بریلویت

قرآن و حدیث اور بریلوی مذهب کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ھوگا یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بلکل اجنبی ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں قرآن و حدیث کے اسلام کی بنیاد توحید ہے دین اسلام میں صرف اور صرف ایک الہ کا تصور اور تیقن ہے الله اکیلا الہ ہے اسکا کوئی ساجھی کوئی شریک نہیں،نہ اسکی ذات میں نہ اسکی صفات میں نہ اسکی مثل کوئی ہے نہ اسکی مانند ہر لحاظ سے یکتا و یگانہ ہے تمام تر عبادات اور مراسم عبودیت اس ہی کے لئے ہیں نماز،روزہ،زکواة،حج جس طرح اس کے لیے ہیں دعا،پکار اسی سے اور نذر و نیاز اسی کے لئے ہیں وہی دینے والا ہے اسی سے مانگنا چاہیے قرآن و حدیث کے دین اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ مصیبت،پریشانی،تکلیف اور ہر قسم کی حاجت میں مدد صرف الله سے مانگنی چاہیے جبکہ بریلویت میں اس کے برعکس غیرالله سے مدد مانگنا غیراللہ سے استمداد چاہنا ہی اصل دین ہے انبیا،اولیا،صلحا،شہدا ہر ایک سے استمداد اور استعانت اس مذہب بریلویت کا خاصہ اور لازمہ ہے ہر وقت غیرالله کی پکاریں لگانا ہر دم ان کی دہائیاں دینا ان کا محبوب مشغلہ ہے ان کے ہاں ان کا ہر پیشوا مرنے کے بعد پنہچا ہوا بزرگ سمجھا جاتا ہے اس کا مزار اور مقبرہ بنا کر اس کے ساتھ وہ معاملات شروع کردیے جاتے ہیں جو صرف الله کے گھر خانہ کعبہ کے ساتھ ہی جائز ہیں اس طرح ان کے معبودوں کا سلسلہ روز بہ روز بڑھتا جاتا ہے یہ اور بات ہے تمام تر مراسم عبودیت بجا لانے کے باوجود انہیں وہ معبود نہیں کہتے پہنچے ہوے بزرگ اور مقربان بارگاہ الہی قرار دیتے ہیں اپنے جیسے انسانوں کو جب اس درجہ پر مامور کرا جاتا ہے تو لا محالہ ان میں بے شمار انہونی صفات تصور کی جاتی اور انہیں قدرت و اختیار کا حامل گردانا جاتا ہے ان کے متعلق بے سروپا افسانے تراشے جاتے ہیں اور من گھڑت قصّوں سے ان کی شان و توقیر بڑھائی جاتی ہے عوام – عوام کلانعام کے مصداق ان من گھڑت قصّوں کہانیوں کی بدولت ان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں اس طرح یہ دین مسلسل پھلتا پھولتا نظر آتا ہے انسانوں میں یہ انہونی صفات، ما فوق الفطری قوت و اختیار ماننے کا رجحان اتنا زود ہضم،اتنا پاپولر کیسے ہو گیا ہے جبکہ قرآن و حدیث کا دین اسلام اس کے بلکل برعکس ہونے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی تمام تر ہفوات کو بڑی شدّت سے رد کرتا ہے ان کو کفر و شرک قرار دیتا ہے اسلام کا اقرار قرآن و سنّت کو ماننے کے دعوے کے باوجود کفر و شرک سے والہانہ وابستگی غیر جانبدار مطالعہ کرنے والے کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے مگر مسلک اور تعصب کی عینک لگے عقل و خرد سے بے نیاز لوگوں کو اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں ایک وجہ یہ بھی ہے، بے شمار الہ تراش لینے میں سب سے زیادہ آسانی انہیں اس وجہ سے ہوئی ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے الله کے رسول اسکے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے متعلق بہت سے عجیب و غریب گمراہ کن عقائد گھڑ کر عام کر دیے ہیں الله کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کے نام سے ان کو عوام میں خوب پزیرائی ملی ساتھ ساتھ اس میں صحابہ کرام رضی الله عنھم کو بھی اس سلسلے میں شامل کیا گیا اس طرح اولیا ، صلحا ،شہدا سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ ایسا چلا کہ اب ان کا ہر بزرگ کسی نہ کسی درجہ کا معبود بن جاتا ہے

الله کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے متعلق اس گروہ کثیر نے جو من گھڑت گمراہ کن عقائد عام کیے ہیں ان تمام کا احاطہ کرنا ممکن نہیں مگر ان میں چند نمایاں یہ ہیں

١) الله کے نبی بشر نہیں بلکہ مجسّمہ نور تھے ایسا نور جو الله کے نور سے جدا ہوا

٢) الله کے نبی عالم الغیب تھے

٣ ) الله کے نبی حاضر و ناظر ہیں

٤) الله کے نبی ہر پکارنے والے کی پکار سنتے ہیں اور اجابت فرماتے ہیں

یہ سلسلہ دراز ہے ، مختصراً یہ کہ الله کی صفات میں شاید ہی کوئی صفت ہو جس میں انھوں نے الله کے نبی کو اس کا شریک نہ ٹھرایا ہو

اللہ کے نبی صلی الله علیہ و سلم نور یا بشر

الله کے نبی صلی الله علیہ و سلم کو نور قرار دینا تو ظلم ہے ہی اس سے بڑھ کر ظلم بلکہ ظلم عظیم یہ ہے کہ آپ کو اللہ کے نور سے جدا ہونے والا نور قرار دیا جاتا ہے یہود و نصاریٰ نے علی الترتیب عزیر اور عیسی علیہ السلام کو الله کا بیٹا قرار دیا (العیاذ باللہ ) یہ ایسا ظلم ہے آسمان پھٹ پڑے ، زمین شق ہو جائے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں کم ہے اس ظلم عظیم کیلئے وہ نطفے کا واسطہ لائے مگر انھوں نے الله کے نبی کو براہ راست الله کا شریک ٹھہرایا ہے الله کے نبی کو الله کی ذات کا حصہ قرار دے دیا ہے

                     قُلۡ ہُوَ  اللّٰہُ  اَحَدٌ  ۚ﴿۱﴾اَللّٰہُ  الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمۡ  یَلِدۡ   وَ  لَمۡ  یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾ وَ  لَمۡ  یَکُنۡ  لَّہٗ   کُفُوًا  اَحَدٌ﴿۴

آپ کہہ دو کہ وہ الله اکیلا ہے ، اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر و ہم ذات ہے

مگر ذات کا شرک اس میں سب سے زیادہ ھولناک اور بھیانک ہے الله کے نبی کو الله کے نور سے ٹھرانا یہی ذات کا شرک ہے الله تو وہ ہے جس کی کوئی مثل نہیں لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ( شوریٰ ١١ ) الله کے نبی کو الله کے نور سے جدا ہونے والا نور ماننے والے محض ذات کا شرک ہی نہیں کرتے بلکہ الله کو بھی نور سمجھتے ہیں حالانکہ الله تو نور کا خالق ہے یعنی نور اس کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے

سوره الانعام کی پہلی آیت ہے

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ

تمام تر تعریف الله کیلئے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے ، نور اور تاریکیاں پیدا کیں

  کیسی ستم ظریفی ہے جس نے نور کو پیدا فرمایا اس خالق کو ہی نور کا قرار دے دیا جائے نور اور تاریکی اس کی ادنی مخلوق ہے یہ بڑی جسارت ہے کہ خالق کائنات کو کسی ادنی مخلوق سے ملایا جائے یا تشبیہ دی جائے ایک طرف اسلام کا دم بھرنا قرآن و سنّت کو ماننے کا دعویٰ کرنا اور دوسری طرف اسلام کی بنیاد ہی کو بیخ و بن سے اکھاڑ ڈالنا یہ بریلویت کا خاصہ ہے الله کو نور کا بتانا نبی کو اس نور کا حصہ یا ٹکڑا کہنا محض بریلویت کا شاخسانہ نہیں دیوبند مکتب فکر نے بھی اس میں اپنا پورا حصہ ڈالا ہے ایسا کیوں نہ ہو ان دونوں کے مشترکہ پیشوا امام ربانی مجدد الف ثانی کہہ گئے ہیں

زمین و آسمان کو انہی ( نبی آخرالزمان صلی الله علیہ وسلم ) کی طفیل پیدا فرمایا ہے کما وردہ ،جاننا چاہیے کہ پیدائش محمدی تمام افراد و انسان کی پیدائش کی طرح نہیں  بلکہ افراد عالم میں سے کسی فرد کی پیدائش کے ساتھ نسبت نہیں رکھتی کیوں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ  وسلم باوجود عنصری پیدائش کے حق تعالی کے نور سے پیدا ہوے ہیں جیسے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے خلقت من نور الله ( میں الله تعالی کے نور سے پیدا ہوا ہوں ) اور دوسروں کو یہ دولت میسر نہیں ہوئی      ترجمہ مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی صفحہ ٢٦٦

بڑے جب فرما دیں ان کے معتقدین کی کیا مجال ہے اس سے انحراف کریں مگر بریلویوں کی طرف سے اس کا بہت پرچار کیا جاتا ہے

الله کی بے شمار مخلوقات ہیں موضوع کے اعتبار سے فرشتے ، اور جن و انس ہی وہ عاقل مخلوق ہیں جن کی اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کر دی جائے تو نور و بشر کے خود ساختہ موضوع کی قلعی کھل جاتی ہے

الله تعالی خالق ہے باقی سب مخلوق ہیں

قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ   الرعد ١٦  کہہ دو الله ہر چیز کا خالق ہے

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ    الزمر ٦٢    اللہ ہر چیز کا خالق ہے

وہ اکیلا خالق ہے باقی سب مخلوق ہیں انبیا ، اولیا ، صلحا ، شہدا ،صددقین ، فرشتے اور جن و انس   غرض برگزیدہ شخصیات ہوں یا عام انسان سب اس کی مخلوق ہیں اس کی مخلوق میں جن و انس مکلف ہیں ان کی تخلیق کا ذکر قرآن میں خصوصیت سے کیا گیا ہے اور انسان کی تخلیق کو تو بڑی ہی شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے فرشتے بھی عباد الرحمن ہیں مگر وہ مکلف نہیں وہ تو جو حکم ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے

فرشتے

 قرآن سے معلوم ہوتا ہے فرشتوں کو الله تعالی نے انسان سے پہلے پیدا فرمایا

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً   البقرہ ٣٠

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں

اور حدیث میں ہے

عن عائشة قالت   قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خلقت الملائكة من نور وخلق الجان من مارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم      مسلم    كتاب الزهد والرقائق      یعنی رسول الله صلى الله عليه و سلم نے فرمایا   فرشتے نور سے پیدا کے گئے ، اور جنات آگ کی لپٹ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جس کا قرآن میں بیان کردیا گیا ہے

جنات

 جنات کو اللہ تعالی انسان سے قبل آگ سے پیدا فرمایا

وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ           الحجر ٢٧  اور اس (انسان ) سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا

وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ          الرحمن ١٥  اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

انسان

قرآن کریم میں انسان کی نہ صرف اولین تخلیق اور پیدائش کو تفصیل سے بیان کیا گیا بلکہ اس کی بھی تفصیل کی ہے کہ اولین تخلیق کے بعد کس طرح نسل انسانی آگے بڑھی کن کن مراحل سے گزر کر جیتا جاگتا انسان وجود میں آتا ہے

الله تعالی نے انسان کی اولین تخلیق مٹی سے کی

وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ              سجدہ ٧

اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا مٹی سے کی

وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ         الروم ٢٠

الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے ) پھیل رہے ہو

سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا مٹی سے انکا پتلا بنا کر اس میں روح پھونکی گئی  حجر ٢٦ تا ٣٣ اور البقرہ ٣٠ تا ٣٤

انسان کے جد امجد آدم علیہ السلام سے ہی ان کی زوجہ، اماں حوا کو پیدا کیا گیا آدم و حوا کی اس جوڑی سے نسل انسانی آگے بڑھی

 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا         نسا ١

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا       الحجرات ١٣

لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو

نسل انسانی کے اس پھیلاؤ کی عادت جاریہ کے تحت ہی جزیرہ نما عرب میں قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو ہاشم میں منصوبہ الہی کی تکمیل میں عبدالله کے گھر آمنہ کے بطن سے الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی دوسرے انسانوں کی طرح آپ کے ماں باپ کے علاوہ رشتے ناطے تھے عزیز و اقارب تھے آپ نے نکاح بھی کیے اور آپ کے ہاں اولادیں بھی ہویں آپ کھاتے پیتے بھی تھے سوتے بھی تھے کبھی بیمار بھی ہوتے  غرض جتنے انسانی معاملات ہوتے ہیں سب آپ میں موجود تھے اعلان نبوت سے قبل آپ وہاں کی ایک پروقار اور با وصف شخصیت تھے امین و صادق کے لقب سے معروف تھے  اعلان نبوت کے سلسلہ میں فرمایا گیا

جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ       التوبہ ١٢٨

دیکھو! تو لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ        الجمعه ٢

وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا

اور ایسا اس دفعہ ہی نہیں ہوا کہ انسانوں میں سے ہی ایک انسان کو نبی بنایا گیا ہو بلکہ اس سے پہلے بھی جتنے انبیا و رسل انسانوں میں مبعوث ہوے وہ سب کے سب انسان اور مرد ہی تھے نوح علیہ السلام وہ پہلے نبی ہیں جو کسی قوم کی طرف بھیجے گئے

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ        المومنون ٢٣ اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا

معلوم ہوا نوح علیہ السلام اپنی قوم کی طرف بھیجے گۓ یعنی وہ اس قوم کے ہی ایک فرد تھے اور جب الله کا عذاب اس قوم کے اوپر آیا تو الله تعالی نے دوسری قوم کو اٹھایا اور اس میں سے بھی ان ہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا

ثُمَّ أَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آَخَرِينَ (31) فَأَرْسَلْنَا فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ      المومنون ٣١،٣٢

ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دور کی قوم اٹھائی   پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا

           وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ       الانبیا ٧

اور (اے نبی)تم سے پہلے بھی ہم نے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے

گزشتہ اقوام میں سے انبیا و رسل کے انکاری اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کا جواز ہی یہ پیش کرتے تھے یہ کیسا نبی ہے جو ہماری طرح کا انسان ، ہماری طرح کا بشر ہے بازاروں میں چلتا ہے ، کھاتا پیتا ہے،ہمارے اوپر کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا وغیرہ

گزشتہ قوموں نے نبی کو نبی نہ ماننے کے لئے بشریت کو جواز بنایا اور آج اس امّت میں نبی کو نبی ماننے کے لئے اس کی بشریت کا انکار کردیا اور انہیں نور یا مجسّمہ نور قرار دے ڈالا   دونوں میں کس قدر مماثلت ہے  اور حیرت انگیز ہے دونوں ہی بشریت کو نبوت میں مانع قرار دیتے ہیں

الله کی کتاب قرآن مجید نے اس باطل عقیدہ اور خود ساختہ نظریے کی پوری طرح تردید کرکے تشکیک کے تمام دروازے بند کردیے ہیں اور زبان نبوت  سے بڑے واشگاف الفاظ میں اعلان کروا دیا گیا

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ         کہف ١١٠

اے نبی کہہ دو کہ میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں(ہاں )  میری طرف وحی کی جاتی ہے

                                           قرآن کے بعد احادیث پر بھی نظر ڈال لی جاۓ

 قال   النبي صلى الله عليه و سلم   لا أدري   زاد أو نقص فلما سلم قيل له يا رسول الله أحدث في الصلاة شيء ؟ قال ( وما ذاك )   قالوا صليت كذا وكذا فثنى رجليه واستقبل القبلة وسجد سجدتين ثم سلم   فلما أقبل علينا بوجهه قال ( إنه لو حدث في الصلاة شيء لنبأتكم به ولكن إنما أنا بشر مثلكم أنسى كما تنسون فإذا نسيت فذكروني وإذا شك أحدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم ليسلم ثم يسجد سجدتين )     بخاری کتاب الصلاة

عبدالله نے فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی ابراہیم نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیاتی ہوئی یا کمی پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا آخر بات کیا ہے لوگو نے کہا آپ نے اس طرح نماز پڑھی ہے پس آپ نے اپنے دونو پاؤں سمیٹ لئے اور قبلہ کی طرف رخ کر لیا اس کے بعد دو سجدے کئے اور سلام پھیرا ، جب (نماز سے فارغ ہوکر)ہماری طرف متوجہ ہوے تو آپ نے فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا انسان ہوں جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلا دیا کرو

أم سلمة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم أخبرتها: عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سمع خصومة بباب حجرته فخرج إليهم فقال ( إنما أنا بشر وإنه يأتيني الخصم فلعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض فأحسب أنه صدق فأقضي له بذلك فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليأخذها أو فليتركها ) – بخاری کتاب المظالم

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی الله عنہا نے خبر دی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے. آپ نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں اس لیے جب میرے یہاں کوئی جگھڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ (فریقین میں سے) ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ فصیح و بلیغ ہو اور میں (اس کی زور تقریر اور مقدمہ کو پیش کرنے کے سلسلے میں موزوں ترتیب کی وجہ سے )یہ سمجھ لوں کہ سچ وہی کہہ رہا ہے اور اس طرح اس کے حق میں فیصلہ کردوں.اس لیے میں جس شخص کے لئے بھی کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کردوں(غلطی سے)تو دوزخ کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے ،چاہے تو وہ اسے لے لے ورنہ چھوڑ دے

اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بشر ہونے کا ذکر فرمایا جیسے رافع بن خديج فرماتے ہیں کہ

قال قدم نبي الله صلى الله عليه و سلم المدينة وهم يأبرون النخل يقولون يلقحون النخل فقال ما تصنعون ؟ قالوا كنا نصنعه قال لعلكم لو لم تفعلوا كان خيرا فتركوه فنفضت أو فنقصت قال فذكروا ذلك له فقال إنما أنا بشر إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به وإذا أمرتكم بشيء من رأي فإنما أن بشر قال عكرمة أو نحو هذا قال المعقري فنفضت ولم يشك — مسلم

رافع بن خدیج رضی الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے .اور لوگ کھجوروں کا قلم لگارہے تھے یعنی گابہ کررہے تھے آپ نے فرمایا تم کیا کرتے ہو. انھوں نے کہا ہم ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں، آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید اچھا ہو گا. لوگو نے پیوند کاری کرنا ترک کردیا.تو کھجوریں گھٹ گئیں.تو صحابہ کرم نے آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا.آپ نے فرمایا میں تو بشر ہوں جب میں تمہیں دین کی بات بتاؤں تو اس پر کاربند ہو جاؤ.اور جب کوئی بات میں اپنی رائے سے بتاؤں تو میں بھی تو انسان ہوں.عکرمہ بیان کرتے ہیں، یا اس کے مثل اور کچھ فرمایا اور معقری نے فنفضت بغیر شک کے کہا ہے

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اللهم إنما أنا بشر فأيما رجل من المسلمين سببته أو لعنته أو جلدته فاجعلها له زكاة ورحمة . -مسلم کتاب البر والصلة

ابوھریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه و سلم نے فرمایا اے الله میں انسان ہوں تو جس مسلمان کو میں برا کہوں یا لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو یہ اس کے لیے باعث پاکی اور رحمت بنا دے

یہ زبان نبوت سے نکلے ہوے الفاظ ہیں جس میں آپ نے اپنی بشریت کو لوگوں کے سامنے بیان کر دیا ہے اس سلسلہ میں احادیث اور بھی پیش کی جا سکتی ہیں مگر ماننے والے کے لیے تو قرآن کی ایک آیت بھی کافی ہے اور نہ ماننے والے کیلئے پورا قرآن پورا سرمایہ حدیث بھی نہ کافی ہے الله تعالی  فرماتا ہے    اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ   الحج ٧٥ الله تعالی فرشتوں میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی وہ سمیع و بصیر ہے

الله تعالی فرشتوں کو ان کے کام کے لحاظ سے منتخب فرماتا ہے جیسے جبرائیل علیہ السلام کو وحی یعنی پیغام رسانی کیلئے منتخب کیا گیا اسی طرح دیگر فرشتوں کو اور انسانوں میں سے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کیلئے چونکہ زمین پر انسان بستہ ہے اسکی ہدایت و رہنمائی کے انسان ہی نبی و رسول ہوسکتا ہے

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولًا     قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولًا   بنی اسرئیل ٩٤،٩٥

اور لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے ان کو  کسی چیز نے نہیں روکا مگر ان کے اسی قول نے کہ ” کیا الله نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا ؟ ان سے اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لئے پیغمبر بناکر بھیجتے

فرشتے نوری مخلوق ہیں الله نے انہیں نور سے تخلیق فرمایا ہے انسان خاکی مخلوق ہے الله نے اسکو مٹی سے پیدا کیا ہے انسان افضل المخلوقات ہے

    وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آَدَمَ    بنی اسرئیل ٧٠  یعنی  یقینا ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی

  انسان کے جد امجد آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد انسان کے شرف اور فضیلت کیلئے نوری مخلوق فرشتوں کو آدم کے آگے سجدے کا حکم دیا گیا نوری مخلوق کا خاکی مخلوق کے آگے جھکنا خاکی مخلوق کی فضیلت اور برتری ہی تو ہے چناچہ یہ لوگ نبی علیہ السلام کو نوری قرار دے کر آپ صلی الله علیہ وسلم کی کوئی قدر و منزلت نہیں بڑھارہے بلکہ الٹا تنقیص کا سبب بن رہے ہیں العیاذ باللہ

