کیا ایمان میں کمی و زیادتی ہوتی ہے؟

یہ سوال اس امت میں سن ١٥٠ ہجری کے  بعد پیدا ہوا –  يه بحث اس طرح شروع ہوتی ہے کہ خوارج کے نزدیک بعض صحابہ گناہ کبیرہ کے مرتکب تھے لہذا ان میں ایمان ختم تھا  – اس پر امام ابو حنیفہ کی رائے لوگوں سے منقول ہے کہ ایمان زبان سے اقرار کا نام ہے  گناہ سے ایمان کم نہیں ہوتا – الإرجاء کا مذھب اسی سے نکلتا ہے کہ صحابہ میں ایمان کم نہیں ہوا وہ جہنمی نہیں ہیں بلکہ گناہ کبیرہ والے بھی ایمان والے ہی ہیں ایمان زیادہ تو ہو سکتا ہے کم نہیں ہوتا – اس پر بھی بہت سی احادیث ہیں مثلا ایک فاحشہ جو مومن تھی کتے کو پانی پلاتی ہے جنت میں جاتی ہے – ایک سو لوگوں کا قاتل جنت میں جاتا ہے وغیرہ وغیرہ

سوره توبه میں ہے
{فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا} [التوبة: 124]  پس ان کے ایمان میں اضافہ ہوا
فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا – پس جو ایمان لائے ان کے ایمان میں اضافہ ہوا
وزدناهم هدى  [١٨:١٣]  اور انکی ہدایت میں اضافہ ہوا
بعض فرقوں نے ایمان میں کمی و زیادتی کا نظریہ ان ہی آیات سے استنباط کر کے نکالا اور بعض احادیث سے اس پر دلیل لی
راقم کے نزدیک ایمان پڑھنے سے مراد قلبی اطمننان ہے یا ہدایت ہے جیسے لوگ ایمان لے اتے ہیں لیکن ہدایت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اسی طرح قرآن میں ہدایت بڑھنے اور ایمان و اطمننان بڑھنے کو ساتھ بیان کیا گیا ہے –  ابراہیم علیہ السلام الله پر ایمان لائے لیکن قلبی اطمننان میں اضافہ کے لئے الله سے سوال کیا کہ میت کو زندہ کیسے کرے گا

قرآن میں ہے  وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [محمد: 17] انکی  ہدایت  میں اضافہ ہوا

اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کے دور میں اس بحث کا ذکر نہیں ملتا نہ ہی ایمان میں کمی پر کوئی صریح حدیث ہے – خوارج کی رائے تھی کہ  ایمان میں عمل داخل ہے لہذا جو گناہ کبیرہ کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں – خوارج کا فرقہ الأزارقة  تكفير أصحاب الذنوب تمام گناہ والوں کی تکفیر کا قائل تھا   –  الصفرية  فرقہ کفریہ اعمال والوں کے قتل کا قائل تھا –   خوارج  کے فرقے اباضیہ میں بعض کی رائے میں ایمان کم اور زیادہ ہو جاتا ہے  اور بعض اباضیہ  کے نزدیک گناہ کبیرہ والے فاسق ہیں جو کافر ہیں – خوارج کے نزدیک علی اور عثمان رضی الله عنہ گناہ کبیرہ کی وجہ سے ہی واجب القتل بنتے ہیں –

سن ١٥٠ ہجری کے بعد معتزلہ نے منزل بین المنزلتیں کی بحث چھیڑی کہ گناہ کبیرہ والے نہ ایمان والے ہیں نہ کفر والے  وہ بیچ میں ہیں– اس سے اس پر بحث کا باب کھل گیا

مُعَاذٌ بن جبل رضی الله عنہ  کی وفات عثمان رضی الله عنہ سے بھی پہلے ہوئی لیکن ان سے بھی اس مسئلہ پر بحث منسوب کر دی گئی ہے  کتاب السنة از أبو بكر  الخَلَّال البغدادي الحنبلي (المتوفى: 311هـ) کی روایت ہے

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاذٌ:  اجْلِسُوا بِنَا نُؤْمِنْ سَاعَةً

مُعَاذٌ بن جبل رضی الله عنہ نے الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ سے کہا ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ہم کچھ ساعت ایمان لے آئیں

بیہقی کی شعب ایمان میں اس روایت میں اضافہ ہے کہ  قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ – مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ نے اپنے اصحاب سے کہا – اس   میں صحابی ایک تابعی سے کہہ رہے ہیں گویا تابعی ، صحابی سے بڑھ کر ہے – سندا اس میں مِسْعَر بن کدام ہیں جو خود مرجیہ ہیں

