود اوپر دی گئی احادیث کی تصحیح کے لئے خود مولویوں شیخ شعیب الارناؤط ، احمد شاکر ، البانی کے اقوال پیش کرتے ہیں

ابن قتیبہ واقدی اور البَلَاذُري کے لئے کہا جاتا ہے کہ ان کا میلان شیعیت کی طرف تھا حسن اتفاق ہے ان سب کا ام سلمہ کی وفات پر اجماع ہے کہ وہ ٥٩ ھ میں حسین سے پہلے وفات پا چکی ہیں

ام۔ سلمہ کی وفات کی خبر سند سے ھی ان مورخین نے بیان کی ھ

ہماری نہیں تو اپنے شیعوں کی ہی مان لیں

خیران کےلینے اور دینے کے باٹ الگ الگ ہیں

خود ہی غور کریں اور عقل سلیم استعمال کریں

ام سلمہ خواب میں دیکھتی ہیں یا جن بتاتا ہے- کتنے راوی ان کی حالت نیند میں ان کے پاس ہی بیٹھے ہیں! ام المومنین پر جھوٹ بولنے والوں پر الله کی مار

ام المومنین کی خواب گاہ میں یہ منحوس داخل کیسے ہوئے؟

قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں – اسناد دین ہیں لہذا محدثین کی جرح کو قبول کرنا چاہیے -نہ کہ محبوب راویوں کو بچانے کے چکر میں تاریخ کو ہی مسخ کر دیا جائے

بہت سے محققین نے ان روایات کو صحیح کہا ہے مثلا البانی صاحب اور صرف ثقاہت کے الفاظ نقل کیے ہیں اس صورت میں یہ روایات صحیح سمجھی جاتی ہیں لیکن اس قدر جھوٹ آپ دیکھ سکتے ہیں ام سملہ سو رہی ہیں راوی ان کے پاس بیٹھے ہیں ان کو جن بتاتے ہیں وہ خواب میں دیکھتی ہیں وغیرہ وغیرہ

یہ راوی حسین کے ساتھ کوفہ کیوں نہ گئے کیا امام وقت کی مدد ان پر فرض نہ تھی؟

عیسائی عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ انسانیت کے گناہوں کی وجہ سے جان بوجھ کر سولی چڑھا کچھ اسی نوعیت کا عقیدہ ان راویوں نے بھی پیش کیا ہے کہ حسین کو خبر تھی وہ کوفہ میں قتل ہونگے اور وہ خود وہاں چل کر گئے- ظاہر ہے اسلام میں خودکشی حرام ہے اور اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کی کربلا میں شہادت کی خبر دے دی تھی اور وہ اس کو جانتے ہوئے بھی وہاں گئے

بلکہ ان سب خبروں کے باوجود علی نے مدینہ چھوڑ کر کربلا کے پاس جا کر اپنا دار الخلافہ بنایا

الکافی کی روایت ہے

[5115] 7 – الكليني، عن علي، عن أبيه، عن ابن محبوب، عن عبد الله بن سنان قال سمعت أبا عبد الله (عليه السلام) يقول: ثلاث هن فخر المؤمن وزينة في الدنيا والآخرة: الصلاة في الليل ويأسه مما في أيدي الناس وولايته الامام من آل محمد (صلى الله عليه وآله وسلم). قال: وثلاثة هم شرار الخلق ابتلى بهم خيار الخلق: أبو سفيان أحدهم قاتل رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) وعاداه ومعاوية قاتل عليا (عليه السلام) وعاداه ويزيد بن معاوية لعنه الله قاتل الحسين بن علي (عليهما السلام) وعاداه حتى قتله (1).

امام جعفر الصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تین چیزیں مومن کے لیے دنیا و آخرت میں زینت ہیں: رات کو نماز پڑھنا، جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے، اس سے دوری رکھنا، اور اہل بیت کے امام کی ولایت۔ اور تین ایسے شریر ترین لوگ ہیں کہ جن سے سب سے بہترین لوگوں کا ابتلا/آزمائش میں ڈالا گیا: ابو سفیان کے جس نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے جنگ کی اور دشمنی رکھی، معاویہ کہ جس نے علی سے جنگ کی، اور دشمنی رکھی، اور یزید جس پر اللہ کی لعنت ہو، حسین سے لڑا، ان سے دشمنی رکھی حتی کہ قتل کر دیا

اس روایت کے راوی عبد الله بن سنان بن طریف کے لئے النجاشی لکھتے ہیں

9 – عبد الله بن سنان بن طريف :
قال النجاشي : ” عبد الله بن سنان بن طريف مولى بني هاشم ، يقال مولى
بني أبي طالب ، ويقال مولى بني العباس . كان خازنا للمنصور والمهدي والهادي
والرشيد ، كوفي ، ثقة ، من أصحابنا ، جليل لا يطعن عليه في شئ ، روى عن أبي
عبد الله ( عليه السلام ) ، وقيل روى عن أبي الحسن موسى ، وليس بثبت . له كتاب
الصلاة الذي يعرف بعمل يوم وليلة ، وكتاب الصلاة الكبير ، وكتاب في سائر
الأبواب من الحلال والحرام ، روى هذه الكتب عنه جماعات من أصحابنا لعظمه
في الطائفة ، وثقته وجلالته .

عبد الله بن سنان بن طريف مولى بني هاشم بنی ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کہا جاتا ہے بنو عباس کے آزاد کردہ غلام تھے اور یہ عباسی خلیفہ المنصور کے المہدی کے الہادی کے اور الرشید کے خزانچی تھے کوفی اور ثقہ تھے قابل قدر ہمارے اصحاب میں سے کسی نے ان کو برا نہ کہا عبد الله علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ابی حسن موسی سے اور یہ ثابت نہیں ہے ان کی ایک کتاب الصلاه ہے جو دن و رات کے عمل کے لئے جانی جاتی ہے اور کتاب الصلاه کبیر ہے

عبد الله بن سنان نے چار خلفاء کے لئے کام کیا لیکن اس نام کے شخص کا تاریخ میں ذکر نہیں ملتا لیکن شیعہ روایات ایسی ہی ہیں

المنصور کا دور ١٣٦ ہجری سے شروع ہوتا ہے اور ہارون الرشید کا دور ١٩٢ ہجری پر ختم ہوتا ہے

جو شخص چار خلفاء کے لئے ایک اہم عہدے پر ہو اور اس کا ذکر تاریخ میں نہ ہو تو اس کو کیا کہا جائے

اثنا العشری شیعوں کا کہنا ہے کہ بنو عبّاس ان پر ظلم کرتے تھے لیکن یہاں تو خود ان کے مطابق عبد الله بن سنان ان کے خزانچی تھے جو الکافی کے راوی ہیں؟

سوچیں اور سبائی سوچ سےنکلیں

الله حسین پر اور ان کی ال پر رحم کرے

المہدی کے لئے لشکر کشی کرنے والوں   کو   ایک نشانی   بتائی  گئی ہے جس کے مطابق    سورج  اور چاند کاگرہن اور المہدی کا خروج  ساتھ ساتھ ہو گا –

سنن دارقطنی کی روایت ہے

حدثنا أبو سعيد الأصطخري ثنا محمد بن عبد الله بن نوفل ثنا عبيد بن يعيش ثنا يونس بن بكير عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علي قال : إن لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السماوات والأرض تنكسف القمر لأول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه ولم تكونا منذ خلق الله السماوات والأرض

محمد بن علی کہتے ہیں بے شک ہمارے مہدی کے لئے دو نشانیاں ہیں جو واقع نہیں ہوئیں جب سے زمین و آسمان خلق ہوئے،  چاند کا   گرہن   رمضان کی  پہلی رات اور سورج کا گرہن  اس کے  بیچ میں  اور ایسا نہیں ہوا جب سے الله نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا

اس طرح کی ایک بات نعیم بن حماد نے کتاب الفتن میں بھی نقل کی ہے

الوليد قال بلغني عن كعب أنه قال يطلع نجم من المشرق قبل خروج المهدي

الوليد کہتا ہے مجھ تک کعب الاحبار سے یہ بات پہنچی کہ ستارہ مشرق سے طلوع ہو گا  مہدی کے خروج سے پہلے

کعب الاحبار ایک سابقہ یہودی تھے اور ان کی یہ  بات بائبل کی انبیاء کی  یوائل کی  کتاب میں ہے

Joel 2:31

 The sun shall be turned to darkness, and the moon to blood before the great and awesome day of the LORD comes.

سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند سرخ الله کے اس عظیم اور ہیبت ناک دن سے پہلے

Joel 2:10  The earth quakes before them; the heavens tremble.

              The sun and the moon are darkened, and the stars withdraw their shining.

زمین لرزے گی اور آسمان ڈگمگائے گا

سورج اور چاند تاریک ہو جائے گا

ستارے بے نور ہو جائیں گے

یہودی ان آیات سے اپنے مسیح کے خروج پر استنباط کرتے ہیں کہ سورج و چاند کو گرہن لگے گا

یہ بات اسلامی کتب میں المہدی کے لئے پیش کی جاتی ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ یہودی کہانی تھی جو مسلمانوں میں پھیلا دی گئی

سنن دارقطنی کی سند میں جابر بن یزید الجعفی ہے جو یہ بات محمد بن حنفیہ سے منسوب کرتا ہے جو علی رضی الله عنہ کے بیٹے تھے

مُجَالِدُ بنُ سَعِيْدِ بنِ عُمَيْرِ بنِ بِسْطَامَ الهَمْدَانِيُّ یہ بات مشھور کرتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو تورات پڑھنے سے منع کیا تھا مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكُتُبِ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ وَقَالَ: «أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا، مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي

جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ  عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ اپنے باتھوں میں اہل کتاب کی کوئی تحریر لے کر آئے ہے نبی صلی الله علیہ وسلم کے سامنے اس کو پڑھا اپ صلی الله علیہ وسلم غضب ناک ہوئے اور فرمایا کہ  اے ابن الخطاب! کیا تم لوگوں کو تردد اور اضطراب میں ڈالنا چاہتے ہو ۔ وہ ذات جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بے شک  میں ایک پاکیزہ چمکدارشریعت تمہارے لئے لایا ہوں  تم ان سے  سوال نہ کرو جس کی وہ  تمہیں سچی خبردیں پھر تم تکذیب کرو یا باطل کہیں اور تم تصدیق کر بیٹھو. وہ ذات جس کے باتھ میں میری جان ہے  اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کا اتباع کرتے تو تم ضرور گمراہ ہوجاتے۔

ان کا مقصد تھا کہ مسلمان ان کتابوں کو پڑھ کر ان کے گھناونے مقصد سے واقف نہ ہو سکیں لہذا ایک تو پڑھنے سے منع کرو دوسرے ان عقائد کو اسلامی مہدی سے منسلک کر دو

مزید تفصیل کے لئے پڑھیے

روایات المہدی تاریخ اور جرح و تعدیل کے میزان میں

آج کل بہت سے اہل سنت کے علماء خاص کر غیر مقلدین صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین پر سب و شتم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے  ان کے پس پردہ  شیعہ حضرات نہیں بلکہ  یہ ایک قدرتی ارتقائی عمل ہے جو چلا آ رہا ہے اور اب گل و گلزار پر اتر آیا ہے لہذا ان چہروں پر سے نقاب الٹنا ضروری ہے جو اس شجر خبیثہ کو اپنے قلم کی سیاہی سے سینچتے رہے اور اپنے نامہ اعمال سیاہ کر گئے

اہل سنت کے رافضی علماء کے پیچھے کون سے ہاتھ مخفی ہیں اس بلاگ کو پڑھ کر واضح ہو جائے گا

معاویہ رضی الله عنہ نے حجر بن عدی کا قتل کیا

مستدرک حاکم کی روایت ہے مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ کہتے ہیں معاویہ نے حجر کا قتل کروایا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: ” حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدَ الْقَادِسِيَّةَ، وَشَهِدَ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبَى سُفْيَانَ بِمَرْجِ عَذْرَاءَ، وَكَانَ لَهُ ابْنَانِ: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَتَلَهُمَا مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ صَبْرًا، وَقُتِلَ حُجْرٌ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ “

[التعليق – من تلخيص الذهبي]

5974 – سكت عنه الذهبي في التلخيص

اس کی سند میں مصعب بن عبد الله ہیں  انہوں نے هِشَامِ بنِ عُرْوَةَ اور عبد الله بن معاوية وغیرہ سے سنا ہے جو ظاہر ہے بہت بعد کے ہیں لیکن معاویہ رضی الله عنہ کی تنقیص کرنے کے لئے امام حاکم اس روایت کے اس عیب کو نہیں دیکھتے اور بیان کر دیتے ہیں ایسا کیوں؟ یہ  صحیحین پر کیسا استدراک ہے ؟

صحابی رسول حجر بن عدی کا قتل  معاویہ رضی الله عنہ نے کروایا کیا اہل سنت اس کو تسلیم کرتے ہیں؟

سلفی حضرات کتاب  الطيوريات کے حوالے بڑی رغبت سے دیتے ہیں اس میں دیکھیں کیا لکھا ہے

وقال السيوطي أيضا: وأخرج السلفي في “الطيوريات” عبد الله بن أحمد ابن حنبل، قال: «سألت أبي عن عليٍّ ومعاوية، فقال: اعلم أن عليا كان كثير الأعداء، ففتش له أعداؤه عيباً فلم يجدول، فجاؤوا إلى رجل قد حاربه وقاتلهن فأطروه كيادا منهم له

اور السیوطی نے یہ بھی کہا اور السلفی نے الطيوريات میں عبد الله بن احمد بن حنبل سے روایت کیا کہا میں نے اپنے باپ سے علی اور معاویہ کے بارے  میں پوچھا تو انہوں نے کہا جان لو کہ علی کے بہت دشمن تھے پس انہوں نے ان میں عیب تلاش کیے لیکن نہ ملے پس وہ اس شخص کے پاس گئے جو ان سے لڑتا تھا سو اپنی چال اس سے پوری کی 

یعنی معاویہ کی تعریف میں روایات گھڑیں گئیں

اس حوالے کو ابن عراق نے کتاب   تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة میں لکھا

ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا

واخرج بن الْجَوْزِيِّ أَيْضًا مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ سَأَلْتُ أَبِي مَا تَقُولُ فِي عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ فَأَطْرَقَ ثُمَّ قَالَ اعْلَمْ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ كَثِيرَ الْأَعْدَاءِ فَفَتَّشَ أَعْدَاؤُهُ لَهُ عَيْبًا فَلَمْ يَجِدُوا فَعَمَدُوا إِلَى رَجُلٍ قَدْ حَارَبَهُ فَأَطْرَوْهُ كِيَادًا مِنْهُمْ لِعَلِيٍّ فَأَشَارَ بِهَذَا إِلَى مَا اخْتَلَقُوهُ لِمُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ مِمَّا لَا أَصْلَ لَهُ وَقَدْ وَرَدَ فِي فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ لَكِنْ لَيْسَ فِيهَا مَا يَصِحُّ مِنْ طَرِيقِ الْإِسْنَادِ

مبارک پوری نے  تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں لکھا

اس حوالہ کو ابن حجر الهيتمي نے کتاب   الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة میں نقل کیا

اس حوالہ کو السفاريني  نے کتاب لوامع الأنوار البهية میں نقل کیا

ابن الجوزی کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك میں اس کی سند دیتے ہیں

أَخْبَرَنَا أبو القاسم الحريري، قَالَ: أَخْبَرَنَا أبو طالب العشاري، قال: حدّثنا أبو الحسن  الدارقطني، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو الحسين إبراهيم بن بيان الرزاد، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو سعيد الخرقي، قالَ: حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ بْنُ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ، [قَالَ:
سألت أبي] قلت: ما تقول فِي علي ومعاوية؟ فأطرق ثم قَالَ: يا بني، إيش أقول فيهما، أعلم أن عليا كان كثير الأعداء ففتش له أعداؤه عيبا فلم يجدوا، فجاءوا إلى رجل قد حاربه وقاتله فوضعوا له فضائل كيدا منهم له.

اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ ابو بکر الخلال نے خود امام احمد سے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں رائے نقل کی ہے کہ وہ  رسول الله کے رشتہ دار تھے

أخبرنا أبو بكر المروزي قال: قيل لأبي عبد الله ونحن بالعسكر وقد جاء بعض رسل الخليفة وهو يعقوب، فقال: «يا أبا عبد الله، ما تقول فيما كان من علي ومعاوية رحمهما الله؟».فقال أبو عبد الله: «ما أقول فيها إلا الحسنى رحمهم الله أجمعين

ابو بکر الخلال جب یہ کہیں کہ امام احمد رسول الله کو عرش پر بٹھائے جانے کا عقیدہ رکھنے والا کہتے تھے تو سلفی حضرات اس کو رد کر دیتے ہیں جب ابو بکر الخلال قرات عند القبر میں امام احمد کو قبر پر قرات کا قائل لکھیں تو یہ اس کو رد کر دیتے ہیں

اگر یہ حوالہ ثابت نہ تھا تو اتنے علماء کیوں اس کو نقل کرتے رہے دراصل سلفیوں  کو  ایک مصنوعی امام احمد پسند ہیں جن کو یہ اپنا ہم عقیدہ بتاتے ہیں

علی تمام صحابہ سے افضل ہیں

امام حاکم کو اوہام نہیں تغیر ہوا اس کی کیا نوعیت تھی یہ بھی دیکھیں

امام حاکم مستدرک میں حدیث لکھتے ہیں
حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الصَّفَّارُ وَحُمَيْدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ الزَّيَّاتُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِيَاضِ بْنِ أَبِي طَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُدِّمَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْخٌ مَشْوِيٌّ، فَقَالَ: «اللَّهُمُ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الطَّيْرِ» قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُمُ اجْعَلْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَةٍ، ثُمَّ جَاءَ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَةٍ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ» فَدَخَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَبَسَكَ عَلَيَّ» فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ آخِرَ ثَلَاثِ كَرَّاتٍ يَرُدَّنِي أَنَسٌ يَزْعُمُ إِنَّكَ عَلَى حَاجَةٍ، فَقَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ»
انس کہتے ہیں میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا پس ان کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ لایا گیا آپ نے دعا کی کہ اے الله اپنی خلقت میں سے سب سے محبوب بندے کو یہاں بھیج جو اس کو میرے ساتھ کھائے …. پس علی آ گئے
یہاں تک کہ الذھبی کو تذکرہ الحفاظ میں کہنا پڑا

قال الحسن بن أحمد السمرقندي الحافظ, سمعت أبا عبد الرحمن الشاذياخي الحاكم يقول: كنا في مجلس السيد أبي الحسن, فسئل أبو عبد الله الحاكم عن حديث الطير فقال: لا يصح، ولو صح لما كان أحد أفضل من علي -رضي الله عنه- بعد النبي, صلى الله عليه وآله وسلم.
قلت: ثم تغير رأي الحاكم وأخرج حديث الطير في مستدركه؛ ولا ريب أن في المستدرك أحاديث كثيرة ليست على شرط الصحة, بل فيه أحاديث موضوعة شان المستدرك بإخراجها فيه. وأما حديث الطير فله طرق كثيرة جدًّا قد أفردتها بمصنف ومجموعها هو يوجب أن يكون الحديث له أصل. وأما حديث: “من كنت مولاه … ” فله طرق جيدة وقد أفردت ذلك أيضًا.