نبی صلی الله علیہ وسلم کو نوری قرار دینے والوں کے پاس اپنے اس خود ساختہ نظریے کے حق میں قرآن و حدیث سے کوئی ایک بھی دلیل موجود نہیں ہے دلیل آئے بھی تو کہاں سے آئے قرآن و حدیث نے تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کو نہ صرف پیش کیا ہے بلکہ اس کو ہر ہر پہلو سے واضع کردیا ہے شاید ہی کوئی گوشہ ہو جو روشن نہ کردیا گیا ہو اس صورت حال میں نبی صلی الله علیہ وسلم کو نور یا مجسم نور قرار دینا ، بشر تسلیم نہ کرنا قرآن و حدیث کا کھلا انکار ہے اس انکار کو چھپانے کیلئے قرآن کے مقابلہ میں سمجھ میں نہ آنے والا فلسفہ پیش کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں انبیا کی ارواح و بواطن بشریت سے بالا اور ملاء اعلی سے متعلق ہیں کبھی کہتے ہیں آپ کی بشریت کا وجود اصلا نہ رہے اور غلبہ انوار حق آپ پرعلی الدوام حاصل ہو وغیرہ بھلا قرآن کی محکم اور صریح آیات کے سامنے اس بے تکے فلسفے کی کیا حثیت ہے اس کے قائلین کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ قرآن کی آیات پر ایمان لانا بہتر ہے یا اس فلسفے پر ؟

ان کی طرف سے اپنے نوری نظریے کے حق میں مسلہ زیر بحث سے غیر متعلق  قرآن کی بعض آیات بھی پیش کی جاتی ہیں مثلا

 قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ     المائدہ ١٥ تمہارے پاس الله کی طرف سے نور اور واضع کتاب آچکی ہے

ان کا اس آیت سے استدلال یہ ہے کہ اس آیت  میں نور سے اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم مراد ہیں

اس آیت کا مطالعہ کرنے والا دیکھ سکتا ہے کہ اس میں اللہ کے نبی کے نور ہونے کی کوئی صراحت نہیں ہے جس طرح آیت قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ میں الله کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق صاف و صریح بیان ہوا ہے اس آیت کے مقابلہ میں اپنے خیالی استدلال کو لانا حد درجہ کی جہالت یا ہٹ دھرمی ہے قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اس سے جب کوئی غلط یا باطل استدلال کرتا ہے تو قرآن کی دیگر آیات اس کا راستہ مسدود کردیتی ہیں بریلویت کے اس استدلال کا دیگر آیات سے محاسبہ سے قبل اس آیت کو سیاق و سباق کے ساتھ زیر مطالعہ لائیں تو بھی اس کا غلط ہونا ظاہر ہوجاتا ہے

  يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ     المائدہ ١٥ ، ١٦

اے اہل کتاب یقینا تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا جو تمہارے سامنے کتاب الله کی بکثرت ایسی باتیں ظاہر کررہا ہے جنھیں تم چھپارہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے،تمہارے پاس الله تعالی کی طرف سے نور واضح کتاب آچکی ہے جس کے ذریعه سے الله تعالی ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے حکم سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے

ذرا غور سے پڑھیے نور یعنی روشنی آجانے کے ذکر سے پہلے رسول کے آجانے کا باقاعد ذکر کردیا گیا ہے  رسول جو کچھ لاتا ہے اسے روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے روشنی اور واضح کتاب کے آجانے کے بعد کہا گیا ہے  يَهْدِي بِهِ اللَّهُ اس کے ذریعہ سے الله تمہیں ھدایت کی راہ دکھاتا ہے اسکے    ذریعہ میں ضمیر واحد آئی ہے جس سے از خود واضح ہوتا ہے کہ نور و کتاب دونوں ایک ہیں اگر یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہوتیں تو ضمیر تثنیہ کی آتی جبکہ ایسا نہیں یعنی نور و کتاب کے درمیان آنے والا واو تفسیری ہے

اب ذرا قرآن کی دیگر آیات کو سامنے رکھیے معلوم ہوگا نور سے مراد وہ ہدایت وہ روشنی ہے جو لوگوں کیلئے الله کی طرف سے نازل کی جاتی رہی ہے سورہ نسا میں آتا ہے    يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا       نسا ١٧٤    اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتارا دیا ہے

یہاں پر بھی واضح نور نازل کرنے کی بات کی گئی ہے نازل کرنے کے الفاظ بتارہے ہیں کہ الله کا دین اسکی ہدایت ہے جوالله نے وحی کے ذریعہ لوگوں کی رہنمائی کیلئے کمال شفقت سے نازل فرمائی ہے اور سورہ تغابن میں ارشاد ہوتا ہے

 فَآَمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ      تغابن ٨    سو تم الله پر اور اسکے رسول پر اور اس نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ اور الله تعالی تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے

اس آیت میں بھی الله اور اسکے رسول کے علاوہ اس نور پر بھی ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے جو الله نے نازل فرمایا ہے معلوم ہوا کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرنے والوں کا

استدلال قرآن کی دیگر آیات سے مطابقت رکھنا تو درکنار الٹا ان سے براہ راست متصادم ہے

انکی دوسری دلیل یہ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو قرآن میں  سِرَاجًا مُنِيرًا  کہا گیا ہے  سِرَاجًا مُنِيرًا کے معنی ہیں روشن چراغ یا چمکتا آفتاب  الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کو روشن چراغ کہا گیا اس میں کوئی شک نہیں مگر اس سے آپ کی بشریت کا انکار کیونکر ممکن ہے؟ اور اس سے آپ صلی الله علیہ وسلم وجودی اعتبار سے نور کس طرح ثابت ہوتے ہیں ؟ یہ سمجھ سے بالا تر ہے کفر و شرک ، گمراہی و ضلالت کے اندھیروں میں آپ کی بعثت یقینا روشن چراغ ،چمکتا آفتاب ہے جس سے کفر و شرک کا گھٹاٹوپ اندھیرا چھٹا ، گمراہی و ضلالت کی تاریکی دور ہوئی رشد و ہدایت کی راہیں روشن ہوئیں ،حق واضح ہوا،آپ کا روشن چراغ ہونا ان معنوں میں ہے اور بریلویت کے ترجمان کنزالایمان میں بھی یہی معنی و مفہوم لئے گئے ہیں مگر اپنی روایتی لفاظی کے ساتھ جو چاہے رجوع کرکے دیکھ سکتا ہے

قرآن کی آیات کے علاوہ بعض روایات بھی انکی طرف سے پیش کی جاتی ہیں مگر انکی اکثریت کی حثیت محض قصّوں کہانیوں کی ہے قرآن و حدیث کے مقابلے میں ان کی کیا حثیت ہوسکتی ہے ظاہر ہے البتہ ایک دو روایات ایسی بھی ہیں جو صحیح تو ہیں مگر ان سے غلط مفہوم کشید کیا کرتے ہیں

یہ حدیث مثلا

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال   نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الوصال قالوا إنك تواصل قال ( إني لست مثلكم إني أطعم وأسقى    بخاری کتاب الصوم

عبدالله ابن عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے

اس حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں اس سے آپ کے بشر نہ ہونے اور نور ہونے کا استدلال کرتے ہیں اس حدیث کو ایک دفعہ  بغور پڑھیے آپ نے صوم وصال سے لوگوں کو منع فرمایا تو لوگوں کو حیرانی ہوئی کہ آپ تو ایسا کرتے ہیں اور ہمیں اس سے منع فرما رہے ہیں اس کا جواب آپ نے دیا کہ مجھے تو میرا رب کہلاتا اور پلاتا ہے اس وجہ سے میرا معاملہ تمہاری طرح کا نہیں ہے  اس سے اگلی روایت اور بھی واضح ہے  إني لست كهيئتكم إني أبيت لي مطعم يطعمني وساق يسقين   یعنی میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو رات اس طرح گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا سیراب کرتا ہے

معلوم ہوا یہ نبی کی خصوصیت تھی اور آپ کی یہی ایک خصوصیت نہ تھی اور بہت سی خصوصیات آپ کو حاصل تھیں، آپ الله کے نبی اور اسکے رسول تھے لوگوں کو چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں مگر آپ کیلئے ایسا نہیں تھا آپ کو جب بخار ہوتا تو اس کی شدت دو انسانوں کو ہونے والے بخار کی طرح ہوتی یعنی عام انسانوں کے مقابلے میں دوگنی تکلیف ہوتی اور اس تکلیف اٹھانے کا اجر بھی دوگنا تھا

بعض باتیں، مقام  امت اور رسول کے آپس کے خاص تعلق سے متعلق ہوتی ہیں ان کو انبیاء و رسل کے بعد کسی اور تو نہیں دیا جا سکتا  مثلا نبی صلی الله علیہ وسلم کا پسینہ صحابہ عطر میں ملاتے تھے- آپ کا لعاب دھن باعث شفا تھا- اب کسی اور صحابی یا تا بعی کا پسینہ یا لعاب بابرکت نہیں سمجھا جائے گا – اسی طرح بعض اعمال صرف ایک نبی کا ہی خاصہ ہو سکتے ہیں اگر ان کو بڑھا کر غیر نبی کے ساتھ کیا جائے تو اس کو غلو کہا جائے گا

ترمذی کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: “الَّذِي أَلْحَدَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو طَلْحَةَ، وَالَّذِي أَلْقَى القَطِيفَةَ تَحْتَهُ شُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” قَالَ جَعْفَرٌ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ شُقْرَانَ يَقُولُ: أَنَا وَاللَّهِ طَرَحْتُ القَطِيفَةَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي القَبْرِ. وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: “حَدِيثُ شُقْرَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ”، وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ فَرْقَدٍ هَذَا الحَدِيثَ

زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ البَصْرِيُّ نے عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ سے انہوں نے  جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ سے سنا انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا جنہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم لو لحد میں رکھا  وہ أَبُو طَلْحَةَ ہیں اور وہ جس نے چادر آپ کے نیچے رکھی وہ شقران ہیں مولی رسول الله صلی الله علیہ وسلم- جعفر نے کہا اور مجھ کو  عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ  نے خبر دی  میں نے شقران سے سنا کہا بے شک الله کی قسم میں نے ہی چادر آپ صلی الله علیہ وسلم کےنیچے قبر میں بچھائی – ترمذی نے کہا اور اس باب میں ابن عباس کی بھی روایت ہے –  حدیث شقران حسن غریب ہے اور عَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ،  نے  عُثْمَانَ بْنِ فَرْقَدٍ سے اس کو روایت کیا ہے

عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ کی سند  سے بیان ہونے والی اس روایت  میں الفاظ کا اضطراب ہے- قبر میں چادر رکھنے والی روایت کو  البانی   صحیح کہتے ہیں – متقدمین احناف قبر پر چادر ڈالنے والی روایت کو   ضعیف کہتے ہیں

   کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از   مغلطاي بن قليج  الحنفي، أبو عبد الله، علاء الدين (المتوفى: 762هـ)  کے مطابق

عثمان بن فرقد أبو معاذ العطار، ويقال: أبو عبد الله البصري
قال أبو حاتم: روى حديثا منكرا، عن جعفر، عن عبيد الله بن أبي رافع عن شقران ” ألقى في قبر النبي – صلى الله عليه وسلم – قطيفة حمراء “، كذا ذكره المزي.
والذي في كتاب ابن أبي حاتم: سألت أبي عن عثمان بن فرقد، فقال: شيخ بصري والحديث الذي رواه عن جعفر عن عبيد الله بن أبي رافع عن شقران أنه ” ألقى في قبر النبي قطيفة ” حديث منكر. انتهى كلامه وبينهما من الاختلاف ما ترى [ق 102 / أ].
وقال الحاكم: سألت الدارقطني، فقلت: عثمان بن فرقد. قال العطار: يخالفه الثقات.
وفي كتاب ” الجرح والتعديل ” عن الدارقطني: يخالف الثقات.
وذكره ابن خلفون في كتاب ” الثقات “.وقال أبو الفتح الأزدي فيما ذكره ابن الجوزي: يتكلمون فيه