 شعب ایمان البیہقی میں اس طرح کا قول عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ سے منسوب کیا گیا ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، حدثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ: ” اجْلِسُوا بِنَا نَزْدَدْ إِيمَانًا

ابن مسعود رضی الله عنہ نے علقمہ سے کہا ہمارے ساتھ بیٹھو تاکہ ایمان میں اضافہ ہو

اس کی سند مظبوط نہیں سند میں  شباك الضبي ہے  جو مدلس ہے عن سے روایت کرتا ہے

 مصنف ابن ابی شیبہ میں عمر رضی الله عنہ کا قول ہے

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ مِمَّا يَأْخُذُ بِيَدِ الرَّجُلِ وَالرَّجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَيَقُولُ: «قُمْ بِنَا نَزْدَدْ إِيمَانًا»

 عمر بن الخطاب رضی الله عنہ  نے اپنے اصحاب سے کہا آ جاؤ ہم ایمان بڑھائیں پس الله عز و جل کا ذکر کریں

سند میں زُبَيْدُ بنُ الحَارِثِ اليَامِيُّ الكُوْفِيُّ ہیں جو زر بن حبیش سے روایت کر رہے ہیں  اس کی سند حسن ہے

بعض محدثین ایمان میں کمی ہے قائل نہیں ہیں اور بعض ہیں جو ایمان میں کمی و زیادتی کے قائل ہیں – ان گروہوں میں اس پر مختلف ارا ہیں جن میں بعض متشدد ہیں

پہلا گروہ کہتا ہے  : ایمان  نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا  ہے

اول ایمان بنیادی ایمانیات کے قبول کا نام ہے جیسے
الله واحد احد ہے
محمد بن عبد الله رسول الله – صلی الله علیہ وسلم –  ہیں
فرشتے، جنات، جنت، جہنم موجود ہیں
قرآن، توریت، زبو،ر انجیل کتب سماوی ہیں

اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں اتی جب تک آدمی ان کا انکار نہ کرے لہذا ایمان تصديق ہے
اگر وہ انکار کرے تو مسلمان ہی نہیں رہے گا لہذا ایمان نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے کیونکہ یہ قلبی کیفیت ہے

امام ابو حنیفہ کے لئے  اس  رائے کو بیان کیا جاتا ہے (العقيدة الطحاوية) – امت میں امام ابو حنیفہ نے فقہ پر بہت محنت کی ہے لہذا اس رائے کو جہمیہ سے منسوب کرنا اور کہنا کہ امام ابو حنیفہ عمل کے خلاف تھے ، مسلکی تعصب ہے – تفسیر فتح الرحمن في تفسير القرآن از  مجير الدين بن محمد العليمي المقدسي الحنبلي (المتوفى: 927 هـ) کے مطابق

فقال أبو حنيفة: لا يزيد ولا ينقص، ولا استثناء فيه

ابو حنیفہ کہتے ہیں ایمان نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے اور اس میں کوئی نہیں الاستثناء ہے

كتاب أصول الدين از  جمال الدين أحمد بن محمد بن سعيد الغزنوي الحنفي (المتوفى: 593هـ) کے مطابق

الْإِيمَان لَا يزِيد وَلَا ينقص بانضمام الطَّاعَات إِلَيْهِ وَلَا ينتقص بارتكاب الْمعاصِي لِأَن الْإِيمَان عبارَة عَن التَّصْدِيق وَالْإِقْرَار

 ایمان نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا ہے طَّاعَات کو اس سے ملانے سے نہ کم ہوتا ہے گناہ کا ارتکاب کرنے سے کیونکہ ایمان عبارت ہے تصدیق و اقرار سے

اس رائے کہ تحت ایمان میں کوئی استثنا نہیں ہے یا تو شخص کافر ہے یا مومن – یعنی امام ابو حنیفہ کے نزدیک یا تو شخص مومن ہے یا کافر ہے بیچ میں کوئی چیز نہیں جیسا کہ المعتزلہ کا دعوی تھا  – الْأَشَاعِرَةِ کے علماء مثلا أبو المعالي الجويني  المتوفی ٤٧٨ ھ  جن کو امام الحرمین  کہا جاتا ہے ان کی رائے میں بھی ایمان نہ کم ہوتا ہے نہ بڑھتا ہے  یہی علامة الآلوسي کہتے ہیں – بعض متعصب اہل سنت نے  ان علماء کے موقف کو  خوارج کا موقف قرار دے دیا ہے مثلا السفاريني   الحنبلي نے العقيدة میں یہ دعوی کیا ہے  جو کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے بلکہ خوارج تو  گناہ کبیرہ والے کو کافر کہتے ہیں

دوسرا گروہ کہتا ہے  : ایمان میں اضافہ اور کمی ہوتی ہے   

محدثین کا ایک دوسرا  گروہ کہتا ہے  ایمان میں اضافہ ہوتا ہے گناہ کرتے وقت ایمان کم ہوتا ہے مثلا امام احمد،   ابن حبان وغیرہ-  محدثین کا یہ گروہ کہتا  ہے الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ –  ایمان میں  قول اور عمل بھی شامل ہے  جو زیادہ وکم ہوتا ہے – ان محدثین کے بقول اگر کوئی عمل نہ کرے تو اس میں ایمان کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ معدوم ہو جاتا ہے –    امام احمد اور ان کے ہمنوا ایمان میں گھٹنے کے قائل تھے جو قرآن سے ثابت نہیں ہے  بلکہ صرف بعض روایات سے ان کو استنباط کیا گیا ہے –

اس موقف پر صحیح مسلم سے روایت پیش کی جاتی ہے

 مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
اگر کوئی برائی دیکھے تو اس کو ہاتھ سے روکے نہیں تو زبان سے نہیں تو دل میں برآ ہی سمجھے اور یہ ایمان میں سب سے کمزور ہے

یہ روایت امر و بالمعروف کے لئے مشھور ہے لیکن اس میں واضح نہیں ہے اگر کوئی برائی کو دیکھے اور خلیفہ اس کو نہ سنے تو وہ کیا کرے ؟ صبر کرے یا پھر خلیفہ کا ہی قتل کرے   جیسا خوارج نے کیا-  راقم کے نزدیک یہ روایت حاکم سے متعلق ہے عام افراد کے لئے نہیں ہے- بطور عام آدمی ہم تعاون فی البر کریں گے،  نیکی کا حکم کریں گے،  برائی سے منع کریں گے لیکن اس کو بطور فرد روک نہیں سکتےمثلا آج ہر گلی نکڑ پر شرک ہورہا ہے جو سب سے بری چیز ہے لیکن اس کو بزور بازو حاکم ہی روک سکتا ہے عام آدمی نہیں

ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے کہ خیبر والے دن ایک شخص جان باری سے لڑ رہا تھا لوگوں نے اس کے مرنے پر کہا یہ جنتی ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اس پر غنیمت میں چادر چوری کرنے کی وجہ سے اگ چھائی ہوئی ہے
ابن حبان اس پر کہتے ہیں
فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ بِالطَّاعَةَ وَيَنْقُصُ بِالْمَعْصِيَةِ
اس خبر میں دلیل ہے کہ ایمان اطاعت سے بڑھتا اور گناہ سے کم ہوتا جاتا ہے

لیکن اس پر بھی بحث ہے کہ کیا یہ شخص واقعی ایمان والا تھا یا یہ غنیمت کے لالچ میں دکھاوے کے لئے لڑ رہا تھا کیونکہ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منادی کرائی  کہ جنت میں صرف مومن جائے گآ

لیکن اسی گروہ میں ایک متشدد رائے بھی ہے – ان میں سے بعض محدثین کہتے تھے کہ گناہ کرتے کرتے ایمان نام کی چیز ہی نہیں رہتی – اس بحث کا آغاز ایک روایت سے ہوتا ہے

 ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہمآ کی روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ
زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں نہ شرابی شراب پیتے وقت اور نہ چور چوری کرتے وقت
اس روایت میں اضافہ ہے وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ اس کے توبہ ظاہر کرنی ہو گی
سنن نسائی میں اس میں اضافہ ہے فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ کہ ایسا شخص کے گلے سے اسلام کا حلقہ نکل جاتا ہے البتہ البانی نے اس کو منکر کہا ہے
مصنف عبد الرزاق میں ہے قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ زَالَ مِنْهُ الْإِيمَانُ قَالَ: يَقُولُ: الْإِيمَانُ كَالظِّلِّ
معمر نے کہا کہ ابن طاوس نے کہا ان کے باپ نے کہا کہ اگر وہ یہ افعال کرے تو ایمان زائل ہو جاتا ہے اور کہا وہ کہتے ایمان سائے کی طرح ہے

الشریعہ لاآجری کے مطابق  امام سفیان ابن عیینہ سے پوچھا گیا  الإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ؟ قَالَ ” أَلَيْسَ تَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ؟ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ ، قِيلَ : يَنْقُصُ ؟ قَالَ : لَيْسَ شَيْءٌ يَزِيدُ إِلا وَهُوَ يَنْقُصُ
کیا ایمان میں کمی اور بیشی ہوتی ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟   فَزادَهُم إيمـنًا  اس نے ان کے ایمان میں اِضافہ کردیا  پھر ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایمان کم بھی ہوتا ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ جس چیز میں زیادتی واقع ہوتی ہے، اس میں کمی بھی واقع ہوتی ہے

لیکن یہ آخری قول  جس چیز میں زیادتی واقع ہوتی ہے، اس میں کمی بھی واقع ہوتی ہے  خالصتا قیاس ہے جس کے خلاف خود قرآن ہے کہ اس میں کمی کا ذکر ہی نہیں ہے

غیر مقلد محب الله شاہ راشدی فتوی میں یہی بات کہتے ہیں ملاحظه ہو

Rasidia-234

یعنی  خالص قیاس کیا گیا  جبکہ نص صرف بڑھنے پر ہے – قرآن میں ایمان کو قول طیب کہا گیا ہے اس کو ایک درخت کہا گیا اور حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم میں اس کی مثال کھجور کے درخت سے دی گئی جس میں یہ خوبی ہے کہ صرف بڑھتا ہی ہے اس کا سائز چھوٹا نہیں ہوتا تو پھر ایمان کم کیسے ہو سکتا ہے قرآن کی مثال بھی سچی   ہوتی ہے – لہذا یہ قیاس باطل ہے

البیہقی شعب الایمان میں اس روایت پر  لکھتے ہیں
وَإِنَّمَا أَرَادَ – وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ – وَهُوَ مُؤْمِنٌ مُطْلَقُ الْإِيمَانِ لَكِنَّهُ نَاقِصُ الْإِيمَانِ بِمَا ارْتَكَبَ مِنَ الْكَبِيرَةِ وَتَرَكَ الِانْزِجَارَ عَنْهَا، وَلَا يُوجِبُ ذَلِكَ تَكْفِيرًا بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ
اور والله أَعْلَمُ ان کا ارادہ ہے کہ اس مومن میں مطلق ایمان تو ہے لیکن ایمان میں نقص ہے اس گنآہ کے ارتکاب سے اور اس پر جو ڈراوا ہے اس کو ترک کرنے سے اور اس پر الله عزوجل کی تکفیر واجب نہیں ہوتی

یہ محدثین ہی کے اسی گروہ کا اپس میں اختلاف ہے-

بعض محدثین مثلا إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ نے اس میں متشدد رویہ اختیار کیا اور کہنا شروع کیا يَنْقُصُ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهُ شَيْءٌ کہ ایمان گھٹتا جاتا ہے حتی کہ اس میں کوئی چیز نہیں رہتی- کتاب السنة از ابو بکر الخلال کے مطابق امام ابن مبارک اور إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ  کا قول تھا ایمان معدوم  ہو جاتا ہے – معجم ابن الأعرابي  اور الإبانة الكبرى لابن بطة  اور شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از ابو قاسم اللالكائي     کے مطابق   یہی موقف سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ کا تھا – یہ موقف نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث سے-

راقم اس کے خلاف ہے اگر ایسا ہو  تو گناہ کبیرہ والوں پر صرف ارتاد کی حد لگے گی  اور اس سے  خوارج کا موقف صحیح ثابت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سلفی جہادی تنظیموں نے زمانہ حال میں اس موقف کو پسند کیا ہے اور ان میں اور خوارج میں کوئی تفریق ممکن نہیں رہی ہے

 أبو الحسن علي بن محمد بن علي بن محمد بن الحسن البسيوي الأزدي ایک خارجی عالم  تھے کتاب جامع أبي الحسن البسيوي ، وزارة التراث القومي والثقافة، تحقيق سليمان بابزيز میں  کہتے ہیں

فقد بيَّنا ما قلنا من آيات القرآن ما يَدُلّ عَلَى ما روينا أنَّ الفاسق كافر، وأن ما قالت المعتزلة: “إن الفاسق لا مؤمن ولا كافر”، وما قالت الحشوية والمرجئة هو من الخطإ، والحقُّ ما أيَّده القرآن، وهو الدليل والبرهان.

پس  ہم نے واضح  کیا  جو ہم نے  قرانی آیات کہا کہ یہ  دلالت کرتی ہیں   اس پر جو ہم نے روایت کیا کہ فاسق کافر ہے اور وہ نہیں جو المعتزلة نے کہا کہ فاسق نہ مومن ہے نہ کافر اور نہ وہ جو الحشوية اور المرجئة نے کہا کہ وہ خطا کار ہے اور حق کی تائید قرآن سے ہے جو دلیل و برہان ہے

الخلال کے مطابق   امام إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ کہتے گناہ کبیرہ والے میں ایمان نام کی چیز ہی نہیں رہتی  اور البیہقی کے بقول اس کے ایمان میں نقص ہے یا کمی ہے  – خوارج کی رائے میں بھی گناہ کبیرہ والوں میں ایمان معدوم ہو جاتا ہے

