شب برات

شعبان کی رات کی آمد آمد ہے ، جو ایک بہت ہی اہم راتوں کی طرح سمجھی جاتی ہے – اس کا احترم بالکل لیلة القدر  کے طور پر کچھ لوگ کرتے ہیں ۔ وہ رات کو نماز اور کچھ رات کے بعد دن میں روزے رکھتے ہیں ۔ اس رات كے وقت كے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پندرہ شعبان کی رات ہے – جبکہ احادیث میں نصف شعبان کا لفظ ہے اور اسلامی مہینے ضروری نہیں کہ ٣٠ دن کے ہوں وہ ٢٩ دنوں کے بھی ہو سکتے ہیں ۔ ان روایات پر عمل کرنے والوں  کے ایک مفتی ، مفتی تقی عثمانی کتاب شب برات کی حقیقت میں لکھتے ہیں

Shabebarat

اسی طرح ماہنامہ دار العلوم جون ٢٠١٥ میں ایک مضمون میں اس کا ذکر ہے

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/02-Mah%20Shaban%20Shabe%20Barat_MDU_06_June_15.pdf

دیکھتے ہیں کہ یہ روایات کس قدر صحیح ہیں

عائشہ رضی الله عنہا سے منسوب روایت

  ترمذی روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا   نے  فرمایا کہ  میں نے اللہ کے رسول (صلی الله علیہ وسلم ) کو ایک رات کے دوران نہ پایا – اور ان کو البقیع میں پایا (یعنی عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا  ، نبی صلی الله علیہ وسلّم کو تلاش کرتے ہوے مدینه سے باہر قبرستان پہنچ گئیں ) ۔ (نبی صلی الله علیہ وسلم ) انہوں نے کہا کہ: آپ ڈر رہی تھیں کہ اﷲ اور اس کے رسول آپ کے ساتھ نا انصافی کریں گے میں (عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا ) نے کہا: اللہ کے رسول، میں نے سوچا کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کے پاس چلے گیئے ۔(رسول) نے کہا: بیشک اﷲ، بزرگی و عظمت والا ، شعبان کی درمیانی رات میں دنیا کے آسمان سے نیچے آتا ہے اور (بنو)کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ گناہ معاف فرما دیتا ہے

 عام طور پر مقرّرین نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے حوالے سے اپنی تقریروں میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں لیکن امام ترمذی کے تبصرے کو حذف کر جاتے ہیں جسس میں وہ کہتے ہیں کہ

عائشہ بنت ابی بکر کی روایت (کے بارے  میں ) ابو عیسیٰ (امام  ترمذی ) نے کہا کہ، ہم اس کو  اس واسطه  سے  ہی  جانتے  ہیں  حجاج   کی سند  سے –   اور میں  نے  امام محمد  یعنی  امام  بخاری  سے سنا  کے یہ  حدیث  کمزور  ہے  – یحییٰ  بن ابی  کثیر  نے عروہ سے نہیں سنا ہے اور حجاج بن  ارطاہ نے    یحییٰ  بن ابی  کثیر سے نہیں  سنا

حجاج  بن ار طا ة  المتوفي ١٤٩ هجره ، بصره  میں  قاضی  تھا  اور  اس  کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ  پہلا  قاضی  ہے  جس  نے  رشوت  لی – یہ  عباسی خلیفہ  المہدی  کا   منظور  نظر  تھا -المھدی  کے  دور  میں  بر امکه  خاندان  بہت  اثر  رکھتا  تھا  اور  چراغاں  کرنے  کا  ان  کو  بہت  شوق  تھا – اس  خاندان  نے  بنوامیہ  کا  تختہ  الٹنے  میں  بنو  عباس  کی  مدد  کی  تھی  اور  اس  کا  تعلق  پارس  سے  تھا جو  آتش پرستوں  کا  مسکن  رہا  ہے

اسی طرح کی دیگر روایات مسند احمد اور صحیح ابن حبان میں بھی بیان ہوئی ہیں

وأما حديث عائشة فيرويه حجاج عن يحيى بن أبي كثير عن عروة عنه مرفوعا  بلفظ : ” إن الله تعالى ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا، فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب

 أخرجه الترمذي (1 / 143) وابن ماجه (1389)  واللالكائي (1 / 101 / 2) وأحمد (6 / 238) وعبد بن حميد في ” المنتخب من المسند

اور جہاں تک عائشہ کی حدیث ہے اس کو روایت کیا ہے حجاج نے یحیی بن ابی کثیر سے  انہوں نے عروہ سے موفوعا ان الفاظ سے کہ

بے شک الله تعالی نازل ہوتے ہیں ١٥ شعبان کی رات آسمان دنیا پر پس وہ بنو کلب کی بھیڑوں کے برابر مغفرت کرتے ہیں

البانی السلسلۃ الصحیحۃ، ج:٣، ص:١٣٥۔١٣٨۔ ١٣٩ میں کہتے ہیں
وجملة القول أن الحديث بمجموع هذه الطرق صحيح بلا ريب والصحة تثبت بأقل منها
عددا ما دامت سالمة من الضعف الشديد كما هو الشأن في هذا الحديث، فما نقله
الشيخ القاسمي رحمه الله تعالى في ” إصلاح المساجد ” (ص 107) عن أهل التعديل
والتجريح أنه ليس في فضل ليلة
النصف من شعبان حديث صحيح، فليس مما ينبغي
الاعتماد عليه، ولئن كان أحد منهم أطلق مثل هذا القول فإنما أوتي من قبل
التسرع وعدم وسع الجهد لتتبع الطرق على هذا النحو الذي بين يديك. والله
تعالى هو الموفق.

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث بلاشبہ ان تمام طرق کی بنا پر صحیح ہے اور حدیث کی صحت ان شواہد کی تعداد سے کم بھی ثابت ہوجاتی ہے جب تک وہ شدید ضعف سے دوچار نہ ہو، جیسا کہ یہ حدیث ہے پس شیخ القاسمی نے نقل کیا ہے اصلاح المساجد میں اہل جرح و تعدیل سے کہ نصف شعبان سے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے پس یہ قول قابل اعتماد نہیں ہے اور اگر کوئی اس قول کا اطلاق کرتا ہے تو وہ ہیں جنہوں ے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان میں محنت معدوم ہے کہ اس رستے پر جاتے جو اب اپ کے سامنے ہے

یہ البانی صاحب کا کہنا ہے اس طرح انہوں نے الصحیحہ 1144   اور 1563   میں ١٥ شعبان کی رات کی روایت کی تصحیح کر دی ہے

سن ١٩٨٥ میں خطیب تبریزی کی کتاب مشكاة المصابيح کی تحقیق میں البانی نے اس کو ضعیف کہا

پھر ضعیف سنن الترمذی میں اس کو ضعیف کہا

(ضعيف – ابن ماجه 1389 (برقم 295 والمشكاة 1299 الصفحة 406، ضعيف الجامع الصغير 1761)

لیکن ١٩٩٥ میں اس سب سے رجوع کیا اور الصحیحہ میں واپس اس روایت کو صحیح قرار دیا

یہ حال ہے غیر مقلدین کا –  بر صغیر میں بریلویوں کی مخالفت میں یہ بدعت ہے اور عرب میں خالص سنت

راقم کہتا ہے البانی غیر مقلد کا قول باطل اور تحقیق تناقص سے بھرپور ہے

عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے منسوب  روایت

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا حسن ثنا بن لهيعة ثنا حيي بن عبد الله عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يطلع الله عز و جل إلى خلقة ليلة النصف من شعبان فيغفر لعباده الا لاثنين مشاحن وقاتل نفس

 نصف شعبان کی رات الله تعالیٰ انسانوں کو معاف کرتا ہے سواے قاتل نفس کے اور وہ جن کے درمیان کشیدگی ہو

مسند احمد میں امام احمد نے ہر طرح کا رطب و یابس بھر دیا ہے – ان کا سارا زور ایک ضخیم مسند لکھنے پر ہی رہا ہے اور مسند میں کسی بھی روایت کی نہ تصحیح ہے نہ تضعیف ہے لہذا اس کی روایت ضرورری نہیں کہ صحیح ہوں

مسند احمد کی عبدللہ بن عمر و والی روایت میں عبدللہ ابن لہیہ ہے جو انتہائی ضعیف راوی ہے

 عبدللہ  ابن   لهيعة  المتوفي ١٧٤ هجري،  عباسی  خلفاء کے  منظور  نظر  رہے  ہیں

 معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے منسوب  روایت

صحیح ابن حبان کی روایت ہے کہ معاذ بن جبل روایت کرتے ہیں کہ

الله کے نبی نے فرمایا کہ الله اپنی مخلوق میں سے آگاہ ہوتا ہے شعبان کے وسط کی رات میں تاکہ وہ اپنی مخلوقات کو بخش دے علاوہ تمام مشرک اور ایک ( دوسرے مسلمان کی طرف) کینہ رکھنے والے کے
صحیح ابن حبان کی اس روایت کا امام دار قطنی نے اپنی کتاب علل میں تعقب کیا ہے یعنی روایات میں عیوب سے متعلق تحققیق کے بعد فیصلہ دیا ہے کہ اس روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے – ابن حبان علم حدیث میں فراخ دل سمجھے جاتے ہیں لہذا وہ بسا اوقات مجھول راویوں کو بھی ثقہ قرار دے دیتے ہیں – ان کی جرح مانی جاتی ہے لیکن ان کی تصحیح پر اختلاف رہا ہے – امام دار قطنی جو لگ بھگ ابن حبان کے قریب دور کے ہیں وہ اس روایت کو مضطرب قرار دیتے ہیں

صحیح ابن حبان پر تعلیق میں البانی نے اس کو

حسن ـ ((التعليق الرغيب)) (3/ 282 ـ 283) , ((الصحيحة)) (1144). قرار دیا ہے

 عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِب رضی الله عنہ سے منسوب  روایت

ابن ماجہ کی روایت ہے

 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ

علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم  نے فرمایا جب شعبان کی نصف شب ہوتو رات کوقیام کرواوردن کوروزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پرنازل ہوجاتی ہے اوراللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ‘ہے کوئی مغفرت کاطلب کرنے والاکہ میں اسے بخش دوں‘ ہے کوئی رزاق مانگنے والاکہ میں اس کورزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں‘یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتارہتاہے۔

اس کی سند میں حدیثیں گھڑنے والا ، أبو بكر بْنِ عَبد اللَّهِ بْنِ مُحَمد بن أبي سبرة مديني  ہے جو تاریخ بغداد کے مطابق  قاضی بغداد تھا

 أبي موسى الأشعري رضی الله عنہ سے منسوب روایت

حدثنا راشد بن سعيد بن راشد الرملي حدثنا الوليد عن ابن لهيعة عن الضحاك ابن أيمن عن الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزب عن أبي موسى الأشعري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الله ليطلع في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن حدثنا محمد بن إسحق حدثنا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار حدثنا ابن لهيعة عن الزبير بن سليم عن الضحاك بن عبد الرحمن عن أبيه قال سمعت أبا موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه.

تحقيق الألباني:حسن، المشكاة (1306 – 1307) ، الظلال (510) ، الصحيح (1144 و 1563) ، الرد على بليق (92

ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”اللہ تعالى پندرہویں شب مطلع ہوتے ہیں اوراپنی ساری مخلوق ماسوائے مشرک اوربغض رکھنے والے کی مغفرت فرماتے ہیں

اس کی سند میں ابن لهيعة  ہے جو سخت ضعیف ہے  دوم الضحاك بن أيمن الكلبى ہے جو مجھول ہے حیرت ہے کہ البانی اس کو حسن کہہ رہے ہیں

 عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ سے منسوب روایت

بیہقی کی کتاب شعب الایمان کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّيَاحِيُّ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ صُبَيْحٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ نَادَى مُنَادٍ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ، هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ فَلَا يَسْأَلُ أَحَدٌ شَيْئًا إِلَّا أُعْطِيَ إِلَّا زَانِيَةٌ بِفَرْجِهَا أَوْ مُشْرِكٌ

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کا ارشاد ہے‘جب نصف شعبان کی  شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کے گناہ بخش دوں‘ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں۔اس وقت اللہ تعالیٰ سے جومانگاجائے وہ ملتاہے۔وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔سوائے بدکارعورت اورمشرک کے

شعب الایمان للبیہقی‘ جلد 3صفحہ383

اس کی سند میں جامع بن صَبِيح  ہے جس کے لئے لسان المیزان میں ہے کہ یہ ضعیف ہے
ذكره عبد الغني بن سعيد في المشتبه وقال: ضعيف

 ابو بکر صدیق رضی الله عنہ سے منسوب روایت

بیہقی ،  شعب الإيمان میں ابو بکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ  الْأَصَمُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، وَأَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، عَنْ جَدِّهِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” يَنْزِلُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِكُلِّ شَيْءٍ إِلَّا رَجُلٍ مُشْرِكٍ أَوْ فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ

دارقطنی ، موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله  کہتے ہیں کہ مصعب بن أبي ذئب  متروک ہے

 قال البَرْقانِيّ: سَمِعْتُ الدَّارَقُطْنِيّ يقول مصعب بن أبي ذئب، عن القاسم بن محمد، مدني، متروك

بیہقی جو ایک صوفی قسم کے انسان تھے انہوں نے کتاب  شعب الإيمان میں اس طرح کی روایات نقل کی ہیں اور اس بدعت کو پھیلانے میں کوئی دقیقه نہیں چھوڑا حتی کہ امام احمد اور

 امامشافعی سے منسوب اس رات کے حوالے سے بے سند اقوال تک نقل کر ڈالے ہیں

یہ تو صرف چند روایات ہیں – ضعیف روایات کا اک انبار ہے پندرہ شعبان کی رات کے حوالے سے جن پر دفتر کے دفتر بھرے جا سکتے ہیں – سوال یہ ہے کہ آخر اک اتنی اہم رات امام بخاری اور امام مسلم سے کیسے پوشیدہ رہ گئی کہ صحیحہیں میں اس رات کا عندیہ تک نہیں ملتا – بقیہ کتب اربعہ یعنی سنن ابی داود ، سنن نسائی ، جا مع الترمذ ی، سنن ابن ماجہ میں ہی کیوں یہ روایات جگہ پا سکیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ صحیح کے معیار کی روایات صرف امام بخاری اور امام مسلم نے ہی لکھیں ہیں بقیه نے سب طرح کی روایات جمع کیں – امداد زمنہ کے ساتھ لوگوں نے صحاح ستہ کی اصطلاح ایجاد کر لی اور یہ تصور کر لیا کہ بقیہ چار کتب میں بھی صحیح روایات ہیں

امام  بخاری  تو  روایت  کرتے  ہیں  کہ  الله تبارک و تعالیٰ  تو  ہر  رات  کو  آسمان  دنیا  پر  آتا  اور  پکارتا  ہے  کہ  کون  ہے  جو  توبہ  کا  طلب گار  ہے  لہذا  اب  پندرہ  شعبان  کی  کیا   اہمیت  رہ  جاتی ہے ؟ ذرا  سوچیے

مجوسیوں نے عربوں سے پہلے اپنا کلینڈر بنایا جس کو اوستا کلینڈر یا تقویم پارسیان بھی کہا جاتا ہے- اس میں سال کا آغاز ورنل اقونوقص (الاعتدال الربيعي) سے شروع ہوتا ہے

 اور اس کو نو روز کہا جاتا ہے اور موسم بہار کا آغاز ہوتا ہے – عباسی خلافت کا پہلا نو روز  سن ٧٥١ ع میں ١٧ مارچ میں آتا ہے

Vernal Equinox

http://www.timeanddate.com/calendar/seasons.html?year=750&n=751

Eqvinox

اسلامی کلینڈر میں یہ دن  شعبان ١٤ سن ١٣٣ ہجری   ہے لہذا  اسی روز  الاعتدال الربيعي ہوتا ہے

http://www.islamicfinder.org/dateConversion.php?mode=ger-hij&day=17&month=3&year=751&date_result=1

قرین قیاس ہے کہ عباسی خلیفہ السفاح کے مجوسی ہمدردوں کو خوش کرنے کے لئے نوروز کی تقریبات رات بھر کی گئیں – رات میں  مسلمانوں کو عبادت میں مشغول کر دیا گیا اور آتش پرست رات بھر جشن مناتے رہے – روایات کے متکلم فیہ راوی حجاج بن ارطاہ اور عبدللہ ابن لھیعہ بھی اس دور میں رہے ہیں اور السفاح اور المنصور کے مدح سرا تھے

ورنل اقونوقص (الاعتدال الربيعي) کی تقریبات میں شرکت اس قدر اہم تھی کہ قدیم فارسی بادشاہ کمبوجيه  دوم کو نوروز کی تقریب میں شرکت کے بعد ہی بادشاہ تسلیم کیا گیا

http://en.wikipedia.org/wiki/Nowruz

اس تاریخ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب یہ واضح ہوتا ہے کہ عباسی خلافت کا یہ پہلا نو روز ہے

خالد بن برمك بن جاماس،  عباسی خلیفہ السفاح کے خاص وزیر تھے یہ مجوسی تھے لیکن فصيح اللسان  تھے حتی کہ السفاح  ان کو شروع میں عرب سمجھتے رہے – انہی سے  البرامكة  خاندان چلا ہے جو عباسی بیوروکریسکی میں بہت اثر رکھتا تھا  لہذا ان کو أبى  البرامكة   کہا جاتا ہے – یہ خاندان بلخ کے آتش کدہ النوبهار  البوذى کا   پروہت تھا اور اہل مجوس پر اس کا بہت اثر تھا

– یہ خاندان  مسلمان ہوا اور ہارون رشید کے دور میں بھی اثر رکھتا تھا- کتاب الموسوعة الموجزة في التاريخ الإسلامي کے مطابق   خالد بن برمك  کو السفاح نے سن ١٣٢ھ ہجری میں ديوان الخراج وديوان الجند کا قلمدان دیا