مغلطاي حنفی، عثمان بن فرقد  کے ترجمہ میں  کہتے  ہیں کہ قبر پر چادر ڈالنے کے الفاظ والی روایت ضعیف ہے

 ابو حاتم کہتے ہیں یہ منکر روایت کرتا ہے عثمان بن فرقد عن جعفر، عن عبيد الله بن أبي رافع عن شقران سے کہ قبر نبی صلی الله علیہ وسلم پر سرخ چادر ڈالی – اس کا ذکر المزی نے کیا ہے 

اور جو کتاب ابن ابی حاتم  (العلل) میں ہے کہ اپنے باپ سے عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ  کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا عثمان بن فرقد  بصرہ کا بوڑھا ہے اور حدیث روایت کرتا ہے کہ شقران نے قبر نبی پر چادر ڈالی تو یہ حدیث منکر ہے انتھی کلامہ اور اس میں اختلاف ہے جیسا کہ دیکھا اور حاکم کہتے ہیں دارقطنی سے سوال کیا عثمان بن فرقد پر کہا یہ ثقات کی مخالفت کرتا ہے اور کتاب الجرح و التعدیل میں ہے کہ دارقطنی نے کہا ثقات کی مخالفت کرتا ہے اور ابن خلفوں نے ذکر کیا کتاب الثقات میں کہ الازدی نے کہا کہ ابن الجوزی نے کہا کہ اس پر کلام کیا جاتا ہے

صحیح حدیث میں ہے کہ قبر پر چادر نہیں ڈالی گئی بلکہ اس میں بچھائی گئی  لہذا عثمان بن فرقد کی قبر پر چادر ڈالنے کی روایت صحیح نہیں ہے –

مغلطاي جس روایت کو ضعیف کہہ رہے ہیں اس میں ألقى في قبر کا لفظ ہے

قرآن میں سوره یوسف میں ہے کہ یوسف علیہ السلام نے بھائیوں سے کہا

اذهبوا بقميصي هذا و ألقوه على وجه أبي يأت بصيرا 

میری یہ قمیص لے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈالو واپس بینا ہو جائیں گے

القو کا لفظ پھیکنے کے لئے استمعال ہوتا ہے  لہذا اگر اس سے قبر میں پھیکنے کا مفھوم لیا جائے تو غلط نہیں لیکن عثمان بن فرقد کی روایت میں اس لفظ سے ابہام پیدا ہو جاتا ہے کہ چادر قبر میں  ڈالی گئی  ( دفن کی گئی) یا اس پر بعد تدفین ڈالی گئی

صحیح مسلم کی حدیث  ہے

حَدَّثَنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وَوَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، – وَاللَّفْظُ لَهُ – قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: “جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ” قَالَ مُسْلِم: “أَبُو جَمْرَةَ، اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، وَأَبُو التَّيَّاحِ، اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ مَاتَا بِسَرَخْسَ”

ابن عباس کی روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر رکھی گئی

نسائی میں اس روایت  میں الفاظ ہیں

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: “جُعِلَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دُفِنَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ

ابن عباس کہتے ہیں کہ دفن کرتے وقت نبی صلی الله علیہ وسلم کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی

ترمذی میں یہ بھی ہے

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ” أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُلْقَى تَحْتَ المَيِّتِ فِي القَبْرِ شَيْءٌ “، وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ

اور ابن عباس سے روایت کیا جاتا ہے کہ وہ اس سے کراہت کرتے تھے کہ میت کے نیچے قبر میں کچھ رکھا جائے اوراسی طرف بعض اہل علم کا مذھب ہے

کتاب تهذيب الكمال في أسماء الرجال از المزی میں اس روایت پر پر تعلیق میں حنفی عالم بشار عواد المعروف لکھتے ہیں

أخرج مسلم (967) في الجنائز عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: جَعَلَ في قبر رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قطيفة حمراء”والقطيفة: كساء له خمل، وهذه القطيفة ألقاها شقران مولى رَسُول اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم، وَقَال: كرهت أن يلبسها أحد بعده

اس کی تخریج مسلم نے الجنائر میں کی ہے کہ  ابن عباس نے  کہا : قبر رسول میں چادر رکھی جو سرخ تھی…  اور کہا اس  سے کراہت کی کہ اس ( چادر)  کو رسول الله کے بعد کوئی اور  اوڑھے  

اسد الغابہ از ابن الأثير (المتوفى: 630هـ) میں ہے

قَدْ كَانَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا وَيَفْتَرِشُهَا، فَدَفَنَهَا مَعَهُ فِي الْقَبْرِ

بے شک رسول اللہ اس چادر کو اوڑھتے اور بچھاتے تھے پس اس کو ان کے ساتھ ہی دفن کیا گیا

 قبر میں چادر کا رکھا جانا صرف نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے ملتا ہے- اس پر کوئی اور حدیث نہیں اور یہ صحابہ کا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے خاص عمل ہے تاکہ ان کی چادر تلف ہو جائے

 فقہ حنفی کی کتاب رد المحتار على الدر المختار  از  ابن عابدين الدمشقي الحنفي (المتوفى: 1252هـ)  میں لکھا ہے

 وَيُكْرَهُ أَنْ يُوضَعَ تَحْتَ الْمَيِّتِ فِي الْقَبْرِ مِضْرَبَةٌ أَوْ مِخَدَّةٌ أَوْ حَصِيرٌ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ

اور کراہت کی جاتی ہے کہ قبر میں میت کے نیچے جھاڑ یا تکیہ  یا  چٹائی یا اسی طرح کی چیز رکھی جائے

یعنی فقہ حنفی کے علماء نے قبر  میں چادر رکھنے   والی روایت کا مفھوم لیا کہ  عام لوگوں کے لئے یہ کرنا صحیح نہیں ہے

ابن عابدين  یہ بھی لکھتے  ہیں کہ قبر میں کچھ رکھنے پر

أَنَّهُ لَمْ يَشْتَهِرْ عَنْهُ فِعْلُهُ بَيْنَ الصَّحَابَةِ لِيَكُونَ إجْمَاعًا مِنْهُمْ، بَلْ ثَبَتَ عَنْ غَيْرِهِ خِلَافُهُ

اور یہ (قبر میں چادر رکھنے والا) عمل صحابہ میں مشہور نہ ہوا کیونکہ ان کا اس پر اجماع تھا،  بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے

بریلوی فرقہ شاید قبر میں کچھ نہ رکھتا ہو- لیکن جس روایت سے قبر پر چادر ڈالنے کی دلیل لی گئی ہے وہ یہی ہے-  اس روایت میں  قبر میں چادر کے الفاظ کہے  گئے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ قبر میں چادر قبر  بچھائی گئی تھی نہ کہ اس پر ڈالی گئی

ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم دو قبر والوں پر گزرے جن پر عذاب ہو رہا تھا آپ نے ان کی قبروں پر ٹہنی لگا دی کہ جب تک خشک نہ ہو عذاب میں کمی رہے گی

 بریلوی فرقہ نے ان دونوں احادیث کو ملا کر اس سے پھولوں کی چادریں تیار کیں اور تمام اولیاء کی قبروں پر ڈالنا شروع کر دیا- یہ ایجاد اور اضافہ دین میں شرک کا موجب ہے- اس میں قابل غور ہے کہ کیا ان اولیاء کو عذاب قبر ہو رہا ہے جو ان پر ٹہنی لگانے والی روایت کی روشنی میں پھولوں کی چادر ڈالی جاتی ہے ؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہو گا ورنہ ان کو اولیاء الله کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ایک شخص الله کا ولی ہو اور اس کوعذاب بھی دیا جا رہا ہو – دوم چادر کا قبر میں بچھایا جانا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت تھا اس کو اولیاء الله تک بڑھانے کی کیا دلیل ہے؟ پھر امت کے سب سے بڑے ولی ابو بکر نے تو کہا تھا مجھ کو انہی کپڑوں میں دفن کرنا جن میں وفات ہو اور نیا کپڑا تو زندہ کے لئے ہے، ان کی قبر پر کس نے چادر ڈالی؟

اسی ٹہنی والی عذاب قبر کی روایت کو دلیل مانتے ہوئے قبروں پر عرق گلاب ڈالا جاتا ہے اور گل پاشی کی جاتی ہے قبروں پر پڑے پھولوں کو متبرک سمجھتے ہوئے گل قند کی طرح کھایا جاتا ہے اور مزار کا تبرک سمجھا جاتا ہے

ٹہنی لگانے والا واقعہ تو نبی صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت تھی

کتاب  شرح الطيبي على مشكاة المصابيح  از  شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي (743هـ) کے مطابق

 وقد أنكر الخطابي ما يفعله الناس علي القبور من الأخواص ونحوها متعلقين بهذا الحديث، وقال: لا أصل له، ولا وجه له

اور بے شک امام الخطابی نے اس کا انکار کیا ہے جو عوام،  خواص کی قبور کے ساتھ کرتے ہیں اور کہا ہے اس کی کوئی اصل نہیں اور اس کی وجہ بھی نہیں

امام بخاری نے صحیح میں باب میں روایت نقل کی ہے کہ بريدة بن الحصيب الصحابي رضي الله عنه  نے وصیت کی أَنْ يُجْعَلَ فِي قَبْرِهِ جَرِيدَانِ  کہ بریدہ رضی الله عنہ نے وصیت کی کہ ان کی قبر پر ٹہنیاں لگائی جائیں

کتاب  كوثَر المَعَاني الدَّرَارِي في كَشْفِ خَبَايا صَحِيحْ البُخَاري   از   الشنقيطي (المتوفى: 1354هـ) کے مطابق

قال الطُرْطُوشيّ: لأن ذلك خاص ببركة يده

الطُرْطُوشيّ کہتے ہیں : یہ تو نبی کے ہاتھ کی خاص برکت تھی

یعنی کسی غیر نبی کے ہاتھ سے ٹہنی لگنے سے وہ عذاب میں تخفیف کا باعث نہیں ہو سکتیں

الشنقيطي کہتے ہیں

قلت: وعلى كل حال، فعل بُريدة فيه استئناس لما تفعله الناس اليوم من وضع الجريد ونحوه على القبر، فإن الصحابي أدرى بمقاصد الحديث من غيره، خلافًا لما مرَّ عن الخَطّابي

میں کہتا ہوں:  ہر صورت میں بریدہ کے فعل سے متاثر ہو کر ہی لوگ آج ٹہنی قبر پر لگاتے ہیں، کیونکہ صحابی  حدیث کے مقصد کو جانتے ہیں اور یہ اس کے خلاف ہے جس طرف الخطابی گئے ہیں

ابواب  البخاري میں  تمام اقوال  صحيح نہیں ہیں – بریدہ کے قول کی سند طبقات ابن سعد میں ہے

عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، أخبرنا عاصم الاحول، قال: قال مورق أَوْصَى بُرَيْدَةُ أَنْ يُوْضَعَ فِي قَبْرِهِ جَرِيْدَتَانِ، وَكَانَ مَاتَ بِخُرَاسَانَ، فَلَمْ تُوْجَدَا إِلاَّ فِي جُوَالِقِ حِمَارٍ

مورق المتوفی ١٠٥ ھ کا سماع بریدہ رضی الله عنہ المتوفی ٦٢ ھ  سے ثابت  نہیں ہو سکا

مورق کی وفات ابن سعد کے مطابق  توفّي فِي ولَايَة عمر بن هُبَيْرَة عمر بن ہبیرہ کے دور میں ہوئی

تاریخ الدمشق کے مطابق عمر بن ہبیرہ كان أمير العراقين من قبل يزيد بن عبد الملك- خلیفہ یزید بن عبد الملک کے دور( ١٠١ سے َ٠٥ ہجری ) میں عراق کے امیر تھے- بریدہ رضی الله عنہ کی وفات سن ٦٢ ھ میں خراسان میں ہوئی

ذخیرہ احادیث میں مورق کی یہ بریدہ رضی الله عنہ سے واحد روایت ہے- مورق، صحابی رسول ابی ذر رضی الله عنہ سے بھی مرسل روایت کرتے ہیں – مورق کے  بریدہ سے سماع کا متقدمین محدثین میں سے کسی   نے ذکر بھی نہیں کیا

امام بخاری جب ابواب میں اس طرح کی روایات نقل کرتے ہیں تو اس کا مقصد اس مسئلہ پر کچھ اقوال  نقل کرنا ہوتا ہے جن کی وہ  سند  نہیں دیتے انہوں نے اس قول کو نقل کرنے کے بعد ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک قبر پر خیمہ دیکھا تو کہا کہ صاحب قبر کا عمل اس پر سایہ کرے گا -شارحین کی رائے ہے کہ امام بخاری نے بریدہ کے قول کو ابن عمر کے قول کے ساتھ پیش کیا کیونکہ ان کے نزدیک  ٹہنی لگانا نبی کے لئے خاص تھا

قبروں  پر چادر چڑھانے والے کہتے ہیں کہ رسول الله کا فرمان ہے

وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ مَا اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِی

الله کی قسم! مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کرو گے

لیکن یہ قول اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کے لئے ہے نہ کہ ساری امت کے لوگوں کے لئے کیونکہ دیگر احادیث میں یہ بھی ہے

 لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِيهِ”، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: “فَمَنْ إِذًا

تم ضرور پچھلی امتوں کی روش پر چلو گے جسے بالشت بالشت اور قدم با قدم حتیٰ کہ  اگر کوئی ان میں سے کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے پوچھا  اے الله

کے رسول کیا یہود و نصاری  آپ نے فرمایا اور کون

آپ نے یہ بھی فرمایا

 بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ غريباً، فطوبى للغرباء

اسلام ایک اجنبی کی طرح شروع ہوا اور یہ پھر اجنبی بن جائے گا پس ان اجنبیوں (جو اس کو اس زمانے میں قبول کریں) کے لئے  بشارت ہے

قیامت کے دن الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم  سے ان کی  امت کے گمراہ لوگوں کے  لئے کہا جائے گا

 مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ

آپ کو نہیں پتا کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا باتیں نکالیں

کیا اس پھولوں والی چادر چڑھا کر  اپنے آپ کو ان میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش نہیں؟

وہابی مفتی بن باز فتوی  فتاوى نور على الدرب  میں کہتے ہیں

والتمسح بالقبر أو الدعاء عند القبر، أو الصلاة عند القبر، كل هذا منكر، كله بدعة

اور قبر کو مسح کرنا اور اسپر دعا کرنا اور نماز پڑھنا یہ سب منکر ہے یہ سب بدعت ہے

علماء نے بھی اس کی اجازت دے دی کہ قبروں کو چوما جائے مثلا عبد الله بن احمد کتاب العلل ومعرفة الرجال میں اپنے باپ امام احمد کی رائے پیش کرتے ہیں

سَأَلته عَن الرجل يمس مِنْبَر النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ويتبرك بمسه ويقبله وَيفْعل بالقبر مثل ذَلِك أَو نَحْو هَذَا يُرِيد بذلك التَّقَرُّب إِلَى الله جلّ وَعز فَقَالَ لَا بَأْس بذلك

میں نے باپ سے سوال کیا اس شخص کے بارے میں جو رسول الله کا  منبر چھوئے  اور اس سے تبرک حاصل کرے اور اس کو چومے اور  ایسا ہی قبر سے کرے اور اس سے الله کا تقرب حاصل کرے پس انہوں نے کہا اس میں کوئی برائی نہیں

عینی  عمدہ القاری میں لکھتے ہیں

أن الامام أحمد سئل عن تقبيل قبر النبی صلی الله عليه وآله وسلم وتقبيل منبره فقال لا بأس بذلک قال فأريناه للشيخ تقی الدين بن تيمية فصار يتعجب من ذلک ويقول عجبت أحمد عندي جليل بقوله هذا کلامه أو معنی کلامه

امام احمد بن حنبل سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور منبر کو بوسہ دینے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے کہا اس میں  کوئی حرج نہیں۔ کہا کہ ہم نے یہ قول جب شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کو دکھایا تو وہ اس پر تعجب کرنے لگے اور کہا مجھے تعجب ہے۔ مجھے تو  امام احمد کی یہ بات یا اس سے ملتی جلتی بات عجیب لگتی ہے

ابن تیمیہ جس مصنوعی امام احمد کو مانتے تھے وہ شاید یہ نہیں کرتا ہو گا لیکن جو امام احمد تاریخ میں مشھور ہیں وہ ضرور اس کا عقیدہ رکھتے تھے

ہمارے نزدیک امام احمد کا یہ عمل غلو اور افراط تھا اور قبر کو چومنا بدعت ہے- انہی اقوال کی وجہ سے امت میں  قبریں پوجی جا رہی ہیں

Mutawali-kabbah-qabr

شاید امام احمد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے متولی کعبہ شیخ عبد القادر شعابی پھولوں کو  قبر پر چڑھا رہے ہیں

بقول سراج اورنگ آبادی

شۂ بے خودی نے عطا کیا، مجھے اب لباسِ برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی، نہ جنوں کی پردہ دری رہی

QABR-BENAZIR.

ismael-Salafi1

بریلوی فرقہ قبروں پر قرآن بھی پڑھتا ہے- حالانکہ کتاب مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر از  عبد الرحمن بن محمد بن سليمان المدعو بشيخي زاده, يعرف بداماد أفندي (المتوفى: 1078هـ)  میں ہے

وَكَرِهَ الْإِمَامُ الْقِرَاءَةَ عِنْدَ الْقَبْرِ لِأَنَّ أَهْلَ الْقَبْرِ جِيفَةٌ

اور امام نے کراہت کی ہے کہ قبر پر قرات کی جائے کیونکہ اہل قبر تو گل سڑ جاتے ہیں

فقہ حنفی میں معروف ہے کہ کراہت کا لفظ تحریم کے لئے ہوتا ہے

  والمراد بالكراهة كراهة التحريم التي هي في مقابلة ترك الواجب

کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہے، واجب کے ترک کے مقابلہ پر

فقہ حنفی میں قبروں پر بیٹھنا منع ہے کہ اس سے اھانت کا پہلو نکلتا ہے -لیکن بریلوی فرقہ آیات الله پر مبنی چادر قبر پر بچھا دیتے ہیں- کیا یہ آیات الله کی اہانت نہیں ہے ؟

پھر ایک قبر کے پاس بیچی جانے والی چادر کسی دوسرے مزار پر نہیں چڑھائی جا سکتی یہ مزار وقف کمیٹی کا فیصلہ ہے- گویا دین کے دھندھے  میں اصول کوئی بھی نہیں- وہی چار قل والی چادر جو پانچ کلو میٹر دور مزار سے خریدی تھی اب پرانی اور ایک بزرگ کی اترن بن گئی اور کسی اور مزار پر اس کو چڑھانا  دوسرے  بزرگ کی اہانت بن جاتا ہے

مسلمان ہندووں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ  شیوا لنگم پر دودھ ڈالتے ہیں کسی غریب کو ہی دے دیں -لیکن مزار کے باہر بے لباس غریبوں  کو چادر دینے کے بجائے قبر کی چادر پر آیات لکھ کر ان کو نا قابل استعمال بنا دیا جاتا ہے  اور غلاف کعبہ کی طرح قابل توقیر سمجھا جاتا ہے

qabar ki chaddar

کیا یہی وہ دین تھا جو عرب میں پھیلا تھا ؟ کیا یہی وہ دین تھا جس نے ٣٦٠ بتوں کو توڑا تھا؟ کیا یہی وہ دین تھا جس  نے  انبیاء کے پجاریوں کو مشرک کہا تھا؟ سوچ اور عقل کا تالا کھولیں

جو سر پر رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضور

 تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

آج سے ٣٠ سال پہلے نعل شریف  نظر نہیں اتی تھی لیکن چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے اس کے عکس ہمارے شہروں میں نظر آنے لگے ہیں. اس کا سہرا شاید وسطی ایشیا کی مسلم قوموں کے  سر باندھتا ہے  جہاں سے یہ یہاں آ پہنچا  ہے ویسے بھی صوفی سلسلوں کو اپنی مشہوری کے لئے اس طرح کے لوازمات کی ضرورت رہتی ہے

واضح رہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم  کا لعاب دھن ، پسینہ ، بال سب متبرک تھے    لیکن ان کے  نعل کی شبیہہ بنانا کہاں کی دینداری  ہے

حدیث میں علی رضی الله عنہ کو خَاصِفُ النَّعْلِ یعنی (نبی صلی الله علیہ وسلم کے) جوتے سینے والا  کہا گیا ہے لیکن کیا علی رضی الله عنہ نے نعل کی شبیہہ یا عکس کو بنایا یا گلے میں لٹکایا؟  صحیح بخاری میں عبداﷲ بن مسعود رضی الله تعالی عنہ  کے مناقب میں ان کی پہچان ہی صاحب النعلین والوسادۃ والمطہرہ لکھی ہے (بخاری، کتاب المناقب ) لیکن کیا صحابی رسول صلی الله علیہ وسلم نے اس کے عکس کو کندہ کروایا

تاریخ کے مطابق نعل شریف کا پہلا ذکر خلیفہ المہدی کے حوالے سے ملتا ہے جس نے  نعلین کو  مصلحت کے تحت خریدا .  ابن کثیر نے امیرالمومنین محمد المہدی کے مناقب بیان کرتے ہوئے تاریخ ابن کثیر ج ١٠ ص ١٥٣ میں لکھا ہے کہ

وَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ يَوْمًا وَمَعَهُ نَعْلٌ فَقَالَ: هَذِهِ نعل رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَهْدَيْتُهَا لَكَ. فَقَالَ: هَاتِهَا، فَنَاوَلَهُ إِيَّاهَا، فَقَبَّلَهَا وَوَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَأَمَرَ لَهُ بِعَشَرَةِ الْآفِ دِرْهَمٍ. فَلَمَّا انْصَرَفَ الرَّجُلُ قَالَ الْمَهْدِيُّ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ هَذِهِ النَّعْلَ، فَضْلًا عَنْ أَنْ يَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ لَوْ رَدَدْتُهُ لذهب يقول للناس: أهديت إليه نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم فردها على فتصدقه النَّاسِ

