خوارج

آج خوارج کی اکثریت جزیرہ العرب میں عمان میں قبیلہ ازد کی ہے جو مدینہ کے مشرق میں ہے اصل خوارج کوفہ سے نکلے لیکن انہوں نے مستقل مستقر عمان کو بنا لیا – ان کے لئے محدثین ایک روایت پیش کرتے تھے

ﻋﻦ ﺳﮭﻞ ﺑﻦ ﺣﻨﯿﻒ ﺳﻤﻌﺖ  ﺍﻟﻨﺒﯽ صلی الله علیہ وسلم ﯾﺬﮐﺮ ﺍﻟﺨﻮﺍﺭﺝ ﻓﻘﺎﻝ ﺳﻤﻌﺘﮧ  ﻭ ﺍﺷﺎﺭ ﺑﯿﺪﮦ ﻧﺤﻮ ﺍﻟﻤﺸﺮﻕ ﻗﻮﻡ ﯾﻘﺮﺀ ﻭﻥ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﺑﺎﻟﺴﻨﺘﮭﻢ ﻻ ﯾﻌﺪﻭ
ﺗﺮﺍﻗﯿﮭﻢ ﯾﻤﺮﻗﻮﻥ ﻣﻦ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻤﺎ ﯾﻤﺮﻕ ﺍﻟﺴﮭﻢ ﻣﻦ ﺍﻟﺮﻣﯿۃ

ﺳﮩﻞ ﺑﻦ ﺣﻨﯿﻒ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ صلی الله علیہ وسلم  ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ  ﺳﻨﺎ، ﭘﺲ ﺁﭖ صلی الله علیہ وسلم ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ  ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻨﺎ، ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺸﺮﻕ ﮐﯽ  ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ:  ﺍﯾﮏ ﻗﻮﻡ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﯽ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ  ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ  ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻠﻖ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ  ﺍُﺗﺮﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮑﻞ  ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺮ ﺷﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ  ﺳﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔  

(ﻣﺴﻠﻢ:۱۰۴۸، ﻭ ﺗﺮﻗﯿﻢ ﺩﺍﺭﺍﻟﺴﻼﻡ:۲۴۷۰ )

ﺣﺬﯾﻔﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ  ﺭﺳﻮﻝ! ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ کچھ  ﺻﻔﺎﺕ  ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ  ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ  ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﻔﺘﮕﻮ  ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ

 ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ:۷۰۸۴
ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ:۱۸۴۷

 آپ اس فرقے کی تفصیل پڑھیں جو اہل سنت اور اہل تشیع دونوں چھپاتے ہیں – عرب پرست علماء خوارج سے مراد پاکستان ایران اور ہندوستان کے مسلمان لیتے ہیں نعوذ باللہ میں تلک الخرفات

امام مسلم خود مدینہ کے مشرق ایران کے شہر نیشا پور کے ہیں- کیا یہ خارجی ہیں؟ یقینا نہیں لہذا

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

اے اہل کتاب تم کیوں حق و باطل کی تلبیس کرتے ہو اور حق چھپاتے ہو اور تم جانتے ہو

جواب

عموما اہل سنت خوارج کو ایسے پیش کرتے ہیں کہ جسے کہ وہ مکلمل طور پر معدوم ہو گئے- لیکن حقیقت یہ ہے کہ

آج کل خوارج عمان ، الجزائر، یمن، لیبیا، زنجبار تنزانیہ میں آباد ہیں یہ اباضیہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اب ان کو عبادی کہا جاتا ہے لیکن اغلبا یہ لفظ اباضی تھا جو تلفظ  میں بدل گیا ہے- عبد الملک بن مروان المتوفی ٨٦ ھ کے دور میں عبد الله بن اباض ان کا ایک لیڈر تھا جس کے نام پر اس فرقے کا نام ابا ضیہ پڑا – اس کے بارے میں تفصیل نہیں ملی لیکن یہ مشھور ہے کہ عبد الله بن ابا ض  اصلا ازرقیہ کا حصہ تھا لیکن ان کی متشدد سوچ پر ان سے الگ ہوا

‎اباضی اپنے آپ کو اہل الاستقامہ  یعنی استقامت والے لوگ کہتے ہیں-

المحکمہ  خوارج اول تھے ان کو اہل سنت الحروریہ کہتے ہیں  یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے علی  (رضی الله عنہ) کی معاویہ (رضی الله عنہ) سے جنگ  ختم ہونے کو غلط جانا – علی (رضی الله عنہ)  نے صلح میں امیر المومننین کا لفظ ہٹا دیا اور ثآلثی کے اقدام کو قبول کر لیا تھا – خوارج  نے کہا نہیں قرآن کا حکم ہے کہ امیر سے بغاوت کچل دی جائے – دوسری طرف سے یعنی اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے قول اختیار کیا گیا کہ اگر مومنوں کی جماعت میں لڑائی ہو تو قرآن میں ہے ان میں صلح کرا دو( سوره الحجرات) یعنی مومنوں میں لڑائی ممکن ہے- المحکمہ کے بقول ان الحکم الا للہ لہذا قرآن کے علاوہ کسی اور رائے کی قبول نہیں کی جائے گی- یہ وہ متشدد خوارج تھے جو عثمان (رضی الله عنہ)  کو شہید کر چکے تھے اور ان کے نزدیک ابو بکر اور عمر رضی الله عنہ کی خلافت حق تھی لیکن اس کے بعد عثمان  (رضی الله عنہ) کی خلافت میں خرابی آئی جس کی انہوں نے سزا بھگتی- ان کے مطابق عثمان (رضی الله عنہ)  کے گناہ ، گناہ کبیرہ تھے اور ان کو کرنے سے وہ مرتد کے درجے پر تھے  اور وہ نعوذ باللہ جہنمی تھے- خوارج کے مطابق علی (رضی الله عنہ) نے کلام الله کے خلاف انسانی ثآلثی قبول کی لہذا وہ ایمان والے نہ رہے اور یہ بھی گناہ کبیرہ تھا جس پر یہ بھی نعوذ باللہ جہنمی ہوئے

فتح القدیر  از الشوکانی اور طبقات ابن سعد کے مطابق

 علی رضی اللہ عنہ نے  ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خوارج سے مناظرہ کے لیے بھیجا تو ان سے فرمایا

 اذهب إليهم فخاصمهم وادعهم إلى الكتاب والسنة ولا تحاجهم بالقرآن فإنه ذو وجوه ولكن خاصمهم بالسنة
خوارج کے پاس جاؤ۔ لیکن یاد رکھنا کہ ان سے قرآن کی بنیاد پر بحث  نہ کرنا کیونکہ قرآن کئی پہلوؤں کا حامل ہے۔ بلکہ “سنت” کی بنیاد پر ان سے گفتگو کرنا۔

اس کی سند ہے

أخبرنا محمد بن عمر. قال: حدثني إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة.عن داود بن الحصين. عن عكرمة قال: [سمعت ابن عباس يحدث عبد الله ابن صفوان

سند میں إبراهيم بن إسماعيل بن أبى حبيبة ہے جس کو دارقطنی متروک کہتے ہیں نسائی اس کو ضعیف کہتے ہیں اور امام بخاری کہتے ہیں عنده مناكير اس کے پاس منکر روایات ہیں اور بخاری اس کو منکر الحدیث کہتے ہیں

سعودی محقق محمد بن صامل السلمي اس روایت کو طبقات ابن سعد پر تحقیق میں ضعیف کہتے ہیں

یہ منکر روایت ہے –  روایات کے مطابق علی رضی الله عنہ کی نصیحت کے باوجود ابن عباس رضی الله عنہ نے اس ذو الوجوہ کتاب یعنی  قرآن سے ہی نصیحت کی نہ کہ حدیث سے لہذا سیر الاعلام البنلاء از الذھبی ص ٢٩٧ میں ہے انہوں نے خوارج کو

يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُم} [المائدة: 95] ، وبقوله: {فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: 35]

والی قرانی آیات سنائیں

بقول خوارج اس گناہ الودہ ماحول میں رہنے کی بجائے انہوں نے خرج کیا جس طرح رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کی – لہذا خوارج کے نزدیک انہوں نے  ایمان والوں کا ایک حلقہ بنایا اور اس میں ہی رہتے  خوارج کے بقول انہوں نے علی کا قتل نہ کیا بلکہ ان پر یہ الزام ہے

عقائد و منہج

انسان کو صحیح عقیدہ یا نیکی جنت میں لے کر جائے گی نہ کہ اس نسبت پر کہ کوئی اہل بیت میں سے ہے  یا صحابی ہے

الله کو قیامت کے دن کوئی نہ دیکھ سکے گا- اہل سنت اس عقیدے کے خلاف ہیں

قرآن کو خلق کیا گیا ہے –  اہل سنت اس کے خلاف ہیں اور ماننے والے کو کافر کہتے ہیں

دور صحابہ میں خلیفہ غیر قریشی ہو سکتا ہے اور  خلیفہ کا انتخاب صلاحیت کی بنیاد پر ہو گا – اہل سنت اور اہل تشیع اس کے خلاف ہیں

اہل ایمان کتمن  (تقیہ) کر سکتے ہیں

گناہ کبیرہ کے مرتکب جہنمی ہیں – اہل سنت اور اہل تشیع اس کے خلاف ہیں – خوارج کے اس عقیدے کے رد میں مرجئہ پیدا ہوئے جو اہل ایمان  کے جہنم سے نکلنے کے قائل  ہیں اگرچہ بعض اہل سنت کی جانب سے ان کی اس بات کی تائید کی جاتی ہے لیکن مرجئہ پر تنقید بھی کی جاتی ہے

یہ سوال کہ گناہ کبیرہ  کے مرتکب خوارج سے دنیا میں کیا تعلق قائم کیا جائے ؟  اس پر  عصر حاضر کے اباضی علماء کا موقف ہے کہ گناہ کبیرہ کے اہل استقامہ میں سے مرتکب شخص سے  قلبی برا ة کریں گے یعنی ان کو دل میں برا سمجھیں گے سوشل بائیکاٹ یا قتل نہ کریں گے

خوارج کے خلفاء

خلیفہ  اول ابو بکر رضی اللہ عنہ

خلیفہ دوم  عمر رضی الله عنہ

خلیفہ سوم  عبد الله بن وھب الراسبی – خوارج ان “ایمان والوں”  کو وھبی کہتے ہیں

سن ٦٤ ھ میں خوارج کے کئی گروہ ہوئے مثلا الازرقیہ (نیلا فرقہ) وغیرہ جو متشدد تھے-  امیر ابو بلال   مرداس بن حدير التمیمی المتوفی ٦١ ھ نے  الاستعراض  یعنی گھات لگا کر قتل کرنے کا کام کیا – بصرہ ان کا گڑھ بن گیا تھا – لیکن تمام خوارج  ایسا نہ کرتے تھے بعض غیر متشدد ہو چکے تھے مثلا  بقول خوارج جابر بن زید غیر متشدد تھے

ابن زبیر رضی الله عنہ کے دور میں ان کے ایک لیڈر نجدہ بن عامر الحروری نے حج کیا اور معصوم لوگوں کے قتل پر ابن عباس  رضی الله عنہ سے فتوی طلب کیا

اسی دور کے ایک صاحب کی روایت  ہے

یزید الفقیر بیان کرتے ہیں کہ میرے دل میں خارجیوں کی ایک بات (یعنی مرتکب کبیرہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا) راسخ ہو گئی تھی۔چنانچہ (ایک مرتبہ) ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ حج کے ارادہ سے نکلے کہ (حج کے بعد)پھر لوگوں پر نکلیں گے ۔(یعنی ان میں اپنا مذہب پھیلائیں گے) جب ہمارا گزر مدینہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سے ہوا تو ہم نے دیکھا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ایک ستون سے ٹیک لگائے ہوئے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنارہے ہیں ۔انہوں نے اچانک دوزخیوں کا تذکرہ کیا میں نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ تم کیا حدیث بیان کرتے ہو حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ تو فرماتا ہے کہ’’ انک من تدخل النار فقد اخزیتہ وکلما ارادو ان یخرجو منھا اعیدو فیھا‘‘۔ (اے ہمارے پروردگار) ـجس کو تو نے جہنم میں داخل کیا تو تو نے اس کو رسوا کر دیا اور (فرماتا ہے) جہنم کے لوگ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں ڈال دیے جائیں گے ۔اب (قرآن کریم کی ان آیات کے ہوتے ہوئے) تم کیا کہتے ہو؟  جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن پڑھا ہے ۔میں نے جواب دیا جی ہاں ۔انہوں نے کہا تو پھر تم نے   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے متعلق سنا ہے جو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز انہیں عطا فرمائے گا۔ میں نے کہا ہاں ۔جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو پھر یہ وہی مقام محمود ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جہنم سے جسے چاہے گا نکالے گا ۔اس کے بعد انہوں نے پل صراط پر سے گزرنے کا تذکرہ کیا اور مجھے ڈر ہے کہ اچھی طرح یہ چیز مجھے یاد نہ رہی ہو۔مگر یہ کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ لوگ جہنم میں ڈالے جانے کے بعد پھر اس سے نکالے جائیں گے اور اس طرح نکلیں گے جیسا کہ آنبوس کی لکڑیاں (جل بھن کر) نکلتی ہیں پھر جنت کی ایک نہر میں جائیں گے اور وہاں غسل کریں گے اور کاغذ کی طرح سفید ہو نکلیں گے ۔یہ سن کر ہم وہاں سے نکلے اور کہنے لگے ہلاکت ہو تمہارے (خارجیوں ) کے لئے کیا یہ شیخ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ سکتا ہے ۔(ہر گز ایسا نہیں ) چنانچہ ایک شخص کے علاوہ ہم سب خارجیوں کی بات سے پھر گئے ۔(صحیح مسلم کتاب الایمان

خلیفہ چہارم أبو الشعثاء جابر بن زيد الزهراني الأزدي المتوفی ٩٣ ھ

  اہل سنت میں حدیث کے امام ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے  اور خوارج کے نزدیک یہ کتمن کرتے تھے جو ان کے نزدیک شیعہ کے تقیہ کا مترادف لفظ  ہے- حجاج بن یوسف سے جابر کے اچھے تعلقات تھے اور امام بخاری تاریخ الکبیر میں کہتے ہیں کہ خوارج ان کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں

   خلیفہ پنجم  أبو عبيدة مسلم بن ابی کریمہالمتوفی ١٥٠ ھ

اس کو عمر بن عبد العزیز کے دور میں گرفتار کیا گیا – یہ جابر کا شاگرد کہا جاتا ہے  اس کو عمان جلا وطن کیا گیا جہاں ازد کا قبیلہ رہتا ہے – بصرہ کے غیر متشدد خوارج نے جابر کی طرح کتمن کا راستہ اختیار کیا اور ان أبو عبيدة  کے حمایتوں نے واپس تشدد کا – ابو عبیدہ  دوسرے عباسی خلیفہ  ابو جعفر المنصور کے دور میں مرا

عبد الله بن یحیی الکندی المتوفی ١٢٩ ھ   نے حضر الموت  میں پہلی خارجی مملکت قائم کی –  اس کو طالب حق بھی کہا جاتا ہے اس نے یمن صنعآ پر قبضہ کیا  قریب ١٢٩ ھ میں جب بنو امیہ بکھر رہے تھے اور دمشق میں بنو عباس آ چکے تھے

بنو عباس نے  اس مملکت کے قیام کے دو سال بعد ہی اس  کو تباہ کیا اور اس کے ایک صدی بعد خوارج کی دوسری مملکت الجزائر  میں بنی جس کو رستمی مملکت کہا جاتا ہے جو ان کے ایک لیڈر کے نام پر ہے- یہ مملکت چل نہ سکی اور خوارج یہاں کوئی اور حکومت نہ بنا سکے

دوسری طرف عمان میں  قبیلہ ازد کی وجہ سے (جس کی اکثریت خارجی رہی) کسی نہ کسی حوالے سے ان کا اثر و رسوخ رہا ان کے دو بڑے گروہ ہوئے جن میں ایک جبل الاخضر سے دوسرا مقسط میں رہتا اور جنگ و جدل ہوتا – یہاں تک کہ ان دونوں میں صلح ہوئی اور موجودہ مملکت بنی

خوارج کیسے پیدا ہوئے اور باغی جماعت میں گروپنگ کیسے ہوئی؟

2.
خوارج کا نقطہ نظر کیا تھا؟

3.
حضرت علی نے خوارج سے کیا معاملہ کیا؟

4.
خوارج سے جنگ کے نتائج کیا نکلے؟

5.
کیا تمام صحابہ رضی اللہ عنہ اور دیگر مسلم خوارج کی تکفیر کے قائل تھے یا اس پر اختلاف بھی تھا؟


آج کے دور میں یہ جو مختلف گروہوں کے لئے خوارج کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے یہ کس بنیاد پر جاتی ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہاں تک ایسا کرنا صحیح ہے ؟ کیا واقعی کچھ گروہ خارجیت کے نظریہ و منہج پر آج بھی قائم ہیں؟

جواب

1.
خوارج کیسے پیدا ہوئے اور باغی جماعت میں گروپنگ کیسے ہوئی؟خوارج علی رضی الله عنہ کے ہمدرد تھے اور باقی اصحاب رسول کے مخالف ان کی جڑ مصر میں تھی- جہاں عبد الرحمن بن عدیس اور عبدالرحمن ابن ملجم رہتے تھے عبد الرحمن بن عدیس ایک صحابی تھا- بیعت رضوان میں بھی تھا لیکن یہ ایک منافق تھا جس نے امت کے اتحاد کو ختم کیا یہ باغیوں کا سرغنہ تھا جو مصر سے آئے اور عثمان رضی الله عنہ کو محصور کر کے یہ امام مسجد النبی بن گیا وہاں اس نے عثمان رضی الله عنہ پر بھڑاس نکالی بیشتر صحابہ اس وقت مکہ میں تھے کیونکہ یہ سب ایام حج میں ہوا اور باغی احرام کی حالت میں یا حاجیوں کے روپ میں مختلف علاقوں سے آئے تھےشاید اسی وجہ سے علی رضی الله عنہ نے کوفہ کو دار الخلافہ کیا
کہ اس قسم کی بغاوت کسی کے بھی خلاف ہو سکتی تھیخوارج بننے سے پہلے یہ سب علی رضی الله عنہ کے گرد جمع ہوئے اور اور کوفہ میں حروریہ کے علاقہ میں ان کا گڑھ تھااس وقت تک یہ ایک سیاسی محاذ تھا جو امراء کے خلاف تھا چاہے صحابی ہوں یا غیر صحابی
اس میں بظاہر علی رضی الله عنہ کو خلافت دلانا تھا کیونکہ باغیوں کا ایک موقف تھا کہ عثمان رضی الله عنہ اقربا پروری کرتےاس میں باغیوں نے عثمان رضی الله عنہ کا قتل کر دیا
اغلبا علی رضی الله عنہ اس کو قتل عمد نہیں سمجھتے تھے بلکہ شاید ایک حادثہ سمجھتے تھے جس میں خلیفہ معصوم سے استفعی کے مطالبہ میں ایک حادثہ پیش آ گیا
علی رضی الله عنہ نے منصب خلافت لیا2.
خوارج کا نقطہ نظر کیا تھا؟یہ لوگ علی رضی الله عنہ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ علی رضی الله عنہ نے معاویہ رضی الله عنہ سے صلح مان لی
اس پر یہ بدک گئے اور کہا
کہ معاویہ اور باقی لوگوں نے اولوالامر (یعنی علی خلیفہ وقت) کی مخالفت کر کے گناہ کبیرہ کیا اور گناہ کبیرہ کا مرتکب جہنمی ہو گیااب ان احمقوں نے خود خلیفہ وقت کے خلاف خروج کیا اور اپنے آپ کو حق پر سمجھا
انہوں نے علی رضی الله عنہ کے خلاف خروج کیا کیونکہ علی نے گناہ کبیره کے مرتکب جہنمیوں سے صلح کر کے اپنی پوزیشن کمزور کر دی
یہ خوارج کا موقف تھا3.
حضرت علی نے خوارج سے کیا معاملہ کیا؟
علی رضی الله عنہ نے ان کو توبہ کا حکم دیا اور جنگ کی یہاں تک کہ ان کے اہم لیڈروں کو قتل کیا
جنگ نہروان ہوئی جس میں اہم خوارج قتل ہوئے اور باقی بھاگ گئے اور روپوش ہوئے
ان میں ایک مصری عبد الرحمن ابن ملجم جو مصر میں معآذ بن جبل رضی الله عنہ کا قرآن کا شاگرد تھا اس نے علی کو شہید کر دیا
یعنی یہ قرآن پڑھنے والآ تھا لیکن گمراہ ہو گیاڈاکٹر حمید الله کی ایک تحریر میں ہے
عبدالرحمن بن ملجم خارجی جس نے حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا، موقع پر گرفتار ہوگیا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس کے متعلق مندرجہ ذیل وصیت کی تھی۔
بنو عبدالمطلب! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا، اور یہ کہتے نہ پھرنا کہ امیر المومنین قتل کیے گئے ہیں (تو ہم ان کا انتقام لے رہے ہیں۔) سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ حسن! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو قاتل کو بھی ایک ہی وار میں ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیے۔ اس کی لاش کو بگاڑنا نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے بچو خواہ وہ باؤلے کتے ہی کا کیوں نہ ہو۔ (ابن سعد، طبری وغیرہ)
مگر حضرت علیؓ کی اس وصیت پر عمل نہ کیا گیا۔ اور ابن سعد کی روایت کے مطابق قاتل کے زندہ حالت میں ہی اعضاء کاٹے گئے، اور امام طبری کی روایت کے مطابق قاتل کو جب حضرت علیؓ کے قصاص میں قتل کردیا گیا تو مشتعل لوگ اس پر بل پڑے اور اس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے جلا دیا4.
خوارج سے جنگ کے نتائج کیا نکلے؟
خوارج وقتی طور سے بکھر گئے لیکن ختم نہ ہوئے
ابوسعید خدری رضی الله عنہ ایک حدیث سناتے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے مٹی میں ملا ہوا تھوڑا سا سونا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اَقرع بن حابس حنظلی جو بنو مجاشع کا ایک فرد تھا اور عیینہ بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے تھا، اور زید الخیل طائی جو بنی نبہان سے تھا؛ ان چاروں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ اس پر قریش اور اَنصار کو ناراضگی ہوئی اور انہوں نے کہا کہ اہلِ نجد کے سرداروں کو مال دیتے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو ان کی تالیفِ قلب کے لئے کرتا ہوں۔ اسی اثناء میں ایک شخص آیا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی گھنی، گال پھولے ہوئے اور سر منڈا ہوا تھا، اور اس نے کہا: اے محمد! اﷲ سے ڈرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ کی اِطاعت کرنے والا کون ہے اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں حالانکہ اس نے مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں مانتے؟ تو صحابہ میں سے ایک شخص نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی، میرے خیال میں وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا۔ (اور ابو نعیم کی روایت میں ہے: اس شخص نے کہا: اے محمد! اﷲ سے ڈرو اور عدل کرو۔ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان والوں کے ہاں میں امانت دار ہوں اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! میں اس کی گردن کاٹ دوں؟ فرمایا: ہاں۔ سو وہ گئے تو اسے نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں نے اسے نماز پڑھتے پایا (اس لئے قتل نہیں کیا)۔ تو کسی دوسرے صحابی نے عرض کیا: میں اس کی گردن کاٹ دوں؟) جب وہ چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نسل سے ایسی قوم پیدا ہوگی کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے۔ اگر میں انہیں پاؤں تو قومِ عاد کی طرح ضرور انہیں قتل کر دوں
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: التوحيد، باب: قول اﷲ تعالى: تعرج الملائکة والروح إليه، 6 / 2702، الرقم: 6995، وفي کتاب: الأنبياء، باب: قول اﷲ عز وجل : وأما عاد فأهلکوا بريح صرصر – شديدة – عاتية، 3 / 1219، الرقم: 3166، ومسلم في الصحيح، کتاب: الزکاة، باب: ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 / 741، الرقم: 1064، وأبو داود في السنن، کتاب: السنة، باب: في قتال الخوارج،

یہ روایت پیش کی جاتی ہے کہ خوارج نے قتل کر کے اپنے اوپر یہ قول نبوی ثبت کر دیا

خوارج
ان الحکم الا للہ کا نعرہ لگا کر صحابہ کو ہی قتل کر رہے تھے کہیں گھات لگا کر کہیں خفیہ حملہ کر کے
مثلا انہوں نے نہایت بے دردی سے عبد الله بن خباب بن ارت رضی الله عنہ کا قتل کیا

اسد الغابہ میں ہے
فقالوا له: من أَنت؟ قال: أَنا عبد اللّه بن خباب صاحب رسول الله صَلَّى الله عليه وسلم، فسأَلوه عن أَبي بكر وعمَر وعثمان وعلي، فأَثنى عليهم خيرًا، فذبحوه فسال دمه في الماء، وقتلوا المرأَة وهي حامل مُتِمّ فقالت: أَنا امرأَة، أَلا تتقون الله؟! فبقروا بطنها، وذلك سنة سبعة وثلاثين)) أسد الغابة.
خوارج نے عبد الله بن خباب رضی الله عنہ سے پوچھا تو کون ہے ؟ انہوں نے کہا عبد بن خباب پس انہوں نے ابو بکر ، عمر ، عثمان اور علی پر سوال کیا عبد الله نے تعریف کی تو خوارج نے ان کو ذبح کر دیا یہاں تک کہ خون پانی کی طرح بہا اور ان کی بیوی کو جو حآملہ تھیں ان کا پیٹ کاٹ ڈالا وہ کہتی رہی میں عورت ہوں الله سے ڈرو
آپ دیکھ سکتے ہیں کس قدر سفاک تھے

5.

کیا تمام صحابہ رضی اللہ عنہ اور دیگر مسلم خوارج کی تکفیر کے قائل تھے یا اس پر اختلاف بھی تھا؟

کسی صحابی کا ان کے حوالے سے اختلاف نہیں ملا تمام ان کے خلاف تھے
صحابہ ، خوارج کو حامل قرآن اور نماز پڑھنے والا گمراہ کہتے تھے

ابن زبیر رضی الله عنہ کی خلافت تک یعنی ٧٠ ہجری تک جا کر خوارج نےاپنے متشدد موقف میں نرمی پیدا کی اور آہستہ آہستہ وہ مسلمانوں کو جیو اور جینے دو کا حق دینے لگے

مثلا تاریخ میں ہے کہ ان کا ایک سردار نجدہ الحروری جو عمان سے تھا اس نے حج کیا اور اس کو ابن زبیر رضی الله عنہ نے حج کرنے دیا اور مکہ میں اس نے ابن عباس رضی الله عنہ سے سوال بھی کیے
جس کے انہوں نے جواب دے

صحابہ کا خوارج کے پیچھے نماز پڑھنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں

محدثین نے خارجی سے روایت لکھی ہے کیونکہ خارجی جھوٹ کو گناہ کبیرہ کہتے تھے

مثلا صحیح بخاری میں عمران بن حطان خارجی کی روایت ہے جس کو بعض محدثین خارجی کہتے ہیں راقم کی تحقیق کہتی ہے ممکن ہے یہ اس قسم کا خارجی نہیں تھا جن سے صحابہ نبرد آزما تھے -اس نے ایک فتوی دیا جس میں کہا جو بھی ہو قتل کرو قتل کلھم اس پر بعض نے اس کو خارجی کہا
تفصیل کتاب روایات المہدی ص ٤٦ سے ٤٨ میں ہے جو اس ویب سائٹ پر ہے

کتاب الضعفاء از امام عقیلی کی روایت ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الْيَشْكُرِيُّ وَلَقَبُهُ جُرْنٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ الشِّينِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيُّ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَتَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ حَتَّى ذُكِرَ الْقَضَاءُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْقَاضِيَ الْعَدْلَ لَيُجَاءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَلْقَى مِنْ شِدَّةِ الْعَذَابِ مَا يَتَمَنَّى أَنْ لَا قَضَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ» وَعِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ كَانَ أَيْضًا مِنَ الْخَوَارِجِ

امام بخاری روایت کرتے ہیں صالح بن سرج نے ، عمران السدوسی سے روایت کیا کہ میں عائشہ رضی الله عنہا کے پاس داخل ہوا پس انہوں نے حدیث ذکر کی قضا کے بارے میں عائشہ رضی الله عنہا نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا : بروز محشر ایک عدل والا قاضی شدت عذاب کو دیکھ کر تمنا کرے گا کہ اس نے دو کے درمیان ایک کھجور کی گٹلی کا بھی فیصلہ نہ کیا ہو
اور عمران بن حِطَّانَ خوارج میں سے ہے

امام بخاری نے خارجی عمران سے صحیح میں روایت لکھی جس کا اقرار محدثین کر رہے ہیں
اس کی وجہ ہے کہ بدعتی کی روایت اس کے عقیدے کے اثبات میں ناقابل قبول ہے
عمران جب اپنے بدعتی عقیدے کی روایت کرتا ہے تو قبول نہیں کی جاتی لیکن اس کے علاوہ قبول کی جاتی ہے یہی عمل روافض کے ساتھ ہے