اس خاندان کے اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے،  پہلے نوروز پر عباسی خلافت میں جشن منایا جانا قرین قیاس ہے

خکومت کے قاضیوں اور اماموں کی ڈیوٹی میں یہ شامل کر دیا گیا کہ نصف شعبان کی رات کی اہمیت بتائیں

عباسی خلافت میں عہدہ متکلم فیہ راوی صحابی یا صحابیات
إمام المسجد الجامع دمشق عتبة بن حماد أبو خليد  القارئ الحكمي مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
قاضی البصرة الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَائِشَةَ
قاضي مصر ابن لهيعة عبد الله بن عمرو
قاضي مصر ابن لهيعة أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ
قاضی بغداد أبو بكر بْنِ عَبد اللَّهِ بْنِ مُحَمد بن أبي سبرة علی

متروک اور جھوٹ بولنے والے راویوں کو چھوڑ کر، اسی طرح مرسلات یا منقطع روایات کو چھوڑ کر   اگر روایات کو دیکھیں تو وہ صرف پانچ صحابہ یا صحابیات سے مروی ہیں  جو ایسے راویوں نے بیان کی ہیں جو عباسی خلفاء کے منظور نظر حضرات تھے اور یہ تمام اس قدر مظبوط راوی نہیں کہ امت میں اس رات کی فضیلت کو پھیلایا جائے

السفاح کو جھوٹی روایات سے شاید کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ، وَظُهُورٍ مِنَ الْفِتَنِ، رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: السَّفَّاحُ، فَيَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا

 عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ المتوفی ٢٠١ ھ ،  ابی سعید الخدری سے روایت کرتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانے کے اختتام پر فتنوں کے ظہور میں ایک شخص جس کو السفاح کہا جائے گا مال بھر بھر دے گا

 عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قاضی بغداد اور المہدی کی فوج کے بھی قاضی تھے لیکن حدیث میں سخت مجروح ہیں ایسے درباریوں کوعباسی خلفاء خاص پسند کرتے تھے لہذا ان کو عہدے بھی دیے

بہرالحال اس بدعت کو بڑھوتی ملتی گئی کیونکہ امت میں زہد اور عبادت میں ضعیف روایات کو قبول کیا گیا جو ایک غلط عمل تھا اور بیہقی جسے صوفی منش لوگ بھی اس کے لئے رطب و یابس اکھٹا کرتے رہے

صوفی تو صوفی خود سلف کے نام نہاد متبع بھی ان بدعات میں مشغول رہے

مجموع الفتاوى  میں ابن تیمیہ کا فتوی ہے

وَسُئِلَ
عَنْ صَلَاةِ نِصْفِ شَعْبَانَ؟
فَأَجَابَ
إذَا صَلَّى الْإِنْسَانُ لَيْلَةَ النِّصْفِ وَحْدَهُ أَوْ فِي جَمَاعَةٍ خَاصَّةٍ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ طَوَائِفُ مِنْ السَّلَفِ فَهُوَ أَحْسَنُ. وَأَمَّا الِاجْتِمَاعُ فِي الْمَسَاجِدِ عَلَى صَلَاةٍ مُقَدَّرَةٍ. كَالِاجْتِمَاعِ عَلَى مِائَةِ رَكْعَةٍ بِقِرَاءَةِ أَلْفٍ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} دَائِمًا. فَهَذَا بِدْعَةٌ لَمْ يَسْتَحِبَّهَا أَحَدٌ مِنْ الْأَئِمَّةِ. وَاَللَّهُ أَعْلَمُ.

اور سوال ہوا نصف شعبان کی نماز پر؟ پس جواب دیا

اگر ایک انسان اکیلے نصف شعبان میں نماز پڑھے یا جماعت کے ساتھ خاص جیسا کہ سلف کرتے تھے تو یہ احسن ہے اور جہاں تک مساجد میں اجتماع کا تعلق ہے کہ سو رکعات والی نماز پڑھتے ہیں جس میں ہزار دفعہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھتے ہیں تو یہ بدعت ہے جس کی ائمہ نے تحسین نہیں کی

کتاب اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم  میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں

ومن هذا الباب: ليلة النصف من شعبان، فقد روى في فضلها من الأحاديث المرفوعة والآثار ما يقتضي أنها ليلة مفضلة (6) وأن من السلف من ان يخصها بالصلاة فيها، وصوم شهر شعبان قد جاءت فيه أحاديث صحيحة. ومن العلماء: من السلف (1) من أهل المدينة، وغيرهم من الخلف، من أنكر فضلها، وطعن في الأحاديث الواردة فيها، كحديث: «إن الله يغفر فيها لأكثر من عدد شعر غنم كلب» (2) “. وقال: لا فرق بينها وبين غيرها.
لكن الذي عليه كثير من أهل (3) العلم، أو أكثرهم، من أصحابنا وغيرهم -على تفضيلها، وعليه يدل (4) نص (5) أحمد، لتعدد (6) الأحاديث الواردة فيها، وما يصدق ذلك من الآثار السلفية، وقد روي بعض فضائلها في المسانيد والسنن (7) . وإن كان قد وضع فيها أشياء أخر.

اور اس نصف شعبان کے باب میں تو اس کی فضیلت پر بہت سے مرفوع آثار ہیں جن سے نتیجہ نکلتا ہے کہ اس رات کی فضیلت ہے اور سلف میں سے کچھ تھے جنہوں نے نماز کے لئے اس رات کو مخصوص کیا ہوا تھا اور اس میں روزہ رکھتے اور اس پر صحیح احادیث ہیں اور سلف میں سے علماء  میں سے مدینہ کے اور دوسرے تھے جنہوں نے اس رات کا انکار کیا اور ان احادیث پر طعن کیا جو اس سلسلے میں آئیں ہیں جیسے حدیث کہ الله بنو کلب کی بھیڑوں کے بال برابر معاف کرتا ہے  اور کہا کہ اس رات میں کسی دوسری رات کے مقابلے پر کوئی فرق نہیں ہے لیکن اہل علم کی اکثریت نے جو ہمارے اصحاب میں سے ہیں اور دیگر نے اس کی فضیلت مانی ہے اور اس پر دلیل دی کہ امام احمد کی کہ تعداد احادیث سے اور تصدیق ہوئی آثار سلف سے اور ان کو روایت کیا سنن و مسانید میں 

آٹھویں صدی کے سلفی امام ابن تیمیہ بھی خود اس بدعت کا شکار تھے اور اس میں نماز پڑھنے والوں کو کہتے تھے کہ اچھا عمل کیا

الله سب کو صحیح عمل کی توفیق دے

کتب شیعہ میں نصف شعبان کی رات کا تذکرہ

وسائل الشيعة (آل البيت) – الحر العاملي – ج 3 – ص 335

باب استحباب غسل ليلة النصف من شعبان . ( 3804 ) 1 – محمد بن الحسن ، عن جماعة ، عن أبي محمد هارون بن موسى ، عن الحسين بن محمد الفرزدق القطعي ، عن الحسين بن أحمد المالكي ، عن أحمد بن هلال ، عن محمد بن أبي عمير ، عن حماد بن عثمان ، عن أبي بصير ، عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) قال : صوموا شعبان واغتسلوا ليلة النصف منه ، ذلك تخفيف من ربكم ورحمة (

نصف شعبان کی رات غسل کا مستحب ہونا

أبي بصير ، أبي عبد الله ( عليه السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ شعبان میں روزہ رکھو اور نصف شعبان کی رات غسل کرو یہ تمہارے رب کی جانب سے کمی اور رحمت ہے

حماد بن عثمان الکوفی المتوفی  ١٠٩ ھ  سے سننے والا  محمد بن أبي عمير ہے- شیعہ کتب میں اس کو محمد بن أبي عمر ( أبي عمرة ) ( أبي عمير) کہا گیا ہے لیکن معجم رجال الحدیث از امام الخوئی  ج ١٥ ص ٢٨٧ تا ٢٩٠ کے مطابق یہ مجھول راوی ہے

 وسائل الشيعة (آل البيت) – الحر العاملي – ج 7 – ص ٤٧٨ باب استحباب احياء ليلتي العيدين والاجتماع يوم عرفة بالأمصار للدعاء ( 9903 ) 1 – محمد بن علي بن الحسين في ( ثواب الأعمال ) عن محمد بن إبراهيم ، عن محمد بن عبد الله البغدادي ، عن يحيى بن عثمان المصري ، عن ابن بكير ، عن المفضل بن فضالة ، عن عيسى بن إبراهيم ، عن سلمة بن سليمان ، عن هارون بن سالم ، عن ابن كردوس ، عن أبيه قال : قال : رسول الله صلى الله عليه وآله من أحيا ليلة العيد وليلة النصف من شعبان لم يمت قلبه يوم يموت القلوب .

ابن كردوس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و الہ نے فرمایا جس نے عید کی رات اور نصف شعبان کی رات کو زندہ کیا وہ نہیں مرے گا، قبل اس دن کے، جس میں دل مر جائیں گے

اس کی سند میں هارون بن سالم  مجھول ہے معجم رجال الحدیث از الخوئی  میں اس کا ذکر تک نہیں

 وسائل الشيعة (آل البيت) – الحر العاملي – ج 8 – ص 59 – 60

باب تأكد استحباب صلاة جعفر ليلة نصف شعبان ، والاكثار فيها من العبادة خصوصا الذكر والدعاء والاستغفار ( 10089 ) 1 – محمد بن علي بن الحسين في ( عيون الأخبار ) : عن محمد بن بكران النقاش ومحمد بن إبراهيم بن إسحاق جميعا عن أحمد بن محمد الهمداني ، عن علي بن الحسن بن علي بن فضال ، عن أبيه قال : سألت علي بن موسى الرضا ( عليه السلام ) عن ليلة النصف من شعبان ؟ فيه الرقاب من النار ، ويغفر فيها الذنوب الكبار ، قلت : فهل فيها صلاة زيادة على سائر الليالي ؟ فقال : ليس فيها شئ موظف ولكن إن أحببت أن تتطوع فيها بشئ فعليك بصلاة جعفر بن أبي طالب ، وأكثر فيها من ذكر الله والاستغفار والدعاء ، فان أبي ( عليه السلام ) كان يقول : الدعاء فيها مستجاب قلت

إن الناس يقولون : إنها ليلة الصكاك ، قال : تلك ليلة القدر في شهر رمضان

 نماز جعفر نصف شعبان کی رات میں تاکید اور اس میں ذکر دعا اور استغفار کا بیان

الحسن بن علي بن فضال نے امام علي بن موسى الرضا ( عليه السلام ) سے نصف شعبان کی رات سے متعلق سوال کیا ؟ اس میں گردن آگ سے آزاد ہوتی ہیں اور بڑے گناہ بخشے جاتے ہیں- میں نے پوچھا: کیا اس میں عام راتوں سے زیادہ نماز ہے؟ پس کہا اس میں زور نہیں لیکن اگر چاہو تو نماز جعفر پڑھ لو اور بہت ذکر دعا اور استغفار کرو کیونکہ امام جعفر کہتے تھے اس میں دعائیں قبول ہوئی ہیں اور لوگ کہتے ہیں یہ ليلة الصكاك ہے جبکہ وہ تو رمضان میں ہے

سند میں علي بن الحسن بن علي بن فضال ہے- کتاب معجم رجال الحدیث از الخوئی کے مطابق

  قال النجاشي : ” علي بن الحسن بن علي بن فضال بن عمر بن أيمن مولى  عكرمة بن ربعي الفياض أبو الحسن ، كان فقيه أصحابنا بالكوفة ، ووجههم ،  وثقتهم ، وعارفهم بالحديث ، والمسموع قوله فيه . سمع منه شيئا كثيرا ، ولم يعثر له

على زلة فيه ولا ما يشينه ، وقل ما روى عن ضعيف ، وكان فطحيا ، ولم يرو عن أبيه شيئا ، وقال : كنت أقابله وسني ثمان عشر سنة بكتبه ، ولا أفهم إذ ذاك الروايات ولا أستحل أن أرويها عنه ، وروى عن أخويه ، عن أبيهما

 یہ کوفہ کے فقیہ ہیں اور ان کے ثقات میں سے ہیں اور حدیث کے جاننے والے ہیں … انہوں نے اپنے باپ سے روایت نہیں کیا .. اور یہ مناسب نہیں کہ  انہوں نے ان سے روایت کیا ہو اور یہ اپنے بھائیوں سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے

 معلوم ہوا سند منقطع ہے

   وسائل الشيعة (آل البيت) – الحر العاملي – ج 8 – ص 110

وعن سعد بن سعد ، عن الرضا ( عليه السلام ) قال : كان علي ( عليه السلام ) لا ينام ثلاث ليال : ليل ثلاث وعشرين من شهر رمضان ، وليلة الفطر ، وليلة النصف من شعبان ، وفيها تقسم الأرزاق والآجال وما يكون في السنة

 امام رضا کہتے ہیں کہ علی تین راتوں کو نہیں سوتے تھے ٢٣ رمضان کی رات، عید الفطر کی رات ، نصف شعبان کی رات

قال النجاشي :  سعد بن سعد بن الأحوص بن سعد بن مالك الأشعري القمي : ثقة ، روى عن الرضا وأبي جعفر عليهما السلام

 سعد بن سعد بن الأحوص بن سعد بن مالك الأشعري القمي امام ابی جعفر الباقر المتوفی ٥٧ ھ  اور امام رضا المتوفی ٢٠٣ ھ  دونوں سے روایت کرتے ہیں ایسی روایات اہل سنت ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہیں جس میں سند ہی منقطع ہو

وسائل الشيعة (آل البيت) – الحر العاملي – ج 8 – ص 109

ورواه الصدوق في كتاب ( فضائل شعبان ) : عن عبدوس بن علي الجرجاني ، عن جعفر بن محمد بن مرزوق ، عن عبد الله بن سعيد الطائي ، عن عباد بن صهيب ، عن هشام بن جبار ، عن الحسن بن علي بن أبي طالب ( 1 ) ( عليه السلام ) قال : قالت عايشة – في آخر حديث طويل في ليلة النصف من شعبان : إن رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) قال : في هذه الليلة هبط على حبيبي جبرئيل ..

 الصدوق نے  کتاب فضائل شعبان میں روایت کیا ہے کہ الحسن بن علي بن أبي طالب  ( عليه السلام ) نے عايشة سے روایت کیا جس میں طویل حدیث میں نصف شعبان کا ذکر ہے کہ بے شک رسول الله صلی الله علیہ و اله نے کہا اس رات میں  جبریل آئے اور ایک مخصوص نماز کا حکم دیا

اس کی سند میں هشام بن جبار کا کسی شیعہ کتب رجال میں ذکر نہیں

امام اپنے عالم الغیب ہونے کے باوجود کہیں بھی یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ امام المہدی کا یوم پیدائش ہے بلکہ عباسیوں کی طرح اس  کی فضیلت بتا رہے  ہیں – سندا ایک بھی روایت صحیح نہیں

شیعہ امام المہدی کی پیدائش اور شعبان

شرح أصول الكافي – مولي محمد صالح المازندراني – ج 6 – ص 227 کی روایت ہے
الحسين بن محمد الأشعري ، عن معلى بن محمد ، عن أحمد بن محمد بن عبد الله قال : خرج عن أبي محمد ( عليه السلام ) حين قتل الزبيري لعنه الله : هذا جزاء من اجترأ على الله في أوليائه ، يزعم أنه يقتلني وليس لي عقب ، فكيف رأى قدرة الله فيه ، وولد له ولد سماه « م ح م د » في سنة ست وخمسين ومائتين .
.احمد بن محمد بن عبد الله کہتے ہیں امام ابی محمد نکلے جب الزبیری کا قتل ہوا……. اور کہا  کہ  کیسے الله کی قدرت دیکھتے ہیں کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام ہو گا م ح م د جو سن ٢٥٦ ھ میں ہو گا

کتاب أعيان الشيعة – السيد محسن الأمين – ج 2 – ص 44 کے مطابق
ولد المهدي ع ليلة النصف من شعبان سنة خمس وخمسين ومائتين بسر من رأى في أيام المعتمد
المہدی کی پیدائش نصف شعبان میں سن ٢٥٥ ھ میں سر من رای میں عباسی  خلیفہ المعتمد  کے دور میں ہوئی

الذھبی  سير أعلام النبلاء میں ترجمہ  المُنْتَظَرُ أَبُو القَاسِمِ مُحَمَّدُ بنُ الحَسَنِ العَسْكَرِيُّ میں  لکھتے ہیں

وَكَانَ مَوْتُ الحَسَنِ: سَنَةَ سِتِّيْنَ وَمائَتَيْنِ

امام الحسن بن علی کی موت سن ٢٦٠ ھ میں ہوئی

معروف یہ ہے کہ امام المہدی والد کی وفات کے بعد پیدا ہوئے

یعنی پیدا ہوتے ہوتے سن ٢٦٠ ھ سے بھی اوپر جا چکا تھا

الذھبی کہتے ہیں  مورخ مُحَمَّدُ بنُ جَرِيْرٍ الطَّبرِيُّ  اور امام ابن حزم  اور يَحْيَى بنُ صَاعِدٍ کے مطابق امام الحسن کی کوئی اولاد نہیں ہوئی

کتاب وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان از ابن خلکان کے مطابق

وذكر ابن الأزرق في ” تاريخ ميافارقين ” أن الحجة المذكور ولد تاسع شهر ربيع الأول سنة ثمان وخمسين ومائتين، وقيل في ثامن شعبان سنة ست وخمسين، وهو الأصح

ابن الازرق نے کتاب تاريخ ميافارقين میں ذکر کیا ہے امام الحجہ یعنی المہدی سن ٢٥٨ ھ میں 9 ربیع الاول کو پیدا ہوئے اور کہا جاتا ہے 8 شعبان کو سن ٢٥٦ ھ میں جو اصح ہے

قارئیں آپ دیکھ سکتے ہیں امام المہدی کا سن پیدائش واضح نہیں اسی طرح مہینہ پر بھی اختلاف ہے

Comments are closed.