 ایک دن محمد المہدی کے پاس ایک شخص آیا جس کے پاس ایک جوتی تھی۔ اس نے کہا یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی جوتی ہے جو میں آپ کو تحفتاً پیش کرتا ہوں۔ پس اس نے یہ نعل لے لیا، اسے بوسہ دیا اور اپنے دائیں طرف رکھا اور اس شخص کو دس ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو مہدی نے کہا بخدا میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ جوتی رسول نے پہنی تو کیا اسے کبھی دیکھابھی نہ ہوگا لیکن اگر میں یہ اسے واپس کردیتا تو وہ جاکر لوگوں سے کہتا پھرتا کہ میں نے مہدی کو رسول اﷲ کے نعل کا تحفہ دیا جو اس نے لوٹا دیا اور لوگ اس کی بات کو سچ سمجھتے ۔

المہدی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جوتی اتنی اچھی حالت میں کیسے ہو سکتی ہے کہ گویا نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کو کبھی دیکھا ہی نہ ہو گا . عرف  عام میں ایسی چیزوں کو جعل سازی کہتے ہیں . لیکن صرف مصلحتا اس جعل ساز سے خریدا

ابن کثیر کتاب  البداية والنهاية ج ٦ ص ٧ میں لکھتے ہیں

 قُلْتُ: وَاشْتُهِرَ فِي حُدُودِ سَنَةِ سِتِّمِائَةٍ وَمَا بَعْدَهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ التُّجَّارِ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ أَبِي الْحَدْرَدِ، نَعْلٌ مُفْرَدَةٌ ذَكَرَ أَنَّهَا نَعْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَامَهَا الْمَلِكُ الْأَشْرَفُ مُوسَى بْنُ الْمَلِكِ الْعَادِلِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَيُّوبَ مِنْهُ بِمَالٍ جَزِيلٍ فَأَبَى أَنْ يَبِيعَهَا، فَاتَّفَقَ مَوْتُهُ بَعْدَ حِينٍ، فَصَارَتْ إِلَى الْمَلِكِ الْأَشْرَفِ الْمَذْكُورِ، فَأَخَذَهَا إِلَيْهِ وَعَظَّمَهَا، ثُمَّ لَمَّا بَنَى دَارَ الْحَدِيثِ الْأَشْرَفِيَّةَ إِلَى جَانِبِ الْقَلْعَةِ، جَعَلَهَا فِي خِزَانَةٍ مِنْهَا، وَجَعَلَ لَهَا خَادِمًا، وَقَرَّرَ لَهُ مِنَ الْمَعْلُومِ كُلَّ شَهْرٍ أربعون دِرْهَمًا، وَهِيَ مَوْجُودَةٌ إِلَى الْآنَ فِي الدَّارِ الْمَذْكُورَةِ

میں کہتا ہوں سن ٦٠٠ کی حدود میں اور اس کے بعد تاجروں میں سے ایک شخص جس کو ابن ابی الحدرد کہا جاتا تھا مشہور ہوا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی ایک جوتی اس کے پاس ہے

الْمَلِكُ الْأَشْرَفُ مُوسَى بْنُ الْمَلِكِ الْعَادِلِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَيُّوبَ نے اس پر زور ڈالا کہ  ایک کثیر رقم کے بدلے اس کو  خرید لے لیکن وہ اس سے مانع ہوا اور  اس  تاجر کی  موت کے بعد یہ الملک الاشرف کو ملی جس نے اس کو لیا اور اس کی تکریم کی پس جب دار الحدیث الاشرفیہ قلعہ کی جانب بنا تو اس جوتی کو اس کے خزانے میں سے بنا دیا اور اس پر خادم مقرر کیا اور اس کے لئے فی مہینہ چالیس درہم  مقرر کیے اور یہ ابھی بھی اس جگہ موجود ہے

 اليونيني (المتوفى: 726 هـ) کتاب  ذيل مرآة الزمان  میں لکھتے ہیں کہ  ملک الاشرف نے تیس ہزار درہم کے بدلے میں اس جوتی کو ابن أبي الحديد سے حاصل کیا اور

 أن صاحبه ابن أبي الحديد كان يسافر به إلى الملوك فيعطوه الأموال

اس کے صاحب ابن ابی الحدید نے اس جوتی کو بادشاہوں کو دکھانے کے لئے سفر کرتے اور وہ ان کو مال دیتے 

ذھبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

فإنَّ الحافظ ابن السَّمْعاني ذكر: أنَّه رأى هذا النَّعْل لَمّا قَدِمَ دمشق عند الشيخ عبد الرحمن بن أبي الحديد في سَنَةِ ستٍّ وثلاثين وخمسمائة. وكان الأشرف يُقَرِّبُهُ لأَجله، ويُؤثِرُ أن يشتريَه منه، ويقفه في مكان يُزَار فيه، ….، وأقرَّه بدارِ الحديث بدمشق.

بے شک حافظ ابن السَّمْعاني  نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس جوتی کو سن  ٥٣٦ ھ میں دیکھا جب وہ شیخ عبد الرحمان بن ابی الحددید کے ساتھ دمشق پہنچی . اور اشرفیہ اس جوتی کی وجہ سے ان کے پاس جاتی اور ان پر اس کو بیچنے کے لئے اثر انداز ہوتی  اور انہوں نے ایک مکان اس کی زیارت کے لئے وقف کر دیا .. یہاں تک کہ یہ جوتی دار الحدیث دمشق پہنچی

کہا جاتا ہے اس جوتی کو مدرسہ دماغیہ  دمشق منتقل کر دیا گیا تھا . ایک رائے یہ بھی ہے اس کو ترکوں نے استنبول منتقل کر دیا تھا لیکن  لبنانی محقق جبریل فواد الحداد نے اپنی تحقیق دار الحدیث الاشرافیہ میں لکھا ہے کہ یہ جوتی ایک لکڑی کے ڈبے میں رکھی گئی  اس کو محراب کے اوپر استوار کیا گیا لیکن ٨ ہجری میں تاتاریوں کے حملے میں دار الحدیث جل گیا اور اس کے ساتھ یہ جوتی بھی ضائع ہو گئی

أبوالعباس أحمد ابن محمد ابن أحمد ابن يحيى القرشي التلمساني ( ١٠٤١ ھ ) نے کتاب  فتح المتعال في مدح النعال میں نعل شریف کے باقاعدہ نقش بنائے اور آج تک وہی نقش مختلف انداز میں موجود ہیں.

 أبوالعباس أحمد ابن محمد ابن أحمد ابن يحيى القرشي التلمساني ( ١٠٤١ ھ ) نے کتاب  فتح المتعال في مدح النعال میں نعل شریف کے بارے میں لکھا ہے کہ

یہ جس لشکر میں ہو، اس کو کبھی شکست نہ ہو جس قافلے میں ہو وہ قافلہ لوٹ مار سے محفوظ رہے جس گھر میں ہو وہ گھر جلنے سے محفوظ رہے گا جس سامان میں ہو وہ چوری ہونے سے محفوظ رہے گا۔ جس کشتی میں ہو وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گی جو کوئی صاحب نقش نعل سے کسی حاجت میں توسط کرے وہ حاجت پوری ہو اور ہر مشکل آسان ہو۔

  لیکن افسوس اس  کی شبیہہ ہونے کے باوجود مسلم علاقوں کی تباہ حالی سب کے سامنے ہے

نعلین کے حوالے سے غلو کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ

موسی علیہ السلام جب طوی کی مقدس وادی میں تشریف لے گئے تو سورۃ طہ کی آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے جوتے اتارنے کا حکم دیا طه،٢٠ : ١١۔

 إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى

 اے موسٰی بیشک میں ہی تمہارا رب ہوں سو تم اپنے جوتے اتار دو، بیشک تم طوٰی کی مقدس وادی میں ہو

اس کے برعکس نبی صلی الله علیہ وسلم جب معراج پر عرش تک گئے تو ان کے بارے میں یہ نہیں ملتا کہ کسی مقام پر ان کے نعلین مبارک اتروائے گئے ہوں اس کو دلیل بناتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ یقینا یہ نعلین بہت مبارک ہیں اور ان کی شبیہ بنانا جائز ہے حالانکہ صحیحین کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم سدرہ المنتہی تک ہی گئے اس سے آگے  نہیں اور یہ تو کسی حدیث میں نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عرش تک  گئے

جلتے ہیں پر جبریل کے جس مقام پر

اسکی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو

ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم جب سدرہ المنتہی سے آگے بڑھے تو جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم اگے جائیے ہماریے تو پر جلتے ہیں

تفسیر روح البیان کے مطابق جبریل کے الفاظ تھے

لو تجاوزت لاحرقت بالنور. وفى رواية لو دنوت انملة لاحترقت

ان الفاظ کو فصوص الحکم میں ابن عربی نے نقل کیا  ہے اور شیعوں کی کتاب بحار الانوار از ملا باقر مجلسی (المتوفی ١١١١ ھ) میں بھی یہ الفاظ نقل ہوئے  ہیں . معلوم یہی ہوتا ہے کہ شیعوں نے اس کو ابن عربی نے نقل کیا اور  سنی مفسرین نے اس کو تفسیروں میں لکھا

یہ واقعہ بھی کسی صوفی کا مکاشفہ ہے نہ کہ  صحیح سند سے آنے والی کوئی روایت

لہذا یہ دعوی کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم سدرہ المنتہی سے آگے عرش تک گئے اور ان کے نعلین پاک نے نعوذباللہ عرش عظیم کو مس کیا سراسر بے سروپا بات ہے

ومِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کوخلق کیا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو

الله نے  سوره الحج میں فرمایا

الَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ

کیا تم دیکھتے نہیں الله کو سجدہ کر رہے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے ایسے جن پر عذاب ثبت ہو چکا 

 بعض لوگ اس آیت کی تاویل کرتے ہیں کہ اگر سجدہ تعظیمی کیا جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم الله کی عبادت کرتے ہیں اور سجدہ تعظیمی کرتے وقت ہماری نیت عبادت کی نہیں ہوتی

قرآن میں اصول بیان ہوا ہے کہ  الله کو  ہی سجدہ  کرو.  لہذا غیر الله کو سجدہ حرام ہے

آدم کو سجدہ

الله نے جب آدم کو سجدے کا حکم دیا تو یہ الله  کا ایک خاص حکم تھا اور اس کا حکم ماننا  اسکی عبادت تھی  اس میں قیل و قال نہیں ہو سکتی ، لہذا جب ابلیس نے انکار کیا تو بنیادی طور سے وہ کافر ہو گیا.  اس لحظہ اللہ کے حکم کا انکار جب کہ سارے فرشتے سجدے میں ہوں اور ایک سرکش بنا کھڑا ھو الله کے غضب کو بھڑکانے لئے کافی تھا ابلیس نے  انکار کیا اور اس کی وجہ اس کا غرور و تکبر تھا. اس کو بلند ہونے کا غرور تھا اس کے نزدیک آدم تو مٹی سے بنا تھا جو آگ سے کمتر ہے

الله کا آدم کو سجدے کا حکم خاص تھا اور اس کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا

یوسف کو سجدہ

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجدہ تعظیمی تقوے سے بھرپور ایک عمل تھا۔ اسکی گواہی خود قرآن نے یوسف کو سجدہ کرنے سے دی

سوره یوسف میں بیان ہوا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا

قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ

اے میرے والد! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے دیکھا وہ مجھے  سجدہ کررہے ہیں

یعقوب علیہ السلام نے اس خواب کو سننے کے بعد یہ نہیں کہا کہ ہماری شریعت میں سجدہ جائز ہے یہ کوئی خاص چیز نہیں بلکہ آپ علیہ السلام نے اندازہ لگا لیا کہ الله کی طرف سے یوسف کی توقیر ہونے والی ہے. یعقوب علیہ السلام نے خواب چھپانے کا حکم دیا

قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ

کہا اے بیٹے اس خواب کا تذکرہ اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے خلاف سازش کریں گے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

پھر یوسف کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینکا وہاں سے الله نے مصر پہنچایا اور الله نے عزیز مصر کا وزیر بنوایا  پھر قحط پڑنے کی وجہ سے بھائیوں کو مصر آنا پڑا اور بلاخر ایک وقت آیا کہ خواب سچ ہوا

رَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ ھ۔ذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا

اور احترام سے بٹھایا اس نے اپنے والدین کو تخت پر اور جھک گئے سب اس کے لئے سجدے میں۔ (اس وقت) یُوسف نے کہا: ابّا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی (جو میں نے دیکھا تھا) پہلے۔ کر دکھایا ہے اسے میرے رب نے سچّا

قرآن کے الفاظ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک بے اختیاری فعل تھا کیونکہ سب بلا قیل و قال جھک گئے. یہ سب الله کی مشیت کے تحت ہوا کیونکہ یہ خواب کی عملی شکل تھا جو یوسف نے دیکھا اور اس خواب کے حوالے سے وہ خود خلجان میں تھے کہ انہوں نے یہ کیا دیکھا ہے اسی لئے انہوں نے اس کا تذکرہ صرف اپنے والد سے خفیہ کیا. اگر اس زمانے کی شریعت میں اس کی اجازت ہوتی تو پھر یہ کوئی عجیب بات بھی نہیں تھی اور اتنا خفیہ اس کو رکھنے کی ضرورت بھی نہیں تھی

یوسف کو سجدہ ان کے بھائیوں کا عجز اور شکست خوردگی کا اظھار تھا اب تک جس یوسف کو نیچا دکھانے کے لئے وہ تگ ودوہ کر رہے تھے  وہ اب ان سے بلند تر تھا کیونکہ الله یوسف کی مدد کر رہا تھا اور بالاخر یوسف کے بھائیوں کو ایک نفسیاتی  دھچکہ لگا اور وہ سب بے اختیار گر پڑے

 یہ ایک خاص واقعہ تھا اور اس کو دلیل نہیں بنایا جا  سکتا اور اس کی بنیاد پر مستقبل میں بھی کسی نے سجدہ نہیں  کیا

بحیرا راہب کا قصہ

ہمارے نزدیک بحيرا ایک فرضی کردار ہے جس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں لیکن چونکہ

اس کا قصہ مبالغات پر مبنی ہے لہذا زبان زد عام ہے

 معروف ہے  جس میں Apocalypse of Bahira   بحيرا  کی کتاب الفتن کے حوالے سے  کتاب

بتایا گیا ہے کہ اس کی ملاقات نبی صلی الله علیہ وسلم سے ہوئی اور اس کو کوہ طور پر مکاشفہ آیا کہ عربوں میں نبی آئے گا. اس کتاب  کو شاید عیسائیوں نے تخلیق کیا کیونکہ بحيرا   ایک نسطوری عیسائی تھا یعنی کیتھولک چرچ کا مخالف اور اس نے نبی کو عیسایت کے بارے میں معلومات دی تھیں یہ کردار اصل میں نبی صلی الله علیہ وسلم پر عیسائیوں کا بہتان تھا کہ انہوں نے اس راہب سے سیکھا تھا

بیان کیا جاتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 12 برس تھے  تو آپکے چچا ابو طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر تجارت کی غرض سے ملک شام کے سفر پر نکلے اور بصرٰی پہنچے قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا

ابن کثیر  البداية والنهاية میں لکھتے ہیں

وذكر ابن عساكر ان بحيرا كَانَ يَسْكُنُ قَرْيَةً يُقَالَ لَهَا الْكَفْرُ  بَيْنَهَا وَبَيْنَ بُصْرَى سِتَّةُ أَمْيَالٍ وَهِيَ الَّتِي يُقَالَ لها (دير بحيرا)

حافظ ابن عَسَاكِرَ نے   نے ذکر کیا ہے کہ بحيرا ایک بستی میں رہتا تھا جس کا نام کفر تھا اور اس بستی اور بصرہ میں چھ میل کا فاصلہ ہے اور اس کو دیر بحيرا کہا جاتا ہے

ایک عیسائی بنام بحیرا راہب خلاف معملول اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اسکی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کی بناء پر پہچان لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجے گا۔ ابو طالب نے کہا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا ” تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لئے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور انسان کو سجدہ نہیں کرتیں

بَحِيرَا کے حوالے سے قدیم حوالہ سیرت محمّد بن اسحاق ہے جس میں درختوں اور پتھروں کا سجدہ کرنے کا کوئی حوالہ نہیں ہے

 واقدی کی  کتاب  فتوح الشام میں ہے

ورأيت من دلائله أنه لا يسير على الأرض إلا والشجر تسير إليه

بَحِيرَا نے ان کی نبوت کے دلائل میں سے دیکھا  کہ وہ نہیں گزرتے کسی زمین یا درخت پر جو ان کی طرف نہ بڑھتا ہو

 البتہ مستدرک حاکم میں  بیان ہوا ہے کہ بحيرا  نے کہا

لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ، وَلَا حَجَرٌ، إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا وَلَا تَسْجُدُ إِلَّا لِنَبِيٍّ

کوئی درخت اور پتھر ایسا نہ تھا جو سجدہ نہ کرتا ہو اور یہ سجدہ نہیں کرتے سوائے نبی کے

مستدرک  میں اس روایت کی سند ہے کہ ابو موسیٰ الاشعری کہتے ہیں

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى

ذھبی  اس روایت پر مستدرک کی تعلیق میں کہتے ہیں  أظنه موضوعا فبعضه باطل

میرا گمان ہے یہ گھڑی ہوئی ہے اور بعض باطل ہے

سجدہ کرنے کا جوایک حوالہ ملا تھا اس کو ذھبی نے گھڑی ہوئی روایت قرار دے دیا

اونٹ کا سجدہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری گھرانے میں ایک اونٹ تھا جس پر وہ کھیتی باڑی کے لئے پانی بھرا کرتے تھے، وہ ان کے قابو میں نہ رہا اور اپنی پشت (پانی لانے کے لئے) استعمال کرنے سے روک دیا ۔ انصار صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہمارا ایک اونٹ تھا ہم اس سے کھیتی باڑی کے لئے پانی لانے کا کام لیتے تھے اور اب وہ ہمارے قابو میں نہیں رہا اور نہ ہی خود سے کوئی کام لینے دیتا ہے، ہمارے کھیت کھلیان اور باغ پانی کی قلت کے باعث سوکھ گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا : اٹھو، پس سارے اٹھ کھڑے ہوئے (اور اس انصاری کے گھر تشریف لے گئے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ میں داخل ہوئے درانحالیکہ اونٹ ایک کونے میں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ کی طرف چل پڑے تو انصار کہنے لگے : (یا رسول اللہ) یہ اونٹ کتے کی طرح باؤلا ہو چکا ہے اور ہمیں اس کی طرف سے آپ پر حملہ کا خطرہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اونٹ نے جیسے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھا یہاں تک (قریب آ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ میں گر پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پیشانی سے پکڑا اور حسب سابق دوبارہ کام پر لگا دیا۔ صحابہ کرام نے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول الله یہ تو بے عقل جانور ہوتے ہوئے بھی آپ کو سجدہ کر رہا ہے اور ہم تو عقل بھی رکھتے ہیں اس سے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں اور ایک روایت میں ہے کہ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول الله ہم جانوروں سے زیادہ آپ کو سجدہ کرنے کے حقدار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی فردِ بشر کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی بشر کو سجدہ کرے اور اگر کسی بشر کا بشر کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو اس کی اس عظیم قدر و منزلت کی وجہ سے سجدہ کرے جو کہ اسے بیوی پر حاصل ہے۔

  وأخرجه البزار وأبو نعيم في الدلائل النبوه

تبصرہ اس کی سند ہے

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

اس سند میں خلف بن خليفة ہے اور  وخلف كان اختلط قبل موته

خلف بن خليفة اختلاط کا شکار تھے

احمد کہتے ہیں فَسُئِلَ عَنْ حَدِيْثٍ، فَلَمْ أَفْهَمْ كَلاَمَهُ.

میں نے ان سے حدیث پوچھی لیکن ان کا کلام سمجھ نہیں سکا

ابن سعد کہتے ہیں

كان ثقة ثم أصابه الفالج قبل أن يموت حتى ضعف وتغير لونه واختلط

یہ ثقه تھے پھر فالج کا اثر ہوا مرنے سے پہلے حتیٰ کہ ضعیف ہوئے اور ان کا رنگ بگڑ گیا اور اختلاط ہوا

مسلم نے ان سے روایات حسین المروزی کے واسطے سے نقل نہیں کی

قال الحاكم أخرجه مسلم في الشواهد

حاکم کہتے ہیں کہ مسلم نے شواہد میں روایت لی ہے

زارع بن عامر کی روایت

زارع بن عامر – جو وفدِ عبد القیس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے  سے مروی ہے

لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم وَرِجْلَهُ.

”جب ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو اپنی سواریوں سے کود کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس اور پاؤں مبارک کو چومنے لگے۔ ”

اس حدیث کو صحاح ستہ میں سے سنن ابی داود (کتاب الادب، باب قبلۃ الجسد، 4: 357، رقم: 5225) میں روایت کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اسے امام بیہقی نے السنن الکبری (7: 102) میں اور امام طبرانی نے اپنی دو کتب المعجم الکبیر (5 : 275، رقم : 5313) اور المعجم الاوسط (1 : 133، رقم : 418) میں روایت کیا ہے۔

تبصرہ  ابی داود میں اس روایت کی سند ہے

حدَّثنا محمدُ بنُ عيسى، حدَّثنا مَطَرُ بنُ عبدِ الرحمن الأعنقِ، حدَّثتني أُمُ أبان بنتُ الوازع بن زَارعٍ عن جِدِّها زَارع

ذھبی نے میزان میں  أم بان بنت الوازع  کا  تذکرہ مجھول راویوں میں کیا ہے

اعتراض

۔ امام بخاری نے ”الادب المفرد” میں باب تقبيل الرِّجل قائم کیا ہے یعنی ”پاؤں کو بوسہ دینے کا بیان۔ ” اس باب کے اندر صفحہ نمبر 339 پر حدیث نمبر 975 کے تحت انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کو حضرت وازع بن عامر رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

قَدِمْنَا, فَقِيْلَ: ذَاکَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم. فَأَخَذْنَا بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ نُقَبِّلُهَا.

