عید میلاد النبی

عام الفیل میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی جب ابرہہ حبشی کا لشکر تباہ ہوا اور کعبہ الله بچ گیا رحمت  الہی عرب پر متوجہ ہوئی اور بنی اسمعیل علیہ السلام میں قریش میں عبد المطلب کے پوتے محمد صلی الله علیہ وسلم اس دنیا میں عالم ارواح سے عالم مادی میں آئے

محمّد کے والد نہ تھے عبد المطلب کی خوشی کا عالم تھا  انہوں نے محمّد کو اٹھایا اور شعب ایمان از البیہقی کے مطابق کعبہ کے وسط میں سب سے بڑے بت ہبل پر پیش کیا  اور وسیلہ سمجھتے ہوئے الله کی تعریف کی کہ مالک ارض و سما نے ہبل کے طفیل  ان کو پوتا عطا کیا

عبد المطلب کو پتا نہ تھا کہ یہی بچہ بڑا ہو کر اس ہبل کو توڑ ڈالے گا اور حبل الله کو پکڑنے کا حکم کرے گا

 محمّد صلی الله علیہ وسلم الله کی مخلوق تھے، الله کی طرف سے ہدایت کا  نور ایمان تھے وہ خود ابو البشر آدم کی نسل سے تھے  جن کو نوری مخلوق یعنی فرشتوں نے سجدہ کیا تھا اور یہ نوری مخلوق کا سجدہ ایک خاکی کو تھا تاکہ الله کے انعام پر ناری مخلوق یعنی ابلیس کو آزمائش میں ڈالا جائے

محمّد صلی الله علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنی پیدائش کا دن نہ منایا کیونکہ یہ دین نصاری کی طرح نہ تھا

رسول الله نے حکم دیا کہ دیگر مذہب والوں کی نقل نہ کی جائے یہاں تک کہ بال کی مقدار لباس اور خضاب تک پر حکم دیا کہ کہیں نصاری کی مشابہت نہ ہو لیکن افسوس

اس دین کو رہبان و صوفیاء نے بدل دیا کتاب كتاب النعمة الكبرى على العالم في مولد سيد ولد ادم از ابن حجر المکی کے مطابق

نَمَ١

ابن حجر مکی ١

ابن حجر مکی٤ابن حجر مکی٣٢ابن حجر مکی ٢

لیکن یہ تمام اقوال رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے نہیں ہیں یہ صوفیاء کے اقوال ہیں اور ان کی اسناد تک نہیں اس کتاب کا نسخہ انٹرنیٹ پر ہے

http://hakikatkitabevi.com/Arabic/44-nimatalkubra.pdf

جس کے مطابق یہ اقوال ان کے ہیں

نَمَ٢

غیر مقلدین کے امام  ولی اللہ محدث دہلوی  فیوض الحرمین میں  صفحہ: ٢٧ پر لکھتے ہیں

 ’میں مکہ مکرمہ میں ولادت نبی کے روز مولد مبارک (جہاں آپ کی ولادت ہوئی)، میں حاضر ہوا تو لوگ درود شریف پڑھ رہے تھے اور آپ کی ولادت کا ذکر کر رہے تھے اور وہ معجزات بیان کر رہے تھے جو آپ کی ولادت کے وقت ظاہر ہوئے۔ تو میں نے اس مجلس میں انوار و برکات کا مشاہد ہ کیا، میں نے غور کیا تو معلو م ہواکہ یہ انوار ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس میں مقرر کئے جاتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ انوار ملائکہ اور انوار رحمت آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

اس امت میں بدعات کو مشروع کرنے میں احبار و رہبان کا ہاتھ ہے یہی وجہ ہے کہ کسی حدیث میں مولود نبی کا کوئی قصہ نہیں

میلاد ٥

رسول الله کی موجودگی ہی صحابہ کے لئے ہر لمحہ خوشی تھی لیکن انہوں نے اس پر کیا ہر وقت یا ١٢ تاریخ کو خوشیاں منائیں بلکہ مصطفی صلی الله علیہ وسلم نے کہا اس امت کی دو عیدیں ہیں اپنے دوست ابو بکر کو عید الفطر پر کہا

يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا

اے ابو بکر ہر قوم کی عید ہے اور یہ عید ہماری عید ہے

یہ نہیں کہا کہ میری پیداش کا دن بھی عید ہے

بریلوی فرقہ کی جانب سے دلیل پیش کی جاتی ہے کہ جمعہ عید کا دن ہے اور روایت پیش کرتے ہیں

إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ

لیکن یہ روایت خود امام بخاری کی تاریخ الصغیر کے مطابق معلول ہے اور ضعیف ہے

ابن ماجہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ، جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ»

ابن عباس کہتے ہیں رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا دن عید ہے

اس کی سند کمزور ہے سند میں  صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ  جس کو امام نسائی، امام ابن معین، ابو زرعہ  اور ابن حجر کی جانب سے ضعیف  کہا گیا ہے

دوم جمعہ اگر عید ہے تو عید میلاد کا رسول الله نے ذکر کیوں نہ کیا جبکہ وہ بعض کے مطابق جمعہ سے بھی  اہم ہے

میلاد ٦٥

صحیح بخاری کتاب النکاح میں ایک روایت 5101  میں راوی عروہ بن زبیر کہتے ہیں

وثُوَيْبَةُ مَوْلاَةٌ لِأَبِي لَهَبٍ: كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ، قَالَ لَهُ: مَاذَا لَقِيتَ؟ قَالَ أَبُو لَهَبٍ: لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ

اور ثُوَيْبَةُ ابو لھب کی لونڈی تھیں جن کو ابو لھب نے آزاد کیا پس انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کی رضاعت کی جب ابو  لھب مر گیا تو اس کے بعض گھر والوں نے اس   سے پوچھا کیا حال ہے اس نے کہاجب سے تم کو چھوڑا ہے صرف انگلی برابر پلایا جاتا ہوں جس سے ثُوَيْبَةَ کو آزاد کیا تھا

ابو لھب نے ثُوَيْبَةَ کو رسول الله کو دودھ پلانے پر آزاد کیا تھا نہ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش پر

سلفی عالم ابن تیمیہ جو دمشق کے باسی تھے اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم میں لکھتے ہیں

وكذلك ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصارى في ميلاد عيسى عليه السلام، وإما محبة للنبي صلى الله عليه وسلم، وتعظيمًا. والله قد يثيبهم على هذه المحبة والاجتهاد، لا على البدع- من اتخاذ مولد النبي صلى الله عليه وسلم عيدًا.

اور اسی طرح نبی صلی الله علیہ وسلم کے یوم ولادت کے موقع پر لوگ جو خوشیاں مناتے ہیں عسائیوں سے مشابہت میں کہ جس طرح وہ عیسیٰ کا یوم پیدائش مناتے ہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم میں،  تو الله کی قسم  بے شک ان کو  محبت و اجتہاد پر اجر ہو  گا نہ کہ بدعت کا کہ انہوں نے رسول الله کے مولد کو عید کے طور پر اختیار کیا

شرم کا مقام ہے کہ ابن تیمیہ جو کتاب میں جگہ جگہ عیسائیوں پر شریعت میں اضافہ تنقید کر رہے ہیں ان  کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں اتا اسی کتاب میں ابن تیمیہ اپنے الفاظ کی وضاحت  لکھتے ہیں

فتعظيم المولد، واتخاذه موسمًا، قد يفعله بعض الناس، ويكون له فيه   أجر عظيم لحسن قصده، وتعظيمه لرسول الله صلى الله عليه وسلم

پس  میلاد  رسول الله کی تعظیم اور اس کو بطور تہوار  اختیار کرنا جیسا بعض لوگ کرتے ہیں تو اس میں ان کے لئے اجر عظیم ہے کیونکہ ان کا ارادہ اچھا ہے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم ہے

کہا گیا ہے کہ جس نے بدعتی کی تعظیم کی اس نے اسلام کو ڈھا دیا اور یہاں تو ایک مکمل بدعت کو ہی مشروع کر دیا گیا ہے

معلوم ہوا ٹھویں صدی تک بدعت کی اتنی کثرت تھی کہ نام نہاد سلف کے متببعین میں بھی صحیح اور غلط کی تمیز مٹ چکی  تھی اور تعظیم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مد میں اس کو جائز کر دیا گیا تھا

کتاب اقتضاء الصراط المستقیم پر مقدمہ لکھنے والے وہابی عالم شیخ ناصر العقل لکھتے ہیں

تہوار بھی شریعت کا حصہ ہیں، جس طرح قبلہ، نماز، روزہ وغیرہ ہیں ، اور تہواروں کو صرف عادات نہیں کہا جا سکتا، بلکہ تہواروں کے بارے میں کفار کیساتھ مشابہت اور انکی تقلید زیادہ خطرناک معاملہ ہے، اسی طرح اللہ کے مقرر کردہ تہواروں سے ہٹ کر خود ساختہ تہوار منانا ، “حکم بغیر ما انزل اللہ “کے زمرے میں شامل ہے، بغیر علم کے اللہ کی طرف کسی بات کی نسبت کرنے ، اس پر بہتان باندھنے، اور دینِ الہی میں بدعت شامل کرنے کے مترادف ہے

یعنی وہابی حضرات اپنی بات ابن تیمیہ کے منہ میں ڈال کر تلبیس کے مرتکب ہو رہے ہیں کیا دین میں فراڈ کرنا جھوٹ بولنا تلبیس کرنا منع نہیں ہے جو ابن تیمیہ کی بات میں قطع و برید کر کے کچھ کا کچھ کر دیا ہے بلکہ ان کو اس تہوار کا مخالف کہہ کر جگہ جگہ عید میلاد کے خلاف  ان سے منسوب اقوال نقل کر دے ہیں جبکہ کتاب کے آخر میں وہ عید میلاد مشروع کر کے مرے

سلف  میں سے بعض لوگ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے غلو اختیار کیے ہوئے تھے مثلا کتاب الابانہ الصغری از ابن مندہ میں ہے

abana-sughra-0abana-sughra-2ابن مندہ کہتے ہیں جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی والدہ نے ان کو جنا  تو شام کے محلات روشن ہو گئے

ابن مندہ اسی کتاب میں  دینی امور پر اجرت کو بھی بدعت کہتے ہیں

abana-sughra-3

اور بدعت میں سے ہے اذان ، امامت اور تعلیم القران پر اجرت لینا 

کیا یہ کتب سلف کی نہیں ہیں جو ان کو پیش نہیں کیا جاتا؟

الغرض ہر وہ کام جو نیکی سمجھ کر کیا جائے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جانب سے اس پر حکم نہ ہو رد ہو جاتا ہے

عیسائیوں میں ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ ٧ جنوری کو عیسیٰ کی پیدایش مناتا ہے اور رومن کیتھولک چرچ ٢٥ دسمبر کو

حبشہ کے عیسائیوں میں بھی ٧ جنوری کو میلاد مسیح کا رواج ہے

اس میں جشن منانا شروع سے عیسائی روایت چلی آ رہی ہے

ہندووں میں کرشنا کی پیدائش جنم اشتھمی پر خوشی کی جاتی ہے

مسلمانوں کا سابقہ جب اس قسم کی قوموں سے ہوا تو ان میں بھی اس طرح کا دن بنانے کی خواہش جاگی اور اس کے لئے انہوں نے اپنی طرح سے بودے دلائل گھڑ لیے جو اپ اوپر دیکھ چکے ہیں اگر یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا حکم ہوتا تو حدیث کی کسی کتاب میں اس پر کوئی روایت ہوتی بلکہ یہ عید میلاد النبی  تو روایات گھڑنے کے زمانے کے بھی بعد کی ایجاد ہے،  یہی وجہ ہے کہ اس پر ضعیف  تو چھوڑئیے موضوع روایت تک نہیں

========================================================

عید میلاد النبی پر سوالات ہیں

سوال: کیا نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیداش پیر کو ہوئی؟

جواب

صحیح مسلم کی روایت ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، – وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى – قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ؟

اس میں اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ – أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ
اور پوچھا کہ پیر کا روزہ کیسا ہے ؟ فرمایا اس ہی دن تو میں پیدا ہوا یا فرمایا میری بعثت ہوئی یا قرآن نازل ہوا
—–

کتب حدیث میں تمام کتب میں اس کی سند میں عَبد اللهِ بْن مَعبَد، الزِّمّانِيّ، البَصرِيّ ہے جو ابی قتادہ سے اس کو روایت کرتا ہے
امام بخاری کے نزدیک یہ رویات صحیح نہیں ہیں کیونکہ عبد الله بن معبد الزماني بصری کا سماع ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے
بخاری تاریخ الکبیر میں عَبد اللهِ بْن مَعبَد، الزِّمّانِيّ، البَصرِيّ کے لئے کہتے ہیں
ولا نَعرِفُ سماعه من أَبي قَتادة.
اور ہم (محدثین) نہیں جانتے کہ ابی قتادہ سے اس کا سماع  ہو

سوال : عید میلاد ایک اچھا طریقه ہے اس کا حکم حدیث میں بھی ہے

حضرت جریربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام میں نیک طریقہ ایجاد کیا اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا، اس کے لیے بھی اس پرعمل کرنے والوں کی مثل اجر لکھا جاۓ گا، اور ان کے اجروں میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی ، اور جس نے اسلام میں کسی برے طریقہ کو ایجاد کیا اور اس کے بعد اس پرعمل کیا گیا ، اس کے لیے بھی اس پرعمل کرنے والوں کی مثل گناہ لکھا جائے گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

(مسلم شریف،باب:علم کا بیان، حدیث نمبر:6800، مسلم شریف،باب:زکوۃ کا بیان، حدیث نمبر:2351،
جامع ترمذی،باب:علم کا بیان،حدیث نمبر:2481، سنن ابنِ ماجہ، باب:اس شخص کا بیان جس نے اچھا یا براطریقہ ایجاد کیا، حدیث نمبر:203)

بدعتِ حسنہ کی مثالیں
مندرجہ ذیل میں ان کاموں کا ذکر ہے جو نہ حضور ﷺ کہ زمانے میں اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ زمانے میں تھے۔
کلمہ:
٭ ہر مسلمان چھ کلمے یاد کرتا ہے ۔یہ چھ کلمے ان کی تعداد ان کی ترکیب کہ یہ پہلا کلمہ ہے،یہ دوسرا کلمہ ہے اور ان کے نام ہیں۔سب بدعت ہیں جن کا قرونِ ثلاثہ(صحابہ اور تابعین کا زمانا) میں پتہ بھی نہیں تھا۔
قرآن:
٭ قرآن پر اعراب لگانا۔
٭ اس کی جلد یں تیار کرنا۔
٭ اس کو اردو اور مختلف زبانوں میں ترجمہ و تفسیر کرنا۔
٭ اس پر غلاف چڑھانااور اعلٰی طباعت میں شائع کروانا۔
حدیث:
٭ حدیث کو کتابی شکل میں جمع کرنا۔مثلاً صحاح ِ ستّہ وغیرہ۔
٭ حدیث کی اسناد بیان کرنا۔بخاری ، مسلم، ترمذی ، ابنِ ماجہ وغیرہ ۔
٭ حدیث کی قسمیں بنانا، مثلاً صحیح ، حسن، ضعیف،موضوع وٖغیرہ اور ان کو ترتیب دیناکہ اول نمبر صحیح ہے۔دوم نمبر ضعیف۔پھر ان کے نام مقرر کرنا کہ حرام و حلال چیزیں حدیث صحیح سے ثابت ہوں گی۔ اور فضائل میں ضعیف بھی معتبر ہوگی۔ غرضیکہ سارا فنِ حدیث ایسی بدعت ہے۔ جس کا قرونِ ثلاثہ میں ذکر بھی نہیں نہ تھا۔
نماز :
٭ نماز میں زبان سے نیت کرنا ۔
٭ ہر سال پورے رمضان میں جماعت کے ساتھ بیس تراویح پڑھنا، محفلِ شبینہ یا چند روزہ تراویح میں قرآن مجید مکمل سنانے کا اتنظام کرنا۔
٭ جمہس میں مروجہ خطبہ پڑھنا، اور خطبے سے پہلے تقریر کرنا۔
٭ ہمیشہ نماز کو ایک ہی وقت میں پڑھنا۔ مثلاً ظہر کو ہمیشہ 1:30 پڑھنا۔
روزہ:
٭ روزہ افطار کرتے وقت زبان سے دعا کرنا۔اور سحری کے وقت دعا کرنا۔
زکوۃ:
٭ زکوۃ ادا کرتے وقت تصویر والی کرنسی استعمال کرنا۔

ایمان :
٭ مسلمان کے بچہ بچہ کو ایمانِ مجمل اور ایمانِ مفصل یاد کرایا جاتا ہے۔ ایمان کی دو قسمیں اور ان کے یہ دونوں نام بدعت ہیں۔قرونِ ثلاثہ میں اس کا پتہ نہیں ہے۔
حج:
٭ ریل گاڑیوں، ہوائی جہاز اور موٹر وں کے ذریعہ حج کرنا۔ موٹروں میں عرافات شریف جانابدعت ہے اُس زمانہ پاک میں نہ یہ سواریاں تھیں نہ ان کے ذریعہ حج ہوتا تھا۔
طریقت:
٭ طریقت کے تقریباً سارے مشاغل اور تصوف کے تقریباً سارے مسائل بدعت ہیں مراقبے، چلے، پاس انفاس، تصورِ شیخ، ذکر کے اقسام سب بدعت ہیں۔
چار سلسلے :
٭ شریعت وطریقت دونوں کے چار چار سلسلے یعنی حنفی ، شافعی ، مالکی ، حبنبلی اسی طرح قادری ، چشتی ، نقشبندی، سہروردی یہ سب سلسلے بالکل بدعت ہیں۔ ان میں سے بعض کے تو نام تک بھی عربی نہیں۔ جیسے چشتی یا نقشبندی ، کوئی صحابی ، تا بعی، حنفی ، قادری نہ ہوۓ۔
مساجد:
٭ مساجد میں قرآن مجید اور تسبیح وغیرہ رکھنا ،مینار ، گنبد اور محراب بنوانا۔
دینی مدارس:
٭ دینی مدارس میں درسِ قرآ ن ، درسِ حدیث ، دورہ تفسیرِ قرآن، دورہ حدیث ، ختمِ بخاری شریف یا کوئی دینی تقریب منعقد کرنا۔
٭ دینی مدارس کا قیام اور ان کا نصاب و نظام ۔مثلاً درسِ نظامی کا کورس، اس کا امتحان لیے کا طریقہ ، پھر اسناد کی تقسیم یہ سب بدعت ہیں۔
٭ نام کے ساتھ علامہ ، مفتی ، مفتی اعظیم ، شیخ الحدیث، شیخ القران، حکیمُ امّت وغیرہ جیسے القابات لگانا ، اور مدرسے سے سندِ فراغت حاصل کرنا۔
نکاح نامہ:
٭ نکاح نامے کو تحریری شکل دینا۔
سئہ روزہ:
٭ لوٹے اور بستر سمیت تبلیغی سئہ روزہ یا چلاّ لگانا۔
٭ سالانہ تبلیغی اجتماع کرنا اور اس میں لوگوں کو جمع کرنا۔
اذان:
٭ لاؤد اسپیکر پر اذان دینا۔

جواب

ان میں بہت سی بدعات ہیں اور بہت سی سہولتیں ہیں جن کا اجراء نیکی میں آسانی کے لئے کیا گیا ہے مثلا
قرآن پڑھنا نیکی معلوم ہے اس میں عجمیوں کی آسانی اور لحن کا مسئلہ نہ ہو اعراب لگائے گئے لہذا یہ سہولت ہے
لاوڈ اسپیکر بھی سہولت ہے کہ یہ خطبہ کی اور اذان کی آواز لوگوں تک پہنچا دیتا ہے
احادیث کی تقسیم بھی علم تک پہچنا ہے جو اصلی قول نبی کی تلاش ہے اور رسول الله کی حدیث دوسرے تک پہنچانا نیکی معلوم ہے
اس طرح سہولت قرار دے کر ان کی تعبیر کی جاتی ہے

تصوف یقینا ایک بدعت ہے یہ رهبانیت ہے

ایسی نیکی جس کو نبی صلی الله علیہ وسلم کر سکتے تھے لیکن نہیں کیا وہ بدعت ہے مثلا دور نبوی میں گاڑی نہیں ریل نہیں لحن کا مسئلہ نہیں ضعیف احادیث نہیں لہذا بعد میں علم میں سچ کو اور صحیح کو برقرار رکھنے کے لئے کسی طریقہ کو رائج کرنا بدعت نہیں ہے
عید میلاد نبی صلی الله علیہ وسلم کر سکتے تھے لیکن نہیں کی لہذا یہ بدعت ہی ہے

 

Comments are closed.