تصوف و سریت

مجمع البحرین

یہودی، نصرانی اور غناسطی تصوف کے اسلام پر اثرات

بقلم

ابو شہریار

ازمنہ قدیم سے اس کرہ ارضی پر انسان کے دو گروہ رہے ہیں. ایک گروہ یہ سمجھتا آیا ہے کہ وہ خدا تک اپنے مراقبہ اور تپسیا کے ذریعے سے پہنچ سکتے ہیں. اس ذریعہ یا طریقہ کار میں انسانی روح کو دنیاوی قید و بندھن سے آزاد کرنا  ہوتا ہے.  الله تک رسائی کایہ عمل ازمنہ قدیم سے استعمال میں ہے اور ہم انکے کرنے والوں کو سادھو یا راہب کے نام سے جانتے ہیں

اس سوچ کے خلاف ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو یہ  مانتا ہے کہ الله تک رسائی اس طرح نہیں  ہو سکتی.  الله ہمارا خالق اور پالنہار ہے لہذا ہدایت بھی اسی کی طرف سے آنی چاہیے. الله نے انبیاء و رسل کو انسانوں میں سے منتخب کیا اور ان پر وحی بھیجی ہے.  اسلام، نصرانیت اور یہودیت اصلاً اس گروہ سے تعلّق رکھتے ہیں

اسلام اصلاً ایک خالص توحیدی دین سے شروع ہوا لیکن یہودی، نصرانی، ہرمسی اور غناسطی سرّیت و تصوف سے متاثر ہوا. اس کتابچہ میں انہی لہروں کے امتزاج کا نقشہ پیش کیا گیا ہے. لہذا کتابچہ کا نام مجمع البحرین رکھا ہے یعنی وہ مقام جہاں دو سمندرآپس میں ٹکرائیں یا مل کر اپنی انفرادیت کھو بیٹھیں.  جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس امتزاج کی اصل وجہ شاید نقل اور سرقہ نہیں بلکہ اس مشابہت کا  راز راہب اور تپسوی کے اس  طریقہ کار میں پوشیدہ ہے جو انسان کی اجتماعی  سوچ اور اس کی محدودیت کا عکاس ہے

 

مکّہ میں رات کا وقت ہے. محمّد صلی الله علیہ وسلم ، ایک ایسے رب کی عبادت میں مشغول ہیں جو نظر نہیں آتا. محمّد آج  اس مقام پر اپنے خوابوں کی وجہ سے ہیں . انہوں نے نہ ہی کوئی مکاشفہ دیکھا ہے اور نا ہی مراقبہ کیا ہے. انہوں نے صرف سچے خواب دیکھے ہیں جو صبح کی روشی کی طرح حقیقت آشکار ہو رہے ہیں. محمّد جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے.  لہذا وہ اس کی حقیقت کی تلاش میں کوہ حرا پر غار میں آئے ہیں اور یہاں التحنث  (الله کے قرب کی عبادت ) میں مشغول ہیں. انہوں نے ابھی یہ چند ایام ہی کیا تھا کہ ایک فرشتہ  صورت انسانی میں نمودار ہوا اور کہا

 

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (5)

پڑھ ! اپنے رب کے نام سے، جس نے تجھ  کو خلق کیا.  انسان کو خلق کیا، خوں کے لوتھڑے سے. پڑھ! کہ تیرا رب بہت کرم والاہے. جس نے انسان کو قلم سے سکھایا ہے. انسان  کو وہ کچھ سکھایا ہے جس کو انسان نہیں جانتا تھا

اگلے ٢٣ سال میں وحی الہی کا نزول ہوتا ہے جس کو آج ہم قرآن کہتے ہیں.  محمّد صلی الله علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ اب یہ آخری رابطہ ہے جو الله نے اپنی انسانی مخلوق سے کیا ہے. اور یہ پیغام سادہ ہے کہ

 

وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (153)

اور بے شک یہ رستہ  میرا سیدھا رستہ ہے، پس اس پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو  کیونکہ یہ تم کو سیدھی راہ سے بھٹکا دیں گی.  اور یہ تم کو وصیت کی جاتی ہے تاکہ تم متقی بنو

الله نے سوره البقرہ، آیت ٢٥٦ میں کہا

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

الدین (اسلام ) میں کوئی  زبردستی  نہیں بے شک ہدایت   گمراہی سے الگ ھو چکی  ہے  پس جس نے طاغوت کا کفر کیا اور الله پر ایمان لایا اس نے مظبوط حلقہ تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں  اور الله سننے والا جاننے والا ہے

 

الله نے بتایا کہ ساری انسانیت کا ایک ہی دین تھا

وإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ (52)

اور بے شک یہ تمہاری امّت (دین) ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں، لہذا مجھی سے ڈرو

انبیاء کی دعوت اصل میں میں ایک ہی دعوت ہے. الله سوره الشوریٰ میں کہتا ہے:

شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ (13) وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (14) فَلِذَلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آَمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (15)

الله نے تمہارے لئے اسی دین کا حکم دیا ہے جس کا حکم اس نے تم سے پہلے نوح کو دیا، جس کو تم پر اے محمّد نازل کیا اورجس کا حکم ابراہیم کو، موسیٰ کو اورعیسیٰ کو کیا کہ دین کو قایم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو.  مشرکوں پر تمہاری دعوت بہت گراں گزرتی ہے . الله جس کو چاہتا ہے چنتا ہے اور اپنی طرف ہدایت دیتا ہے رجوع کرنے والے کو.  اور انہوں نے اختلاف نہ کیا ، لیکن علم آ جانے کے بعد آپس میں عداوت کی وجہ سے.  اور اگر یہ پہلے سے تمہارے رب نے (مہلت کا ) نہ  کہا ہوتا  تو ان کا  فیصلہ کر دیا جاتا. اور بلاشبہ  جن کو ان کے بعد کتاب کا وارث (یہود و نصاریٰ) بنایا گیا تھا وہ اس بارے میں سخت خلجان میں مبتلا ہیں.  پس ان کو تبلیغ و تلقین کرو اور استقامت اختیار کرو جیسا حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کی اتباع نہ کرو بلکہ کہو: میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو الله نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں ، الله ہی میرا اور تمہارا رب ہے. ہمارے لئے ہمارا عمل اور تمہارے لئے تمہارا عمل. ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں . بے شک الله ہم سب کو جمع کرے گا اور ہمیں اسی کیطرف پلٹنا ہے

  اس کا مطلب یہ ہوا کہ سارے انبیاء ایک ہی دین پر تھے جس کا اصل توحید، انکار طاغوت، آخرت کا خوف اور الله کی مغفرت کی امید تھا. نبی صلی الله علیہ وسلم نے (صحیح مسلم) فرمایا

الأنبياء إخوة من علات وأمهاتهم شتى ودينهم واحد

انبیاء آپس میں بھائی  بھائی کی طرح ہیں جن کی مائیں جدا ہوں اور ان سب کا دین ایک ہے

ان آیات کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ اب الله کو جاننے کے لیے کسی اور ذریعہ کی ضرورت نہیں. الله کی طرف سے وحی آ چکی ہے. اس کے باوجود  انسانیت نے ایک دوسرے طرق کو استعمال کیا جس کو سرّیت و تصوف کہتے ہیں

الله تعالی سوره الحدید میں کہتا ہے

 

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الإنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (27)

پھر اس کے بعد ہم نے  اپنے انبیاء  اور عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اس کو انجیل دی اور ان ماننے والوں کے دلوں میں رحم اور رقت ڈال دی اور رہبانیت کو انہوں نے شروع کیا تاکہ الله کی رضا حاصل کریں ،  ہم نے اس کا حکم نہ دیا تھا،   لیکن وہ اس کو کما حقہ ادا نہ کر سکے پس ہم نے ایمان والوں کو اجر دیا اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں

ان وجوہات کی بنا پر اسلام کے ابتدائی دور میں تصوف کی کوئی نظیر نہیں ملتی.  اور سرّیت و تصوف کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھا گیا. لیکن ایک غیر محسوس انداز میں یہ آج اسلام میں سب سے زیادہ چلتا دھرم ہے اور اس کو شریعت کے مقابل طریقت کا نام دیا گیا ہے.  قارئین اس کتابچہ کو پڑھتے ہوۓ متحیر ہوں گے کہ کس طرح یہودی، نصرانی اور غناسطی سرّیت و تصوف کو مشرف با اسلام کیا گیا ہے

 

 

ابتداء سے ہی یہودی سرّیت میں دلچسپی لیتے رہے ہیں، چاہے یہ سحر و کہانت ہو یا مردوں اور روحوں کے ذریعے غیب بینی. اگرچہ ان کو ہمیشہ اس سے منع کیا گیا لیکن ان کی یہ دلچسپی برقرار رہی. آج یہودیت میں مروجہ سرّیت و تصوف کے کا نقطہ آغاز، قدیم بابل میں ہے. اپنے بیہودہ مقاصد کی تکمیل کے لیے بابل میں یہودی سحر میں مبتلا ہوۓ اور انہوں نے اس کو سلیمان علیہ السلام سے منسوب کیا.

                             Merkabah Mysticismمرکبہ سرّیت   

 

حزقی ایل کی کتاب کے مطابق، حزقی ایل کا تعلّق پروہت  طبقہ  سے تھا اور اناتہوت کے رہنے والے تھے. وہ یہودیوں کے اشرفیہ میں سے تھے جن کو بابلی غلام بنا کر بابل میں لے آئے تھے.  دریائے الخابور کے کنارے بابل میں ، تل آبیب میں حزقی ایل نے ایک عجیب مکاشفہ دیکھا. انہوں نے دیکھا کہ ایک بہت عظیم رتھ ہے جس کو چاروں جانب فرشتوں نے گھیرا ہوا ہے ( حزقیایل باب ١: ٢٨). اس رتھ کو حزقی ایل مرکبہ بولتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس میں نوراور بجلی کی کڑک تھی  اور یہ بادلوں میں تھا.   آگے جا کر اسی رتھ نے اہمیت اختیار کر لی اور باقاعدہ مرکبه   سرّیت کے عنوان سے  یہودیوں میں سرّیت و تصوف کا آغاز ہوا جس کو مرکوه سرّیت  بھی کہا گیا[1]. اس سرّیت کی ابتدا کا اندازہ ہے کہ ١٠٠  ق م سے لے کر ١٠٠٠ ب م تک ہے. گویا یہ طریقۂ کار عیسیٰ علیہ السلام سے ١٠٠ سال پہلے شروع ہوا اور نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں بھی اس پر عمل ہوتا رہا

حزقی ایل کے مکاشفہ میں مرکبہ پر انسانی شکل میں موجود ایک شخص  سارے ملائکہ کو تدبیر عمل دے رہا ہوتا ہے. حزقی ایل باب ١: ٢٦ میں لکھتے ہیں[2]

וּמִמַּעַל, לָרָקִיעַ אֲשֶׁר עַל-רֹאשָׁם, כְּמַרְאֵה אֶבֶן-סַפִּיר, דְּמוּת כִּסֵּא; וְעַל, דְּמוּת הַכִּסֵּא, דְּמוּת כְּמַרְאֵה אָדָם עָלָיו, מִלְמָעְלָה

And above the firmament that was over their heads was the likeness of a throne, as the appearance of a sapphire stone; and upon the likeness of the throne was a likeness as the appearance of a man upon it above.

اور آسمان سے اوپر جو ان کے سروں پر تھا  ایک عرش تھا جیسا کہ نیلم کا پتھر ہوتا ہے اور اس عرش نما پر ایک انسان نما  تخت افروز تھا

یہودیت میں ان آیات کی تشریح منع ہے اور اگر کی بھی جاۓ تو وہ بھی خفیہ اور اجازت کے بعد

یوشع بن سیرا کی کتاب الحکمت میں ہے کہ

Seek not out the things that are too hard for thee, neither search the things that are above thy strength. But what is commanded thee, think thereupon with reverence; for it is not needful for thee to see with thine eyes the things that are in secret[3].

اور ان باتوں کی ٹوہ میں نہ لگو جن کو جاننا گراں گزرے، اور نہ ہی ان باتوں کی تلاش میں رہو جو بساط سے باہر ہوں  ،  بلکہ جو حکم دیا گیا ہے اس پر احترام کے ساتھ غور کرو، یہ تمھارے لئے ضروری نہیں کہ ان چیزوں کو اپنی آنکھ سے دیکھو جو راز ہیں

چناچہ کچھ مضامین صرف خواص کے لئے تھے جو ان تحریرات کے رمز و حقائق تک پہنچ سکتے تھے.  خواص کا یہ علم عوام کے لئے نہ تھا. حزقی ایل کے اس عجیب و دہشت ناک مکاشفہ نے یہودیوں کو اس کی کے اسرار کی طرف متوجہ کیا اور مرکبہ سرّیت  کا  آغاز ہوا جس کا مقصد عرش الہی اور ملاء اعلی کے معاملات کے علم  کی رسائی تھا. سرّیت کی طرف اس رجحان کا آغاز اسلام سے پہلے ہو چکا تھا[4]

تو، تو ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد اسلام میں ایک شخص بنام عبداللہ بن سبا[5] نمودار ہوا. یہ اصلاً یمنی یہودی تھا اور اسلام لانے کا دعویدار تھا. اس نے جن عقائد کو پھیلایا ان سے مسلمان ناواقف تھے.  مسلمان مورخین خود اس کے حوالے سے خلجان میں رھے ہیں کہ یہ کون تھا کیونکہ  اس کے عقائد اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے اور عام خیال سے یہودیت سے بھی مطابقت نہیں رکھتے

الشھرستانی  اپنی کتاب الملل و النحل ص ٥٠ پر لکھتے ہیں

السبائية أصحاب عبد الله بن سبأ؛ الذي قال لعلي كرم الله وجهه: أنت أنت يعني: أنت الإله؛ فنفاه إلى المدائن. زعموا: أنه كان يهودياً فأسلم؛ وكان في اليهودية يقول في يوشع بن نون وصي موسى عليهما السلام مثل ما قال في علي رضي الله عنه. وهو أول من أظهر القول بالنص بإمامة علي رضي الله عنه. ومنه انشعبت أصناف الغلاة. زعم ان علياً حي لم يمت؛ ففيه الجزء الإلهي؛ ولا يجوز أن يستولي عليه، وهو الذي يجيء في السحاب، والرعد صوته، والبرق تبسمه: وأنه سينزل إلى الأرض بعد ذلك؛ فيملأ الرض عدلاً كما ملئت جوراً. وإنما أظهر ابن سبا هذه المقالة بعد انتقال علي رضي الله عنه، واجتمعت عليع جماعة، وهو أول فرقة قالت بالتوقف، والغيبة، والرجعة؛ وقالت بتناسخ الجزء الإلهي في الأئمة بعد علي رضي الله عنه.

السبائية : عبداللہ بن سبا کے ماننے والے ۔ جس نے علی كرم الله وجهه سے کہا کہ:  تو، تو ہے یعنی تو خدا ہے پس علی نے اس کو  مدائن کی طرف ملک بدر کر دیا ۔ ان لوگوں کا دعوی ہے کہ وہ (ابن سبا) یہودی تھا پھر اسلام قبول کر لیا ۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ کا جانشین یوشع بن نون تھا اور اسی طرح علی ( اللہ ان سے راضی ہو) ۔ اور وہ (ابن سبا)  ہی ہے جس نے سب سے پہلے علی  کی امامت کے لئے بات پھیلآئی ۔ اور اس سے غالیوں کے بہت سے فرقے وابستہ ہیں ۔ ان کا خیال تھا کہ علی زندہ ہے اور انتقال نہیں کر گئے ۔ اور علی میں الوہی حصے تھے اور الله نے ان کو لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے اجازت نہیں دی ۔ اور وہ (علی) بادلوں کے ساتھ موجود ہیں اور آسمانی بجلی ان کی آواز ہے اور کوند انکی مسکراہٹ ہے اور وہ اس کے بعد زمین پر اتریں گے اور اس کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح یہ  زمین ظلم سے بھری ہے۔ اور علی کی وفات کے بعد ابن سبا نے اس کو پھیلایا۔ اور اس کے ساتھ (ابن سبا) کے ایک گروپ جمع ہوا اور یہ پہلا فرقہ جس نے توقف (حکومت کے خلاف خروج میں تاخر)، غیبت (امام کا کسی غار میں چھپنا) اور رجعت (شیعوں کا امام کے ظہور کے وقت زندہ ہونا) پر یقین رکھا ہے ۔ اور وہ علی کے بعد انپے اماموں میں الوہی اجزاء کا تناسخ کا عقید ہ رکھتے ہیں

 

ابن اثیر الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٨ پر لکھتے ہیں

أن عبد الله بن سبأ كان يهودياً من أهل صنعاء أمه سوداء، وأسلم أيام عثمان، ثم تنقل في الحجاز ثم بالبصرة ثم بالكوفة ثم بالشام يريد إضلال الناس فلم يقدر منهم على ذلك، فأخرجه أهل الشام، فأتى مصر فأقام فيهم وقال لهم: العجب ممن يصدق أن عيسى يرجع، ويكذب أن محمداً يرجع، فوضع لهم الرجعة، فقبلت منه، ثم قال لهم بعد ذلك: إنه كان لكل نبي وصي، وعلي وصي محمد، فمن أظلم ممن لم يجز وصية رسول الله، صلى الله عليه وسلم، ووثب على وصيه، وإن عثمان أخذها بغير حق، فانهضوا في هذا الأمر وابدأوا بالطعن على أمرائكم…

 

عبداللہ بن سبا صنعاء، یمن کا یہودی تھا اس کی ماں کالی تھی اور اس نے عثمان کے دور میں اسلام قبول کیا. اس کے بعد یہ حجاز منتقل ہوا  پھربصرة پھر کوفہ پھر شام، یہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتا تھا لیکن اس میں کامیاب نہ ھو سکا.  اس کو اہل شام نے ملک بدر کیا اور یہ مصر پہنچا اور وہاں رہا اور ان سے کہا: عجیب بات ہے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ عیسیٰ واپس ائے گا اور انکار کرتے ھو کہ نبی محمّد صلی الله علیہ وسلم واپس نہ آیئں گے. اس نے ان کے لئے رجعت کا عقیدہ بنایا اور انہوں نے اس کو قبول کیا. پھر اس نے کہا : ہر نبی کےلئے ایک وصی تھا اور علی محمّد کے وصی ہیں لہذا سب سے ظالم وہ ہیں جنہوں نے آپ کی وصیت پر عمل نہ کیا. اس نے یہ بھی کہا کہ عثمان نے بلا حق، خلافت پر قبضہ کیا ہوا ہے  لہذا اٹھو اور اپنے حکمرانوں پر طعن کرو

مسلمان مورخین عموما یہ کہتے ہیں کہ ابن سبا کے مقاصد سیاسی تھے اور اس نے دین کوایک ہتھیار کے طور پر استمال کیا تاکہ لوگوں کو جمع کر سکے. چناچہ اس نے نئی اصطلاحات ایجاد کیں. تقریبا تمام سنی مورخین نے اس کو غالی شیعہ فرقوں میں شمار کیا ہے. لیکن ان اصطلاحات کے پیچھے چھپے خفیہ یہودی ایجنڈا کی کھوج نہیں کی گئی

اس کے عقائد کی جڑ یہودی تصوف میں جا کر ملتی ہے اور بڑے واضح یہودی اثرات نظر اتے ہیں. مثلا توریت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے الله سے کہا جب ان کو جلتے ہوۓ درخت میں دیکھا کہ میں فرعون سے کیا کہوں کہ کس سے ہم کلام ہوا؟ الله نے کہا  (خروج باب ٣ : ١٤) کہو

אֶהְיֶה אֲשֶׁר אֶהְיֶה

اھیے اشر اھیے (عبرانی میں)          أنا هو الذي هو  (عربی میں)           میں(وہ ہوں جو) میں ہوں

البدء والتاريخ ص ١٤ پر لکھتے ہیں اپنی کتاب    ابن المطهر بن طاهر المقدسي

وقول اليهود بالعبرانية ايلوهيم ادناي اهيا شراهيا ومعنى ايلوهيم الله

اور یہود کا قول ہے (الله کے اسم کے بارے میں) کہ  ايلوهيم،  ادناي،  اهيا شراهيا اور ايلوهيم کا مطلب الله ہے

 

اهيا شراهيا دراصل احیے عشر احیے کو معرب کیا گیا ہے. ابن العبري اپنی کتاب   تاريخ مختصر الدول  میں لکھتے ہیں

قال موسى: فان قالوا لي ما اسم ربك ماذا أقول لهم. قال: قل اهيا اشر اهيا أي الأزلي الذي لا يزال.

موسیٰ نے کہا: اگر وہ فرعونی مجھ سے پوچھیں کہ تمہارے رب کا نام کیا ہے تو میں کیا کہوں. الله نے کہا کہو  :   اهيا شراهيا یعنی میری ہمیشگی کو زوال نہیں

ابن منظور نے الصغانی کا قول نقل کیا ہے کہ[6]

وهو اسم من أسماء الله جل ذكره ومعنى إهيا أشر إهيا الأزلي الذي لم يزل هكذا أقرأنيه حبر من أحبار اليهود بعدن أبين ) شَراهِيا معناه يا حيُّ يا قيُّومُ بالعِبْرانِيَّةِ

 

اور یہ الله کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اور اھیا شراھیا کہ میری ہمیشگی کو زوال نہیں  اور ایسا ہی عدن کے ایک احباروں میں سے یہودی حبر نے مجھے بتایا ہے کہ شراھیا کا مطلب  عبرانی میں یا  حی یا قیوم ہے  

 

لہذا جب عبدللہ ابن سبا نے  علی سے کہا تو، تو ہے ! تو اسکا  مفہوم تھا  کہ تو الله ہے چونکہ الله نے موسیٰ سے کہا تھا میں، میں ہوں.  ابن سبا نے وہی طرز اختیار کیا اور اپنے ما فی ضمیر کو بیان کیا. اس طرز کو علی رضی الله تعالی عنہ  فورا پہچان گئے. دوسرا علی کے بارے میں اس کا دعوی کہ وہ بادلوں میں ہیں اور بجلی کی کوند ان کی مسکراہٹ ہے . کچھ اور نہیں بلکہ حزقی ایل کے مرکبہ یا عرش پر موجود شخص سے مماثلت ہے[7]

 آیا ابن سبا علی میں حلول[8] کا مدعی تھا یا کسی اور یہودی عقیدے پر تھا،  یہ  واضح نہیں.  اسلامی تصوف میں وہ ذات جو موسیٰ سے ہم کلام ہوئی وہ علی ہے اور اس ذات نے أنا الحق كا نعرہ لگایا

روا باشد أنا الحق از درختے

چرانبود روا از نیک بختے

اس فارسی شعر کا مفہوم ہے

اگر صداۓ أنا الحق ایک درخت سے جائز ہے

تو ایک نیک بندے سے کیوں نہیں

 

صوفیہ کے بہت سے سلسلوں میں ذکر الہی بہت اہم ہے. ان محفلوں کا نقطہ عروج اس وقت ہوتا ہے جب ھو ، ھا کی مسلسل ضربیں لگائی جاتی ہیں. اس میں بعض سامعین پر حال و وجد (پا لینا) کی کفیت طاری ہوتی ہے. ذکر میں جو ترکیب سب سے زیادہ مستعمل ہے وہ الله ھو کی ترکیب ہے جس کی قرآن و حدیث میں کوئی مثال نہیں، ہاں البتہ توریت کی کتاب خروج باب ٣ آیت ١٨ کی باذ گشت ضرور سنائی دیتی ہے. الله نے موسیٰ سے کہا تھا

أنا  هو الذي هو

صوفیاء کہتے ہیں

الله هو الله هو

یہ صرف الفاظ کی تبدیلی ہے الله کو أنا سے بدل دیا گیاہے

، علم جفر، علم اعدادGematria گيمٹریا

 

سن ٣٣٤ ق م میں سکندر نے مشرق میں شام و فلسطین کو فتح کیا. اس کے نتجے میں يوناني أفكار و فلسفے کا یہودیت پر گہرا اثر ہوا. اب یہودی تصوف  میں یونانی کلچر شامل ہوا . فلو جدیاس تصوف میں کافی دلچسپی رکھتے تھے . یہاں یہودیوں نے  اسوپسفی[9] کو اپنے تصوف میں رائج کیا ، تاکہ  کائنات کے سربستہ رازوں کو جانا جا سکے اس کو انہوں نے گيمٹریا [10]   کا نام دیا. گيمٹریا کا سب سے پہلے استمال بھی فلو کے ہاں ہی ملتا ہے جس کا تعلّق دوسرے ہیکل کے دور سے ہے

مسلمان بھی اس ڈور میں پیچھے نہیں رہے انہوں نے بھی اسی طرح کا ایک طریقہ ایجادکیا جس کو ابجد، علم الاعداد یا علم جفر[11] کہا جاتا ہے. عبدللہ بن سنان کہتے ہیں کہ امام جعفر الصادق سے اولاد حسن کی کاروائیوں کا ذکر ہوا جو وہ بنو امیہ کے خلاف کر رہے تھے. امام الصادق نے کہا کہ ہمارے پاس

صحيفة طولها سبعون ذراعا بذراع رسول الله  صلى الله عليه وآله وإملائه من فلق فيه وخط علي بيمينه

علی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ستر ہاتھ لمبا پرچہ ہے  جسکو الله کے نبی نے علی کو لکھوایا تھا

امام تھوڑی دیر خاموش رہے پھر گویا ہونے

وإن عندنا الجفر وما يدريهم ما الجفر ؟ قال قلت وما الجفر ؟ قال : وعاء من أدم فيه علم النبيين والوصيين ، وعلم العلماء الذين مضوا

من بني إسرائيل

ہمارے پاس جفر ہے. کیا ان کیا پتا کہ جفر کیا ہے؟ میں نے پوچھا امام یہ کیا ہے. امام علیہ السلام بولے: یہ کھال کا بنا ہوا ایک پرچہ ہے جس میں سابقہ انبیاء  اور انکے وصیوں کا علم ہے. یہ بنی اسرائیل کے گزرے ہونے علماء کا علم ہے[12]

 

الذهبی نے اپنی کتاب التفسیر و المفسرون میں ایک شاعر ابی العلآ المعری کا شعر لکھا ہے کہ

لقد عجبوا لأهل البيت لما     أروهم علمهم فى مسك جفر

ومرآة المنجم وهى صغرى         أرته كل عامرة وقفر

میں اہل بیت سے حیران ہوا  جب انہوں نے  جفر کو چھو کرعلم کا بیان کیا

اور مرآة المنجم اس میں ادنی ہے جو ہر آباد ودرویش کے لئے کارگر ہے

ابوبکر الشبلی (المتوفی ٨٦٤ ھ) کہتے ہیں

الله نے جب حروف خلق کیے تو اس نے ان کا راز پوشیدہ رہنے دیا اور جب آدم کو خلق کیا تو انکو اس کے اسرار سے اگاہ کیا لیکن کسی فرشتے کو یہ نہ پتا چل سکے[13]

النکت و العیون از الماوردی ج ١ ص ٩ کے مطابق ابجد حروف اسم اعظم کے حروف ہیں

أنها حروف من أسماء الله تعالى ، روى ذلك معاوية بن قرة ، عن أبيه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم

بلا شبہ یہ الله تعالی کے نام کے حروف ہیں، اس کو معاویہ بن قرة نے اپنے باپ سے اور انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے بیان کیا ہے

 

پہلے نقشے میں ابجد کا گیمٹریا سے تقابل کیا گیا ہے.  عبرانی حروف کے مخارج کی مناسبت سے عربی حروف کو ترتیب دیا گیا ہے. جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ عبرانی حروف اپنی ترتیب ہی میں ہیں لیکن عربی حروف ترتیب میں نہیں. جس سے صاف ظاہر ہے کہ علم الاعداد، ابجد کا تعلّق عبرانی سے ہے اور اس کا تعلّق یہودی تصوف سے ہے.

علم الاعداد سے مستقبل کی رسائی کی جاتی ہے جبکہ علم ابجد سے ماضی میں جھانکا جاتا ہے

مثال ١ : عبرانی میں الله کا نام יהוה ہے جو عربی میں ي ه و ه  بنتا ہے.  ان حروف کے اعداد کا جمع ٢٦ بنتا ہے. اسی طرح ایک نام ایل ہے جس کا جمع ٣١ ہے

ي ه و ه

10+5+ 6+5=26

ایل= אל = 30+1 =31

مثال ٢: آدم کا لفظ عبرانی میں אָדָם  ہے

אָדָם = آدم = 40+4+1=45

نقشہ ١: گیمٹریا اور ابجد نظام

ہندسہ       عبرانی    عربی

 ہندسہ          عبرانی         عربی

     ہندسہ عبرانی         عربی

 1      الف    א      ا

2      بیت    ב      ب

3      جیمل   ג      ج

4      دلد     ד      د

5      ھے    ה      ه

6      و       ו       و

7      زین    ז       ز

8      ہتھ    ח      ح

9      طتھ    ט      ط

 10     ید      י       ي

20     کاف    כ      ك

30     لمد     ל      ل

40     میم     מ      م

50     نون    נ       ن

60       سمیخ ס      س 

70     عين    ע      ع

80     ف     פ      ف

90     تصد   צ      ص

 100   ق      ק      ق

200   رايش  ר      ر

300   شن    ש     ش

400   تاو     ת      ت

500   كاف(آخری) ך  ث

600   مم(آخری)ם    خ

700   نون(آخری) ן        ذ

800   ف(آخری)  ף        ض

900   تصد(آخری)ץ        ظ

1000                    غ

 

 

مثال  ٣: قرآن کی بعض سورتوں کی ابتداء میں حروف اتے ہیں جن کا مفہوم صرف الله کو پتا ہے.  سوره البقرہ کے شروع میں الم اتا ہے جس کا عدد

الم = ا ل م = 1+30+40=71

بنتا ہے. ان حروف کو تعویذات میں استعمال  کیا جاتا ہے

سریت پر ایک قدیم یہودی  کتاب سفر یزیرہ   ہے، جس میں حروف کو عناصر اور سیاروں سے ملایا گیا ہے. کتاب کا مقصد کائنات کے اسرار کو منکشف کرنا ہے. کتاب سفر یزیرہ کے مصنف  نے سات اعداد کو یونانی دور میں معلوم سات سیاروں سے جوڑا ہے. اسی طرح علم جفر میں آٹھ حرفی لفظ بنایے گئے ہیں

ابجد طریقہ کا پہلا لفظ   ابجد چار حرفی  ہے. دوسرا لفظ ھوز ، تین حرفی ہے.  تیسرا لفظ حطی  تین حرفی ہے. چوتھا لفظ کلمن چار حرفی ہے.  پانچواں لفظ سعفص چار حرفی ہے. چھٹا لفظ قرشت چار حرفی ہے. ساتواں لفظ ثخذ اور آٹھواں لفظ ضظغ ، تین حرفی ہیں

 

طبری کتاب تاریخ الرسل و الملوک میں لکھتے ہیں

حدثني الحضرمي، قال: حدثنا مصرف بن عمر واليامي، حدثنا حفص ابن غياث، عن العلاء بن المسيب، عن رجل من كندة، قال: سمعت الضحاك ابن مزاحم يقول: خلق الله السموات والأرض في ستة أيام، ليس منها يوم إلا له اسم: أبجد، هوز، حطي، كلمن، سعفص، قرشت.

الضحاك ابن مزاحم نے کہا: الله نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، کوئی دن ایسا نہیں جس کا نام نہ ھو (دنوں کے نام تھے) أبجد، هوز، حطي، كلمن، سعفص، قرشت

عبرانی میں کل بنیادی ٢٢ حروف تہجی ہیں بقیہ حروف انہی ٢٢ ہی کی شکلیں ہیں یہی وجہ ہے کہ چھٹا دن قرشت ہے کیونکہ قرشت تک عبرانی کے سارے ٢٢ حروف استمال ہوجاتےہیں

نقشہ ١ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ عبرانی کے حروف تہجی ہیں

العسکری اپنی کتاب الاوائل میں کہتے ہیں

وقالوا: أول من وضعه أبجد وهوز وحطي وكلمن وسعفص وقرشت. وضعوا الكتاب على أسمائهم وكانوا ملوكاً.

اور کہتے ہیں: جو سب سے پہلے بنا وہ أبجد وهوز وحطي وكلمن وسعفص وقرشت تھے. اور ان کے ناموں پر کتاب بنی اور یہ بادشاہ تھے

ابن خلدون  مقدمہ میں باب ومنهم طوائف يضعون قوانين لاستخراج الغيب میں علم غیب کی رسائی پر کی جانے والی مسلمانوں کی کوششوں پر لکھتے ہیں

وصارت تسع كلمات نهاية عدد الأحاد وهي ” إيقش، بكر، جلس، دمت، هنث، وصخ، زغد، حفظ، طضغ

اور ان سے نو کلمات نکلتے ہیں جو ایک عدد دیتے ہیں اور یہ الفاظ ہیں

إيقش، بكر، جلس، دمت، هنث، وصخ، زغد، حفظ، طضغ

نقشہ ١ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ نوالفاظ ایک ہی سطر میں موجود حروف سے بنے ہیں. کچھ تبدیلی بھی ہے لیکن مصنف کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن خلدون نے ان الفاظ کو سن کر لکھا ہے

جواد علی اپنی کتاب المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام میں لکھتے ہیں

ولمسألة ترتيب الحروف اهمية كبيرة لا تقل عن اهمية أسماء الحروف. ويظهر إن ترتيب ” أبجد هوز حطي..، الخ”، وهو ترتيب سار عليه العرب أيضاً، هو ترتيب قديم، وقد عرف عند السريان وعند النبط والعبرانيين،وعند “بني إرم” ويظن انهم أخذوه من الفينيقيين. وقد سار عليه الكنعانيون أيضاً،

اور حروف کی ترتیب کا مسئلہ نہایت اہم ہے … اور یہ اس ترتیب میں ظاہر ہوتے ہیں ” أبجد هوز حطي..، الخ  اور اسی ترتیب کو عربوں نے لیا ہے، اور یہ ایک قدیم ترتیب ہے، جس سے سریان والے (یعنی شام)، نبط والے، عبرانی بولنے والے، بنی ارم واقف تھے اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اسکو الفينيقيين (قدیم شام)  سے لیا ہے  اور ان سے کنعان والوں نے بھی

 

معلوم ہوا کہ مسلمان ان الفاظ کے ماخذ سے لا علم رہے ہیں، کچھ نے کہا یہ تخلیق کے چھ ایام کے نام ہیں، کچھ نے کہا یہ بادشاہوں کے نام ہیں لیکن سب اس پر متفق ہیں کہ یہ الفاظ قدیم ہیں

اسم اعظم

 

یہودی تصوف کی ایک اہم قدیم کتاب شر قومہ ہے.  اس کتاب کا بیشتر حصہ مکاشفات پر مبنی ہے جس میں سب سے اہم فرشتہ  متطروں ہے جو ربی یشماعیل پر آنے والے واقعات کو القاء کرتا ہے اور ربی یشماعیل کے شاگرد  اور ربی عقبه    اس کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرتے ہیں. کتاب شر قومہ  تجسیم الہی  کی طرف مائل ہے اور اس میں خدا کے  جسم کے اعضا اور انکی پیمائش دی گئی ہے. کتاب میں لکھا ہے کہ

Everyone who knows the measure of the Creator is sure to be a son of the World to Come, and will be saved from the punishment of Gehinnom, and from all kind of punishments and evil decrees about to befall the world, and will be saved from all kind of witchcraft, for He saves us, protects us, redeems us, and rescues me from all evil things, from all harsh decrees, and from all kinds of punishments for the sake of His Great Name.” Shiur Qomah 1:2

 

ہر وہ شخص جو الخالق کی پیمائش جانتا ہوگا وہ بلا شبہ آنے والی دنیا کا بیٹا ھو گا، اور جہنم کی آگ سے نجات پائے گا، اور ہر طرح کی سزا سے اور ان مصائب سے جو دنیا پر آنے والے ہیں، اور  پر طرح کے جادو سے، کیونکہ وہ (الخالق) اس سے بچائے گا، محفوظ رکھے گا، نکالے گا،  اور مجھ کو  شر سے بچائے گا، سخت احکامات اور ساری  سزاؤں سے  اپنے  اسم اعظم کی وجہ سے     شر قومہ ١ میں

 

اسلام میں دوسری صدی میں عراق میں ایک گمراہ شخص بنام مغیرہ بن سعید (المتوفی ١١٩ ھ) گزرا ہے. یہ ایک سیاسی و مذہبی شخص تھا. ابن حزم اس کے بارے میں الملل  میں لکھتے ہیں

یہ کوفی تھا. اس کو خالد بن عبدللہ کے حکم پر زندہ جلایا گیا. یہ کہا کرتا تھا کہ اسکا رب ایک جوان آدمی جیسا ہے اور اس کے اعضا کی تعداد حروف ابجد کے برابر ہے. مشھور کذّاب جابر بن یزید الجعفی ، مغیرہ کے بعد  اس کا پیامبر تھا. مغیرہ نے اپنے حواریوں کو حکم دے رکھا تھا کہ  شیعہ کے امام محمّد بن عبدللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب، یعنی حسن رضی الله تعالی عنہ کے پڑ پوتے ہیں.  مغیرہ  نے یہ دعوی بھی کیا کہ جبریل اور میکائیل نے رکن (کعبہ)  اور مقام (ابراہیم) کے درمیان محمّد بن عبدللہ کی بیعت کی ہے . اس نے تاویل[14] قرآن کو بھی ایجاد کیا. اس نے یہ کہا کہ قرآن میں عدل سے مراد علی، احسان سے مراد فاطمه، ذوی القربی سے مراد حسن اور حسین ہیں اور الفحشاء و المنکر سے مراد ابوبکر اور عمر ہیں

 

ابو الحسن الشعری مقالات الإسلاميين واختلاف المصلين  میں لکھتے ہیں[15]

والفرقة الرابعة منهم المغيرية أصحاب المغيرة بن سعيد يزعمون أنه كان يقول أنه نبي وأنه يعلم اسم الله الأكبر، وأن معبودهم رجل من نور على رأسه تاج وله من الأعضاء والخلق مثل ما للرجل وله جرف وقلب تنبع منه الحكمة وأن  حروف أبي جاد على عدد أعضائه قالوا: والألف موضع قدمه لاعوجاجها وذكر الهاء فقال: لو رأيتم موضعها منه لرأيتم أمراً عظيماً يعرض لهم بالعورة وبأنه قد رآه لعنه الله، وزعم أنه يحيي الموتى بالاسم الأعظم ….. فكان أول من خلق منها محمداً صلى الله عليه وسلم

 (شیعوں کا) چوتھا گروہ المغیریہ ہے یعنی مغیرہ بن سعید کے ماننے والے. ان کا یہ خیال تھا کہ مغیرہ نبی تھا اور اسم اعظم  جانتا تھا. انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ان کا معبود نوری ہے اور انسان جیسا ہے جس کے سر پر تاج ہے . اس کے اعضا انسان جیسے ہیں . اس کا پیٹ اور دل ہے جس سے حکمت نکلتی ہے اور اس کے انتے ہی اعضا ہیں جتنے حروف ابجد ہیں.  تھوڑا ترچھا الف معبود  کا قدم ہے اور ھ کے لئے انہوں نے دعوی کیا کہ اگر تم نے اس کو دیکھا تو گویا ایک امر عظیم دیکھا! اس سے ان کا مطلب پوشیدہ اعضا ہیں. یہ ملعون کہتا تھا کہ اس نے ان کو دیکھا ہے. اس نے اسم اعظم کو جاننے کا بھی دعوی کیا جس سے یہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے .. اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ محمّد صلی الله علیہ وسلم پہلی تخلیق ہیں

 سلیمان کے دربار کے اس شخص کے بارے میں جس کو کتاب کا علم دیا دیا تھا ، الکافی باب ١٦ کی روایت ہے کہ[16]

محمد بن يحيى وغيره ، عن أحمد بن محمد ، عن علي بن الحكم ، عن محمد بن  الفضيل قال : أخبرني شريس الوابشي ، عن جابر ، عن أبي جعفر عليه السلام قال : إن اسم الله  الأعظم على ثلاثة وسبعين حرفا وإنما كان عند آصف منها حرف واحد فتكلم به فخسف  بالأرض ما بينه وبين سرير بلقيس حتى تناول السرير بيده ثم عادت الأرض كما  كانت أسرع من طرفة عين ونحن عندنا من الاسم الأعظم اثنان وسبعون حرفا ، وحرف  واحد عند الله تعالى استأثر به في علم الغيب عنده ، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي  العظيم .

الله کے اسم اعظم کے تہتر ٧٣ حروف ہیں. ان میں سے صرف ایک حرف کو ادا کیا گیا تھا کہ اسکے اور ملکہ شیبا کے درمیان زمین کو دھنسا دیا گیا کہ اس نے تخت تک ہاتھ بڑھا لیا اور زمین واپس اپنی جگہ لوٹ آئی. یہ سب پلک جھپکتے میں ہوا.  ہمارے پاس اسم اعظم کے بہتر حروف ہیں . الله نے علم  غیب میں ایک ہم سے پوشیدہ رکھا ہے…

 

طبقات الصوفیہ ص ٢٧ میں ابراہیم بن ادھم کی حکایت ہے کہ

سمعت أبا العباس، محمدَ بن الحسن بنِ الخشاب، قال: حدثنا أبو الحسن عليُّ بن محمد بن أحمد المصري، قال: حدثني أبو سعيد أحمدُ بن عيسى الخَرَّاز، قال: حدثنا إبراهيم بن بَشَّار، قال: ” صحبت إبرهيم بن أدهم بالشام، أنا و أبو يوسف الغَسُولى، و أبو عبد الله السنِّجارى. فقلت: يا أبا إسحاق! خبِّرني عن بَدْءِ أمرك، كيف كان ” – قال: ” كان أبي من ملوك خُراسان. و كنت شاباً فركبت إلى الصَّيد. فخرجت يوماً على دابَّة لي، و معي كلب؛ فأَثَرْت أرنباً، أو ثعلباً؛ فبينما أنا أَطْلُبه، إذ هتف بي هاتف لا أراه؛ فقال: يا إبراهيم: إلهذا خلقتَ؟! أم بهذا أُمِرت؟!. ففَزِعتُ، و وقفتُ، ثم عدتُ، فركضتُ الثانية. ففعل بي مثلُ ذلك، ثلاثَ مرات. ثم هتف بي هاتف، من قَرَبُوس السَّرْج؛ و الله ما لهذا خُلِقتَ! و لا بهذا أُمِرتَ!. فنزلت، فصادفت راعياً لأبي، يرعى الغنم؛ فأخذت جُبَّتَه الصوفَ، فلبِستها، و دفعت إليه الفرس، و ما كان معي؛ و توجهت إلى مكة. فبينما أنا في البادية، إذا أنا برجل يسير، ليس معه إناءٌ، و لا زادٌ. فلما أَمْسَى، و صلّى المغربَ، حرَّكَ شفتيه، بكلامٍ لم أفْهَمه؛ فإذا أنا بإناءٍ، فيه طعامٌ، و إناءٍ فيه شرابٌ؛ فأكلتُ، و شربتُ. و كنتُ معه على هذا أيَّاماً؛ و علمني ” اسمَ اللهِ الأعظمَ ” . ثم غاب عني، و بقيتُ وحدي. فبينما أنا مُسْتَوْحش من الوحدة، دعوتُ اللهَ به؛ فإذا أنا بشخص آخِذٍ بحُجْزَتي؛ و قال: سَلْ تُعْطَهْ. فَراعَني قولُه. فقال: لا رَوْعَ عليك! و لا بَأْسَ عليك!. أنا أخوك الخَضْر. إن أخي داود، عَلّمك ” اسمَ اللهِ الأعظم ” ، فلا تَدْعُ به على أحد بينك و بينه شَحْنَاء، فتُهْلِكه هَلاكَ الدنيا و الآخرة؛ و لكن ادْعُ الله أن يُشَجِّع به جُبْنَك، و يُقوّيَ به ضَعفَك، و يُؤْنِسَ به وَحْشتَك، و يجدِّدَ به، في كل ساعة، رَغبتَك. ثم انصرف وتركني. “

إبراهيم بن بَشَّار بیان کرتے ہیں کہ میں إبرهيم بن أدهم  کے ساتھ شام  میں تھا  میرے ساتھ  أبو يوسف الغَسُولى، اور أبو عبد الله السنِّجارى بھی تھے . پس میں نے ان سے اس طریقہ پر ان کی ابتداء کے بارے میں پوچھا یہ سب کیسے ہوا؟ انہوں نے بتایا : میرے والد خراسان کے بادشاہوں میں سے تھے اور میں جوان تھا شکار کے لئے نکلا. پس ایک دن اپنی سواری پر نکلا اور میرے  ساتھ (شکاری) کتے تھے  میں ایک خرگوش یا لومڑی کے پیچھے گیا ابھی پکڑنے والا تھا کہ ہاتف غیبی نے پکارا اور کہا اے ابراہیم کیا  اس کام کے لئے تمہیں خلق کیا گیا ہے؟  کیا اسکا حکم کیا گیا ہے؟  میں خوفزدہ ہوااوررکا اور انتظار کیا پھر دوسری بار چلا پھر ایسا ہی ہوا تین دفعہ. اب ہاتف کی آواز زین سے آئی الله کی قسم !   کیا  اس کام کے لئے تمہیں خلق کیا گیا ہے؟  کیا اسکا حکم کیا گیا ہے؟ میں سواری سے  اترا،  اور اپنے باپ کے لئے کام کرنے والے چرواہے کے پاس آیا اسکا اون کا جبّہ پہنا ، گھوڑوں کو جو کچھ میرے پاس تھا وہ سب  واپس کیا اور مکّہ کا رخ کیا. جب میں بیابان میں رستے میں ایک بھٹکتا انسان تھا ، نہ کوئی برتن تھا اور نہ ہی کچھ  اور پس شام ہوئی اور میں نے مغرب  کی نمازپڑھی  میرا ہونٹ ہلا اور ایسا کلام ادا ہونے لگا جو میں نہیں سمجھ سکا،  پس یکایک میرے آگے برتن تھا جس میں کھانا تھا اور برتن تھا جس میں مشروب تھا پس میں نے کھایا اور پیا اور ان دنوں وہ  برتن میرے پاس رہے اور مجھے اسم الله الأعظمَ سکھایا پر مجھ سے کھو گیا اور باقی رہ گیا. پس میں اپنی وحشت میں ایک  تھا  میں نے اس سے الله کو پکارا پس ایک شخص نے مجھے پکڑا اور کہا مانگو عطا کیا جائے گا،  میں ڈرا اس کلام سے، کہا: مت ڈرو، کوئی برائی نہیں! میں تمہارا بھائی خضر ہوں. بے شک میرے بھائی داود نے تم کو اسم الله الأعظمَ سکھایا تھا پس اس نام کو اس لئے استمال نہ کرنا کہ جس سے تمہارا جھگڑا ھو تو تمہاری دنیاو آخرت ہلاک ہو جاۓ گی لیکن اس سے الله کو پکارنا  تمہیں شجاعت ملے گی، کمزوری میں طاقت ملے گی ، وحشت میں مونست ملے گی اور ہر پل تمہاری لگن میں اضافہ ھو گا. یہ کہ کر وہ چلا گیا

  

ابو یزید البسطامی (المتوفی ٢٦١ ھ) کہتے ہیں[17]

وقيل له: علمنا الاسم الاعظم. قال: ليس له حد، إنما هو فراغ قلبك لوحدانيته، فإذا كنت كذلك، فارفع له أي اسم شئت من أسمائه إليه

اس سے کہا گیا: ہمیں اسم الله الأعظمَ سکھائیں. بولے: اس کی کوئی حد نہیں یہ تو تیرے قلب کی یکسوئی پر مبنی ہے، پس جب یہ ھو تو کسی بھی نام  سے پکارو جوالله کے نام ہیں

مُردوں کے ذریعے غیب بینی یہودیوں میں

 

حشر دوم کے بعد، جب یہودیوں پر مصائب آئے اور وقت گزرتا گیا تو یہودیوں میں یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں  علم روایت   ضائع نہ ھو جائے اور فریسی دور ( ٥٣٦ ق م سے ٧٠ ب م) سے متعلق علم کھو جائے. اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوۓ ربی یہودا ھناسی    ( جن کو یہودا شہزادہ بھی کہا جاتا ہے) نے مشنا ٢٢٠ ب م میں مرتب کی. اس کے بعد مشنا کی شرح تقریبا ٤٠٠ ب م میں  فلسطین میں لکھی گئی جس کو آج یروشلم تلمود بولتے ہیں.   دوسری شرح  ٤٠٠ ب م سے ٦٠٠ ب م تک بابل میں لکھی گئی اور اس کو بابلی تلمود بولتے ہیں. ٥٧٠ ب م میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی. لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور کے  یہود کے بارے میں جاننے کے لئے سب سے معتبر ذریعہ مشنا اور اس کی شرح  تلمود ہے. یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مردے انسانوں کے احوال سے واقف ہوتے ہیں تلمود میں احوال القبور بیان کیے گئے ہیں کہ[18]

It once happened that a pious man gave a denarius to a a bagger on the new year eve in the time of drought. His wife upbraided him so he went and spent the night in the cemetery. He heard two spirits conversing. One said to the other come friend let us wonder in the world and hear behind the curtain, what visitation is to befall the world. The other spirit replied I cannot because I am buried in a matting of reeds. But do you go and report me what you hear. She went and having wandered about, returned. The other asked, what did you hear friend, behind the curtain? She replied I heard that if one sows in the first rainfall the hail will smite it. This man there upon went and sowed in the second rainfall. The hail destroyed everybody’s crops but not his. The following year he spent the new year’s night in the cemetery, and heard the same two spirits conversing. One said to the other come let us wonder in the world and hear behind the curtain what visitation is to befall the World? The spirit replied have I not told you friend that I cannot because I am buried in a matting of the reeds? But do you go and come and tell me what you hear? She went and wandered about and returned the other spirit asked what did you hear behind the curtain that if one sows the second rainfall it be smitten by the blast. This man went and sowed the first rainfall. What everybody else sowed was smitten by the blast, but not his. His wife asked him, how is that last year every bodies crop was destroyed by hail, but not yours and this year everybody’s crop is blasted except yours? He told her the whole story[19]

ایک بارایسا ہوا کہ ایک نیک آدمی نے نئے سال کے موقع پر فقیر کو دینار دیا جبکہ خشک سالی کا دور تھا ۔ اس کی بیوی نے اس پر ملامت کی اور وہ  گھر سےچلا گیا کہ رات قبرستان میں گزارے ۔ اس نے وہاں دو روحوں کو باہم مخاطب سنا ۔ ایک روح  نے دوسری روح سے کہا کہ آو دوست دنیا  میں گھومیں  اور پردہ کے پیچھے سے سُنیں ۔ دوسری روح نے جواب دیا میں یہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں ایک چٹائی کے تنکے کے جوڑوں میں دفن ہوں ۔ لیکن تم جاؤ اور مجھے جو سنو اس کی رپورٹ دو ۔ پہلی روح گئی اور واپس آئی ۔ دوسری روح نے پوچھا کہ دوست  پردہ کے پیچھے کیا سنا؟ اس نے جواب دیا میں نے سنا ہے کہ پہلی بارش کے اولے فصل تباہ کریںگے ۔ یہ شخص وہاں سے واپس گیا اور دوسری بارش میں بویا ۔ اولوں نے ہر ایک کی  فصل کو تباہ کیا  لیکن اس کونقصان نہ ہوا ۔ اگلے سال اس شخص نے پھر نئے سال کی رات قبرستان میں گزاری اور دوبارہ  دو روحوں کو باہم مخاطب سنا  ایک روح  نے دوسری روح سے کہا کہ آو دوست دنیا  میں گھومیں  اور پردہ کے پیچھے سے سُنیں  کہ دنیا والوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ؟ روح نے جواب دیا یہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں ایک چٹائی کے تنکے کے جوڑوں میں دفن ہوں ؟ لیکن تم جا کر پتا کرو اور مجھے بتاو کیا تم نے سنا؟ وہ گئی اور گھومتی پھرتی رہی اور پہلی روح نے پوچھا کہ کیا آپ پردے کے پیچھے گئے ؟ بولی:  دوسری بارش میں جو بوئے گا وہ تباہ ہوگا ۔ یہ شخص لوٹ آئا اور پہلی بارش میں بویا. لیکن جنہوں نے دوسری بارش میں بویا تھا وہ سب مارے گیے  ۔ اس کی بیوی نے اس سے پوچھا  کہ گزشتہ سال ہر شخص کی فصل تباہ ہوئی، مگر تمہاری فصل بچ گئی اور اس سال ہر شخص کی فصل مُرجھائی  سوائے تمہاری؟ اس شخص نے پوری کہانی بیوی کو بتائی

تلمود میں ایک دوسری حکآیت بھی بیان ہوئی ہے

Zeiri left a some of money incharge of his land lady. During the time he went to the school of his master and returned, she died. He followed her to the cemetery and asked her where is the money? She replied go and take it from beneath the door’s socket in such and such place and tell my mother to send my comb and tube of eye paint through so-and-so who will arrive here tomorrow[20].

 

زیری نے اپنے گھر کی مالکہ کے پاس کچھ پیسے رکھوائے. اس دوران جبکہ وہ مدرسہ میں استاد کے پاس تھا مالکہ کا انتقال ہو گیا. وہ اسکے پیچھے قبرستان تک گیا اور اس (میّت) سے پوچھا کہ مال کہا ہے؟ بولی جاؤ جا کر دروازے کے ساکٹ میں فلاں جگہ سے نکال لو اور میری ماں کو بولو کہ کنگھا اور سرمہ فلاں کے باتھ بھیج دے جوکل آے گا

ایک اور حکایت سننے اور سر دھنیے

The father of Samuel was entrusted with some money belonging to orphans at the time he passed away, Samuel was not with him. People called after him, son of consumer of the orphans’ money. He went after his father to the cemetery and said to them, I want Abba. They replied there are many of that name here. He said to them, I want Abba, the father of Samuel where is he? They answered he has gone up to the heavenly seminary where the Torah  is studied. In the meantime he noticed a former colleague named Lev, who was seated a part. He asked him, why do you sit a part? Why have you not gone up to the heavenly seminary? He replied I was told, the number of years you did not attend the seminary of R. Aphes, and caused him grief on that account, he will not permit you ascend to the heavenly seminary.  In the meanwhile his father arrived and Samuel noticed that he wept and laughed.  He said to him why do you weep? He answered because you will soon come here. And why do you laugh? Because you are very highly esteemed, let them allow Levi  to enter and they permitted him to enter. He asked his father, where is the orphans money? He replied go and take it from the enclosure of the mill. The upper and lower sums of money belong to us. The middle sum belongs to the orphans. He asked his father why did you act in this manner. He replied should thieves come to steal they would steal ours. Should the earth destroy, it would destroy ours[21].

 

 سیموئیل کے باپ کو کچھ پیسوں کا نگہبان بنایا گیا تھا جو  یتیموں کے لئے  تھے. سیموئیل کے باپ  کی وفات ہوئی اور اس  وقت سیموئیل اس کے ساتھ نہیں تھا ۔ لوگ اس کے بعد سیموئیل کو  یتیم کا مال کھانے والے کا بیٹا کہتے۔ سیموئیل اپنے والد کے قبرستان گیا اور کہا، مجھے  ابّا چاہیے  ہیں ۔ ارواح نے جواب دیا یہاں اس نام کے بہت سے ہیں ۔ سیموئیل نے کہا میں سیموئیل کا باپ چاہتا ہوں ، وہ کہاں ہے؟ ارواح نے جواب دیا کہ وہ آسمانی مدرسے کے لئے جہاں تورات کا مطالعہ ہے چلے گئے ہیں ۔ اس دوران سیموئیل نے محسوس کیا ایک سابق ساتھی لاوی کی روح بھی وہاں ہے  . سیموئیل نے اس سے پوچھا آپ کیوں دور بیٹھے ہیں؟ کیوں آپ آسمانی مدرسہ نہیں گئے ؟ اس نے جواب دیا مجھے بتایا گیا ہے کہ، میں ربی  افس  کےمدرسے میں کئی  سال غیر حاضر رہا اور اس بنا پر، وہ  مجھے اجازت نہیں دے رہےکہ میں آسمانی مدرسے کے لیے چڑھ جاؤ، یہ غم اسی  وجہ سے ہے ۔ اسی اثنا میں سیموئیل کے والد پہنچے اور سیموئیل نے محسوس کیا کہ وہ روتے اور ہنستے تھے ۔ اس نے پوچھا کہ آپ کیوں روتے کہا؟ انہوں نے جواب دیا، کیونکہ تم جلد یہاں آؤ گے ۔ اور آپ کیوں ہنستے ہیں؟ کیونکہ تمہاری یہاں بہت عزت ہے تم لاوی کو داخل کرنے کے  لیے اجازت دلاؤ. اور انہوں نے اجازت دے دی ۔ سیموئیل نے اپنے والد سے پوچھا کہ یتیموں کی رقم کہاں ہے؟ کہا: جاؤ  دیوار سے لے لو ۔ پیسے کی بالائی و زیریں رقوم ہم سے تعلق رکھتی ہیں ۔ درمیانی رقم سے یتیموں کا تعلق ہے ۔ سیموئیل نے پوچھا : کیوں آپ اس انداز میں عمل کرتے تھے  ۔ انہوں نے جواب دیا چور، چوری کرنے کے لیۓ آیئں تو وہ ہمارا مال چوری کریں ۔ زمین تباہ کرے تو یہ ہمارے مال کو تباہ کرے ۔

 

 

غیر یہودیوں کےلئے جہنم میں عذاب کی حکایت بیان کی گئی

A tradition exist to the effect that the sufferers in Gehinnom enjoyed a respite every Sabbath. It is mentioned in a dialogue between the Roman governor, Tineius Rufus and R. Akiba[22]. The Roman asked, how is the Sabbath different from any other day? The Rabbi retorted, how are you a Roman official different from any other man? Rufus said the Emperor was pleased to honour me;  and Akiba replied: Similarly the Holy One the blessed be He, was pleased to honour the Sabbath. How can you  How can you prove that to me? Behold the river Sabbatyon carries stones as it flows all the days of the week but it rests on Sabbath. To  a distant place you lead me! Akiba said, Behold a necromancer can prove it because the dead ascend all the days of the week but not on Sabbath.  You can test my statement by your father. Later on Rufus had occasion to call up his father’s spirit. It ascended everyday of the week but not on Sabbath. On Sunday he caused him to ascend  and asked, have you become a Jew since your death? Why did you come up every day of the week but on the Saturday? He replied  Whoever does not observed the Sabbath with you on Earth does so voluntarily, but here he is compelled to keep the Sabbath.[23].

ایک روایت موجود ہے کہ  سبت کے دن ، جہنم میں  کچھ مہلت ملتی ہے۔ اس  حکایت  کا رومی گورنر ٹانییوس روفس اور ربی  عقبہ کے درمیان ایک مکالمے میں ذکر کیا گیا ہے ۔ رومی گورنر نے پوچھا: کس طرح سبت کا دن کسی بھی دوسرے دن سے مختلف ہے؟ ربی عقبہ بولے، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایک رومن اہلکار کسی دوسرے انسان سے مختلف ہے؟ روفس نے کہا کہ بادشاہ میری عزت  افزائی کرکے  راضی ہے ۔ ربی عقبہ نے جواب دیا: اسی طرح پاک ،مبارک ذات (الله)  اس سبت کی عزت سے راضی ہے ۔ روفس نے کہا کس طرح ؟ کس طرح یہ ثابت کر سکتے ہیں ؟ ربی نے جواب دیا  ایسے کہ سبباتیاون ہر روز  ، پتھروں کے ساتھ بہتاہے  لیکن سبت کو نہیں ۔  (اس بحث میں آپ مجھے )ایک دور دراز جگہ لے گئے، عقبہ بولے! میری بات کی تایید ایک ساحر کر سکتا ہے کہ  مردے آسمان پر ہفتہ کے  تمام ایام چڑھ  سکتے ہیں سواۓ سبت کے.  آپ روفس اپنے والد سے پتا کر سکتے ہیں ۔ بعد ازاں روفس کا اپنے باپ کی روح سے رابطہ کرنے کا موقع ملا ۔ یہ ہر روز چڑھ سکتی تھی سواۓ سبت کے ۔ روفس  نے اپنے باپ سے پوچھا، آپ اپنی موت کے بعد سے کیا یہودی بن چکے ہیں؟ آپ ہفتہ میں  ہر روز آئے لیکن سبت کو کیوں آئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا جو شخص سبت کے دن زمین پر مناتا ہے،  تو وہ یہ رضاکارانہ طور پر کرتا ہے، لیکن یہاں وہ سبت کا دن رکھنے پر مجبور ہے ۔

تلمود میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ روحانی مخلوق غیر مرئی ہیں, لیکن ایک عمل کے بعدانہیں دیکھ سکتے ہیں[24]

Who wishes to perceive their footprints should take sifted ashes and sprinkle them around his bed. In a morning he will see something resembling the footprints of cock. Who wishes to see them should take ……. Roast it in fire, pulverize it then fill his eyes with it and he will  see them.. rabbi did that.. [25].

جو ان کے قدموں کے نشان دیکھنا چاہتا ھو اسے چاہیئے کہ چھنی ہوئی راکھ لے اور اسے اپنے بستر کے ارد گرد چھڑکے ۔ صبح میں اس کو کچھ مرغ کے پا ؤں سے ملتے جلتے نشانات نظر آیئں گے ۔ جو ان کو دیکھنا چاہے  وہ لے … (ان چیزوں کو ) آگ میں بھونے اور اس کو پیسے اور اس کے اجزاء کو اپنی آنکھیں پر ملے .. وہ ان روحانی مخلوقات کو دیکھیں گے… ایک ربی ایسا کیا تھا…

مُردوں اور روحوں سے غیب بینی مسلمانوں میں

ارواح ، مسلمانوں کو راہ دکھاتی ہیں، شاہ والی الله (المتوفی ١١٧٦ ھ) انتباہ فی سلاسل اولیاء الله میں ص ١١٣/١١٤

لکھتے ہیں

کشف القبور کا طریقہ:

ذکر کشف قبور جان کہ ذکر کشف قبور کے واسطے اول جب مقبرہ میں ائے دوگانہ ان بزرگ کی روح کے واسطے پڑھے سوره فتح یاد ھو پہلی رکعت میں پڑھے اور دوسری میں سوره الخلاص اورنہیں تو ہر رکعت میں پانچ پانچ بار اخلاص پڑھے اور پھر قبلہ کیطرف پیٹھ کرکے بیٹھے اورایک بار آیتہ الکرسی اور بعضی سورتیں جو زیارت کے وقت پڑھتے ہیں جسے سوره الملک اور اسکے بعدہ قل کہے بعد فاتحہ کے گیارہ بار سورہ الخلاص پڑھے اور ختم کرے اورتکبیر کہے بعدہ سات دفعہ طواف (قبر) کرے اور اسمیں تکبیر پڑھے اور شروع دائیں طرف سے کرے اورپھر پاؤں کی طرف رخسار رکھے  اور نزدیک میّت کے منہ کے بیٹھے اور کہے یارب اکیس دفعہ بعدہ  اول طرف آسمان کے کہے یا روح الروح جب تک کہ النشراح پائے یہ ذکر کرے انشاء الله تعالی کشف قبور و کشف الارواح حاصل ھوگا

اشرف علی تھانوی اپنی کتاب اعمال القرانی میں ص ٥٤ پر روحانی اشخاص کو دیکھتے کا نسخہ بتاتے ہیں

جو شخص دفینہ و خزانہ پر مطلع ہونا چاہے تو ان آیتوں کو تانبے کے برتن پر مشک و زعفران سے لکھے پھر ہلیلہ زرد و آب طوبہ میوہ سبز سے اس کے حروف دھو کر سیاہ مرغی کا پتہ یا سیاہ بطخ کا پتہ اور پانچ مثقال سرمہ اصفہانی لے کر اس پانی میں ملا کر خوب باریک پیسے حتیٰ کہ وہ باریک سرمہ ھو جآوے اور رات کے وقت پیسا کرے تاکہ اس پردھوپ نہ پڑے جب سرمہ بن جائے کانچ کی شیشی میں رکھ کر اور آبنوس کی سلائی سے اسکا استعمال اسطرح کرے کہ اول جمعرات کے دن روزہ رکھے جب نصف شب کاوقت ھو درود شریف پڑھے اور آیات موصوفہ ستربار پڑھے اور ستر بار استغفار پڑھے پھر ستر مرتبہ درود شریف پڑھے اوراسی سلائی سے دونوں آنکھوں میں تین تین بار سلائی اس  سرمہ کی لگاوے اور داہنی آنکھ میں پہلے لگاوے اسطرح سات جمعرات تک کرے کہ دن میں روزہ رکھے اور رات کو درود شریف و آیات پڑھے اور سرمہ لگاوے اس شخص کو  اشخاص روحانیہ نظر آویں گے  ان سے جو کچھ پوچھنا ھو پوچھ لے

 

آدم قدموں: انسان کامل اور تخلیق اول کی بحث

 

یہودی تصوف میں وہ ذات جو سب سے پہلے الله  کے نور سے جدا ہوئی وہ آدم قدمون ہے. فلو نے اس پر بحث کی ہے اور کہا ہے یہ یہ ذات لوگوس کی سب سے کامل صورت ہے[26]. تلمود میں ربی عقبہ کہتے ہیں

How favoured is man, seeing that he was created in the image! as it is said, ‘For in the image, אֱלֹהִ֔ים made man'” (Genesis  9:6)

انسان پر کتنی مہربانی کی گئی ہے،  کہ اسکو  (الله کے) صورت پر بنایا گیا، جیسا کہاگیا ہے، صورت میں אֱלֹהִ֔ים نے آدم بنایا ‘ پیدائش 9:6

عبدالکریم الجیلی (المتوفی٨٣٢ ھ) اپنی کتاب الانسان الکامل میں اس کا اسلامی نظریہ پیسش کرتے ہیں کہ

ان الانسان الکامل هو القطب الذی تدور عليه افلاک الوجود من اوله الٰی اٰخره وهو واحد منذکان الوجود الی ابد الاٰبدين، ثم له تنوع فی ملابس و يظهر فی کنائس فيسمی به باعتبار لباس، ولا يسمی به باعتبار لباس اٰخر، فاسمه الاصلی الذی هو له محمد وکنيته ابو القاسم ووصفه عبداللّٰه ولقبه شمس الدين، ثم له باعتبار ملابس اخری اسامی وله فی کل زمان اسم ما يليق بلباسه فی ذلك الزمان. فقد اجتمعت به صلی اللّٰه عليه وسلم وهو فی صورة شيخی شرف الدين اسمٰعيل الجبرتی وکنت اعلم انه النبی صلی اللّٰه عليه وسلم وکنت اعلم انه الشيخ. (ورقه ٤٦ اب ٢٩

انسان الکامل وہ محور ہے جس پر ابتداء سے انتہا تک کی تمام تخلیق گھوم رہی ہے. اور ابتداء سے انتہا تک یہ ایک ہی ذات ہے. اس کے متفرق جلوے ہیں. یہی ذات یہودیوں کے عبادت خانوں میں ظاہر ہوتی ہے لیکن جدا جلووں میں اور مختلف زمانوں میں اس کا نام الگ الگ تھا. اس کا اصلی نام محمّد اور کنیت ابو القاسم ہے. اس کی صفت عبداللہ ہے.  اور لقب شمس الدین ہے. اس کے اور نام بھی ہیں اپنے ظہور کے حساب سے. اور ہر زمانے میں اسکاالگ نام تھا. میں نے اس ذات کو اپنے شیخ شرف الدین اسماعیل الجبراتی میں دیکھا ہے. میں جانتا تھا کہ یہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں اور یہ کہ یہ میرے شیخ بھی ہیں

 مزید لکھتے ہیں

الله کی ساری بادشاہت پر ان  اقطاب اور اشخاص کو تمکنت حاصل ہوتی ہے.  یہ ذات جانتی ہے کہ دن ورات میں کیا چٹخا ہے اور پرندوں نےکیا بولاہے. اور شبلی کہتے ہیں: اگر سیاہ رات میں ایک چیونٹی کسی سخت چٹان پر چڑھے اور اس کے چلنے کی آواز میں نہ سنتا ہوتا تو میں ایسا نہ کہتا اور سمجھتا کہ مجنوں ہوں یا دھوکہ میں ہوں


[1] یہ بات اہم ہے کہ اسلامی تصوف میں مکاشفہ کو مراقبہ کہا جاتا ہے جس میں مختلف مدارج اور منازل ہوتی ہیں لیکن مرکبہ کی طرح مقصد مشاہدہ ذات الہی ہی ہوتا ہے لہذا مرکبہ اور مراقبہ  کا انجام ایک ہی ہے

[2] http://www.mechon-mamre.org/p/pt/pt1201.htm

[3] Book of the All-Virtuous Wisdom of Joshua ben Sira

[4] بعض مسلمان  متصوفین یہ کہتے ہیں کہ  یہودی تصوف جس کو قبالہ کہا جاتا ہے اس کا آغاز یورپ میں ہوا. حالانکہ  یہودی تصوف  قبالہ خود پرانی روایت پر مشتمل ہے اور کوئی نئی ایجاد نہیں

[5]عبد الله بن سبا  کوئی تخیلاتی شخصیت نہیں .