الشاذياخي کہتے ہیں ہم سید ابی الحسن کی مجلس میں تھے پس امام حاکم سے حدیث طیر کے سسلے میں سوال کیا انہوں نے کہا صحیح نہیں ہے اور اگر صحیح ہو تو نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد علی سے بڑھ کر کوئی افضل نہ ہو گا
الذھبی کہتے ہیں میں کہتا ہوں اس کے بعد امام حاکم کی رائے میں تغیر آیا
اور انہوں نے مستدرک میں حدیث طیر کو لکھا اور اس میں شک نہیں کہ مستدرک میں کتنی ہی حدیثیں ہیں جو صحت کی شرط پر نہیں بلکہ اس میں موضوع ہیں جن سے مستدرک کی شان کم ہوئی اور جہاں تک حدیث طیر کا تعلق ہے تو اس کے  طرق بہت ہیں …… اور اس روایت کی کوئی اصل ہے

امام حاکم نے حدیث طیر کو مستدرک میں لکھا اس کی تصحیح کی اور اس طرح علی کو نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل قرار دیا

اسی قسم کی ان کی تصحیح پر ان کے قریب کے دور کے لوگوں نے ان کو رافضی کہا

یہ تغیر امام حاکم میں ایک ذہنی تبدیلی لایا ان کا موقف اہل سنت سے ہٹ کر رافضیوں والا ہوا –صاف لکھا ہوا ہے لیکن افسوس حقیقت چھپانے سے نہیں چھپ سکتی

ایک اہل حدیث عالم کہتے ہیں کہ امام حاکم نے سند دے دی ہے لہذا ان پر جرح نہیں کی جا سکتی

کیاضعیف اور موضوع روایت کو امام حاکم نے صحیح نہیں کہا ؟ انہوں نے نہ صرف سند دی بلکہ کہا شیخین کی شرط پر صحیح ہے

امام الذھبی بھی حاکم کو بچانے کے لئے لکھتے ہیں کہ حدیث طیر کا اصل ہے خوب ہے- اگر اصل ہے تو یہ کہ علی سب سے افضل تھے تو اس کو ببانگ دھل مان کیوں نہیں لیتے؟

معاویہ اس امت کے پہلے بادشاہ ہیں؟

اب اہل سنت کے ایک امام،  امام احمد – یہ بھی معاویہ رضی الله عنہ کے مخالف رہے- ان کے بقول خلافت تیس سال رہے گی لہذا اس امت میں بادشاہت کا آغاز معاویہ رضی الله عنہ سے ہوا

مسائل الإمام أحمد بن حنبل رواية ابن أبي الفضل صالح المتوفی ٢٦٦ ھ  میں ہے کہ امام احمد کے بیٹے پوچھتے ہیں

قلت وَتذهب إِلَى حَدِيث سفينة قَالَ نعم نستعمل الْخَبَرَيْنِ جَمِيعًا حَدِيث سفينة الْخلَافَة ثَلَاثُونَ سنة فَملك أَبُو بكر سنتَيْن وشيئا وَعمر عشرا وَعُثْمَان اثْنَتَيْ عشر وَعلي سِتا رضوَان الله عَلَيْهِم

میں کہتا ہوں اور (کیا) آپ  حدیث سفینہ پر مذھب لیتے ہیں امام احمد نے کہا ہاں

خلافت معاویہ رضی الله عنہ سے پہلے ہی ختم ہوئی یہ امام احمد کا قول ہے – بہت خوب یہ تعریف ہے؟

امام نسائی نے باقاعدہ علی رضی الله عنہ کے فضائل پر کتاب لکھی اور جب ان سے معاویہ کی فضیلت پر راویات پوچھ گئی تو انہوں نے کہا الله اس کا پیٹ نہ بھرے اس پر بلوا ہوا اور امام نسائی کا انتقال ہوا

ایک صحابی رسول کو کس طرح خلفاء کی لسٹ سے نکال دیا گیا- غیر مقلدین امیر المومنین معاویہ نہیں لکھ سکتے ان کو ملک معاویہ لکھنا چاہیے – لیکن دوغلی پالیسی پر عمل کرتے رہیں معاویہ اس امت کے بادشاہ تھے جو امیر المومنین تھے خلیفہ تھے اس حدیث کا ضعیف ہونا ظاہر ہے لیکن اس پر مذھب ہونے کے باوجود معاویہ رضی الله عنہ کو بادشاہ نہیں کہتے کیوں؟

اس افراط سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ تھا کہ صحابہ کی عدالت کو تسلیم کیا جائے  لیکن اہل سنت افراط کا شکار ہوئے اور اب روافض اور بعض غیر مقلدین میں کوئی فرق نہیں

انا للہ و انا الیہ راجعون

محدثین کی اس گمراہی سے ہم برات کا اظہار کرتے ہیں ان کے تغیرات و اوہام یا غفلۃ  یا کسی اور مذھب پر ہم اپنا عدل صحابہ کا نظریہ نہیں بدل سکتے

یزید بن معاویہ کی روایت رد کرو

یزید بن معاویہ کے لئے ابن حجر کتاب لسان المیزان میں لکھتے ہیں

يزيد” بن معاوية بن أبي سفيان الأموي روى عن أبيه وعنه ابنه خالد وعبد الملك بن مروان مقدوح في عدالته وليس بأهل ان يروي عنه وقال أحمد بن حنبل لا ينبغي أن يروي عنه انتهى وقد وجدت له رواية في مراسيل أبي داود ونبهت عليها في النكت على الأطراف وأخباره

یزید بن معاویہ بن ابی سفیان اموی اپنے باپ سے روایت کرتا ہے اور اس سے اس کا بیٹا خالد اور عبد الملک بن مروان – عدالت میں مقدوح ہے اور اس قابل نہیں کہ اس سے روایت کیا جائے اور احمد بن حنبل کہتے ہیں اس سے روایت نہیں لینی چاہیے انتھی اور میں نے مراسیل ابو داود میں اس کی روایت پائی اور اس پر النکت علی  میں خبردار کیا ہے

خبردار کر رہے ہیں کہ غلطی ہو چکی ہے کسی احمق نے مراسیل میں یزید بن معاویہ سے روایت لے لی ہے بہت خوب جس کی صحابہ نے بیعت کی  محدثین نے امیر المومنین لکھا امام احمد کے نزدیک مقدوح عدالت ہوا

کتاب موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله
از  السيد أبو المعاطي النوري – أحمد عبد الرزاق عيد – محمود محمد خليل کے مطابق

وقال مهنى بن يحيى: سألت أحمد عن يزيد بن معاوية؟ قال: هو هو الذي فعل بالمدينة ما فعل، قلت: وما فعل؟ قال: نهبها. قلت: فيذكر عنه الحديث؟ قال: لا يذكر عنه الحديث، ولا ينبغي لأحد أن يكتب عنه حديثًا. قلت: ومن كان معه حين فعل ما فعل؟ قال: أهل الشام، قلت: وأهل مصر؟ قال: لا، إنما كان أهل مصر في أمر عثمان رضي الله عنه. «بحر الدم» (1180) .

مهنى بن يحيى: کہتے ہیں میں نے امام احمد سے یزید بن معاویہ کے بارے میں پوچھا کہا یہ وہی ہے جس نے مدینہ میں جو چاہا کیا میں نے کہا اس نے ایسا کیا کیا ؟ بولے اس کو پامال کیا میں نے کہا کیا اس سے حدیث ذکر کی جائے؟ بولے نہیں اس کی حدیث ذکر نہیں کی جائے گی میں نے کہا اور وہ جو اس کے ساتھ اس افعال میں تھے کہا اہل شام میں نے پوچھا اور اہل مصر ؟ بولے نہیں مصر والے تو عثمان کے امر میں تھے

اسی کتاب میں امام احمد کا قول ہے

قال عبد الله بن أحمد: حدثني أبي. قال: حدثنا أبو بكر. قال: لم يبايع ابن

الزبير، ولا حسين، ولا ابن عمر، يزيد بن معاوية في حياة معاوية. قال: فتركهم معاوية. «العلل» (4748

عبد الله کہتے ہیں میرے باپ امام احمد نے کہا کہ ابو بکر نے کہا کہ نہ  ابن زبیر اور نہ حسین اور نہ ابن عمر نے یزید بن معاویہ کی معاویہ کی زندگی میں بیت کی بولے پس معاویہ نے ان کو ترک کر دیا

بخاری اس کے برعکس بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر نے الله کے لئے یزید بن معاویہ کی بیعت کی اور کہا میں کوئی عذر نہیں جانتا جس پر اس شخص کی بیعت توڑ دوں

دوسری طرف امام احمد کا یہ قول کہ سب معاویہ سے دور رہے بھی صحیحین کی روایت کو مسخ کر رہا ہے

 یزید بن معاویہ کے بارے میں قول طبقات الحنابلہ میں بھی موجود ہےاور  کہا جاتا ہے کہ مہنا بن یحیی نے ٤٣ سال امام احمد کے ساتھ گزارے

أبو عبد الله مهنا بن يحيى الشامي السلمي، من كبار أصحاب الإمام أحمد، لزمه 43 سنة، وكان الإمام أحمد يكرمه، ويعرف له حق الصحبة، ورحل معه إلى عبد الرزاق، وصحبه إلى أن مات، ومسائله أكثر من أن تحد من كثرتها، وكتب عنه عبد الله بن أحمد مسائل كثيرة عن أبيه لم تكن عند عبد الله أبيه ولا عند غيره

طبقات الحنابلة (1/345)، ميزان الاعتدال (4/197)، المقصد الارشد (3/43).

