دیوبندیت

 عقیدہ ٣ :  وہ  حصّہ  زمین  جو جناب  رسول  الله صلی الله  علیہ وسلم  کے ا عضاۓ مبارکہ کو مس کیے ہوے  ہے علی اطلاق  افضل  ہے یہاں تک کہ   کعبہ  اور  عرش و کرسی  سے  بھی  افضل ہے 

 عقیدہ  ٤ : ہمارے  نزدیک  اور  ہمارے  مشائخ  کے  نزدیک  دعاؤں  میں  انبیاء علیھم السلام  اور  صلحاء اولیاء شہدا ء و صدقین کا توسل جائز  ہے  ان کی  حیات میں بھی اور ان کی وفات کے بعد بھی اس طریقہ پر کہ ، کہے : یا الله  میں  بوسیلہ  فلاں بزرگ  کے تجھ  سے دعا کی قبولیت اور حاجت  براری  چاہتا  ہوں یا اسی جیسے اور کلمات کہے

 عقیدہ  ٥ : آ نحضرت صلی الله  علیہ وسلم  کی قبر کے پاس حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کرنا اور یہ کہنا بھی جائز ہے کہ حضرت میری مغفرت کی  شفاعت فرمائیں

 عقیدہ  ٦ : اگر کوئی شخص آ نحضرت صلی الله  علیہ وسلم  کی قبر مبارک کے پاس سے صلوۃ و سلام  پڑھے تو اس کو آپ بنفس نفیس خود  سنتے  ہیں  اور دور سے پڑھے ہوے   صلوۃ و سلام  کو  فرشتے  پہچا نتے ہیں 

 عقیدہ ٧ : ہمارے  نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت  صلی الله  علیہ وسلم  اپنی قبر میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دنیا کی سی ہے بلا مکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آ نحضرت اور تمام انبیاء علیھم السلام  اور شہداء کے ساتھ برزخی نہیں ہے جو حاصل ہے تمام مسلمانوں بلکہ سب آدمیوں  کو 

 عقیدہ  ٩ :  ہمارے  نزدیک  آ نحضرت  صلی الله  علیہ وسلم  اسی طرح جملہ   انبیاء علیھم السلام  اپنی قبروں میں  زندہ ہیں  نماز پڑھتے ہیں  حس و علم سے موصوف ہیں اور آپ پر امّت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں 

 عقیدہ  ٢٤ : مشائخ  اور بزرگوں کی روحانیت سے استفادہ  اور ان کے سینوں اور قبروں سے باطنی فیوض کا پہنچنا سو بیشک صحیح  ہے مگر  اس طریقہ سے جو اس کے اہل اور خواص کو معلوم ہے 

 یہ  تمام  عقائد  مشہور کتاب المہند و المفند  یعنیعقائد علمائے  دیوبند تالیف  خلیل احمد سہارنپوری  سے لئے گئے ہیں 

 :تبصرہ 

ایک مسلم جب دیوبند کے فارغ تحصیل علماء سے جب اس عقیدہ پر استفسار کرتا ہے تو ان کا جواب کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ کیا الله کے نبی مخلوق میں سب سے برتر نہیں ؟ کیا کعبہ مخلوق نہیں ؟ تو سائل کہتا ہے جی ہاں – اس پر دیوبند کے علماء فرماتے ہیں تو پس ثابت ہوا کہ الله کے نبی کعبہ سے افضل ہیں اس میں کیا قباحت ہے؟  اس طرح کے خلط مبحث کر کے اس استفسار سے جان چھڑآی جاتی ہے –

امام بخاری تو روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الله  علیہ وسلم  نے تو اس بات سے بھی منع کیا کہ ان کو یونس علیہ السلام سے بہتر کہا جاۓ  کیونکہ   یونس علیہ السلام  وہ واحد نبی ہیں جنہوں نے الله کا حکم آنے سے پہلے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تھا –

امام مسلم تو روایت کرتے ہیں کہ     نبی صلی الله  علیہ وسلم  نے تو اس بات سے بھی منع کیا کہ ان کو اور الله کو ایک ہی ضمیر میں بیان کیا جائے جب  کسی نے  نبی صلی الله  علیہ وسلم  کے سامنے اس طرح کیا تو آپ   صلی الله  علیہ وسلم نے سرزنش بھی کی

اب یہ مقام الله کے نبی  صلی الله  علیہ وسلم نے خود پسند کیا تو اب ہم اس کو کیسے بدل سکتے ہیں  پھر جس کعبہ کی عظمت کے لئے تکالیف اٹھائی  ہجرت کی اس امّت نے  الله سے غدرکیا  اور  اپنے نبی کی محبت میں غلو کیا

اس کعبہ کو الله نے بیت الله قرار دیا جس کی عظمت کی وجہ سے خود الله کے نبی نے احرام باندھا نبی نے خود اس کا طواف کیا اس سفر کے دوران جو مٹی جسد اطہر کو لگی اس کو وضو سے دھو دیا اور خود بیت الله کو قبلہ مانتے ہوۓ سر بسجود ہوۓ –

 پھر غلو میں ایک قدم اور بڑھایا اور کہا کہ امّت کے اعمال بھی پیش ہوتے ہیں گویا الله کے علم الغیب میں نقب لگائی اور اپنے نبی کو امّت کے اعمال سے با خبر قرار دیا – اور غلو کیا اور مالک کے وقار کو للکارا کہ    الله کے نبی بھی زندہ ہیں وہ بھی قبر میں – الله کی پناہ مالک اس شرک سے بچا –

