واتقواللہ

واتقواللہ ۔ منکرین حدیث اور  مخالفین  کے اٹھائے جانے والے مختلف اعتراضات و اشکال کے حوالے سے علمی ابحاث کا مجموعہ ہے

 واتقواللہ ۔ حصہ اوّل

واتقواللہ ۔ حصہ دوم

واتقواللہ ۔ حصہ سوم

واتقواللہ ۔ حصہ چہارم

واتقواللہ ۔ حصہ پنجم

واتقواللہ ۔ حصہ ششم جز اول و دوم

واتقواللہ ۔ حصہ ہفتم

واتقواللہ ۔ حصہ ہفتم کے دو اہم مضامین مندرجہ ذیل ہیں

انبیاء کی دعوت

خیر القرون کے گزر جانے ک بعد امّت کی زبوں حالی کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ  آج تک برابر جاری ہے.اس زبوں حالی کی بدولت امّت مسلمہ کی جاہ و حشمت چھنی ،عزت و ثروت رخصت ہوئی،ذلّت و رسوائی نے ڈیرے ڈالے ،تباہی و بربادی مقدّر بنی.ذلّت و رسوائی کی لرزہ خیز داستانوں اور تباہی وبربادی کے المناک واقعات سے تاریخ کے صفحات پرہیں .بات محض ”ماضی”کی نہیں اس کا ”حال” تو ماضی سے زیادہ کربناک ہے .دور تک ”سحر”کے نشان نظر نہیں آتے ہیں.حیرت  اس بات پر ہے کے امّت کی اکثریت اس بدحالی پر بے حسی  کا شکار نظر آتی ہے.کچھ ایسے بھی ہیں جو اس درد کو محسوس تو کرتے ہیں مگر اس کا کوئی علاج ان کے پاس بھی نہیں .کوئی اس صورتحال پر نوحہ کناں ہے ،کوئی اس بدحالی کی ذمداری دشمنان   اسلام کے سر ڈالتا ہے،کوئی اغیار کو طعنے دیتا نظر آتا ہے، کوئی آپس کے اختلافات اور تفرقہ بازی کو اس کا اصل سبب قرار دیتا ہے،کوئی دنیا پرستی اور عیش و عشرت پسندی کو اس کی وجہ بتاتا ہے.کوئی امّت کی بے عملی اور احکام  شریعت سے بےاعتنائی برتنے کو بدحالی کا سبب بتاتا ہے. کوئی غیر اسلامی طرز حکومت اختیار کر لینے کو امّت کی مغلوبیت کا راز سمجھتا ہے کوئی جہاد کے ترک کرنے کو خواری کی وجہ بتاتا ہے . غرض ہر ایک اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق امّت کے مرض کی تشخیص اور اس کا علاج تجویز کرتا ہے. چنانچہ کہیں اتحاد بین مسلمین کے لئے کوششیں ہو رہی ہیں اور کہیں بے حیائی اور فحاشی کے خلاف زور لگایا جارہا ہے،کوئی احکام شریعت کی طرف بلا رہا ہے،کوئی صوم و صلواة کی دعوت دے رہا ہے ،کوئی حکومت کی باگیں اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے کوشاں ہے تا کے اسلامی نظام کو نافذ کیا جا سکے،کوئی کفار کے خلاف جہاد کا نیٹ ورک چلا رہا ہے .الغرض طرح طرح کی کوششیں ہو رہی ہیں،برسہابرس سے یہ سلسلہ جاری ہے .ان ساری  کوششوں کے باوجود جو نتیجہ ہے وو بھی سب کے سامنے ہے.نہ اتحاد قائم ہو سکا اور نہ اغیار کی ریشہ دوانیوں  کا کوئی علاج ممکن ہو سکا ہے،نہ بے حیائی اور فحاشی پر بند باندھا جا سکا ہے ،نہ بے عملی عمل میں تبدیلی ہوئی ہے،نہ زمام  کار اسلام کا نفاذ کرنے والوں کے ہاتھ لگا ہے اور نہ ہی جہاد نے رنگ جہاں بدلہ ہے.امّت مسلمہ کا مرض ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے.غوروفکر کا مقام ہے کہ آخر طرح طرح کی یہ سب کوششیں بے نتیجہ کیوں ہیں؟علاج معالجے کے باوجود مرض کے بڑھتے ہی جانے کا صاف مطلب تو یہ ہے کہ نہ تو تشخیص ہی صحیح ہے اور نہ علاج،تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس امّت کو لاحق مرض ہے کیا؟جس نے اس کوقعر مذلت کی خاک چاٹنے پر مجبورکردیا ہے.مرض کی ٹھیک ٹھیک تشخیص کے بعد ہی درست علاج کی توقع کی جا سکتی ہے

الله کی کتاب اس سلسلے میں رہنمائی کرتی ہے کہ گزشتہ امتوں کی تباہی و بربادی کا سبب ”شرک ”بنا ہے.جب قومیں ایمان کے ساتھ غدر کر کے شرک کو اختیار کر لیتی ہیں تو الله کے عذاب کی مستحق قرار پاتی ہیں پھر تباہی و بربادی کی صورت میں اس کا نتیجہ نکلتا ہے .آج یہ آخری امّت بھی شرک کی اس موذی بیماری میں بری طرح مبتلا ہو چکی ہے .شرک نے امّت کے توانا تن کو تن لاغر بنا دیا ہے.جب تک ایمان وعقیدے کو شرک کی نجاست سے پاک نہیں کیا جائے گا،موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں،ساری کوششیں بیکار اور ساری کدوکاوش لاحاصل ہو گی .اس موقعے پر انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج اس تلخ حقیقت کو کوئی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ امّت کے ایمان وعقیدے کو شرک نے برباد کر ڈالا ہے.حقیقت کے انکار سے حقیقت بدل جایا نہیں کرتی ہے.واقعہ یہی ہے کہ کفروشرک کو اب دین سمجھا جانے لگا ہے.مشرکانہ نظریات کو اب اسلامی عقائد کہا جاتا ہے.ان کے نزدیک کفروشرک تو بس وہی رہ گیا ہے جو یہود اور نصاری کے ہاں پایا جاتا ہے.وہی سب کچھ ناموں کی تبدیلی کے ساتھ ان کے ہاں موجود ہے مگر اسے یہ مذہب و مسلک یا عقیدے کا نام دیتے ہیں

چنانچہ ” ابن الله” کا عقیدہ تو کفرو شرک ہے “نورمن نور الله”عین اسلام ہے،بت پرستی شرک اور قبر پرستی جائز ٹہری ہے ،تناسخ اور آوا گون کفروشرک ،عودروح کا عقیدہ حق ہے. تثلیث کا عقیدہ کفرو شرک اور پنج تن کا تصور حب اہل بیت ہے، يَقُولُونَ هَؤُلَاءِشُفَعَاؤُنَاعِنْدَاللَّهِ شرک اور نبی ،ولی ،شہید کے واسطے وسیلے جائز قرار دے لیے گئے ہیں ،اس اجمال کی تفصیل دراز ہے ،توجہ دلانے کے لئے اتنا کافی ہے.امّت کی اکثریت کا یہ حال ہے جو درج بلا سطور میں بتایا گیا ہے.امّت میں دوسرا گروہ بھی ہے جو کفروشرک پر مبنی بعض عقائد کو شرک تو قرار دیتا ہے مگر دوسرے مشرکانہ عقائد اس کے اپنے ایمان کا جز بنے ہوئے ہیں. یہ وہ لوگ ہیں جو غیر الله کی پکار کو شرک تو قرار دیتے ہیں  مگر قبر پرستی اور پکار کے شرک کی بنیاد بننے والے عقیدے ”سماع موتی ”پر ایمان رکھتے ہیں .یہ قبروں کی پوجا پاٹ کو شرک کہتے ہیں مگر اس قبر پرستی کی بنیاد اور جواز فراہم کرنے والے ”حیات فی القبر”کے عقیدے پر ان کا ایمان پکّا ہے.یہ الله کے نبی کے ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے کا رد تو کرتے ہیں مگر انہیں مدینے والی قبر میں زندہ مانتے ہیں .ان کا عقیدہ ہے کہ آپ اپنی قبر کے پاس پڑھے جانے والے درود وسلام کو خود سنتے ہیں اور دور سے پڑھے جانے والے درود وسلام کو فرشتے لے جا کر آپ کی قبر میں پیش کرتے ہیں.یہی گروہ نبی پر امت کے اعمال پیش ہونے کا یقین رکھتا ہے .اس شرک میں یہ اتنے آگے بڑھے ہیں کے ہر مردے پر اس کے عزیز و اقارب کے اعمال پیش ہونے،اچھے اعمال پر اس کے خوش ہونے اور ان کے برے  اعمال پر اس کے نہ خوش ہونے پر بھی ان کا عقیدہ ہے .شرک کی بعض صورتوں کا انکار کرنے والے ان عقائد کے معاملے میں باہم ایک ہو جاتے ہیں .شرک کی باز صورتوں کا انکار بیکار اور لایعنی ہو جاتا ہے .شرک کے معاملے میں ان کا یہ باہمی رسوا کن اتحاد و اتفاق ہی ہے جس کی وجہ سے ان شرکیہ معاملات کو جن کو یہ خود شرک  قرار دیتے بھی ہیں تو اس میں ملوث ان کے نزدیک پھر بھی مشرک  نہیں بلکے ان کو ”کلمہ گو” قرار دے کر انہیں شرک کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے .اب جن کے پاس ”کلمہ گو” ہونے کا سرٹیفکیٹ ہو وہ جس قدر بھی شرک کریں کم ہے اس سے نہ ان کا دین بگڑتا ہے نہ اسلام جاتا ہے. قوم ایمان و عقیدے میں کفر کی خرابی اور شرک کی آلودگی کے باوجود صلواۃ بھی قائم کر رہی ہے ،روزے بھی رکھ رہی ہے ، اور زکوا ة بھی دے رہی ہے اور فریضہ حج بھی ادا کررہی ہے. انہیں کوئی بتلانے والا نہیں ہے کہ ایمان و عقیدے میں خرابی کے بعد تو کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قابل قبول نہیں.الله کے یہاں اعمال کی قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے،ایسا ایمان جو شرک کی   نجاست سے پاک ہو .قوم کے رہنما و پیشوا جن کا یہ کام تھا کہ قوم کو الله کی کتاب کے مطابق عقیدے کی اصلاح کی دعوت دیتے اور بتاتے کہ ان شرکیہ عقائد کے ساتھ تو تمہاری نمازیں محض جسمانی مشق ،تمہارے روزے،بھوک،پیاس اور تمھاری زکوا ة   تمہاری امارت کے اظہار کا ذریعہ،تمہارے حج تو صرف سیروسیاحت ہیں ان کی الله کی بارگاہ میں کوئی وقعت نہیں جب تک کہ تم اپنے ایمان کی اصلاح نہیں کر لیتے .مگر قوم کے پیشوا تو قوم کی  نمازوں کی درستگی اور  روزوں کی فضیلت ، زکوا ة کی ادائیگی کی ضرورت اور حج کے طریقہ ہاے ادائیگی سکھانے میں مصروف عمل ہیں.قوم کے یہ پیشوا اور رہنما اس طرح قوم میں جوڑ پیدا کرکے اپنے گرد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے کوشاں ہیں .اس طرح ان کی دکانداری بھی خوب چمکتی ہے اور واہ واہ بھی خوب ہوتی ہے .لوگ انہیں متقی اور پرہیزگار سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ایمان کی دعوت سے تو ان کے بقول ”توڑ”پیدا ہوتا ہے نہ لوگ ان کے گرد جمع ہوتے ہیں. ایمان کی  طرف بلائیں بھی تو کس طرح ، خود ان کے عقائد کفر و شرک سے  ہیں

موجودہ صرتحال میں ضرورت اس بات کی ہے  کہ انبیا کی مشترکہ سنّت کی پیروی میں دعوت حق اٹھائی جائے نوح علیہ السلام سے لے کر الله کے آخری نبی تک سارے ہی انبیا کی ایک ہی دعوت رہی ہے .وہ  دعوت کیا ہے؟اس کا طریقہ کار کیا تھا قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے

  نوح علیہ السلام :  لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ  سوره اعراف -٥٩

  ترجمہ :  ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پس انھوں نے کہا کہ اے میری قوم !الله کی بندگی کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں ہے

                   وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ   أَنْ لَا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ    سوره ھود  -٢٥،٢٦

ترجمہ : اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (انھوں نےکہا)میں تمھیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں کہ الله کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ،ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز درد ناک عذاب آے گا

ھودعلیہ السلام :  وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ أَفَلَا تَتَّقُونَ

 (سوره اعراف -٦٥ )

 ترجمہ : اور عاد کی طرف ہم نے انکے بھائی ھود کو بھیجا اس نے کہا الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں

الہ واحد کی بندگی کی دعوت کے ساتھ ساتھ شرک سے برات و بیزاری بھی انبیا کی دعوت کا جز لا ینفک رہا ہے

                              قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ

(سوره هود-٥٤ )

ترجمہ :هود نے کہا ہے میں الله کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو الله کے سوا دوسروں کو تم نے الله کا شریک ٹہرا رکھا ہے میں ان سے بیزار ہوں

صالح علیہ السلام :  وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ

 (سوره اعراف -٧٣)

   ترجمہ :اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا انہوں نے کہا ،اے میری قوم !الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں

انبیا کا مشن قوم کو الہ واحد کی بندگی کی دعوت کے ساتھ معبودان باطل کی بندگی سے روکنا بھی رہا  ہے.یہ روکنا قوم کو بھی برداشت نہ ہوا . صالح علیہ السلام کی قوم کا رد عمل قرآن بیان کرتا ہے

   قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آَبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ

 (سوره ہود -٦٢ )

    ترجمہ : انھوں نے کہا اے صالح !اس سے پہلے تو تمہارے درمیاں ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیا تو ہمیں ان معبودوں کی جن کی پر ستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے

 شعیب علیہ السلام : وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ

 (سوره اعراف ٨٥)

ترجمہ :  اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ،انھوں نے کہا اے میری قوم!الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں

ابراہیم علیہ السلام

              ابراہیم علیہ السلام الله کے اولو العزم نبی ہیں ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سارے انبیا کی رہی ہے .قرآن میں آپکی دعوت و تبلیغ کا ذکر خصوصیت سے اور بالتفصیل ہوا ہے،قرآن کے نزول کا زمانہ اور مشرکین مکّہ کا ابراہیم واسماعیل علیھما سے تعلق بھی اس سلسلے میں اہمیت کا حامل تھا.قرآن نے ابراہیم کی دعوت پر تفصیل سے روشنی ڈال کر اسوہ ابراہیمی کو مشعل راہ قرار دیا ہے

وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ . إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

           سوره عنکبوت -١٧ ،١٦

 ترجمہ : ” اور ابراہیم کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا !الله کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے،اگر تم جانو ،تم الله کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو ،درحقیقت الله کے سوا جن کی تم پر ستش کرتے ہو وہ تمھیں کوئی رزق دینے کا بھی اختیار نہیں رکھتے ،الله سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو اسی کی طرف تم پلٹاے جانے والے ہو

     إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ . قَالُوا وَجَدْنَا آَبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ  . قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآَبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ   سوره انبیا -٥٤،٥٢

   ترجمہ : ”جب (ابراہیم)نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ یہ مورتیاں کسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو ؟انھوں نے جواب دیا “ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے  پایا ہے”اس نے کہا”تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے

  قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ  . أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

سوره انبیا -٦٧،٦٦

   ترجمہ : ” ابراہیم نے کہا پھر تم الله کو چھوڑ کر ان چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمھیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان پہنچانے پر

تف ہے تم پر اور تمہارے معبودوں پر جن کی تم الله کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو .کیا تم کچھ بھی عقل نہ رکھتے

    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ  . إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ  . قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ . قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ         الشعراء -٦٩.٧٢

     ترجمہ : ” اور انہیں ابراہیم کا قصّہ سناؤ جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟انھوں نے جواب دیا کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا کرتے ہیں ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا کیا یہ تمہاری سننتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟

                                         وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آَزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آَلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ

     (انعام -٧٤ )

  ترجمہ : اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آذر سے کہا تھا کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے -میں تو تجھ کو اور تیری قوم کو صریح گمراہی میں پاتا ہوں

   قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآَءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ ……….  سوره ممتحنہ -٤

    ترجمہ : ” تم لوگوں کے لئے ابراہیم (علیہ السلام )اور اس کے ساتھیوں میں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ”ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے جن کی تم الله کو چھوڑ کر بندگی کرتے ہو بیزار ہیں.ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت ہوگئی اور بیئر پڑ گیا جب تک تم الله واحد پر ایمان نہ لے آو

یوسف علیہ السلام

  وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آَبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَا أَنْ نُشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ . يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ . مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآَبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ .  سوره یوسف ٤٠-٣٨

    ترجمہ  : ”(یوسف علیہ السلام نے کہا)میں نے ان لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو الله پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں،اپنے بزرگوں ابراھیم،اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام )کا طریقہ اختیار کیا ہے .ہمارا یہ کام نہیں کہ الله کے سوا کسی کو شریک ٹھہرایں.در حقیقت یہ الله کہ فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر(کہ اس نے اپنے سوا کسی کا ہمیں بندہ نہیں بنایا )مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے .اے زنداں کے ساتھیوں !تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک الله جو سب پر غالب ہے ؟اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباواجداد نے رکھ لئے ہیں ،الله نے ان کے لئے کوئی سند  نازل نہیں کی، فرمانروائی کا اقتدار الله کے سوا کسی کے لئے نہیں ہے اس کا حکم ہے خود اس کے سوا  تم کسی کی بندگی نہ کرو ،یہی ٹیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے

موسیٰ علیہ السلام

      بنی اسرائیل میں بے شمار انبیا مبعوث ہوۓ ،موسیٰ عیلہ السلام بھی اس قوم کی طرف بھیجے گئے ،قرآن میں موسیٰ عیلہ السلام کی دعوت ،بنی اسرئیل کی سرکشی و بغاوت ،فرعون کا کردار اور اس کا انجام بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے .موسیٰ علیہ السلام کی طویل گسل جدوجہد الله کی بندگی کی دعوت اور معبودان باطل سے براہ راست ٹکراؤ سے عبارت ہے

   وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا . إِنَّمَا إِلَهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا      سوره طہ -٩٨،٩٧

   ترجمہ : ” اور دیکھ اپنے معبود کو جس پر تو ریجھا ہوا تھا،اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے.لوگو! تمہارا معبود بس ایک الله ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہر چیز پر اس کا علم حاوی ہے

عیسیٰ علیہ السلام 

      فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ . إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ    سوره آل عمران-٥٠،٥١

    ترجمہ : عیسیٰ علیہ السلام نے کہا پس الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،الله میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی لہذا تم اس کی بندگی اختیار کرو،یہ سیدھا راستہ ہے

    وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ ُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ  سوره مائدہ -٧٢

      ترجمہ :عیسیٰ  نے کہا تھا کہ اے بنی اسرئیل الله کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ،جس نے الله کے ساتھ شرک  کیا اس پر الله نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے،ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں

 گزشتہ انبیا کی دعوت کا ایک مختصر نقشہ درج بالا سطور  میں بحوالہ پیش کیا گیا ہے .مختلف ادوار، مختلف قوموں اور مختلف حالات میں مبوث ہونے والے تمام ہی انبیا کی ایک ہی دعوت ،ایک ہی بلاوا ،ایک ہی مشن و مقصد رہا ہے.جس کا خلاصہ قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

   وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ سوره نحل -٣٦

     ترجمہ :ہم نے ہر امّت میں رسول بھیج (دیا اور اس کے ذریعہ سب کو خبر دار کر دیا کہ الله کی بندگی کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو

انبیا کی دعوت،حق و باطل کی کشمکش کا سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ الله کے آخری نبی کی بعثت  ہوئی ،نبی کی دعوت اور طریقہ دعوت کے بیان کرنے سے پہلے یہ وضاحت کر دینا مناسب ہے کہ تمام انبیا کا”دین “ایک ہی تھا اور الله کے آخری نبی کو اسی دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا

       شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ   سوره شوری -١٣

    ترجمہ : اس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہےجس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد )اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیھم السلام )کو دے چے ہیں اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ ،یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف (اے محمد) تم انہیں دعوت دے رہے ہو

نبی کی دعوت دو ادوار پر مشتمل ہے.تیرہ سالہ مکی دور جس میں آپ کا واسطہ مشرکین مکہ سے پڑا اور دوسرا مرحلہ دس سالہ مدنی دور ہے جس میں آپ کا سابقہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے پڑا.مکّے کی گلی کوچے ،صفا کی بلندی ،ذوالمجاز ،مجنہ اور عکاظ کے بازار اور میلوں میں بالمشافہ ملاقاتوں میں الله کے نبی نےقوم کے سامنے وہی الله کی بندگی کی دعوت رکھی جو کہ سارے انبیا کی دعوت رہی ہے

   قُلْ إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ  سوره انبیا -١٠٨

   ترجمہ : ” (اے محمد)ان سے کہو میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی تھا ،پھر کیا تم مسلم ہوتے ہو

       قولوا لا الہٰ الله تفلحوا   (بخاری تاریخ الکبیر) ترجمہ : “کہو کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں ، کامیاب ہوجاؤ گے

