معاویہ و یزید کے خلاف چارج شیٹ

محرم کی آمد ہے اور امت پر اس ماہ میں اصحاب رسول و صالحین پر شب و شتم جائز ہو جاتا ہے- علماء و ذاکرین دل کھول کر بھڑاس نکالتے ہیں – ان پیشہ وروں کی اصلاح تو نا ممکن ہے لیکن ہم نے حسب موقعہ محرم کی مناسبت سے اصحاب رسول اور ان کی اولاد کے لئے ایک چارج شیٹ تیار کی ہے تاکہ ہمارے قارئین ان مقدمات کو سمجھ سکیں

یہ لسٹ ہماری نہیں ہے ایک غیر مقلدین کی ویب سائٹ سے لی ہے – افسوس رافضیوں کو کیا کوسین – اہل سنن اور  سلف کے متبع ہی اس میں اس قدر مشغول ہیں کہ کسی اور کا کیا شکوہ کریں

غیر مقلدین کی  سرخ لسٹ دیکھتے ہیں اور اس پر ہم تبصرہ کریں گے

لسٹ ہے

اول : عید کے خطبات نماز سے پہلے کیے جانے لگے۔ صحیح بخاری کتاب العیدین
دوم: نمازیں لیٹ پڑھائی جانے لگیں صحیح بخاری و صحیح مسلم
سوم: حج میں تلبیہ پڑھنے سے روکا جانے لگا سنن نسائی
چہارم : علی پر جمعہ اور عید کے خطبوں میں لعن کیا جانے لگا سنن ابو داود ،مسند احمد
پنجم: سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین پر عمل ختم ہوتا جا رہا تھا۔ سلسلہ احادیث الصحیحہ
ششم : زكاة کا بے جا مصرف کیا جانے لگا مصنف ابن ابی شیبہ ، اروء الغلیل للالبانی
ہفتم : ظلم وجبر سے امت کو خاموش کروایا گیا بخاری ، مسلم ،ابوداود
ہشتم: محرمات سے نکاح ہوا
نہم: یزید شرابی تھا
دھم: یزید کتوں اور بندروں سے کھیلتا تھا

اول  : عید کے خطبات نماز سے پہلے کیے جانے لگے۔ صحیح بخاری کتاب العیدین

صحیح بخاری کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدٌ بن أسلم عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلاَةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَهْوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ فَجَبَذَنِي فَارْتَفَعَ، فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ. فَقَالَ: يا أَبَا سَعِيدٍ، قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ. فَقُلْتُ مَا أَعْلَمُ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ. فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ”.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عید  الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ جاتے اور سب سے پہلے عید نماز پڑھاتے  اور سلام پھیرنے کے بعد  لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے، لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں  وعظ و نصیحت فرماتے اور نیکی کا حکم دیتے، پھر اس کے بعد اگر کسی مہم پر صحابہ کرام کو روانہ کرنا ہوتا تو افراد چن کر روانہ کر دیتے، یا کسی کام کا حکم دینا ہوتا تو حکم دے کر گھروں کی جانب واپس روانہ ہوتے  ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : لوگوں کا اسی پر عمل جاری و ساری رہا ، یہاں تک کہ میں مدینہ کے گورنر مروان کے ساتھ عید الاضحی یا عید الفطر کے موقع پر عید گاہ گیا  ، جب ہم عید گاہ پہنچے تو وہاں کثیر بن صلت نے منبر بنایا ہوا تھا، تو مروان نے نماز سے قبل منبر پر چڑھنا چاہا  تو میں نے اس کے کپڑے سے کھینچا، تو مروان اپنا کپڑا چھڑوا کر منبر پر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے لوگوں سے خطاب کیا، اس  پر میں [ابو سعید] نے کہا:  اللہ کی قسم ! تم نے دین بدل دیا ہے   تو مروان نے کہا:  ابو سعید  جو باتیں تم جانتے ہو [ان کا دور ]اب نہیں رہا
ابو سعید نے جواب دیا:  اللہ کی قسم  جو باتیں میرے علم میں ہیں وہ ان سے کہیں بہتر ہیں جو میرے علم میں نہیں ہیں
مروان نے کہا:  لوگ نماز کے بعد ہمارے خطاب کیلیے بیٹھتے  نہیں تھے، اس لیے میں نے اپنے خطاب کو ہی نماز سے پہلے کر دیا

اس میں معاویہ رضی الله عنہ کا قصور کیا ہے اس دور میں کوئی ان کو ایس ایم ایس میسج بھیج کر بتا دیتا کہ مدینہ میں مروان نے ایسا کیا تو وہ اس کو روک دیتے اور کیا یہ خطبہ سننے سے بچنے کے لیے لوگ چلے گئے یہ کیا صحیح تھا ؟ اگر یہ لوگ عید کا خطبہ نہیں سننا چاہتے تھے تو یہ تو واجب نماز تھی – فرض جمعہ میں کیا ہوتا تھا اس پر کتب خاموش ہیں کون کون اس خطبہ  جمعہ کو چھوڑتا تھا ؟

اسنادی نکات : روایت عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ  المتوفی ٧٤ ھ کی سند سے ہے

محدثین کے مطابق یہ سماع صحیح ہے البتہ ثقات ابن حبان میں ہے

عِيَاض بْن عَبْد الله يروي عَن أَبِيه عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ روى عَنهُ سَلمَة بْن كهيل وَلَيْسَ هَذَا بِابْن أبي سرح

عِيَاض بْن عَبْد الله جو اپنے باپ سے وہ ابو سعید سے روایت کرنا ہے وہ ابن ابی سرح نہیں ہے

مسئلہ یہ ہے کہ عِيَاض بْن عَبْد الله کا سماع ابو سعید سے اگر ہے تو مدینہ میں ہی دیگر اصحاب نبی مثلا جابر بن عبد الله سے کیوں نہیں ہے جبکہ یہ بھی ایک ہی دور کے مدنی اصحاب رسول ہیں دوسری طرف محدثین میں سے بعض  نے کہا ہے یہ مکہ کے ہیں

وقال ابن يونس:عياض بن عبد الله بن سعد بن أبى سرح   ولد بمكة، ثم قدم مصر، فكان مع أبيه، ثم خرج إلى مكة، فلم يزل بها حتى مات

ابن یونس  نے کہا عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح مکہ میں پیدا ہوا پھر باپ کے ساتھ مصر گیا پھر مکہ لوٹا اور وہیں  رکے یہاں تک کہ وفات ہوئی

جبکہ تاریخ الکبیر امام بخاری میں  ہے يُعَدُّ فِي أهل المَدِينة ان کاشمار اہل مدینہ میں ہے – ثقات ابن حبان میں ہے  عِدَادُهُ فِي أهل الْمَدِينَة ان کا شماراہل مدینہ میں ہے

راقم کو عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح کی جابر رضی الله عنہ سے کوئی مسند روایت نہیں ملی

عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح کا ابو سعید رضی الله عنہ سے روایت کرنا اور جابر رضی الله عنہ  سے روایت  نہ کرنا عجیب بات ہے جبکہ جابر رضی الله عنہ کی وفات کہا جاتا ہے ٧٨  میں ہوئی ہے

—————

مصنف عبد الرزاق کی روایت  5644  ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ،  عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، لَمَّا رَأَى النَّاسَ يَنْقُصُونَ فَلَمَّا صَلَّى حَبَسَهُمْ فِي الْخُطْبَةِ».

يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ کہتے ہیں کہ عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا عمر رضی الله عنہ نے شروع کیا  جب دیکھا کہ لوگ کم ہونے لگے ہیں

یہی بات یوسف نے عثمان رضی الله عنہ کے لئے بھی بولی

اور امام الزہری کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ  نے اس کو شروع کیا

معمر کہتے ہیں ان کو پہنچا کہ عثمان اپنی خلافت کے آخری دور میں ایسا کرتے تھے

ابن حجر فتح الباری ج ٢ ص ٤٥٠ میں لکھتے ہیں کہ نماز عید سے پہلے خطبہ عثمان بھی دیتے تھے

وَسَيَأْتِي فِي الْبَابِ الَّذِي بَعْدَهُ أَنَّ عُثْمَانَ فَعَلَ ذَلِكَ أَيْضًا لَكِنْ لِعِلَّةٍ أُخْرَى

اور آگے باب میں ہے کہ عثمان بھی ایسا کرتے تھے لیکن اس کی وجہ اور ہے

کتاب : كوثَر المَعَاني الدَّرَارِي في كَشْفِ خَبَايا صَحِيحْ البُخَاري از محمَّد الخَضِر بن سيد عبد الله بن أحمد الجكني الشنقيطي (المتوفى: 1354هـ) کے مطابق عید کی نماز سے پہلے خطبہ دینا

وقيل بل سبقه إليه عثمان؛ لأنه رأى ناسًا لم يدركوا الصلاة فصار يقدم الخطبة رواه ابن المنذر بإسناد صحيح إلى الحسن البصري

عثمان نے کیا کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ لوگ نماز میں نہیں آ رہے پس خطبہ کو پہلے کیا اس کو ابن المنذر نے صحیح اسناد سے حسن بصری سے روایت کیا ہے

ابو مسعود عقبة بن عمرو بن ثعلبة  رضی الله عنہ کی وفات ٣٩ یا ٤٠ ہجری میں ہوئی اور مصنف عبد الرزاق کی روایت 5648  ہے

 عَبْدُ الرَّزَّاقِ،   عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَقُولُ: «خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ – أَوْ أَضْحَى – هُوَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي مَسْعُودٍ حَتَّى أَفْضَيْنَا إِلَى الْمُصَلَّى، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ الْكِنْدِيُّ قَدْ بَنَى لِمَرْوَانَ مِنْبَرًا مِنْ لَبِنٍ وَطِينٍ، فَعَدَلَ مَرْوَانُ إِلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى حَاذَى بِهِ فَجَاذَبْتُهُ لِيَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ»، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، تُرِكَ مَا تَعْلَمُ، فَقَالَ: كَلَّا وَرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا نَعْلَمُ ثُمَّ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ

عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْح کہتے ہیں کہ ابو سعید سے سنا کہ میں مروان کے ساتھ یوم فطر یا عید الاضحی پر نکلا اور میرے اور مروان کے درمیان ابی مسعود تھے یہاں تک کہ نماز کی جگہ پہنچے پس کثیر بن الصلت نے مروان کے لئے ایک منبر بنوایا ہوا تھا جس پر مروان چڑھا پھر اس پر سے نماز کے لئے اٹھا  پس کہا اے ابو سعید چھوڑ دیا جس کو تم جانتے تھے اس پر ابو سعید نے کہا ہرگز نہیں مشارق و مغارب کے رب کی قسم تم اس خیر تک نہیں پہنچو گے جس کو ہم جانتے ہیں – پھر خطبہ شروع کیا

عینی عمدہ القاری میں لکھتے ہیں

وَزَاد عبد الرَّزَّاق عَن دَاوُد ابْن قيس وَهُوَ بيني وَبَين أبي مَسْعُود، يَعْنِي: عقبَة بن عَمْرو الْأنْصَارِيّ

ابی مسعود سے مراد عقبَة بن عَمْرو الْأنْصَارِيّ  ہیں

کثیر بن صلت کے لئے ابن سعد طبقات میں واقدی کے حوالے سے لکھتے ہیں

وَلَهُ دَارٌ بِالْمَدِينَةِ كَبِيرَةٌ فِي الْمُصَلَّى وَقِبْلَةُ الْمُصَلَّى فِي الْعِيدَيْنِ إِلَيْهَا.

ان کا ایک بڑا گھر مدینہ میں تھا مصلی کے ساتھ اور اس میں عیدیں کے لئے مصلی کا قبلہ تھا

یہ روایت المسنَد الصَّحيح المُخَرّج عَلى صَحِيح مُسلم از  أبو عَوانة يَعقُوب بن إسحَاق الإسفرَايينيّ (المتوفى 316 هـ) میں بھی ہے جہاں اس میں ابی مسعود صحابی کا ذکر ہے

سیر الاعلام النبلاء میں الذھبی کہتے ہیں

قال المدائني وغيره: تُوُفيّ سنة أربعين. وقال خليفة تُوُفيّ قبل الأربعين وقال الواقدي: مات في آخر خلافة معاوية بالمدينة.

المدائني اور دیگر نے کہا کہ ان کی وفات ٤٠ ھ میں ہوئی اور خلیفہ نے کہا ٤٠ سے بھی پہلے  اور واقدی نے کہا کہ معاویہ کی خلافت میں مدینہ میں

ابن حبان ، مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار   میں کہتے ہیں

مات بالكوفة في خلافة على بن أبى طالب وكان عليها واليا له

ان کی وفات کوفہ میں علی رضی الله عنہ کی خلافت میں ہوئی ان کی طرف سے وہاں کے والی تھے

الأعلام میں  الزركلي الدمشقي (المتوفى: 1396هـ) کہتے  ہیں ابی مسعود : ونزل الكوفة. وكان من أصحاب علي،  فاستخلفه عليها لما سار إلى صفين (انظر عوف بن الحارث) وتوفي فيها  کی وفات کوفہ میں ہوئی

جمہور محدثین و مورخین کے مطابق ابی مسعود رضی الله عنہ کی وفات دور علی میں کوفہ میں ہوئی

یعنی ابی مسعود تو کوفہ میں دور علی میں وفات پا گئے تو اب وہ مروان کا دور کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ دور معاویہ کا ہے ہی نہیں – یہ دور عثمان کا ہو گا جب مروان کو کسی بنا پر امیر مقرر کیا گیا ہو گا   اور مروان اور ابی مسعود اور ابو سعید الخدری نے ساتھ نماز پڑھی

 اگرچہ متاخرین  شارحیین نے جمہور کا قول چھوڑ کر  واقدی کے قول پر اعتماد کیا ہے  اور دعوی کیا ہے  ابی مسعود نے  معاویہ کے دور میں وفات پائی

راقم کہتا ہے واقدی کا  منفرد قول  جمہور کے مقابلے پر شاذ ہے ابی مسعود کا انتقال دور علی میں ہوا

عثمان رضی الله عنہ کے دور میں جمعہ کی نماز بازار میں ہوتی تھی کیونکہ لوگ زیادہ تھے – اسی طرح عید کی واجب نماز میں ابن منذر کے بقول انہوں نے خطبہ پہلے دیا کہ لوگ جمع ہو لیں

راقم کی رائے میں روایت میں ابی مسعود کی موجودگی سے پتا چلتا ہے کہ یہ دور معاویہ کا واقعہ ہے ہی نہیں

شیعہ عالم کتاب الدرجات الرفيعة- السيد علي ابن معصوم ، عقبة بن عمرو رضی الله عنہ پر کہتے ہیں
وقال أبو عمرو كان قد نزل الكوفة وسكنها واستخلفه على في خروجه إلى صفين. ومات سنة احدى أو اثنتين أو أربعين والله أعلم
ابو عمر نے کہا کہ یہ کوفہ آئے اور اس میں رکے اور علی نے ان کو صفین جاتے وقت امیر کوفہ کیا اور یہ سن ٤٢ یا ٤١ میں مرے

یعنی شیعوں اور سنیوں کے بقول عقبة بن عمرو رضی الله عنہ دور معاویہ سے پہلے دور حسن میں انتقال کر گئے تھے
تو پھر راقم کہتا ہے کھینچ تان کر کے اس روایت کو دور معاویہ تک کیسے لایا جا سکتا ہے؟

سن ٣١ ہجری کا واقعہ ہے جو صحیح البخاری میں ہی ہے

حدیث نمبر: 3717حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ وَقَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”.ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور (زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔

یعنی یہ خطبہ کو پہلے کرنے  کا واقعہ عثمان رضی الله عنہ کی بیماری کی وجہ سے پیش آیا جس میں اپ حج پر نہ جا سکے اور اتنے بیمار ہوئے کہ وصیت تک کر دی-  عقبة بن عمرو بن ثعلبة الخزرجي، أبو مسعود البدري کی وجہ سے یہ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ دور عثمان کا ہے اور مدینہ کا ہے تو خطبہ عید دینا عثمان رضی الله عنہ کا کام ہے مروان کا نہیں ہے – مروان کا یہ کام کرنا بطور علت ہے جس کی وجہ نکسیر پھوٹنے کی بیماری ہے اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں ہو سکتی

مصنف عبد الرزاق میں ہے
ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، لَمَّا رَأَى النَّاسَ يَنْقُصُونَ فَلَمَّا صَلَّى حَبَسَهُمْ فِي الْخُطْبَةِ».
یوسف نے کہا جس نے عید کی نماز میں خطبہ پہلے کیا وہ عمر ہیں جب دیکھا کہ لوگ کم ہو گئے ہیں

تاریخ أبي زرعة الدمشقي میں ہے
حدثنا خلف بن هشام المقرئ قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد قال: غدوت مع يوسف بن عبد الله بن سلام في يوم عيد، فقلت له: كيف كانت الصلاة على عهد عمر ؟ قال: كان يبدأ بالخطبة، قبل الصلاة ـ

يحيى بن سعيد  نے کہا میں نے يوسف بن عبد الله بن سلام کے ساتھ عید کے دن پوچھا کہ عہد عمر میں عید کی نماز کیسی تھی ؟ کہا عمر بن خطاب خطبہ دیتے  نماز عید سے پہلے

ان آثار کو محدثین نے غریب یعنی منفرد کہا ہے لیکن اس کو رد نہیں کیا کیونکہ سند میں کوئی ایسی علت نہیں کہ ان کو غیر صحیح قرار دیا جائے –  معلوم ہوا کہ عموم یہ ہے کہ نماز پہلے پھر  خطبہ دیا جاتا تھا لیکن کسی وجہ سے اس کو آگے پیچھے عمر رضی الله عنہ نے کیا ہے عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے

الأوسط از ابن المنذر میں ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يُصَلُّونَ ثُمَّ يَخْطُبُونَ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَأَى أَنَّهُمْ لَا يُدْرِكُونَ الصَّلَاةَ خَطَبَ ثُمَّ صَلَّى
حسن بصری نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں ابی بکر کے دور میں عمر کے دور میں عثمان کے دور میں نماز ہوتی پھر خطبہ لیکن جب لوگ زیادہ ہوئے دور عثمان میں تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ نماز کو نہیں پاتے تو انہوں نے خطبہ کیا پھر نماز

یعنی لوگوں کو اتے اتے وقت لگتا اور نماز چھوٹ جاتی لہذا آسانی کی وجہ سے ہوا – بہر حال حسن بصری نے ان تمام ادوار کو نہیں دیکھا لہذا کسی نے ان کو خبر دی ہو گی اس کے برعکس یوسف نے ان ادوار کو دیکھا ہے

کتاب الام میں شافعی نے جو روایت دی وہ ہے
أخبرنا الرَّبِيعُ قال أخبرنا الشَّافِعِيُّ قال أخبرنا إبْرَاهِيمُ قال حدثني دَاوُد بن الْحُصَيْنِ عن عبد اللَّهِ بن يَزِيدَ الْخِطْمِيِّ أَنَّ النبي صلى اللَّهُ عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَبْتَدِئُونَ بِالصَّلَاةِ قبل الْخُطْبَةِ حتى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فَقَدَّمَ الْخُطْبَةَ.
رسول الله، ابو بکر عمر اور عثمان سب نماز کے بعد خطبہ عید دیتے لیکن جب معاویہ آئے تو انہوں نے خطبہ پہلے کر دیا

راقم کہتا ہے اس کی سند میں إبراهيم بن أبي يحيى الأسلمي ہے جو متروك الحديث ہے

فتح الباری میں ابن حجر نے لکھا ہے
وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عُثْمَانُ فَعَلَ ذَلِكَ أَحْيَانًا بِخِلَافِ مَرْوَانَ فَوَاظَبَ عَلَيْهِ فَلِذَلِكَ نُسِبَ إِلَيْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ مِثْلُ فِعْلِ عُثْمَانَ قَالَ عِيَاضٌ وَمَنْ تَبِعَهُ لَا يَصِحُّ عَنْهُ وَفِيمَا قَالُوهُ نَظَرٌ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّزَّاقِ وبن أبي شيبَة روياه جَمِيعًا عَن بن عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَهَذَا إِسْنَاد صَحِيح
اور احتمال ہے اس طرح خطبہ پہلے کرنا عثمان رضی الله عنہ نے کبھی کبھی کیا ہے … اور روایت کیا گیا ہے کہ ایسا عمر نے بھی کیا ہے اور قاضی عِيَاضٌ اور ان کی اتباع کرنے والوں نے کہا ہے یہ صحیح نہیں اس پر نظر ہے اور مصنف عبد الرزاق اور ابن ابی شیبہ میں دونوں نے اس کو .. یوسف بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ  کی سند سے روایت کیا ہے اور یہ سند صحیح ہے

أبو العبَّاس أحمَدُ بنُ الشيخِ کتاب المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم میں کہتے ہیں
وقد رُوِيَ أنَّ أوَّلَ مَنْ فعل ذلك عمر بن الخَطَّاب ، وقيل : عثمان ، وقيل : عَمَّار ، وقيل : ابن الزبير ، وقيل : معاوية ـ رضى الله عنهم ـ … فإنْ صحَّ عن واحدٍ مِنْ هؤلاء أنَّه قدَّم ذلك ، فلعلَّه إنما فعل ؛ لمَا رأى من انصرافِ الناسِ عن الخُطْبة ، تاركين لسماعها مستعجلين ، ، أو ليدرك الصلاَة مَنْ تأخَّر وبَعُدَ منزلُهُ.
اور روایت کیا گیا ہے سب سے عید کی نماز کرنا بھر خطبہ دینا عمر نے کیا اور کہا جاتا ہے عثمان نے کیا اور کہا جاتا ہے عمار نے کیا اور کہا جاتا ہے ابن زبیر نے کیا اور کہا جاتا ہے معاویہ نے کیا پس اگر یہ ان سب سے صحیح ہیں جن کا ذکر کیا تو ہو سکتا ہے انہوں نے ایسا کیا ہو جب دیکھا کہ لوگ خطبہ پر جا رہے ہیں اور جلدی میں خطبہ نہیں سن رہے اور نماز میں دیر کر رہے ہیں

راقم کہتا ہے اگر کوئی بیماری عام ہو یا کوئی اور وجہ ہو مثلا قحط وغیرہ تو ایسا کیا جا سکتا ہے

دوم:  نمازیں لیٹ پڑھائی جانے لگیں  صحیح بخاری و صحیح مسلم

معاویہ و یزید پر یہ الزام ثابت نہیں ہے یہ عبد الملک بن مروان کے دور کا ذکر ہے کہ اس میں کہا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف نماز وقت پر نہیں پڑھاتا تھا

صحیح میں ہے

وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ الحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي المَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: «إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلاَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ»، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «صَدَقَ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالعَصْرِ فِي السُّنَّةِ»، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: «وَهَلْ تَتَّبِعُونَ فِي ذَلِكَ إِلَّا سُنَّتَهُ»

حجاج بن یوسف کو یوم عرفہ میں نماز میں جمع کرنا بتایا گیا

بعض روایات میں ہے کہ وہ نماز لیٹ کرتا تھا لیکن ان میں ایک راوی کا تفرد ہے

مسند ابو داود الطیالسی کی روایت ہے کہ حجاج نماز میں تاخیر کرتا جس پر محمد بن عمرو بن الحسن نے جابر بن عبد الله سے سوال کیا

ثنا شعبة، عن سعد بن إبراهيم، قال: سمعت محمد بن عمرو بن الحسن يقول:  لما قدم الحجاج بن يوسف كان يؤخر الصلاة، فسألنا جابر بن عبد الله عن وقت الصلاة، فقال: كان رسول الله – عليه السلام – يصلي الظهر بالهجير أو حين تزول، ويصلي العصر والشمس مرتفعة، ويصلي المغرب حين تغرب الشمس، ويصلي العشاء يؤخر أحيانًا ويعجل أحيانًا، إذا اجتمع الناس عَجَّل، وإذا تأخروا أَخَّر، وكان يصلي الصبح بغلس أو قال: كانوا يصلونها بغلس  قال أبو داود: هكذا قال شعبة.

مسند دارمی میں ہے

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ – وَكَانَ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ – فَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ النَّبِيُّ صَلى الله عَليهِ وسَلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ, وَالْعَصْرَ,

صحیح مسلم میں ہے

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ

ان تمام میں سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف کا تفرد ہے جو امام مالک کے نزدیک متروک ہے

امام بخاری نے اسی کی سند سے باب وقتِ المغرب میں اس کو روایت کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ کہ حجاج نماز لیٹ کرتا تھا بیان نہیں کیے جس کا مطلب ہے یہ الفاظ ان کے نزدیک غیر محفوظ تھے

عن محمد بن عمْرو بن الحسن بن علي قال: قدِم الحَجَّاج فسألْنا جابرَ بن عبدِ اللهِ [عن صلاة النبي – صلى الله عليه وسلم] فقالَ:  كان النبيُّ – صلى الله عليه وسلم – يصَلي الظهرَ بالهاجرةِ، والعصرَ والشمسُ نقيَّةٌ، والمغربَ إذا وَجبتْ، والعشاءَ أحياناً وأحياناً؛ إذا رآهم اجتمَعوا عجَّل، وإذا رآهُمْ أبطَؤا أخَّر، والصبحَ كانوا أو كانَ النبيُّ – صلى الله عليه وسلم – يصَليها بغلَسٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کی وفات معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں ٥٩ ہجری میں ہوئی سنن نسائی میں ایک حدیث ہے

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
ما صلَّيتُ وراءَ أحدٍ أشبَهَ صلاةً برسولِ اللَّهِ من فلانٍ ، فصلَّينا وراءَ ذلِكَ الإنسانِ وَكانَ يطيلُ الأوليينِ منَ الظُّهرِ ، ويخفِّفُ في الأخريينِ ، ويخفِّفُ في العصرِ ، ويقرأُ في المغربِ بقصارِ المفصَّلِ ، ويقرأُ في العشاءِ ب الشَّمسِ وضحاها وأشباهِها . ويقرأُ في الصُّبحِ ، بسورتينِ طويلتين(صحيح النسائي:982)
میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو فلاں شخص سے بڑھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھاتا ہو۔ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا تھا اور آخری وہ ہلکی پڑھاتا تھا۔ وہ عصر کی نماز بھی ہلکی پڑھاتا تھا۔ وہ مغرب کی نماز میں چھوٹی مفصل سورتیں پڑھتا تھا اورعشاء کی نماز میں (والشمس وضحھا) اور اس جیسی سورتیں پڑھتا تھا۔ اور صبح کی نماز میں لمبی سورتیں پڑھتا تھا۔

بنو امیہ کے گورنروں کے پیچھے نماز پڑھنے والے ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی یہ شہادت کافی ہے

معاویہ رضی الله عنہ نے مدینہ پر عتبہ کو پھر سعید بن ابی العاص کو پھر مروان بن الحکم کو گورنر مقرر کیا یہ تمام اموی ہیں اور اغلبا ان تین میں سے کسی ایک کی نماز پر ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی رائے ہے کہ وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی نماز جیسی تھی

بعض  اہل سنت نے اس میں شخص سے مراد عمر بن عبد العزیز کو لیا ہے جبکہ ان کی پیدائش سن ٦١ ہجری کی ہے یعنی ابوہریرہ رضی الله عنہ کی وفات کے بعد پیدائش ہوئی ہے

سوم: حج میں تلبیہ پڑھنے سے روکا جانے لگا سنن نسائی

 کیا معاویہ رضی الله تعالی عنہ نے سنت رسول کو بدلا

امام نسائی نے سنن میں، ابن خزیمہ نے صحیح میں ،امام حاکم مستدرک میں  یہ روایت  بیان کی اور کہا هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ  کہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی روایت ہے کہ

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عرفات میں ابن عبّاس رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا وجہ کے کہ لوگ لبیک نہیں کہہ رہے؟ میں نے کہا کہ لوگ معاویہ سے خوف زدہ ہیں. پھر ابن عبّاس باہر آئے لبیک کہا اور کہا کہ علی سے بغض کی وجہ سے انہوں  نے سنت رسول ترک کر دی

سند ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:  مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟   قُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ:  لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ

اس کی سند میں منہال بن عمرو ہے جس کو امام جوزجانی سی المذہب یعنی بد عقیدہ کہتے ہیں اور یہ الفاظ جوزجانی شیعہ راویوں کے لئے کہتے ہیں

اس روایت کو البانی  صحيح الإسناد کہتے ہیں بعض لوگوں کے بقول یہ روایت  خالد بن مخلد القطواني المتوفی ٢١٣ ھ  شیعہ کی وجہ سے صحیح نہیں جس کی وفات خلیفہ مامون کے دور میں ہوئی ہے حالانکہ اس کی سند میں قرن اول کے راوی المنھال کا تفرد اہم ہے ظاہر قرن سوم کے شخص کا تفرد  تو بعد میں آئے  گا

یہی راوی منہال بن عمرو روایت کرتا تھا کہ

علی رضی الله تعالی عنہ نے کہا

أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ

میں عبد الله ہوں اور رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا بھائی ہوں اور میں سب سے بڑا صدیق ہوں، اس کا دعوی میرے بعد کوئی نہیں کرے گا سوائے كَذَّابٌ کے

امت آج تک صرف ابو بکر صدیق کو ہی صدیق کہتی آئی ہے جب کہ یہ راوی کہتا ہے کہ علی سب سے بڑے صدیق ہیں

چہارم : علی پر جمعہ اور عید کے خطبوں میں لعن کیا جانے لگا سنن ابو داود ،مسند احمد

جس وقت معاویہ و حسن رضی الله عنہما میں معاہدہ ہوا تو اس کی شق تھی کہ خلافت قبول کرنے کے بعد علی رضی الله عنہ پر کوئی تنقید ہماری یعنی اہل بیت کے سامنے نہیں ہو گی – چونکہ حسن رضی الله عنہ بہت سمجھ دار تھے اور جانتے تھے کہ اقتدار جب منتقل کر دیں گے تو فتنہ پرداز لوگ اس قسم کی  باتیں کر سکتے ہیں لہذا انہوں نے اس کو ایک شق بنا دیا اور اس پر عمل ہوا کہ علی رضی الله عنہ کی تنقیص نہیں کی جاتی تھی

معاویہ رضی الله عنہ کے گورنر صحابی رسول الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کے لئے ابن کثیر نے البدایہ و النہایہ میں لکھا ہے

وَكَانَ إِذْ كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَلَى الْكُوفَةِ إِذَا ذَكَرَ عَلِيًّا فِي خُطْبَتِهِ يَتَنَقَّصُهُ بَعْدَ مَدْحِ عُثْمَانَ

اور الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کوفہ میں خطبہ میں عثمان رضی الله عنہ کی تعریف کے بعد علی رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے تھے

اس روایت میں گالیاں دینے کا ذکر نہیں دوم اس کی سند ابن کثیر دیتے ہیں

وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ. قَالَ قَالَ سَلْمَانُ لِحُجْرٍ

اس کی سند کمزور ہے أَبِي إِسْحَاقَ السبيعي ایک کوفی شیعہ مدلس راوی ہے جس  نے اس کو پھیلایا ہے

اسی کی ایک دوسری روایت ہے جو ابو عبداللہ الْجَدَلِيّ سے سنی ہے

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي  إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الله الْجَدَلِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ لِي: أَيُسَبُّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ الله، أَوْ سُبْحَانَ الله، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا، فَقَدْ سَبَّنِي

ابو عبداللہ الْجَدَلِيِّ نے ہم سے بیان کیا کہ میں ام سلمہ کے پاس گیا تو آپ نے مجھے فرمایا، کیا تم میں رسول اللہ  کو سب و شتم کیا جاتا ہے؟ میں نے کہا معاذاللہ یا سبحان اللہ یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا  آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ  کو فرماتے سنا ہے جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔

ابن حجر کہتے ہیں ابو عبداللہ الْجَدَلِيّ  ثقة رمى بالتشيع ثقہ ہیں لیکن شیعیت سے متصف ہیں

طبقات ابن سعد کے مطابق

كان شديد التشيع. ويزعمون أنه كان على شرطة المختار

یہ شدید شیعہ تھے اور دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ مختار ثقفی کے پہرے دار تھے

قال الجوزجاني: كان صاحب راية المختار

الجوزجاني کہتے ہیں یہ  المختار کا جھنڈا اٹھانے والوں میں سے ہیں

کذاب مختار کے ان صاحب کی بات اصحاب رسول کے لئے کس طرح قبول کی جا سکتی ہے

مسند احمد کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: قَدْ عَلِمْتَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى» ، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟

زید بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: مغیرہ بن شُعْبَةَ نے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دی، تو اس پر زید بن ارقم کھڑے ہو گئے اور کہا:  تمہیں علم ہے کہ رسول ص نے مردہ لوگوں کو گالیاں دینے سے منع کیا ہے، تو پھر تم علی ابن ابی طالب پر کیوں سب کر رہے ہو جب کہ وہ وفات پا چکے ہیں؟

اس کی سند میں حجاج ابن أيوب مولى بني ثعلبة ہے جس کا حال مجھول ہے

مستدرک الحاکم میں اس کی دوسری سند ہے جس کو حاکم صحیح کہتے ہیں

عمرو بن محمد بن أبي رزين الخزاعي، عن شعبة، عن مسعر، عن زياد بن علاقة، عن عمه قطبة بن مالك

لیکن اس کی مخالف حدیث مسند احمد میں موجود ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:   نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ

الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مردوں کو برا کہنے سے منع کیا ہے

ایک طرف تو وہ خود یہ حدیث بیان کریں اور پھر اس پر عمل نہ کریں ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے

سنن ابو داود کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حُصَيْنٌ: أَخْبَرَنَا عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الْكُوفَةِ، اسْتَعْمَلَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: فَأَقَامَ خُطَبَاءَ يَقَعُونَ فِي عَلِيٍّ، قَالَ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَتَبِعْتُهُ فَقَالَ: أَلا تَرَى إِلَى هَذَا الرَّجُلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ الَّذِي يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّة (مسند احمد رقم 1644 سنن ابوداؤد رقم 4650)
جب معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو مغیرہ بن شعبۃ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور علی رضی اللہ عنہ کا ذکر برائی کے ساتھ کیا اس پر سعید بن زید رضی اللہ عنہ غصہ میں اپنا ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا اور کہا کیا اس ظالم شخص کو نہیں دیکھا جو کسی کے لیے ایک جنتی شخص کو لعنت دے رہا ہے۔

اس کی سند منقطع ہے النسائي  فضائل الصحابہ میں اس روایت کو پیش کرتے اور کہتے ہیں

هِلَال بن يسَاف لم يسمعهُ من عبد الله بن ظَالِم

هِلَال بن يسَاف نے عبد الله بن ظَالِم سے نہیں سنا

محدثین کے مطابق ان دونوں کے درمیان ابن حيان ہے جس کو میزان الاعتدال میں الذھبی نے مجھول قرار دیا ہے

ابن حيان [س] .عن عبد الله بن ظالم – لا يعرف.

مسلم کی بھی ایک روایت ہے

عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔

سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ نے سعد کو (ایک ) حکم دیا پس معاویہ نے  کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابو تراب [علی] پر سب و شتم نہ کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں اُن تین ارشادات نبوی کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے علی کے متعلق فرمائے تھے تو میں ہرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا۔ ان تین مناقب میں سے اگر ایک منقبت بھی میرے حق میں ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی

اس کی سند میں بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ہے  جن کے لئے امام بخاری کہتے ہیں

في حديثه بعض النظر

اس کی بعض حدیثیں نظر میں ہیں

بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ہی وہ راوی ہے جو روایت کرتا ہے کہ

وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»

جب آیت نازل ہوئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی فاطمہ حسن حسین کو بلایا اور کہا اے الله یہ میرے اہل بیت ہیں

امام بخاری اس روایت کے راوی پر جرح کرتے ہیں لیکن امام مسلم اس کو صحیح میں لکھتے ہیں

فيہ نظر بخاری کی جرح کا انداز ہے-  ابن حجر کی رائے میں اس نام کے دو لوگ ہیں ایک ثقہ اور ایک ضعیف لیکن بخاری کے نزدیک دونوں ایک ہی ہیں اور انہوں نے اس سے صحیح میں کچھ نہیں لکھا-  مسلم نے بھی تین روایات لکھی ہیں جن میں سے دو میں علی پر سب و شتم کا ذکر ہے اور یہی سند دی ہے

ابن کثیر لکھتے ہیں

وقال أبو زرعة الدمشقي‏:‏ ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن أبيه قال‏:‏ لما حج معاوية أخذ بيد سعد بن أبي وقاص‏.‏فقال‏:‏ يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك‏.‏قال‏:‏ فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه‏.‏فقال‏:‏ أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك،ثم وقعت في علي تشتمه ‏؟‏والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال حين غزا تبوكاً ‏(‏‏(‏إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ‏؟‏‏)‏‏)‏أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر‏:‏ ‏(‏‏(‏لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه، ليس بفرار‏)‏‏)‏ ‏(‏ج/ص‏:‏ 7/377‏)‏أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس، ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها الولد ماله أحب إليّ من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، لا أدخل عليك داراً بعد هذا اليوم، ثم نفض رداءه ثم خرج‏.‏

ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے انکی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا:  آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا،پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ رسول الله نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب آپ  غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو اپ نے  خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ  میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں  یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول الله  کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور اپ کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔ آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔

یہ روایت تاریخ کے مطابق غلط ہے اول تاریخ ابو زرعہ الدمشقی میں یہ موجود نہیں دوم سعد آخری وقت تک معاویہ کے ساتھ رہے سوم اس کی سند میں مدلس محمد بن اسحاق ہے جو عن سے روایت کرتا ہے چہارم معاویہ نے حج کے خطبہ میں علی پر سب و شتم کیوں نہیں کیا یہ موقعہ ہاتھ سے کیوں جانے دیا؟

 ابن ماجہ کی بھی ایک روایت ہے

حدثنا علي بن محمد حدثنا أبو معاوية حدثنا موسى بن مسلم عن ابن سابط وهو عبد الرحمن عن سعد بن أبي وقاص قال قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعدوقال تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من كنت مولاه فعلي مولاه وسمعته يقول أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وسمعته يقول لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله

حج پر جاتے ہوئے سعد بن ابی وقاص کی ملاقات معاویہ سے ہوئی اور جب کچھ لوگوں نے علی کا ذکر کیا تو اس پر معاویہ نے علی کی بدگوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص غضبناک ہو گئے اور کہا کہ تم علی کے متعلق ایسی بات کیوں کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ص کو کہتے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا، اُس اُس کا یہ علی مولا، اور یہ کہ اے علی آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون ع کو موسی ع سے تھی سوائے ایک چیز کہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، اور میں نے [رسول اللہ ] سے یہ بھی سنا ہے کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے۔

اس کی سند میں عبد الرحمن بن سابط و قيل ابن عبد الله بن سابط  المتوفی ١١٨ ھ ہیں جن کو ا بن حجر کہتے ہیں  ثقة كثير الإرسال –  کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل کے مطابق

  وقال يحيى بن معين لم يسمع من سعد بن أبي وقاص

یحیی بن معین کہتے ہیں انہوں نے  سعد بن أبي وقاص  سے نہیں سنا

ابن ماجہ کی اس روایت کو البانی صحیح کہتے ہیں جبکہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے

الغرض معاویہ یا مغیرہ رضی الله عنہ کا علی رضی الله عنہ پر سب و شتم ثابت نہیں ہے البتہ مروان کے دور میں بعض شر پسند یہ کرتے تھے مسلم کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ: فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا

ال مروان میں سے ایک شخص نے سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنہ المتوفی ٨٨ ھ  کے سامنے علی رضی الله عنہ پر لعنت کی جس پر انہوں نے اس کو نا پسند کیا

مورخین ابن اثیر ابن کثیر نے انہی روایات کو اپس میں ملا کر جرح و تعدیل پر غور کیے بغیر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ باقاعدہ معاویہ رضی الله عنہ اس کو کرواتے تھے جو صحیح نہیں ہے

پنجم:  سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین پر عمل ختم ہوتا جا رہا تھا۔ سلسلہ احادیث الصحیحہ

البانی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها جلد اول ص  ٨٢٣ پر معاویہ رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے ہوئے لکھتے ہیں

ووفاة النبي صلى الله عليه وسلم كانت في شهر ربيع الأول سنة إحدى عشرة هجرية، وإلى عام ثلاثين سنة كان إصلاح ابن رسول الله صلى الله عليه  وسلم  الحسن بن على السيد بين فئتين من المؤمنين بنزوله عن الأمر عام واحد وأربعين في شهر جمادى الآخرة، وسمي عام الجماعة لاجتماع الناس على معاوية، وهو أول الملوك، وفي الحديث الذي رواه مسلم:   سيكون خلافة نبوة ورحمة، ثم يكون ملك ورحمة، ثم يكون ملك وجبرية، ثم يكون ملك عضوض

نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات ربيع الأول میں ١١ ہجری میں ہوئی اور تیسوں سال میں اصلاح  رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بیٹے حسن بن علی سردار سے ہوئی کہ مومنوں کے گروہوں میں ایک امر پر اتفاق ہوا ٤١ ہجری جمادى الآخرة کے مہینہ میں اور اس کو عام الجماعة کا نام ملا کیونکہ لوگوں کا اجماع معاویہ پر ہوا اور وہ پہلا بادشاہ تھا اور مسلم کی حدیث جو انہوں نے روایت کی اس میں ہے پس خلافت نبوت و رحمت ہو گی پھر بادشاہت و رحمت ہو گی پھر بادشاہت و جبر ہو گا پھر ریاست بھنبھوڑنے والی ہو گی

البانی نے غلط کہا ایسی کوئی حدیث صحیح مسلم میں نہیں ہے

بھنبھوڑنے والی ریاست والی حدیث ہے

معجم ابن الأعرابي از أبو سعيد بن الأعرابي البصري الصوفي (المتوفى: 340هـ) اور طبرانی الکبیر  کی روایت ہے

نا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّايِغُ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ،  نا الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ الْغَنَوِيُّ، نا مُهَنَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتُمُ الْيَوْمَ فِي نُبُوَّةٍ وَرَحْمَةٍ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَكُونُ كَذَا وَكَذَا مُلُوكًا عَضُوضًا، يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَلْبَسُونَ الْحَرِيرَ، وَفِي ذَلِكَ يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ

حُذَيْفَةَ کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا آج تم پر نبوت و رحمت ہے پھر خلافت و رحمت ہو گی پھر ایسا ویسا ہو گا پھر ایسا ایسا ہو گا  بادشاہت بھنبھوڑنے والی ہو گی جو شراب پئیں گے اور ریشم پہنیں گے

اس کی سند میں مهند بن هشام القيسي الكوفي ہے جو مجھول ہے اس کو طبرانی کی سند میں العلاء بن المنهال نے ثقہ کہا ہے جبکہ اس کا حال نا معلوم ہے

خود العلاء بن المنهال کے لئے امام العقيلي کہتے ہیں : لا يتابع عليه اس کی روایات کی متابعت نہیں ہے

امام الذہبی نے ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں العلاء بن المنهال کے لئے کہا ہے فيه جهالة اس میں جہالت ہے یعنی یہ مجھول ہے

جبکہ أبو زرعة الرازي اور عجلی نے اس کو ثقہ کہا ہے

اسطرح العلاء بن المنهال تو مختلف فیہ ہو گیا اور یہ جس مُهَنَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْعَبْسِيُّ کو ثقہ کہتا ہے وہ مجھول ہے

ششم : زكاة کا بے جا مصرف کیا جانے لگا مصنف ابن ابی شیبہ ، اروء الغلیل از البانی 

إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل میں البانی نے صدقه فطر کی ایک روایت پر ح ٨٤٧ کے تحت بحث کی ہے

كنا نخرج زكاة الفطر إذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام , أو صاعا من شعير أو صاعا من تمر , أو صاعا من زبيب , أو صاعا من أقط

پھر اس پر کہا  کہ ترمذی میں اضافہ کے کہ ابو سعید نے وہ نہ کیا جو معاویہ نے کہا

فلما جاء معاوية , وجاءت السمراء قال:   أرى مدا من هذا يعدل مدين   – زاد الترمذى: من تمر. – قال: فأخذ الناس بذلك , قال أبو سعيد: فلا أزال

75- بَابُ صَاعٍ مِنْ زَبِيبٍ:باب: صدقہ فطر میں منقیٰ بھی ایک صاع دینا چاہیےحدیث نمبر:

  حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ الْعَدَنِيَّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيعِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  كُنَّا نُعْطِيهَا فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ وَجَاءَتْ السَّمْرَاءُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُرَى مُدًّا مِنْ هَذَا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ

.ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے یزید بن ابی حکیم عدنی سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو یا ایک صاع زبیب (خشک انگور یا خشک انجیر) نکالتے تھے۔ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور گیہوں کی آمدنی ہوئی تو کہنے لگے میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے

یعنی معاویہ نے دوسرے اناج میں ایک کی بجائے دو صاع نکالنے کا حکم دیا جو ایک سے زیادہ ہے ظاہر ہے یہ صدقه میں اضافہ ہے نہ کہ کمی

صحیح مسلم اور دیگر کتب میں ہے معاویہ نے کہا

إنى أرى أن مدين من سمراء الشام تعدل صاعا من تمر. فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ، أَبَدًا مَا عِشْتُ

میں دیکھتا ہوں کہ  گیہوں کے شام کے دو مد،  کھجور کے ایک صاع کے برابر ہیں – پس لوگوں نے ایسا کیا لیکن میں نے اس چیز کو نہیں چوڑا جو میں نکالتا تھا جب تک میں زندہ ہوں

اس کا مطلب ہے کہ شام میں مد کا جو پیمانہ چل رہا تھا وہ حجاز کے مد کے  پیمانے سے بڑا  تھا وہ مدینہ کے صاع کے برابر نہ تھا  اس لئے معاویہ جو شام سے آئے تھے ان کے قافلہ کے پاس شامی صاع ہونگے اور انہوں نے اس کو ناپتے ہوئے یہ حکم کیا کہ نیا صاع خریدنے کی بجائے اگر ہم پیمانہ کے تناسب کو لیں تو دو شامی مد، حجاز کے ایک صاع کے برابر ہے

مبارک پوری تحفہ الاحوذی میں لکھتے ہیں

تَنْبِيهٌ اعْلَمْ أَنَّ الصَّاعَ صَاعَانِ حِجَازِيٌّ وَعِرَاقِيٌّ فَالصَّاعُ الْحِجَازِيُّ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثُ رِطْلٍ وَالْعِرَاقِيُّ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ وَإِنَّمَا يُقَالُ لَهُ الْعِرَاقِيُّ لِأَنَّهُ كَانَ مُسْتَعْمَلًا فِي بِلَادِ الْعِرَاقِ مِثْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهَا وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّاعُ الْحَجَّاجِيُّ لِأَنَّهُ أَبْرَزَهُ الْحَجَّاجُ الْوَالِي وَأَمَّا الصَّاعُ الْحِجَازِيُّ فَكَانَ مُسْتَعْمَلًا فِي بِلَادِ الْحِجَازِ وَهُوَ الصَّاعُ الَّذِي كَانَ مُسْتَعْمَلًا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ كَانُوا يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ فِي عَهْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يُوسُفَ وَالْجُمْهُورُ وَهُوَ الْحَقُّ

تَنْبِيهٌ جان لو لہ صاع دو ہیں ایک حجازی ہے اور عراقی ہے – پس حجازی صاع پانچ أَرْطَالٍ یا تین أَرْطَالٍ کا ہے – اور عراقی صاع آٹھ أَرْطَالٍ کا ہے اور کہا جاتا ہے کہ عراق کے شہروں میں مثلا کوفہ اور دیگر میں جو صاع چلتا ہے اس کو حجاجی کہا جاتا ہے اور جہاں تک حجازی صاع کا تعلق ہے جو حجاز کے شہروں میں استمعال ہوتا ہے تو وہ وہ صاع ہے کو نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں چلتا تھا جس سے صدقه فطر نکالا جاتا تھا دور نبوی میں اور ایسا امام مالک ، الشافعی اور احمد اور یوسف اور جمہور کا کہنا ہے جو حق ہے

عراق كا صأع حجأز سے بڑا ہے – اور اسی طرح شام کا صاع کا پیمانہ الگ تھا

اگر یہ بات تھی تو پھر ابو سعید نے کیوں نہیں کیا ؟ ابو سعید نے اس لئے نہیں کیا کہ وہ اس کو محبوب رکھتے تھے کہ وہی کریں جو انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کرتے دیکھا اور تناسب والی بات کو باقی اصحاب نے سمجھ پر قبول کر لیا

عمدہ القاری میں علامہ عینی لکھتے ہیں

وَقَالَ النَّوَوِيّ: هَذَا الحَدِيث مُعْتَمد أبي حنيفَة، قَالَ بِأَنَّهُ فعل صَحَابِيّ، وَقد خَالفه أَبُو سعيد وَغَيره من الصَّحَابَة مِمَّن هُوَ أطول صُحْبَة مِنْهُ وَأعلم بِحَال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، وَقد أخبر مُعَاوِيَة بِأَنَّهُ رَأْي رَآهُ، لَا قَول سَمعه من النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، قُلْنَا: إِن قَوْله: فعل صَحَابِيّ، لَا يمْنَع لِأَنَّهُ قد وَافقه غَيره من الصَّحَابَة الجم الْغَفِير بِدَلِيل قَوْله فِي الحَدِيث: فَأخذ النَّاس بذلك، وَلَفظ النَّاس للْعُمُوم، فَكَانَ إِجْمَاعًا. وَلَا تضر مُخَالفَة أبي سعيد لذَلِك بقوله: أما أَنا فَلَا أَزَال أخرجه، لِأَنَّهُ لَا يقْدَح فِي الْإِجْمَاع، سِيمَا إِذا كَانَ فِيهِ الْخُلَفَاء الْأَرْبَعَة، أَو نقُول: أَرَادَ الزِّيَادَة على قدر الْوَاجِب تَطَوّعا.

امام نووی  نے کہا : اس حدیث پر امام ابو حنیفہ  نے اعتماد کیا ہے اور کہا یہ صحابی (معاویہ) کا فعل ہے اور ان کی مخالفت کی ہے ابو سعید نے اور دوسرے اصحاب نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے اور بے شک معاویہ نے خبر دی کہ وہ دیکھتے ہیں نہ کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے اس پر سنا- (عینی نے کہا) ہم (جوابا) کہتے ہیں  کہ ان (امام ابو حنیفہ) کا کہنا کہ صحابی کا فعل ہے اس سے منع نہیں کرتا کیونکہ اس میں معاویہ کی موافقت اصحاب رسول کے جم غفیر نے کی ہے اس میں دلیل حدیث ہے کہ اس کو لوگوں نے لیا اور لفظ الناس عموم ہے کہ اس پر اجماع ہوا اور ابو سعید کی مخالفت سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اس قول پر کہ   جہاں تک میں ہوں تو میں اس (صدقه فطر) کو نکالوں گا جیسا نکالتا تھا   کیونکہ انہوں نے اس اجماع پر قدح نہیں کیا خاص طور…. اس میں ارادہ ہے کہ جو مقدار واجب نفلی تھی اس سے زائد دیا گیا

ہفتم : ظلم وجبر سے امت کو خاموش کروایا گیا  بخاری ، مسلم ،ابوداود

البانی صاحب کتاب سلسلہ احادیث الصحیحہ میں ایک روایت کے شاہد پر دلیل دیتے ہیں

كما في  تفسير ابن كثير  (4/159) – عن عبد الله البهي قال:
إني لفي المسجد حين خطب مروان فقال: إن الله تعالى قد أرى أمير المؤمنين
في (يزيد) رأياً حسناً وأن يستخلفه، فقد استخلف أبو بكر عمر- رضي الله عنهما-. فقال عبد الرحمن بن أبي بكر- رضي الله  عنهما-: أهرقلية؟! إن أبا بكر- رضي الله عنه- ما جعلها في أحد من ولده، وأحد من أهل بيته، ولا جعلها معاوية  إلا رحمة وكرامة لولده! فقال مروان: ألست الذي قال لوالديه: (أفٍّ لكما) ؟ فقال

عبد الرحمن: ألست يا مروان! ابن اللعين الذي لعن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أباك؟! قال: وسمعتهما عائشة- رضي الله عنها-، فقالت: يا مروان! أنت القائل لعبد الرحمنكذا وكذا؟! كذبت! ما فيه نزلت، ولكن نزلت في فلان بن فلان. ثم انتحب
مروان (!) ثم نزل عن المنبر حتى أتى باب حجرتها، فجعل يكلمها حتى انصرف. قلت: سكت عنه ابن كثير، وهو إسناد صحيح.

 جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ

عبداللہ بہی نے کہا کہ ہم مسجد میں تھے جب مروان نے خطبہ دیا کہ اللہ نے معاویہ کو یزید کے بارے میں اچھی رائے دی ہے، کہ وہ انہیں اپنا خلیفہ بنائے جیسے ابو بکر نے عمر کو خلیفہ بنایا۔ عبدالرحمن بن ابو بکر نے کہا کہ کیا ہرقل  کے مطابق؟ ابوبکر نے اپنی اولاد میں کسی کو نہیں بنایا نہ اپنے گھر والوں میں، معاویہ اپنی اولاد پر رحمت و کرامت کر رہا ہے۔ مروان نے کہا کہ تہمارے لیے یہ آیت آئی ہے۔ اس پر عبدالرحمن نے کہا یہ اے مروان! کیا تم لعنتی کے بیٹے نہیں جس کے باپ پر اللہ کے رسول نے لعنت کی؟ یہ عائشہ رضی الله عنہا نے سنا تو انہوں نے کہا کہ اے مروان! تم عبدالرحمن کے لیے فلان فلان چیز کے قائل ہو؟ تم نے جھوٹ بولا، یہ فلان فلان کے لیے نازل ہوئی۔ مروان نیچے اترا جلدی سے، اور آپ کے حجرے پر آیا، کچھ بولا اور پھر چلا گیا۔ 

میں البانی یہ کہتا ہوں کہ ابن کثیر اس پر چپ رہے ہیں، مگر یہ سند صحیح ہے

عبد الله البھی کا عائشہ رضی الله عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے کتاب جامع التحصیل کے مطابق امام احمد کے نزدیک ان کا سماع نہیں ہے

عبد الله البهي سئل أحمد بن حنبل هل سمع من عائشة رضي الله عنها قال ما أرى في هذا شيئا إنما يروي عن عروة

اہم سوال ہے کہ کیا علی رضی الله عنہ نے ہرقل کی سنت پر عمل نہ کیا؟

ہشتم : محرمات سے نکاح ہوا

تاریخ الطبری دار التراث – بيروت ج ٥ ص ٤٨٠  کے مطابق

 قَالَ لوط: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا مُحَمَّد بن عَبْدِ الْعَزِيزِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عوف ورجع المنذر من عِنْدَ يَزِيد بن مُعَاوِيَة، فقدم عَلَى عُبَيْد اللَّهِ بن زياد الْبَصْرَة… فأتى أهل الْمَدِينَة، فكان فيمن يحرض الناس عَلَى يَزِيد، وَكَانَ من قوله يَوْمَئِذٍ: إن يَزِيد وَاللَّهِ لقد أجازني بمائة ألف درهم، وإنه لا يمنعني مَا صنع إلي أن أخبركم خبره، وأصدقكم عنه، وَاللَّهِ إنه ليشرب الخمر، وإنه ليسكر حَتَّى يدع الصَّلاة

منذربن الزبیر اہل مدینہ کے پاس آئے تو یہ ان لوگوں میں سے تھے جو لوگوں کو یزید بن معاویہ کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ اور یہ اس دن کہتے تھے : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دئے، لیکن اس نے مجھ پر جو نوازش کی ہے وہ مجھے اس چیز سے نہیں روک سکتی کہ میں تمہیں اس کی خبر بتلاؤں اور اس کے متعلق سچ بیان کردوں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یزید شرابی ہے اور شراب کے نشے میں نماز بھی چھوڑ دیتا ہے

أبو مخنف، لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف الكوفي ہے متروک راوی ہے

وقال الدارقطني: ضعيف

 وقال يحيى بن معين: ((ليس بثقة)). وقال مرةً أخرى: ((ليس بشيء)). ثقه نہیں ، کوئی چیز نہیں

وقال ابن عدي: ((شيعي محترق، صاحب أخبارهم)) اگ لگانے والا شیعہ ہے

 الطبقات الكبرى ، دار الكتب العلمية – بيروت، ج ٥ ص ٤٩ میں ہے

اخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيم عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَنْ غَيْرِهِمْ أَيْضًا. كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي. قَالُوا: لَمَّا وَثَبَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيَالِيَ الحرة فأخرجوا بَنِي أُمَيَّةَ عَنِ الْمَدِينَةِ وَأَظْهَرُوا عَيْبَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَخِلافَهُ أَجْمَعُوا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ فَأَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَيْهِ فَبَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ وَقَالَ: يَا قَوْمُ اتَّقُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لا شريك له. فو الله مَا خَرَجْنَا عَلَى يَزِيدَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ نُرْمَى بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ. إِنَّ رَجُلا يَنْكِحُ الأُمَّهَاتِ وَالْبَنَاتَ وَالأَخَوَاتِ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَيَدَعُ الصَّلاةَ

جب اہل مدینہ نے حرہ کے موقع پر فساد کیا، بنوامیہ کو مدینہ سے نکال دیا گیا ، یزید کے عیوب کا پرچار  اس کی مخالفت کی تو لوگوں نے عبداللہ بن حنظلہ کے پاس آکر اپنے معاملات انہیں سونپ دئے ۔ عبداللہ بن حنظلہ نے ان سے موت پر بیعت کی اور کہا: اے لوگو ! اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرو ! اللہ کی قسم ہم نے یزید کے خلاف تبھی خروج کیا ہے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہوا کہ ہم پر کہیں آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے کہ ایک آدمی ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کرتا ہے ، شراب پیتا ہے اور نماز چھوڑتا ہے

اس کی سند میں  أبو عبد الله، محمد بن عمر بن واقد، الواقدي ، الأسلمي مولاهم، المدني ہیں. الواقدی  قاضي بغداد تھے عبد الله بن بريدة، الأسلمي کے آزاد کردہ غلام تھے سن ٢٠٧ ھ میں وفات ہوئی  انکو محدثین متروك مع سعة علمه یعنی اپنی علمی وسعت کے باوجود متروک ہیں کہتے ہیں

الواقدي کٹر شیعہ ہیں اس وجہ سے انکی روایت  نہیں لی جا سکتی ورنہ تاریخ اور جرح و تعدیل کی کتابوں میں انکے اقوال راویوں کی وفات کے حوالے سے قابل قبول ہیں اگر یہ کسی کو شیعہ کہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ بھی کٹر شیعہ ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … أَنْ ذَكَرَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ. فَقَالَ: إِنِّي خَرَجْتُ كَرْهًا بِبَيْعَةِ هَذَا الرَّجُلِ. وَقَدْ كَانَ مِنَ الْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ خُرُوجِي إِلَيْهِ. رَجُلٌ يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَيَنْكِحُ الْحُرُمَ

معقل بن سنان نے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کا ذکر کیا اور کہا: میں اس شخص کی بیعت سے کراہت کی وجہ سے نکلا ہوں ، اور اس کی طرف جانا ،قضاو قدر میں تھا ۔یہ ایسا آدمی ہے جو شراب پیتا ہے ، محرمات سے نکاح کرتا ہے

اسکی سند میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ زِيَاد ہے جو مجھول ہے دوسرے الواقدی شیعہ بھی ہے

 وہ کون کون سی محرم عورتیں تھیں جن کا اس سے نکاح تھا ان کی لسٹ ہے کسی کے پاس ہے تو پیش کرے
انہوں نے جو بچے جنے ان کے کیا نام تھے کسی نسب کی کتاب میں ہیں؟

نہم:  یزید شرابی تھا 

تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 220 و تاريخ طبرى، ج 6، ص 170. ابن اثير در كامل (ج 3، ص 503-505) کے مطابق یزید بندروں سے کھیلتا تھا

ابن اثیراور طبری  نے لکھا  کہ ابو مخنف نے روایت کیا حسن نے کہا

قَالَ أَبُو مخنف: عن الصقعب بن زهير، عن الْحَسَن، قَالَ: أربع خصال كن فِي مُعَاوِيَة، لو لَمْ يَكُنْ فِيهِ منهن إلا واحدة لكانت موبقة: انتزاؤه عَلَى هَذِهِ الأمة بالسفهاء حَتَّى ابتزها أمرها بغير مشورة مِنْهُمْ وفيهم بقايا الصحابة وذو الفضيلة، واستخلافه ابنه بعده سكيرا خميرا، يلبس الحرير ويضرب بالطنابير،

یزید ریشم پہنتا ہے اور شرابی ہے

 أبو مخنف، لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف الكوفي ہے متروک راوی ہے

دھم:  یزید کتوں اور بندروں سے کھیلتا تھا

المنتظم في تاريخ الأمم والملوك میں ابن جوزی نے لکھا

عبد الله بن حنظلة الغسيل، والمنذر بن الزبير نے کہا

ويلعب بالكلاب

یہ کتوں سے کھیلتا ہے

سند میں واقدی ہے

تاریخ طبری ج ١٠ ص ٦٠ پر ہے معاویہ نے اپنے بیٹے کی خلافت پر بلایا

ودعاؤه عباد الله الى ابنه يزيد المتكبر الخمير، صاحب الديوك والفهود والقرود

جو متکبر شرابی تھا  مرغوں، چیتوں اور بندروں والا

یہ تمام اقوال نہایت کمزور سندوں سے ہیں – لیکن اگر مان لیں صحیح ہیں تو اس میں کیا برائی ہے ؟  یزید کو چڑیا گھر کا شوق ہو گا- آج ساری دنیا چڑیا گھر جا جا کر دیکھ رہی ہے اگر نہ جائے تو مسلمانوں کا خلیفه نہ جائے

کیا اصحاب کہف کا کتا نہیں تھا؟

شکار کے لئے کتوں کو پالنا  جائز ہے اس کا ذکر احادیث میں ہے

حسن و حسین رضی الله عنہما بھی کتوں سے کھیلتے تھے سنن ابو داود کی حسن حدیث ہے

حدَّثنا أبو صالحٍ محبوبُ بنُ موسى، حدَّثنا أبو إسحاق الفزَاريُّ، عن يونَس بن أبي إسحاق، عن مجاهدٍ
حَدّثنا أبو هُريرة، قال: قال رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم -: أتاني جبريلُ عليه السلام، فقال لي: أتيتُكَ البارحَةَ فلم يمنعْني أن أكونَ دخلتُ إلا أنَّه كانَ على الباب تماثيلُ، وكان في البيت قِرَامُ سِتْرٍ فيه تماثيلُ، وكان في البيت كلْبٌ، فَمُرْ برأسِ التِّمثَالِ الذي على بابِ البيت يقْطَعُ فيصيرُ كهيئةِ الشجرة، ومُرْ بالسِّترِ، فليُقْطَع، فيُجعَلُ منه وسادَتَان مَنبوذتانِ تُوطآن، ومُرْ بالكلب فليُخرَج” ففعل رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم -، وإذا الكلبُ لحَسَنٍ أو حُسين كان تحتَ نَضَدٍ لهم، فأمر به فأخْرِجَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں (دروازے پر)ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے”، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب ۴۴ (۲۸۰۶)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ۶۰ (۵۳۶۷)،

تلك عشرة كاملة

جھگڑا کیا ہوا ؟

معاویہ اور حسین رضی الله عنہما میں اختلافات حسن رضی الله عنہ کی وفات کے بعد ہوئے جس میں فریقین نے ایک دوسرے سے کلام نہیں کیا اور اختلاف اندر ہی اندر بڑھتا رہا

حسن و معاویہ رضی الله عنہما میں  جو معائدہ ہوا اس کی شقیں تھیں

بحوالہ  عمرو بن غرامة العمروي محقق تاریخ دمشق دار الفكر

 أن يعمل معاوية بالمؤمنين بكتاب الله وسنة نبيه صلى الله عليه وآله وسلم وسيرة الخلفاء الصالحين من بعده

معاویہ مومنوں کے ساتھ کتاب الله اور سنت النبی صلی الله علیہ وسلم کے مطابق عمل کریں گے اور ان کے بعد انے والے صالح خلفاء کی سیرت کے مطابق

المدائني کی سند سے شیعہ مورخ ابن أبي الحديد کتاب شرح النهج 4 / 8 میں لکھا ہے کہ کتاب الله اور سنت نبی پر عمل کا عہد ہوا  فتح الباري کے مطابق سیرت خلفاء صالحین پر عمل کا عہد ہوا

ليس لمعاوية أن يعهد لاحد من بعده عهدابل يكون الامر من بعده شورى بين المسلمين

معاویہ کسی کو بھی جانشین مقرر نہیں کریں گے اور ان کے بعد معاملہ مسلمانوں کی شوری کے پاس ہو گا

المدائني کہتا ہے یہ عہد بھی ہوا کہ معاویہ کسی کو جانشیں نہ کریں گے

 أن يكون الامر للحسن من بعده

امر خلافت معاویہ کے بعد حسن کو ملے گا

تاريخ الخلفاء للسيوطي ص 194 والاصابة 2 / 12 – 13 کے مطابق یہ عہد ہوا کہ خلافت واپس حسن کو ملے گی معاویہ کی وفات کے بعد

 أن لا يشتم عليا وهو يسمع

ابن اثیر کے مطابق حسن کے سامنے علی پر شتم نہ ہو گا کہ وہ سن رہے ہوں

اور شیعہ کتاب  مقاتل الطالبيين کے مطابق

أن يترك سب أمير المؤمنين والقنوت عليه بالصلاة 

علی پر نماز میں قنوت پڑھنا بند ہو گا اور ان کو گالی دینا بند ہو گا

تاریخ طبری   6 / 92 کے مطابق حسن و حسین کو مال ملے گا

 يسلم ما في بيت مال الكوفة خمسة آلاف ألف للحسن وله خراج دارابجرد 

خمسة آلاف ألف کوفہ کے بیت المال سے حسن کو دیے جائیں گے اور دار ابجرد کا خراج بھی

اور الاخبار الطوال ص 218 أبو حنيفة الدينوري  کے مطابق ان کے بھائی حسین کو

أن يحمل لاخيه الحسين في كل عام ألفي الف

ہر سال  حسین کو ٢٠٠٠ ملیں گے

اپ دیکھ سکتے ہیں ان شقوں میں تضاد ہے امیر المومنین حسن رضی الله عنہ جب معاویہ سے معائدہ کر رہے تھے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پہلے انتقال کر جائیں گے یا قتل یا شہید ہوں گے کیونکہ انہوں نے اس پر عھد کیا کہ امر خلافت واپس ان کو ملے گا- متاخرین شیعہ نے اس معائدہ میں اضافہ کیا کہ معاویہ کی موت پر یہ مسئلہ شوری طے کرے گی جبکہ شوری کا کوئی رول قابل قبول نہیں ہے کیونکہ خلافت واپس حسن پر لوٹ اتی جس سے ظاہر ہے کہ اصل عھد تھا کہ خلافت حسن کو واپس ملے گی-  أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن أبي سيف المدائني المتوفی ٢٢٤ ھ کا قول منفرد  ہے یہ بات ان کے حوالے سے شیعہ و سنی کتابوں میں ہے ان سے قبل کسی نے اس کو بیان نہیں کیا

حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ھجری میں وفات ہوئی – سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کر کے امّت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا – اس حملے میں جلیل القدر اصحاب رسول بھی ساتھ تھے – سن ٥١ ھجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور اس وقت عائشہ رضی الله عنہا حیات تھیں جن کی وفات معاویہ رضی الله عنہ کی وفات سات تین یا سات سال پہلے ہوئی ہے گویا کم از کم یزید کی بیعت کی دعوت تین سال تک دی جاتی رہی اور حسین رضی الله عنہ نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ وہ کسی معائدہ کی خلاف ورزی نہیں کر رہے تھے حسن کی وفات ہو چکی تھی لہذا امر خلافت ان کو نہیں لوٹ سکتا تھا  معاویہ فیصلہ کرنے میں آزاد تھے اور انہوں نے امت کو اس پر سوچنے کا پورا موقعہ دیا کہ کسی کو اختلاف ہو تو پیش کرے- حسین رضی الله عنہ کو یہ بات پسند نہ آئی لیکن انہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار بھی نہیں کیا یہاں تک کہ کوفہ کے ان کے حامیوں نے ان کو خط لکھ کر کوفہ بلوایا اور جب بات ظاہر کی اس وقت تک دیر ہو چکی تھی یزید امیر تھے اور حسین  کے لئے وہ اقتدار نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ وہ اسی طرح خلیفہ ہوئے جس طرح علی نے حسن کو خلیفہ کیا تھا جو حسین کے باپ علی کی سنت تھی اور سنت علی پر  چلنا بھی عھد کی شق تھا جیسا  تاریخ میں ہے

اس لئے یہ جھگڑا بڑھا اور اگلے ١٥٠ سال تک بنو ہاشم خلفاء کے خلاف خروج کرتے رہے جن میں کچھ اولاد حسن میں سے ہیں کچھ اولاد حسین میں سے ہیں کچھ عباس رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں یعنی ہر ٢٠ سال بعد ایک خروج ہوا اور یہاں تک کہ عباسی خلافت تک میں خروج ہوتے رہے جبکہ دونوں بنو ہاشم ہی تھے- ان تمام  خروج میں کامیابی صرف بنو عباس کو ہوئی جو سنی عقیدہ رکھنے والے بنو ہاشم  تھے اور ان کی شادیان شیعہ عقیدہ کے حامل بنو ہاشم میں بھی ہوئیں- بہت سے راوی جو الکافی کے راوی ہیں وہ بنو عباس کے درباری تھے مثلا عبد الله بن سنان، ان کے کاتب یا خزانچی  تھے- اس طرح شیعہ و سنی دونوں اسلامی خلافت میں اپنے اپنے اختلاف کے ساتھ جیتے رہے اس دوران بعض سیاسی خروج سے خود اثنا عشری شیعہ بھی پریشان ہوئے اور ان کی حمایت نہیں کی مثلا قرامطہ اسماعیلی شیعہ تھے لیکن بہت متشدد اور گمراہ تھے جنہوں نے حجر اسود کو اکھاڑ کر کوفہ پہنچایا ،  ان سے اسماعیلی شیعہ جو مصر میں تھے وہ بھی نا خوش تھے

الغرض ایک واقعہ جو ٦١ ہجری میں ہوا اس  کو اس طرح بیان کرتے  رہنا کہ گویا اہل بیت اور غیر اہل بیت ہر وقت جھگرتے رہے تاریخ کو مسخ کرنا ہے

Posted in history | 49 Comments

دم و تعویذ

تعویذ کی ممانعت سے متعلق  احادیث  حسن   اور صحیح لغیرہ درجہ کی ہیں-  یہ ممانعت قولی احادیث میں ہے یعنی بزبان نبوی اس سے منع کیا گیا ہے – تعویذ  کے جواز سے متعلق بیشتر روایات میں اہل مکہ کا تفرد ہے اور ممانعت کی روایت فقہائے عراق سے نقل لی گئی ہے – اس بنا پر تعویذ  چاہے قرانی ہو یا غیر قرانی اس کو استعمال نہ کیا جائے   کیونکہ قولی حدیث میں اس کی ممانعت مل گئی ہے-

دم کی اسلام میں اجازت ہے لیکن یہ دم اگر شرکیہ ہوں تو مطلقا حرام ہیں – اس کتاب میں   دم اور تعویذ سے متعلق مباحث ہیں

دم اور تعویذ


 قارئین سے درخواست ہے  کہ مشہور علماء کے تعویذ کے جواز سے متعلق فتووں کے اسکین درکار ہیں

تاکہ اس کتاب میں شامل کر کے بحث کی جائے اور تابوت میں کیل ٹھونکی جائے

اپ امیج فائل یہاں ای میل کریں

islamic-belief@live.co.uk

 

Posted in Aqaid | 5 Comments

موت و نیند پر اضطراب


فرقہ پرستوں کا عقیدہ   جمہور صحیح عقیدہ
نیند میں روح کو جسم سے نکال لیا جاتا ہے –   زندہ کی روح  عالم بالا جاتی ہے  جہاں روح کی  ملاقات  مردوں کو روح سے ہوتی ہے (ابن قیم    فی کتاب الروح ،  ابن تیمیہ فی الفتاوی)

اس  قول  سے خواب کی تعبیر کا عقیدہ    ان فرقوں نے گھڑا   ہے

روح یا نفس جسد میں ہی  قید رہتا ہے  اس کو توفی یا قبض   کرنا کہا   گیا ہے  یعنی پکڑنا یا قبضہ میں لینا   اور نفس کے  ارسال سے مراد نفس کو ( واپس جسد میں ہی ) چھوڑنا ہے

نیند میں روح  نہ تو عالم بالا میں جاتی ہے نہ ہی  زندہ  کی روح کی مردوں کی روح سے ملا قات ہوتی ہے      – اس سے متعلق تمام روایات  ضعیف ہیں

نیند
سلفی  و غیر مقلد علماء:

بد کاروں کی روحیں  برھوت  یمن میں ہیں   (وہابی  علماء، ابن تیمیہ )   نیکوکاروں  کی  روحیں  شام میں جابیہ میں ہیں   (عبد الوہاب النجدی) – روح  کا جسم سے  شعاع جیسا تعلق رہتا ہے اور جسد میں آتی جاتی رہتی ہے   – (ابن قیم    فی کتاب الروح ،  ابن تیمیہ فی الفتاوی   اور وہابی و اہل حدیث علماء   قبل تقسیم ہند)

روح جسد میں   ایک دفعہ سوال جواب کے وقت آتی ہے اس کے بعد   جنت و جہنم میں جاتی ہے  (اہل حدیث پاکستان کا عقیدہ جدید    سن ٢٠٠٠  ع کے بعد سے)

عود روح ہونے پر مردہ زندہ  ہو جاتا ہے

(قاضی ابو یعلی،    شیخ الکل  نذیر  حسین، بدیع الدین  راشدی )

عود  روح ہونے پر مردہ ، مردہ ہی ہے  (ابن عبد الھادی،   اہل حدیث  فرقہ پاکستان)-

اس    خود ساختہ قول    سے حیات برزخی  کا   تصور  نکالا گیا ہے

 

تقلیدی  علماء:

روح جسم میں عجب الذنب میں سمٹ جاتی ہے   (  ملا علی القاری   فی مرقاة    شرح مشكاة )

عام  لوگوں کی روحیں  زمیں و آسمان کے درمیان ہیں  (النسفی     فی  شرح العقائد)

ارواح  قبرستا نوں میں (یعنی جسد  میں)  ہی رہتی ہیں (التمہید از ابن عبد البر   اور   بیشتر دیو بندی و بریلوی   علماء )

ان     فرقوں کے نزدیک   عود  روح ہوتا ہے  اور  مردہ   دفنانے والوں کے قدموں کی چاپ سنتا ہے سوائے معدودے چند کے یہ ان کا متفقہ  جمہور کا عقیدہ ہے

روح      کا  توفی یا  قبض  ( یعنی پکڑا اور قبضہ میں ) کیا جاتا ہے  لیکن روح یا نفس  کو جسم سے نکال  بھی  لیا جاتا ہے-  قرآن میں   توفی کے ساتھ ساتھ اخراج بھی کہا گیا ہے –  روح  جسم سے مکمل الگ ہو جاتی ہے    –  قرآن میں امساک روح کا ذکر ہے کہ جس پر  موت حکم لگتا ہے وہ مر جاتا ہے اور اس کی روح کو   روک  لیا جاتا ہے  یعنی  اخراج کے بعد  واپس جسد میں نہیں ڈالا جاتا

 

روح   دنیا میں واپس  کسی صورت نہیں آتیں الا یہ کہ الله کا کوئی معجزہ ہو جن کا صدور    ہو چکا   اور قرآن میں اسکی خبر  دے دی گئی

 

روح اب روز محشر ہی اس دنیا میں یا زمین میں جسد میں ڈالی جائے گی

 

موت

نوٹ:  فرقوں کا دعوی ہے کہ یہ امت گمرآہی ور جمع نہ ہو گی لہذا     ان کا عقیدہ کا اضطراب  صواب ہے – واضح رہے کہ یہ قول کہ امت گمراہی پر جمع نہ ہو گی کسی صحیح سند سے نہیں بلکہ ضعیف و متروک راویوں کا بیان کردہ ہے

Posted in Aqaid, Uncategorized | 3 Comments

قتل عثمان کا پس منظر

اہل سنت میں شروع سے دو رحجان رہے ہیں ایک شیعیت ہے اور دوسرا ناصبییت ہے ایک میں علی رضی الله عنہ کی  طرف داری ہے دوسری میں انکی مخالفت ہے – اس رحجان میں کبھی اضافہ ہو جاتا ہے کبھی کمی ہو جاتی ہے  ہمارے اکثر قاری اس سلسلے میں ہماری تحقیق جاننا چاہتے ہیں جو  راقم نے کافی اصرار پر یہاں لگا دی ہے

اس بلاگ میں سوالات  کا جواب نہیں دیا جائے گا  


علی رضی الله عنہ کا شیخین (ابو بکر و عمر رضی الله عنہما) سے خلافت پر اختلاف تھا انہوں نے ٦ ماہ تک ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت نہیں کی اور آخر کار فاطمہ رضی الله عنہا کی وفات کے بعد ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت کی (صحیح بخاری)- ابو بکر نے وفات کے وقت عمر رضی الله عنہ کو خلیفہ کر دیا اور علی سے اس وقت بھی کچھ پوچھا نہیں گیا – شیخین نے علی کو کہیں کا گورنر بھی مقرر نہیں کیا یہاں تک کہ کوفہ میں علی کے خیر خواہوں نے ایک فیصلہ کیا کہ امراء کے خلاف محاذ کھڑا کیا جائے اور ممکن ہے جب یہ معزول ہوں تو علی کو عامل مقرر کر دیا  جائے-  سوال یہ ہے کہ ایسا بعض کوفیوں کو کیا ہوا کہ وہ علی کے حق میں اتنا آگے تک جا رہے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کوفی اصلا یمنی تھے جن کو ان کے علاقوں سے عمر نے نکال کر کوفہ منتقل کر دیا تھا اس میں قبیلہ بنو اسد والے کثیر تعداد میں تھے اور بعد میں علی کے شیعوں میں بھی اسدیوں کی کثرت تھی اسی طرح علی کے ساتھ لڑنے والے بھی یمنی قبائل تھے – کوفیوں میں شیخین مخالف جذبات پیدا ہو چکے تھے

یمنی قحطانی قبائل اپنے اپ کو قریش سے زیادہ قدیم بتاتے ہیں – حدیث رسول کہ امراء قریش میں سے ہوں گے  کی وجہ سے وہ امت میں خلیفہ نہیں بن سکتے تھے  -علی کے لشکر میں قحطانی اور مرادی یمنی ہمدردوں کی بھی اکثریت ہے – یہاں تک کہ علی  کا قتل بھی قحطانی ہی کرتے ہیں- قحطانیقبیلہ سے مسلمانوں کا امیر ہو گا اس قسم کی  ایک روایت صحیح بخاری میں بھی آ گئی ہے جو اسی دور اختلاف کی ایجاد ہے – ہر چند کہ امام الذھبی نے اس کو منکر قرار دیا تھا لیکن بھر بھی اس کو صحیح کہا جاتا ہے

ایک طرف تو عربوں میں یہ قبائلی عصبیت بدل رہی تھی دوسری طرف خود علی خلیفہ بنتے بنتے رہ جاتے ہیں – عمر رضی الله عنہ کی شہادت کے بعد ٦ رکنی کیمٹی میں علی موجود ہیں جس کو خلیفہ کا انتخاب کرنا ہے – عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ جو اس کے سربراہ ہیں وہ عثمان رضی الله عنہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں – علی رضی الله عنہ اب بھی خلیفہ نہیں بن پاتے – عثمان اور علی دونوں صحابی ہیں   دونوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے داماد ہیں لیکن دونوں میں فرق بہت ہے عثمان عمر میں بڑے اور متمول ہیں اور علی عمر میں بہت چھوٹے اور غریب تھے علی کے گھر میں لونڈی غلام تک نہ تھے اور دوسری بیوی تک کی اجازت ان کو نہیں دی گئی (صحیح بخاری)- علی رضی الله عنہ کے پاس گزر اوقات کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ تھا کہ ان کو مال فدک ملتا اور یہی وجہ تھی کہ وہ مسلسل شیخین سے اس کا مطالبہ کر رہے تھے – جو  بالاخر عمر رضی الله عنہ نے ان کو دے دیا

علی رضی الله عنہ نے ابو بکر رضی الله عنہ کی وفات کے بعد اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے شادی کی اور ابو بکر کے صلبی بیٹے محمد بن ابی بکر(جو ١٠ھ میں پیدا ہوا) اب علی کے لے پالک تھے – علی رضی الله نے فاطمہ رضی الله عنہ کی وفات کے بعد شیخین اور عثمان  کی خلافت میں کئی شادیاں کیں اور متعدد لونڈیاں رکھیں – اس طرح علی کا کنبہ بہت بڑا ہوا  جو ظاہر کرتا ہے علی فارغ البال ہو گئے تھے

سن ٣١ ہجری کا واقعہ ہے جو صحیح البخاری میں ہی ہے

حدیث نمبر: 3717حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ وَقَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”.ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور (زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔

یہ خبر کہ عثمان رضی الله عنہ کے بعد زبیر بن العوام رضی الله عنہ کا نام بطور خلیفہ لیا جا رہا ہے امت میں پھیل چکی تھی –   اس کی خبر کوفیوں کو بھی ہوئی اور مصریوں کو بھی –  حدیث نبوی کے مطابق جو عھدہ مانگے اس کو وہ نہ دو لہذا علی رضی الله عنہ یہ مطالبہ نہیں کر سکتے تھے کہ ان کو عامل مقرر کیا جائے لیکن ان کے ہمدرد یہ کر سکتے تھے لہذا کوفہ کے لوگ عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے پاس پہنچا شروع ہوئے کہ امراء کو تبدیل کیا جائے

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کو عمر رضی الله عنہ نے  ٢١ ھ میں کوفہ کے عامل کی حیثیت سے معزول کیا

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ  کوفہ کے عامل ہوئے اور دور عثمان تک رہے

 سعد بن ابی وقاص کو عثمان نے  واپس کوفہ کا  گورنر کیا

ولید بن عقبہ رضی الله عنہ کو ٢٥ ھ میں گورنر کیا

سعید بن العاص رضی الله عنہ کو ٢٩ ہجری میں گورنر کیا

ابو موسی رضی الله عنہ کو ٣٤ ہجری میں گورنر کیا

 سعید بن العاص رضی الله عنہ  کو ٣٤ ہجری میں گورنر کیا

یعنی کوفی مسلسل درد سر بن چکے تھے امراء کے خلاف جھوٹے سچے قصے گھڑ کر مدینہ پہنچ جاتے اور عثمان رضی اللہ عنہ پر زور ڈالتے کہ ان کو تبدیل کرو لیکن عثمان اس سب کو بھانپ چکے تھے کہ ان کا مقصد  کیا ہے  – ان کوفی ہمدردروں کے نام معلوم ہیں اور یہ سب اصحاب علی ہیں (میل بن زیاد ، والأشتر النخعی ، مالک بن یزید ، و علقمہ بن قیس النخعی ، وثابت بن زید النخعی ، و جندب بن زھیر العامری ، و جندب بن کعب الأزدی ، وعروۃ بن الجعد ، وعمرو بن الحمق الخزائی، وصعصعۃ بن صوحان ، وأخوہ زید بن صوحان و ابن الکوا)  ان کے شیعہ ہیں یعنی یہ ہمدرد  علی کو بتائے بغیر بالا ہی بالا ان کے حق میں ایک تحریک چلا رہے تھے

مسند احمد کی روایت جس کو شعیب اور البانی صحیح کہتے ہیں  میں ہے

عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ – رضي الله عنه – قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ , إِنْ وَلِيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ: ” مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا , أَهَانَهُ اللهُ – عز وجل

 عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ نے کہا کہ میرے باپ رضی الله عنہ نے کہا اے بیٹے اگر تجھ کو والی لوگوں پر کیا جائے تو قریش کی تکریم کرنا کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس نے قریش کی اہانت کی الله عز وجل اس کی اہانت کرے گا

شیعان علی میں کثیر تعداد یمنی کوفیوں کی تھی جن کو اس پر اعتراض تھا کہ قریشی امراء ہی کیوں مقرر کیے جا رہے ہیں

دوسرا صوبہ مصر تھا یہاں صحابی رسول عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رضی الله عنہ گورنر تھے اور ان کا سیکریٹری عثمان رضی الله عنہ کا لے پالک  محمّدابن أَبِي حُذيفة تھا –  کتاب مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار از ابن حبان کے مطابق

محمد بن أبى حذيفة بن عتبة له صحبة كان عامل عثمان بن عفان على مصر

 محمد بن أبى حذيفة بن عتبة  صحابی ہے اس کو عثمان بن عفان نے  مصرپر عامل مقرر کیا تھا

وفات نبی کے وقت یہ  گیارہ سال کا تھا اور اس کی پرورش عثمان رضی الله عنہ نے کی

جبکہ کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل کے مطابق

 محمد بن أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة ولد أيضا بأرض الحبشة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وله رؤية

محمّد حبشہ میں پیدا ہوا اور اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو صرف دیکھا

الذھبی  تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

فنشأ مُحَمَّد فِي حُجْر عُثْمَان، ثُمَّ إنّه غضب على عُثْمَان لكونه لم يستعمله أو لغير ذلك، فصار إلْبًا على عُثْمَان

پس محمّد ،عثمان  رضی الله عنہ کے حجرے میں پلا بڑھا لیکن عثمان پر غضب ناک ہوا کہ انہوں نے اس کو کیوں عامل نہیں کیا اور انہی پر پلٹا

کتاب أسد الغابة کے مطابق

ولما قتل أبوه أَبُو حذيفة، أخذ عثمان بْن عفان مُحَمَّدا إليه فكفله إِلَى أن كبر ثُمَّ سار إِلَى مصر فصار من أشد الناس تأليبا عَلَى عثمان

جب محمّد کے باپ  شہید ہوئے تو اس کو عثمان نے  لے لیا اور کفالت کی یہاں تک کہ بڑا ہوا پھر مصر بھیجا

جھگڑا یہ ہوا کہ محمّد بن ابو حذیفہ کو عثمان نے امارت سے معزول کیا اور محمّد بن ابی بکر کو امیر مقرر کیا محمّد بن ابو حذیفہ نے محمّد ابن ابی بکر کے کان بھرے کہ میرے پاس عثمان کا خط آیا ہے کہ جیسے ہی نیا گورنر محمد بن ابی بکر مصر پہنچے اس کو قتل کر دینا – یہ سن کر محمد بن ابی بکر بدک گیا- بالاخر مصریوں اور کوفیوں نے پلان بنایا کہ اب بغاوت و خروج کیا جائے اور عثمان کو معزول کر دیا جائے – لیکن کیسے ؟ مدینہ تو عثمان کے ہمدرد اصحاب رسول سے بھرا پڑا تھا لہذا مناسب وقت ایام حج  تھے جس میں اصحاب رسول مشغول ہوں تو عثمان کو محصور کیا جائے زور ڈال کر ان کو ہٹا دیا جائے اور علی کو امام و خلیفہ مقرر کیا جائے  لہذا حاجیوں کے روپ میں ہدی کے جانوروں کے ساتھ نکلا جائے لیکن مدینہ پہنچ کر  احرام کھول دیا جائے اور دم میں انہی جانوروں کو قربان کیا جائے-  مدینہ پر اس قسم کا حملہ شمال سے ممکن تھا کیونکہ یہ مکہ کے رستے میں اتا ہے یہی وجہ ہے کہ عراق و مصر سے باغی خروج کرتے ہیں اور علی کو مجبورا مدینہ اس بنا پر چھوڑنا پڑتا ہے کہ اس قسم کی بغاوت ان کے خلاف بھی ہو سکتی تھی

باغیوں میں اصحاب بیعت شجرہ میں سے عبد الرحمن بن عُدَيْسٍ بھی ہے -دیگر اصحاب رسول میں سے زيد بن صوحان، زياد بن النضر الحارثي، حكيم بن جبلة (جو عثمان کے بصرہ کے بیت المال کے عمل دار تھے )، حرقوص بن زهير السعدي ہیں – محمّد بن ابو حذیفہ ہیں – محمد بن ابی بکر ہیں (یہ صحابی نہیں ہے) – یہ باغیوں کے سرغنہ تھے اور ان میں بعض  کے ساتھ ٢٠٠ سے ٣٠٠ سو لوگ تھے جو ساتھ مل کر ٧٠٠ سے   ہزار کی تعداد بن گئی تھی

قتل سے پہلے

گورنر کا شراب پینا

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ) صحیح مسلم: کتاب: حدود کا بیان

(باب: شراب کی حد)

4457 .

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ، مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ، حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَزِيدُكُمْ، فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ، وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ، قُمْ فَاجْلِدْهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ، فَقَالَ الْحَسَنُ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ قُمْ فَاجْلِدْهُ، فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ، فَقَالَ: أَمْسِكْ، ثُمَّ قَالَ: «جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ»، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ، ” وَكُلٌّ سُنَّةٌ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ. زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ

 ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور علی بن حجر سب نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ابن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ داناج (فارسی کے لفظ دانا کو عرب اسی طرح پڑھتے تھے) سے روایت کی، نیز اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ۔۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔۔ کہا: ہمیں یحییٰ بن حماد نے خبر دی، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن مختار نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ان عامر داناج کے مولیٰ عبداللہ بن فیروز نے حدیث بیان کی: ہمیں ابو ساسان حُضین بن منذر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، ان کے پاس ولید (بن عقبہ بن ابی معیط) کو لایا گیا، اس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر کہا: کیا تمہیں اور (نماز) پڑھاؤں؟ تو دو آدمیوں نے اس کے خلاف گواہی دی۔ ان میں سے ایک حمران تھا (اس نے کہا) کہ اس نے شراب پی ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے (شراب کی) قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے شراب پی ہے تو (اس کی) قے کی ہے۔ اور کہا: علی! اٹھو اور اسے کوڑے مارو۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: حسن! اٹھیں اور اسے کوڑے ماریں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اس  کی ناگوار باتیں بھی انہی کے سپرد کیجیے جن کے سپرد اس کی خوش گوار ہیں۔ تو ایسے لگا کہ انہیں ناگوار محسوس ہوا ہے، تب انہوں نے کہا: عبداللہ بن جعفر! اٹھو اور اسے کوڑے مارو۔ تو انہوں نے اسے کوڑے لگائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ شمار کرتے رہے حتی کہ وہ چالیس تک پہنچے تو کہا: رک جاؤ۔ پھر کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگوائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس لگوائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی (کوڑے) لگوائے، یہ سب سنت ہیں اور یہ (چالیس کوڑے لگانا) مجھے زیادہ پسند ہے۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: اسماعیل نے کہا: میں نے داناج کی حدیث ان سے سنی تھی لیکن اسے یاد نہ رکھ سکا

راقم کہتا ہے  ولید بن عقبہ   رضی الله عنہ سے کوفیوں کو بہت خنس تھی اور کوفیوں کا مقصد شروع سے یہ رہا کہ علی کو وہاں کا گورنر کرا دیا جائے -کوفی یمنی  تھے لہذا شیعان علی کی ایک روایت یہ ہے کہ قرآن میں ایک فاسق کا ذکر ہے جو ولید بن عقبہ رضی الله عنہ تھے

﴿قال: قدمت علی رسول اللہ ﷺ فدعانی الی الاسلام ، فدخلت فیہ، واٴقررت بہ۔۔۔﴾ (مسند احمد بن حنبل ،ج ۳۰، ص ۴۰۳، رقم ۸۴۵۹  پر الحدیث

ترجمہ: (میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی جو میں نے منظور کر لی اور مسلمان ہوگیا۔ پھر آپ نے زکوة کی فرضیت سنائی میں نے اس کا بھی اقرار کیا اور کہا کہ میں واپس اپنی قوم کے پاس جاتا ہوں اور ان میں سے جو ایمان لائیں اور زکوة ادا کریں میں ان کی زکوة جمع کرتا ہوں۔ اتنے اتنے دنوں کے بعد آپ میری طرف کسی آدمی کو بھیج دیں میں اس کے ہاتھ جمع شدہ مال زکوة آپ کی خدمت میں بھجوادوں گا۔ سیدنا حارث نے واپس آکر یہی مال زکوة جمع کیا جب وقت مقررہ گزر چکا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی قاصد نہ آیا تو آپ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا یہ تو نا ممکن ہے کہ اللہ کے رسول اپنے وعدے کے مطابق اپنا آدمی نہ بھیجیں ۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ ہم سے ناراض نہ ہوگئے ہوں؟ اور اس بنا پر آپ نے اپنا کوئی قاصد مال زکوة لینے کے لیے نہ بھیجا ہو، اگر آپ متفق ہوں تو ہم اس مال کو لے کر خود ہی مدینہ منورہ چلیں اور آپ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ یہ تجویز طے پاگئی اور یہ حضرات اپنا مال زکوة لے کر چل کھڑے ہوئے۔ ادھر سے رسول اللہ ﷺ ولید بن عقبہ کو اپنا قاصد بنا کر بھیج چکے تھے۔ لیکن یہ حجرات راستے میں ہی ڈر کے مارے لوٹ آئے اور یہاں آ کر کہہ دیا کہ حارث نے زکوة بھی روک لی اور میرے قتل کے درپے ہوئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور کچھ آدمی حارث کی تنبیہ کے لیے روانہ فرما دیے۔ مدینے کے قریب راستے میں ہی اس مختصر سے لشکر نے حضرت حارث کو پالیا۔ سیدنا حارث نے پوچھا آخر کیا بات ہے؟ تم کہاں اور کس کے پاس جا رہے ہو؟ انہوں نے آپ کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد ولید کو زکوة نہ دی بلکہ انہیں قتل کر نا چاہا۔ حارث نے فرمایا قسم ہے اس رب کی جس نے محمد ﷺ کو سچا بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے اسے دیکھا نہ وہ میرے پاس آیا، چلو میں تو خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں۔ یہاں جو آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا تم نے زکوة بھی روک لی اور میرے آدمی کو قتل کرنا چاہا۔ آپ نے جواب دیا ہر گز نہیں یا رسول اللہﷺ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے انہیں دیکھا ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس آئے، بلکہ قاصد کو نہ دیکھ کر اس ڈر کے مارے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھ سے ناراض نہ ہوگئے ہوں اور اسی وجہ سے قاصد نہ بھیجا ہو میں خود حاضر خدمت ہوا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
 يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا۔۔۔۔۔۔
(الحجرات: ۶)

اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔۔۔۔ حکیم تک نازل ہوئی۔

سند میں محمد بن سابق ہے جو ضعیف ہے۔
دینار کا باپ  عیسٰی مجھول ہے۔
محمد بن سابق التمیمی:
قال یحییٰ بن معین : ضعیف۔
قال ابو حاتم لا یحتیج بہ۔
وقال یعقوب بن شیبة : ولیس ممن یوصف بالضبط للحدیث۔تھذیب التھذیب ،ج۷، ص۱۶۳، تھذیب الکمال للمزی،ج۲۵،ص۶۳۳، تاریخ الکبیرللبخاری الترجمة ۳۱۲، الجرح والتعدیل

اس تناظر میں صحیح مسلم کی روایت میں بھی ایسا ہی ہے دو کوفیوں کی شکایات پر عثمان نے گورنر کو کوڑے لگوائے اور وہ بھی خاص اہل بیت النبی سے – کیا یہ ہر وقت  مجلس عثمان میں ہی رہتے تھے ؟ کسی اور صحابی کا ذکر بھی اس روایت میں نہیں ہے

کہا جاتا ہے کہ حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ المتوفی ٩٩ ھ  جو گواہ بن کر کھڑا ہوا یہ  بعد میں  كَانَ صَاحِبَ شُرْطَةِ عَلِيٍّ  علی کا خصوصی گارڈ بنا اس کا بیان بھی صحیح بخاری کی روایت سے جدا ہے

حدیث نمبر 3872:
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، ‏‏‏‏حدثنا هشام، ‏‏‏‏أخبرنا معمر، ‏‏‏‏عن الزهري، ‏‏‏‏حدثنا عروة بن الزبير، ‏‏‏‏أن عبيد الله بن عدي بن الخيار، ‏‏‏‏أخبره أن المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث قالا له ما يمنعك أن تكلم خالك عثمان في أخيه الوليد بن عقبة وكان أكثر الناس فيما فعل به‏.‏ قال عبيد الله فانتصبت لعثمان حين خرج إلى الصلاة فقلت له إن لي إليك حاجة وهى نصيحة‏.‏ فقال أيها المرء، ‏‏‏‏أعوذ بالله منك، ‏‏‏‏فانصرفت، ‏‏‏‏فلما قضيت الصلاة جلست إلى المسور وإلى ابن عبد يغوث، ‏‏‏‏فحدثتهما بالذي قلت لعثمان وقال لي‏.‏ فقالا قد قضيت الذي كان عليك‏.‏ فبينما أنا جالس معهما، ‏‏‏‏إذ جاءني رسول عثمان، ‏‏‏‏فقالا لي قد ابتلاك الله‏.‏ فانطلقت حتى دخلت عليه، ‏‏‏‏فقال ما نصيحتك التي ذكرت آنفا قال فتشهدت ثم قلت إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم وأنزل عليه الكتاب، ‏‏‏‏وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وآمنت به، ‏‏‏‏وهاجرت الهجرتين الأوليين، ‏‏‏‏وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورأيت هديه، ‏‏‏‏وقد أكثر الناس في شأن الوليد بن عقبة، ‏‏‏‏فحق عليك أن تقيم عليه الحد‏.‏ فقال لي يا ابن أخي أدركت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت لا، ‏‏‏‏ولكن قد خلص إلى من علمه ما خلص إلى العذراء في سترها‏.‏ قال فتشهد عثمان فقال إن الله قد بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب، ‏‏‏‏وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وآمنت بما بعث به محمد صلى الله عليه وسلم‏.‏ وهاجرت الهجرتين الأوليين كما قلت، ‏‏‏‏وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبايعته، ‏‏‏‏والله ما عصيته ولا غششته حتى توفاه الله، ‏‏‏‏ثم استخلف الله أبا بكر فوالله ما عصيته ولا غششته، ‏‏‏‏ثم استخلف عمر، ‏‏‏‏فوالله ما عصيته ولا غششته، ‏‏‏‏ثم استخلفت، ‏‏‏‏أفليس لي عليكم مثل الذي كان لهم على قال بلى‏.‏ قال فما هذه الأحاديث التي تبلغني عنكم فأما ما ذكرت من شأن الوليد بن عقبة، ‏‏‏‏فسنأخذ فيه إن شاء الله بالحق قال فجلد الوليد أربعين جلدة، ‏‏‏‏وأمر عليا أن يجلده، ‏‏‏‏وكان هو يجلده‏.‏ وقال يونس وابن أخي الزهري عن الزهري أفليس لي عليكم من الحق مثل الذي كان لهم‏.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیارنے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبد الر حمن بن اسود بن عبد یغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا تم اپنے ماموں (امیرالمؤمنین) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے، (ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو حضرت عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا)، عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیرخواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں خدا کی پنا ہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فا رغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبد یغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جودیا تھا، سب میں نے بیان کر دیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس (بلانے کے لیے) آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیرخواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیاتھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں (ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لئے آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر (شراب نوشی کی) حد قائم کریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنوا ری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر (ابتداء ہی میں) لبیک کہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم انشاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر (گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اورزہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔
—-

روایات کے مطابق گواہوں نے ایک انگوٹھی پیش کی کہ ہم نے ولید رضی اللہ عنہ کو شراب نوشی کرتے دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ان کی انگوٹھی اتار لائے اور انہیں علم نہیں ہو سکا۔   عثمان رضی اللہ عنہ نے   ولید کو طلب کیا اور ان سے فرمایا: “جھوٹے گواہ کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اے میرے بھائی! تم صبر کرو۔” اس کے بعد انہوں نے ولید پر شراب کی سزا نافذ کی   طبری۔ 3/1-314 –   اس میں ایک الزام بیان ہوا لوگ گواہ بنے اور حد قائم ہوئی- اب یہ صحیح ہوئی اس کا فیصلہ تو اب الله کے پاس ہے جب  ولید بن عقبہ  رضی الله عنہ  محشر میں سوال کریں گے

حج میں اختلاف

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ

(بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ)

صحیح مسلم2964: کتاب: حج کے احکام ومسائل

(باب: حج تمتع کرنما جائز ہے)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ، فَكَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَنْهَى عَنْهُ؟» فَقَالَ عُثْمَانُ: دَعْنَا مِنْكَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ، أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا

عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی،کہا:(ایک مرتبہ) مقام عسفان پر   علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکھٹے ہوئے۔  عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع سے یا (حج کے مہینوں میں ) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔  علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا:آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟  عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:آپ  ہمیں   چھوڑ دیں (یعنی جو دل چاہے کریں)۔  علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں آپ استطاعت نہیں رکھتا کہ اپ کو  چھوڑ دوں ۔جب   علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ   دیکھا توحج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کردیا ۔

‌صحيح البخاري 1563: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ التَّمَتُّعِ وَالإِقْرَانِ وَالإِفْرَادِ بِالحَجِّ، وَفَسْخِ الحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ) صحیح بخاری: کتاب: حج کے مسائل کا بیان

(باب: حج میں تمتع، قران اور افراد کا بیان۔۔۔)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ قَالَ مَا كُنْتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے علی بن حسین ( حضرت زین العابدین ) نے اور ان سے مروان بن حکم نے بیان کیا کہ   عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو میں نے دیکھا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے سے منع کیا  لیکن   علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا ” لبیک بعمرۃ وحجۃ “ اور کہا کہ میں کسی ایک شخص کی بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا۔

راقم کہتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے صرف ایک حج کیا ہے اور اس میں حج و عمرہ کو ملانے کا ذکر نہیں ہے

صحیح مسلم میں ہے

ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: ” لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ

علی نے عثمان سے کہا اپ جانتے ہیں کہ ہم نے تمتع کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ- عثمان نے کہا ٹھیک ہے لیکن ہم اس میں خوف زدہ تھے

مشکل الاثار میں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ , قَالَ: ثنا الْحَجَّاجُ , قَالَ: ثنا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سُئِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ , فَقَالَ: كَانَتْ لَنَا , لَيْسَتْ لَكُمْ

عثمان نے کہا یہ ہمارے لئے تھا تمھارے لئے نہیں ہے

ابن حجر نے کہا

ويحتمل أن يكون عثمان أشار إلى أن الأصل في اختياره – صلى اللَّه عليه وسلم – فسخ الحجّ إلى العمرة في حجة الوداع دفع اعتقاد قريش منع العمرة في أشهر الحجّ، وكان ابتداء ذلك بالحديبية؛ لأن إحرامهم بالعمرة كان في ذي القعدة، وهو من أشهر الحجّ، وهناك يصحّ إطلاق كونهم خائفين، أي من وقوع القتال بينهم وبين المشركين، وكان المشركون صدّوهم عن الوصول إلى البيت، فتحلّلوا من عمرتهم، وكانت أول عمرة وقعت في أشهر الحجّ، ثم جاءت عمرة القضيّة في ذي القعدة أيضًا، ثم أراد – صلى اللَّه عليه وسلم – تأكيد ذلك بالمبالغة فيه، حتى أمرهم بفسخ الحجّ إلى العمرة

اور احتمال ہے کہ عثمان کا اشارہ ہے جو اصل میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے اختیار کیا کہ حج کو عمرہ سے بدلا حجه الوداع میں قریش کے عقیدہ کو دفع کرنے کہ حج کے ماہ میں عمرہ منع ہے اور اس کی شروعات حدیبیہ میں ہوئی جب عمرہ کا احرام باندھا جو ذیقعدہ میں تھا جو حج کا مہینہ ہے اور اس پر خوف کا اطلاق صحیح ہے کہ ان میں اور مشرکین میں قتال ہو سکتا تھا اور مشرکین نے راستہ روکا تو اس کو عمرہ سے بدلا اور پہلا عمرہ حج کے مہینوں میں ہوا پھر عمرہ قضیہ ہوا جو ذیقعدہ میں ہوا

عثمان رضی الله عنہ کے نزدیک ایسا کرنا علت کی بنا پر  تھا  لہذا یہ خصوص تھا کہ میقات میں ایام حج میں عمرہ کی نیت سے داخل ہوں اور علی رضی الله عنہ نے اس کو عموم سمجھا

عثمان کی طرح ابو ذر رضی الله عنہ بھی اس کو حکم خصوصی کہتے تھے جو صرف اصحاب النبی کے لئے ہے

أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «كَانَتْ الْمُتْعَةُ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً

محصور عثمان

الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں

وَقَالَ يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: آخِرُ خرجةٍ خَرَجَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ حَصَبَهُ النَّاسُ، فَحِيلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاةِ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ يومئذٍ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.

عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ کہتے ہیں کہ آخری بار جب عثمان نکلے تھے تو جمعہ کا دن تھا پس جب منبر پر آئے تو لوگوں نے گھیر لیا پس وہ ان کے اور نماز کے بیچ حائل ہوئے اور اس دن لوگوں نے أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنہ  کے پیچھے نماز پڑھی

مسند احمد کی روایت أبي إمَامَة بن سَهْل سے مروی  ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى  بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ:   كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِني بِالْقَتْلِ، قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي؟! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا، فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ [أَنَّ لِي] بِدِينِي [بَدَلاً]   مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ، وَلاَ زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ قَطُّ وَلاَ قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي

ہم عثمان کے ساتھ تھے اور وہ محصور تھے گھر میں پس عثمان نے کہا انہوں نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے- ہم نے کہا الله اپ کے لئے کافی ہے امیر المومنین- عثمان نے کہا یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاھتے ہیں؟ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک مسلم کا خون حلال نہیں سوائے تین کے – ایک شخص کفر اختیار کرے اسلام قبول کرنے کے بعد یا زنا کرے شادی کے بعد یا نفس کا قتل کرے پس اس کو قتل کیا جائے الله کی قسم جب سے الله نے ہدایت دی ہے مجھ کو دین بدلنا پسند نہیں اور نہ میں جاہلیت میں زنا کیا، نہ اسلام میں کبھی،  نہ قتل نفس کیا تو یہ مجھے کیوں قتل کریں گے

 محقق  احمد شاکر اور شعیب اس کو صحیح کہتے ہیں

اس دوران نماز میں امام عبد الرحمان بن عدیس تھا  اور عید کی نماز میں امام علی رضی الله عنہ  تھے یہ دونوں اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں

صحیح بخاری کی روایت ہے

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، – وَهُوَ مَحْصُورٌ – فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ، وَنَتَحَرَّجُ؟

عبید الله بن عدی،  عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ محصور تھے ان سے کہا کہ آپ امام ہیں لیکن ہم کو امام الفتنہ نماز پڑھا رہا ہے اور ہم کراہت کر رہے ہیں

اس روایت میں امام الفتنہ سے مراد عبد الرحمن بن عدیس البلوی ہے

ابن شبہ اپنی کتاب، تاریخ المدینہ، ج ۴، ص ۱۱۵٦، میں روایت ہے

فَطَلَعَ ابْنُ عُدَيْسٍ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَطَبَ النَّاسَ وَصَلَّى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ الْجُمُعَةَ، وَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: أَلَا إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَذَا وَكَذَا» ، وَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَكْرَهُ ذِكْرَهَا

ابن عدیس منبر رسول پر چڑھا اور خطاب کیا، اور لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی، اور خطبے میں کہا کہ آگاہ ہو جاو، مجھے ابن مسعود نے کہا کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ عثمان بن عفان ایسے ایسے ہیں۔ راوی کہتا ہے ابن عدیس نے ایسا کلام کیا کہ جو بیان کرنے سے مجھے کراہت ہو رہی ہے

یہ بات جب عثمان رضی الله عنہ تک پہنچی توعثمان نے جواب دیا

كذب والله ابن عديس ما سمعها من ابن مسعود، ولا سمعها ابن مسعود من رسول الله قط

اللہ کی قسم! ابن عدیس نے جھوٹ بولا، نہ اس نے ابن مسعود سے کچھ سنا، نہ ابن مسعود نے (اس بارے میں) رسول اللہ سے

ایک روایت موضوعات ابن الجوزی میں ہے جس کے مطابق منبر پر ابن عدیس نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا

أَلا إِن عُثْمَان أضلّ من عَيْبَة على قفلها

خبردار بے شک عثمان گمراہ ہے اس کے بارے میں جس کے یہ عیب قفل پر کرتا ہے

یعنی تالا لگا کر عثمان رضی الله عنہ علی رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے تھے

الذھبی تلخیص الموضوعآت میں اس پر لکھتے ہیں

قد افتراه ابْن عديس

اس کو ابن عدیس نے افتری کیا ہے

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ” إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا “، أَوْ قَالَ: ” اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً “، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ” عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ “، وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ

رواه: الإمام أحمد، والحاكم في “مستدركه”، وقال “صحيح الإسناد

عثمان جب محصور تھے تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے عثمان رضی الله عنہ سے کلام کی اجازت مانگی – پس ان کو اجازت دی گئی ابو ہریرہ کھڑے ہوئے اور الله کی حمد کی اور تعریف کی پھر کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہا تم کو میرے بعد فتنہ و اختلاف ملے گا …. پس لوگوں میں سے کسی  نے کہا : پس ہم کیا کریں رسول الله  فرمایا تمھارے لئے امین ہے اس کے  اصحاب ہیں،  ان کا اشارہ عثمان کے لئے تھا

اس روایت کو بعض علماء صحیح کہتے ہیں جبکہ اس کی سند میں أَبُو حَبِيبَةَ  مجھول ہیں ان کی ثقاہت ابن حبان اور عجلی نے کی ہے  جو ان دونوں کا تساہل ہے – کوئی اور ان کی تعدیل نہیں کرتا

شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة  از أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ)  کی روایت ہے

أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاهِدٍ، قَالَ: نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: نا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: نا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أن عليا أتى عثمان وهو محصور فأرسل إليه أني قد جئت لأنصرك فأرسل إليه بالسلام وقال: لا حاجة لي فأخذ علي عمامته من رأسه فألقاها في الدار التي فيها عثمان وهو يقول ذلك ليعلم أني لم أخنه بالغيب.

ميمون بن مهران کی ابن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے اور وہ محصور تھے پس انہوں نے کسی کو  عثمان رضی الله عنہ کے پاس بھیجا کہ میں آیا ہوں تمہاری مدد کے لئے تو عثمان نے ان کو سلام کہا اور کہا مجھ  تیری حاجت نہیں- پس علی نے اپنا عمامہ جو سر پر تھا اس کو دار عثمان پر پھینکا اور کہا یہ اس لئے کہ {«ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ» } [يوسف: 52]  تو جان لے کہ میں چھپ کر خیانت نہیں کر رہا

 امام احمد کہتے ہیں وجعفر بن برقان، ثقة، ضابط لحديث ميمون جعفر بن برقان، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ سے روایت کرنے میں ثقہ ضابط ہیں

مسند احمد کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ:  حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الشَّرِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: ” إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ [ص:91] أَكُونَ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الشَّرِيد کہتے ہیں میں نے علی کو کہتے سنا  وہ خطبہ دے رہے تھے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ میں اور عثمان وہ ہیں جن پر الله کا قول ہے  وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ

كتاب الفتن از أبو عبد الله نعيم بن حماد بن معاوية بن الحارث الخزاعي المروزي (المتوفى: 228هـ) کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ” إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]

علی کہتے کہ میں امید کرتا ہوں میں اور عثمان ہی وہ ہیں جن کے لئے قرآن میں ہے  کہ ہم ان کے دلوں کی کدورت دور کر دیں گے

یعنی عثمان اور علی رضی الله عنہما میں اختلافات شدید تھے آخری وقت میں عثمان رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ سے ملاقات تک کو پسند نہ کیا اور علی کو یہ گمان تھا کہ عثمان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ  علی  درپردہ خیانت کر رہے ہیں

ظاہر ہے جب علی کی آفر کو عثمان رضی الله عنہ نے رد کر دیا تو وہاں الدار پر چوکیداری ال علی میں کوئی نہیں کر رہا تھا –

ابن کثیر البداية والنهاية میں لکھتے ہیں

فروى الواقدي عن موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التميمي عن أبيه أن عمر…. كان عثمان بن عفان يكرم الحسن والحسين ويحبهما وقد كان الحسن بن علي يوم الدار وعثمان بن عفان محصور عنده ومعه السيف متقلداً به يحاجف عن عثمان

واقدی کی موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التميمي سے ان کی باپ سے ان کی عمر سے روایت ہے کہ عثمان رضی الله عنہ کے گھر پر حسن و حسین رضی الله عنہما تلوار لٹکائے تھے ان  کی چوکیداری کے لئے

اس کی سند میں واقدی کذاب ہے – موسى بن محمد بن أبراهيم بن الحارث القرشي، التيمي کو امام احمد ضعیف کہتے ہیں – امام بخاری کہتے ہیں یہ منکر روایات بیان کرتا ہے – أبو أحمد الحاكم  اس کو منكر الحديث کہتے ہیں – عقیلی کہتے ہیں امام بخاری اس کو  منكر الحديث کہتے ہیں  – يحيى بن معين اس کو ضعیف اور دارقطنی متروک کہتے ہیں

کتاب المجالسة وجواهر العلم  ازأبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) کی روایت ہے جس کو محقق   أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان صحیح کہتے ہیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيِّ، نَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، نَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: [ص:161] أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا الدَّارَ، فَقُلْتُ: جِئْتُ أُقَاتِلُ مَعَكَ، قَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تَقْتُلَ النَّاسَ كُلَّهُمْ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَإِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَ نَفْسًا وَاحِدَةً كَأَنَّكَ قَتَلْتَ النَّاسَ كُلَّهُمْ. فَقَالَ: انْصَرِفْ مَأْذُونًا غَيْرَ مَأْزُورٍ. قَالَ: ثُمَّ جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فقال: جئت يا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُقَاتِلُ مَعَكَ، فَأْمُرْنِي بِأَمْرِكَ. فَالْتَفَتَ عُثْمَانُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: انْصَرِفْ مَأْذُونًا لَكَ، مَأْجُورًا غَيْرَ مَأْزُورٍ، جَزَاكُمُ اللهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا

ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حسن رضی الله عنہ ، عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ میں اپ کے ساتھ لڑوں گا لیکن عثمان نے ان کو چلے جانے کا حکم دیا اور جزا کی دعا کی

عثمان کی حفاظت ان کے چند پہرے دار کر رہے تھے لہذا صدردروازے سے کوئی داخل نہیں ہوا بلوائی ایک پڑوسی کے گھر سے اندر کودے اور عثمان رضی الله عنہ تک  جا پہنچے ان میں علی رضی الله عنہ کے لے پالک اور ابو بکر رضی الله عنہ کے صلبی بیٹے محمد بن ابی بکر سر فہرست تھے

الذھبی لکھتے عمرو بن حزم رضی الله عنہ کے گھر کے راستے سے عثمان پر بلوائی داخل ہوئے

فجاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا، فدخل حتى انتهى إلى عثمان، فأخذ بلحيته، فقال بها حتى سمعت وقع أضراسه، فقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما أغنت عنك كتبك. فقال: أرسل لحيتي يا ابن أخي

پس محمد بن ابی بکر تیس آدمیوں کے ساتھ آیا اور گھر میں داخل ہوا حتی کہ عثمان تک جا پہنچا اور ان کو داڑھی سے پکڑا اور کہا  تجھ کو معاوية نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، تجھ کو بنی عامر نے فائدہ نہیں پہنچایا، تجھ کو تیری تحریر نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، عثمان نے کہا اے بھائی کے بیٹے میری داڑھی چھوڑ دے

اسی بلوہ میں عثمان رضی الله عنہ شہید ہو گئے

قتل کے بعد

فضائل الصحابة از امام احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ السَّاعَةَ، قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَأَخَذْتُ بِوَسَطِهِ تَخَوُّفًا عَلَيْهِ، فَقَالَ: خَلِّ لَا أُمَّ لَكَ، قَالَ: فَأَتَى عَلِيٌّ الدَّارَ، وَقَدْ قُتِلَ الرَّجُلُ، فَأَتَى دَارَهُ فَدَخَلَهَا، وَأَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، فَأَتَاهُ النَّاسُ فَضَرَبُوا عَلَيْهِ الْبَابَ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ قُتِلَ وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ خَلِيفَةٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ: ” لَا تُرِيدُونِي، فَإِنِّي لَكُمْ وَزِيرٌ خَيْرٌ مِنِّي لَكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ عَلَيَّ فَإِنَّ بَيْعَتِي لَا تَكُونُ سِرًّا، وَلَكِنْ أَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُبَايِعَنِي بَايَعَنِي، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَبَايَعَهُ النَّاسُ.

مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ کہتے ہیں کہ میں علی کے ساتھ تھا اور عثمان محصور تھے پس ایک شخص آیا اور کہا امیر المومنین کا قتل ہو گیا پھر دوسرا آیا اس نے کہا امیر المومنین کا ابھی قتل ہوا- پس علی اٹھے اور محمد کہتے ہیں میں نے ان کو تھام لیا … پس وہ عثمان کے گھر تک گئے وہاں ایک شخص  مقتول تھا پس وہ داخل ہوئے اور دروازہ (اندر سے) بند کر دیا پس لوگ آئے اور دروازہ کو پیٹنا  شروع کیا اور اندر داخل ہو گئے اور کہا یہ شخص تو قتل ہی ہو گیا اور اب (اےعلی) اپ کو ہی خلیفہ ہونا چاہیے اور ہم نہیں جانتے کہ اپ سے زیادہ کوئی حقدار ہو پس علی نے کہا تم کو میری ضرورت نہیں ہے امیر سے بہتر میں وزیر ہوں انہوں نے کہا الله کی قسم ہم اپ سے زیادہ حق دار کسی اور کو نہیں جانتے پس علی نے کہا اگر تم زور دیتے ہو تو میری بیعت چھپ کر نہیں مسجد میں ہو گی پس جو چاہے بیعت کرے پس مسجد میں آئے اور بیعت ہوئی

یہ روایت صحیح نہیں ہو سکتی- اس کے مطابق علی کو جب  قتل کی خبر ملی وہ عثمان کے گھر چلے گئے دروازہ اندر سے بند کر لیا – کیا قتل گاہ جا کر کوئی ایسا کرے گا ؟    سند میں سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ کٹر شیعہ ہے

امیر المومنین علی رضی الله عنہ کی بیعت کا ایک قصہ ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں ج ٧ ص ٢٢٦ میں  پیش کرتے ہیں جو واقدی کذاب  اور مجہولین کی سند سے ہے

وَقَالَ الْوَاقِدِيُّ: بَايَعَ النَّاسُ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ، وَتَرَبَّصَ سَبْعَةُ نَفَرٍ لَمْ يُبَايِعُوا، مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وصهيب، وزيد بن ثابت، ومحمد بن أبى مَسْلَمَةَ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَّا بَايَعَ فِيمَا نَعْلَمُ. وَذَكَرَ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ شُيُوخِهِ قَالُوا: بَقِيَتِ المدينة خمسة أيام بعد مقتل عُثْمَانَ وَأَمِيرُهَا الْغَافِقِيُّ بْنُ حَرْبٍ، يَلْتَمِسُونَ مَنْ يُجِيبُهُمْ إِلَى الْقِيَامِ بِالْأَمْرِ. وَالْمِصْرِيُّونَ يُلِحُّونَ عَلَى عَلِيٍّ وَهُوَ يَهْرُبُ مِنْهُمْ إِلَى الْحِيطَانِ، وَيَطْلُبُ الْكُوفِيُّونَ الزَّبِيرَ فَلَا يَجِدُونَهُ، وَالْبَصْرِيُّونَ يَطْلُبُونَ طَلْحَةَ فَلَا يُجِيبُهُمْ، فَقَالُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ لَا نُوَلِّي أَحَدًا مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ، فَمَضَوْا إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالُوا: إِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الشورى فلم يقبل منهم، ثم راحوا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَبَى عَلَيْهِمْ، فَحَارُوا فِي أَمْرِهِمْ، ثُمَّ قَالُوا: إِنْ نَحْنُ رَجَعْنَا إِلَى أَمْصَارِنَا بِقَتْلِ عُثْمَانَ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَمْرِهِمْ وَلَمْ نَسْلَمْ، فَرَجَعُوا إِلَى على فألحوا عليه، وأخذ الأشتر بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يَقُولُونَ: أَوَّلُ مَنْ بَايَعَهُ الْأَشْتَرُ النَّخَعِيُّ وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَمِيسِ الرَّابِعُ وَالْعِشْرُونَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مُرَاجَعَةِ النَّاسِ  َهُمْ فِي ذَلِكَ، وَكُلُّهُمْ يَقُولُ: لَا يَصْلُحُ لَهَا إِلَّا عَلِيٌّ، فَلَمَّا كان يوم الجمعة وصعد على الْمِنْبَرَ بَايَعَهُ مَنْ لَمْ يُبَايِعْهُ بِالْأَمْسِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَهُ طَلْحَةُ بِيَدِهِ الشَّلَّاءِ، فَقَالَ قَائِلٌ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ،    ثُمَّ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنَّمَا بَايَعْتُ عَلِيًّا واللج على عنقي والسلام، ثم راح إلى مكة فأقام أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، وَكَانَتْ هَذِهِ الْبَيْعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لخمسة بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ،

واقدی نے کہا کہ لوگوں نے علی کی بیعت مدینہ میں کی اور … سات لوگوں نے بیعت نہیں کی جن میں ابن عمر ہیں سعد بن ابی وقاص ہیں صہیب الرومی ہیں اور زید بن ثابت ہیں اور محمد بن ابی مسلمہ ہیں اور سلامہ بن وقش ہیں اور اسامہ بن زید ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ انصار میں سے کسی نے اس بیعت پر اختلاف کیا ہو اور سیف بن عمر نے ذکر کیا اپنے شیوخ کی ایک جماعت سے انہوں نے کہا عثمان کے قتل کے بعد پانچ دن تک الْغَافِقِيُّ بْنُ حَرْبٍ مدینہ پر امیر تھا – … مصری علی سے ملے اور علی ان سے فرار کر کے باغوں میں چلے گئے اور کوفی زبیر کو طلب کرتے تھے وہ ان کو نہ ملے اور بصری طلحہ کو انہوں نے بھی جواب نہ دیا  …. لوگ سعد کے پاس آئے کہ اپ اہل شوری میں سے ہیں لیکن انہوں نے قبول نہ کیا پھر ابن عمر کے پاس وہ ان سے دور ہوئے … سب سے پہلے کوفیوں میں سے ُ الْأَشْتَرُ النَّخَعِيّ نے علی کی بیعت کی…. پھر علی منبر پر گئے سب سے پہلے طَلْحَةُ جن کا ہاتھ شل تھا  نے بیعت کی

یہ روایت ہمارے مورخین ابن کثیر وغیرہ نے لکھی ہے جبکہ یہ جھوٹ کا درخت ہے- علی رضی الله عنہ  نہ تو کہیں چھپے تھے بلکہ وہ ان سب باغیوں کو عید کی نماز پڑھا چکے تھے

الأم از امام  الشافعي  المكي (المتوفى: 204هـ) کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ: شَهِدْنَا الْعِيدَ مَعَ عَلِيٍّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ.

ابْنِ أَزْهَرَ سے مراد عبد الرحمن بن أزهر الزهري، صحابي صغير، مات قبل الحرة. (التقريب ص 336) .

ابی عبید سعد بن عبيد الزهري، ثقة من الثانية، وقيل: له إدراك. (التقريب ص 231)

موطا کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ….فَقَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ

ابِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہتے ہیں ہم نے عید علی کے ساتھ دیکھی اور عثمان محصور تھے پس علی نے نماز پڑھائی پھر پلٹے اور خطبہ دیا

کتاب  تاريخ الإسلام از الذھبی کے مطابق

يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: اسْتَعْمَلَ عُثْمَانُ عَلَى الْحَجِّ وَهُوَ مَحْصُورٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَلَمَّا صَدَرَ عَنِ الْمَوْسِمِ إِلَى الْمَدِينَةِ، بَلَغَهُ وَهُوَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَتْلُ عُثْمَانَ

یونس بن یزید نے کہا عثمان نے ابن عباس کو حج پر امیر مقرر کیا اور وہ محصور تھے … وہ رستے ہی میں تھے کہ قتل عثمان کی خبر ملی

 أنساب الأشراف کے مطابق

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ:
عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، قَالَ: قُتِلَ عُثْمَانُ وَعَلِيٌّ بِأَرْضٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا: الْبُغَيْبِغَةُ فَوْقَ الْمَدِينَةِ بِأَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ، فَأَقْبَلَ عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: لَتُنَصِّبَنَّ لَنَا نَفْسَكَ أَوْ لَنَبْدَأَنَّ بِكَ، فَنَصَّبَ لَهُمْ نَفْسَهُ فَبَايَعُوهُ.

جس روز عثمان کا قتل ہوا اس روز علی مدینہ سے چار فرسخ دور الْبُغَيْبِغَةُ میں تھے

طلحہ اور زبیر رضی الله عنہما  بھی اس وقت مدینہ میں نہیں تھے یہ دونوں مکہ میں تھے – اور ان کو شہادت عثمان رضی الله عنہ کی خبر رستے میں ملی اور مدینہ پہنچنے کی بجائے ان لوگوں نے اور قریشیوں کے ساتھ بصرہ کا رخ کیا-

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ، وَدَفَنَهُ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ

قتادہ سے روایت ہے کہ  زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ نے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی تدفین کی۔

 شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں روایت منقطع ہے  قتادہ نے عثمان  کو نہیں پایا

 قتادة لم يدرك عثمان

 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ:أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ .
عثمان رضی الله عنہ کا قتل ایام تشریق کے وسط میں ہوا

مسند احمد کی اس  روایت  کو صحیح کہا گیا ہے

باغیوں  کا مطالبہ  یہ تھا کہ عثمان خلافت چھوڑ کر اس سے دور ہو جائیں لیکن عثمان رضی الله عنہ نے اس سے انکار کر دیا – باغی واپس جانے والے نہیں تھے حج بھی ختم ہو رہا تھا ان کا اضطراب بڑھ رہا تھا دوسری طرف یہ خبر حاجیوں کو مل گئی تھی کہ مدینہ میں کیا تماشہ ہو رہا ہے لہذا اصحاب رسول  جن میں اکثریت قریشیوں کی ہے انہوں نے ان مصری و یمننیوں کو  روکنے کا قصد کیا – ابھی راستہ میں ہی تھے کہ عثمان  کے قتل کی خبر ملی اور یہ  خبر بھی کہ علی نے باغیوں کی افر قبول کر لی ہے اور اب وہ امام بن گئے ہیں – یہ  خبر اس قبولیت عامہ کے خلاف تھی جس کے مطابق عوام کا میلان زبیر بن العوام رضی الله عنہ کی طرف تھا- لہذا یہ علی نے بد نیتی سے کیا یا وقت کی کروٹ نے ان کو خلیفہ کیا واضح نہیں تھا – اس گروہ نے بصرہ کا رخ کیا اور یہ لشکر مدینہ نہیں گیا – علی کو اس لشکر کی خبر ہوئی ان کے نزدیک صورت حال تیزی سے بدل رہی تھی لھذا انہوں نے حسن رضی الله عنہ کو بھیجا کہ وہ اشتعال پھیلنے سے روک دیں لیکن اب پانی سر سے اوپر جا چکا تھا- دونوں گروہوں میں اختلاف شدید تھا یہاں تک کہ ابن عمر رضی الله عنہ نے  جو  مدینہ میں ہی تھے  علی رضی الله عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا

اب اس تمام صورت الحال میں دونوں گروہ اصحاب رسول کے ہیں – ان کو الله آزما چکا ہے لہذا ان پرمنفی کلام ممنوع ہے

ان روایات کو اس بلاگ میں اس لئے جمع کیا گیا تاکہ جو ہوا اور جیسے ہوا اس کو سمجھا جائے اس کا مقصد نہ علی رضی الله عنہ  کی حمایت ہے نہ عثمان  رضی الله عنہ کی بلکہ امت فرقوں میں میں کیسے بٹی  اس کی تفصیل ہے

مزید دیکھئے

⇑  کیا جنگ جمل میں اصحاب رسول نے شرکت نہیں کی ؟

تاریخ

تدفین پر ابہام

ابن جوزی نے اپنی کتاب تلقيح فهوم أهل الأثر میں لکھا کیا

 وَكَانَ يَوْمئِذٍ صَائِما وَدفن لَيْلَة السبت بِالبَقِيعِ فِي حش كَوْكَب والحش الْبُسْتَان وكوكب رجل من الْأَنْصَار وأخفي قَبره وَفِي سنه ثَلَاثَة أَقْوَال أَحدهَا تسعون وَالثَّانِي ثَمَان وَثَمَانُونَ وَالثَّالِث اثْنَان وَثَمَانُونَ وَقيل لم يبلغ الثَّمَانِينَ وَقَالَ عُرْوَة مكث عُثْمَان فِي حش كَوْكَب مطروحا ثَلَاثًا لَا يُصَلِّي عَلَيْهِ حَتَّى هتف بهم هَاتِف ادفنوه وَلَا تصلوا عَلَيْهِ فَإِن الله قد صلى عَلَيْهِ وَاخْتلفُوا فِيمَن صلى عَلَيْهِ فَقيل الزبير وَقيل حَكِيم بن حزَام وَقيل جُبَير بن مطعم

http://shamela.ws/browse.php/book-6700#page-71

اور قتل کے دن عثمان رضی الله عنہ روزے سے تھے اور ہفتہ کی رات میں بقیع  میں حش کوکب میں دفن ہوئے انصار کی جانب سے اور ان کی قبر کو تین سال مخفی رکھا گیا اور ایک قول ہے ٩١ ہجری تک اور دوسرا ہے سن ٨٨ ہجری تک اور تیسرا ہے سن ٨٠ ہجری تک اور عروه نے کہا تین دن تک عثمان کی لاشحش کوکب میں کھلی پڑی رہی یہاں تک کہ ہاتف غیبی نے آواز دی کہ اس کو دفن کرو اور اس پر نماز مت پڑھو کیونکہ اس پر سلامتی من جانب  الله تعالی  ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ کس نے نماز جنازہ پڑھائی زبیر نے یا حکیم بن حزام نے یا جبیر نے

طبرانی اور دیگر اہلسنت بھی کچھ ایسا ہی روایت کرتے ہیں

حدثنا عَمْرُو بن أبي الطَّاهِرِ بن السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ثنا عبد الرحمن بن عبد اللَّهِ بن عبد الْحَكَمِ ثنا عبد الْمَلِكِ الْمَاجِشُونُ قال سمعت مَالِكًا يقول قُتِلَ عُثْمَانُ رضي اللَّهُ عنه فَأَقَامَ مَطْرُوحًا على كُنَاسَةِ بني فُلانٍ ثَلاثًا فَأَتَاهُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلا فِيهِمْ جَدِّي مَالِكُ بن أبي عَامِرٍ وَحُوَيْطِبُ بن عبد الْعُزَّى وَحَكِيمُ بن حِزَامٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ وَعَائِشَةُ بنتُ عُثْمَانَ مَعَهُمْ مِصْبَاحٌ في حِقٍّ فَحَمَلُوهُ على بَابٍ وَإِنَّ رَأْسَهُ يقول على الْبَابِ طَقْ طَقْ حتى أَتَوْا بِهِ الْبَقِيعَ فَاخْتَلَفُوا في الصَّلاةِ عليه فَصَلَّى عليه حَكِيمُ بن حِزَامٍ أو حُوَيْطِبُ بن عبد الْعُزَّى شَكَّ عبد الرحمن ثُمَّ أَرَادُوا دَفْنَهُ فَقَامَ رَجُلٌ من بني مَازِنٍ فقال وَاللَّهِ لَئِنْ دَفَنْتُمُوهُ مع الْمُسْلِمِينَ لأُخْبِرَنَّ الناس فَحَمَلُوهُ حتى أَتَوْا بِهِ إلى حَشِّ كَوْكَبٍ فلما دَلُّوهُ في قَبْرِهِ صَاحَتْ عَائِشَةُ بنتُ عُثْمَانَ فقال لها بن الزُّبَيْرِ أسكتي فَوَاللَّهِ لَئِنْ عُدْتِ لأَضْرِبَنَّ الذي فيه عَيْنَاكِ فلما دَفَنُوهُ وَسَوَّوْا عليه التُّرَابَ قال لها بن الزُّبَيْرِ صِيحِي ما بَدَا لَكِ أَنْ تَصِيحِي قال مَالِكٌ وكان عُثْمَانُ بن عَفَّانَ رضي اللَّهُ عنه قبل ذلك يَمُرُّ بِحُشٍّ كَوْكَبٍ فيقول لَيُدْفَنَنَّ ها هنا رَجُلٌ صَالِحٌ.

عبد الْمَلِكِ الْمَاجِشُونُ نے کہا کہ امام مالک نے کہا قتل عثمان کے بعد ان کو کھلا چھوڑ دیا بنی فلاں کے کناسہ میں تین دن پھر بارہ مرد گئے جن میں مالک بن ابی آمر اور حُوَيْطِبُ بن عبد الْعُزَّى وَحَكِيمُ بن حِزَامٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ وَعَائِشَةُ بنتُ عُثْمَانَ  تھے

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ج 1، ص78، ح109، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء – الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ – 1983م.
التميمي، أبو العرب محمد بن أحمد بن تميم بن تمام (متوفاى333هـ )، المحن، ج 1، ص87، تحقيق : د عمر سليمان العقيلي، ناشر : دار العلوم – الرياض – السعودية، الطبعة : الأولى، 1404هـ – 1984م؛
الأصبهاني، ابو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفاى430هـ)، معرفة الصحابة، ج 1، ص68، طبق برنامه الجامع الكبير.
ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 3، ص1047، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل – بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ؛
المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفاى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 19، ص225، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م؛
العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تلخيص الحبير في أحاديث الرافعي الكبير، ج 2، ص145، تحقيق السيد عبدالله هاشم اليماني المدني، ناشر: – المدينة المنورة – 1384هـ – 1964م.

هيثمى نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: الْحُشُّ: الْبُسْتَانُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

 راقم کہتا ہے یہ قول صحیح نہیں ہے  کیونکہ زبیر رضی الله عنہ اس وقت مدینہ میں نہیں مکہ میں تھے اور ممکن ہے کہ بلوائیوں کی جانب سے ایسا کیا گیا ہو لیکن یہ صحیح سند سے نہیں آیا جس کو متصل سمجھا جائے

امام طبری اپنی کتاب تاریخ طبری میں بھی لکھتے ہیں کہ

ذكر الخبر عن الموضع الَّذِي دفن فِيهِ عُثْمَان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ومن صلى عَلَيْهِ وولي أمره بعد مَا قتل إِلَى أن فرغ من أمره ودفنه

حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عبد الله المحمدي، قال: حدثنا عمرو بن حماد وعلى ابن حُسَيْن، قَالا: حَدَّثَنَا حُسَيْن بن عِيسَى، عَنْ أبيه، عن أبي ميمونة، عن أبي بشير العابدي، قَالَ: نبذ عُثْمَان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثلاثة أيام لا يدفن، ثُمَّ إن حكيم بن حزام القرشي ثُمَّ أحد بني أسد بن عبد العزى، وجبير بن مطعم بن عدي بن نوفل بن عبد مناف، كلما عَلِيًّا فِي دفنه، وطلبا إِلَيْهِ أن يأذن لأهله فِي ذَلِكَ، ففعل، وأذن لَهُمْ علي، فلما سمع بِذَلِكَ قعدوا لَهُ فِي الطريق بالحجارة، وخرج بِهِ ناس يسير من أهله، وهم يريدون بِهِ حائطا بِالْمَدِينَةِ، يقال لَهُ: حش كوكب، كَانَتِ اليهود تدفن فِيهِ موتاهم، فلما خرج بِهِ عَلَى الناس رجموا سريره، وهموا بطرحه، فبلغ ذَلِكَ عَلِيًّا، فأرسل إِلَيْهِم يعزم عَلَيْهِم ليكفن عنه، ففعلوا، فانطلق حَتَّى دفن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حش كوكب، فلما ظهر مُعَاوِيَة بن أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الناس أمر بهدم ذَلِكَ الحائط حَتَّى أفضى بِهِ إِلَى البقيع، فأمر الناس أن يدفنوا موتاهم حول قبره حَتَّى اتصل ذَلِكَ بمقابر الْمُسْلِمِينَ.

أبي بشير العابدي نے کہا عثمان تین دن تک دفن نہ ہوئے پھر حکیم بن حزام نے اور نبی اسد میں سے کوئی اور جبیر بن معطم نے علی سے تدفین پر کلام کیا اور ان سے اجازت لی کہ صرف ان کے گھر والے ہی ان کو دفن کریں پس ایسا کیا گیا اور علی نے جازت دی پس اس پر راستہ میں پتھر ڈالے گئے اور بہت تھوڑے گھر والوں میں سے نکلے اور انہوں نے مدینہ کا ایک باغ لیا جس کو حش کوکب کہا جاتا تھا اس میں یہودی اپنے مردوں کو دفن کرتے تھے پس جب یہ لوگ نکلے تو لوگوں نے عثمان کے جنازہ پر پتھر برسائے اور اس کی خبر علی کو دی گئی پس انہوں نے لوگ بھیجے جنہوں نے عثمان کو کفن دیا اور پھر یہ لوگ حش کوکب تک پہنچے  تو وہاں دفن ہوئے پس جب معاویہ خلیفہ ہوئے انہوں نے اس قبر کو منہدم کیا  عثمان کو بقیع منتقل کیا  جو مسلمانوں کا مقابر تھا

سند میں أبو ميمونة اور أبي بشير العابدي دونوں   مجہول ہیں

Posted in history | Leave a comment

عمرو بن العاص کی وصیت پر تیسری نظر

فرقہ اہل حدیث جن  کا دعوی ہے کہ وہ  کتب  احادیث کو جانتے ہیں – ان کی علمی سطحیت کا عالم یہ ہوا ہے کہ عصر حاضر کے ان کے چند   محققین کی جانب سے  ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ کے خلاف باطل پروپیگنڈا  جاری ہے کہ  ڈاکٹر مرحوم نے  صحیح مسلم کی روایت میں مطلب براری کے لئے اس کا متن تبدیل کیا اور روایت  کے وہ الفاظ نقل کیے جو درحقیقت اس کے نہیں – اس سلسلے میں ان کو جو ” ناریل”  ہاتھ لگا ہے وہ یہ ہے کہ عثمانی صاحب نے  عمرو بن العاص رضی الله عنہ کی وہ روایت جس میں ان کی جان کنی کے عالم کا ذکر ہے – اس میں الفاظ کو تبدیل کیا لہذا کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے  سیاقتہ الموت کو سیاق الموت  اور تنحر کو ینحر کر دیا تاکہ اپنا مدعا ثابت کر سکیں

سیاقتہ الموت یا  سیاق الموت

یہ الفاظ کتاب مشكاة المصابيح از محمد بن عبد الله الخطيب العمري، أبو عبد الله، ولي الدين، التبريزي (المتوفى: 741هـ) میں ہیں

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لِابْنِهِ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي. رَوَاهُ مُسلم

احادیث کی تخریج کی کتاب جامع الأصول في أحاديث الرسول از مجد الدين أبو السعادات المبارك بن محمد بن محمد بن محمد ابن عبد الكريم الشيباني الجزري ابن الأثير (المتوفى : 606هـ) میں ہے کہ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں
–عبد الرحمن بن شماسة المهدي – رحمه الله -: قال: «حضرنا عمرو بن العاص [وهو] في سِياقِ الموت، فبكى طويلاً، وحول وجهه إلى الجدار
ابن اثیر کے مطابق بھی صحیح مسلم میں الفاظ ہیں سیاق الموت

کتاب جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزَّوائِد از محمد بن محمد بن سليمان بن الفاسي بن طاهر السوسي الردواني المغربي المالكي (المتوفى: 1094هـ) کے مطابق صحیح مسلم کی اس حدیث کے الفاظ ہیں
عبد الله بن شماسة المهري: حضرنا عمرو بن العاص وهو في سياق الموت فبكى طويلًا وحوَّل وجهه إلى الجدار فجعل ابنه يقول: ما يبكيك يا أبتاه؟ أما بشرك

معلوم ہوا کہ ہے قدیم نسخوں سیاقه الموت کی بجائے سیاق الموت بھی لکھا تھا

سیاق الموت یا سیاقه الموت میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے

شرح صحیح مسلم از النووی میں ہے
وَأَمَّا أَلْفَاظُ مَتْنِهِ فَقَوْلُهُ (فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ) هُوَ بِكَسْرِ السين أى حال حضور الموت
اور متن کے الفاظ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ … یعنی موت کے حاضر ہونے کے حال پر تھے

مبارکپوری اہل حدیث کتاب مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں لکھتے ہیں
يقال: ساق المريض نفسه وسيق إذا شرع في نزع الروح.
یہ نزع الروح کا وقت ہے

یہی مفہوم عربی لغت میں لکھا ہے جس کا ذکر الدكتور موسى شاهين لاشين کتاب فتح المنعم شرح صحيح مسلم میں کرتے ہیں
وفي القاموس: ساق المريض شرع في نزع الروح.

محمد الأمين بن عبد الله الأُرَمي العَلَوي الهَرَري الشافعي کتاب الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم میں کہتے ہیں
أن عمرًا (في سياقة الموت) أي في سكرة الموت وحضور مقدماته
عمرو سیاق الموت میں تھے یعنی سکرات الموت میں تھے اس کے مقدمات کی حاضری پر

اس حال میں زبان صحابی سے جو کلام ادا ہوا اس کو علماء نے بدعت قرار دیا ہے جس میں محمد بن صالح العثيمين بھی ہیں
خواجہ محمد قاسم کراچی کا عثمانی مذھب میں لکھتے ہیں عمرو بن العاص کا خیال صحیح نہیں تھا

تنحر یا ینحر

شرح السنة   از  البغوي الشافعي (المتوفى: 516هـ)  میں اس روایت میں ہے

وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، وَهُوَ يَبْكِي: أَنَا مِتُّ فَلا يَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي، فَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ، وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي

یہاں بھی  يُنْحَرُ ہے

ایمان ابن  مندہ المتوفي ٣٩٥ ھ میں ہے

أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الزُّجَاجُ، ح، وَأَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْحَائِطِ يَبْكِي طَوِيلًا وَابْنُهُ يَقُول….. فَإِذَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ، وَلَا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ مِنْ دَفْنِي، فَامْكُثُوا حَوْلِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ، وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا فَإِنِّي آنَسُ بِكُمْ حَتَّى أَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي

ابن مندہ کے مطابق متن میں یہاں    يُنْحَرُ ہے

التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبيراز أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) میں ہے

وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ فِي حَدِيثٍ عِنْدَ مَوْتِهِ “إذَا دَفَنْتُمُونِي أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٍ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ رُسُلَ رَبِّي”

اور صحیح مسلم میں ہے کہ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ نے اپنی موت کے وقت ان سے کہا … “إذَا دَفَنْتُمُونِي أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٍ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ رُسُلَ رَبِّي”

یہاں بھی  يُنْحَرُ ہے

البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبير از  ابن الملقن   الشافعي المصري (المتوفى: 804هـ) کے مطابق

وَمِنْهَا: حَدِيث عَمْرو بن الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه أَنه قَالَ: «إِذا دفنتموني فسنوا عَلّي التُّرَاب سنّا، ثمَّ أقِيمُوا حول قَبْرِي قدر مَا ينْحَر جزور وَيقسم لَحمهَا؛ حَتَّى أستأنس بكم، وَأعلم مَاذَا أراجع رسل رَبِّي» . رَوَاهُ مُسلم فِي «صَحِيحه» فِي كتاب الْإِيمَان، وَهُوَ بعض من حَدِيث طَوِيل.

حَدِيث عَمْرو بن الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه  میں ينْحَر ہے  جس کو امام مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے

ڈاکٹر عثمانی سے پہلے بھی لوگ اس روایت میں  سیاق الموت اور ینحر  کے الفاظ نقل کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں یہ صحیح مسلم کے ہیں

 معلوم ہوا فرقہ پرستوں کا پروپیگنڈا   بالکل باطل ہے کہ ڈاکٹر صاحب  نے الفاظ اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے تبدیل کیے

روایات کے الفاظ مختلف نسخوں میں الگ الگ ہوئے اس وجہ سے یہ اختلاف پیدا ہوا چونکہ صحیح مسلم کا وہ نسخہ جو برصغیر میں ہے  اس میں وہ الفاظ نہیں تھے جو اوپر دیے گئے ہیں  طاغوت پرستوں  نے عوام کے لئے شوشہ چھوڑا کہ یہ ڈاکٹر  نے اپنے مقصد حاصل کرنے کے لئے تبدیل کیے ہیں جبکہ  ان درس حدیث  دینے والوں کو تو خوب معلوم ہو گا کہ یہ تبدیلی کیوں اور کیسے ہوتی ہے – یہ حال ہوا ہے امت کے علماء کا

یاد رہے کہ الله کا حکم ہے

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والوں الله کے لئے عدل کے گواہ بن کر کھڑے ہو  اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کی دشنمی تم کو اکسائے کہ عدل نہ کرو  عدل کرو یہ تقوی کے قریب ہے اور الله سے ڈرو بے شک الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو

Posted in Aqaid, ilm ul hadith | 3 Comments