قیصر روم کے بعد

ایک روایت بیان کی جاتی ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ قیصر روم کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہو گا –  اس کو تین اصحاب رسول سے منسوب کیا گیا ہے جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابو سعید الخدری رضی الله عنہ سے

کسری شاہ فارس  تھا اور قیصر بازنیطی رومی سلطنت کا حاکم  کا ٹائٹل تھا

Heraclius (Herakleios) was emperor of the Byzantine Empire from 610 to 641 CE.

مسئلہ : اس روایت کا متن شاذ و منکر ہے – قیصر روم  ہرقل کے بعد بھی متعدد قیصر آئے ہیں البتہ كسرى بن هرمز دور نبوی میں مر گیا پھر کوئی کسری نہ ہوا بلکہ اس کی بیٹی ملکہ بنی پھر وہاں بغاوت ہوئی اور ایک جنرل  ان کا حاکم بنا- دور عمر میں اصحاب رسول نے فارس فتح کیا اور ان کے خزانے مسلمانوں نے لئے – قیصر روم ہرقل کا خزانہ مسلمانوں کو نہ ملا قیصر زندہ رہا اور طبعی موت مرا اس کے بعد بھی متعدد قیصر حاکم ہوئے

جابر بن سمرہ رضی الله کی سند

صحيح بخاري اور مسند احمد ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ جَرِيرًا، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ  لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
عبد الملک بن عمير کہتا ہے جابر رضي الله عنہ نے کہا نبي صلي الله عليہ وسلم نے فرمايا : جب کسري ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئي کسري نہيں ہو گا اور جب قيصر ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئي قيصر نہ ہو گا – اور وہ جس کے ہاتھ ميں ميري جان ہے تم ان کے خزانے نکالو گے

اس طرق میں عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ کا تفرد ہے اور یہ مختلط ہو گئے تھے لہذا اس میں احتمال ہے کہ یہ دور اختلاط کا ذکر ہے

ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی سند
صحيح بخاري ميں ابو ہريرہ رضي الله عنہ کي سند سے ہے
حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي  نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ  بِيَدِهِ، لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

مسند إسحاق بن راهويه میں ہے
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زِيَادٍ، مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَهَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

ابو داود طیالسی میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ»

مسند البزار میں ہے
وحَدَّثَنا إبراهيم بن نصر حَدَّثَنا عمرو أَخْبَرنا شعبة , عن يعلى بن عطاء , عن أبي علقمة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا هلك كسرى فلا كسرى , وإذا هلك قيصر فلا  قيصر بعده.

ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے اس روایت کو ان راویوں نے نقل کیا ہے
الأَعْرَجِ
سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ
زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ
أبي علقمة

ابو ہریرہ رضی الله عنہ بعض اوقات کعب الاحبار کی خبر کو بھی اس طرح بیان کرتے تھے کہ سننے والا سمجھ بیٹھتا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دی گئی خبر ہے

کتاب التمييز( ص /175 ) کے مطابق امام مسلم نے بسر بن سعيد کا قول بیان کیا
حَدثنَا عبد الله بن عبد الرَّحْمَن الدَّارمِيّ ثَنَا مَرْوَان الدِّمَشْقِي عَن اللَّيْث بن سعد حَدثنِي بكير بن الاشج قَالَ قَالَ لنا بسر بن سعيد اتَّقوا الله وتحفظوا من الحَدِيث فوَاللَّه لقد رَأَيْتنَا نجالس أَبَا هُرَيْرَة فَيحدث عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن كَعْب وَحَدِيث كَعْب عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
بكير بن الاشج نے کہا ہم سے بسر بن سعيد نے کہا : الله سے ڈرو اور حدیث میں حفاظت کرو – الله کی قسم ! ہم دیکھتے ابو ہریرہ کی مجالس میں کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے اور وہ (باتیں) کعب ( کی ہوتیں) اور ہم سے کعب الاحبار ( کے اقوال) کو روایت کرتے جو حدیثیں رسول الله سے ہوتیں

احمد العلل میں کہتے ہیں

وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا أبو أسامة، عن الأعمش. قال: كان إبراهيم صيرفيا في الحديث، أجيئه بالحديث. قال: فكتب مما أخذته عن أبي صالح، عن أبي هريرة. قال: كانوا يتركون أشياء من أحاديث  أبي هريرة. «العلل» (946) .

احمد نے کہا ابو اسامہ نے کہا اعمش نے کہا کہ ابراھیم النخعي حدیث کے بدلے حدیث لیتے – وہ حدیث لاتے – اعمش نے کہا : پس انہوں نے لکھا جو میں نے ابو صالح عن ابو ہریرہ سے
روایت کیا – اعمش نے کہا : ابراھیم النخعي، ابوہریرہ کی احادیث میں چیزوں کو ترک کر دیتے

ابن عساکر نے تاریخ الدمشق میں روایت دی کہ

الثوري، عن منصور، عن إبراهيم، قال: ما كانوا يأخذون من حديث أبي هريرة إلا ما كان حديث جنة أو نار

ابراھیم النخعي نے کہا ہم ابو ہریرہ کی احادیث کو نہیں لیتے سوائے اس کے جس میں جنت جہنم کا ذکر ہو

ابو سعید الخدری کی سند
المعجم الصغير از طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ التَّمَّارُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى , وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِي، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبَانَ إِلَّا ابْنُ الْأَجْلَحِ تَفَرَّدَ بِهِ مِنْجَابٌ

اس کی سند عطیہ العوفی کی وجہ سے ضعیف ہے

راقم کا گمان ہے کہ روایت ابو ہریرہ نے سب سے پہلے بیان کی جو کعب الاحبار کا قول تھا لوگ اس کو حدیث نبوی سمجھ بیٹھے اور پھر عبد الملک بن عمیر نے اختلاط کے عالم میں اس کو جابر بن سمرہ سے منسوب کر دیا

کعب الاحبار ایک سابقہ یہودی تھے اور کعب کی زندگی میں  ہرقل کے خلاف یہود نے بغاوت کر دی تھی اس تناظر میں یہ معمہ حل ہو جاتا ہے کہ اس بغاوت پر کلام  ہوا ہو گا اور اس کو حدیث رسول سمجھا جانے لگا –

نحمیاہ  اور بن یامین نام کا دو  یہودی جنرل فارسی لشکر کو لے کر ہرقل سے لڑ  رہے تھے

Nehemiah ben Hushiel

Benjamin of Tiberias

روایت کی تاویل

نووي نے شرح صحيح مسلم ميں لکھا ہے
قَالَ الشَّافِعِيُّ وَسَائِرُ الْعُلَمَاء: مَعْنَاهُ لَا يَكُونُ كِسْرَى بِالْعِرَاقِ، وَلَا قَيْصَرُ بِالشَّامِ كَمَا كَانَ فِي زَمَنِهِ – صلى الله عليه وسلم – فَعَلَّمَنَا – صلى الله عليه وسلم – بِانْقِطَاعِ مُلْكِهِمَا فِي هَذَيْنِ الْإِقْلِيمَيْنِ
امام الشافعي اور تمام علماء کہتے ہيں کہ رسول الله صلي الله عليہ وسلم کا مطلب تھا کہ کسري عراق پر نہ ہو گا اور قيصر شام پر نہ ہو گا وہ جو رسول الله کے دور ميں تھے – پس ہم کو علم ديا  کہ ان دونوں کي آقاليم کا انقطاع ہو جائے گا

ابن حبان صحيح ميں کہتے ہيں
قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ» أَرَادَ بِهِ بِأَرْضِهِ، وَهِيَ الْعِرَاقُ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرُ بَعْدَهُ» يُرِيدُ بِهِ بِأَرْضِهِ وَهِيَ الشَّامُ، لَا أَنَّهُ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَلَا قَيْصَرُ

رسول اللہ صلي الله عليہ وسلم کے قول کہ جب کسري ہلاگ ہو گا تو کوئي کسري بعد ميں نہ ہو گا ان کا مقصد عراق کي زمين تھا اور رسول الله کا قول کہ جب قيصر ہلاک ہو گا تو کوئي اور نہ ہو گا تو اس سے مراد ارض شام تھي نہ کہ يہ کہ کسري يا قيصر ہي نہ ہوں گے

مشکل الاثار ميں امام طحاوي کہتے ہيں
قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ تَأْوِيلِ هَذَا الْحَدِيثِ فَأَجَابَنِي بِخِلَافِ هَذَا الْقَوْلِ وَذَكَرَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ” إذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ “، قَالَ فَهَلَكَ كِسْرَى كَمَا أَعْلَمَنَا أَنَّهُ سَيَهْلِكُ فَلَمْ يَكُنْ  بَعْدَهُ كِسْرَى، وَلَا يَكُونُ بَعْدَهُ كِسْرَى إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ مَعْنَى قَوْلِهِ: ” إذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ” إعْلَامًا مِنْهُ إيَّاهُمْ أَنَّهُ سَيَهْلِكُ وَلَمْ يَهْلِكْ إلَى الْآنَ , وَلَكِنَّهُ هَالِكٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَخُولِفَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ كِسْرَى فِي تَعْجِيلِ هَلَاكِ كِسْرَى وَتَأْخِيرِ هَلَاكِ قَيْصَرَ لِاخْتِلَافِ مَا كَانَ مِنْهُمَا عِنْدَ وُرُودِ كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا. قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ميں نے احمد بن ابي عمران سے اس حديث کي تاويل پوچھي تو جواب ديا … ہميں معلوم ہے کہ کسري ہلاک ہوا تو اس کے بعد کوئي کسري نہ ہوا اور نہ قيامت تک ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس قول کہ  جب قيصر ہلاک ہو گا تو کوئي قيصر نہ ہو گا کا مطلب ہے کہ يہ علامت ہے کہ يہ ہلاک ہو گا اور يہ ابھي تک نہيں مرا ہے ليکن يہ ہلاک ہو گا قيامت سے پہلے اور اس کے اور کسري کے درميان  خلاف کيا کہ کسري پہلے ہلاک ہو گا اور قيصر کي ہلاکت دير سے ہو گي

قال الخطابي: معناه: فلا قيصر بعده يملك مثل ما يملك
خطابی نے کہا کہ قیصر ایسی حکومت نہ کر پائے گا جیسی کرتا تھا

امام ابو حنیفہ کی آراء
قال أبو حنيفة اترك قولي بقول الصحابة الّا بقول ثلثة منهم أبو هريرة وانس بن مالك وسمرة بن جندب رضی الله عنهم
روضة العلماء ونزهة الفضلاء (المخطوطة) – علي بن يحيى بن محمد، أبو الحسن الزندويستي الحنفي (المتوفى: 382هـ) میں
امام ابو حنیفہ نے کہا میرا قول صحابہ کے قول کے مقابل ہو تو اس کو ترک کر دو سوائے تین اصحاب کے ایک ابو ہریرہ دوسرے انس بن مالک اور تیسرے سمرہ بن جندب
اس کی وجہ ابو حنیفہ بتاتے ہیں
فقيل له في ذلك، فقال: أما انس: فقد بلغني أنه اختلط عقله في آخر عمره، فكان يستفی من علقمة، وأنا لا أقلد علقمة، فكيف اقلد من يستفی من علقمة. واما أبو هريرة فكان يروي كل ما بلغه وسمعه من غير أن يتأمل في المعنی ومن غير أن يعرف الناسخ والمنسوخ. واما سمرة بن جندب، فقد بلغني عنه أمر ساءني، والذي بلغه عنه أنه كان يتوسع في الاشربة المسكرة سوی الخمر فلم يقلدهم في فتواهم. اما في ما رووا عن رسول الله صلی الله عليه وسلم، فياخذ برواتهم؛ لأن كل واحد منهم موثوق به في ما يروي.
https://archive.org/stream/hanafi_04_201507/01#page/n181/mode/2up
صفحه 183 – 186 جلد 01 شرح أدب القاضي للخصاف الحنفي (المتوفى: 261هـ) عمر بن عبد العزيز ابن مازة الحنفي المعروف بالصدر الشهيد (المتوفى: 536هـ)- وزارة الأوقاف العراقية – مطبعة الإرشاد، بغداد
ان سے اس پر پوچھا گیا تو ابو حنیفہ نے کہا : جہاں تک انس ہیں تو مجھ تک پہنچا ہے کہ آخری عمر میں وہ اختلاط کا شکار تھے پس علقمہ سے پوچھتے اور میں علقمہ کی تقلید نہیں کرتا تو پھر اس  کی کیوں کروں جو علقمہ سے پوچھے اور جہاں تک ابو ہریرہ ہیں تو یہ ہر چیز بیان کر دیتے ہیں جو پہنچی اور سنی ہو اس کے معنی پر غور کیے بغیر اور نہ ناسخ و منسوخ کو سمجھتے ہوئے

المحيط البرهاني في الفقه النعماني فقه الإمام أبي حنيفة رضي الله عنه از أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد بن عبد العزيز بن عمر بن مَازَةَ البخاري الحنفي (المتوفى: 616هـ) میں ہے
ابو حنیفہ نے کہا .. اصحاب رسول کی تقلید ہو گی سوائے انس اور ابو ہریرہ اور سمرہ کے کہ … انس آخری عمر میں مختلط تھے اور علقمہ سے پوچھتے تھے

اس بحث سے معلوم ہوا کہ روایت متنا صحیح نہیں

لوگوں نے اس روایت کی تاویل کی ناکام کوشش کی ہے اور قیصر کی حکومت کو شام تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس کی حکومت  بابل شام اور قسطنطنیہ ترکی سے لے کر یورپ تک تھی – صرف دور نبوی میں فارسیوں کو ایلیا  یا بیت المقدس یا یروشلم پر مختصر مدت کے لئے غلبہ ملا جس کا ذکر سورہ روم میں ہے  لیکن رومی چند  سال میں  غالب ہوئے اور ایلیا بیت المقدس میں قیصر روم ہرقل جنگی معاملات کو دیکھنے آیا اور اسی دور میں ابو سفیان رضی الله عنہ سے اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے سوالات کیے – مسلمانوں نے شام میں اس  کی مملکت کو کم کیا لیکن ترکی اور یورپ تک قیصر ہرقل کی حکومت بر قرار رہی  اور اس کے خزانے مسلمانوں کو نہ ملے

Posted in Uncategorized | Leave a comment

بعد وفات انبیاء کا حج کرنا

وہابی اور اھل حدیث اور ڈاکٹر عثمانی کی تنظیم کے موحد علماء کا کہنا ہے کہ نبی علیہ السلام بعد وفات بریلویاں کے گھر انڈیا پاکستان میں نہیں اتے – راقم اس قول سے متفق ہے اور اتنے دن سے رو رہا ہے کہ انبیاء کے حوالے سے جو بیان کیا جاتا ہے کہ  قبروں  میں  نماز پڑھتے ہیں ایک منکر روایت ہے – یہاں تک کہ اعصاب شکن ہوئے جب وہابی عالم مشہور حسن سلمان وہابی عالم کا فتوی دیکھا کہ  انبیاء نہ صرف  قبروں میں زندہ ہیں بلکہ  یہاں تک کہ آج کل بھی  حج  کرتے ہیں

https://ar.islamway.net/fatwa/31129/هل-يصلي-الأنبياء-في-قبورهم-وكيف-يكون-ذلك
السؤال 256: قرأت في كتاب “أحكام الجنائز” لشيخنا رحمه الله، حديثاً عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم عن سؤال الملكين للمؤمن في قبره: ((…. فيقال له اجلس وقد دنت له الشمس وقد آذنت للغروب، فيقال له: أرأيت في هذا الذي كان فيكم ما تقول فيه؟ ماذا تشهد عليه؟ فيقول: دعوني حتى أصلي، فيقولان إنك ستفعل)) فقال الشيخ الألباني معلقاً على هذا الحديث: صريح في أن المؤمن يصلي في قبره، وذكر حديثاً {أن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون}، ما صفة هذه الصلاة، هل هي كصلاتنا أم ما هي صفتها؟
الجواب: الله أكبر، المؤمن في قبره لما يأتيه الملكان عقله وقلبه متعلق بالصلاة، فيقول للملائكة: دعوني حتى أصلي، ثم اسألوني، وهكذا شأن المؤمن.
والكلام على دار البرزخ، ودار البرزخ قوانينها ليست كقوانين الدنيا، ولها قوانين خاصة، والروح والبرزخ أشياء لا تدرك بالعقل ولا يجوز أن تخضع للمألوف، فعالم البرزخ العقل يبحث فيه عن صحة النقل فقط، فإن كان صحيح نقول يصلي، وكيف يصلي؟ لا ندري، والأنبياء لهم حياة في قبورهم، وكيف هذه الحياة، لا نعرفها، فهذا خبر في عالم الغيب، ليس للعقل إلا أن يتلقى ويبحث عن الصحة، فإن صح الخبر نقول: سمعنا وأطعنا.
وبهذا نرد على المفوضة وعلى الذين ينكرون صفات الله فإذا كان الإنسان نفسه عندما ينتقل من دار لدار العقل يتوقف، فكيف نعطل صفات ربنا عز وجل بحجة أنها تشبه صفات الخلق؟ فنحن نثبت صلاة للأنبياء وللمؤمن في القبور، بل نثيت حجاً وعمرة للأنبياء، كما جاء في صحيح مسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى موسى يحج في المنام ورؤيا الأنبياء حق، فنثبت ما ورد فيه النص ونسكت ونعرف قدر أنفسنا ولا نزيد على ذلك، ولا يوجد أحد ذهب لعالم البرزخ فجاء فأخبرنا وفصل لنا والعقل لا يدرك والنص قاضٍ على العقل، والله أعلم…

حسن مشہور سلمان نے جواب دیا : … دار البرزخ کے قوانین الگ ہیں  … انبیاء کی حیات قبر کی ہے لیکن کیسی ہے پتا نہیں ہے  ہم نہیں جانتے یہ عالم الغیب کی خبر ہے … اور المفوضہ انکار کرتے ہیں  ہم  (وہابی) اس کا اثبات کرتے ہیں کہ انبیاء (بعد وفات)  اور مومن قبروں میں نماز پڑھتے ہیں اور ہم اس کا بھی اثبات کرتے ہیں کہ انبیاء (بعد وفات) حج  و عمرہ کرتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں اتا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے نیند میں موسی کو دیکھا کہ وہ حج کر رہے ہیں اور انبیاء کا خواب  حق ہے  پس ہم اثبات کرتے ہیں جو نص میں آیا

راقم کہتا ہے حدیث میں موسی یا یونس علیہما السلام کا حج کرنے کا جو ذکر ہے وہ ان کی زندگی کی خبر ہے لیکن وہابیوں نے اس حدیث کو بعد وفات کی طرف موڑ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انبیاء قبروں سے نکل کر  میقات کی حدود میں داخل ہوتے ہیں – یہ قول باطل ہے

صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ، فَقَالَ: «أَيُّ وَادٍ هَذَا؟» فَقَالُوا: هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ، قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ، وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللهِ بِالتَّلْبِيَةِ»، ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى، فَقَالَ: «أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟» قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى، قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ وَهُوَ يُلَبِّي

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   وادی ازرق سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے پوچھا یہ کونسی وادی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یہ  وادی ازرق  ہے آپ نے فرمایا : گویا میں موسی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں وہ پہاڑ سے اتر رہے ہیں تلبیہ کی وجہ سے ان کا ایک اللہ کے ہاں ایک مقام قرب ہے- پھر آپ ایک پہاڑ پر پہنچے فرمایا یہ کونسا پہاڑ ہے؟ عرض کی   ہرشی   پہاڑ ہے  آپ نے فرمایا گویا کہ میں یونس بن متی علیہ السلام کو نحیف سرخ اونٹنی پر دیکھ رہا ہوں ان پر اون کا جبہ ہے، اونٹنی کی نکیل خشک کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ہے اور آپ علیہ السلام تلبیہ کہہ رہے ہیں

اس روایت میں نیند کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ یہ تو جاگنے کی حالت میں اپ صلی الله علیہ وسلم کو غیبی کشف کیا گیا کہ گویا موسی اور یونس علیہما السلام  نے جب حج کیا تو ایسے لگ رہے تھے

وہابی عالم صالح المنجد کا فتوی ہے

وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : ( الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون ) رواه البزار وصححه الألباني في صحيح الجامع ( 2790 ) وهذه الصلاة مما يتمتعون بها كما يتنعم أهل الجنة بالتسبيح .

https://islamqa.info/ar/26117

اور بے شک صحیح ہے نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ انبیاء زندہ ہیں قبروں میں نماز  پڑھتے ہیں اس کو البزار نے روایت کیا ہے اور البانی نے نے صحیح کیا ہے اور یہ وہ نماز ہے جس سے یہ  فائدہ لیتے ہیں  جیسی کہ اہل جنت  تسبیح سے لیتے ہیں 

راقم کہتا ہے سلفی عالم اسمعیل سلفی کے بقول کہ اس روایت سے عقیدے ثابت نہیں کر سکتے

 

Posted in Aqaid, Mysticism | 4 Comments

خواب میں نبی اکرم کا دیدار

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

بخاری کی حدیث میں یہ بات خاص دور نبوت کے لئے بتائی گئی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں ایسا تھا

بخاری میں دو حدیثیں ہیں

من راٰنی فی المنام فقد راٰنی، فان الشیطان لا یتمثل فی صورتی

          جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے بے شک مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل  نہیں بنا سکتا صحیح بخاری و صحیح مسلم

دوسری حدیث ہے

من رآني في المنام فسيراني في اليقظة، ولا يتمثل الشيطان بي» قال أبو عبد الله: قال ابن سيرين: «إذا رآه في صورته

جس نے مجھے حالت نیند میں دیکھا وہ جاگنے  کی حالت میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا امام بخاری کہتے ہیں ابن سیریں کہتے ہیں اگر آپ کی صورت پر دیکھے

 ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور مبارکہ کی ہے جب بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو مسلمان ہوئے لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم سے  فورا ملاقات نہ کر سکے پھر ان مسلمانوں نے  دور دراز کا سفر کیا اور نبی کو دیکھا. ایسے افراد کے لئے بتایا جا رہا ہے کہ ان میں جو نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے گا وہ عنقریب بیداری میں بھی دیکھے گا اور یہ بات نبی صلی الله علیہ وسلم کی زندگی تک ہی محدود تھی کیونکہ اب جو ان کو خواب میں دیکھے گا وہ بیداری میں نہیں دیکھ سکتا

حمود بن عبد الله بن حمود بن عبد الرحمن التويجري کتاب الرؤيا میں لکھتے ہیں

المازري کہتے ہیں

احتمل أن يكون أراد أهل عصره ممن يهاجر إليه فإنه إذا رآه في المنام جعل ذلك علامة على أنه سيراه بعد ذلك في اليقظة

اغلبا اس سے مراد ان (نبی صلی الله علیہ وسلم) کے ہم عصر ہیں جنہوں نے ہجرت کی اور ان کو خواب میں دیکھا اور یہ (خواب کا مشاہدہ) ان کے لئے علامت ہوئی اور پھر آپ صلی الله علیہ وسلم کو بیداری میں بھی دیکھا

امام بخاری  نے بھی باب میں امام محمد آبن سیرین کا یہ قول لکھا ہے کہ

  یہ اس صورت میں ہے جب رسول صلى اللہ عليہ وسلم کو آپ ہی کی صورت میں دیکھا جائے

 یعنی شیطان تو کسی بھی صورت میں آ کر بہکا سکتا ہے ہم کو کیا پتا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کیسے تھے؟ صرف شمائل پڑھ لینے سے وہی صورت نہیں بن سکتی . اگر  آج کسی  نے دیکھا بھی تو آج اس کی تصدیق کس صحابی سے کرائیں گے؟

 لیکن جن دلوں میں بیماری ہے وہ اس حدیث سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ  نبی صلی الله علیہ وسلم کو آج بھی خواب میں دیکھنا ممکن ہے اور خواب پیش کرتے ہیں

انس رضی الله عنہ کا خواب

طبقات ابن سعد میں ایک روایت ہے

قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الذَّارِعُ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَا مِنْ لَيْلَةٍ إِلا وَأَنَا أَرَى فِيهَا حَبِيبِي. ثُمَّ يَبْكِي.

ابن سعد نے کہا ہم کو مسلم بن ابراہیم نے خبر دی انہوں نے کہا ان پر  الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الذَّارِعُ نے حدیث بیان کی  کہا میں نے انس بن مالک کو کہتے سنا کہ کوئی ایسی رات نہیں کہ جس میں میں اپنے حبیب کو نہ دیکھ لوں پھر رو دیے

تجريد الأسماء والكنى المذكورة في كتاب المتفق والمفترق للخطيب البغدادي از أَبِي يَعْلَى البغدادي، الحنبلي (المتوفى: 580هـ) کے مطابق اس نام کے دو راوی ہیں دونوں بصری ہیں

المثنى بن سعيد، اثنان    بصريان

أحدهما:1 – أبو غفار الطائي. حدث عن: أبي عثمان النهدي، وأبي قلابة الجرمي، وأبي تميمة الهجيمي، وأبي الشعثاء، مولى ابن معمر.روى عنه: حماد بن زيد، وعيسى بن يونس، وأبو خالد الأحمر، ويحيى بن سعيد القطان، وسهل بن يوسف.قال الخطيب: أنا محمد بن عبد الواحد الأكبر: أنا محمد بن العباس: ثنا ابن مرابا: ثنا عباس بن محمد، قال: سمعت يحيى بن معين يقول: أبو غِفَار الطَّائي بصري اسمه المثنى بن سعيد، يحدث عنه يحيى، وقال يحيى: المثنى بن سعيد ثقة.

والآخر:  أبو سعيد الضَّبِّي القَسَّام.رأى أنس بن مالك، وأبا مجلز، وسمع قتادة، وأبا سفيان طلحة بن نافع.

انس رضی الله عنہ سے اس قول کو منسوب کرنے والا  أبو سعيد المثنى بن سعيد  الضَّبِّي القَسَّام ہے جس نے ان کو صرف  دیکھا ہے

تاریخ الاسلام میں الذھبی نے اس راوی پر لکھا ہے رأى أنسا کہ اس نے انس کو دیکھا تھا

ابن حبان نے اس کے لئے ثقات میں کہا ہے  يخطىء غلطیاں کرتا ہے

المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري از  أكرم بن محمد زيادة الفالوجي الأثري کی تحقیق کے مطابق بھی اس نے انس رضی الله عنہ کو دیکھا ہے سنا نہیں ہے

أبو سعيد، المثنى بن سعيد، الضُبَعِيّ – بضم المعجمة، وفتح الموحدة – البصري، القسام، الذارع، القصير، كان نازلا في بني ضبيعة، ولم يكن منهم ويقال: إنه أخو ريحان بن سعيد، وروح بن سعيد، والمغيرة بن سعيد، رأى أنس بن مالك

توضيح المشتبه في ضبط أسماء الرواة وأنسابهم وألقابهم وكناهم کے مؤلف: محمد بن عبد الله (أبي بكر) ابن ناصر الدين (المتوفى: 842هـ) کا کہنا ہے کہ رأى أنس بن مَالك اس نے انس بن مالک کو دیکھا

طبقات ابن سعد میں ہی یہ راوی قتادہ کے واسطے سے انس رضی الله عنہ سے روایت کرتا ہے

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ. أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ. حَدَّثَنَا قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ أَحْيَانًا فَتُدْرِكُهُ الصَّلاةُ فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ لَنَا وَهُوَ حَصِيرٌ يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ.

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ. إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ فِي الْعَنْفَقَةِ قَلِيلا وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ يَسِيرٌ لا يَكَادُ يُرَى.

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: ” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ، وَفِي الْعَنْفَقَةِ قَلِيلًا، وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ يَسِيرٌ، لَا يَكَادُ يُرَى “، وَقَالَ الْمُثَنَّى: ” وَالصُّدْغَيْنِ

سنن ابو داود کی روایت ہے

حدَّثنا مسلمُ بن إبراهيم، حدَّثنا المثنى بن سعيد، حدَّثنا قتادةُ عن أنس بن مالك: أن النبيَّ – صلى الله عليه وسلم – كان يزورُ أم سُلَيمٍ، فتُدركُه الصلاةُ أحياناً، فيُصلي على بِساطٍ لنا، وهو حَصيرٌ تَنضَحُه بالماء

سنن الکبری نسائی کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ: «اللهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي، وَنَصِيرِي، وَبِكَ أُقَاتِلُ»

معلوم ہوا کہ اس راوی کا سماع انس رضی الله عنہ سے نہیں ہے جو بھی اس نے لیا وہ قتادہ کی سند سے ہے اور اس کا طبقات کی سند میں سمعت (میں نے سنا) کہنا غلطی ہے

افسوس کفایت الله سنابلی اس روایت کو صحیح کہہ رہے ہیں

بلال رضی الله تعالی عنہ کا خواب

ابن عساکر تاریخ الدمشق میں إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال کے ترجمے میں لکھتے ہیں

إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال ابن أبي الدرداء الأنصاري صاحب رسول الله (صلى الله عليه وسلم) أبو إسحاق روى عن أبيه روى عنه محمد بن الفيض أنبأنا أبو محمد بن الأكفاني نا عبد العزيز بن أحمد انا تمام بن محمد نا محمد بن سليمان نا محمد بن الفيض نا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال بن أبي الدرداء حدثني أبي محمد بن سليمان عن أبيه سليمان بن بلال عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال

  لما دخل عمر بن الخطاب الجابية سأل بلال أن يقدم  الشام ففعل ذلك قال وأخي أبو رويحة الذي أخى بينه وبيني رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فنزل  داريا في خولان فأقبل هو وأخوه إلى قوم من خولان فقال لهم قد جئناكم خاطبين  وقد كنا كافرين فهدانا الله ومملوكين فأعتقنا الله وفقيرين فأغنانا الله فأن تزوجونا فالحمد لله وأن تردونا فلا حول ولا قوة إلا بالله فزوجوهما ثم إن بلالا رأى في منامه النبي (صلى الله عليه وسلم) وهو يقول له (ما هذه الجفوة يا بلال أما ان لك أن تزورني يا بلال فانتبه حزينا وجلا خائفا فركب راحلته وقصد المدينة فأتى قبر النبي (صلى الله عليه وسلم) فجعل يبكي عنده ويمرغ وجهه عليه وأقبل الحسن والحسين فجعل يضمهما ويقبلهما فقالا له يا بلال نشتهي نسمع اذانك الذي كنت تؤذنه لرسول الله (صلى الله عليه وسلم) في السحر ففعل فعلا سطح المسجد فوقف موقفه الذي كان يقف فيه فلما أن قال (الله أكبر الله أكبر ارتجت المدينة فلما أن قال (أشهد أن لا إله إلا الله) زاد تعاجيجها  فلما أن قال (أشهد أن محمدا رسول الله) خرج العواتق من خدورهن فقالوا أبعث رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فما رئي يوم أكثر باكيا ولا باكية بعد رسول الله (صلى الله عليه وسلم) من ذلك اليوم قال أبو الحسن محمد بن الفيض توفي إبراهيم بن محمد بن سليمان سنة اثنتين وثلاثين ومائتين

 أبي الدرداء فرماتے ہیں کہ

جب عمر الجابیہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بلال سے کہا کہ شام آ جائیں پس بلال شام منتقل ہو گئے … پھر بلال نے خواب میں نبی کودیکھا کہ فرمایا اے بلال یہ کیا بے رخی ہے؟ کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا .. پس بلال قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گئے اور روئے اور چہرے کو قبر پر رکھا … اس کے بعد حسن و حسین کی فرمائش پر آپ نے اذان بھی دی

 بلال بن رباح الحبشي رضی الله تعالی عنہ کی وفات سن ٢٠ ہجری میں ہوئی  اور ایک قول تاریخ الاسلام از ذھبی میں ہے

قَالَ يحيى بْن بكير: تُوُفيّ بلال بدمشق في الطاعون سنة ثماني عشرة.

بلال کی دمشق میں طاعون  سے سن ١٨ ہجری میں وفات ہوئی

 الذھبی اپنی کتاب سیر الاعلام  ج ١ ص ٣٥٨ میں اس روایت کو بیان کرنے کے بعد کہتےہیں

إِسْنَادُهُ لَيِّنٌ، وَهُوَ مُنْكَرٌ.

اس کی اسناد کمزور ہیں اور یہ منکر ہے

 ابن حجر لسان المیزان میں اور الذھبی میزان  میں اس راوی پر لکھتے ہیں

فيه جهالة

اس کا حال مجھول ہے

 ذھبی کتاب تاریخ الاسلام میں اس راوی پر لکھتے ہیں

مجهول، لم يروِ عنه غير محمد بْن الفيض الغسَّانيّ

مجھول ہے سوائے محمد بْن الفيض الغسَّانيّ کے کوئی اس سے روایت نہیں کرتا

 ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا کا خواب

 ترمذی روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْنِي فِي المَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ الله، قَالَ: “شَهِدْتُ قَتْلَ الحُسَيْنِ آنِفًا” هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

 سلمی سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ  رضی الله تعالی عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ وزاری میں مبتلا کر دیا ہے؟  آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہے . کا سر اور ریش مبارک گرد آلود تھی.میں نے عرض کی ، یارسول ،آپ کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ رسول الله نے فرمایا: میں نے ابھی ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے

 ترمذی اور مستدرک الحاکم میں یہ روایت نقل ہوئی ہے

 اس کی سند میں سَلْمَى الْبَكْرِيَّةِ ہیں

 تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں مبارکپوری لکھتے ہیں

هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ لِجَهَالَةِ سَلْمَى

سَلْمَى کے مجھول ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے

 کتاب مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے مطابق

 وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ

اور ام سلمہ کی وفات ٥٩ ھ میں ہوئی

 تاریخ کے مطابق حسین کی شہادت سن ٦١ ہجری میں ہوئی

 لہذا یہ ایک جھوٹی روایت ہے

ابن عباس کا خواب

ابن حجر فتح الباری  ص ۳۸۴ میں بتاتے ہیں کہ حاکم روایت کرتے ہیں کہ

فَأَخْرَجَ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ قَالَ صِفْهُ لِي قَالَ ذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَشَبَّهْتُهُ بِهِ قَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ وَسَنَدُهُ جَيِّدٌ

امام حاکم نے روایت کیا ہے … ایک شخص نے عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے حسن بن علی رضی   االله  عنہ کی شکل کے ایک شخص کو دیکھا ہے اس پر انہوں نے کہا تم نے نبی کو دیکھا ہے

ابن حجر نے کہا اس کی سند جید ہے

حالانکہ حیرت ہے  عبد الله بن عباس اور ابن زبیر میں اپس میں اختلاف ہوا اور  ابن عباس طائف جا کر قیام پذیر ہوئے لیکن اس اختلاف کو ختم کرنے نبی صلی الله علیہ وسلم نہ ابن عباس  رضی الله عنہ کے خواب میں آئے نہ ابن زبیر رضی الله عنہ کے

مستدرک الحاکم کی اس روایت  کو اگرچہ الذھبی نے صحیح کہا ہے لیکن اسکی  سند میں عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ  ہے جو مظبوط راوی نہیں ہے تهذيب التهذيب ج 6/ 434- 435 کے مطابق اس پر  يحيى القطان نے کلام کیا ہے

وقال صالح بن احمد عن علي بن المديني: سمعت يحي بن سعيد يقول: ما رأيت عبد الواحد بن زياد يطلب حديثاً قط بالبصرة ولا بالكوفة، وكنا نجلس على بابه يوم الجمعة بعد الصلاة أذاكره حديث الأعمش فلا نعرف منه حرفاً

صالح بن احمد عن علي بن المديني کہتے ہیں میں نے یحیی کو سنا انہوں نے کہا میں نے کبھی بھی عبد الواحد کو بصرہ یا کوفہ میں حدیث طلب کرتے نہ دیکھا اور ہم  جمعہ کے بعد دروازے پر بیٹھے تھے کہ اس نے الاعمش کی حدیث ذکر کی جس کا ایک حرف بھی ہمیں پتہ نہ تھا

مسلمان بادشاہوں کے سیاسی خواب

 نور الدین زنگی کا خواب

  علي بن عبد الله بن أحمد الحسني الشافعي، نور الدين أبو الحسن السمهودي المتوفى٩١١ھ  کتاب  وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى  میں سن ٥٥٧ ھ پر لکھتے ہیں

 الملك العادل نور الدين الشهيد نے ایک ہی رات میں تین دفعہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ ہر دفعہ فرما رہے ہیں

 أن السلطان محمودا المذكور رأى النبي صلّى الله عليه وسلّم ثلاث مرات في ليلة واحدة وهو يقول في كل واحدة: يا محمود أنقذني من هذين الشخصين الأشقرين تجاهه

اے  قابل تعریف! مجھ کو ان دو شخصوں سے بچا

 یہ دو اشخاص عیسائی تھے جو نبی صلی الله علیہ وسلم کا جسد مطہر حاصل کرنا چاہتے تھے

مثل مشھور ہے الناس علی دین ملوکھم کہ لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں اسی طرح یہ قصہ اتنا بیان کیا جاتا ہے کہ گویا اس کی سچائی قرآن و حدیث جیسی ہو

 مقررین حضرات یہ قصہ سنا کر بتاتے ہیں کہ یہودی سازش کر رہے تھے لیکن ریکارڈ کے مطابق یہ نصرانی سازش تھی

 وقد دعتهم أنفسهم- يعني النصارى- في سلطنة الملك العادل نور الدين الشهيد إلى أمر عظيم

اور نصرانیوں نے ایک امر عظیم کا ارادہ کیا بادشاہ عادل نور الدین الشہید کے دور ہیں

 اس کے بعد یہ خواب کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعد میں پکڑے جانے والے عیسائی تھے

أهل الأندلس نازلان في الناحية التي قبلة حجرة النبي صلّى الله عليه وسلّم من خارج المسجد عند دار آل عمر بن الخطاب

اہل اندلس سے دو افراد دار ال عمر بن خطاب ،حجرے کی جانب مسجد سے باہر ٹھہرے ہوۓ ہیں

  اس قصے میں عجیب و غریب عقائد ہیں.  اول نبی صلی الله علیہ وسلم کو علم غیب تھا کہ دو نصرانی سازش کر رہے ہیں  دوئم انہوں نے الله کو نہیں پکارا بلکہ نور الدین کے خواب میں تین دفعہ ایک ہی رات میں ظاہر ہوئے . سوم نبی صلی الله علیہ وسلم نے نورالدین زنگی کو صلیبی جنگوں میں عیسائی تدبریوں کے بارے میں نہیں بتایا جن سے ساری امت مسلمہ نبرد آزما تھی بلکہ صرف اپنے جسد مطہر کی بات کی

  الله کا عذاب نازل ہو اس جھوٹ کو گھڑنے والوں پر. ظالموں الله سے ڈرو اس کی پکڑ سخت ہے .الله کے نبی تو سب سے بہادر تھے

 دراصل یہ سارا قصہ نور الدین زنگی  کی بزرگی کے لئے بیان کیا جاتا ہے جو صلیبی جنگوں میں مصروف تھے اور ان کے عیسائیوں سے  معرکے چل رہے تھے

شاہ عراق فیصل بن حسین المعروف فیصل اول کا خواب

فیصل بن حسین ١٩٢١ ع سے ١٩٣٣ ع تک عراق کے بادشاہ تھے اور شریف المکّہ کے تیسرے بیٹے. شریف المکہ عثمانی خلافت میں ان کی جانب سے حجاز کے امیر تھے. فیصل اول نے خلافت عثمانیہ ختم کرنے میں انگریزوں کا بھر پور ساتھ دیا.   بر صغیر کے مشھور شاعر علامہ اقبال نے ان پر تنقید کی کہ

کیا خوب امیر فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا

تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا

لیکن روحانیت میں شاہ فیصل کا کچھ اور ہی مقام تھا انگریز بھی خوش اور الله والے بھی خوش

جو لوگ نبی صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں انے کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سن ١٩٣٢ عیسوی میں عراق میں جابر بن عبدللہ اور حذیفہ بن یمان رضوان الله علیھم شاہ عراق کے خواب میں آئے اور انہوں نی اس سے کہا کہ ان کو بچائے کیونکہ نہر دجلہ کا پانی ان کی قبروں تک رس رہا ہے

قبر ١قبر ٢

حیرت کی بات ہے کہ شیعہ حضرات بھی اس خواب کو لہک لہک کر بیان کرتے ہیں لیکن اس سے تو فیصل اول کی الله کی نگاہ میں قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے اور فیصل شیعہ عقیدے پر نہیں تھے

ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم خواب میں اتے ہیں اب کہا جا رہا ہے کہ صحابی بھی اتے ہیں گویا جو نبی کی خصوصیت تھی وہ اب غیر انبیاء کی بھی ہو گئی

ہمارے قبر پرست بادشاہوں کو  خوابوں میں انبیاء اور صحابہ نظر آ رہے ہیں اور وہ بھی صرف اپنے جسمکو  بچانے کے لئے

لیکن اب خواب نہیں آیا

حال ہی میں شام میں حکومت مخالف باغیوں نے ایک   قبر کشائی کی  جو صحابی رسول حجر بن عدی  المتوفی 51 ہجری کی طرف منسوب ہے لیکن حیرت ہے اس دفعہ ان  صحابی کو خیال نہیں آیا کہ دوسرے صحابہ تو اپنی قبروں کو بچانے کے لئے خوابوں میں آ جاتے ہیں مجھے بھی یہی کرنا چاہئے یہ صحابی نہ سنیوں کے خواب میں آئے نہ شیعوں کے خواب میں. جب قبر پر پہلا کلہاڑا پڑا اسی وقت خواب میں آ جاتے

قبر ٣

حجر بن عدی رضی اللہ تعالی علیہ سے منسوب قبر ، قبر کی بے حرمتی کے بعد

دوسری طرف یہی قبر پرست  ایک سانس میں کہتے ہیں کہ صحابہ کے جسد محفوظ تھے اور دوسری سانس میں روایت بیان کرتے ہیں الله نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء کے جسموں کو کھائے تو بھلا بتاؤ کیا  مانیں اگر غیر نبی کا جسد بھی محفوظ ہے تو یہ انبیاء کی خصوصیت کیسے رہی

 الغرض  نبی صلی  الله علیہ وسلم نے دنیا کی رفاقت چھوڑ کر جنت کو منتخب کیا اور آج امت سے ان کا کوئی  رابطہ نہیں اور نہ ان کو امت کے حال کا پتا ہے ،ورنہ جنگ جمل نہ ہوتی نہ جنگ صفین، نہ حسین شہید ہوتے، بلکہ ہر لمحہ آپ امت کی اصلاح کرتے

انبیاء صحابہ اور اولیاء کا خواب میں انے کا عقیدہ سراسر غلط اور خود ساختہ ہے اور عقل سلیم سے بعید تر قبروں سے فیض حاصل کرنے کا عقیدہ رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ ہم ان قبروں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ان سے دعائیں کروانے جاتے ہیں الله ان کی سنتا ہے لیکن اگر الله ان کی سنتا ہے تو جب ان کی قبر پر پانی اتا ہے یا کوئی دوسرے دین کا شریر شخص شرارت کرنا چاہتا ہے تو اس وقت  بادشاہ لوگ کے خواب میں ان کو آنا پڑتا ہے سوچوں یہ کیا عقیدہ ہے  تمہاری عقل پر افسوس ! الله شرک سے نکلنے کی توفیق دے

نبی صلی الله علیہ وسلم اور امام ترمذی سے ناراضگی

ابو بکر الخلال کتاب السنہ میں بیان کرتے ہیں کہ امام ترمذی اس عقیدے کے خلاف تھے کہ روز محشر نبی صلی الله علیہ وسلم کو نعوذباللہ عرش پر الله تعالی اپنے ساتھ بٹھائے گا. ابو بکر الخلال ، نبی صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں آنا نقل کرتے ہیں

وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ صَدَقَةَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ الْجَبَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ صَاحِبِ النَّرْسِيِّ قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِسْمَاعِيلَ فَحَدَّثَنِي، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ لِي: هَذَا التِّرْمِذِيُّ، أَنَا جَالِسٌ لَهُ، يُنْكِرُ فَضِيلَتِي “

عبدللہ بن اسمعیل کہتے ہیں کہ میرے خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم آئے اور کہا  یہ ترمذی!  میں اس کے لئے  بیٹھا ہوں اور یہ میری فضلیت کا انکاری ہے

ابو بکر الخلال نے واضح نہیں کیا کہ اس خواب میں  نبی صلی الله علیہ وسلم کا کہنا کہ میں بیٹھا ہوں، تو اصل میں وہ کہاں بیٹھے  ہیں . مبہم انداز میں نبی صلی الله علیہ وسلم کو عرش پر بیٹھا دیا گیا ہے تاکہ امام ترمذی پر جرح ہو سکے

ایک دوسرا خواب بھی پیش کرتے ہیں

أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ الْعَطَّارُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السَّرَّاجِ، قَالَ: ” رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ، رَحْمَةُ الله عَلَيْهِمَا وَرِضْوَانُهُ، فَتَقَدَّمْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ الله، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَقُولَ شَيْئًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: قُلْ، فَقُلْتُ: إِنَّ التِّرْمِذِيَّ يَقُولُ: إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ لَا يُقْعِدُكَ مَعَهُ عَلَى الْعَرْشِ، فَكَيْفَ تَقُولُ يَا رَسُولَ الله، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ شِبْهَ الْمُغْضَبِ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَاقِدًا بِهَا أَرْبَعِينَ، وَهُوَ يَقُولُ: «بَلَى وَالله، بَلَى وَالله، بَلَى وَالله، يُقْعِدُنِي مَعَهُ عَلَى الْعَرْشِ، بَلَى وَالله يُقْعِدُنِي مَعَهُ عَلَى الْعَرْشِ، بَلَى وَالله يُقْعِدُنِي مَعَهُ عَلَى الْعَرْشِ، ثُمَّ انْتَبَهْتُ

مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السَّرَّاجِ نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور ابو بکر و عمر رحمہ الله تعالی ان کےساتھ تھے ابو بکر دائیں طرف اور عمر بائیں طرف بیٹھے تھے پس میں عمر کی دائیں طرف آیا اور عرض کیا : یا رسول الله میں چاہتا ہوں اپ پر ایک چیز پیش کرتا – رسول الله نے فرمایا بولو- میں نے کہا یہ ترمذی کہتا حیا کہ اپ الله عزوجل اپ کے ساتھ عرش پر نہیں بیٹھے گا تو اپ کیا کہتے ہیں اس پر یا رسول الله ! پس میں نے دیکھا کہ رسول الله ناراض ہوئے اور انہوں نے سیدھے ہاتھ سے اشارہ کیا … اور کہہ رہے تھے بالکل الله کی قسم ، بالکل الله کی قسم میں الله کے ساتھ عرش پر بیٹھوں گا میں الله کے ساتھ عرش پر بیٹھوں گا ، الله کی قسم میں الله کے ساتھ عرش پر بیٹھوں گا پھر خبردار کیا 

استغفر الله ! اس طرح کے عقائد کو محدثین کا ایک گروہ حق مانتا آیا ہے

الله کا شکر ہے کہ  بدعتی عقائد پر کوئی نہ کوئی محدث اڑ جاتا ہے اور آج ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ حق کیا ہے ,مثلا یہ عقیدہ  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بٹھایا جائے گا اور انبیاء کے اجسام سلامت رہنےکا بدعتی عقیدہ جس کو امام بخاری اور ابی حاتم  رد کرتے ہیں

حدیث میں اتا ہے کہ

میری اُمت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میری وفات کے بعد آئیں گے اور ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مجھے دیکھنے کے لئے اپنے اہل و مال سب کچھ صَرف کردیں 

اس سے ظاہر ہے کہ نبی کو خواب میں دیکھنا ممکن نہیں بلکہ اگر کوئی نبی کو دیکھنا چاہتا ہے تو کیا صرف  سوتا رہے  کہ ہو سکتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم خواب میں آ جائیں حدیث میں ہے کہ وہ اہل و مال تک صرف کرنا چاہیں گے کیونکہ وہ دیکھ نہیں پائیں گے

کہا جاتا ہے کہ  علمائے اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ اگر خواب میں نبی صلى اللہ عليہ وسلم کسی کو کوئی ایسی بات بتائیں یا کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہے تو اس پر عمل جائز نہ ہوگا  لیکن یہ احتیاط کیوں اگر حلیہ شمائل کے مطابق ہو اور اپ کا عقیدہ ہے کہ شیطان،  نبی صلی الله علیہ وسلم کی شکل بھی نہیں بنا سکتا تو اس خوابی حکم یا حدیث کو رد کرنے کی کیا دلیل ہے. دوم یہ اجماع کب منعقد ہوا کون کون شریک تھا کبھی نہیں بتایا جاتا

کہا جاتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا ان کی خصوصیت ہے اس کا مطلب ہوا کہ جو لوگ یہ دعوی کریں کہ کوئی ولی یا صحابی خواب میں آیا وہ کذاب ہیں کیونکہ اگر یہ بھی خواب میں آ جاتے ہوں تو نبی کی خصوصیت کیسے رہی؟

خواب کے ذریعہ احادیث کی تصحیح

 صحیح بخاری میں ابن مسعود سے مروی ہے جس کے مطابق ١٢٠ دن بعد یعنی ٤ ماہ بعد روح اتی ہے
حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ المَصْدُوقُ، قَالَ: ” إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ ”

تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتاہے پھراتنے ہی وقت تک منجمد خون کا لوتھڑارہتا ہے پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتاہے اس کے بعد اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا عمل ‘اس کا رزق اوراس کی عمر لکھ دے اوریہ بھی لکھ دے کہ بدبخت ہے یا نیک بخت ،اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ….”(صحیح بخاری باب بدء الخلق ۔صحیح مسلم باب القدر)

اس روایت کو اگرچہ امام بخاری و مسلم نے صحیح کہا ہے لیکن اس کی سند میں زید بن وھب کا تفرد ہے اور امام الفسوی کے مطابق اس کی روایات میں خلل ہے

طحاوی نے مشکل الاثار میں اس روایت پر بحث کی ہے اور پھر کہا
وَقَدْ وَجَدْنَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رِوَايَةِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , بِمَا يَدُلُّ أَنَّ هَذَا الْكَلَامَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ مَسْعُودٍ , لَا مِنْ كَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اور ہم کو ملا ہے جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , سے کہ یہ کلام ابن مسعود ہے نہ کہ کلام نبوی

راقم کہتا ہے اس کی جو سند صحیح کہی گئی ہے اس میں زید کا تفرد ہے جو مضبوط نہیں ہے

اس حدیث پر لوگوں کو شک ہوا لہذا کتاب جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم از ابن رجب میں ہے
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَسْفَاطِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي حَدَّثَ عَنْكَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ حَدَّثْتُهُ بِهِ أَنَا ” يَقُولُهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لِلْأَعْمَشِ كَمَا حَدَّثَ بِهِ، وَغَفَرَ اللَّهُ
مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَسْفَاطِيِّ نے روایت کیا کہ میں نے خواب میں نبی کو دیکھا کہا اے رسول الله حدیث ابن مسعود جو انہوں نے اپ سے روایت کی ہے کہا سچوں کے سچے نے کہا ؟ فرمایا وہ جس کے سوا کوئی الہ نہیں میں نے ہی اس کو ان سے روایت کیا تھا تین بار کہا پھر کہا الله نے اعمش کی مغفرت کی کہ اس نے اس کو روایت کیا

یعنی لوگوں نے اس حدیث کو خواب میں رسول الله سے ثابت کرایا تاکہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث کو صحیح سمجھا جائے

مسند علي بن الجَعْد بن عبيد الجَوْهَري البغدادي (المتوفى: 230هـ)   میں ہے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ خَمْسَ مِائَةِ حَدِيثٍ، أَوْ ذَكَرَ أَكْثَرَ، فَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ، فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا الْيَسِيرَ خَمْسَةَ أَوْ سِتَّةَ أَحَادِيثَ، فَتَرَكْتُ الْحَدِيثَ عَنْهُ»

ھم کو عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي نے خبر دی کہ سوید نے بیان کیا کہ علی نے بیان کیا انہوں نے اور حمزہ نے ابان سے سنیں ہزار احادیث یا کہا اس سے زیادہ پس حمزہ نے خبر دی کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ان پر وہ ہزار روایات پیش کیں تو رسول الله صرف پانچ یا چھ کو پہچان پائے پس اس پر میں نے ابان بن ابی عیاش کی احادیث ترک کیں

امام مسلم نے صحیح کے مقدمہ میں اس قول کو نقل کیا ہے

ابان بن ابی عیاش کو محدثین  منکر الحدیث ، متروک ، کذاب کہتے ہیں اور امام ابو داود سنن میں روایت لیتے ہیں

ابان سے متعلق قول کا دارومدار سوید بن سعيد الحَدَثاني پر ہے جو امام بخاری کے نزدیک   منكر الحديث ہے اور يحيى بن معين کہتے حلال الدم اس کا خون حلال ہے

یعنی یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا خواب اور اس میں جرح کا  قول خود ضعیف ہے جو امام مسلم نے پیش کیا ہے

سوید بن سعيد اختلاط کا شکآر ہوئے اور اغلبا یہ روایت بھی اسی وقت کی ہے

لہذا خواب میں سن کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی بات بیان کرنا حدیث نہیں اور یہ قول بھی جرح کے لئے نا قابل قبول ہے -لیکن ظاہر ہے محدثین کا ایک گروہ  جرح و تعدیل میں خواب سے دلیل لے رہا تھا  جبکہ اس کی ضرورت نہ تھی

سنن ابو داود کی روایت ٥٠٧٧ ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَوُهَيْبٌ، نَحْوَهُ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَائِشٍ، وَقَالَ حَمَّادٌ: عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَ لَهُ عِدْلَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ ” قَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ: فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يُحَدِّثُ عَنْكَ بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: “صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ”

حَمَّادٌ نے أَبِي عَيَّاشٍ سے انہوں نے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سے روایت کیا کہ جس نے صبح کے وقت کہا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ تو اس کے لئے ایسا ہو گا کہ اس نے إِسْمَاعِيلَ کی اولاد میں سے  ایک گردن کو آزاد کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس گناہ مٹ جائیں گے اس کے دس درجات بلند ہوں گے یہ الفاظ  شام تک شیطان سے حفاظت کریں گے .. حماد بن سلمة نے کہا پھر ایک شخص نے رسول الله کو خواب میں دیکھا کہا یا رسول الله ابی عیاش نے ایسا ایسا روایت کیا ہے – اپ نے فرمایا سچ کہا أَبُو عَيَّاشٍ نے 

اس روایت کو البانی نے صحیح کہہ دیا ہے جبکہ   المنذري (المتوفى: 656 هـ) نے  مختصر سنن أبي داود میں خبر دی تھی کہ

ذكره أبو أحمد الكرابيسي في كتاب الكنى، وقال: له صحبة من النبي -صلى اللَّه عليه وسلم-، وليس حديثه من وجه صحيح، وذكر له هذا الحديث.

أبو عياش الزُّرقي الأنصاري جس کا نام زيد بن الصامت ہے اس کا ذکر الکنی میں  أبو أحمد الكرابيسي نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا صحابی  ہونے کا شرف پایا ہے لیکن یہ حدیث اس طرق سے صحیح نہیں ہے اور خاص اس روایت کا ذکر کیا

قال أبو زرعة الدمشقي، عن أحمد بن حنبل: أبو عياش الزرقي، زيد بن النعمان. «تاريخه» (1245)

وقال أبو محمد ابن حزم في «المحلى»: زيد أبو عياش لا يدري من هو

بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ شخص صحابی نہیں بلکہ کوئی مجہول ہے

حماد بن سلمہ نے  خبر دی کہ ایک شخص نے دیکھا یہ شخص کون تھا معلوم  نہیں – خیال رہے حماد خود مختلط بھی ہو گئے تھے

بیداری میں بھی دیکھنا ممکن ہے 

فیض الباری میں انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں

ويمكن عندي رؤيته صلى الله عليه وسلّم يقظةً (1) لمن رزقه الله سبحانه كما نقل عن السيوطي رحمه الله تعالى – وكان زاهدًا متشددًا في الكلام على بعض معاصريه ممن له شأن – أنه رآه صلى الله عليه وسلّم اثنين وعشرين مرة وسأله عن أحاديث ثم صححها بعد تصحيحه صلى الله عليه وسلّم

میرے نزدیک بیداری میں بھی رسول الله کو دیکھنا ممکن ہے جس کو الله عطا کرے جیسا سیوطی سے نقل کیا گیا ہے جو ایک سخت زاہد تھے … انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ٢٨ مرتبہ دیکھا اور ان سے احادیث کی تصحیح  کے بعد ان کو صحیح قرار دیا

انور شاہ نے مزید لکھا

والشعراني رحمه الله تعالى أيضًا كتب أنه رآه صلى الله عليه وسلّم وقرأ عليه البخاري في ثمانية رفقة معه

الشعراني نے رسول اللہ کو دیکھا اور ان کے سامنے صحیح بخاری اپنے ٨ رفقاء کے ساتھ پڑھی

جلال الدین سیوطی  الحاوی للفتاوی ج ٢ ص ٣١٣ میں بہت سے علماء و صوفیا کے اقوال نقل کیے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ نے   نبی   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی روح اقدس کو ملکوت ارض و سما میں تصرف وسیع عطا کر دیا ہے، دن ہو یا رات، عالم خواب ہو یا عالم بیداری، جس وقت اور جب بھی  چاہیں کسی بھی غلام کو اپنے دیدار اور زیارت سے نواز سکتے ہیں، جسے چاہیں چادر مبارک عطا کر جائیں اور جسے چاہیں موئے مبارک دیں۔

الألوسي (المتوفى: 1270هـ)  سورہ الاحزاب کی تفسیر میں روح المعاني میں لکھتے ہیں

وأيد  بحديث أبي يعلى «والذي نفسي بيده لينزلن عيسى ابن مريم ثم لئن قام على قبري وقال يا محمد لأجيبنه» . وجوز أن يكون ذلك بالاجتماع معه عليه الصلاة والسّلام روحانية ولا بدع في ذلك فقد وقعت رؤيته صلّى الله عليه وسلم بعد وفاته لغير واحد من الكاملين من هذه الأمة والأخذ منه يقظة

اور اس کی تائید ہوتی ہے حدیث ابی یعلی سے جس میں ہے کہ وہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضرور عیسیٰ نازل ہوں گے پھر جب میری قبر پر آئیں گے اور کہیں گے یا محمد میں جواب دوں گا اور جائز ہے کہ یہ اجتماع انبیاء کا روحانی ہو اور یہ بعید بھی نہیں کیونکہ اس امت کے ایک سے زائد کاملین نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کو بعد وفات بیداری میں دیکھا ہے

راقم اس سے متفق نہیں ہے ابی یعلی کی روایت کو منکر سمجھتا ہے

اسی تفسیر میں سورہ یس کے تحت الوسی لکھتے ہیں

والأنفس الناطقة الإنسانية إذا كانت قدسية قد تنسلخ عن الأبدان وتذهب متمثلة ظاهرة بصور أبدانها أو بصور أخرى كما يتمثل جبريل عليه السلام ويظهر بصورة دحية أو بصورة بعض الأعراب كما جاء في صحيح الأخبار حيث يشاء الله عز وجل مع بقاء نوع تعلق لها بالأبدان الأصلية يتأتى معه صدور الأفعال منها كما يحكى عن بعض الأولياء قدست أسرارهم أنهم يرون في وقت واحد في عدة مواضع وما ذاك إلا لقوة تجرد أنفسهم وغاية تقدسها فتمثل وتظهر في موضع وبدنها الأصلي في موضع آخر

نفس ناطقہ انسانی جب پاک ہو جاتا ہے تو اپنے بدن سے جدا ہو کر مماثل ظاہری ابدان سے یا کسی اور صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جیسے کہ جبریل کی  شکل میں یا دحیہ کلبی کی صورت یا بدو کی صورت جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے جیسا الله چاہے اس بدن کی بقاء کے ساتھ جو اصلی بدن سے بھی جڑا ہو ایک ہی وقت میں لیکن کئی مقام پر ہو اس طرح حکایت کیا گیا ہے اولیاء سے جن کے پاک راز ہیں کہ ان کو ایک ہی وقت میں الگ الگ جگہوں پر دیکھا گیا

اس طرح الوسی نے یہ ثابت کیا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک ہی وقت میں کئی مقام پر ظاہر ہو سکتے ہیں

آج یہ عقیدہ بریلویوں کا ہے – راقم اس فلسفے کو رد کرتا ہے

فرقوں میں متضاد خواب 

وہابی عالم صالح المغامسي کا کہنا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھنا ممکن ہے یہ مبشرات میں سے ہے یہاں تک کہ امہات المومنین کو بھی دیکھا جا سکتا ہے

زبیر علی زئی اپنے مضمون محمد اسحاق صاحب جہال والا : اپنے خطبات کی روشنی میں میں لکھتے ہیں

علامہ رشید رضامصری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مفتی محمد عبدہ (رحمہ اللہ) نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور انہوں نے آپ سے پوچھا : یا رسول اللہ ! اگر احد کے دن اللہ تعالیٰ جنگ کے نتیجہ کے بارے میں آپ کو اختیار دیتا تو آپ فتح پسند فرماتے یا شکست پسند فرماتے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ شکست کو پسند کرتا حالانکہ ساری دنیا فتح کو پسند کرتی ہے ۔(تفسیر نمونہ بحوالہ تفسیر المنار ۹۲/۳)” (خطباتِ اسحاق ج ۲ ص ۱۹۳، ۱۹۴)
تبصرہ : اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ محمد عبدہ (مصری، منکرِ حدیث بدعتی) نے خوا ب میں ضرور بالضرور رسول اللہ ﷺ کو ہی دیکھا تھا ۔ کیا وہ آپﷺ کی صورت مبارک پہنچانتا تھا ؟ کیا اس نے خواب بیان کرنے میں جھوٹ نہیں بولا؟

 اہل حدیث علماء نبی کا خواب میں انا مانتے ہیں ایک منکر حدیث دیکھے تو ان کو قبول نہیں – نبی صلی الله علیہ وسلم کی صورت کس اہل حدیث نے دیکھی ہے یہ زبیر علی نہیں بتایا

غیر مقلدین کا ایک اشتہار نظر سے  گزرا

khwab-ahl-hadith

نبی صلی الله علیہ وسلم منکرین حدیث کے خواب میں آ رہے ہیں اہل حدیث کے خواب میں ا رہے ہیں صوفیاء کے خواب میں آ رہے ہیں عقل سلیم رکھنے والے سوچیں کیا یہ مولویوں کا جال نہیں کہ اپنا معتقد بنانے کہ لئے ایسے انچھر استعمال کرتے ہیں

مولویوں کا تماشہ یہ ہے کہ جو بھی کہتا ہے کہ اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا اس سے حلیہ مبارک پوچھتے ہیں – اور اگر شمائل میں جو ذکر ہے اس سے الگ حلیہ ہو تو   اس خواب کو رد کر دیتے ہیں –

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ” إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي، فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ، فَقَدْ رَآنِي ” فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، ” رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ، أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ، حَسَنُ الْمَضْحَكِ، أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ، جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ، قَدْ مَلَأَتْ لِحْيَتُهُ، مِنْ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ، حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ ” – قَالَ: عَوْفٌ لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنَ النَّعْتِ – قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا

عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، نے یزید سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کے دور میں نیند میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا …(حلیہ جو خواب میں  دیکھا  بیان کیا گیا )  ابن عباس نے کہا اگر تم بیداری میں دیکھ لیتے تو اس سے الگ نہ ہوتا

شعيب الأرنؤوط – کہتے ہیں
إسناده ضعيف، يزيد الفارسي في عداد المجهولين

قال البخاري في ” التاريخ الكبير ” 8 / 367 وفي ” الضعفاء ” ص 122: قال لي علي – يعني ابن المديني -:
قال عبد الرحمن – يعني ابن مهدي -: يزيد الفارسي هو ابن هرمز، قال: فذكرته ليحيى فلم يعرفه
امام بخاری نے اس کا ذکر تاریخ الکبیر میں کیا ہے اور الضعفاء میں کیا ہے کہا مجھ سے امام علی نے کہا کہ عبد الرحمان المہدی نے کہا یزید الفارسی یہ ابن ہرمز ہے اس کا ذکر امام یحیی القطان سے کیا تو انہوں نے اس کو نہ پہچانا

ابن ابی حاتم کے بقول یحیی القطان نے اس کا بھی رد کیا کہ یہ الفارسی تھا
وأنكر يحيى بن سعيد القطان أن يكونا واحداً،

شعيب الأرنؤوط نے اس کا شمار مجہولین میں کیا ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ میں صحابہ کو خواب میں نظر آئے  ہوں گے اور پھر صحابہ نے ان کو بیداری میں بھی دیکھا ہو گا لیکن آج ہم میں سے کون اس شرط کو پورا کر سکتا ہے ؟ نبی صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں آنا ان کی زندگی تک ہی تھا وہ بھی ان لوگوں کے لئے جو اسلام قبول کر رہے تھے اور انہوں نے نبی کو دیکھا نہیں تھا. نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی صحیح حدیث میں ان کا خواب میں آنا بیان نہیں ہوا . ہم تو صحابہ کا پاسنگ  بھی نہیں!

اخباری خبروں کے مطابق جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہاں کے حاکم ملا عمر کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا دیدار خواب میں ہوا اور حکم دیا گیا کہ کابل چھوڑ دیا جائے الله جلد فتح مبین عنایت کرنے والا ہے – لہذا اپنی عوام کو چھوڑ ملا عمر ایک موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے اور پیچھے  جہاد کے آرزو مند جوانوں کو خاب و خاسر کر گئے

امت کا یہ حال ہوا کہ فقہی اختلاف یا حدیث رسول ہو یا جنگ و جدل ہو یا یہود و نصرانی سازش ہو سب کی خبر رسول الله کو ہے اور وہ خواب میں آ کر رہنمائی کر رہے ہیں

راقم کہتا ہے یہ علم الغیب میں نقب کی خبر ہے جو الله کا حق ہے – اس پر ڈاکہ اس امت نے ڈالا ہے تو اس کی سزا کے طور پر ذلت و مسکنت چھا گئی ہے

حدیث میں ہے ایک شخص خواب بیان کر رہا تھا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کو ڈانٹا اور کہا
لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ
اس کی خبر مت دو کہ شیطان نے تیرے ساتھ نیند میں کیا کھیلا

ظاہر ہے یہ کوئی صحابی تھے جن کو منع کیا گیا کہ جو بھی خواب میں دیکھو اس کو حقیقت سمجھ کر مت بیان کرو

الله ہم سب کو ہدایت دے

==========

مزید معلومات کے لئے پڑھیں

 کتاب الرویا کا بھید

خواب میں رویت باری تعالی

محدثین  اور خوابوں کی دنیا

Posted in Uncategorized | 4 Comments

نور محمدی کا ذکر

محدثین اور صوفیاء کی کتب میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جس کا متن ہے

 يا جابر إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره ، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى ، ولم يكن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولا سماء ولا أرض ولا شمس ولا قمر ولا جني ولا إنسي ، فلما أراد الله تعالى أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول القلم ، ومن الثاني اللوح ، ومن الثالث العرش ، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول حملة العرش ومن الثاني الكرسي ومن الثالث باقي الملائكة ، ثم قسم الجزء الرابع إلى أربعة أجزاء فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين ومن الثاني نور قلوبهم وهي المعرفة بالله ومن الثالث نور أنسهم وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله ثم نظر إليه فترشح النور عرقاً  فتقطرت منه مائة ألف قطرة

رسول الله نے فرمایا اے جابر الله نے اشیاء خلق کرنے سے قبل تمہارے نبی کا نور خلق کیا اور یہ الله کی قدرت سے جہاں الله چاہتا جاتا اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم نہ جنت نہ جہنم نہ فرشتے نہ آسمان نہ زمین نہ سورج نہ چاند نہ جن و انس- پس جب الله نے ارادہ کیا خلق  کرنے کا تو اس نور کے چار ٹکرے کیے- ایک جز سے قلم بنا دوسرے سے لوح،  تیسرے سے عرش،  پھر چوتھے کے بھی چار جز اور کیے ان میں سے ایک سے عرش کو اٹھانے والے، دوسرے سے کرسی ، تیسرے سے باقی فرشتے –  پھر چوتھے کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے سے  مومنوں کی آنکھوں کا نور بنا،  دوسرے سے دلوں کا نور جو الله کی   معرفت ہے ،  تیسرے سے ان کے نفسوں کا نور جو توحید ہے لا إله إلا الله محمد رسول الله –  پھر اس (کلمہ) پر نظر کی تو اس  نور سے پسینہ  نکلا  جس سے ایک لاکھ قطرے اور نکلے

یہ مکمل روایت نہیں ہے اس کا متن بہت طویل ہے اور  متن عجیب و غریب ہے – عرش و کرسی  موجود تک نہ تھے جب قلم بنا اور لوح بنی اور فرشتے بنے-  طاہر القادری نے اس وجہ سے اس روایت کامکمل ترجمہ تک اپنی کتاب نور محمدی میں نہیں کیا کیونکہ آگے جو پسینہ کا ذکر ہے وہ کیا ہے اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہو گا

اہل تشیع عالم  ملا باقر مجلسی نے بھی اس کو بحار الأنوار میں بیان کیا ہے – رياض الجنان از فضل الله بن محمود الفارسي میں ہے

في البحار، عن رياض الجنان لفضل الله بن محمود الفارسي: عن جابر بن عبد الله قال: قلت لرسول الله (صلى الله عليه وآله): أول شئ خلق الله تعالى ما هو ؟ فقال: نور نبيك يا جابر، خلقه ثم خلق منه كل خير

فضل الله بن محمود الفارسي نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول الله (صلى الله عليه وآله) سے پوچھا کہ کیا چیز الله تعالی نے سب سے پہلے خلق کی؟ فرمایا تیرے نبی کا نور اے جابر ! اس نور کو تخلیق کیا اور پھر اس سے ساری اشیاء کو خلق کیا

 اہل سنت میں السيوطيُّ نے الخصائص الكبرى میں  اس طرق کا ذکر کیا ہے –  القسطلاني اور ابن عربي الصوفي نے اپنی کتب میں اس طرق کا ذکر کیا ہے-  برصغیر میں  أحمد رضا بريلوي نے کہا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق کی روایت تھی –   محدثین میں  العجلوني نے كشف الخفاء  میں بھی ذکر ہے کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لکھا

أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث  رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء

الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة میں المؤلف: محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) نے ذکر کیا ہے کہ مصنف عبد الرزاق میں ایک روایت جابر رضی الله عنہ سے مروی تھی جس میں ہے کہ سب سے پہلے نور محمدی کو خلق کیا گیا

وَمِنْهَا: مَا يَذْكُرُونَهُ فِي ذِكْرِ الْمَوْلِدِ النَّبَوِيّ أَن نور مُحَمَّد خُلِقَ مِنْ نُورِ اللَّهِ بِمَعْنَى أَنَّ ذَاتَهُ الْمُقَدَّسَةَ صَارَتْ مَادَّةً لِذَاتِهِ الْمُنَوَّرَةِ وَأَنَّهُ تَعَالَى أَخَذَ قَبْضَة من نوره فخلق من نُورَهُ، وَهَذَا سَفْسَطَةٌ مِنَ الْقَوْلِ، فَإِنَّ ذَاتَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ أَنْ تَكُونَ مَادَةً لِغَيْرَةٍ وَأَخْذُ قَبْضَةٍ مِنْ نُورِهِ لَيْسَ مَعْنَاهُ أَنَّهُ قُطِعَ مِنْهُ جُزْءٌ فَجَعَلَهُ نُورَ نَبِيِّهِ فَإِنَّهُ مُسْتَلْزِمٌ لِلْتَجَزِي وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يَتْبَعَهُ فِي ذَاتِهِ تَعَالَى اللَّهُ عَنْهُ.
وَالَّذِي أَوْقَعَهُمْ فِي هَذِهِ الْوَرْطَةِ الظَّلْمَاءِ هُوَ ظَاهِرُ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فِي مُصَنَّفَةٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَخْبِرْنِي عَنْ أَوَلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللَّهُ قَبْلَ الأَشْيَاءِ، فَقَالَ: يَا جَابِرُ! إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ الأَشْيَاءِ نُورُ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ ….. وَقَدْ أخطأوا فِي فَهْمِ الْمُرَادِ النَّبَوِيِّ وَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ الإِضَافَةَ فِي قَوْلِهِ مِنْ نُورِهِ كَالإِضَافَةِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فِي قِصَّةِ خَلْقِ آدَمَ ونفخت فِيهِ من روحي وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى مِنْ قِصَّةِ سَيِّدِنَا عِيسَى وَرَوْحٌ مِنْهُ، وَكَقَوْلِهِمْ بَيْتُ اللَّهِ الْكَعْبَةُ وَالْمَسَاجِدُ وَقَوْلِهِمْ رَوْحُ اللَّهِ لِعِيسَى وَغَيْرِ ذَلِكَ.

اور ان میں ہیں جو ولادت نبوی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ نور محمدی کو نور رب تعالی سے خلق کیا گیا ان معنی میں کہ ذات مقدس سے نور نکلا …رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے نور میں سے کچھ نور نکال کر اسے اپنے نبی کا نور بنایا، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے کوئی جزء کاٹ کر علیحدہ کیا اور اس سے اپنے نبی کا نور بنایا، ورنہ اس سے تو اللہ تعالیٰ کا اجزاء میں جانا لازم ہو گا۔۔۔جن قصاص و مذکرین نے عبدالرزاق کی اس روایت کے ظاہر کو اپنایا ہے وہ ورطہ ظلمات کا شکار ہوئے ہیں (پھر حدیث نقل کرتے ہیں) …. ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سمجھنے میں خطا کی ہے۔ وہ لوگ نہیں جانتے کہ اس حدیث میں  (من نوره)  سے اضافت مراد ہے۔ بالکل اس اضافت کی طرح جیسی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور اس میں اپنی روح پھونکنے کے قصہ میں بیان کی ہے، یا جیسے اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسی علیہ السلام کے قصہ میں  (روح منه)  کہا۔ یا کعبہ و مساجد کو بیت اللہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کو (روح الله)  وغیرہ کہا۔
 

حال ہی میں ایک نئی تحقیق بریلووی علماء کی طرف سے کی گی ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ نور محمدی والی روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لیکن طباعت کے دوران یہ جزمفقود ہو گیا  تھا اس کی وجہ سے یہ روایات مطبوعہ نسخے میں سے غائب ہو گئی
https://archive.org/details/MusanafAbdulRazzaqByAbuBakrAbdulRazzaqBinHammam
یہ جز اب پاکستان سے چھپا ہے

اس روایت کی سند اس کتاب کے ص ٦٢ پر ہے  عبد الرزاق عن معمر عن ابن المنکدر عن جابر

یہ سند بظاہر صحیح ہے- البتہ راقم  کے نزدیک یہ روایت  عبد الرزاق کے دور اختلاط کی معلوم ہوتی ہے

قابل غور ہے کہ القسطلاني شارح صحيح البخاري نے المواهب اللدنية میں اس روایت کا ذکر کیا ہے ، أبن عربي الصوفي نے تلقيح الأذهان ومفتاح معرفة الإنسان میں اس کا ذکر کیا ہے – محدثین میں إسماعيل العجلوني نے كشف الخفا اور الأربعين میں إس روایت  كا ذكر كيا ہے – حسين بن محمد بن الحسن الديار بكري نے تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس میں اس کا ذکر کیا ہے – أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري، شهاب الدين شيخ الإسلام، أبو العباس (المتوفى: 974هـ) نے فتوی میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں تھی-   محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ)   نے بھی اس کو مصنف عبد الرزاق کی روایت قرار دیا ہے – اس روایت کے مصدر کو بیان کرنے  میں احمد رضا بریلوی  یا ابن عربی یا سیوطی کا تفرد نہیں ہے – اس کو غیر صوفی عجلونی نے بھی ذکر کیا ہے – اب کیا یہ ممکن ہے کہ یہ روایت موجود نہ ہو لیکن اس کا ذکر کیا جاتا ہو وہ بھی متن کے ساتھ ! اگر یہ روایت مصنف عبد الرزاق کی نہیں تھی تو پھر کہاں سے آئی؟ اس کا جواب کون دے گا – کیا ان لوگوں نے اس کو گھڑا ؟ کسی نے اس بنا پر  القسطلاني اور العجلوني کو کذاب قرار نہیں   دیا ہے

نوٹ: احناف بھی اس روایت کو رد کرتے ہیں
إرشاد العاثر لوضع حديث أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر از حسن السقاف
مرشد الحائر لبيان وضع حديث جابر از عبد الله بن الصديق الغماري

سیوطی نے اس روایت کا دفاع نہیں کیا ہے بلکہ ان سے سوال ہوا اس روایت پر
وَهَلِ الْوَارِدُ فِي الْحَدِيثِ: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ نُورَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ
تو کہا
وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ فِي السُّؤَالِ لَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ،
یہ مذکورہ حدیث جس پر سوال ہے اس کی اسناد پر اعتماد نہیں ہے
الحاوي للفتاوي

دور جدید میں لوگ اس جز مفقود کو غیر ثابت کہہ رہے ہیں- لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ اینے سارے لوگ جن میں بعض خود علم حدیث کے جاننے والے ہیں وہ اس روایت کا ذکر مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے کر گئے ہیں – بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ “ممکن” ہے ان سب لوگوں نے حوالے کو مواھب الدنیہ از قسطلانی سے نقل کیا ہو یعنی ان سب نے تحقیق نہیں کی بلکہ مکھی پر مکھی ماری اور مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیتے رہے – یہ قول وہابیوں میں مشہور ہے اس روایت کے جواب کے طور پر
سليمان بن سحمان النجدي (المتوفى: 1349هـ) نے کتاب الصواعق المرسلة الشهابية على الشبه الداحضة الشامية میں لکھا
هذا حديث موضوع مكذوب على رسول الله صلى الله عليه وسلم مخالف لصريح الكتاب والسنة، وهذا الحديث لا يوجد في شيء من الكتب المعتمدة
یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے رسول الله پر جھوٹ ہے کتاب و سنت کی مخالف ہے اور کتب معتمد میں نہیں ہے

یعنی ٧٨ سال پہلے اس کو گھڑی ہوئی کہا جاتا تھا – اس وقت کسی نے اس مصنف عبد الرزاق جز مفقود کا ذکر نہیں کیا کہ اس کی سند ثابت نہیں ہے

راقم کا  نقطہ نظر ہے کہ ممکن ہے کہ  یہ روایت عبد الرزاق نے روایت کی لیکن یہ ان کے دور اختلاط کی ہے

تقریب التہذیب از ابن حجر میں ہے

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير عمي في آخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعة مات سنة إحدى عشرة وله خمس وثمانون

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري .. ثقہ حافظ تھے مصنف   ہیں … آخری عمر میں تغیر کا شکار تھے اور ان میں تشیع تھی

محدث  ابن صلاح کا قول ہے عبد الرزاق ابن همام  مختلط تھے – اس پر  حافظ عراقی نے لکھا ہے
لم يذكر المصنف أحدا ممن سمع من عبد الرزاق بعد تغيره إلا إسحق بن إبراهيم الدبرى فقط وممن سمع منه بعد ما عمى أحمد بن محمد بن شبوية قاله أحمد بن حنبل وسمع منه أيضا بعد التغير محمد بن حماد الطهرانى والظاهر أن الذين سمع منهم الطبرانى فى رحلته إلى صنعاء من أصحاب عبد الرزاق كلهم سمع منه بعد التغير وهم أربعة أحدهم الدبرى الذى ذكره المصنف وكان سماعه من عبد الرزاق سنة عشر ومائتين

مصنف ( ابن الصلاح) نے ذکر نہیں کیا کہ عبد الرزاق سے کس نے تغیر کے بعد سنا صرف اسحاق بن ابراہیم کے اور جس نے سنا ان کے نابینا ہونے کے بعد ان میں ہیں احمد بن محمد یہ امام احمد نے کہا اور ان سے اس حالت میں سنا محمد بن حماد نے اور ان سے سنا طبرانی نے جب صنعاء کا سفر کیا – ان سب نے بعد میں سنا اور یہ چار ہوئے جن میں الدبری ایک ہیں ان سب نے ١٢٠  ھ میں سنا

  عالم اختلاط میں   عبد الرزاق  نے معمر عن ابن المنکدر کی سند سے بھی روایات بیان کی ہیں اور غیر عالم اختلاط میں بھی کی ہیں   مثلا

شعب الإيمان از بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: نَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ” ثَلَاثَةٌ هُنَّ فَوَاقِدُ: جَارُ سَوْءٍ فِي دَارِ مَقَامِهِ، وَزَوْجَةُ سَوْءٍ إِنْ دَخَلْتَ عَلَيْهَا آذَتْكَ، وَإِنْ غِبْتَ عَنْهَا لَمْ تَأْمَنْهَا، وَسُلْطَانٌ إِنْ أَحْسَنْتَ لَمْ يَقْبَلْ مِنْكَ وَإِنْ أَسَأْتَ لَمْ يُقِلْكَ “

سنن الکبری بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ , ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ” إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ , فَلْيَقُمْ؛ فَإِنَّهُ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ “

سوالات ابن هاني؛ 228/5 کے مطابق احمد نے  عبد الرزاق کے حوالے سے کہا
لا يعبأ بحديث من سمع منه وقد ذهب بصره، كان يلقن أحاديث باطلة
جس نے عبد الرزاق  کے نابینا ہونے کے بعد اس سے احادیث سنی ہیں، ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وہ باطل حدیثوں کی تلقین قبول کر لیتے  تھے۔

نور محمد کا عقیدہ اہل تشیع کا عقیدہ ہے –  اور  عبد الرزاق کو شیعہ بھی کہا گیا ہے

تقریب التہذیب از ابن حجر میں یہ الفاظ ہیں

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير عمي في آخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعة مات سنة إحدى عشرة وله خمس وثمانون

اس میں عبد الرزاق کو شیعہ لکھا گیا ہے

قال الذهبي: عبد الرزاق بن همام ابن نافع، الحافظ الكبير، عالم اليمن، أبو بكر الحميري الصنعاني الثقة الشيعي
امام الذھبی نے ان کو شیعی کہا ہے

رجال الطوسي جو شیعوں کی کتاب ہے اس میں عبد الرزاق کا شمار شیعوں میں کیا گیا ہے
اور امام جعفر کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے

کتاب نقد الرجال از السيد مصطفى بن الحسين الحسيني التفرشي کے مطابق
عبد الرزاق بن همام اليماني: من أصحاب الباقر والصادق عليهما السلام، رجال الشيخ

امام احمد نے کہا
العلل ومعرفة الرجال: 2 / 59 الرقم 1545
قال عبد الله بن أحمد بن حنبل: سألت أبي، قلت له: عبد الرزاق كان يتشيع ويفرط في التشيع ؟ فقال: أما أنا فلم أسمع منه في هذا شيئا، ولكن كان رجلا تعجبه أخبار الناس – أو الأخبار
عبد الله نے احمد سے سوال کیا : کیا شیعہ تھے اور مفرط تھے ؟ احمد نے کہا جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے ان سے ایسا کچھ نہیں سنا لیکن یہ ایک آدمی تھے جن کی خبروں پر لوگوں کو تعجب ہوتا

ابن عدی نے کہا
وقد روى أحاديث في الفضائل مما لا يوافقه عليها أحد من الثقات
یہ فضائل علی میں وہ روایت کرتے جن کی ثقات موافقت نہیں کرتے

یعنی اہل تشیع کے پاس یہ شیعہ تھے اور امام جعفر سے اور امام صادق سے روایت کرتے تھے

 جامع الترمذي ،  أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (بَابٌ فِي فَضْلِ النَّبِيِّ ﷺ​) جامع ترمذی: كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں  باب: نبی صلی الله علیہ وسلم  کی فضیلت کا بیان حدیث ٣٦٠٩ ہے​

حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ قَالَ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَفِي الْبَاب عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ
 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا:’ جب آدم روح اورجسم کے درمیان تھے

 امام ترمذی کہتے ہیں:   ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں  اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔

  مسند احمد میں بھی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: ” وآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ
عبد الله بن أبي الجذعاء مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ رضی الله عنہ  نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا اپ کب نبی ہوئے؟ فرمایا جب آدم جسد و روح کے درمیان تھے

اس کو شعیب نے صحیح کہا ہے- یہ روایت قابل غور ہے اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ آدم علیہ السلام اس وقت نبی نہیں تھے کیونکہ تخیلق سے پہلے تقدیر لکھی گئی اس میں تمام انبیاء جو صلب آدم سے ہیں ان کو نبی مقرر کیا گیا ان کی ارواح کو خلق کیا گیا اور آدم جب جسد و روح کے درمیان تھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مقدر لکھا گیا کہ یہ آخری نبی ہوں گے

طحاوی مشکل الاثار میں کہتے ہیں
وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” كُنْتُ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ “، فَإِنَّهُ، وَإِنْ كَانَ حِينَئِذٍ نَبِيًّا، فَقَدْ كَانَ اللهُ تَعَالَى كَتَبَهُ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ نَبِيًّا
اس حدیث میں ہے کہ وہ اس وقت نبی تھے   پس الله نے ان کا نبی ہونا لوح محفوط میں لکھا- یعنی بنی آدم کی تقدیر لکھی گئی جب آدم علیہ السلام  جسد اور روح کے درمیان کی حالت میں تھے

 مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنِّي عَبْدُ اللهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمُنْجَدِلٌ   فِي طِينَتِهِ

عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رضی الله عنہ نے کہا کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : میں الله کا غلام  ، نبیوں پر مہر ہوا اور ہے شک آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں تھے

اس کی سند میں سعيد ابن سويد الكلبي ہے اور امام بخاري کہتے ہیں : لم يصح حديثه اس کی حدیث صحیح نہیں

اور ابن حجر نے کتاب تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة میں اس کا ذکر کیا

قال البُخَارِيّ لم يَصح حَدِيثه يَعْنِي الَّذِي رَوَاهُ مُعَاوِيَة عَنهُ مَرْفُوعا إِنِّي عبد الله وَخَاتم النَّبِيين فِي أم الْكتاب وآدَم منجدل فِي طينته

امام بخاري کہتے ہیں اس کی حدیث صحیح نہیں یعنی حدیث جو مُعَاوِيَةُ بْنَ صَالِحٍ  نے سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ سے  موفوع روایت کیا ہے کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : میں الله کا غلام  ، نبیوں پر مہر ہوا اور ہے شک آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں تھے

کتاب الموضوعات  از ابن جوزی میں ہے

وَقد رَوَى جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَيَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِيهِ سُفْيَانَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْد عَن الْوَلِيد بن عبد الرحمن عَنْ نُمَيْرٍ الْحَضَرِيِّ عَنْ أَبِي ذَر قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” خُلِقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ مِنْ نُورٍ وَكُنَّا عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ اللَّهُ آدَمَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ثُمَّ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ فَانْقَلَبْنَا فِي أقلاب الرِّجَالِ ثُمَّ جَلَلْنَا فِي صُلْبِ عبد المطلب، ثُمَّ شَقَّ اسْمَانَا مِنِ اسْمِهِ فَاللَّهُ مَحْمُودٌ وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَاللَّهُ الاعلى وعَلى عليا “.

هَذَا وَضعه جَعْفَر بن أَحْمَدَ وَكَانَ رَافِضِيًّا يضع الحَدِيث.

أَبِي ذَر نے کہا رسول الله نے فرمایا میں اور علی کو نور سے خلق کیا گیا اور ہم تخلیق آدم سے ہزار سال پہلے سے  عرش کے دائیں طرف  تھے  پھر الله تعالی نے آدم کو خلق کیا پھر ہم کو رجال کے دلوں میں سے گزارا پھر صلب عبد المطلب میں رکھا پھر ہمارے ناموں کو الله کے نام کے ساتھ شق کیا گیا کہ میں محمد ہوں  اور الله محمود ہے اور الله الاعلى ہے اور علی علیا ہے

ابن جوزی نے کہا اس کو رافضی جَعْفَر بن أَحْمَدَ (بن علي بن بيان المتوفی ٣٠٤ ھ )  نے گھڑا ہے

فضائل الصحابة از أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) کی روایت ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ قثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ قثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنَّا أَنَا وَعَلِيٌّ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ عَامٍ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ قَسَمَ ذَلِكَ النُّورَ جُزْءَيْنِ، فَجُزْءٌ أَنَا، وَجُزْءٌ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
سلمان نے روایت کیا کہ میں نے اپنے حبیب رسول الله سے سنا کہ میں اور علی الله تعالی کے سآمنے ١٤٠٠٠ سال تک ایک نور کی طرح تھے قبل اس کے کہ آدم خلق ہوتے پس جب الله نے آدم کو خلق کیا اس نور کو تقسیم کیا ایک جز سے میں بنا ایک سے علی

اس کی سند میں الحسن بن على ہے- تاریخ دمشق میں اس کی سند ہے
أخيرنا أبو غالب بن البنا أنا أبو محمد الجوهري أنا أبو علي محمد بن أحمد بن يحيى العطشي نا أبو سعيد العدوي الحسن بن علي أنا أحمد بن المقدام العجلي أبو الأشعث (2) أنا الفضيل بن عياض عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبي رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول كنت أنا وعلي نورا بين يدي الله مطيعا يسبح الله ذلك النور ويقدسه قبل أن يخلق ادم بأربعة عشر ألف عام فلما خلق الله ادم ركز ذلك النور في صلبه فلم نزل (3) في شئ واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب فجزء أنا وجزء علي

اس سند سے معلوم ہوتا ہے کہ سند میں أبو سعيد العدوي الحسن بن علي ہے جو اصل میں
أبو سعيد العدوي الحسن بن على بن زكريا بن صالح ، اللؤلؤى، البَصْري، الذئب ہے اور متروک ہے – یہ روایت أبو بكر بن مالك القطيعي کا اضافہ ہے کیونکہ أبو سعيد العدوي الحسن بن على کی پیدائش ٢١٠ ہجری کی ہے اور امام احمد کی وفات  کے وقت یہ بچہ ہو گا

شیعوں کی کتاب الخصال از صدوق أبى جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمى
المتوفى 381 ھ ، منشورات  جماعة المدرسين في الحوزة العلمية قم المقدسة میں روایت ہے

روى الصدوق في الخصال: 481 ـ 482؛ وفي معاني الأخبار: 306 ـ 308، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الرحمن بن عبد الله بن الحسين بن إبراهيم
ابن يحيى بن عجلان المروزي المقرئ قال : حدثنا أبوبكر محمد بن إبراهيم الجرجاني
قال : حدثنا أبوبكر عبد الصمد بن يحيى الواسطي قال : حدثنا الحسن بن علي المدني، عن عبد الله بن المبارك، عن سفيان الثوري، عن جعفر بن محمد الصادق، عن أبيه، عن جدّه، عن عليّ بن أبي طالب(عم) قال: «إنّ الله تبارك وتعالى خلق نور محمد(ص) قبل أن خلق السماوات والأرض والعرش والكرسيّ واللوح والقلم والجنّة والنار، وقبل أن خلق آدم ونوحاً…، ثمّ أظهر عزَّ وجلَّ اسمَه على اللوح، وكان على اللوح منوِّراً أربعة آلاف سنة، ثم أظهره على العرش، فكان على ساق العرش مثبَتاً سبعة آلاف سنة، إلى أن وضعه اللهُ عزَّ وجلَّ في صلب آدم…».

اس کتاب کے محقق على اكبر الغفارى کا کہنا ہے کہ سند میں مجہولین ہیں

 على بن الحسن بن شقيق أبو عبد الرحمن المروزى ، وجميع رجال السند إلى هنا مجهول ولم أظفر بهم

بھر حال شیعہ آجکل اس کا رد کر رہے ہیں کہ نور محمد کو سب سے پہلے خلق کیا گیا

قراءةٌ في العدد المزدوج (40ـ41) من مجلة الاجتهاد والتجديد

Posted in Aqaid, innovations, Mysticism | 23 Comments

حرہ کی رات اور ابن المسیب کا قول

سنن الدارمی میں ہے

أخبرنا مروان بن محمد، عن سعيد بن عبد العزيز، قال: لما كان أيام الحرة لم يؤذن في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا، ولم يقم، ولم يبرح سعيد بن المسيب المسجد، وكان لا يعرف وقت الصلاة إلا بهمهمة يسمعها من قبر النبي صلى الله عليه وسلم فذكر معناه

سعیدبن عبد العزیز کہتے ہیں کہ جب ایام حرہ  کے دن تھے تو تین دنوں تک مسجد نبوی میں اذان اوراقامت نماز  نہیں ہوئی ، اورسعید بن المسیب ان دنوں مسجد نبوی ہی میں ٹہرے رہے  اور  جب نماز کا وقت ہوجاتا پتا نہیں چلتا سوائے اس کے کہ   قبر نبوی سے اذان کی آواز سنائی دیتی

یہ سند منقطع ہے – سعید بن عبدالعزیز کی پیدائش  نوے  ہجری میں ہوئی ہے یہ   آخری عمر میں مختلط  بھی تھے

امام الذھبی    سير أعلام النبلاء میں لکھتے ہیں :   وُلِدَ: سَنَةَ تِسْعِيْنَ، فِي حَيَاةِ سَهْلِ بنِ سَعْدٍ  یہ سن ٩٠ میں سھل بن سعد کی زندگی میں پیدا ہوا –  امام الذھبی    سير أعلام النبلاء میں   یہ بھی لکھتے ہیں :  وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ، وَعَلِيُّ بنُ المَدِيْنِيِّ: تُوُفِّيَ سَنَةَ ثَلاَثٍ وَتِسْعِيْنَ   ابو نعیم  اور امام علی کا کہنا ہے کہ  سعیدبن المسیب کا انتقال سن ٩٣ میں ہوا

دوسرا طرق  طبقات ابن سعد میں ہے

 أخبرنا الوليد بن عطاء بن الأغر المكي قال: أخبرنا عبد الحميد بن سليمان عن أبي حازم قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: لقد رأيتني ليالي الحرة وما في المسجد أحد من خلق الله غيري، وإن أهل الشام ليدخلون زمرا زمرا يقولون: انظروا إلى هذا الشيخ المجنون، وما يأتي وقت صلاة إلا سمعت أذانا في القبر ثم تقدمت فأقمت فصليت وما في المسجد أحدغيري

 اسی سند سے   تاريخ ابن أبي خيثمة میں ہے

 حَدَّثَنا مُحَمَّد بن سُلَيْمَان لوين ، قال : حدثنا عَبْد الحميد بن سُلَيْمَان ، عن أبي حازم ، عن سعيد بن الْمُسَيَّب ، قال : لقد رأيتني ليالي الْحَرَّة وما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدٌ غيري ، ما يأتي وقت صلاةٍ إلا سمعت الآذان مِن القبْر

 عبد الحميد بن سليمان نے ابو حازم سے روایت کیا کہا میں نے سعید بن المسیب کو کہتے سنا کہتے میں نے حرہ کی راتیں دیکھیں اور مسجد میں کوئی خلق الله میرے سوا نہ تھی اور اہل شام  گروہ گروہ مسجد میں آ رہے تھے اور کہتے اس بڈھے مجنوں کو دیکھو اور نماز کا وقت نہ اتا سوائے اس کے کہ میں قبر النبی سے اذان سنتا تو نماز  پڑھتا اور مسجد میں میرے سوا کوئی نہ تھا

ان سندوں میں عبد الحميد بن سليمان الخزاعى   ہے جو ضعیف ہے

تیسرا طرق طبقات ابن سعد میں  ہے

قال: أخبرنا محمد بن عمر قال: حدثني طلحة بن محمد بن سعيد عن أبيه قال: كان سعيد بن المسيب أيام الحرة في المسجد لم يبايع ولم يبرح، وكان يصلي معهم الجمعة ويخرج إلى العيد، وكان الناس يقتتلون وينتبهون وهو في المسجد لا يبرح إلا ليلا إلى الليل. قال فكنت إذا حانت الصلاة أسمع أذانا يخرج من قبل القبر حتى أمن الناس وما رأيت خبرا من الجماعة

طلحة بن محمد بن سعید بن المسیب  نے اپنے باپ (یعنی ابن المسیب کے بیٹے ) سے روایت کیا کہ سعید بن المسیب ایام الحره میں مسجد میں ہی رہے انہوں نے بیعت نہ کی اور وہ جمعہ کی نماز تو ان کے ساتھ پڑھتے لیکن عید پر نہ نکلتے اور لوگ قتل ہو رہے تھے اور ابن المسیب کو تنبیہ کی جا رہی تھی وہ مسجد میں ہی رکے رہے سوائے راتوں میں – کہا پس جب نماز کا وقت اتا وہ اذان قبر سے سنتے جو قبر سے نکلتی یہاں تک کہ امن ہوا

طلحة بن محمد بن سعید بن المسیب کے لئے امام ابی حاتم کا کہنا ہے

قال أبو حاتم: لا أعرفه  میں اس کو نہیں جانتا

معلوم ہوا کہ سعید بن المسیب سے اس قول کو دو  غیروں اور ایک پوتے نے منسوب کیا ہے

عبد الحميد بن سليمان الخزاعى  – مدینہ کا ہے لیکن بغداد میں جا کر رہا وفات ١٧٠ سے  ١٨٠ ھ کے درمیان ہے

طلحة بن محمد بن سعید بن المسیب – وفات معلوم نہیں ہے مدینہ کا ہے

سعيد بن عبد العزيز بن أبى يحيى التنوخى – وفات  ١٦٧ ھ  کے قریب ہے  – دمشق کے ہیں

راقم کہتا ہے یہ روایت منقطع و مجہول و ضعیف سند سے تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اجماع کیسے ہوا کہ ایک دمشقی  پھر ایک بغدادی اور ایک مدنی نے اس قول کو ابن المسیب سے الگ الگ علاقوں میں منسوب کیا – اس کے علاوہ اس قول کو منسوب کرنے میں دو غیر ہیں ایک پوتا ہے – یہ سب قابل غور ہے – روایت ضعیف تو ہے لیکن اس قول کی تہہ تک جانا ہو گا کہ ایسا ابن المسیب سے منسوب کیوں کیا گیا یا واقعی انہوں نے کہا

اب دو ہی صورتیں ہیں

اگر یہ ابن المسیب نے نہیں کہا تو سوال ہے کہ   ان تین راویوں کو کس نے  مجبور کیا کہ وہ اس قول کو ابن المسیب سے منسوب کریں- کیا بنو عباس نے ان راویوں سے کہلوایا کہ وہ  بنو امیہ کی تنقیص میں اس کو بیان کریں؟ راقم کو بنو عباس کا اس قسم کا اثر رسوخ معلوم نہیں ہے لیکن یہ دور سن ١٥٠ سے ١٨٠ ھ  کا معلوم ہوتا ہے – ابو جعفر المنصور  کی خلافت  سن ١٥٨ ھ تک تھی اور إس کے بعد أبو عبد الله محمد بن عبد الله المنصور بن محمد بن علي المهدي بالله  کی خلافت سن ١٦٩ ھ  تک تھی

اگر واقعی یہ قول ابن المسیب نے کہا تو اس کا مطلب ہے کہ سعید بن المسیب آخری عمر میں مختلط تھے

راقم سمجھتا ہے کہ   اغلبا سعید بن المسیب آخری عمر میں مختلط تھے

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابٌ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں (باب)

4024 . وَعَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ الْأُولَى يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَحَدًا ثُمَّ وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ الثَّانِيَةُ يَعْنِي الْحَرَّةَ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ أَحَدًا ثُمَّ وَقَعَتْ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تَرْتَفِعْ وَلِلنَّاسِ طَبَاخٌ

اور اسی سند سے مروی ہے ، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا ، اگر مطعم بن عدی رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے اور ان پلید قیدیوں کے لیے سفارش کرتے تو میں انہیں ان کے کہنے سے چھوڑ دیتا ۔ اور لیث نے یحییٰ بن سعید انصاری سے بیان کیا ، ا نہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ پہلا فساد جب برپا ہوا یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تو اس نے اصحاب بدر میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا ، پھر جب دو سرا فساد برپا ہوا یعنی حرہ کا ، تو اس نے اصحاب حدیبیہ میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا ، پھر تیسرا فساد برپا ہوا تو وہ اس وقت تک نہیں گیا جب تک لوگوں میں کچھ بھی خوبی یا عقل باقی تھی

یہ حدیث تاریخا غلط ہے – بہت سے بدری اصحاب رسول کی وفات دور معاویہ رضی الله عنہ میں ہوئی ہے اور یہ قول کہنا کہ  عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت   نے اصحاب بدر میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا  – یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ابن المسیب کا اختلاط ہے

Posted in history | Leave a comment