اب سوال ہے کیا کافر کی روایت لکھی جا سکتی ہے یا وہ شخص جس کی فرقے کی تکفیر کی گئی ہو؟ امام بخاری کا یہ عمل بتا رہا ہے کہ خوارج جو بعد میں آئے ان کی تکفیر نہیں کی گئی ان کو بد مذھب سمجھا گیا
اور مسلمان ہی سمجھا گیا نہ کہ کافر

آج بھی عمان پر خوارج کے اباضیہ فرقے کا اثر و رسوخ ہے

لہذا جیو اور جینے دو پر عمل ہوا


آج کے دور میں یہ جو مختلف گروہوں کے لئے خوارج کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے یہ کس بنیاد پر جاتی ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہاں تک ایسا کرنا صحیح ہے ؟ کیا واقعی کچھ گروہ خارجیت کے نظریہ و منہج پر آج بھی قائم ہیں؟

ان میں بعض گروہ واقعی اس طرح کے ہیں کہ قرآن ان کے حلق سے نیچے دل میں نہیں جاتا اور سیاق و سباق سے نکال کر آیات عام مسلمانوں پر ثبت کر کے ان کا قتل کر رہے ہیں – ان سے دور رہیں

علماء کی جانب سے جب کسی کی تکفیر کی جاتی ہے تو اس کا مقصد قتل نہیں ہے، اصلاح ہے، ورنہ تو کوئی ذی نفس باقی نہیں رہے گا
محدثین نے خلق قرآن جیسی فلسفیانہ بات پر تکفیر کی لیکن قتل کا حکم نہیں دیا خلق قرآن کے قائلین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا
جبکہ یہ تکفیر اصول میں یا عقائد میں تھی جس میں مخالفین ایک دوسرے کو جینے کا حق دے رہے تھے

اس کے برعکس صحابہ نے اپنے آپ کو خوارج کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچایا اور جو ان کو قتل کرنے آیا یعنی جارجی اس کو قتل کیا گیا
لہذا ایسے بدعتی فرقے اگر قتل کریں تو ان سے قتال کیا جائے گا
کہنے کا مقصد ہے کہ متقدمین خوارج اور متاخرین میں فرق ہوتا چلا گیا اور ان کی شدت میں کمی اتی گئی

اہل سنت کے بعض جہادی گروپوں نے خوارج کے مردہ جسم میں واپس روح پھونکی ہے جس کو مدینہ یونیورسٹی کے وہابی عالم ربیع المدخلی کی کاوش کہا جاتا ہے ماضی میں ان کی وہابی علماء بڑی تعریف کرتے رہے ہیں البانی ہوں یا بن باز یہاں تک کہ ان کو عصر حاضر کا بڑا محدث کہا گیا ان کی روش پر عرب ملکوں میں جہادی اصلا فسادی جمع ہو رہے ہیں اور اپنے بدعتی افکار کا پرچار کر رہے مسلمانوں کا قتل کر رہے ہیں اور لونڈی غلامی جس کو مکاتبت کے قرانی حکم پر ختم کر دیا گیا گیا اس کو ان جاہلوں نے واپس شروع کیا ہے

عقیدے میں گمراہ اور عمل میں ان گناہوں کے ساتھ آثقآلھم مع اثقآلھم کی طرح یہ گناہ سمیٹ رہے ہیں اسی خوارجی سوچ میں روح پھونک چکے ہیں جو معدوم ہو چکی تھی

الله اہل ایمان کو ان کے شر سے بچائے

وہ روایات جن میں ہے کہ ایسے لوگ امت میں نکلتے رہیں گے جو مسلمانوں کو قتل کریں گے وہ روایات ضعیف ہیں

اصل میں خارجی کا مطلب ہے علی کی اطاعت نہ کرنے والا ان سے خروج کرنے والا اس پر علی نے ان سے جنگ کی اور توبہ کا حکم دیا لیکن ہمارے علماء نے اصطلاح کو مرتد کے لئے استمعال کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے ساتھ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وہ احادیث جو وقتی اور عرب کے بعض قبائل سے متعلق تھیں ان کو ملا دیا ہے اس سے معاملہ سلجھنے کی بجائے الجھ جاتا ہے

وہ خوارج جو علی کو چھوڑ گئے وہ اب ایک فرقہ ہیں ،ے ان کی فکر میں تشدد ختم ہو گیا اور اب ایک اسلامی ملک پر ان کی عمل داری بھی ہے اور باقی ملکوں سے اچھے تعلقات بھی

لیکن وہ متشدد خوارج، جن سے صحابہ نبرد آزما تھے ان کی فکر جن خطوط پر تھی انہی خطوط پر اگر گمراہ لوگ جمع ہوں تو اس امکان کو ختم نہیں کیا جا سکتا- لیکن یہ سب عصر حاضر میں ہوا ہے – پچھلے ١٢٠٠ سال میں اس قسم کے گروہ نہیں ملتے لہذا ان کی وجوہات دینی نہیں بلکہ سیاسی ہیں اور اس کے پیچھے کوئی اور مقصد کار فرما ہے

بعض لوگوں نے خوارج میں حسن بن الصباح کو بھی شمار کیا ہے کہ وہ قلعہ الموت سے حشیشیں کو بھیجتا تھا اور وہ فدائی حملہ کرتے اور خنجر مار کر شہید کرتے تھے یہ بھی ایک اختلافی قول ہے حسن بن الصباح اول کوئی خارجی نہیں تھا وہ باطنی عقائد والا شیعہ تھا اور آج آغا خانی اسی کے متبع ہیں دوم وہ حشیش پلاتا تھا اور اس کی ایک جنت تھی یہ سب بکواس ہے یہ صلیبیوں کا قول تھا جس کو مورخین نے بشوق نقل کیا اس پر کیا دلیل ہے کہ حسن بن الصباح ایسا کرتا تھا
حال میں فرہاد دفتری جو ایک باطنی شیعہ محقق ہیں انہوں نے اس کا بھر پور رد کیا ہے

http://www.amazon.com/The-Ismailis-Their-History-Doctrines/dp/0521429749
The Isma’ilis: Their History and Doctrines
اس کے علاوہ
The Assassin Legends: Myths of the Isma’ilis
فرہاد دفتری کے رد میں کہا جاتا ہے کہ جو آغا خان سے پیسے لے کر کتاب لکھے اس سے اور کیا قبول کیا جا سکتا ہے لیکن آپ اپنا تجزیہ خود بھی کریں فرہاد دفتری کے قول و تحقق کا رد ہے کسی کے پاس؟

شیعہ مخالف ،اہل سنت طبقوں میں مخالف فرقوں کے بارے میں کوئی بھی قول بلا تحقیق قبول کرنا ١٠ ویں صدی سے ایک معمول چلا آ رہا ہے

مسند احمد کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنِي عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَرْزَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: فِي الْخَوَارِجِ فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَرَأَتْ عَيْنَايَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ، فَكَانَ يَقْسِمُهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا. فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ فِي الْقِسْمَةِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي قَالَهَا» . ثَلَاثًا: ثُمَّ قَالَ: «يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ، كأَنَّ هَذَا مِنْهُمْ، هَدْيُهُمْ هَكَذَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ، سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، قَالَهَا ثَلَاثًا، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ» قَالَهَا: ثَلَاثًا.

الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ سے روایت کرتے ہیں کہ  مجھے تمنا تھی کہ اصحاب رسول میں سے کسی سے ملوں اور ان سے خوارج کی حدیث پوچھوں- پس میں أَبَا بَرْزَةَ سے بعض اصحاب کے ساتھ یوم عرفہ کے دن ملا- پس کہا: اے أَبَا بَرْزَةَ  کوئی روایت بیان کریں جو آپ نے رسول الله سے خوارج کے بارے میں سنی ہو- پس انہوں نے  کہا:  میں سناتا ہوں جو میرے کانوں نے سنا  اور آنکھوں نے دیکھا-  میں نے دیکھا کہ ایک شخص  … رسول الله کے پاس آیا جس کا لباس سفید اور ماتھے پر سجدہ کا اثر تھا … رسول الله نے اس کو کچھ نہ دیا .. پس  وہ بولا: والله اے محمّد! آج تم نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا- پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم غضب ناک ہوئے اور کہا : و الله  میرے بعد کوئی نہ ہو گا جو تم سے  ایسا عدل کرے  تین دفعہ کہا- پھر کہا مشرق سے لوگ نکلیں گے یہ ان میں سے ہو گا یہ قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے آگے نہ جائے گا، دین سے ایسے نکلیں گے جیسے کمان سے تیر جو پلٹ کر نہ آئے اور ہاتھ سینے پر رکھا  ان لوگوں کی نشانی سر منڈوانا ہو گی  اور یہ نکلتے رہیں گے حتی کہ ان کا آخری گروہ نکلے پس جب دیکھو تو قتل کر دو تین دفعہ کہا بد ترین مخلوق اور بعد میں نے والے

امام حاکم نے بھی اس کو اس سند سے روایت کیا ہے اور کہتے ہیں هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

تلخيص الذهبي میں الذھبی اس پر سکوت کرتے ہیں لیکن میزان میں اس کے راوی کو لا  يعرف کہتے ہیں

اس کی سند میں شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ ہے – الذھبی ميزان الاعتدال في نقد الرجال    میں لکھتے ہیں

شريك بن شهاب  عن أبي برزة.  بصري. لا يعرف إلا برواية الأزرق بن قيس عنه.

شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ ، أبي برزة سے روایت کرتے ہیں- بصری ہیں  میں ان کو صرف الأزرق بن قيس کی روایت سے جانتا ہوں

ابن ابی شیبہ  اور مسند الرویانی میں میں  اسی مجھول راوی کی سند سے ہے

لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

یہ گروہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری مسیح دجال کے ساتھ ہو گا

ابن حبان نے اپنے انداز میں اس مجھول راوی کو ثقہ قرار دیا ہے

لیکن الذھبی کی رائے درست ہے –  راوی شريك بن شهاب   پر نہ جرح ہے نہ توثیق ، لہذا  وہ مجھول ہے

تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں المزی کہتے ہیں

قَال: شَرِيك ليس بذاك المشهور   شریک ایسا مشھور نہیں

 مسند احمد اور المستدرك على الصحيحين  میں بعض روایات جو قَتادة عن شَهْرِ بن حَوْشَب  کی سند سے نقل ہوئی ہیں ان میں ہے کہ عبدُ الله بن عمرو بن العاص  نے نوف البکالی  سے سوال کیا ..  اور پھر عبد الله نے حدیث سنائی  کہ میری امت میں سے مشرق  سے لوگ نکلیں گے جو قرآن کو  پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب بھی ان کی نسل نکلے گی اسے ختم کردیا جائے گا یہ قول دس دفعہ  کہا یہاں تک کہ ان کے آخری حصے میں دجال نکل آئے گا۔

اس کی سند میں شہر بن حوشب ہے

النَّسَائِيُّ  کہتے ہیں : لَيْسَ بِالقَوِيِّ، قوی نہیں

ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں: لاَ يُحْتَجُّ بِهِ، وَلاَ يُتَدَيَّنُ بِحَدِيْثِهِ اس کی حدیث ناقابل دلیل ہے

أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ کہتے ہیں: وَلاَ يُحْتَجُّ بِهِ،  اس کی حدیث نا قابل دلیل ہے

يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ کہتے ہیں

عَبْدِ اللهِ بنِ عَوْنٍ، قَالَ: إِنَّ شَهْراً تَرَكُوْهُ  اس کو متروک کہتے ہیں

الذھبی  کہتے ہیں اس کی حدیث حسن ہے اگر متن صحیح ہو اور اگر متن صحیح نہ ہو تو اس سے دور رہا جائے کیونکہ یہ ایک احمق مغرور تھا

 الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء  میں اس پر لکھتے ہیں

قُلْتُ: مَنْ فَعَلَهُ لِيُعِزَّ الدِّيْنَ، وَيُرْغِمَ المُنَافِقِيْنَ، وَيَتَوَاضَعَ مَعَ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ، وَيَحْمَدَ رَبَّ العَالِمِيْنَ، فَحَسَنٌ، وَمَنْ فَعَلَهُ بَذْخاً وَتِيْهاً وَفَخْراً، أَذَلَّهُ اللهُ وَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَإِنْ عُوْتِبَ وَوُعِظِ، فَكَابَرَ، وَادَّعَى أَنَّهُ لَيْسَ بِمُخْتَالٍ وَلاَ تَيَّاهٍ، فَأَعْرِضْ عَنْهُ، فَإِنَّهُ أَحْمَقٌ مَغْرُوْرٌ بِنَفْسِهِ.

اس سے سنن اربعا اور مسلم نے مقرونا روایت لی ہے

کتاب رجال صحیح مسلم  از ابن مَنْجُويَه (المتوفى: 428هـ) کے مطابق

مسلم نے صرف ایک روایت کہ کھمبی ، من میں سے ہے لی ہے

اس روایت  میں نوف البکالی ہے جس کا حال مستور ہے اور ابن عباس اس کو کذاب کہتے تھے یہ کعب الاحبار کا سوتیلا  بیٹا تھا

 بحر الحال بعض لوگوں نے ان روایات  کو صحیح مانتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے- لیکن جب راوی مجھول ہے  یا مجروح ہے تو اس کی حدیث کیسے قبول کی جا سکتی ہے؟  واضح رہے کہ خارجی کہنے کی صورت میں ایک بہت بڑا گناہ سر زرد ہو گا ، اگر ملزم خارجی نہ ہوا

خوارج جو علی رضی الله کے دور میں نکلے وہ بالکل ختم نہیں ہوئے بلکہ فرقوں میں بٹ گئے آج بھی ان کا ایک فرقہ عمان پر حکومت کر رہا ہے

جواب نہیں یہ قول صحیح نہیں

اس سلسلے میں دلائل دیے جاتے ہیں کہ صحابہ نے خوارج کے پیچھے نماز پڑھی

ابن تيمية في “منهاج السنة” 5/247 میں لکھتے ہیں

: ومما يدل أن الصحابة لم يُكَفروا الخوارج أنهم كانوا يصلون خلفهم، وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنه وغيره من الصحابة يصلون خلف نجدة الحروري، وكانوا أيضاً يحدثونهم ويفتونهم ويخاطبونهم كما يخاطب المسلمُ المسلمَ، كما كان عبد الله بن عباس يجيب نجدة الحروري لما أرسل يسأله عن مسائل، وحديثه في البخاري  ، وكما أجاب نافع بن الأزرق عن مسائل مشهورة، وكان نافع يناظره في أشياء بالقرآن كما يتناظر المسلمان.

اور جو اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ نے خوارج کی تکفیر نہیں کی وہ یہ ہے کہ انہوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی اور ابن عمر رضی الله عنہ اور دیگر اصحاب رسول نے نجدة  بن عامر الحروري کے پیچھے نماز  پڑھی اور وہ اس سے بات کرتے اس کو فتویٰ بھی دیتے اور اس سے ایسے مخاطب ہوتے جسے کہ ایک مسلم ، مسلم سے ہوتا ہے جیسا کہ عبد الله ابن عبّاس نے نجدة الحروري کو جواب دیا  جب اس نے مسئلہ لکھ بھیجا اور حدیث بخاری میں ہے  اور جیسا نافع بن الأزرق نے مسائل مشہورہ پر جواب دیا

مسلم باب بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ میں یہ روایت موجود ہے

ابی داود کی روایت ہے جس کو البانی صحیح کہتے ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ، حِينَ حَجَّ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى

نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيَّ رَئِيس الْخَوَارِج  نے فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ کے دور میں حج کیا اور ابن عبّاس رضی الله عنہ سے سوال و جواب بھی کیے

کتاب أصول السنة، ومعه رياض الجنة بتخريج أصول السنة از ابن أبي زَمَنِين المالكي (المتوفى: 399هـ) کی روایت ہے

أَسَدٌ قَالَ حَدَّثَنِي اَلرَّبِيعُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَوَّارَ بْنِ شَبِيبٍ قَالَ

 حج نجدة الحروري في أصحابه فوادع ابن الزبير، فصلى هذا بالناس يوماً وليلة، وهذا بالناس يوماً وليلة، فصلى ابن عمر خلفهما فاعترضه رجل، فقال: يا أبا عبد الرحمن أتصلي خلف نجدة الحروري؟ فقال ابن عمر: (إذا نادوا حي على خير العمل أجبنا، وإذا نادوا إلى قتل نفس قلنا: لا، ورفع بها صوته

سوار بن شبيب کہتے ہیں کہ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ  الحروري (خوارج) کو ابن زبیر نے مدعو کیا اور ان لوگوں نے دن و رات نماز پڑھی پس ابن عمر نے بھی ان کے پیچھے نماز پڑھی پس ایک آدمی نے اعتراض کیا کہ اے ابو عبد الرحمن آپ نجدہ  حروري کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ؟ پس ابن عمر نے کہا پس جب حي على خير العمل کی ندا اتی ہے تو ہم جواب دیتے ہیں اور جب یہ قتل نفس کی ندا کرتے ہیں تو ہم اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں

اس کی سند میں  اسد بْنُ مُوسَى  ہے جن سے بخاری نے استشہاد کیا ہے الذہبی میزان میں لکھتے ہیں

ابن حزم ذكره في كتاب الصيد فقال: منكر الحديث. ابن حزم نے ان کو منکر الحدیث کہا ہے

دوم  اس کی سند میں اَلرَّبِيعُ بْنُ زَيْدٍ ہے جن کو بعض لوگوں نے ربيعة بن زياد کہہ دیا ہے جبکہ ربيعة بن زياد صحابی ہیں – حق یہ ہے کہ  اَلرَّبِيعُ بْنُ زَيْدٍ مجھول ہے

کتاب أصول السنة، ومعه رياض الجنة بتخريج أصول السنة از ابن أبي زَمَنِين المالكي (المتوفى: 399هـ) کی روایت ہے

اِبْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ اَلْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: سَأَلْتُ اَلْحَسَنَ فَقُلْتُ رَجُلٌ مِنْ اَلْخَوَارِجِ يَؤُمُّنَا أَنُصَلِّي خَلْفَهُ? قَالَ: نَعَمْ، قَدْ أَمَّ اَلنَّاسَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ.

ابن مہدی ، اَلْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ سے روایت کرتے کرتے ہیں کہ حسن بصری سے سوال کیا کہ  خوارج میں سے ایک شخص نے   کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں کہا ہاں

اس کی سند میں الحكم بْن عطية العيشي البصري ہیں جو ضعیف ہیں – الذھبی، میزان میں  کہتے ہیں وضعفه أبو الوليد، وقال النسائي: ليس بالقوي. وقال أبو حاتم: يكتب حديثه، ولا يحتج به.

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ تابعین کذاب مختار کے پیچھے نماز پڑھتے تھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ الله يُصَلُّونَ مَعَ الْمُخْتَارِ الْجُمُعَةَ، وَيَحْتَسِبُونَ بِهَا

عبد الله ابن مسعود کے اصحاب مختار کے ساتھ  جمعہ پڑھتے تھے  اور (ایک دوسرے کو)  گنتے تھے

سُفْيَانَ الثوری مدلس عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا روایت مظبوط نہیں- دوم اصحاب عبد الله تمام اہل سنت میں سے نہ تھے ان سے بعض داعی شیعہ بھی تھے اور ان کا مختار غالی کے پیچھے نماز پڑھنا چندہ بعید نہیں

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُقْبَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، «أَنَّ أَبَا وَائِلٍ جَمَعَ مَعَ الْمُخْتَارِ

يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ کہتے ہیں کہ ابو وَائِلٍ، مختار کے ساتھ (نماز میں؟) جمع ہوئے

سند میں يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ہے جو مجھول ہے

وہ روایات جن سے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ صحابہ خوارج کے پیچھے نماز پڑھتے تھے سب ضعیف ہیں اور ایک بھی صحیح السند روایت نہیں

امام بخاری، صحیح میں  صحابہ کے اقول صحیح میں نقل کرتے ہیں کہ  صحابہ نے حدیث نبوی  کہ  لوگ  قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہ اترے گا کا مصداق خوارج کو لیا جنہوں نے صحابہ کو ہی کافر کہا

اب ظاہر ہے خوارج صحابہ کے ساتھ نماز کیوں پڑھتے  لہذا یہ روایات نہ سندا صحیح ہیں بلکہ تاریخ کے مطابق بھی غلط ہیں

جواب صحیح بخاری کی روایت ہے

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، – وَهُوَ مَحْصُورٌ – فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ، وَنَتَحَرَّجُ؟

عبید الله بن عدی،  عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ محصور تھے ان سے کہا کہ آپ امام ہیں لیکن ہم کو امام الفتنہ نماز پڑھا رہا ہے اور ہم کراہت کر رہے ہیں

اس روایت میں امام الفتنہ سے مراد عبد الرحمن بن عدیس البلوی ہے

ابن شبہ اپنی کتاب، تاریخ المدینہ، ج ۴، ص ۱۱۵٦، میں روایت ہے

فَطَلَعَ ابْنُ عُدَيْسٍ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَطَبَ النَّاسَ وَصَلَّى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ الْجُمُعَةَ، وَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: أَلَا إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَذَا وَكَذَا» ، وَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَكْرَهُ ذِكْرَهَا

ابن عدیس منبر رسول پر چڑھا اور خطاب کیا، اور لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی، اور خطبے میں کہا کہ آگاہ ہو جاو، مجھے ابن مسعود نے کہا کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ عثمان بن عفان ایسے ایسے ہیں۔ راوی کہتا ہے ابن عدیس نے ایسا کلام کیا کہ جو بیان کرنے سے مجھے کراہت ہو رہی ہے

یہ بات جب عثمان رضی الله عنہ تک پہنچی توعثمان نے جواب دیا

كذب والله ابن عديس ما سمعها من ابن مسعود، ولا سمعها ابن مسعود من رسول الله قط

اللہ کی قسم! ابن عدیس نے جھوٹ بولا، نہ اس نے ابن مسعود سے کچھ سنا، نہ ابن مسعود نے (اس بارے میں) رسول اللہ سے

ایک روایت موضوعات ابن الجوزی میں ہے جس کے مطابق منبر پر ابن عدیس نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا

أَلا إِن عُثْمَان أضلّ من عَيْبَة على قفلها

خبردار بے شک عثمان گمراہ ہے اس کے بارے میں جس کے یہ عیب قفل پر کرتا ہے

یعنی تالا لگا کر عثمان رضی الله عنہ علی رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے تھے

الذھبی تلخیص الموضوعآت میں اس پر لکھتے ہیں

 قد افتراه ابْن عديس

اس کو ابن عدیس نے افتری کیا ہے

جواب

اہل سنت کی کتب میں یہ بات مشھور ہے کہ خوارج عذاب قبر کے انکاری ہیں – لیکن خوارج کا سب سے بڑا فرقہ عذاب قبر کا اقرار کرتا ہے

فرق صرف یہ ہے کہ یہ اس کو کفار کے لئے خاص کرتے ہیں اور اہل ایمان پر عذاب قبر کا  مطلق اقرار نہیں کرتے

یہ بات کہ خوارج عذاب قبر کے انکاری ہیں امام الاشعری نے مقالات الاسلامیین میں کہی ہے اس کے بعد انہی کے حوالے سے علمائے اہل سنت نے اس کو نقل کیا ہے

خارجی عالم  نور الدين السالمي  کتاب مشارق أنوار العقول جـ2 ص105  میں لکھتے ہیں

ومن تعميم أبي الحسن الأشعري على كل الخوارج أنهم لا يقولون بعذاب القبر ، مع أن الإباضية الذين عدهم الأشعري من الخوارج يثبتون عذاب القبر

اور جو ابی حسن الأشعري کی (خوارج کے حوالے سے باتیں) گردش میں ہیں ان میں ہے کہ وہ عذاب قبر کا نہیں کہتے ساتھ ہی الإباضية  کو الأشعري نے خوارج میں شمار کیا ہے جو عذاب قبر کا اثبات کرتے ہیں

  کتاب  الْجَامِعُ الصَّحِيحُ مسند الإمام الربيع بن حبيب از  الربيع بن حبيب بن عمر الأزدي البصري (المتوفى حوالي سنة: 170هـ)  ترتيب: أبي يعقوب يوسف بن إبراهيم الوارجلاني (المتوفى سنة: 570هـ )  الناشر: دار الفتح للطباعة والنشر، بيروت، ومكتبة الاستقامة، روي، مسقط- سلطنة عمان کے مطابق

قَالَ الرَّبِيعُ: وَكَانَ جَابِرٌ مِمَّنْ يُثْبِتُ عَذَابَ الْقَبْرِ

الرَّبِيعُ نے کہا کہ جابر بن زید  عذاب قبر کا اثبات کرتے تھے

جابر بن زید  بصری خوارج کے خلیفہ کی حیثیت رکھتے تھے ابن عباس کے شاگرد تھے

اسی طرح خوارج کی کتاب  مسند الإمام الربيع بن حبيب کا وہی درجہ ہے جو اہل سنت میں صحیح البخاری کا ہے اور اس میں کئی روایات میں سورج گرہن والی روایت ہے جس میں عذاب قبر کا ذکر ہے

اسی طرح نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ پر انکی کتب میں اس کا ذکر ہے

خارجیوں کی کتاب  حاشية الترتيب لأبي ستة کے مطابق

وقد اشتهر من رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن السلف الصالحين الاستعاذة بالله من عذاب القبر، فالتصديق به ممكن

اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور سلف صالحین سے عذاب قبر سے  الله کی پناہ مانگنا مشھور ہے پس اس کی تصدیق ممکن ہے

کتاب شرح  الجامع الصحيح مسند الإمام الربيع بن حبيب الفراهيدي کے مطابق خارجی عالم لکھتے ہیں

وقال لولا أن لا تدافنوا لدعوات الله أنَّ يسمعكم عذاب القبر وقد سمعه بعض الخواص بل وبعض العوام على ما ذكر وقد أنكره العلامة الصبحي وقال لعلَّ ذلك أصوات الجن بناء على إنكار عذاب القبر ولا سبيل إلى إنكاره والعلم عند الله تعالى.

اور کہا اگر یہ نہ ہوتا کہ تم دفن نہ کرو گے تو میں  الله سے دعا کرتا کہ تم کو سنا دے جو میں سنتا ہوں اور بعض خواص نے سنا بلکہ بعض عوام نے بھی سنا اور اس کا انکار علامہ الصبحي نے کیا اور کہا ہو سکتا ہے یہ جن کی آواز ہو عذاب قبر سے انکار کی بنیاد پر اور اس  انکار میں ان کے پاس سبیل نہیں ہے اور علم الله کے پاس ہے

یعنی تمام خوارج عذاب قبر کے انکاری نہیں ہیں بلکہ چند علماء تھے

عصر حاضر کے خارجی عالم   أحمد بن حمد الخليلي سے سوال ہوا

ما القول في عذاب القبر وقول الإمام الربيع فيه ؟

: على أي حال؛ الإمام الربيع كغيره من أئمة السلف يثبتون عذاب القبر، هذا هو المروي عن الصحابة وعن التابعين، وإشارات من القرآن الكريم تدل على ذلك فإن الله-تبارك وتعالى-يقول: { النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ } [ سورة غافر، الآية:46 ]، هذه الآية فيها إشارة إلى عذاب القبر، وهناك إشارات متعددة من آيات أخرى بجانب الأحاديث الكثيرة التي قالوا بأنها متواترة المعنى وهي تدل على أن الكافر والفاسق يعذبان في قبريهما والعياذ بالله.

آپ عذاب قبر پر کیا کہتے ہیں اور امام الربیع  نے کیا کہا ہے؟

ہر حال میں امام الربیع نے ائمہ سلف ہی کی طرح عذاب قبر کا اثبات کیا ہے جو صحابہ اور تابعین سے مروی ہے اور اس پر قرآن میں اشارت ہیں 

یاد رہے کہ اس جواب میں ائمہ سلف سے مراد خارجی علماء ہیں

کسی مماملے میں قرآن سے دلیل دینے والا خوارج ہے

جواب

قرآن سے دلیل لینا تمام مسلمانوں اور اہل قبلہ کا عمل ہے اس میں خوارج اور اہل سنت میں کوئی فرق نہیں
یہ جاہلانہ کلام ان مولویوں کا ہے جو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خوارج صرف قرآن دیکھتے ہیں جبکہ خوارج کا اپنا مصدر حدیث بھی ہے جو جابر بن زید کی سند سے ابن عباس سے روایت کیا گیا ہے
جس کو مسند الربیع کہا جاتا ہے

جو حضرات عمان میں ہیں وہ وہاں کے کسی بھی مکتب میں جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ خوارج حدیث کی کتب بھی رکھتے ہیں اور جس کو شک ہو وہ وہاں ان کے علماء سے حدیث پر ان کی رائے پوچھ سکتا ہے
اصل میں یہ دھوکہ برصغیر میں دیا جاتا ہے لیکن یہ کہنے کی کسی عرب مولوی کو ہمت نہیں کہ خورج حدیث نہیں مانتے
———

خوارج میں سے بعض
عذاب قبر
رویت باری تعالی
پل صراط
وغیرہ کا انکار کرتے ہیں لیکن تمام نہیں

اس میں خاص عذاب قبر کا ذکر راقم نے اس ویب سائٹ پر کیا ہے
http://www.islamic-belief.net/masalik/خوارج/
⇓ کیا خوارج عذاب قبر کے انکاری ہیں ؟

Comments are closed.