پھر غلو کیا اور یہ عقیدہ گھڑا گیا کہ نہ صرف نبی بلکہ تمام صالحین قبروں میں زندہ ہیں- پھر سچ اور جھوٹ  کی تمیز ختم ہوئی قبریں اور خانقاہیں آباد ہوئیں – ابھی بھی وقت ہے توبہ کریں اس کفر و شرک سے اور الله کی طرف پلٹیں

دیوبندوں کے باطل عقیدوں کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ ان عقائد پر اجماع ہے

چھٹی صدی ہجری میں  امت میں ایک غیر ضروری بحث چھیڑ دی گئی کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ افضل ہے

کتاب   نهاية الإيجاز في سيرة ساكن الحجاز از رفاعة رافع بن بدوي بن علي الطهطاوي (المتوفى: 1290هـ) کے مطابق

ومكة أفضل من المدينة؛ لأن مكة تشرف بفضل العبادة فيها على غيرها مما تكون العبادة فيه مرجوحة، وهذا قول الجمهور، وعند الإمام الشافعى مكة أفضل من المدينة، وحكى عن مالك ومطرف وابن حبيب- من أصحابه- لكن المشهور عن مالك وأكثر أصحابه تفضيل المدينة، وقد رجع عن هذا القول أكثر المصنفين من المالكية، واستثنى القاضى عياض البقعة التى دفن فيها النبى صلّى الله عليه وسلّم، فحكى الاتفاق على أنها أفضل بقاع الأرض. وأنشد بعضهم:
جزم الجميع بأنّ خير الأرض ما … قد حاط ذات المصطفي وحواها

اور مکہ ، مدینہ سے افضل ہے کیونکہ مکہ کو اس میں عبادت کی وجہ سے شرف ملا … اور یہ قول جمہور کا ہے اور امام شافعی کا کہنا ہے کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے اور ایسا ہی حکایت کیا گیا ہے امام مالک اور مطرف اور ابن حبیب سے اور ان کے اصحاب سے – لیکن مشھور ہوا کہ امام مالک اور ان کے اصحاب مدینہ کی افضلیت کے قائل ہیں اور پھر اسی طرف بہت سے مصنفین مالکیہ میں سے گئے اور قاضی عیاض نے خاص کیا اس ٹکڑے کو جس میں نبی صلی الله علیہ وسلم دفن ہیں اور اس پر اتفاق حکایت کیا کہ یہ باقی زمین سے افضل ہے اور بعض نے شعر کہے

سب کا جزم ہے کہ زمین میں سب سے بہتروہ ہے

جو گھیرے ہوئے ہے ذات مصطفی کو اور ان کے ارد گرد کو

کتاب شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية  از الزرقاني المالكي (المتوفى: 1122هـ) میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت پر لکھا گیا

وأجمعوا على أن الموضع الذي ضمَّ أعضاءه الشريفة -صلى الله عليه وسلم- أفضل بقاع الأرض، حتى موضع الكعبة، كما قاله ابن عساكر والباجي والقاضي عياض، بل نقل التاج السبكي كما ذكره السيد السمهودي في “فضائل المدينة”, عن ابن عقيل الحنبلي: إنها أفضل من العرش، وصرَّح الفاكهاني بتفضيلها على السماوات

اور اس پر اجماع ہے کہ وہ مقام جوأعضاءه الشريفة  سے ملے ہوئے ہیں صلی الله علیہ وسلم کے  وہ افضل ہیں باقی زمین سے حتی کہ کعبه سے بھی جیسا کہ ابن عساکر اور الباجی اور قاضی عیآض نے کہا بلکہ التاج السبکی کہتے ہیں کہ  السيد السمهودي نے کتاب میں ابن عقیل حنبلی سے نقل کیا ہے کہ یہ تو عرش سے بھی افضل ہے اورالفاكهاني  نے صرآحت کی ہے کہ سات آسمانوں سے بھی افضل ہے

اس میں انے والے ناموں پر غور کریں

أبو الوليد سليمان بن خلف الباجي المالکی  المتوفی ٤٧٤ ھ

ابن عقیل الحنبلی المتوفی ٥١٣ ھ

قاضی عیآض المالکی المتوفی ٥٤٤ ھ

ابن عساکردمشقی المتوفی ٥٧١ ھ

الفاكهاني  المتوفی ٧٣٤ ھ

التاج السبکی الموفی ٧٧١ ھ

السيد السمهودي المتوفی ٩١١ ھ

یعنی امام شافعی اس اجماع کے انکاری تھے اور چھٹی صدی کی ابتداء میں اس عقیدے کا پرچار شروع ہوا کہ زمین کا وہ ٹکڑا جو جسد نبی صلی الله علیہ وسلم کو مس کیے ہوئے ہے عرش و سات آسمانوں سے افضل ہے

ایسے عقائد بعد والوں نے گھڑے ان پر اجماع کا دعوی بھی کیا حالانکہ ان پر کوئی اجماع نہ تھا

شَعَائِرَ اللَّهِ کی تعظیم

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: «مَا أَعْظَمَ حُرْمَتَكِ وَمَا أَعْظَمَ حَقَّكِ، وَالْمُسْلِمُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنْكِ، حَرَّمَ اللَّهُ مَالَهُ، وَحَرَّمَ دَمَهُ، وَحَرَّمَ عِرْضَهُ وَأَذَاهُ، وَأَنْ يُظَنَّ بِهِ ظَنَّ سُوءٍ»

ابن عباس رضی الله عنہ نے کعبہ کو دیکھتے ہوئے کہا کیسی تیری حرمت ہے اور بلند تیرا حق ہے اور ایک مسلم کی حرمت تجھ سے بلند ہے اور الله نے اس کا مال حرام کیا اس کا خوں حرام کیا اور اس کو ایذا دینا حرام کیا اور اس سے بھی کہ سوئے ظن رکھا جائے

اس کی سند ضعیف ہے سند میں مجالد بن سعید ہے جس پر محدثین کی جرح ہے-  ابن حبان کہتے ہیں  كان رديء الحفظ يقلب الأسانيد ويرفع  ردی حافظہ کا مالک تھا اور سندوں کو بدلتا اور ان کو اوپر کرتا تھا-  ابن سعد کہتے ہیں  كان ضعيفا في الحديث ، یہ حدیث میں ضعیف تھا

اسی طرح کے الفاظ عبد الله بن عمرو سے بھی مروی ہیں مصنف عبد الرزاق کی سند ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ مِينَاءَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: إِنِّي لَأَطُوفُ بِالْبَيْتِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بَعْدَ حَرِيقِ الْبَيْتِ، إِذْ قَالَ: «أَيْ سَعِيدُ، أَعَظَّمْتُمْ مَا صَنَعَ الْبَيْتُ؟» قَالَ: قُلْتُ: وَمَا أَعْظَمُ مِنْهُ؟ قَالَ: «دَمُ الْمُسْلِمِ يُسْفَكُ بِغَيْرِ حَقِّهِ»

عبد الرزاق ، ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں مجھ کو خبر دی عبد الله بن عثمان نے کہ سَعِيدَ بْنَ مِينَاءَ نے خبر دی کہ میں بیت الله جلنے کے بعد عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو  رضی الله عنہ کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ انہوں نے کہا اے سعید بیت الله سے عظمت والا اور کیا ہے ؟ میں نے کہا کیا ہے اس سے عظمت والا؟ بولے : مسلمان کا خون بہایا جائے بغیر حق کے

اس کی سند میں عبد الله بن عثمان بن خثيم  ہے جس کو ابن معین ليس بالقوي  قوی نہیں  کہتے ہیں- میزان از الذھبی کے مطابق ابو حاتم نے صالح الحدیث کہا اور  لا يحتج به بھی کہا- لہذا اس راوی پر دو رائے ہوئیں اور معاملہ مشتبہ ہو گیا

روایت تاریخ کے مطابق غلط ہے کیونکہ کعبہ ابن زبیر کی وفات پر جلا تھا جب حجاج نے مکہ پر حملہ کیا اس کے برعکس عبد الله بن عمرو کی وفات ٦٣ ہجری میں ہوئی ایک قول ہے کہ واقعہ حرہ کی رات وفات ہوئی

ترمذی ایک حسن غریب حدیث نقل کرتے ہیں

الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقِد، عن أوفى بن دلهم، عن نافع: أنَّ ابنَ عمرَ نظر يومًا إلى البيت، فقال: ما أعظمكَ! وأَعظمَ حُرمتكَ، وللمؤمنُ أعظمُ عند اللهِ حُرمةً منكَ.

نافع کہتے ہیں ایک روز ابن عمر رضی الله عنہ نے بیت الله پر نظر کی اور کہا کیسی تیری شان ہے اور کتنی بلند حرمت ہے اور مومن کے لئے الله کے نزدیک تجھ  سے بھی بلند حرمت ہے

اس کی سند میں أوفى بن دلهم  ہے  الذھبی میزان الاعتدال میں کہتے ہیں قال الأزدي: فيه نظر. الأزدي کہتے ہیں اس پر نظر ہے اور وقال أبو حاتم: لا يدري من هو. ابو حاتم کہتے ہیں نہیں جانتا یہ کون ہے

 البانی اس مجھول راوی کی اس روایت کو    التعليق الرغيب میں حسن صحیح کہتے ہیں لیکن ضعيف غاية المرام (435) ، الضعيفة (5309) // ضعيف الجامع (5006) عن ابن عمر میں اس کو ضعیف کہتے ہیں

مسند الفاروق از کے مطابق یہ حرمت والا قول عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی منسوب ہے- سند ہے

ثنا محمد بن المهلَّب، ثنا علي بن جرير، ثنا حماد، عن ثابت، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمَير   قال: قال عمرُ بن الخطاب رضي الله عنه: المؤمنُ أكرمُ على اللهِ من الكعبةِ.

وهذا منقطع.

عبد الله بن عُبيد بن عُمَير کہتے ہیں کہ عمر بن الخطاب رضی الله عنہ نے کہا مومن الله کے نزدیک کعبہ سے زیادہ عزت والا ہے

ابن کثیر کہتے ہیں  یہ منقطع روایت ہے

سنن ابن ماجہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَيَقُولُ: «مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ، مَالِهِ، وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا

عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘
ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932
طبراني، مسند الشاميين، 2: 396، رقم: 1568
منذري، الترغيب والترهيب، 3: 201، رقم: 3679

محمد فؤاد عبد الباقي تعلیق میں لکھتے ہیں ابن ماجہ کے شیخ ضعیف ہیں:  ونصر بن محمد شيخ ابن ماجة ضعفه أبو حاتم وذكره ابن حبان في الثقات،  نصر بن محمد کو ابو حاتم نے ضعیف گردانا ہے اور ابن حبان نے ثقات میں شمار کیا ہے

شعيب الأرنؤوط سنن ابن ماجه  پر تحقیق میں  اس روایت کو ضعیف کہتے ہیں

الغرض تمام اسناد ضعیف  ہیں

واضح رہے کہ ایک مومن کا خون یقینا قابل احترام ہے یہی مضمون صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اِس طرح بیان ہوا ہے

مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.

جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو

 لیکن کعبہ سے مومن افضل نہیں کیونکہ کعبہ  کے لئے قرآن میں ہے

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ

اور ایسا ہی شَعَائِرَ اللَّهِ  کی تعظیم کرنا دلوں کے تقوی میں سے ہے

وہ جانور جو کعبہ کے لئے وقف ہو جائے اس کو تکلیف دینا حرام ہے، مومن کو تکلیف دینا حرام ہے لیکن یہ عظمت کعبہ   کی وجہ سے ہے-

الله تعالی سوره حج میں کہتا ہے

وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ

اور چوپائے ہم نے تمہارے لئے شَعَائِرَ اللَّهِ میں سے کر دیے

مومن پر تو شَعَائِرَ اللَّهِ  کی تعظیم بحکم قران لازم ہے – شَعَائِرَ اللَّهِ  یعنی وہ تمام چیزیں جن کا تعلق بیت الله سے ہو

الله تعالی سوره المائدہ میں کہتا ہے

جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَاماً لِلنَّاسِ

الله نے کعبہ کو حرمت والا گھر بنایا لوگوں (مومنوں) کے قیام کی جگہ

  ایک مشرک جو کعبہ کا غلاف تبدیل کرتا تھا جو اس میں جھاڑو دیتا تھا جو اس کے حاجیوں کو پانی پلاتا تھا اس عظمت کا حق دار نہ تھا کیونکہ ایمان  کی ہی وجہ سے ایک مومن نجس نہیں – لیکن اس میں  یہ کہنا کہ مومن اب کعبہ سے بلند ہے غلو ہے

کعبه کی ہی وجہ سے سال کے چار ماہ حرمت والے ہیں کیونکہ ان کا تعلق حج سے ہے سوره التوبہ میں ہے

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ
بے شک اللہ کے ہاں ١٢ ماہ ہیں جس دن سے الله نے زمیں و آسمان کو خلق کیا ان میں چار حرمت والے ہیں

صحیح بخاری کے مطابق یہ چار ماہ ذو القعدةِ، وذو الحجّةِ، والمحرّمِ، ورجبُ ہیں کیونکہ  ذو القعدةِ، وذو الحجّةِ، والمحرّمِ  میں حج کا سفر اور حج ہوتا ہے اور رجب میں عمرہ کیا جاتا ہے
یعنی کعبه سے متعلقات کی وجہ سے جانوروں کی مہینوں کی حرمت ہوئی اور ان مہینوں میں قتل کرنا حرام ہوا – ان جانوروں کا مارنا حرام ہوا لیکن اس سے یہ اخذ کرنا کہ مومن ان سب سے بلند و حرمت والا ہوا ، کہاں کا انصاف ہے ایک مومن پر الٹا ان سب کی حرمت لازم ہے-  جس مومن کو الله کا یہ حکم ہو کہ ان سب جانوروں اور مہینوں کا احترام کرو وہ وہ خود اپنی ہی حرمت کا دعوی کرے تو اس کا یہ قول  کیسے درست ہو سکتا ہے

انٹرنیٹ پر ایک نامعلوم مصنف کی کتاب میں تعویذات کا دفاع اس انداز میں کیا گیا ہے کہ

tamemah-1

صاحب مضمون مزید لکھتے ہیں

tamemah-2

موصوف کے مطابق قرانی تعویذ ، تمیمہ میں شامل نہیں

ابی داوود مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني میں کہتے ہیں کہ

رَأَيْتُ عَلَى ابْنٍ لِأَحْمَدَ، وَهُوَ صَغِيرٌ تَمِيمَةً فِي رَقَبَتِهِ فِي أَدِيم

میں نے احمد کے بیٹے جبکہ وہ چھوٹے تھے ایک تمیمہ (تعویذ) گلے میں دیکھا

امام احمد ، منکے یا شرکیہ الفاظ پر مشتمل تعویذ  تو نہیں لٹکاتے ہوں گے آپ کے خیال میں قرانی ہی لٹکاتے ہونگے لہذا معلوم ہوا کہ تممیہ سے مراد قرانی یا دعایه کلمات پر مشتل تعویذ بھی ہیں

کتاب  الفتن از نعیم بن حماد کی روایت کے الفاظ ہیں کہ اگر کوئی دجال کو پائے تو

 أَنْتَ الدَّجَّالُ، ثُمَّ قَرَأَ فَاتِحَةَ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنَّ يَفْتِنَهُ، وَكَانَتْ لَهُ تِلْكَ الْآيَةُ كَالتَّمِيمَةِ مِنَ الدَّجَّالِ

تو دجال ہے پھر سوره الکہف کی شروع کی آیات پڑھے تو وہ اس کو فتنہ میں مبتلا نہ کر سکے گا اور یہ آیات  التَّمِيمَةِ کے طور پر دجال  کے لئے ہو جائیں گی

کیا عربی کی رو سے یہاں  التَّمِيمَةِ کا مطلب تعویذ نہیں؟

صاحب مضمون لکھتے ہیں

taweez-1

نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور کے اہل کتاب بھی تعویذ لٹکاتے تھے اس کے لئے تلمود دیکھی جا سکتی ہے جس میں توریت کی آیات لکھی جاتی تھیں

نبی صلی الله علیہ وسلم نے تمیمہ کو شرک قرار دیا تو اس میں کوئی استثناء بیان نہیں کیا

لہذا یہ بھی الہامی آیات پر مبنی تعویذ کی ممانعت کی ایک دلیل ہے

 تابعین کے فتوی

موصوف لکھتے ہیں

taweez-tabeen-1 taweez-tabeen-2

ان روایت کو مصنف ابن ابی شیبہ سے لیا گیا ہے

پہلی روایت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ التَّعْوِيذِ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ فِي أَدِيمٍ»

اس کی سند میں ابو عصمہ راوی ہیں

 احمد العلل میں کہتے ہیں

 وقد روى شعبة، عن أبي عصمة، عن رجل، عن ابن المسيب، في التعويذ. «العلل» (1460) .

 ابو عصمہ عن رجل عن ابن المسیب سے تعویذ کی روایت کرتے ہیں

معلوم ہوا کہ اس روایت میں مجھول راوی ہے

دوسری روایت ہے کہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ حَسَنٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَكْتُبَ الْقُرْآنَ فِي أَدِيمٍ ثُمَّ يُعَلِّقُهُ»

اس روایت کے راوی کون سے حسن ہیں کیونکہ حسن نام کے سات راوی ہیں جو جعفر الصادق سے روایات بیان کرتے ہیں اور یہ سب ثقہ نہیں بلکہ بعض مجھول بھی ہیں

تیسری روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالشَّيْءِ مِنَ الْقُرْآنِ»

کتاب المتفق والمفترق از خطیب البغدادی  کے مطابق

أخبرنا البرقاني قال قال لي أبو الحسن الدارقطني إسماعيل بن مسلم المكي وأصله بصري يروي عن الحسن وابن سيرين وقتادة متروك

امام دارقطنی کہتے ہیں إسماعيل بن مسلم المكي اور اصلا بصري  ہیں  الحسن سے ابن سيرين سے  اور قتادہ سے روایت کرتے ہیں متروک ہیں

چوتھی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ يُعَلِّقَ الْقُرْآنَ»

اس کی سند میں لَيْثٍ بن ابی سلیم  ہیں جو مدلس ہیں عنعنہ سے روایت کرتے ہیں لہذا یہ قول قابل دلیل نہیں

پانچویں روایت ہے کہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ: «لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا أَنْ يُعَلِّقَ الرَّجُلُ الشَّيْءَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِذَا وَضَعَهُ عِنْدَ الْغُسْلِ وَعِنْدَ الْغَائِطِ»

امام بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں

جُوَيبر بْن سَعِيد، البَلخِيّ
عَنِ الضحاك
قَالَ لِي علي، قَالَ يَحيى: كنت أعرف جُوَيبرًا بحديثين، يَعني، ثم أخرج هذه الأحاديث بَعدُ، فضَعَّفَهُ

 علی المدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہ…. یہ ضعیف ہے

 محمد الیاس گھمن اپنے مضمون  کیپٹن مسعود الدین عثمانی؛ افکار وعقائد میں تعویذ کے حق میں روایت پیش کرتے  ہیں

أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ كَانَ يَكْتُبُ لِابْنِهِ الْمُعَاذَةَ

سنن الکبریٰ البیہقی میں اس روایت کی سند ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنِ الْحَجَّاجِ , عَنْ فُضَيْلٍ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ كَانَ يَكْتُبُ لِابْنِهِ الْمُعَاذَةَ

سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ اپنے بیٹے کے لئے تعویذ لکھتے تھے

اس کی سند میں الْحَجَّاجِ بن أرطاة ہے  جو متروک الحدیث ہے دیکھئے الضعفاء الكبير للعقیلی

 معلوم ہوا کہ یہ  روایات مظبوط نہیں.  اگر ایک چیز کو شرک قرار دیا جائے تو پھر اس میں تو احتیاط اور بڑھ جانی چاہیے نہ کہ کمزور روایت کے سہارے اس کو امت میں پھیلایا جائے

افسوس کہ تعویذات کے حوالے سے متضاد بیانات اتے رہتے ہیں مثلا خواجہ محمّد قاسم کتاب تعویذ اور دم میں لکھتے ہیں

qasim-4

معلوم ہوا کہ تعویذ شرک ہیں اور ایسا شرک جس کی وضاحت ضروری ہے ورنہ ایمان کی خرابی کا اندیشہ ہے

افسوس اپنی ہی دوسری کتاب کراچی کا عثمانی مذھب میں لکھتے ہیں

kum-102

یہاں اس تضاد بیانی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ایک کتاب میں جو چیز شرک تھی دوسری میں وہ منہ کا ذائقہ قرار پائی

کیا دم اور تعویذ ایک ہیں  

نبی صلی الله علیہ وسلم نے غیر مشرکانہ دم کی اجازت دی تھی لیکن تمیمہ کو شرک قرار دیا

الیاس گھمن صاحب لکھتے ہیں

در حقیقت یہ انکا دھو کہ اور مغالطہ ہے کیونکہ اردو استعمال میں کچھ پڑھ کر دم کرنے کوجھاڑ پھونک اور کچھ لکھ کر گلے وغیرہ میں ڈالنے کو تعویذ کہتے ہیں جبکہ  عربی لغت کے لحاظ سے رقیہ کا لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس کے مفہوم میں جھاڑ پھونک اور تعویذات دونوں داخل ہیں اور رقیہ کا لفظ جہاں بھی حدیث اور لغت عرب میں وارد ہوا ہے اس سے ایسا کلام مراد ہے جس کےذریعہ سے علاج کیا جائے خواہ پڑھ کر دم کیا جائے یا کسی چیز پر پڑھ کر مریض پر چھڑکا جائے یا مریض کو کھلایا جائے یا کاغذ یا چمڑے پر لکھ کر مریض کے گلے یا بازو پر باندھ دیا جائے یہ سب رقیہ کا مصداق و اطلاق ہیں

 موصوف نے لغت سے رقیہ ، تعویذ اور ان سب کو آپس میں ملا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تعویذ اور دم ایک ہیں حالانکہ ان سب کی میں کیٹگری عوذۃ یعنی پناہ لینا ہے اس حوالے سے دم، تمیمہ، تعویذ وغیرہ سب ایک ہیں لیکن اس سے اس کا جواز ثابت نہیں ہوتا نبی صلی الله علیہ وسلم نے دم کی رخصت دی کیونکہ دم دعا  کی طرح ہے لیکن  گلے ہیں چیز لٹکانے سے منع کیا.  لہذا اس مسئلہ پر گفتگو کے بجائے موصوف نے خلط مبحث کر دیا

الیاس گھمن صاحب لکھتے ہیں

یہ چند شو اہد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رقی کا اطلاق تعویذات پر اور تعویذات کا اطلاق رقی پر ہوتا ہے لہذا رقی‌کی‌رخصت میں تعویذات کی بھی رخصت شامل ہے کیونکہ دونوں میں کلام کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے لہذا جھاڑ پھونک کو جائز اور تعویذات کو نا جائز کہنا  محض سینہ زوری ہے۔اگر چہ کتب احادیث میں جواز تعویذ کے متعلق مستقل روایا ت موجودہیں بالفرض اگر نہ بھی ہوتیں تو رقیہ والی روایا ت ہی کافی تھیں

اس کے بعد موصوف آثار پیش کرتے ہیں جن کا ضعیف  ہونا اوپر واضح کیا گیا ہے اگر یہ درست ہوتا تو صحابہ نے تعویذ لٹکائے ہوتے جس کی کوئی دلیل نہیں . موصوف روایت پیش کرتے ہیں

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْفَزَعِ كَلِمَاتٍ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ عَقَلَ مِنْ بَنِيهِ وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْ كَتَبَهُ فَأَعْلَقَهُ عَلَيْهِ”
سنن ابی داود ج2ص187باب كَيْفَ الرُّقَى

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کو ڈراورخوف دور کرنے کی یہ دعا سکھاتے تھے”اعوذبکلمات اللہ التامۃالخ” اور حضرت عبد اللہ بن عمر و اپنے سمجھدار بیٹوں کو یہ دعا زبانی یاد کرا دیتے تھے تا کہ وہ اس کو بطور وظیفہ کےپڑھیں‌۔ اور چھوٹے بچوں کے لئے اس دعاکو بطور تعویذ لکھ کرلٹکادیتےتھے

اس کی سند میں محمّد بن اسحاق بن یسار ہے جس پر احناف کی جرح مشھور ہے

طرفہ تماشہ ہے کہ موصوف نے حلال و حرام میں محمّد بن اسحاق کی اور عمرو بن شعیب کی روایت پیش کی ہے جبکہ اس کی روایت احناف خود فاتحہ خلف الامام میں نہیں مانتے . ایک عمل  کی روایت اس راوی سے رد کرتے ہیں اور اسی راوی کی عقیدے میں روایت لیتے ہیں

ایک اہل حدیث عالم لکھتے ہیں

 قرآنِ مجید اور حدیث دم کی صورت میں الٰہ نہیں بنتے۔ تو کاغذ میں لکھنے سے کیونکر الٰہ بن گئے؟ شہد اور دیگر ادویہ میں کوئی شفاء سمجھے تو وہ الٰہ نہیں بنتے تو کاغذ میں لکھے ہوئے قرآنِ مجید میں شفاء سمجھے تو وہ کیسے الٰہ بن گیا؟

صحابہ نے دم کیا لیکن تعویذ نہیں پہنا صحابہ نے شہد کھایا گلے میں نہیں لٹکایا جس چیز کا جو مقصد تھا اس کو اس کی حد پر ہی رکھا لیکن اگر کوئی حد پار کرے تو پھر نہ شرک ہے نہ بدعت

ڈاکٹر علامہ خالد محمود نے مقام حیات کے نام سے کتاب لکھی ہے جس میں موت پر بحث کی ہے. موصوف سوره الزمر کی آیت ٤٢ میں موجود ایک اہم لفظ توفی  پر مقام حیات ص ٧٨ لکھتے ہیں

maqam-pg-78

معلوم ہوا کہ توفی کا مطلب وصول کرنا ہے

امام راغب اصفہانی کے حوالے سے مقام حیات ص ٧٩ لکھتے ہیں

maqam-pg-79-a

موت کا مطلب روح کی جسم سے جدائی ہے اور قوت حیات کا زوال ہے. لیکن مقام حیات ص ٧٩ پرلکھتے ہیں

maqam-pg-79-b

قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ توفی کا مفہوم موصوف پر واضح ہے لیکن یہاں اس کا مفہوم تبدیل کر دیا گیاہے اب وہ وصول کرنے سے کھینچنا بن گیا ہے.  توفی کے مفہوم میں وصول کرنا، پورا لینا، پورا قبض کرنا تو ہے کھنچنا  نہیں ہے. قرآن میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو الله تعالی نے خبر دی

 إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ

اور جب الله نے کہا اے عیسیٰ میں تم کو قبض کروں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا

اس کا مفہوم خالد محمود  صاحب کے حساب سے ہونا  چاہیے

اور جب الله نے کہا اے عیسیٰ میں تمہیں کھینچوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا

یہ سراسر غلط اور آوٹ پٹانگ مفھوم بنتا ہے.

أبو محمد عبد الله بن مسلم بن قتيبة الدينوري (المتوفى: 276هـ) اپنی کتاب غريب القرآن لابن قتيبة میں لکھتے ہیں کہ

وقوله: يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ [سورة الزمر آية: 42] ، هو من استيفاء العدد واستيفاء الشيء إذا استقصيته كله. يقال: توفيته واستوفيته. كما يقال: تيقنت الخبر واستيقنته، وتثبت في الأمر واستثبته. وهذا [هو] الأصل. ثم قيل للموت: وفاة وتوف.

اور الله کا قول يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ [سورة الزمر آية: 42] يَتَوَفَّى (مراد ہے کہ ) پورا گننا اور کسی چیز کی جب پوری جانچ پڑتال کی جائے تو کہا جائے گا توفيته واستوفيته جسے کہا جاتا ہے خبر پر (پورا ) یقین کیا اور انہوں نے اس پر يقين کیا اور امر پر (پورا ) اثبات کیا اور اس کو ثبت کیا اور یہی (اس لفظ کا) اصل ہے اور پھر کہا گیا موت کے لیے بھی وفاة وتوف

اس سے واضح ہے کہ توفی کے مفھوم میں کھنچنا کسی طرح بھی نہیں. توفی  کسی چیز کوپورا قبض کرنا یا پکڑنا ہے

چند صفحات کے بعد توفی کا مفہوم پھر بدل جاتا ہے مقام حیات ص  ١١٢ پر لکھتے ہیں

maqam-pg-112

توفی وصول سے کھنچنا بنا اب قبض کرنا ہوا . جان کو پورا کر لینا کیا ہوتا ہے موصوف نے واضح نہیں کیا. پھر توفی میں روح کیسے نکل گئی.

راغب اصفہانی کے حوالے سے لکھا تھا کہ موت الإبانة الروح عن الجسد ہے لیکن پھر کوئی خیال آیا اور مقام حیات ص پر لکھتے ٨٢ ہیں

maqam-pg-82

آثار حیات مفقود ہونے پر ہی انسانوں کو پتا چلتا ہے کہ روح نکل چکی ہے ورنہ روح آج تک کس نے دیکھی ہے. موت کے مفھوم میں اس قدر الٹ پھیر کر کے لوگوں کو ابہام میں مبتلا کرنے کے بعد یہ بتاتے ہیں کہ موت واقع ہوئی ہی نہیں.

راغب اصفہانی کی موت کی تعریف ، موصوف کی پریشان تعریف سے متصادم ہے بس چند  صفحات

 کے بعد مقام حیات ص ٨٨ پر لکھتے ہیں

 maqam-pg-88

 راغب الأصفهانى (المتوفى: 502هـ) اپنی کتاب المفردات في غريب القرآن میں لکھتے ہیں کہ

 وقوله: كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] فعبارة عن زوال القوّة الحيوانيَّة وإبانة الرُّوح عن الجسد

اور (الله  تعالیٰ کا ) قول : : كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] پس یہ عبارت ہے قوت حیوانی کے زوال اور روح کی جسد سے علیحدگی سے

خالد محمود صاحب کے حساب سے یہ اب معتزلہ کی تعریف بن گئی.

افسوس

احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر

تاویل سے قرآن کو  بنا سکتے ہیں پازند

سوره الملک کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ موت (جو ایک عمل ہے جس) کو الله نے خلق کیا ہے. قرآن کی کی دوسری آیات سے پتا چلتا ہے کہ اس میں فرشتے استمعال ہوتے ہیں جو اخراج نفس کرتے ہیں لہذا روح کی جسد سے علیحدگی بالکل صحیح تعریف ہے

ارسطو (المتوفی ٣٢٢ ع ق م) نے اپنی کتاب بوطیقا میں اس کو بیان کیا ہے. وکیپیڈیا کے مطابق

عالم حواس کی ہر شے عالم مثال کی نقل ہے ۔ ارسطو  کے نزدیک انسان حواس کے ذریعہ کسی شے کا ادراک کرتا ہے. حواس کے ذریعہ جس دنیا کو محسوس کیا جاتا ہے وہ ” اصل حقیقت “ کے نامکمل اور ادھورے مظاہر ہیں. طبعی دنیا کی مختلف شکلیں جدائی اور مثالی شکلوں کی نقلیں تھیں جنہیں اس مادی دنیا میں ھونے والے حادثات نے مسخ کر دیا ہے ہر شے کے اندر ایک مثالی ہیت موجود ہے ۔ لیکن خود اس شے سے اس ہیت کا ادھورا اور نامکمل اظہار ہوتا ہے ۔یہ ہیئت فنکار کے ذہن پرحسی شکل میں اثر انداز ہوتی ہے اور وہ اس کے بھرپور اظہار کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح اس عالم مثال کو سامنے لاتا ہے جودنیا ئے رنگ وبو میں نامکمل طور پر ظاہر ہوا ہے ۔ فلسفی کاکام یہ ہے کہ وہ ان اتفاقی اور مسخ شدہ شکلوں کے اندر ” اصل حقیقت “ کو دریافت کرے اور ان قوتوں کو تلاش کرے جو ساری ہستی کا سبب ہیں اور اسے حرکت میں لاتے ہیں

یعنی عالم مثال ایک متوازی دنیا ہے اور اس دنیا کا ہر وجود اور شے عالم مثال میں بھی ظاہر ہوتا ہے . انسان اصل حقیقت تک اس دنیا میں نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اس کے حواس خمسہ محدود صلاحیت کے حامل ہیں لہذا عالم مثال

تک رسائی ضروری ہے.

 مسلمان فلسفی ان سے اتنے متاثر ہوئے کہ ارسطو کو المعلم الأول کا خطاب دیا. مسلم فلسفیوں ابن سینا (المتوفی ٤٢٩ ھ) اور ابن رشد (المتوفی ٥٩٥ ھ) سے ہوتا ہوا عالم مثال کا یہ نظریہ ابن العربی (المتوفی ٦٣٨ ھ) کی متصوفانہ کتب میں داخل ہوا اور کتاب فصوص الحکم کا سارا زور اس پر رہا کہ جو بھی خواب انبیا نے دیکھے یا ان کو غیب کی خبریں دے گئیں وہ سب ارسطو کے اس عالم مثال سے ظاہر ھو رہی تھیں .  پھر سارے صوفیاء نے اس اصطلاح کو بے دھڑک استمعال کیا.  ابن الوزير (المتوفى: 840هـ) نے کتاب العواصم والقواصم في الذب عن سنة أبي القاسم میں اس کو استعمال کیا.  شاہ ولی الله (المتوفی ١١٧٦ ھ) ، مجدد الف ثانی (المتوفی ١٠٣٤)، عبيد الله السندي  نے ہندو پاک کے اسلامی لٹریچر میں اس کو داخل کیا  اور مکاشفوں کے علی الحق ہونے کی  دلیل کے طور پر پیش کیا

حتیٰ کہ قرآن کی تفسیریں بھی اسی ارسطوئ سوچ پر لکھی گئیں مثلا تفسير أبي السعود، تفسیر مظہری، روح البيان، البحر المديد في تفسير القرآن المجيد وغیرہ. قرآن و حدیث کے ساتھ یہ یونانی سوچ منطبق کرتے ہوئے ان کو بالکل کوئی یہ خیال نہ گذرا  کہ قرآن تو ان اصطلاحات سے پاک ہے اور اس کا مقصد کسی فلسفی کو حق پر ثابت کرنا بھی نہیں وہ تو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے تو پھر اس اصطلاح کو استمعال کرنا چہ معنی!

لیکن افسوس ہے کہ اپنی کتابوں میں فلسفیانہ موشگافیوں کو شامل کرنا شاید ٦٣٨ ہجری کے بعد علمی دھاک بٹھانے کا طریقہ بن گیا تھا. اسی یونانی سوچ سے لبریز کتاب مقام حیات از خالد محمود صاحب ہیں. کتاب میں جا بجا بے تکان عالم مثال کی ترکیب استمعال کی گئی ہے.  معراج النبوی ھو، انبیاء کے خواب ہوں، عالم ارواح ھو، برزخ ھو، عام انسانوں کے خواب ہوں، صوفیاء کے مکاشفے ہوں. الغرض ہر مسئلہ کو اسی عدسے سے دیکھا گیا ہے. اور جیسا کہ واضح ہے ازمنہ قدیم کے ان  یونانی افکار سے تعلّق کا حق ادا کر دیا گیا ہے

 کیا الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس اصطلاح کو استمعال کیا، کیا قرآن میں اس متوازی دنیا کا  کوئی ادنی سا اشارہ بھی ہے. کیا ابن العربی سے پہلے اس اصطلاح کو کسی نے اسلامی لٹریچر میں استمعال کیا؟ ان سب کا جواب نفی میں ہے اور یہ سب متصوفین کو پتا ہے لیکن بعض باتوں میں سحر ہوتا ہے. تصوف

کا فسوں اسقدر ہوش ربا تھا کہ حق و باطل کی تمیز مٹ گئی اور ایک یکسر متوازی دین پیدا ھو گیا

مولانا ثناء الله امرتسری فتوی دیتے ہیں

ثناء عالم مثال

Comments are closed.