الہ واحد کی بندگی کی دعوت طاغوت کے انکار کے ساتھ  ساتھ  مشرکین مکّہ  میں پاۓ جانے والے ایک ایک کفر اور ایک ایک شرک کی دلائل کے ساتھ تردید کر کے انجام بد سے ڈرایا گیا.قرآن کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مشرکین مکّہ کا کوئی ایسا باطل عقیدہ نہیں جس سے تعارض نہ کیا گیا ہو.ان کے عقائد باطلہ کے بودے پن کو واضح کیا گیا ، اس کے نتائج و عواقب سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا.حق کو مان لینے والوں کو خوشخبری سنائی گئی اور رو گردانی کرنے والوں کو انجام  بد سے ڈرایا گیا.گویا دعوت حق کو پہنچانے کا فریضہ کما حقہ ادا کر دیا گیا

نبی صلی الله علیہ وسلم کی دعوت کے دوسرے مرحلے میں آپ کا سابقہ اہل کتاب یہود ونصاریٰ سے تھا،وہاں بھی آپ کی دعوت کا وہی انداز نظر آتا ہے  قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ    سوره آل عمران ٦٤

ترجمہ : اے نبی کہو!اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے.یہ کہ ہم الله کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہرایں اور ہم میں سے کوئی الله کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بناۓ.اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں

   اس مرحلے میں اہل کتاب کے ہر فاسد اور باطل عقیدے کا تیا پانچا کیا گیا.دعوت کا اصل مغز یہی ہے کہ باطل اور فاسد عقائد پہ چھوٹ لگائی جاۓ اور اس کے ساتھ  اس کے تاروپود بکھیر کر رکھ دیے جایئں .باطل سے تعارض کئے بغیر دعوت حق پیش کر دینے کا نظریہ نہ تو قرآن و سننت کے مطابق ہی ہے اور نہ ہی عقل وخرد کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے.مشرکین مکّہ اور اہل کتاب وغیرہ کے کفرو شرک اور توہم پرستی پر مبنی ہر ہر عقیدے کی تردید اور تنکیر اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہے کہ دعوت کے موقع پر مخاطب قوم میں موجود مشرکانہ عقائد ،کافرانہ نظریات کی بیخ کنی کی جاۓ ،ورنہ دوسری صورت میں دعوت کا حق ادا ہونے کے بجاۓ غیر موثر اور لا حاصل کوشش ہو گی

     معلوم ہوا کہ ہمیشہ مشرک قوموں کے سامنے پہلے ایمان کی دعوت رکھی گئی،طاغوت کا انکار اور شرک کا رد کیا گیا ہے.پورا قرآن اور احادیث کا پورا سرمایہ اس ہی بات کو بیان کرتا ہے.کوئی ایک دلیل بھی اس کے برعکس قرآن و حدیث میں نہیں ملے گی،مگر افسوس قرآن و حدیث سے صرف نظر کر کے آج مشرکوں کو حج کی تعلیم ،نماز کی تلقین کی جا رہی ہے اور قرآن و حدیث کے بر خلاف اس طرز عمل کو دعوت کی کلید  اورحکمت قرار دیا جا رہے ہے.ایک طرف قوم کے خود ساختہ بہی خواہ ہیں،انکی دعوت کی کلید و حکمت ہے دوسری طرف الله کے رسول کا صاف حکم ہے

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ – رضى الله عنهما – أَنَّ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – بَعَثَ مُعَاذًا – رضى الله عنه – إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ « ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَأَنِّى رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِى كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِى أَمْوَالِهِمْ ، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ »

   نبی صلی الله علیہ وسلم نے معاذ رضی الله  عنہ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ تم انہیں سب سے پہلے دعوت  اس گواہی کی دینا کہ الله کےسوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں الله کا رسول ہوں اور وہ لوگ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ الله تعالیٰ نے ان  پر پانج وقت روزانہ کی نمازیں فرض ہیں اور وہ لوگ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ الله تعالیٰ نے ان کے مال میں کچھ صدقہ فرض کیا ہے  جو ان کے مال دار لوگوں سے لیکر انہی کے محتاجوں کو دے دیا جاۓ گا

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ – رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم – لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا – رضى الله عنه – عَلَى الْيَمَنِ قَالَ « إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِى يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ ، فَإِذَا فَعَلُوا ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهُمْ زَكَاةً { تُؤْخَذُ } مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ »  بخاری کتاب الزکواۃ

ابن عباس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے معاذ رضی الله عنہ  کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ دیکھو تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں اس لئے سب سے پہلے انہیں الله کی بندگی کی دعوت دینا ، جب وہ الله کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ الله نے ان کے لیے دن اور رات میں پانچ نمازیں  فرض کی ہیں جب وہ اسے بھی ادا کریں تو انہیں بتانا کہ الله تعالیٰ نے ان پر زکواۃ فرض قرار دی ہے جو ان کے سرمایہ سے لی جائے گی اور ان ہی کے غریب طبقہ میں تقسیم کر دی جاۓ گی جب اسے بھی مان لیں گے تو ان سے زکواة وصول کرنا البتہ عمدہ  چیزیں زکواة کے طور  پر لینے سے پرہیز کرنا

انبیاء کی دعوت اور ان کے طریقہ دعوت سے اور مذکورہ حدیث سے یہ بات بلکل صاف ہو گئی کہ مشرکوں کو سب سے پہلے ایمان و توحید کی دعوت دی جاۓ گی . اعمال صالحہ کی بارگاہ الہی میں قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے.قرآن میں ہر جگہ اعمال صالحہ سے پہلے ایمان کا ذکرلایا گیا ہے .

    وَبَشِّرِ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ    سوره بقرہ -٢٥

 ترجمہ : (اے نبی) جو لوگ ایمان لاۓ اور نیک اعمال کیے انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی

وَأَمَّا الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ    سوره آل عمران -٥٧

 ترجمہ : اور جو لوگ ایمان لاۓ اور نیک اعمال کئے انہیں ان کے اجر پورے پورے دیے جایئں گے اور(جان لوکہ) الله ظالموں سے ہر گز محبت نہیں کرتا

اعمال صالحہ سے پہلے ایمان کا ذکر قرآن میں بکثرت مقام پر ہوا ہے مثلا ملا حظہ ہو : سوره النسا-٥٧،سوره المائدہ-٩، سوره اعراف-٤٢،سوره یونس-٤،سوره ھود -٢٣،سوره الرعد-٢٩،سوره ابراہیم-٢٣ وغیرہ.یہاں قرآن سے محض چند حوالہ جات ہی پیش کیے گئے ہیں کہ اعمال صالحہ سے پہلے ہر جگہ ایمان کا ذکر لایا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی نیک عمل سے پہلے ایمان کا ہونا ضروری ہے.دوسری جگہ اعمال صالحہ کی قبولیت اور ان کی قدروقیمت کے کے ایمان کو بحیثیت لازمی شرط کے بیان کر کے معاملہ مزید واضح کر دیا گیا ہے.

وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا  سوره نساء-١٢٤

 ترجمہ : جو نیک عمل کرے گا ،خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر بھی حق تلفی نہ ہونے پاۓ گی

   وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا   سوره طہ-١١٢

 ترجمہ : جو کوئی بھی نیک عمل کرے بشرطیکہ وہ مومن بھی ہو تو کسی پر ظلم یا حق تلفی نہیں کی جاۓ گی.

  مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ  سوره نحل-٩٧

 ترجمہ : جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور(آخرت میں)ایسے لوگوں کو ان کے اجر بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے

                  فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ  سوره انبیاء -٩٤                                            ترجمہ : پھر جو بھی نیک عمل کرے گا بشرطیکہ وہ مومن بھی ہو تو اس کے کام کی نا قدری نہ ہوگی اور اسے ہم لکھ رہے ہیں

       وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ         سوره مومن-٤٠             ترجمہ : اور جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن بھی ہو تو ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہونگے جہاں ان کو بے حساب رزق دیا جاۓ گا

قرآن کی ان واضح آیات کے ذریعے بتلا دیا گیا ہے کہ الله کی بارگاہ میں اعمال کی قبولیت کے لئےعمل کا محض نیک ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ نیک عمل سے پہلے اس شخص کا صاحب ایمان ہونا ضروری ہے.قرآن کی طرح احادیث میں بھی نیک اعمال سے پہلے ایمان ہی کو بیان کیا گیا ہے.مشہور حدیث ہے:  عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : بني الإسلام على خمس على أن يعبد الله ويكفر بما دونه وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان               مسلم کتاب الایمان

  یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام پانچ ستونوں پر قائم ہے،ایک یہ کہ الله کی بندگی کرنا اور اس کے علاوہ سب کا انکار کرنا، صلواة قائم کرنا، زکواة ادا کرنا ، بیت الله کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا

الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم  سے جب کسی نے جنت سے قریب اور جہنم سے دور کردینے والے نسخے کے متعلق پوچھا تو آپ نے سب سے پہلے ایمان ہی کا ذکر فرمایا :

      تَعْبُدُ اللَّهَ ، وَلاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ ، وَتُؤْتِى الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ    بخاری و مسلم                                         ترجمہ : کہ الله کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ،اس کا کوئی شریک نا ٹہراؤ اور نماز قائم کرو اور زکواة ادا کرو اور صلہ رحمی کرو

اس سلسلے بکثرت احادیث پیش کی جا سکتی ہیں بطور مشتے از خروارے اتنا ہی کافی ہے.جنگ بدر کے نازک موقع پر جس وقت مسلمان تعداد میں قلیل اور بے سروسامانی کا شکار تھے انھیں افرادی قوت اور جنگی سازوسامان کی اشد ضرورت تھی اس موقع پر بھی ایمان کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کیا گیا .ایک شخص جو بہادری اور شجاعت میں نامور تھا،مسلمانوں کی طرف سے لڑنے کی اس کی رضا کارانہ پیشکش کو اس لئے ٹھکرا دیا گیا کہ وہ ایمان کے بغیر مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کا خواہشمند تھا

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ رَأَوْهُ فَلَمَّا أَدْرَكَهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جِئْتُ لأَتَّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ». قَالَ لاَ قَالَ « فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ». قَالَتْ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ قَالَ « فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ». قَالَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ « تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ». قَالَ نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَانْطَلِقْ »    مسلم کتاب الجہاد

 ترجمہ : عائشہ رضی الله عنہا روجہ محترمہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے ،جب مقام حرة الوبرہ پہنچے تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس کی بہادری اور شجاعت کا شہرہ تھا نبی صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب نے جب اسے دیکھا تو خوش ہوئے .جب وہ آپ صلی الله علیہ وسلّم سے ملا تو اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ کے ساتھ چلوں اور جو ملے اس میں حصّہ پاؤں .رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو الله تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟اس شخص نے کہا نہیں تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا واپس لوٹ جا میں مشرک سے مدد نہیں لیتا.پھر آپ صلی الله علیہ وسلم چلے،جب آپ صلی الله علیہ وسلم دوسری جگہ پر پہنچے تو وہ شخص پھر آپ صلی الله علیہ وسلم سے ملا اور وہی کہا جو پہلے کہا تھا چنانچہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا کہ واپس لوٹ جا میں مشرک سے مدد نہیں لیتا،چنانچہ وہ چلا گیا اس کے بعد وہ شخص آپ صلی الله علیہ وسلم سے مقام بیدا میں ملا،آپ صلی الله علیہ وسلم نے وہی بات فرمائی جو پہلی مرتبہ فرمائی تھی کہ کیا تو الله تعالیٰ اور اس کے رسول الله صلی الله علیہ وسلم  پر ایمان رکھتا ہے؟وہ بولا جی ہاں.تب نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا اب تو چل سکتا ہے

اس حدیث سے بھی ایمان کی حقیقت اس کی اہمیت ، قدروقیمت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.ایمان کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں،ایمان ہی کی وجہ سے نماز نماز بنتی ہے.روزہ ،روزہ اور ایمان ہی کی وجہ سے ایمان ہی کے لئے لڑی جانے والی لڑائی جہاد قرار پاتی ہے

قرآن کی طرح حدیث سے بھی یہ مسلہ واضح ہے کہ اعمال سے پہلے ایمان ہے اور اعمال کی قبولیت کے لئے حامل کا ایماندار ہونا ضروری ہے.دوسری صورت میں ان اعمال کی کوئی قدروقیمت نہیں جو کہ ایمان کے بغیر کئے جایئں خواہ نمازیں پڑھ پڑھ کر پیشانی پر سجدوں کے نشان پڑگئے ہوں اور لوگ انہیں نمازی پرہیزگار سمجھتے ہوں یا صائم الدھر ہوں اور لوگ انہیں عابد و زاہد مانتے ہوں یا زکواة کے نام سے مال و دولت کے ڈھیر کے ڈھیر خیرات کرتے ہوں جس کی وجہ سے لوگ انہیں بڑا سخی قرار دیتے ہوں یا ہر سال حج و عمرہ ادا کر کے حاجی ،الحاج کے نام سے پکارے جاتے ہوں ان سب اعمال کی اور اس طرح دیگر اعمال کی ایمان کے بغیر کوئی حیثیت اور کوئی قدروقیمت نہیں ان کا بارگاہ الہی میں ہر گز کوئی وزن نہ اٹھے گا.الله کی کتاب ایمان کے بغیر ایسی مشقت اٹھانے والوں کے متعلق فیصلہ سناتی ہے

         عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ  .  تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً                سوره غاشیہ-٣،٤

ترجمہ :  عمل کرنے والے تھکے ہوے ہونگے (پھر بھی) وہ دہکتی ہوئی آگ میں جایئں گے

یعنی رب کائنات کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرنے والے اپنے تئیں نیکیوں کے ڈھیر بھی لگا دیں مگر اس سے انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ،ان کی حیثیت راکھ کے ڈھیر اور بےآب و گیا صحرا میں نظر آنے والے سراب سے زیادہ کچھ نہیں

  مَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَى شَيْءٍ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ         سوره ابراہیم-١٨

ترجمہ : جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے،یہی پر لے درجے کی گم گشتگی ہے

          وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآَنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ    سوره نور-٣٩

ترجمہ ::  جنھوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا بلکہ اس نے وہاں الله کو موجود پایا جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا اور الله کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی

الله کی کتاب کی رو سے شرک ناقابل معافی جرم ہے،مشرک پر الله نے جنت کو حرام کر دیا ہے.اس کے رہنے کا ٹھکانہ جہنم ہے.اس صورت میں مشرک کے کسی بھی عمل کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے وہ ظاہر ہے،اب یہ بات رہ جاتی ہے کہ لا اله الا الله ………کا اقرار کرنے والے ،صلواة قائم کرنے والے،صوم کے پابند ، زکواة دینے والے،حج ادا کرنے والے اسلام کے نام لیوا شرک اختیار کرلیں ،اسلام کا اقرار بھی کریں،شعائراسلامی بھی بجا لائیں اور کفرو شرک پر مبنی عقائد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں تو کیا ان کے اعمال کی الله کی بارگاہ میں کوئی قدروقیمت ہو سکتی ہے ؟ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ شرک کے ساتھ لا اله الا الله ………کا اقرار لایعنی ہے یہ مشرکین مکہ کے اقرار کے ہم معنی ہے وہ کہتے تھے: لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکه وماملک  میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر جن کو تو نے شریک کر لیا ہے تو ان کا بھی مالک ہے اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس کا بھی

دوسری بات یہ ہے کہ الله پر ایمان کے دعوے کے باوجود بھی جو لوگ شکر کرتے ہیں الله کی کتاب انہیں مشرک ہی قرار دیتی ہے

     وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ  سوره یوسف-١٠٦

ترجمہ : ان میں سے اکثر لوگ باوجود الله پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں

اس کی مزید وضاحت اس طرح ہو جاتی ہے کہ الله نے سورہ انعام میں اپنے اٹھارہ برگزیدہ انبیا کے نام لیکر ان کا ذکر فرمایا ہے ،وہاں ان  کی دنیا والوں پر دی جانے والی فضیلت کا ذکر فرمایا اور واضح کر دیا کہ

       وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ    سوره انعام-٨٨

ترجمہ : لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا

الله کے آخری رسول کا جو مقام و مرتبہ ہے اور کلمہ لا اله الا الله محمد رسول الله کی تبلیغ اور ترویج کے لئے جو محنت،مشقت اور تکالیف آپ نے اٹھائی وہ قرآن و حدیث کے قاری سے پوشیدہ  نہیں لیکن آپ کے متعلق بھی فرمایا

     لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ     سوره زمر-٦٥

ترجمہ : “اگر(اے نبی)تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جایگا اور تم خسارہ پانے والوں میں جاؤ گے

الله کے انبیا اور رسل تو شرک کو مٹانے والے تو ہوتے ہیں ان کا ذکر کر کے مسلے کو صاف کر دیا گیا کہ اس مسلے کو صاف کر دیا گیا کہ اس معاملے میں الله کا اٹل قانون یہ ہے کہ شرک کی پاداش میں سارے اعمال ،ساری بزرگی اور ساری فضیلت سب ضائع ہو جاتے ہیں

کلمہ گو ہونے کا  سرٹیفکیٹ رکھنے والوں کے لی یہ غورو فکر کا مقام ہے کہ شرک کے معاملے میں الله کے یہاں انبیا کے لئے بھی کوئی رعایت نہیں تو پھر آج کے مشرکوں کو کلمہ گو ہونے کا کیا فائدہ حاصل ہو سکے گا ؟ شرک کرنے والوں کو کلمہ گو ہونے کا جو دلاسا،تسلی کے خود ساختہ بہی  خواہوں کی طرف سے دی  جاتی ہے وہ نرا دھوکہ اور فراڈ ہے.کلمہ گو مشرک بھی اتنا ہی مجرم ہے جتنا غیر کلمہ گو،یہ تو ایک کھیل ہے جو قوم کے پیشواؤں نے قوم کے لوگوں کے ساتھ کھیلا ہوا ہے کہ تم کلمہ گو ہو تم آخری نبی کی امّت ہو تمہاری الله کے نبی شفاعت فرمائیں گے اور تم لازمی جنت  میں جاؤ گے

انبیا بالخوص آخری نبی کی دعوت اور طریقہ دعوت کے بلکل ہی برعکس محمّد حنیف اینڈ کمپنی نے کفروشرک پر مبنی عقائد رکھنے والوں کو حج کی تعلیم و تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا اس مقصد کے لئے حج و عمرہ کی ادایگی کے طریقے اور مسائل پر مشتمل ایک کتا بچہ تیار کر کے کثیر تعداد میں چھپوایا اور اسے مشرکوں میں عام تقسیم کروانا شروع کر دیا اور اس پر بس نہ کیا بلکہ اپنے ہمنواؤں کے دستخط سے ایک نادر فرمان جاری کیا کہ اس کتا بچے کو چھپوا کر ہر صوبے میں بھیجا جاۓ گا.ان کا یہ طرزعمل اور یہ ”فرمان” انبیا علیھم السلام کی مساعی جمیلہ کی تردید و تنقیص اور قرآن و حدیث کی تکذیب پر مشتمل ہے .ایسے لوگوں کو جن کے عقائد شرک آلودہ ہوں جن کے نظریات الله کی کتاب کی تکذیب و تردید پر مبنی ہوں ان کو حج و عمرے کی تعلیم دینے ان کو حج ادائیگی کا طریقہ سکھانے کا کیا مطلب ہے؟

اس کا ایک بلکل واضح مطلب تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو حج کی تعلیم دی جارہی ہے وہ ان کے نزدیک صحیح العقیدہ ہیں انہیں یہ مشرک نہیں بلکہ اہل ایمان سمجھتے ہیں تب ہی تو یہ انہیں حج کی ادائیگی کی تعلیم دینے پر تل گئے ہیں ورنہ تو بلکل متفق علیہ مسلہ ہے کہ احکام شریعت کی پابندی اور فرائض کی نگہداشت اہل ایمان کے لئے ہے .رہے کافر و مشرک ان پر تو جہنم کی آگ ہی فرض ہے .الا یہ کہ وہ صحیح معنوں میں ایمان لا کر اہل ایمان کے گروہ میں شامل ہو جایئں

  جب سے مشرکوں کوحج و عمرہ کی دعوت ،ان کے مناسک کی تعلیم دینے کا سلسلہ محمد حنیف اور اس کے حواریوں نے شروع کیا ہے اس وقت سے ان کی قرآن و حدیث کے حوالے سے گرفت کی جاتی رہی ہے .ان کی طرف  سے  حق کو مان لینے اور قرآن و حدیث کے احکامات کے آگے سرتسلیم خم کرنے کے بجاے حق سے اعراض اور قرآن و حدیث کی تکذیب پر مشتمل روش کو اختیار کیا گیا ہے .دراصل حق کو مان لینے اور احکامات الہی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے وہ حق سے اعراض کرنے والوں میں مفقود ہوتی ہے ایسی روش اختیار کرنے والوں پر  شیطان اپنا تسلّط جما لیتا ہے،پھر انسان اس کے اشاروں پر ناچنے لگتا ہے پھر اس کے سامنے کتنی بھی دلیلیں رکھ دی جایئں،مان لینے کے لئے تیار نہیں ہوتا .کبھی تاویلات کرتا ہے تو کبھی زبان کی کروٹوں کا سہارا لیتا ہے. کچھ ایسا ہی معاملہ محمد حنیف کا بھی رہا ہے .انھوں نے اپنے طرزعمل کو پہلے تو بلکل درست (ان کا اپنا قول ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر میں اس کو غلط سمجھتا تو بٹواتا ہی کیوں ؟)قرار دیا پھر اس میں ”حکمت” کی پیوندکاری کی.قرآن سے اپنے طرزعمل کو درست ثابت کرنے کے لئے آیت     ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ   پیش کرنے لگے.جب انہیں بتایا گیا کہ آپکی اختیار کردہ خود ساختہ ”حکمت”تو قرآن و حدیث میں موجود ”حکمت”سے ذرا بھی مطابقت نہیں رکھتی بلکے قرآن جو سراسر پر حکمت ہے محمّد حنیف کی خود ساختہ حکمت کی تردید کرتا ہے.الله کے رسول جو کتاب و حکمت کے معلم تھے ان کا اسوہ بھی انکی تغلیط کرتا ہے.محمّد حنیف کی”حکمت”جب کارگر نہ ہوئی تو موصوف نے زبان کی کروٹوں سے کام چلانے کی کوشش کی،اس مرحلے میں انھوں نے اسکو ”دعوت کی کلید”قرار دے ڈالا ،موصوف سے پوچھا گیا کہ یہ کلید آپ نے کہاں سے برامد کی ہے نہ تو قرآن میں اس کا ذکر ملتا ہے اور نہ ہی نبی کے اسوہ سے اس کی کوئی نظیر پیش کی جاسکتی ہے

 نہ صحابہ رضی الله عنہم کے طریقے میں اس کا کوئی سراغ ملتا ہے .یقیناً یہ محمد حنیف کی گمراہ کن خیال آرائی ہے  اس کے سوا کچھ نہیں- – – پیہم ٹھوکریں کھانے کے بعد موصوف نے غنیمت جانا کہ اب پردہ سیمی پر اپنے ہمنواؤں کے ذریعہ کوئی رنگ جمایا جاۓ .چنانچہ سلام و کلام کی پابندی اور جواب نہ دینے کے ” نادر” فرمان کو نظریہ ضرورت کے تحت اپنے بعض خاص الخاص ہم نواؤں کے لئے اٹھا لیا گیا .اولا بخت صنم نامی صحاب پابندی کی چلمن ہٹا کر مبارزت طلبی کرتے ہوے نمودار ہوے ،انھوں نے نیا ڈھنگ اور نیا آہنگ اختیار کیا وہ لکھتے ہیں

           مشرکوں کو حج نہیں سکھایا جارہا بلکہ حج پر جانے والے مشرکوں کو ایمان کی دعوت دی جارہی ہے

(بخت صنم صفحہ ٨ )

 یہ موصوف کی مغالطہ آرائی اور فریب دہی ہے کہ مشرکوں کوحج وعمرے کی دعوت ان کے مناسک کی تعلیم ، طریقہ ادائیگی سکھانے کو ایمان کی دعوت قرار دے رہے ہیں. ذرا کتابچہ اٹھائیے اور دیکھئے کہ اس کا نام ہی ”مسائل حج و عمرہ ” ہے یہ نام بھی ایک دعوت ایک پیغام ہے . ظاہر ہے اس نام سے کسی بھی شخص کو حج و عمرے کی دعوت اور پیغام جاتا ہے . کس ڈھٹائی سے اسے مشرکوں کو ایمان کی دعوت دینا قرار دیا جارہا ہے.دوسری بات یہ بھی دیکھئے کہ ٹائٹل پر سوره بقرہ کی آیت ” واتموا الحج والعمرة للہ ”اور الله کے لئے حج و عمرہ پورا ادا کرو” دی گئی ہے اس آیت میں کیا حکم اور کیا دعوت ہے؟ظاہرہے.ان کے کتابچے سے سب سے پہلے یہ حکم اور یہی دعوت یہی پیغام کسی بھی شخص کو جاتا ہے جب کہ قرآن و حدیث میں ہر جگہ سب سے پہلے ایمان ہی کی دعوت دی گئی ہے .مزید آگے چلئے ٹائٹل کے بعد پہلا صفحہ صفحہ نمبر ٣ ہے اس صفحہ  پر”حج کی اقسام” کے عنوان سے پہلے سرخی دی گئی اس سرخی کے تحت حج کی اقسام کا ذکر اور ان کی فضیلت بیان کی گئی ہے.اب کوئی ان سے پوچھے کیا یہ ایمان کی دعوت ہے جو کسی مشرک کو دی گئی ہے؟ اسی صفحہ پر دوسری سرخی “احرام” کی ہے.اس کے ذیل میں احرام اور ان کے متعلقات بیان کیے گئے ہیں.احرام باندھنے کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کی تلقین وغیرہ کی گئی ہے.کیا یہ مشرکوں کو ایمان کی دعوت ہے؟صفحہ ٤ پر “احرام کی پابندیاں”کی سرخی ہے اس کے ذیل میں ظاہر ہے کہ ان پابندیوں کا ذکر ہے جو احرام باندھنے پر لازم آتی ہیں .کیا یہ مشرکوں کو ایمان کی دعوت ہے؟ صفحہ نمبر ٥ پر “حرم میں داخلہ” کی سرخی ہے.اس کے تحت حرم میں داخلے کا طریقہ درج کیا گیا ہے.کیا یہ مشرکوں کو ایمان کی دعوت ہے؟صفحہ نمبر ٥ پر ہی سرخی “پہلا طواف “کی ہے.اس سرخی کے تحت بتایا گیا ہے کہ پہلا طواف ،طواف قدوم کہلاتا ہے اس میں اضطباع کیا جاتا ہے.اسی طرح اس کی دیگر تفصیلات بھی بیان کی گئی ہے.آخر میں بتایا گیا ہے کہ مقام ابراہیم پر دو رکعت نفل ادا کریں کیا یہ مشرکین کو ایمان کی دعوت ہے ؟اس کے بعد صفحہ نمبر ٧ پر “سعی صفاومروہ ” کی سرخی ہے اس سرخی کے تحت سعی کا طریقہ سکھایا گیا ہے.صفحہ نمبر ٨ پر ایام حج “منیٰ کے لئے روانگی” کی سرخی ہے اور اس کے تحت ٨/ ذی  الحج کو غسل کر کے احرام باندھنے اور دو رکعت پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے.صفحہ نمبر ٩ پر”عرفات روانگی” کے عنوان کے ذیل میں ٩/ ذی الحج کو صلواة الفجر منیٰ میں ادا کرنے اور میدان عرفات میں ظہر اور عصر ملا کر پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے اور بتلایا گیا ہے کہ دونوں صلواة قصر ادا کرنی ہیں.صفحہ ١٠ پر “مزدلفہ روانگی” کی سرخی ہے اس سرخی کے تحت مزدلفہ روانگی کے متعلق لکھا گیا ہے،ساتھ میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی صلواة ایک اذان اور دو اقامت سے ادا کرنی ہیں اس کے بعد “منیٰ واپسی” کے عنوان کے تحت منیٰ سے واپسی کا وقت ، رمی وغیرہ کا ذکر ہے ، ساتھ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حاجیوں کو عید کی صلواة ادا نہیں کرنی چاہیے اس سرخی کی تفصیلات صفحہ نمبر ١٢ تک پھیلی ہوئی ہے.کیا یہ سب کچھ سب مشرکوں کو ایمان کی دعوت ہے؟ہر ایک دیکھ سکتا ہے کہ یہ حج ادا کرنے کا مکمل طریقہ ہے اسے مشرکوں کے لئے ایمان کی دعوت قرار دینا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے.اصل بات یہی ہے کہ کتابچہ اول تا صفحہ ١٢ تک حج و عمرہ کی تعلیم پر مشتمل ہے اس کے بعد کچھ سطور (تقریبا ڈیڑھ صفحہ)عقائد کے بارے میں لکھی گئی ہیں اس پر کچھ عرض کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس سے قبل جو کچھ لکھ گیا ہے اسے مشرکوں کے لئے ایمان کی دعوت ثابت کیا جائے کیونکہ قرآن و حدیث کے مطابق تو سب سے پہلے ایمان ہی کی دعوت دینی چاہیے 

        ایک طرف ”حج” پر جانے والے مشرکوں کے لیے محمّد حنیف کی دعوت ،اس کا طریقہ ،اس کا انداز ہے ،دوسری طرف حج کے لئے “آنے” والے مشرکوں کے لئے الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی دعوت کا اسوہ موجود ہے.الله کے آخری نبی محمد صلی الله علیہ وسلم کی بعثت  کے وقت بھی مشرکین حج کیا کرتے تھے اور دوردراز سے لوگ حج کی غرض سے قافلوں کی صورت میں آتے تھے-ان میں آنے والے قافلوں اور ان لوگوں کے قیام کے ڈیروں پر الله کے نبی  محمد صلی الله علیہ وسلم جاتے اور انہیں ایمان کی طرف بلاتے،شرک سے روکتے اور آخرت سے ڈراتے تھے-اشہر حرام میں  ذوالمجاز،مجنہ اور عکاظ کے میلے اور بازار لگا کرتے تھے-مشرکین تجارت اور حج کی غرض سے آتے تھے،ان بازاروں میں مشرک حجاج کا ازدہام ہوتا تھا،وہاں پر بھی الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم ان کو الہ واحد کی بندگی کی طرف ہی بلاتے تھے.جن حجاج کو آپ صلی الله علیہ وسلم ایمان کی دعوت دیتے رہے وہ ابراہیم علیہ السلام اور دین ابراہیمی کو ماننے کے دعویدار تھے.اسی تعلق سے وہ حج ادا کرتے تھے.ان کے حج کرنے میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی تھیں ، کتنی ہی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں مگر اس کے باوجود الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کے حج کی ادایگی کے غلط طریقے کو درست کرنے اور خرابیوں کو دور کر کے اصلاح کرنے کے بجاۓ انہیں الہ واحد کی بندگی کی طرف دعوت دی،ان میں پائےجانے والے مشرکانہ عقائد کی تردید کو دعوت کا مرکزی نکتہ بنائےرکھا .یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے،الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے جب کھلے عام دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا تو مشرکین مکّہ نے اسکی شدید ترین مخالفت کی.انہیں موسم حج کی آمد سے پہلے ہی یہ فکر لاحق ہو گئی تھی کہ حج کے لئے دور دراز سے آنے والے لوگوں کو الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم یہی دعوت دیں گے اور اس طرح یہ دعوت طول و غرض میں پھیلے گی،اس تشویش کی وجہ سے انھوں نے اس کے سدباب کے لئے مشاورت کی اور اس کے تدارک کے لئے منصوبہ بندی کی مگر مشرکین کی ساری منصوبہ بندی دھری رہ گئی .الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے آنے والوں کو ایمان و توحید کی کھلی دعوت دی اور اس طرح الله کے دین کی دعوت اور اسلام کا پیغام عرب اور عرب کے گردونواح میں پہنچا محمد حنیف اور ان کے حواریوں نے مشرکوں کو حج کی دعوت دے کر ان کے لئے مناسک حج کی تعلیم کا اہتمام کر کے پورے قرآن و حدیث کی تکذیب کر ڈالی ہے.وہ اپنے اس طرزعمل کی خواہ کوئی بھی تاویل کریں اور ان کی یہ روش اسوہ رسول صلی الله علیہ وسلم کے خلاف اور الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کے طریقے کے بلکل ہی برعکس ہے.الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی مخالفت کر کے موصوف اس آیت کے پوری طرح مصداق بن گئے ہیں.  وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا سوره نساء -١١٥

اور جو ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو ہم اسے اسی طرف چلائیں گے اور جہنم  میں داخل کریں گے اور وہ (جہنم ) بہت بری جگہ ہے.

محمد حنیف اپنے اس فعل کو درست ثابت کرنے کے لئے مسلسل تاویل پر تاویل کرتے چلے جاتے ہیں.تاویل کرتے ہوئے کس طرح زبان کی کروٹوں کا سہارا لیتے ہیں اس کی مثال ملاخطہ ہو

حج و عمرے کے مسائل نام ہے اس کا ،لوگ اس کو لے لیتے ہیں اس نام سے اور جب وہ مضمون پڑھتے ہیں تو ان کو احساس ہوتا ہے کہ حج کن پر فرض ہے ان پر فرض ہے یا نہیں ؟ ایسا نہ ہو کہ سارا پیسہ اور محنت رائیگاں ، یہ پڑھ کر ان کے دل میں ایک کھٹک پیدا ہوتی ہے.تو یہ مضمون اگر ویسے اوپر لکھ کر چھاپیں گے تو کوئی نہیں لے گا ، اسے کوئی پڑھے گا بھی نہیں لیکن حج و عمرے کی کتاب کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے تو سب لے لیتے ہیں اور جب اس مضمون کو پڑھتے ہیں تو ان کو احساس پیدا ہوتا ہے . تو یہ احساس دلانا مقصود ہے “یہ دعوت کی ایک کلید ہے” جس کے لئے اس کتاب کو چھاپا اور تقسیم کیا گیا.بہرحال پاکستان شوریٰ نے اس کو پسند کیا.(کیسٹ گفتگو بر مکان ادریس صاحب ،١٨ جولائی ٢٠٠٥ بفرزون ،کراچی)

اس موشگافی میں موصوف کے یہ الفاظ قابل غور ہیں

                                                      حج و عمرے کے مسائل نام ہے اسکا لوگ اس کو لے لیتے ہیں اس نام سے

                                                      حج و عمرے کی کتاب کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے تو سب لے لیتے ہیں

محمد حنیف کے یہ الفاظ واضح کر رہے ہیں کہ مسائل حج و عمرے کے نام سے وہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے خواہاں ہیں.یہ بات قابل غور ہے کہ جس دعوت کی ابتداء ہی دھوکے سے ہو اس کی انتہا کیا ہو گی ؟ دھوکہ دہی سے متعلق الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کا فرمان  بھی پیش نظر رہے کہ “من غش فلیس منا ” (حدیث) ترجمہ : جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں

 

 یعقوب علیہ السلام  اور ان کے بیٹوں  کے سجدے کے حوالے سے اٹھائے جاننے والے اعترضات  اور  ان کے جوابات  کے لئیے داؤن لوڈ کیجیے

خر وا له سجدا 

Comments are closed.