بلکہ مسند اسحاق بن راھویہ میں اس کا الٹا قول ہے

 وَقَالَ شَيْبَانُ لِابْنِ الْمُبَارَكِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا تَقُولُ فِيمَنْ يَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَنَحْوَ هَذَا، أَمُؤْمِنٌ هُوَ؟ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: لَا أُخْرِجُهُ مِنَ الْإِيمَانِ

شیبان نے ابن مبارک سے کہا اے ابو عبد الرحمان اپ کیا کہتے ہیں جو شراب  پیے اور زنا کرے اور اسی طرح کے کام کیا وہ مومن ہے ؟ ابن مبارک نے کہا یہ اس کو ایمان سے خارج نہیں کرتے

 

تیسرا گروہ کہتا ہے :  ایمان کم نہیں ہوتا صرف بڑھتا ہے

اس میں محدثین ہیں جن کو الْإِرْجَاءِ کی رائے والے یا  الْمُرْجِئَةِ کہا جاتا ہے

 إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ مَنْ قَالَ: الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ؟ قَالَ:  هَذَا بَرِيءٌ مِنَ الْإِرْجَاءِ
امام احمد سے سوال ہوا اس کے بارے میں جو کہے کہ ایمان بڑھتا ہے، کم ہوتا ہے  – انہوں نے کہا یہ الْإِرْجَاءِ سے بَرِيءٌ (پاک) ہیں

یعنی مرجىء  اس قول کے مخالف تھے ان سے منسوب مشھور قول ہے يزِيد وَلَا ينقص ایمان بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا

بہت سے مشھور محدثین مرجىء   تھے یعنی ان کے نزدیک ایمان کم نہیں ہوتا صرف بڑھتا ہے مثلا امام احمد نے الْمُرْجِئَةِ میں قيس بن مُسلم المتوفی ١٢٠ ھ ،علقمة بن مرْثَد الکوفی المتوفی ١٢٠ ھ ،عَمْرو بن مرّة المتوفی 116 ھ اور مسعربن کدام الکوفی ١٥٥ ھ کو شمار کیا – عراق میں اہل حران میں سے عبد الكريم الجزري، خصيف بن عبد الرحمن الجزري المتوفی ١٤٠ ھ ، سالم بن عجلان الأفطس المتوفی 132 ھ ، علي بن بذيمة المتوفی ١٣٦ ھ (ان میں شیعیت تھی) کو امام احمد نے الْمُرْجِئَةِ میں شمار کیا – اس کے علاوہ کوفہ کے محمد بن أبان الجعفي المتوفی ١٧٠ ھ کو ان میں شمار کیا – المَدَائِنِ کے  محدث  شَبَابَةُ بنُ سَوَّارٍ کو الْمُرْجِئَةُ میں شمار کیا  – امام ابو حنیفہ کے لئے بھی کی رائے کو بیان کیا جاتا ہے –  ابو بکر الخلال کے مطابق امام احمد  الْمُرْجِئَةُ  کی رائے کو قَوْلٌ خَبِيثٌ کہتے تھے-

چوتھا گروہ ایمان بڑھتا ہے اور کم پر توقف ہے یعنی کوئی رائے نہیں  ہے

عمدہ القاری ج ١ ص ١٠٧ میں عینی نے قول پیش کیا ہے

قَالَ الدَّاودِيّ سُئِلَ مَالك عَن نقص الْإِيمَان وَقَالَ قد ذكر الله تَعَالَى زِيَادَته فِي الْقُرْآن وَتوقف عَن نَقصه وَقَالَ لَو نقص لذهب كُله

الدَّاودِيّ نے  کہا :  امام مالک سے سوال ہوا کہ ایمان کم ہوتا ہے ؟ فرمایا الله تعالی نے اضافہ کا ذکر کیا ہے قرآن میں اور کمی پر توقف کیا ہے اور کہا اگر یہ جائے تو سب جائے گا

ترتیب المدارک کے مطابق

وقال القاضي عياض:  قال ابن القاسم: كان مالك يقول: الإيمان يزيد، وتوقف عن النقصان

القاضي عياض کہتے ہیں ابن قاسم نے کہا امام مالک کہا کرتے کہ ایمان بڑھ جاتا ہے اور کم ہونے پر توقف ہے

کتاب حاشية العدوي على شرح كفاية الطالب الرباني از : أبو الحسن الصعيدي العدوي   (المتوفى: 1189هـ) کے مطابق قسطلانی کہتے ہیں

وَأَمَّا تَوَقُّفُ مَالِكٍ عَنْ الْقَوْلِ بِنُقْصَانِهِ فَخَشْيَةَ أَنْ يُتَأَوَّلَ عَلَيْهِ مُوَافَقَةُ الْخَوَارِجِ

اور امام مالک نے جو ایمان کم ہونے پر توقف کا قول کہا ہے تو ان کو ڈر تھا کہ کہیں ان کی بات خوارج سے موافقت اختیار نہ کر جائے

ابن تیمیہ  الفتاوی ج ٧ ص ٥٠٦ کہتے ہیں

وكان بعض الفقهاء من أتابع التابعين لم يوافقوا في إطلاق النقصان عليه. لأنهم وجدوا ذكر الزيادة في القرآن، ولم يجدوا ذكر النقص، وهذا إحدى الروايتين عن مالك

اور تبع التابعين میں سے بعض فقہا ایمان پر کمی کا اطلاق نہیں کرتے کیونکہ وہ قرآن میں بڑھنے کا ذکر پاتے ہیں اور اس میں کمی کا ذکر نہیں ہے اور اسی طرح کی ایک روایت امام مالک سے بھی ہے

یعنی کم ہونے کا قرآن میں ذکر ہی نہیں ہے –

کتاب المقدمات الممهدات از  أبو الوليد محمد بن أحمد بن رشد القرطبي (المتوفى: 520هـ) کے مطابق مرنے سے قبل امام مالک نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا  جس کو  عبد الله بن نافع الصائغ سے منسوب کیا جاتا ہے کتاب ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق از    الذهبي (المتوفى: 748هـ) کے مطابق     صاحب مالك قال أحمد لم يكن في الحديث بذاك امام احمد کہتے ہیں اس کی حدیث ایسی مناسب نہیں – الاجری کہتے ہیں ابو داود نے کہا  احمد نے کہا : ثم دخله بأخره شك ابن نافع آخری عمر میں امام مالک کے اقوال کے حوالے سے شک کا شکار تھے

    عبد الرزاق سے منسوب ایک قول  ہے

قال عبدالرزاق:  سمعت معمراً وسفيان الثوري ومالك بن أنس، وابن جريج وسفيان بن عيينة يقولون: الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص

عبدالرزاق آخری عمر میں اختلاط کا شکار تھے – أبو حاتم الرازي کہتے ہیں انکی حدیث يكتب حديثه ولا يحتج به لکھ لو دلیل نہ لو –  کتاب المختلطين از  العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق سن ٢٠٠ کے بعد عبدالرزاق   کی روایت صحیح نہیں ہے

البیہقی سنن میں روایت  لکھتے ہیں

سمعت مالك بن أنس وحماد بن زيد.. وجميع من حملت عنهم العلم يقولون: الإيمان قول وعمل ويزيد وينقص

اسکی سند میں  سويد بن سعيد الحدثاني ہیں جو اختلاط کا شکار تھے اور مدلس بھی ہیں

الخلال السنہ میں أبي عثمان سعيد بن داود بن أبي زنبر الزنبري کی سند سے امام مالک کا قول پیش کرتے ہیں
قال كان مالك يقول: “الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص

امام مالک کہا کرتے کہ ایمان قول و عمل ہے بڑھتا کم ہوتا ہے

دارقطنی  کہتے ہیں سعيد بن داود الزنبري ضعيف ہے اور امام مالک کے حوالے سے منفرد اقوال کہتا ہے

الخلال کتاب السنہ میں ابن نافع کے حوالے سے امام مالک کا قول پیش کرتے ہیں کہ وہ کہتے ایمان کم ہوتا ہے اس کی سند میں  زَكَرِيَّا بْنُ الْفَرَجِ ہے جو مجھول ہے

کتاب  شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از أبو القاسم هبة الله اللالكائي (المتوفى: 418هـ)  میں امام مالک سے إسحاق بن محمد الفروي کی  سند سے قول منسوب کیا گیا  ہے –  إسحاق بن محمد الفروي   کو امام نسائی ضعیف کہتے ہیں اور الدارقطني متروک کہتے ہیں

الغرض امام مالک سے منسوب دو آراء ہیں جن میں مالکی فقہا نے اس رائے کو ترجیح دی ہے کہ وہ ایمان میں کمی کے قائل نہیں تھے اور حنابلہ نے ان سے کمی والی روایات منسوب کی ہیں جن کی اسناد میں ضعف ہے

امام بخاری  بھی ایمان میں کمی کے قائل نہیں لگتے انہوں نے صحیح میں کہیں بھی اس پر کوئی باب قائم نہیں کیا بلکہ ایک روایت پیش کی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ
ابن عمر رضی الله عنہ کی روایت جو کہ بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شراب پینے دنیا میں اور توبہ نہ کرے اس پر یہ آخرت میں حرام ہو گی

اس روایت میں اضافہ بھی ہے

مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ , وَإِنْ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ

وہ جنت میں بھی داخل ہو جائے تو شراب اس پر حرام ہو گی

البانی الصَّحِيحَة: 2634  میں اس کو صحیح کہتے ہیں اور ذیادت کو زيادة جيدة کہتے ہیں

یعنی ابو ہریرہ اور ابن عباس کی روایت میں تھا شرابی مومن نہیں اس سے توبہ کرائی جائے اور اس ابن عمر کی روایت سے ثابت ہوا وہ مومن ہی تھا  اس پر آخرت میں شراب حرام ہو گی
اِبْن الْعَرَبِيّ کہتے ہیں  کہ شراب اور ریشم حرام والی حدیثوں سے ظاہر ہے کہ وہ اس کو جنت میں نہیں ملیں گی

ظَاهِرُ الْحَدِيثَيْنِ أَنَّهُ لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ فِي الْجَنَّة

  مسند الموطأ للجوهري از  أَبُو القَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ مُحَمَّدٍ الغَافِقِيُّ، الجَوْهَرِيُّ المالكي (المتوفى: 381هـ) کہتے ہیں

قِيلِ: وَإِنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَنْسَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا حَتَّى لا يَشْتَهِيهَا

اور کہا جاتا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو گا لیکن اس کو بھلا دیا جائے گا اور اس کو خواہش نہ ہو گی

لیکن جو لوگ گناہ کبیرہ  کرنے والے میں ایمان کی کمی کے قائل ہیں انہوں نے اس سے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے مثلا البغوي (المتوفى: 516هـ)  کتاب شرح السنة میں کہتے ہیں وعيدٌ بِأَنَّهُ لَا يدْخل الْجنّة  یہ شخص جنت میں نہیں جائے گا

ابو قاسم اللالكائي المتوفی ٤١٨ ھ  کی کتاب السنه میں امام بخاری سے ایک قول منسوب کیا ہے جس کو ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کر کے دعوی کیا ہے کہ اس کی سند ان کے مطابق صحیح ہے کہ امام بخاری نے کہا

لَقِيتُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ مِنْ الْعُلَمَاءِ بِالْأَمْصَارِ , فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يَخْتَلِفُ فِي أَنَّ الْإِيمَانَ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، وَيَزِيدُ وَيَنْقُص

میں نے (مختلف) شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماے زمانہ سے ملاقات کی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ایمان کے قول و عمل ہونے اور اس کے کم و زیادہ ہونے میں اختلاف نہیں کرتا تھا

کتاب  شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از أبو القاسم هبة الله اللالكائي (المتوفى: 418هـ) کی سند ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ الْهَرَوِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا  مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى الْجُرْجَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبُخَارِيَّ بِالشَّاشِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: ” لَقِيتُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ

اسکی سند میں أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى الْجُرْجَانِيُّ مجھول الحال ہے –  سند میں أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبُخَارِيَّ  بھی ہیں جو کتاب محاسن الإسلام وشرائع الإسلام   کے مصنف ہیں  لیکن وہ اپنی کتاب میں ایمان کی کمی زیادتی پر ایک لفظ نہیں کہتے – اس کے علاوہ  جو بات  امام بخاری نے اپنی سب سے اہم کتاب جامع الصحیح میں نہیں لکھی وہ ان کے کان میں پھونک دی ہوئی عجیب بات ہے – لہذا یہ قول جو امام بخاری سے منسوب ہے ثابت نہیں ہے

امام بخاری نے صحیح كتاب الحيض، باب 6: ترك الحائض الصوم میں روایت پیش کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے عورتوں کے لئے فرمایا

مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ

باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا

بعض علماء مثلا ابن العثيمين  (کتاب تفسير الفاتحة والبقرة) نے اس سے ایمان میں کمی ہونے کا قول لیا ہے جبکہ یہ بات عورتوں کے لئے عام ہے کہ ان کو  حيض اتا ہے جو ایمان میں کمی نہیں ہے بلکہ دین میں ان پر کمی ہے کہ وہ روزہ اور نماز اس حالت میں  پڑھیں

روایت زانی، زنا کرتے وقت مومن نہیں وغیرہ کے حوالے سے یہ بات موجود ہے کہ خود محدثین کو اس روایت کی تفسیر نہیں پہنچی  – العلل دارقطنی میں ہے کہ زانی والی روایت پر
قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ فَنَفَرَ.