”ہم مدینہ حاضر ہوئے تو (ہمیں) کہا گیا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں اور قدموں سے لپٹ گئے اور اُنہیں بوسہ دینے لگے۔ ”

تبصرہ البانی ادب المفرد کی  تعلیق میں  لکھتے ہیں

ضعيف الإسناد. أم أبان مجهولة.

ضعیف الاسناد ہے ام ابان مجھول ہے

یہود  نے نبی کی  قدم بوسی کی

محمد بن العلاء، ابن ادریس، شعبہ، عمرو بن مرة، عبداللہ بن سلمہ، صفوان بن عسال سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ چلو اس نبی کے پاس چلیں (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلیں)۔ دوسرے شخص نے کہا اس کو نبی نہ کہو کیونکہ اگر اس نے (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) سن لیا تو ان کی آنکھیں چار ہو جائیں گی (یعنی حد سے زیادہ خوش ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ لو اب مجھ کو یہود بھی نبی تسلیم کرنے لگے۔ بہر حال) پھر وہ دونوں حضرات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا کہ وہ نو آیات کیا ہیں (جو کہ خداوند قدوس نے حضرت موسیٰ کو عطا فرمائی تھیں جیسا کہ فرمایا گیا (وَلَقَد اٰتَینَا مُوسٰی تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم خداوند قدوس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور چوری نہ کرو اور زنا نہ کرو اور خداوند قدوس نے جس جان کو حرام کیا ہے (یعنی جس کا خون حرام قرار دیا ہے) اس کو ناحق قتل نہ کرو اور تم بے قصور آدمی کو حاکم یا بادشاہ کے پاس نہ لے جا (اس کو ناحق سزا دلانے کے لیے) اور تم جادو نہ کرو اور سود نہ کھاؤ اور پاک دامن خاتون پر تہمت زنا نہ لگا اور جہاد کے دن راہ فرار اختیار نہ کرو (بلکہ دشمن کا جم کر مقابلہ کرو) یہ احکام نوہیں اور ایک حکم خاص تم لوگوں کے لیے ہے کہ تم ہفتہ والے دن ظلم زیادتی نہ کرو (مراد یہ ہے کہ وہ دن حرمت کا دن ہے اس کی پوری طرح عظمت برقرار رکھو) اور اس روز مچھلیوں کا شکار نہ کرو (کیونکہ ہفتہ کا دن یہود کے شکار کرنے کے واسطے مقرر کیا گیا تھا کتب تفسیر میں اس کی صراحت ہے) یہ باتیں سن کر ان دونوں یہودیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک چوم لیے اور کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا تو پھر لوگ میری کس وجہ سے فرماں برداری نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب دیا حضرت داؤد نے دعا فرمائی تھی کہ ہمیشہ ان کی اولاد میں سے ہی نبی بنا کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت داؤد کی اولاد میں سے نہیں ہیں یہ صرف ایک بہانہ تھا حضرت داؤد نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے کی خوش خبری دی ہے اور ہم کو اندیشہ ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کریں گے تو یہود ہم کو قتل کر دیں گے۔

 جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 629 حدیث مرفوع مکررات 4

 ابوکریب، عبداللہ بن ادریس و ابواسامة، شعبة، عمرو بن مرة، عبداللہ بن سلمة، حضرت صفوان بن عسال فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ چلو میرے ساتھ اس نبی کے پاس چلو۔ اس کے ساتھی نے کہا نبی نہ کہو کیونکہ اگر انہوں نے سن لیا تو خوشی سے ان کی آنکھیں چار ہو جائیں گی۔ وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نو نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ یہ ہیں کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، ایسے شخص کو قتل نہ کرو جسے قتل کرنا حرام ہے، بے قصور شخص کو حاکم کے پاس نہ لے جاؤ تاکہ وہ اسے قتل کرے (یعنی تہمت وغیرہ لگا کر) جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاکباز عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ، کافروں سے مقابلہ کرتے وقت پیٹھ نہ پھیرو اور خصوصا اے یہودیو تمہارے لیے لازمی ہے کہ ہفتے کے دن حد سے تجاوز (یعنی ظلم و زیادتی) نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں (یعنی یہودیوں) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور کہنے لگے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر کون سی چیز تمہیں میری اتباع سے روکتی ہے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا مانگی تھی کہ نبی ہمیشہ ان کی اولاد میں سے ہوں۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کریں گے تو یہودی ہمیں قتل نہ کر دی

تبصرہ

 اس کی سند ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو الوَلِيدِ – وَاللَّفْظُ لَفْظُ يَزِيدَ وَالمَعْنَى وَاحِدٌ -، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ

صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کتاب المختلطين  کے مطابق عبد الله بن سَلِمة کے لئے لکھتے ہیں

قال عمرو بن مرة: كان يحدثنا فنعرف وننكر كان قد كبر

عمرو بن مرة کہتے ہیں :  یہ روایت کرتے تھے تو کچھ پہچانتے  اور کچھ کا انکار کرتے اور یہ بوڑھے تھے

یعنی عبد الله بن سَلِمة بوڑھے ہو کر اختلاط کا شکار تھے اور اپنی روایتوں کو خود بھی نہیں پہچانتے تھے

متن میں بھی یہ راویت صحیح نہیں تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ (سوره الاعراف) اور احکام عشرہ علیحدہ ہیں

تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ سے مراد ہے ١ ید بیضاء،٢ عصا کا سانپ بننا،  ٣ جادوگروں کا سجدہ کرنا،  ٤ الطُّوفَانَ، ٥ وَالْجَرَادَ ٹڈی دل،    ٦ وَالْقُمَّلَ سرسریاں، ٧  وَالضَّفَادِعَ  مینڈک ، ٨ وَالدَّمَ پانی کا خون بننا، ٩ سمندر کا پھٹنا

عمر نے قدم بوسی کی

ایک روایت ہے کہ ایک موقعہ پر نبی صلی الله علیہ وسلم غصّے میں آ گئے اور منبر پر گئے پس

فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه فَقَبَّلَ رِجْلَهُ وَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، رَضِيْنَا بِاﷲِ رَبًّا وَبِکَ نَبِيًّا وَبِالإِسْلَامِ دِيْنًا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا فَاعْفُ عَنَّا عَفَا اﷲُ عَنْکَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّی رَضِيَ.

عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک چوم کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، آپ کے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام و راہنما ہونے پر راضی ہیں، ہمیں معاف فرما دیجئے۔ اﷲ تعالیٰ آپ سے مزید راضی ہو گا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل عرض کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہو گئے۔”

تبصرہ

یہ روایت صحیح سند ہے بخاری میں مکمل بیان ہوئی ہے اور اس میں قدم بوسی کا  ذکر نہیں

ابن کثیر تفسیر میں  قدم بوسی والے قصے پر لکھتے ہیں

وَقَدْ ذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ مُرْسَلَةً غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ، مِنْهُمْ أَسْبَاطٌ عَنِ السدي

ایک سے زائد سلف جن میں أَسْبَاطٌ عَنِ السدي ہیں  نے یہ قصہ مرسل ذکر کیا ہے

أسباط بن نصر الهمداني، المتوفى ١٧٠ هـ السدي إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة المتوفى    ١٢٨ سے اس کو روایت کرتے ہیں

قال أبوحاتم (الجرح والتعديل ج 1/ق1/332): “سمعت أبا نعيم يضعف أسباط بن نصر وقال: أحاديثة عامية سقط مقلوبة الأسانيد

ابی حاتم کہتے ہیں میں نے ابو نعيم کو أسباط بن نصر کی تضعیف کرتے سنا اور کہا اس کی احادیث میں اسناد تبدیل شدہ ہوتی ہیں

نسائی ان کو ليس بالقوي قوی نہیں کہتے ہیں ميزان الاعتدال

اس کے سارے طرق أسباط بن نصر الهمداني نے نقل کئے ہیں اور یہ ضعیف راوی ہے

بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت

بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے آکر عرض کیا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن میں کچھ مزید چاہتا ہوں تاکہ میرے یقین میں اضافہ ہوجائے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی تو اعرابی کے بلاوے پر ایک درخت اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو۔ اس کے بعد طویل روایت ہے اور آخر میں اعرابی نے تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد عرض کیا:

أقَبِّلُ رِجْلَيْكَ؟ قَالَ نَعَمْ

.اے اللہ کے رسول میں  قدم مبارک چوم لوں آپ صلی الله علیہ وسلم نے کہا ہاں

اس کے بعد روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اعرابی کو اجازت مرحمت فرمائی۔ اور پھر اس اعرابی نے سجدہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت نہ دی۔

تبصرہ

یہ روایت مسند الرویانی میں اس سند سے نقل ہوئی ہے

نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، نا تَمِيمُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، نا صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ

اس کی سند کے راوی صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ  کے لئے ذھبی لکھتے ہیں

وَهُوَ وَاهٍ. یہ بے کار ہے

قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: عَامَّةُ مَا يَرْوِيْهِ غَيْرُ مَحْفُوْظٍ. ان کی بیان کردہ روایات غیر محفوظ ہیں

وَقَالَ يَحْيَى بنُ مَعِيْنٍ: ضَعِيْفٌ.

وَقَالَ البُخَارِيُّ: فِيْهِ نَظَرٌ.

وَقَالَ النَّسَائِيُّ: لَيْسَ بِثِقَةٍ. ثقه نہیں

صہیب مولی ابن عبّاس کی روایت

ایک روایت بیان کی جاتی ہے  کہ صہیب عباس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، وہ بیان کرتے ہیں

رَأَيْتُ عَلِيًّا يُقَبِّلُ يَدَ الْعَبَّاسِ وَرِجْلَيْهِ وَيَقُوْلُ: يَا عَمِّ ارْضَ عَنِّي.

میں نے علی رضی اللہ عنہ کو عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں چومتے دیکھا اور آپ ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے: اے چچا! مجھ سے راضی ہوجائیں۔

اسے امام بخاری نے الادب المفرد (ص: 339، رقم: 976) میں، امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء (2: 94) میں، امام مزی نے تہذیب الکمال (13: 240، رقم: 2905) میں اور امام مقری نے تقبیل الید (ص: 76، رقم: 15) میں روایت کیا ہے۔

تبصرہ  یہ روایت ضعيف الإسناد  ہے اور  موقوف ہے  اس کی سند میں صهيب مولي العباس ہے جس کا حال غیر معروف ہے

ذھبی کتاب سير أعلام النبلاء  میں  لکھتے ہیں

سُفْيَانُ بنُ حَبِيْبٍ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى العَبَّاسِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيّاً يُقَبِّلُ يَدَ العَبَّاسِ وَرِجْلَهُ وَيَقُوْلُ: يَا عَمّ ارْضَ عَنِّي.

إِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَصُهَيْبٌ لاَ أَعْرِفُهُ.

اس کی اسناد حسن ہیں اور صُهَيْبٌ کا پتا نہیں کون ہے

الغرض قدم بوسی اور سجدے کی روایات تار عنکبوت سے کم نہیں

Comments are closed.