امام احمد کے اس قول کی سند طبقات حنابلہ میں ہے

أَخْبَرَنِي بركة الدلال أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيم بْن عبد العزيز حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مهنا قَالَ: سألت أَحْمَد عَنْ معاوية بْن أبي سفيان فقال: له صحبة فقلت: ومن أين هو قَالَ: مكي قطن الشام.   حَدَّثَنَا مهنا قَالَ: سألت أَحْمَد عَنْ يَزِيد بْن معاوية فقال: هو الذي فعل بالمدينة ما فعل قلت: وما فعل قَالَ: نهبها قلت: فيذكر عنه الحديث قَالَ: لا تذكر عنه الحديث ولا ينبغي لأحد أن يكتب عنه حديثا قلت: ومن كان معه بالمدينة حين فعل ما فعل قَالَ: أهل الشام قلت: وأهل مصر قَالَ: لا إنما كان أهل مصر فِي أمر عثمان.

اس حوالے کو جرح و تعدیل کی کتابوں میں لکھا جاتا ہے الذھبی نے لکھا ہے ابن حجر نے لکھا ہے اور حنابلہ تو بڑے شوق سے اس کو بیان کرتے ہیں

امیر یزید کے حوالے سے اہل حدیثوں کا  بھی خبث باطن چھلکتا رہتا ہے مثلا

زبیر علی زئی لکھتا ہے

 یزیدکے بارے میں سکوت کرنا چاہیے،حدیث کی روایت میں وہ مجروح راوی ہے۔(ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 6 ، صفحہ8 )

زبیر-یزید٢

مزید گل فشانی کرتے ہوئے زبیر علی زئی لکھتے ہیں

جب صحابی رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ یزید شرابی ہےاور نمازیں بھی ترک کردیتا ہے تو صحابی کے مقابلے میں تابعی کی بات کون سنتا ہے؟(ماہنامہ اشاعۃ الحدیث،شمارہ نمبر107،صفحہ 15)

زبیر-یزید

حدیث کی روایت میں  امیر یزید کو مجروح کہتے والا پہلے شخص امام احمد ہیں جن کی تقلید میں یہ کہا جا رہا ہے

زبیر علی زئی کا دوغلا پن بھی دیکھیں روایت کو ایسے بیان کیا کہ صحیح ہو سب کہنے کے بعد اس کے رد میں کچھ نہ لکھا اور یہ کہہ کر باب بند کیا کہ روایت ثابت نہیں اگر ثابت نہیں تو اس کا رد کہاں ہے

زبیر زئی لکھتا ہے

یزید-زبیر3

یزید-زبیر4

یعنی یزید کی مخالفت میں ضعیف سے ضعیف روایت بھی حسن و صحیح ہے اور ان کی تضعیف کرنے والا ناصبی ہے

کیا خوب علمی بصیرت پائی ہے

ایک مقام پر زبیر زئی کہتا ہے کہ یزید کا تارک صلوہ ہونا ثابت نہیں اور دوسرے مقام پر کہتا ہے کہ

ایسے لوگ آئیں گے جو نماز ضائع کر دیں گے اور ابن کثیر اس کو یزید کے لئے کہتا ہے

زیادہ ضعیف حدیثیں پڑھنے سے یہی ہوتا ہے کہ انسان کو خود یاد نہیں رہتا کہ کیا ضعیف تھا اور کیا صحیح تھا

أبو الحسن، محمد بن الحسين بن موسى، ويلقب بالشريف الرضي نے اس کتاب کو لکھا ہے جن کی وفات ٤٠٦ ہجری میں ہوئی یہ محمود غزنوی، حکومت آل بویہ، شیخ صدوق، حکیم فردوسی، شیخ طوسی اور اپنے بھائی سید شریف مرتضی کے ہم عصر تھے۔ یعنی کتاب چوتھی سے پانچویں صدی میں لکھی گئی ہے یہ علی رضی الله عنہ کی تقاریر کا مجموعہ ہے جس میں عربی کے وہ الفاظ استمعال ہوئے ہیں جو علی رضی الله عنہ کے دور میں نہیں بولے جاتے تھے شیعہ حضرات اس کی تاویل کرتے ہیں کہ شریف رضی نے بلاغت کو ملحوظ رکھا ہے یعنی الفاظ تبدیل کیے گئے

کتاب کے مضامین میں ابو بکر اور عمر اور عثمان پر تبرا بھیجنا ان کے نقص نکال کر بتانا عام ہے

کہا جاتا ہے کہ یہ  کتاب تیسری صدی کی ہے ! جو بندہ پیدا ہی ٣٥٩ ھ میں ہو وہ تیسری صدی کا کیسے ہو گیا ؟ اس طرح یہ شیعوں کو دھوکہ دیتے ہیں

علي رضی الله عنہ کوفہ گئے تو نہ صرف ان کے مصری اور کوفی شیعہ ان کے ساتھ بلکہ سبائی لوگ اور اصحاب رسول بھی تھے یہ سب ایک مجموعہ تھا جس میں اپنے اپنے منہج کے مطابق لوگ علی کے حمایتی تھے یہ سب ایک ارتقاء سے گزر رہے تھے

علی خلیفہ ہوئے تو اصحاب رسول ان کی بطور خلیفہ اطاعت کر رہے تھے
سبائی اپنے رب کی اطاعت کر رہے تھے
شیعہ اپنے امام کی اطاعت کر رہے تھے
خوارج بھی تھے جو ابھی بدکے نہیں تھے

یہ ایک بہت بڑا مختلف الخیال گروہ تھا جس میں صرف علی پسندیدہ تھے خود علی کو اس گروہ کی پیچیدگیوں کا شاید علم نہ تھا
آہستہ آہستہ اس گروہ کو اپس کے فکری تضاد کا احساس ہوتا رہا اور لوگ علی سے اختلاف کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اکیلے رہ گئے
اس دور میں علی نے کیا کہا اس کو ریکارڈ کرنے والے ہی مجھول تھے
سب سے مستند الکافی کی ہر دوسری روایت میں مجھول راوی ہیں جن کا شیعہ محققین کو بھی نہیں پتا کہیں نام ہے کہیں بہت سے اصحاب لکھا ہے

الغرض یہ کتاب ثابت نہیں ہے

الذھبی سیر الآعلام النبلاء میں کہتے ہیں
قُلْتُ: هُوَ جَامعُ كِتَابِ (نَهْجِ البلاغَة) ، المنسوبَة أَلفَاظُه إِلَى الإِمَامِ عَلِيّ – رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -، وَلاَ أَسَانيدَ لِذَلِكَ، وَبَعْضُهَا بَاطِلٌ، وَفِيْهِ حقٌّ، وَلَكِن فِيْهِ مَوْضُوْعَاتٌ حَاشَا الإِمَامَ مِنَ النُّطْقِ بِهَا، وَلَكِنْ أَيْنَ المُنْصِفُ؟! وَقِيْلَ: بَلْ جَمْعُ أَخِيْهِ الشَّرِيْف الرَّضي
میں کہتا ہوں یہ کتاب نہج البلاغہ کے جامع ہیں جس کے الفاظ منسوب ہیں امام علی رضی الله عنہ سے اس کی سندیں نہیں ہیں اور بعض باطل ہے اور اس میں حق بھی ہے لیکن گھڑی ہوئی روایات ہیں جو امام نے کہیں ہوں حاشا للہ لیکن مصنف کہاں ہے ؟ بلکہ کہا جاتا ہے اس کو تالیف ان کے بھائی شریف رضی نے کیا ہے

کتاب تذكرة الحفاظ میں کھلے الفاظ میں الذھبی ، شریف مرتضی کے لئے کہتے ہیں
وعالم الإمامية أبو طالب علي بن الحسين بن موسى الحسيني الشريف المرتضى واضع كتاب نهج البلاغة
اور امامیہ کے عالم شریف مرتضی کتاب نہج البلاغہ کو گھڑنے والا

کہتے ہیں

کتاب تاریخ الاسلام میں الذہبی لکھتے ہیں
قلتُ: وقد اختلف في كتاب ” نهج البلاغة ” المكذوب على عليّ عليه السّلام، هل هو وَضْعه، أو وضع أخيه الرَّضِيّ
میں کہتا ہوں اس میں اختلاف ہے کہ کتاب نہج البلاغہ کو مکذوب علی پر ہے اس کو شریف رضی یا اس کے بھائی نے گھڑا

کتاب وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان از ابن خلکان میں الشريف المرتضى (جو شریف رضی کے بھائی تھے )کے ترجمہ میں لکھا ہے
وقد قيل: إنه ليس من كلام علي، وإنما الذي جمعه ونسبه إليه هو الذي وضعه، والله أعلم
اور کہا جاتا ہے یہ کلام علی کا نہیں ہے اور اس نے اس کو جمع کیا اور منسوب کیا اور اس کو گھڑا الله کو پتا ہے

لسان المیزان میں ابن حجر الشريف المرتضى المتكلم الرافضي المعتزلي کے لئے لکھتے ہیں
وهو المهم بوضع كتاب [نهج البلاغة] وله مشاركة قوية في العلوم ومن طالع [نهج البلاغة] جزم بأنه مكذوب على أمير المؤمنين علي رضي الله عنه
اور اس نے کتاب نہج البلاغہ کو گھڑا اور … جو اس کتاب سے واقف ہے وہ جزم سے کہتا ہے کہ یہ علی امیر المومنین رضی الله عنہ پر جھوٹ ہے

البداية والنهاية میں ابن کثیر ، شریف مرتضی کے ترجمہ میں لکھتے ہیں
وَيُقَالُ: إِنَّهُ هُوَ الَّذِي وَضَعَ كِتَابَ نهج البلاغة
اور کہا جاتا ہے یہی ہے ہو جس نے کتاب نہج البلاغہ کو گھڑا ہے

یعنی اہل سنت کے نزدیک یہ کتاب بالکل غیر ثابت
Apocrypha
ہے اور شیعوں کے ہاں بالکل مستند ہے

Comments are closed.