عبد الله بن سبا شیعہ  کتب میں

مشھور شیعہ عالم ابو موسیٰ محمّد بن عمر بن عبد العزیز الکشی (المتوفی٣٤٠ ھ) ابی جعفر سے روایت بیان کرتے ہیں کہ :  عبد الله بن سبا  نبوت کا مدعی تھا اور امیر المومنین (علی) کے لئے الله ہونے کا دعویدار تھا، الله اس سے پاک ہے.

عبد الله بن سبا سنی  کتب میں

لسان المیزان ج ٢ ص ٤٠ میں ابن حجر نے سیف بن عمر کے بغیر مختلف طرق سے یہ ثابت کیا ہے کہ  ابن سبا اصلی انسان تھا. جرح و تعدیل کی کتابوں میں کئی راوی سبائی ہونے کے دعویدار تہے  مثلا الکلبی اور جابر بن یزید الجعفی (دیکھے المجروحین از ابن حبان اور تہذیب الکمال)

لسان العرب ج ١٣ ص ٥٠٦ پر [6]

[7]

تصوف کے بعض حکایتوں میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ نبی علیہ السلام  کوجب معراج ہوئی تو عرش پر بھی پھنچے لیکن وہاں الله پردے میں تھا لیکن اس کا ہاتھ  دیکھا جس میں انگوٹھی علی کی تھی نعوذ باللہ

 حلول کا مطلب الله کا مخلوق میں حل  ہونا ہے [8]

[9]  اسوپسیفی     ایک  لفظ کو اس کے حروف کی مناسبت سے عدد میں تبدیل کرنے کی مشق کا یونانی نام ہے ۔

[10]  Greek Qabalah by  Kieren Barry, Weiser Publishers

[11]  شیعہ روایات کے مطابق جفر ایک خفیہ تحریر تھی جو بکری یا دنبے کی کھال پر لکھی ہوئی تھی اور نبی علیہ السلام نے علی کو عطا کی تھی

[12] کتاب الکافی ج١ حدیث ٦٣٥ باب ٤٠ ح ١

[13]  Mystical Dimensions of Islam, Anne Marie Schimmel

 تاویل کا مقصد لفظ کو وہ معنی پہنانا ہوتے ہیں جو اس کے نہ ہوں [14]

[15] مقالات الإسلاميين واختلاف المصلين، ص١١پر

الكافي – از الكليني – ج 1 – ص ٢٣٠[16]

[17] سیر الاعلام النبلاء از الذھبی ج ١٣ص٨٦ پر

Order Zeraim, Berachoth 18b [18]

[19] Everyman’s Talmud by Abraham Cohen, Schoken Publishers, 1995, pg 284-285

[20] Everyman’s Talmud by Abraham Cohen, Schoken Publishers, 1995, pg 286

[21] Everyman’s Talmud by Abraham Cohen, Schoken Publishers, 1995, pg 286-287

[22] R. Akiva (d. 135 AD)

[23] Everyman’s Talmud by Abraham Cohen, Schoken Publishers, 1995, pg 382

[24] Order Zeraim, Berachoth, 69

[25] Everyman’s Talmud by Abraham Cohen, Schoken Publishers, 1995, pg 262

[26] The Great Angel by Margaret Barker, pg 146

عیسیٰ یا یسوع عليہ السلام نے خالص توحیدی دین کہ اللہ کی اطاعت کرو اور طاغوت کا انکار کرو دیا ۔ تاہم اس کے بعد جب ان کا رفع ہوا اور انہوں نے دنیا کو چھوڑ دیا اور ان کے شاگرد ہلاک ہو گئے، تو اس ہدایت کے ایسے  لوگ  وارث  ہوۓ جو استقامت نہ دکھا سکے اور اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ گیے اور خالص توحید کے عقیدے کو  بھلا بیٹھے۔ بہت سے فرقے نمودار ہوۓ  جنہوں نے یہ دعوی کیا کہ وہ عیسیٰ کی اصل تعلیمات جانتے ہیں اور انہوں نے ان کے نام سے کئی اناجیل منسوب کردیں۔

عیسائیت میں تصوف ان تنازعات کی وجہ سے پھیلی جو عیسیٰ کی نوعیت و فطرت پر تھے ۔ انجیل متی کے مصنف نے یہ دعوی کیا کہ عیسیٰ داودی نسل سے تھا  لیکن  دریائے اردن میں بپتسمہ[1]  کے موقعے ( باب ٣ : ١٦) پر روح القدس عیسیٰ پر نازل ہوئی اور یسوع کا الله کے بیٹے کے طور پرآسمانی آواز کی جانب سے اعلان ہوا. اس کے بعد روح القدس ان کو صحرا میں لے گئی اور وہ وہاں کچھ عرصہ رہے. متی نے یہ بھی لکھا کہ عیسیٰ یا یسوع روح القدس ( باب ١: ٢٠) کے زیر اثر پیدا ہوا ۔ یسوع مسیح  یہود کے بادشاہ تھے جن کی پیشنگوئی  یرمیاہ (باب ٣١: ١٥)، یسعیاہ (باب ٤٠: ٣) اور زبور (٩١باب: ١١) میں موجود ہے ۔ لیکن متی نے  یسوع کی الوہیت کی طرف حوالہ نہیں کیا ۔ متی نے یہ  بھی کہا ہے کہ جو لوگ یسوع کے زمانے  تھے وہ یسوع کو ایک نبی (21:46) سمجھتے تھے ۔

انجیل مرقس  کے مصنف نے اپنی انجیل کی ابتداء ہی میں بتایا ہے کہ یسوع  میں روح القدس حلول کر گئی . ان کے نزدیک یہ اہم نہیں کہ یسوع کس نسل سے تھا ہارونی تھا یا داوودی تھا. یہ سب غیر اہم ہے. لہذا بپتسمہ کے وقت صریحا یسوع کے جسد میں روح کے اترنے کے الفاظ ہیں

انجیل لوقا  کے مطابق روح القدس کوئی خاص چیز نہیں. یہ تو نازل ہوتی رہتی ہے زکریا (باب١: ٦٧) پر نازل ہوئی، شمعون پر نازل ہوئی (باب ٢: ٢٦). دریائےاردن میں بپتسمہ کے وقت روح القدس پرندے کی صورت اوپر سے اڑتی ہوئی گئی (باب ٣: ٢٢) ( لہذا کوئی حلول نہ ہوا) اور ایک آسمانی آواز آئی کہ یہ میرا بیٹا ہے گویا الله نے متبنیٰ بنا لیا. لوقا کی ہی دوسری کتاب رسولوں کے اعمال باب ١٣: ٣٣ میں یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ الله نے مسیح کو متبنیٰ بنایا

انجیل یوحنا  کے مطابق عیسیٰ نہ ہی متبنیٰ تھا اور نہ ہی اس میں حلول ہوا تھا، بلکہ وہ تو ابتداء سے تھا ہی الوہی.  یوحنا نے اس عقیدے کا استخراج  کلمہ الله، کلام  (لوگوس)کے مفہوم میں تبدیلی کر کے کیا.  یوحنا نے اپنی انجیل کا آغاز  کیا باب ١: ١ سے ٤  آیات

 

In the beginning was the Word[2], and the Word was near[3] God, and the Word was Divine[4]. This one was in the beginning with God; All things were made through him and without him was not anything created. That was created in him was life[5] and that life was the light for humankind[6].

ابتدے آفرینش میں کلمہ تھا، اور کلمہ مقرب الہی تھا، اور کلمہ الوہی تھا.  ابتداء میں یہ خدا کے ساتھ تھا. ہر شے اسی ذریعہ سے خلق ہوئی اور اس کے بغیر کچھ اور نہ خلق ہوا. جو اس میں  خلق ہوا وہ حیات  تھی اور یہ حیات انسانیت کےلئے نور تھی

 

انجیل یوحنا میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ساری مخلوقات اسی کے ذریعہ بنائی گئیں[7]. انجیل کے مختلف تراجم کا تقابل کرنے کے بعد عصر حاضر کے ایک عیسآئی عالم لکتے ہیں کہ

 

God speaks word that make things come into existence. So Word is God’s creative Power and  plan and activity[8].

خدا نے کلمہ بولا جس سے اشیاء وجود میں آئیں. لہذا کلمہ خدا کی قوت تخلیق اور تکون اور عمل ہے

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یوحنا کی انجیل میں یہی کلمہ متجسم ہوتا ہے. یوحنا باب ١: ١٤ میں کہتا ہے کہ

And the Word became flesh, and moved his tent in among us, and we beheld his glory, the glory as of an only begotten from a Father, full of grace and truth

اور کلمہ ، مجسم ہوا اور اپنے خیمے کو ہمارے ہاں لے آیا اور ہم نے اس کی عظمت کا پایا ، ایسی عظمت جو باپ سے پیدا ہوۓ کی ھو، فضل اور سچ سے معمور

اسطرح عیسیٰ کو الوہی بنا دیا گیا اور ایک طرح الله کا اوتار. یوحنا نے عیسیٰ کو اس مقام پر بیٹھا دیا جس کے وہ حقدار نہ تھے اور ایک معمہ پیدا کر دیا کہ کلمہ  مجسم ہو. لہذا عیسیٰ کی فطرت کے حوالے سے ایک نئی بحث نے کروٹ لی

انہی مسائل کی وجہ سے عیسایوں میں آپس میں اختلافات ہوۓ  مثلا ارین بدعقیدگی   [9]  وغیرہ جن کی وجہ سے بلاخر تثلیث  کا عقیدہ بنایا گیا جس میں غناسطی نظریہ، ہومووسس کو استمال کیا گیا اور اقانیم ثلاثہ بنے یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس

اسلام  میں لوگوس اصطلاحات اور حلولی الہیات 

 

ابتدے اسلام میں ایک بد عقیدہ شخص بنام ابو منصور العجلی  (المتوفی ١١٩ ھ) گزرا ہے. یہ اپنے آپ کو کسف بادل کہتا تھا. یہ کہتا تھا کہ اس کا قرآن میں ذکر موجود ہے یعنی جب بھی قرآن میں بادل کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد موصوف خود ہیں.  اس کے ماننے والے قسم کھاتے وقت والله کے بجانے و الکلمه[10] بولتے تھے. ابن حزم الملل و النحل میں لکھتے ہیں

ابو منصور نے یہ دعوی کیا کہ الله نے سب سے پہلے عیسیٰ کو خلق کیا اور اسکے بعد علی بن ابی طالب کو. اس نے دعوی کیا کہ نبوت ختم نہیں  ہوئی … اس کے متبعین زخم سے ہلاک نہیں کرتے بلکہ گلا گھونٹے ہیں اور یہ انکی (توقف کے عقیدے سے)  مراد ہے امام کے ظاہر ہونے تک.  اور جب امام ظاہر ہوں گے تو یہ اپنے مخالفین کو پتھر مار کر ہلاک کریں گئے اور الخشبیہ (شیعوں کا ایک غالی فرقہ)  والے لکڑیوں اور لاٹھیوں سے. ان کے ایک گروہ نے دعوی کیا کہ محمّد بن عبدللہ بن حسن بن حسن امام ہیں. انہوں نے الخطابیہ (شیعوں کا ایک دوسرا غالی فرقہ)  کی طرح یہ دعوی بھی کیا کہ جبریل نے غلطی سے علی کی بجانے محمّد پر وحی نازل کی

لاہوت اور ناسوت کی اصطلاحات اسلامی تصوف میں بکثرت استعمال ہوتی ہیں لیکن ان کا ماخذ کیا ہے اور کیا مفہوم ہے؟

الزبیدی کتاب تاج العروس من جواهر القاموس  ج١ ص ٨٢٤١ میں ان کی وضاحت کرتے ہیں کہ

الصحيح أنه من مولدات الصوفية أخذوها من الكتب الاسرائيلية وقد ذكر الواحدى أنهم يقولون لله لا هوت وللناس ناسوت وهى لغة عبرانية تكملت بها العرب قديما

صحیح بات یہ ہے کہ اس کو صوفیاء نے پیدا کیا ہے اور اس کو انہوں نے اسرائیلی کتب سے اخذ کیا ہے اور بے شک الواحدی نے   بیان کیا ہے کہ یہ لاہوت کو الله کے لئے بولتے ہیں اور ناسوت کو انسانوں کے لئے، اور یہ عبرانی زبان کے الفاظ ہیں اور اسی طرح قدیم عرب میں بولا جاتا تھا

 

انجیل  لوقا اصلا یونانی زبان میں لکھی گئی تھی. جب عرب نصرانیوں[11] نے اس کا ترجمہ عربی میں کیا تو انہی قدیم الفاظ کو چنا تاکہ عیسیٰ کی انسانی اور الوہی جہتوں کی وضاحت ھو سکے

داود بن عمر الأنطاكي، المعروف بالأكمه (المتوفى: 1008هـ) اپنی کتاب تزيين الأسواق في أخبار العشاق  میں لکھتے ہیں کہ

والناسوت واللاهوت ألفاظ وقعت في الانجيل فتأولها لوقا

اور الفاظ ناسوت اور لاہوت انجیل میں واقع ہوۓ ہیں  لوقا (کی انجیل) سے رجوع کریں ۔

مزید لکھتے ہیں کہ

فقال أن عيسى ترع الناسوت يعني الحصة البشرية وأخذ اللاهوت يعني الحصة الالهية في ناسوته

انہوں (لوقا)  نے کہا کہ کہ یسوع میں ناسوت تھا یعنی حصہ انسانی اور لاہوت حصہ  لیا،  یعنی الوہی حصہ جو ناسوت میں تھا

اسلام میں وہ پہلا شخص جس نے لاھوت اور ناسوت کی اصطلاحات استعمال کیں وہ منصور بن الحللاج تھا اور اس نے حلول کا دعوی کیا[12]

 ابن خلكان البرمكي الإربلي (المتوفى: 681هـ)  کتاب  وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان میں لکھتے ہیں

وكان في سنة 299 ادعى للناس أنه إله وأنه يقول بحلول اللاهوت في الأشراف من الناس

اور سن ٢٩٩ ھ میں منصور نے الہ ہونے کا دعوی کیا اور کہا کہ  اچھے لوگوں میں لاھوت حلول کرتا ہے

 الذہبی نے سیر الاعلام النبلاء ج ١٤ ص٣٢٥ پر منصور بن الحلاج ( المتوفی ٣٠٩ ھ) کے اشعار نقل کیے ہیں

سبحان من أظهر ناسوته  سر سنا لاهوته الثاقب

تم بدا في خلقه ظاهرا  في صورة الآكل والشارب

حتى لقد عاينه خلقه  كلحظة الحاجب بالحاجب

نہایت پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے ناسوت کو ظاہر کیا         بھڑکتے ہوۓ لاھوت کو چمکتے ہوۓ راز سے

پھر وہ اپنی مخلوق میں ظاہر ہوا                    ایک کھاتے پیتے کی طرح

حتیٰ کہ اس کی مخلوق نے اس کو دیکھا       جسے بھوئیں حرکت کریں

منصور نے یہ بھی کہا

مزجت روحي في روحك كما  تمزج الخمرة بالماء الزلال فإذا مسك شئ مسني  فإذا أنت أنا في كل حال

میری روح، تیری روح میں اس طرح مل گئی ہے جسے شراب پانی میں ، جسے تو محسوس کرتا ہے اسے میں محسوس کرتا ہوں تو. میں  ہوں ، ہر حال میں

 

حللاج نے یہ دعوی کیا کہ الله اس میں حلول کر گیا ہے . ابن خلکان نے حللاج کے وہ اشعار نقل کیے ہیں جو  اس نے سولی کے وقت صلیب پر بولے تھے.

وقال أبو بكر ابن ثواية القصري: سمعت الحسين بن منصور وهو على الخشبة يقول:

طلبت المستقر بكل أرض … فلم أر لي بأرض مستقرا  

 أطعت مطامعي فاستعبدتني … ولو أني قنعت لكنت حرا

ابو بکر ابن ثواية القصري  کہتے ہیں کہ میں نے حللاج کو صلیب پر کہتے سنا

میں نے کل زمیں میں مستقر طلب کیا                                            پر کوئی مستقر نہ ملا

میں نے اپنے خیال کی اطاعت  کی اوراسکا اسیر ہوا                                         اگر میں اسی پر قناعت کرتا تو آزاد ہوتا

بہر کیف آخری دم تک حلولی سوچ کی آمد ہوتی رہی

جو بات اہم ہے وہ یہ کہ حللاج کے اس عمل کے بعد وہ گمراہ صوفی سلسلوں میں بہادری کا نشان بن گیا اور اس کی تعریف میں اشعار لکھے گیے

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ!

نصرانی راہبین صحرا میں

نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں  عرب میں نصرانی راہب سخت ریاضتین کرتے. ان کے ایک مشھور راہب یوحنا مسکوس (المتوفی ٤ ھ/  ٦١٩ع )   تھے جن کا ذکر نصرانی کتب میں ملتا ہے.  ان کی پیدائش ٥٥٠ ع کی ہے. یہ  صوفرونئوس (المتوفی ١٧ ھ/  ٦٣٨ ع) کے استاد تھے یروشلم کے   پیٹرآرک تھے.  یہ صوفرونئوس ہی تھے جنہوں نے ١٦ ھ میں عمر رضی الله عنہ کو یروشلم کا فتح ہونے کے بعد دورہ کرایا تھا. صوفرونئوس اور انکے شیخ  یوحنا مسکوس نے  شام، مصراور عراق میں راہبوں کی حکایات جمع کی ہیں جن سے ان کے متصوفانہ طرز حیات کا پتا چلتا ہے

درج ذیل اقتباسات کتاب  روحانی باغ  Pratum Sprituale سے لئے گئے ہیں. یہ سب ایک کی کتاب کے نام ہیں یونانی اور لاطینی زبانوں میں لیکن Spritual Meadow  کے نام سے چھپی ہے

اولیاء الله قبروں میں زندہ ہیں

This story was told us by Abba Basil, priest of the monastery of the Byzantines. When I was with Abba Gregory the Patriarch at Theoupolis,  Abba Cosmas the Eunuch of the Larva of Pharon came from Jerusalem. The man was most truly a monk, orthodox and of great zeal, with no small knowledge of the scriptures. After being there a few days, the elder died. Wishing to honour his remains, the patriarch ordered that he should be buried at  a spot  in the cemetery where a Bishop lay. Two days later I came to kiss the elder grave a poor man stricken with paralysis was lying on the top of the tomb, begging alms of those who came into the church. When this poor man saw me making three prostrations and offering the priestly prayer, he said to me: O Abba this was needed a great elder, sir, whom you buried here three days ago. I answered how do you know that. He told me I was paralysed for twelve years and through this elder the Lord cured me. When I am distressed, he comes and comforts me, granting me relief. And you are about to hear yet another strange thing about this elder ever since you buried him at night calling and saying to the bishop Touch me not, stay away, come not near, thou heretic and enemy of Truth and of the holy catholic Church of God. Having heard this from the man cured from his paralysis, I went and repeated it to the patriarch, I besought that most holy man to let us take the body of the elder and lay it in another tomb. Then the patriarch said to me believe me my child Abba Cosmos will suffer no hurt from the heretic. This has all come about that the virtue and zeal of the elder might become known to us after his departure from this world also that the doctrine of bishop should be revealed to us so that we not hold him to have been one of the orthodox[13].

 

یہ کہانی ہمیں ابا باسل ، بازنطینیوں کی خانقاہ کے کاہن نے  سنائی ۔ جب میں تیووپولس میں پیٹرآرک ابا گریگری  کے ساتھ تھا، ابابا کوسمس سرا (عمل زوجیت نہ کرنے کا عھد کیا تھا)  فآران کے لاروا (راہبوں کا مسکن)  کی طرف سے  یروشلیم سے آئے ۔ وہ شخص ، واقعی ایک راہب، راسخ العقیدہ اور کتاب مقدس کا کوئی چھوٹا سے چھوٹا  علم رکھنے والے  جوشیلے انسان تھے ۔ وہاں جانے کے بعد چند دنوں میں وہ  وفات پا گیے ۔ اس کی باقیات کی عزت کرنے کے خواہش مند، پیٹرآرک نے حکم دیا کہ جہاں بشپ  مدفون ہیں وہاں ان کو دفن ہونا چاہیے ۔ دو دن بعد میں ان بزرگ کی  قبر کی زیارت کو آیا تو وہاں ایک فالج زدہ فقیر  قبر پر تھا اور چرچ میں آنے والوں سے بھیک مانگ رہا تھا. جب  اس غریب آدمی نے مجھے تین سجدے کرتے  اور دعا  کرتے دیکھا تو اس نے مجھ سے کہا: اے ابا عظیم بزرگ جسے آپ نے تین دن پہلے یہاں دفن کیا  ان کو اس کی ضرورت تھی ، جناب!  میں نے جواب دیا کہ کس طرح؟ تم کیا جانتے ھو ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ  میں بارہ سال تک مفلوج تھا اس بزرگ کے ذریعے رب عزوجل سے شفاء حاصل ہوئی۔  جب میں خستہ حال ہوتا  ہوں تو وہ آتا ہے اور میری مشکل کشآئی کرتا ہے۔ اور اب آپ انکے بارے میں ایک  دوسری عجیب و غریب بات سننےوالے ہیں جس وقت سے آپ نے ان کو رات کو یہاں دفن کیا ہے یہ پکارتے ہیں بشپ کو کہتے ہیں دور ہو جا، قریب مت آ،  اے بد عقیدہ شخص، تو سچ اور پاک کیتھولک چرچ اور خدا کا دشمن ہے.  اُس فالج سے تندرست ہونے والے آدمی سے سُن کر میں بشپ کے پاس آیا  اور گزارش کی کہ سب سے نیک لوگوں کولے کر بزرگ کو نکالا جائے اور کہیں اور دفن کیا جائے.  ۔ پیٹرآرک نے مجھ کو یقین  دلایا کہ میرے بچے ابا کوسموس ، اس  بدعتی سے کوئی تکلیف برداشت نہ کرے گا ۔ یہ سب  اس لئے ہوا تاکہ ہم ان بزرگ کی فضیلت اور ہمت ان کی وفات کے بعد جان سکیں اور یہ بھی کہ بشپ کے عقیدے کا پتا چلے جو ہم اختیار نہ کریں.

یوحنا مسکوس اور صوفرونئوس نے اسکندریہ کا دورہ کیا جہاں وہ ایک اندھے شخص سے ملے جس نے واقعہ سنایا کہ وہ کس طرح اندھا ہوا

I went into sepulchre and stripped the corpse of its all clothes except for a single shroud. As I was leaving the sepulchre, my evil habits said to me Take the shroud too its worth the trouble. So wretch that I am I turned back and remove the shroud from the corpse, leaving it naked. At which point the dead sat up before and stretched out his hands towards me with his fingers he clawed my face and plucked out both my eyes. I cravenly left all behind and fled from the sepulchre, badly hurt and chilled with horror[14].

میں  قبر کے اندر گیا اور لاش پر سے  کفن کے علاوہ اپنے تمام کپڑے اتارے ۔ میں قبر سے رخصت ہونے والا تھا لیکن افسوس میری بری عادتوں نے مجھ سے کہا کہ کفن بھی لے  اتنی تکلیف اٹھائی ہے ۔ میں  بد نصیب بیچارہ  ! میں واپس لوٹا اور کفن لاش سے اتارا اور لاش کو  ننگا چھوڑ کر ہٹا تومردہ میرے سامنے بیٹھا اور اپنی انگلیوں کے ساتھ میرے کی طرف اپنا  ہاتھ پھیلایا  اور  میری دونوں آنکھیں نِکال دیں ۔ میں سب پیچھے چھوڑ،  قبر سے بھاگا ،  بری طرح نقصان اٹھا  کر  ڈرتا ہوا

 

مردہ بزرگ کی رہنمائی

There was an anchorite in these mountains, a great man in the eyes of God who survived for many years on the natural vegetation which could be found there. He is died in a certain small cave and we did not know, for we imagined that he had gone away to another wilderness place. One night in this anchorite appeared to our present father, that good and gentle shepherd, Abba Julian, as he slept, saying to him, Take some men and go, take me up from the place where I am lying, up on the mountain called the Deer. So our father took some brethren and went up into the mountain of which he had spoken. We sought for many hours but we did not come across the remains of the anchorite. With the passage of time, the entrance to the cave in which he lay had been covered over by shrubs and snow. As we found nothing Abba said Come children Let us go down and just as we were about to return, a deer approached and came to stand still some little distance from us. She began to dig in the earth with her hooves. When our father saw this he said to us believe me children that is where the servant of god is buried. We dug there and found his relics intact [15]

ان پہاڑوں میں ، ایک تارک دنیا راہب   اور خدا کی نگاہ میں عظیم آدمی رہتا تھا جو قدرتی نباتات میں سے جو یہاں پائی  جاتی ہیں پر کئی سال سے  گزر بسر کر رہا  تھا ۔ وہ ایک خاص چھوٹے سے غار میں انتقال کر گئے اور ہمیں پتا نہ چلا،  ہم نے گمان کیا کہ وہ دور بیابان میں کسی اور جگہ پر گئے ہیں  ۔ ایک رات یہ تارک دنیا راہب،  ہمارے موجودہ باپ جو اچھے اور نرم دل  چرواہے ہیں  یعنی ابابا جولین،  کے خواب میں ظاہر ہوۓ اور انہوں نے کہا کہ کچھ آدمی لو اور جاؤ کہ مجھے اس جگہ سے  نکالو، جہاں میں اوپر پڑا ہوں جسے دیر پہاڑ کہتے ہیں۔ سو ہمارے باپ کچھ بھائیوں کو لے کر اس  پہاڑ پر چڑھ گیے جس کی بابت بتایا گیا تھا . ہم نے  کئ گھنٹوں کی کوشش کی لیکن ہم  راہب کی باقیات نہیں کھوج سکے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ، غار کے دروازے پر برف اور جھاڑیوں  کی تہہ آ چکی تھی ۔ جیسا کہ ہم نے   نے راہب کی باقیات بھی تک نہ پائی تھیں ابّا نے کہا آو بچوں واپس چلیں اور ہم واپس جانے ہی والے  تھے کہ ہم سے تھوڑے  فاصلہ پر آ کر ایک ہرن کھڑا ہوا  اور کھروں  سے زمین میں گڑھا کرنا شروع کردیا ۔ جب اس نے یہ کیا تو ابّا جولین نے ہم سے کہا میرے بچوں میرا خیال ہےکہ خدا کا بندہ یہاں دفن ہے. ہم نےوہاں سے کھود اور ان تبرکات کو محفوظ پایا

قبر کو سجدہ گاہ بنانا

Our holy father, Abba George…. told us: When I was about to build the church saint Kerykos at Phasaelis they dug the foundations of the church and a monk, very much an ascetic, appeared to me in my sleep. He wore a tunic of sack-cloth and on his shoulders an over garment made of rushes. In a gentle voice he said to me tell me Abba George Did it really seem just to you, sir, that after so many labour and so much endurance I should be left outside, the church you are building? Out of respect for the worth of the elder, I said to him: who in fact are you, sir? I am Peter the grazer of the Jordan. I arose at dawn and enlarged the plan of the church. As I dug I found his corpse lying there just I had seen him in my sleep. When the oratory was built I constructed a handsome monument in the right hand aisle, and there I interred him[16].

ہمارے پاک باپ ابا جارج.. نے بتایا: جب میں فسیلس میں بزرگ کریکوس کا کلیسا بنانے والا تھا تو اس دوران بنیاد ڈالنے کے لئے کھدائی کی اورایک راہب، کافی حد تک تارک دنیا میرے خواب میں آیا. اس نے ایک پوست بوری کے کپڑے کا زیب تن کیا ہوا تھا اور کندھوں پر جھاڑکا کپڑا تھا. بہت نرم آواز میں وہ گویا ہوۓ  ابّا جارج کیا یہ تم کو حق لگتا ہے کہ جناب اتنے سالوں کی مشقت کے بعد بھی میں اس کلیسا کے باہر پڑا ہوں جس کوآپ بنا رہے ہیں!  میں نے احتراما عرض کیا  آپ درحقیقت کون ہیں؟  بولے میں پطرس ہوں، اردن کا چرواہا. صبح کو میں اٹھا اور کلیسا کا منصوبہ بڑھا دیا. جب میں نے کھودا تو مجھے جسد اسی جگہ ملا جہاں میں نے نیند میں دیکھا تھا. جب عبادت گاہ تیار ہوئی تومیں نے ایک اچھی یادگار سیدھے ہاتھ پر بنائی اور ان کو وہاں دفن کیا

قبر پر چلہ کشی

I have found it written that blessed Leo who become primate of the church of the Romans, remained at the tomb of apostle Peter for forty days exercising himself in fasting and prayer invoking  the apostle Peter to intercede with God fro him that his faults might be pardoned. When forty days were fulfilled, the apostle Peter appeared to him saying I prayed for you, and your sins are forgiven except for those of ordinations. This alone will be asked of you whether you did well, or not, in the ordaining those whom you ordained[17]

مجھے یہ لکھا ہوا ملا کہ بابرکت لیو جو رومن کے کلیسا کے پرائمیٹ بنے ، انہوں نے پطرس رسول کے مزار پر چالیس دن چلہ کشی کی، روزے رکھے اور مسلسل پطرس کو وسیلہ بنانے کی پطرس سے گزارش کرتے رہے کہ گناہ معاف ہوں. چالیس دن پورے ہونے پر پطرس خواب میں آئے اور بولے میں نے تمھارے لئے دعا کی اور تمھارے گناہ بخش دے گئے سوائے وہ جن کا تعلّق نفوذ  سے ہے. ان کا تم سے سوال ہو گا کہ جن کوتم نے نافذ کیا وہ درست تھا یا نہیں

خرقه عطا کرنا

We encountered Abba John the Persian at the Larva of Monidia and told us this about George the Great,  the most blessed bishop of Rome.  I went to Rome at the tomb of most blessed apostles, Peter and Paul. One day when I was standing in the city center the I saw Pope  Gregory[18] was going to pass by. I had it in mind to prostrate  myself before him. The attendants of Pope began saying to me, one by one. Abba, do not prostrate yourself. But I could not understand why they had said that to me, certainly it seems improper for me not to prostrate myself. When the Pope near and perceived that I was about to prostrate myself – the Lord is witness brethren- he prostrated himself down and refused to rise until he got up. He embraced me with great humility handed me three piece of gold, and ordered me to be given a monastic cloth, stipulating that all my needs to be taken care  of. So I glorified God who had given him such humility towards every body, such generosity with alms and such love[19].

 

ہمیں ابّا یوحنا الفارسی ، مونیدیا کے لاروا میں ملے اور ہم کو  روم کے با برکت بشپ ، جورج عظیم کے بارے میں بتایا. انہوں نے بتایا کہ میں روم میں رسل پطرس اور پاول کی قبروں پر گیا. ایک دن جب میں صدر شہر میں کھڑا تھا پوپ گریگوری کو دیکھا جو گزر رہے تھے. میرا ارادہ ان کو سجدہ کرنے کا تھا. پوپ کے کارندے کہنے لگے ایک ایک کر کے، ابّا آپ سجدہ نہ کریں. لیکن میں تو سجدہ  کرنا چاہتا تھا میری سمجھ میں نہیں ا رہا تھا کہ ایسا کیوں؟ اور بلا شبہ یہ میرے لئے مناسب بھی نہ تھا. جب پوپ قریب آئے اور دیکھا کہ میں سجدہ کرنے ہی والا  ہوں،  الله گواہ ہے، پوپ نے خود مجھ کو سجدہ کیا اور اٹھنے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ وہ اٹھے. انہوں نے مجھے گلے لگایا بہت عاجزی سے اور تین سکے سونے کے دیے اور خرقه عطا کرنے کا حکم دیا ور میری ساری ضروریات کا خیال رکھنے کا . لہذا میں  الله کا شکر بجا لایا کہ اس نے پوپ کو اتنی عاجزی، محبت، سخاوت عطا کی

ہر قدم پر سجدہ

When we were in Alexandria we visit Abba Theodoulos who was at the church of Saint Sophia holy wisdom by the Lighthouse. He told us:  It was in the community of our saintly father Theodoulos which is  in the wilderness of the city of Christ our God that I renounced the World there I met a great elder named Christopher, a Roman by race. One day I prostrated myself before him and said of your  charity Abba tell how you have spent your life from youth up I persisted in my request and because he knew I was making it for the benefit of my soul. He told me saying When  I renounced the World child I was full of ardour for monastic way of life. By day I would carefully observe the rule of prayer and at night I would go to pray in the cave where the saintly Theodoulos and the other holy fathers are buried. As I went down into the cave I would make a hundred prostrations to God at each step: there were eighteen steps. Having gone down all the steps, I would stay there until they struck the wood at which time I would come back up for the regular office. After ten years spent in that way with fastings and continence and physical labour, one night I came as usual to go down into the cave. After I had performed my prostrations on each step, as I was about to set foot on the floor of the cave I felt into the trance. I saw the entire floor of the cave covered with  lamps, some of which were lit and some were not. I also saw two men, wearing  mantles and clothed in white, who tended those lamps. I asked them why they had set those lamps out in such way that we could not go down and pray. They replied: These  are the lamps of the fathers. I spoke  to them again: Why some of them lit while others are not?  Again they answered those who wished to do so lit there own lamps. Then I said to them: Of your charity is my lamp lit or not? Pray they said and we will light it. Pray I immediately retorted and what I have been doing until now? With these words I returned to my senses and, and when I turned round, there was not a person to be seen. Then I said to myself Christopher , if you want to be saved,  then yet greater effort is required. At dawn  I left monastery and went to Mount Sinai. I had nothing with me but the clothes I stood up in, after I had spent fifty years of monastic endeavours. There, a voice came to me Christopher, go back to your community in which you fought in the good fight so that you may die with your fathers.[20].

جب ہم اسکندریہ میں تھے تو ہم ابّا تھودولوس سے ملے جو نور مینارکے پاس  سینٹ صوفیا پاک حکمت والے  کلیسا میں تھے. انہوں نے بتایا: میں بزرگ تھودولس جو ہمارے آقا کے شہر کے بیابان میں رہتے ہیں، کی معیت میں تھا، وہاں میں نے دنیا ( کی آسائش) کوخیرباد کہا ، بیٹا اس وقت میں خانقاہی زندگی کے حوالے سے بہت جوش میں تھا. دن میں،  میں بہت لگن سے عبادت کے اصول پر عمل کرتا اور رات میں غار میں جس میں بزرگ تھودولوس اور دوسرے بزرگ دفن ہیں، میں عبادت کرتا. جب میں غار میں اترتا تو میں الله کو ١٠٠ سجدے ہر قدم پر کرتا، کل ١٨ قدم پڑتے تھے.  میں وہی رہتا حتیٰ کہ یہ لوگ لکڑی پر ضرب لگاتے اور میں واپس دفتر اتا.  قریب ١٠ سال اسی طرح صوم و عبادت کی مشقت میں گزارنے کے بعد ، ایک رات میں حسب روایت غار کے فرش پر قدم رکھنے لگا تو میں غرق مکاشفہ ہوا. میں نے دیکھ کہ غار کا سارا فرش دیوں سے  بھرا ہے جس میں سے کچھ جل رہے ہیں  اور کچھ بجھے ہیں . میں نے دو آدمیوں کو بھی دیکھا کہ سفید لباس میں ہیں جو ان دیوں کو لگا رہے ہیں میں نے پوچھا کہ آخر اس طرح کیوں دیے لگانے گئے ہیں کہ ہم اندر جا بھی نہ سکیں؟  انہوں نے جواب دیا کہ یہ دیے بزرگوں کے ہیں . میں نے دوبارہ بات کی: ایسا کیوں ہے کہ کچھ جل رہے ہیں اور کچھ بجھے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جن کو جلانا ہو وہ خود جلاتے ہیں. میں نے پوچھا کہ میرا دیا جل رہا ہے یا بجھا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا عبادت کرو ہم اسکو جلائیں گے. میں نے کہا عبادت! تو بھی تک میں کیا کر رہا تھا؟  اس کے بعد مکاشفہ کی کفیت ختم ہوئی. اور میں نے دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا. پھر میں نے اپنے آپ سے کہا کرسٹوفر، اگر تم نجات پانا چاہتے ہو تو اس سےزیادہ  کاوش چاہیے.  واپس اپنے لوگوں میں جاؤ  جن میں تم (شیطان کی اکساہٹوں سے) لڑو پھر جب مرو گے تو بزرگوں کے ساتھ ھو گے.

بھٹکتے ہوے مسلمان عارفین و متصوفین

کچھ اسی طرح کی حکایات اسلامی صوفی  لٹریچر میں بھی موجود ہیں مثلا طبقات الصوفیہ میں ابراہیم بن ادھم کا تذکرہ

إبراهيم بن أدهم، أبو إسحاق. من أهل بَلْخ كان من أبناء الملوك و المَياسير. خرج متصيِّداً، فهتف به هاتف، أيقظه من غَفْلَتِه. فترك طريقته، في التَّزَيُّن بالدنيا، و رَجَع إلى طريقة أهل الزُّهْد و الورع. و خرج إلى مكة، و صحب بها سفيان الثَّوري، و الفُضَيْل بن عِياض. و دخل الشام، فكان يعمل فيه، و يأكل من عمل يده

Ibrahim bin Adham, Abu Ishaque, from Bulkh, belonged to royal family went out for hunting and heard a voice, woke up from his sleep left the way of worldly adoration, turned towards the way of asceticism and piety and went to Makkah and stayed among people of Sufyan Al-Thori and Al-Fadeel bin Ayaz and entered Syria and acted there and ate (earned)by hand work.

ابو اسحاق ابراہیم بن ادھم بلخی تھے شاہی خاندان سے تعلق تھا.  شکار کے لیے نکلے اور ایک آواز سنی، غفلت سے بیدار ہوۓ ، دنیا کی زینت کا راستہ چھوڑ دیا ، زہد و تقویٰ کی طرف مائل ہوۓ  اور مکہ کی طرف رخ کیا.  امام سفیان ثوری اور امام الفُضَيْل بن عِياض کے ساتھ رہے،  داخل شام  ہوۓ ، پس وہاں کام کیا اور ہاتھ سے کام کیا کھایا ۔

انیس الارواح  از عثمان ہارونی مرتبہ  معین الدین چشتی، ص ١٧، ١٨ پر حکایت لکھی ہے کہ عثمان ہارونی نے

ibraheemBinAdham

اس حکایت میں ضعیفہ ، رابعة العدوية (المتوفی ١٣٥ ھ یا ١٨٥ ھ)  ہیں . انکا مکمل نام   رابعة بنت اسماعيل أم عمرو العدوية ہے. ان کو أم الخير بھی کہا جاتا ہے. یہ دعوی کرتی تھیں کہ یہ الله کی عبادت جنّت حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ الله کی خوشنودی کے لئے کرتی ہیں.  حکایت میں بتایا گیا ہے کہ رابعة ایک اونچے درجے پر تھیں اور ابراہیم بن آدم کے حوالے سے پردۂ غیب کو ہٹا بھی سکتی تھیں.

تصوف میں ایک اور مشھور شخصیت  أبو يزيد البسطامي الأكبر (المتوفی ٢٦١ ھ)  ہیں. ان کا اصلی نام  طيفور بن عيسى  ہے . ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں

وقال أبو عبد الرحمن السلمي أنكر عليه أهل بسطام ونقلوا إلى الحسين بن عيسى البسطامي أنه يقول له معراج كما كان النبي صلى الله عليه وسلم فأخرجه من بسطام

أبو عبد الرحمن السلمي  کہتے ہیں کہ اہل بسطام  ان کا انکار کرتے تھے اور انہوں نے الحسين بن عيسى البسطامي سے نقل کیا کہ یہ کہتا تھا کہ اس کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی طرح معراج ہوئی، پس اس پر اس کو بسطام سے نکالا ملا

 

 ابو طالب المکی (المتوفی ٣٨٦ ھ) کتاب قوت القلوب ص ٤٧٤ میں اس معراج کی تفصیل بتاتے ہیں کہ

أدخلني في الفلك الأسفل فدورني في الملكوت السفلي، فأراني الأرضين وما تحتها إلى الثرى، ثم أدخلني في الفلك العلوي فطوف بي في السموات وأراني ما فيها من الجنان إلى العرش، ثم أوقفني بين يديه فقال لي: سلني أي شيء رأيت حتى أهبه لك، فقلت: ياسيدي، مارأيت شيئاً أستحسنته فأسألك إياه، فقال: أنت عبدي حقّاً

الله نے مجھے (ابو یزید) کو پاتال  کے فلک  میں داخل کیا اور مجھے پاتال کی سلطنت دکھائی، زمینیں اور تحت الثری  دکھایا  پھر الله نے مجھے اوپر کی دنیا کے فلک  میں داخل کیا  اور مجھےآسمانوں سے گذرا اور میں نے دیکھا کہ عرش تک باغات ہیں ۔ پھر مجھے اپنے  سامنے  روکا   اور کہا کہ  جو کچھ تم کو دکھایا ہے اس میں سے مانگو، میں دوں گا ۔ میں نے کہا: اے آقا میں نے ایسا کچھ بھی  نہیں دیکھا جسکی تعریف کرتا اور مانگتا ۔ پس الله نے کہا: تو میرا حقیقی بندہ ہے

الطبقات الصوفیہ ص ٣٦ کے مطابق ابو یزید کہا کرتے تھے

يا رَبُّ! أَفْهِمْني عَنْك، فإنِّي لا أفهمُ عَنْك إلا بِكَ

اے رب مجھے  اپنا آپ سمجھا ، میں تجھ کو سمجھ نہیں سکتا لیکن تیرے ذریعے

اس نے کہا

عرفْتُ اللهَ باللهِ، وعرفْتُ ما دونَ اللهِ بنورِ اللهِ عزَّ وجَلَّ

میں نے الله کو الله سے سمجھا، اور دوسروں کو الله کے نور سے سمجھا

میزان الاعتدال  ج٢ ص٣٤٦  میں ہے کہ اس نے کہا

ما النار لاستندن إليها غدا

آتش (جہنم) کیا ہے، کل نگل جاؤں گا

صوفیاء میں خرقه عطا کرنے کی روایت بہت اہم ہے. لیکن یہ کب شروع ہوئی؟ راحت قلوب میں فرید الدین گنج شکر بتاتے ص ١٣٨ ہیں کہ یہ معراج کے وقت شروع ہوئی

 usmanHaroni

اولیاء الله  کے مزارات پر چلہ کشی کرنے سے غیب دانی بھی ممکن ہے. علی الہجویری کشف المحجوب ص ١٧١ پر لکھتے ہیں

 

mazar

الغرض عقیدے کی وہی خرابی جس میں  نصاریٰ مبتلا تھے، مسلمان مبتلا ہوۓ.   نبی صلی الله علیہ وسلم نے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع بھی کیا تھا لیکن اس فرمان نبوی کو پس پشت ڈال دیا گیا اور نصاری کی طرح مجاورت اور چلہ کشی کی گئی


[1] یحییٰ علیہ السلام نئے ایمان والوں کو دریائے اردن میں غسل اور وضو سکھاتے تھے اس عمل کو انجیل میں بپتسمہ لکھا گیا ہے

[2] The word λόγος (Logos) in John: 1- 4, is translated as Word or Kalimah. Also means cause, reason or speech.

[3] Truth in translation, Accuracy and Bias in English translations of the New Testament by Jason David BeDuhn,  pg 129

[4] Truth in translation, Accuracy and Bias in English translations of the New Testament by Jason David BeDuhn, University Press of America, Inc., 2003; BeDuhn has showed that the correct translation is Word was Divine not the Word was God.  In almost all translation in English for this verse it is said that the Word was God. Christians rendered the meaning to imply the divinity of Jesus and translated it wrongly.  Allah said Jesus is Kalima-tullah i.e. Word of Allah. In Islam that Word means the command of Allah, which indicates His Absolute Power that He created Jesus out of nothing in the womb of Virgin Mary peace be upon her. Allah had created earlier Adam peace be upon him with command as well.

[5] Early Manuscripts and Modern Translation of New Testament by Philip Wesley Comfort, Wipf and Stock Publishers, 1990

[6] http://bibletranslation.ws/trans/johnwgrk.pdf

[7]  الله نے قرآن میں بتایا ہے کہ جب وہ کوئی ارادہ کرتا ہے تو

وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ

اور جب وہ فیصلہ کرتا ہے تو کہتا  ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے

[8] Truth in translation, Accuracy and Bias in English translations of the New Testament by Jason David BeDuhn, pg 129

[9] Arianism is the teaching attributed to Arius (ca. AD 250–336). According to Arius Jesus was created and not present from the very beginning. He was concerned about the relationship of God to the Jesus of Nazareth. Arius asserted that the Son of God was a subordinate entity to God the Father.  Arius was deemed as a heretic by the Ecumenical First Council of Nicaea of 325.

 

[10] کلمہ یا لوگوس ہم معنی ہیں.  یونانی دھرم میں لوگوس سے ساری کائنات تخلیق ہوئی. اس پر فلو  Philo نے اپنی تحریروں میں کھل کر بحث کی ہے اور وہاں سے یہ  ںصرانیوں میں آیا

[11] یسوع کی انسانی اور الوہی نوعیت پر  نسطوریوں کی طرف سے بحث کی گئی ۔ عراق اور فارس میں رہنے والے عیسائیوں کی اکثریت نسطوریوں تھی ۔ نسطوری عقیدہ یا نیسٹوریانسم،  نیسٹوریوس، 428–431 ء قسطنطنیہ کے پیٹرآرک تھے ،  کی طرف سے تجویز کردہ ایک عقیدہ تھا ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یسوع  کی دو فطرتیں ہیں، آدھا انسان اور آدھا خدا ہے

 [12]  حلول  ناسوت میں لاھوت کا ملنا ہے یا سادہ الفاظ میں خدا تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ایک میں اترا ہے ۔ یہ تصور اوتار کے ہندو عقیدے سے الگ ہے کیونکہ اس صورت میں خدا اپنی مخلوق کے درمیان ظاہر ہوں گے ۔ صوفیانہ اسلام میں لاھوت  جذ ب  کی کفیت ہے یعنی

الوہیت  کا مخلوق میں نزول  ہے

[13] Spiritual Meadow (Pratum Sprituale) by John Moschos, published Cistercian  Publications,  pg 31-32

[14] Spiritual Meadow (Pratum Sprituale) by John Moschos, published Cistercian  Publications,  pg 60

[15] Spiritual Meadow (Pratum Sprituale) by John Moschos, published Cistercian  Publications,  pg 67-68

[16] Spiritual Meadow (Pratum Sprituale) by John Moschos, published Cistercian  Publications,  pg 74-75

[17] Spiritual Meadow (Pratum Sprituale) by John Moschos, published Cistercian  Publications,  pg 122

[18] Pope Gregory the Great was Pope of Christians from 590 AD (34 BH) to 604 AD (19 BH). Therefore he was the Pope in the life time of Prophet before our Holy Prophet peace be upon him become Messenger of Allah. After Pope Gregory, Pope Sabinian  took the office of Pope from 604 AD till 606 AD.  Pope Honorious hold office  from (625 AD, 3 AH) till (638 AD, 17AH)

[19] Spiritual Meadow (Pratum Sprituale) by John Moschos, published Cistercian  Publications,  pg 124

[20] Spiritual Meadow (Pratum Sprituale) by John Moschos, published Cistercian  Publications,  pg 82-83

ذون النون المصری (المتوفی ٢٤٥ھ/ ٨٥٩ ع) ایک مشھور صوفی گزرے ہیں. یہ علم کیمیاء گری میں دلچپسی رکھتے تھے  اور نوبیہ ، اخمیم، مصر سے تعلّق رکھتے تھے.  ذون النون المصری پر ہرمس کی تعلیمات اور غناسطیت  کا گہرہ اثر تھا. مثنوی مولانا روم اور کشف المحجوب از علی الھجویری ص ٤٢٠ میں حکایت ہے کہ

 zunnon

ذون النون المصری  کے بارے میں مشھور ہے کہ ان کو فراعنہ مصر کی تحریرات پڑھنے کا شوق تھا. ابن حجر لسان المیزان ج١ ص ٣٦٨ پر لکھتے ہیں کہ

كان أول من تكلم بمصر في ترتيب الأحوال وفي مقامات الأولياء فقال الجهلة: هو زنديق قال السلمي: لما مات أظلت الطيور جنازته انتهى وقال ابن يونس: يكنى أبا الفيض من قرية يقال لها: إخميم وكان يقرأ الخط القديم لقيت غير واحد من أصحابه كانوا يحكون لنا عنه عجائب

یہ وہ پہلے شخص ہیں جس نے احوال اور مقامات اولیاء پر گفتگو کی. الجھلہ نے کہا: یہ زندیق تھا ، سلمی نے کہا: جب یہ مرا تو پرندوں نے اس کے جنازہ پر سایہ کیا. ابن یونس کہتے ہیں اس کی کنیت ابو الفیض ہے اور یہ ایک علاقے سے ہے جسے اخمیم کہتے ہیں اور یہ خط قدیم پڑھ سکتا تھا اور میں اس کے ایک سے زائد لوگوں سے ملا جو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کے پاس  عجیب و غریب باتیں تھیں

 

مروج الذھب میں اسکے بارے میں لکھاہے کہ

قال المسعودي: وأخبرني غير واحد من بلاد أخميم من صعيد مصر، عن أبي الفيض في النون بن إبراهيم المصري الِإخميمي الزاهد، وكان حكيمأ، وكانت له طريقة يأتيها ونحلة يعضدها، وكان ممن يقرأ عن أخبار هذه البرابي ودارها وامتحن كثيراً مما صور فيها ورسم عليها من الكتابة والصور، قال: رأيت في بعض البرابي كتاباً تدبرته، فإذا هو احفروا العبيد المعتقين، والأحداث المغترين والجند المتعبدين، والنبط المستعربين قال: ورأيت في بعضها كتابأ تدبَّرْته فإذا فيه يقدر المقدور والقضاء يضحك وزعم أنه رأى في آخره كتابة وتبينها بذلك القلم الأول فوجدها:

تُدَئر ُبالنجوم ولمستَ تَدْري … ورَب النجم يفعلُ ما يريد

 

المسعودی کہتا ہے: اخمیم، مصر  کے ایک سے زائد لوگوں نے مجھے  أبي الفيض  النون بن إبراهيم المصري الِإخميمي الزاهد  کے بارے میں بتایا کہ یہ فلسفی تھا اور اس کا اپنا ہی طریقہ (مذھب) تھا. … اس نے مصری کھنڈرات کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور یہ ان میں بھٹکتا رہتا تھا اور اس نے  ان تصویروں اور تحریرات کا  معاینہ کیا .. اور میں نے اس پراسکی کتابوں میں بحث دیکھی ہے .. اور یہ لکھا ملا

 

ایک غیر محسوس طرز پر ستاروں سے چھوا گیا میں      اور ستاروں کا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے

ایک زمآنے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ  تصویری تحریرات کا تعلّق ہرمس سے ہے، فہرست ابن ندیم کے مولف کا بھی یہی خیال ہے.  کتاب النجوم الزہرہ فی ملک مصر والقاہرہ میں ابن تغری لکھتے ہیں

إن هرمس المثلث الموصوف، بالحكمة وهو الذي تسميه العبرانيون خنوخ وهو إدريس عليه السلام استدل من أحوال الكواكب على كون الطوفان، فأمر ببناء الأهرام

بے شک ہرمس   المثلث  ، جو حکمت سے موصوف ہے وہی ہے جس کو عبرانی لوگ (یہودی) خنوخ کہتے ہیں اور وہ ادریس علیہ السلام ہیں ، نے سیلاب کی پیشنگوئی ستاروں کو دیکھ کر کی اور اھرام کی تعمیر کا حکم کیا

 مسلمان مورخین کے بقول ہرمس کو المثلث اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس کے بارے میں  مشھور تھا کہ وہ بادشاہ، حکیم اور نبی تھا.[1]

فہرست ابن ندیم کے مولف لکھتے ہیں

زعم أهل صناعة الكيمياء وهي صنعة الذهب والفضة من غير معادنها ان أول من تكلم على علم الصنعة هرمس الحكيم البابلي المنتقل الى مصر عند افتراق الناس عن بابل

فن کیمیا گری والے گمان کرتے ہیں کہ ہرمس ہی وہ حکیم ہے جس نے دوسری دھاتوں کو  سونے اور چاندی میں تبدیل کرنے کا فن ایجاد کیا تھا، بابل سے مصر منتقل ہوا جب وہاں لوگوں میں پھوٹ پڑی

یہ بھی لکھتے ہیں  کہ

هو أبو الفيض ذو النون بن إبراهيم وكان متصوفا وله أثر في الصنعة وكتب مصنفة فمن كتبه كتاب الركن الأكبر كتاب الثقة في الصنعة

وہ هو أبو الفيض ذو النون بن إبراهيم ہے جو صوفی تھا اور اس پر فن کیمیا گری کا اثر تھا اور اس فن میں اس کی کتاب بھی ہے  کتاب الرکن الاکبر جو اس فن کی ایک مستند کتاب ہے

 

یہ واضح ہی کہ ذو النون المصری، کیمیا گری میں اور  فراعنہ مصر کی تحریرات پڑھنے کا شوق رکھتے تھے جن کو ان کے دور میں ہرمس المثلث،  سے منسوب کیا جاتا تھا

نصرانی غناسطیوں کے بہت سے فرقے مصر سے تھے[2] اصل میں یہ اس طرح کی تمام سوچوں کا مرکز تھا. نصرانی تاریخ کے صفحات پر ان کے نظریات کا رد موجود تھا لیکن ان کی تحریروں سے دنیا ١٩٤٥ تک ناواقف تھی. حال ہی میں انکی ایک انجیل بنام تھامس کی انجیل دریافت ہوئی ہے جس کے مطابق تھامس، یسوع کا جڑواں بھائی تھا اس کی ایک آیت ہے[3]

 

When you come to know yourselves, then you will become known, and you will realize that it is you who are the sons of living father. But if you will not know yourselves, you will dwell in poverty (i.e. material world/body)[4]

جب تم اپنے آپ کو جانوں گے ، تو تم پہچانے جاؤ گے اور تم کو پتا چلے گا کہ تم ہی زندہ خدا کے بیٹے ھو. لیکن اگر تم اپنے آپ کو نہ پہچان سکے تو تم (یعنی دنیا میں الجھے رہو گے) فقیری میں رہو گے

عربی میں اسی کفیت کا نام عرفان ہے اور ایک مشھور مقولہ ہے

من  عرف نفسه فقد عرف ربه

جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا

ذون النون المصری ، طبقات الصوفیہ کے مطابق کہتے ہیں

إن العارف لا يَلْزم حالةً واحدةً، إنما يلزمُ ربَّه في الحالاتِ كلِّها

عارف ایک حال پر نہیں رہتا، وہ اپنے رب کو ہر حال میں لازم رکھتا ہے

غناسطی ھومواوسوس یا ہمہ اوست یا وحدت الوجود

 ھومووسوس ὁμοούσιος کی اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے غناسطیوں نے کیا. غناسطی تحریروں میں ھومووسوس کا  لفظ عیسیٰ اور الله کی یک عنصری کی طرف اشارہ کرتا ہے. اس عقیدے سے کیتھولک کلیسا کے مشائخ واقف تھے.   نائی سین  کونسل  میں عیسیٰ کی فطرت کو واضح کرنے کے لئے اس لفظ کا اطلاق کیا گیا. مصنف کے خیال میں ھومووسوس کا لفظ فارسی میں ہمہ اوست بنا  کیونکہ ھومووسوس اور  ہمہ اوست ہم معنی الفاظ ہیں.  عربی متصوفانہ تحریروں میں یہ مفھوم وحدت الوجود سے ادا کیا گیا

الغزالی (المتوفی ٥٠٥ ھ) کے بقول وحدت الوجود، عقیدہ التوحید کا مظہر ہے، وہ الاحیا علوم الدین میں لکھتے ہیں

وليس في الوجود إلا الله تعالى

اور الله کے سوا کوئی وجود نہیں

مزید کہتے ہیں

            الرابعة: أن لا يرى في الوجود إلا واحداً، وهي مشاهدة الصديقين وتسمية الصوفية الفناء في التوحيد، لأنه من حيث لا يرى إلا واحداً فلا يرى نفسه أيضاً، وإذا لم ير نفسه لكونه مستغرقاً بالتوحيد كان فانياً عن نفسه في توحيده

چوتھی بات: کہ کوئی اور وجود نہ مانے سواۓ الله کے، اور یہ صدیقین کا مشاہدہ ہے اوراس کو صوفیا الفناء في التوحيد  کہتےہیں کیونکہ وہ کوئی اور نہیں دیکھتا سواۓ ایک ذات کے، اور جب وہ اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ وہ توحید میں اتنا مستغرق ہوتا ہے کہ گویا اس نے اپنے آپ کو توحید میں فنا کر دیا

محی الدین ابن العربی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ در حقیقت یہ کائنات حقیقی نہیں. ابھی تک یہ خلق بھی نہیں ہوئی.  کائنات ابھی الله کے علم کا حصہ ہے نہ کہ کوئی علیحدہ شے.  لہذا ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ حقیت کا وہم ہے . ان کے فلسفے کے مطابق ہم حقیت کا ادرک نہیں کر سکتے لیکن اس کاعکس دیکھ سکتے ہیں. ابن العربی کے بقول جب بایزید نے کہا[5]

سبحانی ما اعظم شانی

تو ان کا مفہوم بھی یہی تھا. ابن العربی کے بقول الله کے علم میں تنزلات ہوۓ ہیں نعوذباللہ. یہ نظریہ یونانی فلسفی پلوتینس[6]   کے نظریہ صدور  جیسا ہے   جس میں خدا سے صدور ہوتا ہے اور تدریجا یہ پہلے سے ابتر ہوتا چلا جاتا ہے. گویا خدا خلق نہیں کرتا بلکہ اس سے کائنات کا ظہور ہوتا ہے. ظاہر ہے کہ پہلا صدور سب سے خالص اور اصل کے قریب ھو گا. یہی وجہ ہے کہ نصاری میں عیسیٰ کا صدور سب سے پہلے ہوتا ہے اور مسلمانوں میں نبی صلی الله علیہ وسلم کا

تنزلات ستہ

١ حقیت محمّدیہ   لاھوت میں ہے

٢ اعیان  الثابتہ

ان تنزلات کو اسطرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایک بڑھئی ایک کرسی بنانا چاہتا ہے لہذا وہ اسکے بارے میں سوچتا ہے کہ کتنے پائے ہونگے کیا رنگ ھو گا  وغیرہ. اسی طرح الله نے اس کائنات کو بنانے کا ارادہ کیا اور اس کے بارے میں ایک نقشہ اسکے علم میں ہے یہ مرتبہ حقیت محمّدیہ ہے.  اس کے بعد الله نے تفصیلا اس کائنات کے بارے میں خیال کیا تو  اعیان (Aeon) الثابتہ کا مرتبہ آیا یعنی الله اس کو بنانا چاہ رہا ہے. یہ دونوں تنزلات الله کے علم میں ہوۓ یہ الله ہی ہوۓ  کیونکہ فلسفے کے مطابق الله اور اس کی صفات علیحدہ نہیں

 

اگلے چار تنزلات، حقیقت میں ابھی ہوۓ ہی نہیں ہیں ان کو مراتب کونیہ اور امکانیہ کہا جاتا ہے اور ان چار کا اعیان الثابتہ سے صدور ہوا ہے

اعیان الروح

اعیان المثال

اعیان الجسد  ناسوت

اعیان  الانسان

 

شاہ ولی الله نے سطعات میں ابن  العربی کا نام لئے بغیر نظریہ صدور کے مماثل لکھا ہے کہ

اور اس کے صدور کی مثال ہے کہ ہم نے لفظ زید کا ایک انگوٹی پر نقش بنانا چاہتے ہیں  اور ہم نے ابھی تک یہ موم یا مٹی پر نہیں اتارا  ہے ۔ لیکن لفظ  زید کا حسی تصور ہمارے ذہن میں پیدا ہوتا ہے ۔ اور اس کا (یعنی نقش زید کا ذہن میں) وجود انگوٹی کے  (منصوبہ) ساتھ ہی رہے گا  ۔ اور زید کا نقش ،  امر (ایک دوسرا نام) کے لئے نہیں… ..۔ اس کے بعد ہم موم اور مٹی لا کر زید کا نقش موم یا مٹی پر  (اپنے ذہن سے)  منتقل کرتے ہیں  اور اسے فوری طور پرتخلیق کر دیتے ہیں۔ یہ (انگوٹی والا نقش ) مکمل ہو گیا ہے اور یہ (موم یا مٹی پر نقش) عارضی ہے ۔ یہ حالت علم میں ہے اور یہ عالم ظہور میں

ابن العربی، کافی حد تک پلوتینس سے متاثر تھے. ابن العربی کا نظریہ بھی ایسا ہی فلسفیانہ ہے لیکن اسلامی اصطلاحات کے پردے میں.


[1] ہرمس سے متعلق ایک تحریر بنام زمردی کتبہ   معروف ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس میں ساری دنیا کی حکمت کا ایک تہائی لکھا ہے اور اس وجہ سے اس کو المثلث بولتے ہیں. مصنف کے خیال میں ہرمس مصری مذھب رکھتا تھا اور اس کا نہ ادریس سے تعلّق ہے نہ نبوت سے نہ حکمت سے

[2] غناسطیت ایک صوفیانہ مسیحی  تحریک تھی جس کا مرکز مصر میں تھا ۔ ائمۃ  غناسطیت  کے مطابق یسوع ایک ظاہری جسم تھا لیکن قوت کی ایک لہر تھا

[3] Coptic Gospel of Thomas, Nag Hammadi Librray, discovered in 1945

[4] Saying 42, Coptic Gospel of Thomas, From book Lost Chrittianities by  Bart D. Eherman, Oxford University Press, 2003

[5]  فتوحات المکیہ ج ١ص ٢٧٢

[6]  پلوتینس، (ca. 204/5–270 عیسوی) قدیم دنیا کے ایک بڑے فلسفی تھے ۔ ان کی کتاب Enneads  مابعدالطبیعیاتی تحریروں کا مجموعہ ہے ،  جس نے صدیوں کافر، عیسائی، یہودی، اسلامی ، غناسطی  صوفیاء کو متاثر کیا ہے ۔

وحدت الوجود کے نظریے کے پھیلنے کی وجہ سے خالق اور مخلوق کا فرق فنا ھو گیا. راسخ القعیدہ مسلمانوں نے اس کو رد کیا کیونکہ اس سے اسلام اور ہندو دھرم میں تمیز مٹ گئی. اپنے نظریات کے دفاع کے لئے صوفیاء نے ایک نئی اصطلاح وحدت الشہود گھڑی. کہا جاتا ہے کہ اس نظریے کے موجد العلاء الدولہ سمنانی (المتوفی ٧٣٦ ھ) تھے. لیکن درحقیقت یہی بات علی الہجویری   (المتوفی  ٤٦٥ھ) اور عبدالقادر الجیلانی  (المتوفی ٥٦١ ھ) اپنی اپنی کتابوں میں کر چکے ہیں.

ابن العربی کے نزدیک چونکہ  درحقیقت وجود صرف الله کا ہے لہذا یہ سب الله کے علم میں ھو رہا ہے. اس کو توحید شہودی کہہ سکتے ہیں. شہود  یعنی جوبھی نظر اتا ہے وہ الله ہے.  جس طرح انسان اپنے علم میں موجود کوئی بھی بات کسی بھی وقت حاصل کر لیتا ہے اسی طرح انسانوں میں  سے کچھ خاص لوگ، خواص، جن کو اپنی عظمت کا پتا ہوتا ہے ان کو ہر علم حاصل ہوتا ہے حتیٰ کہ  لوح و قلم تک پر جو ہے انکو نظر آ رہا ہوتا ہے.

 اس حالت میں صوفی زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے. اس حالت میں جو مکاشفے ہوتے ہیں ان کی عظمت کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ مجدد الف الثانی (احمد سرہندی) مکتوبات میں لکھتے ہیں

توحید شہودی یہ ہے کہ  ایک ہی ذات کا مشاہدہ ھو، اور حق یہ ہے کہ سالک صرف ایک ذات پر مرتکز رہے

مجدد الف الثانی (احمد سرہندی) المبداء و المعاد میں لکھتے ہیں

sarhindi

اشرف علی تھانوی ، امداد المشتاق میں لکھتے ہیں

ashrafalithanvi

شاہ ولی الله اس کیفیت پر انفاس العارفین میں لکھتے ہیں

 anfas

والد ماجد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ عصر کے وقت میں مراقبے میں تھا کہ غیبت کی کیفیت طاری ہوگئی میرے لئے وہ وقت  چار کروڑسال کے برابر وسیع کر دیا گیا اور اس مدت میں ابتدے آفرینش سے روز محشر تک پیدا ہونے والی مخلوق کے احوال کو مجھ پر ظاہر کر دیا گیا

 

صوفی کا مشاہدہ ہی غیب کا پردہ ہٹانے کے لئے کافی ہے، شاہ ولی الله سطعات میں لکھتے ہیں کہ تجلی ذات ، الله کی طرف سے ہوتی ہے

صوفیاء کو اب منصور حللاج کی طرح لاہوتی ہونے کا دعوی کرنے کی ضرورت نہ رہی. جب دل چاہا لاہوتی بنے اور  جب دل چاہا عام انسان بنے

شاہ ولی الله (المتوفی ١١٧٦ھ )  حجه الله البالغہ میں لکھتے ہیں

اولیاء الله جب مرتے ہیں تو فرشتوں کے ساتھ ضم اور ان میں سے ایک بن جاتے ہیں ۔ پھر (خدا) سے ان کی طرف بھی (فرشتوں کی طرح)  وحی شروع ہوتی ہے  اور وہ ان کی طرح کام کرتے ہیں

راحت القلوب میں فریدالدین گنج شکر لکھتے ہیں کہ

شاید یہی وجہ ہے کہ الغزالی احیا العلوم الدین ج٣ ص ٣٣٨ پر لکھتے ہیں

فاعلم أن هذه غاية علوم المكاشفات. وأسرار هذا العلم لا يجوز أن تسطر في كتاب، فقد قال العارفون: إفشاء سر الربوبية كفر

جان لو کہ علم مکاشفات کا مقصد اور انکے اسرار  کو کسی کتاب میں لکھنا جائز نہیں، پس عارفوں نے کہا ہے ربوبیت کے راز افشاء کرنا کفر ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم نے خبردار کیا تھا کہ مسلمانوں پر ایسا وقت ائے گا جب ایمان اجنبی ھو جانےگا . صحیح مسلم رواہ ابی ہریرہ

بدأ الإسلام غريبا وسيعود كما بدأ غريبا فطوبى للغرباء

اسلام اجنبی بن کر شروع ہوا اور پھر اجنبی نو جائے گا پس خوشخبری ھو جو اسکو قبول کریں

 

بخاری کی روایت ہے کہ ابی سید الخدری رضی الله تعالی عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نہیں اترے گا

یہ وقت شروع ھو چکا!

متصوفین چاہے کسی بھی زمانے ، مذھب اور دھرم کے ہوں ان کا ایجنڈا ایک ہی ہے اور وہ اس ڈگر کو چھوڑنے والے نہیں. اب یہ عقیدے کا تفاوت ختم نہیں کیا جا سکتا. جو خلیج ہے اس کو پاٹا نہیں جا سکتا  لہذا تمہارا عمل تمہارے لئے اور ہمارا عمل ہمارے لئے ہے.  لیکن یہ ضروری ہے کہ جو زندہ رہے وہ حق جان کر زندہ رہے اور جو مرے وہ حق جان کر مرے. لیکن اپنی حد کو پار کرنے کی وجہ سے افسوس

 

فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا

انہوں نے اس کو ایسے ادا نہ کیا جیسا حق تھا

  pdf اسلام میں  متصوفانہ نظریات کی آمیزش  کو جاننے کے لئے کتاب کو اردو یونی کوڈ میں پڑھیے

اس کتاب کو نستعلیق میں ڈاؤنلوڈ کریں

Comments are closed.