امام الْأَوْزَاعِيُّ نے کہا : میں نے امام الزہری سے اس کی تفسیر پوچھ تو وہ بھاگ لئے
اسی میں ہے کہ الْأَوْزَاعِيُّ نے پوچھا
فَقُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُؤْمِنًا فَمَهْ؟ قَالَ: فَنَفَرَ عَنْ ذَلِكَ
میں نے الزہری سے پوچھا اگر مومن نہیں رہا تو پھر کیا تھا ؟ پس الزہری چلے گئے

یعنی امام الزہری نے امام مالک کی طرح توقف کا موقف اختیار کیا  اور گمان غالب ہے یہی امام الْأَوْزَاعِيُّ  کا بھی موقف ہو گا

الغرض یہ محدثین کا اختلاف ہے

بعض کہتے ہیں (مثلا البیہقی، ابن حبان ) کم ہو جاتا ہے ختم نہیں ہوتا
بعض کہتے ہیں (مثلا سفیان ابن عیینہ ) ایمان کم ہوتے ہوتے معدوم ہو جاتا ہے
بعض کہتے ہیں (مثلا امام الزہری) گناہ کے وقت پتا نہیں مومن تھا یا نہیں اس سوال سے فرار کرتے ہیں

بعض کے نزدیک (مثلا امام مالک)  قرآن میں اس پر صریحا کمی کا ذکر نہیں ہے -امام بخاری روایات لاتے ہیں جن میں گناہ کبیرہ والے بغیر توبہ کیے جنت میں جاتے ہیں

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

2 Responses to کیا ایمان میں کمی و زیادتی ہوتی ہے؟

  1. وجاہت says:

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَأَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ) صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: برائی سے روکنا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے)

    179 . حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍقَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَحَدَّثْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْكَرَهُ عَلَيَّ، فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ صَالِحٌ: وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ،

    حکم : صحیح

    179 . صالح بن کیسان نے حارث ( بن فضیل) سے ، انہوں نے جعفر بن عبد اللہ بن حکم سے ، انہوں نے عبد الرحمٰن بن مسور سے ، انہوں نے ( رسول اللہ ﷺکے آزاد کردہ غلام ) ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷜ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مجھ پر پہلے کسی امت میں جتنے بھی نبی بھیجے ، ان کی امت میں سے ان کے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے جوان کی سنت پر چلتے اور ان کے حکم کی اتباع کرتے تھے ، پھر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشیں بن جاتے تھے ۔ وہ (زبان سے ) ایسی باتیں کہتے جن پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور ایسے کا م کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہ دیا گیا تھا ، چنانچہ جس نے ان (جیسے لوگوں ) کے خلاف اپنے دست و بازو سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے ان کے خلاف اپنی زبان سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے اپنے دل سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے ( لیکن ) اس سے پیچھے رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں ۔ ‘‘ ابو رافع نے کہا : میں نے یہ حدیث عبد اللہ بن عمر ﷜ کو سنائی تو وہ اس کو نہ مانے ۔ اتفاق سے عبد اللہ بن مسعود﷜ بھی (مدینہ ) آ گئے اور وادی قتاۃ ( مدینہ کی وادی ہے ) میں ٹھہرے ۔ عبد اللہ بن عمر ﷜ نے مجھے بھی ان کی عیادت کے لیے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا ہم جب جاکر بیٹھ گیا تو میں نےعبداللہ بن مسعود﷜ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح میں عبداللہ بن عمر ﷜ کوسنائی تھی ۔ صالح بن کیسان نےکہا : یہ حدیث ابو رافع سے ( براہ راست بھی) اسی طرح روایت کی گئی ہے ۔

    ======

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله اس حدیث کو کیوں نہ مانے

    =========================
    ابو رافع نے کہا : میں نے یہ حدیث عبد اللہ بن عمر ﷜ کو سنائی تو وہ اس کو نہ مانے ۔

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت معلول ہے

      اس کا ذکر کتاب السنہ میں ابو بکر الخلال نے امام احمد کے حوالے سے کیا ہے

      أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَ حَدِيثَ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «يَكُونُ أُمَرَاءٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ» . قَالَ أَحْمَدُ: جَعْفَرٌ هَذَا هُوَ أَبُو عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ لَيْسَ بِمَحْمُودِ الْحَدِيثِ، وَهَذَا الْكَلَامُ لَا يُشْبِهُهُ كَلَامُ ابْنُ مَسْعُودٍ. ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي»
      احمد نے کہا : جعفر یہ أَبُو عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ہے اور الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ حدیث میں پسندیدہ نہیں ہے اور یہ کلام ابن مسعود کے کلام سے مشابہت نہیں رکھتا اور ابن مسعود کا تو کہنا تھا صبر کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *