دجالوں میں سے

منکرین حدیث اور قادیانیوں میں کیا اقدار مشترک ہیں؟

جواب

سر سید احمد خان جو ١٨١٧ میں پیدا ہوئے  اور ١٨٩٨ میں وفات ہوئی  ایک منکر حدیث تھے اور نیچری کے نام سے مشھور تھے انہوں نے تفسیر القران لکھی اور اس میں فرشتوں و جنات کے وجود، معجزات  کا انکار کر دیا – کعبه کو بطور قبلہ تسلیم نہ کر سکے اور ہر عبادت کو خام خیالی قرار دے ڈالا –  سن ١٨٣٦ ع میں مرزا غلام احمد پیدا ہوا اور سن ١٨٩١ ع میں اس نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا پھر ١٩٠١ ع میں نبوت کا دعوی کیا بحوالہ سیرت المہدی از بشیر الدین محمود- یعنی ٥٥ سال تک اس کا عقیدہ نزول مسیح کا رہا اور پھر ایک دن خود ہی مسیح بن بیٹھا

یہ دونوں افراد ہم عصر تھے ایک نے انکار حدیث اور تاویل قرآن میں شہرت پائی اور دوسرے نے جھوٹی نبوت سے- لیکن دونوں ایک بات میں ہم خیال تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو گئی ہے – اصلی عیسیٰ کی وفات  کا انکار ان دونوں نے کیا

مرزا غلام احمد کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہو چکی ہے ان کی قبر کشمیر میں ہے بحوالہ براہین احمدیہ ص ٢٢٨ لیکن غلام احمد نزول مسیح سے مراد اپنے آپ کو لیتا تھا اور اس کے نزدیک وہ ان احادیث کا مصداق تھا جن میں ہے کہ مسیح علیہ السلام دمشق میں نازل هوں گے – اس کے نزدیک اس میں دمشق سے مراد استعارہ و تشبیہ تھی اور اس کے بقول رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اس میں اجمالی علم دیا گیا تھا اور اس طرح اس کذآب نے خود کو کہا کہ اس کو مکمل علم ہوا ہے بحوالہ ازالہ اوہام ص ٣٤٦ ج دوم

احادیث میں ہے کہ مسیح علیہ السلام کا نزول دمشق میں ہو گا – اس کے  القا پر مرزا لکھتا ہے :” پس واضح ہوا کہ دمشق کے لفظ کی تاویل میں میرے پر من جانب الله یہ ظاہر کیا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات و خیالات کے پیرو ہیں جن کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول کی کچھ محبت اور احکام الہی کی کچھ عظمت نہیں جنہوں نے اپنی خواہشوں کو اپنا معمول بنا رکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا تعالی کا موجود ہونا ان کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو انھیں سمجھ نہیں اتا اور کیونکہ طبیب کو بیماروں کی طرف آنا چاہیے اس لئے ضروری تھا کہ مسیح ایسے ہی لوگوں میں نازل ہو” بحوالہ حاشیہ ازالہ اوہام ص ٣٣ سے ٣٤

حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دو زرد چادریں اورٹھے ہوئے نازل ہوں گے- اس کی اس کذاب نے تاویل کی کہ اس سے مراد ہے کہ دو بیماریاں مسیح کو ہوں گے- مرزا نے کہا” میرے سر میں کمی خواب ہے… تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ ہے اور…. نیچے رات دن کثرت پیشآب رہتا ہے” بحوالہ سیرت المہدی ج ٢ ص  ١٤٥پر

مرزا کذاب نے خود کو ہندووں کا کرشن  قرار دیا  – اس کے ایک معتقد نے لکھا :غلام احمد صاحب نے خدا سے الہام پا کر دعوی کیا :” میں مسلمانوں کے واسطے مہدی ہوں ، عسائیوں  کے لئے مسیح ہوں اور ہندووں کے لئے کرشن ہوں اور دوسری قوموں کے لئے موعود ہوں “بحوالہ تبلیغ ہدایت از مرزا بشیر احمد ص ١٦ اور ١٧ پر

مرزا کا عقیدہ تھا کہ الله ہر طرف موجود ہے لہذا نزول مسیح پر اس نے لکھآ:”  اب ظاہر ہے الله تعالی ہر جگہ موجود ہے صرف آسمان کے اندر محدود نہیں پس اس کی طرف اٹھائے جانے کے معنی آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے کس طرح ہو سکتے ہیں” بحوالہ تبلیغ ہدایت ص ٣٧ پر

قرآن کی آیت یا عیسیٰ انی متوفیک و رفعک الی کا قادیانی مرزا بشیر احمد نے ترجمہ کیا کہ

اے عیسیٰ میں ہی تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا – بحوالہ تبلیغ ہدایت

یہ ترجمہ آج تک منکرین حدیث میں مقبول ہے

مرزا کو ایک الہام انگریزی میں ہوا جس میں گرامر کی غلطیاں تھیں اس پر اس نے قرآن میں بھی گرامر کی غلطی گنوا دی

مرزا کا عقیدہ تھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا امتی نبی بن سکتا ہے اور یہ خاتم النبین یعنی نبوت کی مہر کا مطلب ہے

مرزا ممکن ہے ایک نفسیانی مریض ہو اور اس دور میں چونکہ علاج معالجہ کی سہولیات نہ تھیں تو یہ اپنے القا کو وحی  سمجھتا ہو جیسا کہ اس نے خود اپنے دعوی نبوت کا اعلان کیا  پھر انکار کیا اور پھر اقرار کیا مرزا نے حقیقت الوھی میں لکھا

اللہ نے مجھ پر وحی بھیجی اور میرا نام رسل رکھا یعنی پہلے ایک رسول ہوتا تھا اورپھر مجھ میں سارے رسول جمع کر دیے گئے ہیں۔میں آدم بھی ہوں۔ شیش بھی ہوں۔ یعقوب بھی ہوں اور ابراہیم بھی ہوں۔اسمائیل بھی میں اور محمد احمد بھی میں ہوں

الله اس کے پیرو کاروں کو ہدایت دے

 

مرزا کو بطور نبی کافی لوگوں نے تسلیم کیا اور ساتھ ہی جنہوں نے نہیں کیا لیکن اس کو پڑھا ان میں انکار حدیث کا رجحان پیدا ہوا- سر سید کا مشن سیاسی تھا اور مرزا کا خالص دینی- اس طرح ایک اضطراب کی کیفیت اس دور میں پیدا ہوئی دوسری طرف اس رجحان کو اور تقویت ملتی گئی اور انکار حدیث میں تاویل قرآن بھی شامل ہو گیا اس کے لئے مرزا پرویز نے نام کمایا

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *