اردو کتب

بقلم  ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی رحمہ الله علیہ

وسیلے کا شرک

  Wasilay-ka-Sheerk

وفات ختم الرسل

Wafat-Khatm-ur-Rusul

فلاح کا راستہ

Falah-ka-Rasta

عذاب البرزخ

Azab-e-Barzakh

یہ مزار یہ میلے

yeh Mazar yeh Melay

 تصوف کے حوالے سے کتاب ایمان الخالص  پہلی قسط

Eman-e-Khalis-part1-pg1to25

Eman-e-Khalis-part1-pg26to50

Eman-e-Khalis-part1-pg51to75

Eman-e-Khalis-part1-pg76to100

Eman-e-Khalis-part1-pg101to126

Eman-e-Khalis-part1-pg127toEnd

البینات کا اصل مضمون جس پر اس کتاب میں تبصرہ ہے

اس کتاب کے حوالے سے مخالفین کا جواب

کھانے پینے کے بارے میں شرعی اَحکام

کیا کم خوری عیب ہے؟

س… محترم المقام جناب حضرت مولانا محمد یوسف صاحب مدظلہم، سلامِ مسنون۔ گزارش یہ ہے کہ میں گورنمنٹ ہائی اسکول گگومنڈی، ضلع وہاڑی میں بطور ٹیچر تعینات ہوں، اور علمائے دیوبند کا خادم ہوں، آپ کو معلوم ہے کہ تعلیمی اداروں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اس سلسلے میں آپ سے کچھ وضاحت چاہتا ہوں۔ ماہنامہ “بینات” کے کسی شمارے میں حضرت بنوری نے اپنے والد بزرگوار کے متعلق مضمون لکھا تھا، اس میں دو باتیں قابلِ اعتراض ہیں، جن پر کیپٹن عثمانی والے اعتراض کرتے ہیں، اور ہمارے اسکول میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں اور وہ ہم پر اعتراض کرتے رہتے ہیں، اس لئے آپ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔ ان کے نزدیک حضرت بنوری کی یہ دو باتیں قابلِ اعتراض ہیں:

ا- “میرے والد صاحب (حضرت بنوری کے والد) نے ساڑھے تین ماشے خوراک پر سالہا سال زندگی بسر کی۔”

۲- “اور ان کا نکاح حضرت علی نے پڑھایا تھا۔”

۱-وضاحت طلب اَمر یہ ہے کہ کوئی مثال ایسی اسلام میں ہے کہ خواب میں کسی صحابی یا تابعی کا نکاح پڑھایا گیا ہو؟

۲- کوئی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر دُنیا میں آسکتا ہے؟ اگر ممکن ہے تو اس کی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے؟ کیونکہ معترض لوگ حضرت نانوتوی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ دیوبند میں آئے تھے، تمہاری کتاب میں لکھا ہے۔

کیا کسی صاحب نے بریلوی حضرات کی طرف سے لکھی گئی کتاب “زلزلہ” کا جواب تحریر کیا ہے؟ نیز کیپٹن عثمانی کی کتاب “توحیدِ خالص” کا جواب لکھا گیا ہے؟ مہربانی فرماکر وضاحت فرمادیں، میں نے اشارے کے طور پر اعتراض لکھے ہیں، باقی سب خیریت ہے۔ قاری عبدالباسط، ٹیچر گورنمنٹ ہائی اسکول گگومنڈی

بورے والا، ضلع وہاڑی

ج… مکرم و محترم جناب قاری عبدالباسط صاحب زیدمجدہم

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ!

آنجناب نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت بنوری کے اس مضمون پر، جو انہوں نے اپنے والد ماجد نوّر اللہ مرقدہ کی وفات پر تحریر فرمایا تھا، ڈاکٹر کیپٹن عثمانی کو دو اعتراض ہیں، اوّل حضرت کی اس عبارت پر جس میں والد مرحوم کی خوراک کی کمی کو بیان کیا گیا ہے کہ عنفوانِ شباب میں وہ صرف تین ماشہ خوراک پر اکتفا کیا کرتے تھے۔

میں یہ بالکل نہیں سمجھ سکا کہ ڈاکٹر عثمانی کو اس میں قابلِ اعتراض کیا بات نظر آئی؟ یا آپ کو اس میں کیا اِشکال پیش آیا؟ میرے محترم! زیادہ کھانا تو بلاشبہ لائقِ مذمت ہے، شرعاً بھی اور عقلاً بھی۔ لیکن کم کھانا تو عقل و شرع کے کسی قانون سے بھی لائقِ اعتراض نہیں، بلکہ خوراک جتنی کم ہو اسی قدر لائقِ مدح ہے، بشرطیکہ کم کھانے میں ہلاکت کا یا صحت کی خرابی کا خطرہ نہ ہو۔ کیونکہ اہلِ عقل کے نزدیک کھانا بذاتِ خود مقصد نہیں، بلکہ اس کی ضرورت محض بقائے حیات اور بقائے صحت کے لئے ہے، شیخ سعدی کے بقول:

خوردن برائے زیستن و عبادت کردن است

تو معتقد کہ زیستن برائے خوردن است

اور اگر اِشکال کا منشا یہ ہے کہ ساڑھے تین ماشہ خوراک کے ساتھ آدمی کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ تو یہ اِشکال کسی دہریے کے منہ کو زیب دے تو دے، مگر ایک موٴمن جو حق تعالیٰ شانہ کی قدرت پر یقین رکھتا ہو اس کی طرف سے اس اِشکال کا پیش کیا جانا یقینا موجبِ حیرت ہے، سب جانتے ہیں کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ محض تسبیح و تقدیس سے زندہ رکھتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو ہزار برس سے بغیر مادّی خوراک کے آسمان پر زندہ ہیں۔ مشکوٰة شریف (ص:۴۷۷) میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کی روایت سے حدیثِ دجال مروی ہے، جس میں دجال کے زمانے کے قحط کا ذکر فرمایا گیا ہے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آٹا گوندھ کر رکھتے ہیں، ابھی روٹی پکانے کی نوبت نہیں آتی کہ ہم بھوک محسوس کرنے لگتے ہیں، ان دنوں اہلِ ایمان کیا کریں گے؟ فرمایا:

“یجزئھم ما یجزی أھل السماء من التسبیح والتقدیس۔”

ترجمہ:… “ان کو وہی تسبیح و تقدیس کفایت کرے گی جو آسمان والوں کو کفایت کرتی ہے۔”

اکابر اولیاء اللہ کے حالات میں تقلیلِ طعام کے واقعات اس کثرت سے منقول ہیں کہ حدِ تواتر کو پہنچے ہوئے ہیں، اِمام بخاری کے بارے میں علامہ کرمانی  لکھتے ہیں:

کان فی سعة من الدنیا وقد ورث من أبیہ مالًا کثیرًا، وکان یتصدق بہ وربما یأتی علیہ نھار ولا یأکل فیہ، وانما یأکل احیانا لوزتین أو ثلاثًا۔” (مقدمہ لامع ص:۹)

ترجمہ:… “اِمام بخاری کو اللہ تعالیٰ نے دُنیا کی کشائش دے رکھی تھی، بہت سا مال انہیں والد ماجد کے ترکہ میں ملا تھا، جس سے وہ صدقہ کرتے رہتے تھے، مگر اپنی خوراک اتنی کم تھی کہ بسااوقات دن بھر کھانا نہیں کھاتے تھے، بس کبھی کبھار دو تین بادام تناول فرمالیتے تھے۔”

افسوس ہے! کہ آج کی مادّی عقلیں اپنی سطح سے بلند ہوکر سوچنے سے معذور ہیں، اس لئے ہم لوگ ایسے حالات کو سمجھنے سے بھی قاصر ہوگئے ہیں، اور ڈاکٹر مسعود عثمانی تو بادشاہ آدمی ہیں، وہ تو اِمام احمد بن حنبل جیسے اکابر پر بھی بلاتکلف مشرک ہونے کا فتویٰ صادر فرمادیتے ہیں، حضرتِ اقدس بنوری یا ان کے والد ماجد کی اِمام احمد بن حنبل کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے․․․؟

آپ نے دُوسرا اعتراض یہ نقل کیا ہے کہ نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پڑھایا تھا، مناسب ہوگا کہ پہلے اس سلسلے میں حضرت بنوری کی عبارت نقل کردی جائے، آپ لکھتے ہیں:

آپ کے والد مرحوم حضرت سیّد مزمل شاہ رحمة اللہ علیہ کا تو وصال ہوگیا تھا، والدہٴ مکرّمہ حیات تھیں، جن کا اصرار تھا کہ ازدواجی زندگی اختیار کریں، لیکن عزمِ عبادت و طاعت کے منافی سمجھ کر انکار کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک خواب میں یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فلاں بی بی سے فلاں خاندان میں عقدِ نکاح باندھ رہے ہیں، اس رُوٴیائے صالحہ کے بعد انکار ختم ہوگیا اور ازدواجی زندگی میں قدم رکھ ہی لیا اور اس رُوٴیائے صادقہ کی تعبیر اس طرح صادق آگئی۔

آپ کے نقل کردہ اعتراض میں اور حضرت بنوری کی تحریر میں زمین و آسمان کا فرق ہے، حضرت بنوری رُوٴیائے صالحہ کا ذکر فرما رہے ہیں جس کی تعبیر ظاہر ہوئی، اور آپ یہ نقل کرتے ہیں کہ: “نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پڑھایا تھا۔” رُوٴیائے صالحہ کا مبشرات میں سے ہونا تو خود احادیث شریفہ میں وارِد ہے۔ اور صحیح بخاری (۱۰۳۸) “باب کشف المرأة فی المنام” میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: “تو مجھے خواب میں دو مرتبہ دِکھائی گئی، ایک شخص (فرشتہ) تجھے ریشم کے ٹکڑے میں اُٹھائے ہوئے تھا اور وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے کھول کر دیکھا تو تو ہی تھی، میں نے کہا کہ: اگر یہ منجانب اللہ مقدر ہے تو ہوکر رہے گا۔”

انبیائے کرام علیہم السلام کا خواب تو وحیٴ قطعی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اہلِ ایمان کے خواب کی حیثیت محض مبشرات کی ہے، بہرحال کسی شخص کا خواب میں یہ دیکھنا کہ فلاں خاتون کے ساتھ اس کا عقد ہو رہا ہے، مبشرات کے قبیل سے ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس قصے میں آپ کو یا دُوسرے حضرات کو کیوں اِشکال پیش آیا۔

۲:… مرنے کے بعد دوبارہ دُنیا میں آنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، اور دونوں ممکن ہیں، ایک صورت یہ ہے کہ مردے کو دوبارہ زندہ کردیا جائے اور وہ عام معمول کے مطابق زندہ ہوجائے، قرآنِ کریم میں اس کی مثالیں موجود ہیں، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں متعدّد جگہ ذکر فرمایا ہے کہ وہ باِذنِ اِلٰہی مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے۔ سورہٴ بقرہ آیت:۲۵۹ میں اس شخص کا واقعہ مذکور ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایک سو سال تک مردہ رکھ کر پھر زندہ کردیا تھا: “فَأَمَاتَہُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہ ”۔ سورہٴ بقرہ ہی کی آیت:۲۴۳ میں ان ہزاروں اَشخاص کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو موت کے خوف سے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور جن کو موت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر زندہ کردیا تھا۔ سورہٴ بقرہ کی آیت:۵۵ اور ۵۶ میں موسیٰ علیہ السلام کے ان رُفقاء کے مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کا ذکر ہے جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے غلط مطالبہ کیا تھا:

“وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوسٰی لَنْ نُّوٴْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللهَ جَھْرَةً فَأَخَذَتْکُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ، ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْم بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔” (البقرة:۵۵، ۵۶)

اور سورہٴ اَعراف کی آیت:۱۵۵ میں اسی کی مزید تفصیل ذکر کی گئی ہے۔ الغرض اسی قسم کے بہت سے واقعات قرآنِ کریم ہی میں مذکور ہیں۔

اور کسی فوت شدہ شخص کے دُنیا میں دوبارہ نظر آنے کی دُوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ معروف زندگی کے ساتھ تو اس کا جسم دُنیا میں زندہ نہ کیا جائے مگر خواب یا بیداری میں اس کی شبیہ کسی شخص کو نظر آئے، اس کو دوبارہ زندگی کہنا صحیح نہیں، بلکہ یہ ایک طرح کا رُوحانی کشف ہے، کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اپنے کسی بندے کی اعانت کے لئے کسی لطیفہٴ غیبی کو فوت شدہ بزرگ کی شکل میں بھیج دیتے ہیں کہ (کیونکہ وہ شکل اس کے لئے مانوس ہوتی ہے)، جیسا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت مریم کے سامنے انسانی شکل میں متمثل ہوئے تھے، اس صورت میں فوت شدہ بزرگ کو اس واقعے کی خبر نہیں ہوتی، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ باذنِ اِلٰہی اس بزرگ کی رُوح اس شخص کے سامنے متمثل ہوجاتی ہے، جیسا کہ شبِ معراج میں انبیائے کرام علیہم السلام کی اَرواحِ طیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے متمثل ہوئی تھیں، البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسدِ عنصری کے ساتھ موجود تھے، اور چونکہ یہ سب کچھ باذنِ الٰہی ہوتا ہے، جس میں اس فوت شدہ بزرگ کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اس لئے ایسے واقعات کو کشف و کرامت کے قبیل سے سمجھا جاتا ہے، اور ان واقعات کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جو انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات کا اور اولیائے کرام کی کرامات کا منکر ہو، جبکہ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ:

کرامات الأولیاء حق۔ (اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں)

جیسا کہ فقہِ اکبر اور دیگر کتبِ عقائد میں مذکور ہے، حضرت نانوتوی قدس اللہ سرہ کا وہ واقعہ جس کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا، وہ اسی قبیل سے ہے، جس میں شرعاً و عقلاً کوئی اِشکال نہیں۔

بریلوی کتاب “زلزلہ” کا محققانہ جواب مولانا محمد عارف سنبھلی نے “بریلوی فتنے کا نیا رُوپ” کے نام سے لکھا ہے، پاکستان میں یہ کتاب “ادارہٴ اسلامیات، ۱۹۰ انارکلی، لاہور” سے شائع ہوئی ہے، اور ڈاکٹر عثمانی کی کتاب “توحیدِ خالص” کا جواب مولانا ابوجابر عبداللہ دامانوی نے “الدّین الخالص” کے نام سے لکھا ہے، یہ کتاب “حزب المسلمین، فاروقِ اعظم روڈ، کیماڑی کراچی” سے شائع ہوئی ہے۔

عرض اعمال کے حوالے سے کتاب ایمان الخالص  دوسری قسط 

Eman-e-Khalis-part2-pg1to20

Eman-e-Khalis-part2-pg21to42

بقلم دیگر

دینداری دکانداری 

 مجمع البحرین  یہودی، نصرانی اور غناسطی تصوف کے اسلام پر اثرات

مجمع البحرین   خط نستعلیق میں

عقیدہ عود روح اور قائلین کی خیانتیں

اکابر پرستی یا صراط مستقیم

دینی امور پر اجرت کا ردآثار تابعین اور متقدمین فقہاء کی رائے کی روشنی میں

عرض اعمال کی روایات

عذاب قبر کی حقیقت

  اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت

وفات النبی ٢٠١٧

روایات مسیح ٢٠١٧

 روایات ظہور المہدی   مفصل تحقیق جدید ٢٠١٧

روایات المہدی   مختصر ٢٠١٥

روایات یاجوج ماجوج ٢٠١٧

عذاب القبر

كتاب توحيد ألأسماء الحسني

عقیدہ عرض اعمال

 

Comments are closed.