کتاب الرویا کا بھید

بعض  علماء اس عقیدہ کے قائل ہیں کہ انسانی جسم میں دو روحیں ہوتی ہیں –  ان میں سے ایک کو نفس  بالا یا روح بالا  کہتے ہیں جو حالت نیند میں انسانی جسم چھوڑ کر عالم بالا جاتی  ہے وہاں اس کی ملاقات فوت شدہ لوگوں کی ارواح سے ہوتی ہے ، دوسری روح یا نفس، نفس زیریں ہے یا معروف  روح ہے  جو جسد میں رہتی ہے-   اس تمام فلسفہ کو ضعیف روایات سے کشید کیا گیا ہے اور اس کی ضرورت اس طرح پیش آئی کہ خوابوں کی دنیا میں تعبیر رویا کی صنف میں عرب مسلمانوں کو مسائل در پیش تھے – اگرچہ قرآن میں تعبیر رویا کو خاص ایک وہبی علم کہا گیا ہے جو انبیاء کو ملتا ہے اور اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس صنف میں کوئی طبع آزمائی نہیں کی- حدیث کے مطابق ایک موقعہ پر امت کے سب سے بڑے ولی ابو بکر رضی الله عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ ایک خواب کی تعبیر کی کوشش کریں جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر پیش ہوا تھا لیکن وہ بھی اس کی صحیح تعبیر نہ کر سکے – اس کے علاوہ کسی صحیح حدیث میں خبر نہیں ملتی کہ اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم یا امہات المومننین بھی خواب کی تعبیر کرتے ہوں –

تعبیر رویا کی تفصیل کہ اس میں مرنے والوں اور زندہ کی روحوں کا  لقا ہوتا ہے اور وہ ملتی ہے  اشارات دیتی ہیں نہ صرف فراعنہ مصر کا عقیدہ تھا بلکہ ان سے یونانیوں نے لیا اور ان سے یہود سے ہوتا ہم تک پہنچا ہے

عنطیفون پہلا یونانی فلسفی نے جس نے عیسیٰ سے پانچ صدیوں قبل   تعبیر خواب پر کتاب لکھی

Antiphon the Athenian (480 BC-411 BC)

اس نے دعوی کیا کہ زندہ کی روحیں مرنے والوں سے ملتی ہیں

dreams

A History of dream Interpretation in western society, J. Donald Hughes,  Dreaming 10(1):7-18 · March 2000

یہ بات یہود کی کتاب  مدرش ربه میں بھی موجود تھی کہ زندوں کی ارواح اپنے اجسام سے نکل کر عالم بالا میں مرنے والوں کی ارواح سے ملتی ہیں مثلا

when they sleep their souls ascend to Him… in the morning He restores one’s soul to everyone.

Midrash Rabba, Deuteronomy 5:15

جب یہ سوتے ہیں تو ان کی ارواح بلند ہوتی ہیں رب تک جاتی ہیں  مدرش ربه

کتاب  تعبير الرؤيا از  أبو طاهر الحراني المقدسي النميري الحنبلي المُعَبِّر (المتوفى: نحو 779هـ) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں یہ دانیال کا قول ہے

قَالَ دانيال عَلَيْهِ السَّلَام: الْأَرْوَاح يعرج بهَا إِلَى السَّمَاء السَّابِعَة حَتَّى توقف بَين يَدي رب الْعِزَّة فَيُؤذن لَهَا بِالسُّجُود فَمَا كَانَ طَاهِرا مِنْهَا سجد تَحت الْعَرْش وَبشر فِي مَنَامه

دانیال علیہ السلام کہتے ہیں ارواح بلند ہوتی ہیں سات آسمان تک جاتی ہیں یہاں تک کہ رب العزت کے سامنے رکتی ہیں ان کو سجدوں کی اجازت ملتی ہے اگر طاہر ہوں تو وہ عرش کے نیچے سجدہ کرتی ہیں اور ان کو نیند میں بشارت ملتی ہے

دانیال یہود کے مطابق ایک ولی الله تھے نبی نہیں تھے اور ان سے منسوب ایک کتاب دانیال ہے  جس میں   ایک خواب لکھآ ہے  کہ انہوں نے عالم بالا کا منظر خواب میں دیکھا رب العالمین کو عرش پر دیکھا اور ملائکہ اس کے سامنے کتب کھولے بیٹھے تھے سجدے ہو رہے تھے احکام لے رہے تھے – یہ کتاب عجیب و غریب عقائد کا مجموعہ ہے جس میں یہ تک لکھا ہے کہ جبریل علیہ السلام ایک مہینہ تک بابل والوں کے قیدی رہے  ان کا معلق وجود رہا یہاں تک کہ اسرافیل علیہ السلام نے آزاد کرایا وغیرہ-  یہ کتاب یہودی تصوف کی صنف میں سے ہے – اگرچہ مسلمانوں نے دانیال کو ایک نبی بنا دیا ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے نہ قرآن میں ذکر ہے نہ صحیح  حدیث میں

دانیال کے خواب کی بنیاد پر یہودی علماء کہتے ہیں کہ وہ بھی خواب بتا سکتے ہیں کیونکہ دانیال نبی نہیں ولی تھے اسی طرح خواب  میں مردوں کی روحوں سے ملاقات ممکن ہے- لیکن مسمانوں کو اس پر دلیل چاہیے تھی کیونکہ ان کے نزدیک دانیال نبی تھے اور ایک غیر نبی کے لئے خواب کی تعبیر کرنے کی کیا دلیل ہے  لہذا روایات بنائی گئیں کہ یہ تو عالم بالا میں ارواح سے ملاقات ہے

واضح رہے کہ خود نبی صلی الله علیہ وسلم  کو معراج ہوئی جو جسمانی تھی اس  کے بر عکس کسی حدیث میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں بیان کیا کہ وہ خواب میں  عرش تک گئے- اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں تابعین میں بعض افراد نے تعبیر رویا کو ایک ایسا علم قرار دینے کی کوشش کی جو محنت سے حاصل ہو سکتا ہے – اس میں بصرہ کے تابعی ابن سیرین سے منسوب ایک کتاب بھی ہے لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے-  یہ ایک جھوٹی کتاب ہے جو ابن سیرین سے منسوب کی گئی ہے – بہت سے بہت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس  رجحان کا  بعض لوگوں میں اضافہ ہو رہا تھا کہ تعبیر رویا ایک علم ہے جو کسب سے حاصل ہو سکتا ہے  – اس صنف  کے پروآن چڑھنے کی وجہ مال تھا کیونکہ اکثر بادشاہوں کو اپنی مملکت  کے ختم ہونے کا خطرہ رہتا تھا-  شاہ مصر نے خواب دیکھا اس کی تعبیر یوسف علیہ السلام نے کی- قیصر  نے خواب دیکھا کہ مختون لوگ اس کی سلطنت تباہ کر رہے ہیں جس سے اس نے مراد یہودی لیے – دانیال نے شاہ بنی نبوکد نصر کے خواب کی تعبیر کی – وغیرہ لہذا خلفاء و حکمران جو خواب دیکھیں اس کی تعبیر بتانے والا کوئی تو ہو –  اس سے منسلک مال حاصل کرنے کے لئے کتاب تعبیر الرویا لکھی گئیں اور لوگوں نے اس فن میں طاق ہونے کے دعوی کرنے شروع کیے

اس معاملے میں ابہام پیدا کرنے کے لئے قرآن کی   آیات کا استمعال کیا جاتا ہے – قبض یا توفی کا مطلب ہے کسی چیز کو پورا پکڑنا- نکالنا یا اخراج یا  کھینچنا اس کا مطلب نہیں ہے لیکن مترجمین اس آیت کا ترجمہ کرتے وقت اس کا خیال نہیں رکھتے- قرآن میں الله تعالی عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں انی متوفیک میں تم کو قبض کروں گا یعنی پورا پورا  تھام لوں گا – اس کا مطلب یہ نہیں کہ موت دوں گا

سوره الزمر میں ہے

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنامِها فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرى إِلى أَجَلٍ مُسَمًّى

الله پورا قبضے میں لیتا ہے نفس کو موت کے وقت اور جو نہیں مرا اس کا نفس  نیند کے وقت،  پس پکڑ  کے رکھتا ہے اس نفس کو جس پر موت کا حکم لگاتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے دوسروں کو اک وقت مقرر تک کے لئے

حالت نیند میں اور موت میں قبض نفس ہوتا ہے- نیند میں قبض جسم میں ہی ہوتا ہے اور نفس کا اخراج نہیں ہوتا جبکہ موت میں امساک کا لفظ  اشارہ کر رہا  ہے کہ روح کو جسم سے نکال لیا گیا ہے

سوره الانعام میں آیات ٦٠ تا ٦١ میں ہے

وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ  ( )  وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ

 اور وہی تو ہے جو رات  میں تم کو قبض کرتا ہے  اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ  معین مدت پوری کردی جائے پھر تم  کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے   وہ تم کو تمہارے عمل جو کرتے ہو  بتائے گا – اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے  قبض کرلیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

بے ہوشی یا نیند میں نفس جسد میں ہی ہوتا ہے لیکن اس پر قبض ہوا ہوتا ہے انسان کو احتلام ہو رہا ہوتا ہے پسینہ آ رہا ہوتا ہے سانس چل رہی ہوتی ہے نبض رکی نہیں ہوتی اور دماغ بھی کام کر رہا ہوتا ہے دل دھڑک رہا ہوتا ہے معدہ غذا ہضم کر رہا ہوتا ہے انسان پر زندگی کے تمام آثار غالب اور نمایاں ہوتے ہیں اور موت پر یہی مفقود ہو جاتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ ایک بہت بڑی تبدیلی جسم پر اتی ہے اور وہ ہے روح کا جسد سے نکال لیا جانا

بحر الحال تعبیر رویا کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہاں تک کہ  آٹھویں صدی کے امام  ابن تیمیہ اپنے فتوی اور کتاب  شرح حديث النزول میں لکھتےہیں کہ حالت نیند میں زندہ لوگوں کی روح، مردوں سے ملاقات کرتی ہیں . ابن تیمیہ لکھتے ہیں

 ففي هذه الأحاديث من صعود الروح إلى السماء، وعودها إلى البدن، ما بين أن صعودها نوع آخر، ليس مثل صعود البدن

ونزوله.

پس ان احادیث میں ہے کہ روح آسمان تک جاتی ہے اور بدن میں عود کرتی ہے اور یہ روح کا اٹھنا دوسری نوع کا ہے اور بدن اور اس کے نزول جیسا نہیں

 اس کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں

وروينا عن الحافظ أبي عبد الله محمد بن منده في كتاب [الروح والنفس] : حدثنا أحمد بن محمد بن إبراهيم، ثنا عبد الله بن الحسن الحراني، ثنا أحمد بن شعيب، ثنا موسى بن أيمن، عن مطرف، عن جعفر بن أبي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضي الله عنهما ـ في تفسير هذه الآية: {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} [الزمر: 42] . قال: تلتقي أرواح الأحياء في المنام بأرواح الموتى ويتساءلون بينهم، فيمسك الله أرواح الموتى، ويرسل

أرواح الأحياء إلى أجسادها.

اور الحافظ أبي عبد الله محمد بن منده في كتاب الروح والنفس میں روایت کیا ہے حدثنا أحمد بن محمد بن إبراهيم، ثنا عبد الله بن الحسن الحراني، ثنا أحمد بن شعيب، ثنا موسى بن أيمن، عن مطرف، عن جعفر بن أبي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضي الله عنهما اس آیت کی تفسیر میں : {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} [الزمر: 42] کہا:  زندوں کی روحیں نیند میں مردوں کی روحوں سے ملتی ہیں اور باہم سوال کرتی ہیں، پس الله مردوں

کی روحوں کو روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں چھوڑ دیتا ہے

یہ روایت ہی کمزور ہے اسکی سند میں جعفربن أبي المغيرة الخزاعي ہیں . تہذیب التہذیب  کے مطابق جعفر بن أبي المغيرة الخزاعي کے لئے ابن مندہ کہتے ہیں

وقال بن مندة ليس بالقوي في سعيد بن جبير

اور ابن مندہ کہتے ہیں  سعيد بن جبير  سے روایت کرنے میں قوی نہیں

ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں

وروى الحافظ أبو محمد بن أبي حاتم في [تفسيره] : حدثنا عبد الله بن سليمان، ثنا الحسن، ثنا عامر، عن الفُرَات، ثنا أسباط عن السدى: {وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} قال: يتوفاها في منامها. قال: فتلتقي روح الحي وروح الميت فيتذاكران ويتعارفان. قال: فترجع روح الحي إلى جسده في الدنيا إلى بقية أجله في الدنيا. قال: وتريد روح الميت أن ترجع إلى جسده فتحبس.

اور الحافظ أبو محمد بن أبي حاتم اپنی تفسیر میں روایت کرتے ہیں حدثنا عبد الله بن سليمان، ثنا الحسن، ثنا عامر، عن الفُرَات، ثنا أسباط عن السدى: {وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} کہا> نیند میں قبض کیا. کہا پس میت اور زندہ کی روح ملتی ہے پس گفت و شنید کرتی ہیں اور پہچانتی ہیں. کہا پس زندہ کی روح جسد میں پلٹی ہے دنیا میں تاکہ اپنی دنیا کی زندگی پوری کرے. کہا:  اور میت کی روح جسد میں لوٹائی جاتی ہے تاکہ قید ہو

اس روایت کی سند بھی کمزور ہے اس کی سند میں السدی ہے جو شدید ضعیف راوی ہے

 اس کے بعد ابن تیمیہ نے کئی سندوں سے ایک واقعہ پیش کیا جس کے الفاظ میں بھی فرق ہے کہ عمر رضی الله تعالی عنہ نے علی رضی الله تعالی عنہ سے سوال کیا کہ انسان کا خواب کھبی سچا اور کبھی جھوٹا کیوں ہوتا ہے ؟ جس پر علی رضی الله تعالی عنہ نے کہا کہ روحیں آسمان پر جاتی ہیں

 وقال ابن أبي حاتم: ثنا أبي، ثنا عمر بن عثمان، ثنا بَقيَّة؛ ثنا صفوان بن عمرو، حدثني سليم بن عامر الحضرمي؛ أن عمر بن الخطاب ـ رضي الله عنه ـ قال لعلي بن أبي طالب ـ رضي الله عنه: أعجب من رؤيا الرجل أنه يبيت فيرى الشيء لم يخطر له على بال! فتكون رؤياه كأخذ باليد، ويرى الرجل الشيء؛ فلا تكون رؤياه شيئًا، فقال على بن أبي طالب: أفلا أخبرك بذلك يا أمير المؤمنين؟ إن الله يقول: {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} [الزمر: 42] ، فالله يتوفي الأنفس كلها، فما رأت ـ وهي عنده في السماء ـ فهو الرؤيا الصادقة. وما رأت ـ إذا أرسلت إلى أجسادها ـ تلقتها الشياطين في الهواء فكذبتها، فأخبرتها بالأباطيل وكذبت فيها، فعجب عمر من قوله.   وذكر هذا أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن منده في كتاب [الروح والنفس] وقال: هذا خبر مشهور عن صفوان بن عمرو وغيره، ولفظه: قال على بن أبي طالب: يا أمير المؤمنين، يقول الله تعالى: {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} والأرواح يعرج بها في منامها، فما رأت  وهي في السماء فهو الحق، فإذا ردت إلى أجسادها تلقتها الشياطين في الهواء فكذبتها، فما رأت من ذلك فهو الباطل.

اور ابن ابی حاتم روایت کرتے ہیں … کہ سلیم بن عامر نے روایت کیا کہ عمر بن الخطاب رضی الله عنہ نے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے کہا مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک آدمی خواب دیکھتا ہے جس میں اس کا شائبہ تک اس کے دل پر نہیں گزرا ہوتا …. علی نے کہا امیر المومنین کیا میں اپ کو اس کی خبر دوں؟ الله تعالی نے  فرمایا

{اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} [الزمر: 42] ، پس الله نے نفس کو قبضہ میں لیا موت پر اور جو نہیں مرا اس کا نیند میں پس اس کو روکا جس پر موت کا حکم کیا اور دوسری کو چھوڑ دیا ایک مدت تک – تو الله نے نفس کو مکمل قبضہ کیا  تو یہ اس کے پاس آسمان پر ہے جو سچا خواب ہے اور جو جسد میں واپس آیا اس پر شیطان نے القا کیا … عمر کو اس قول پر حیرت ہوئی

اور اس کا ذکر ابن مندہ نے کتاب الروح و النفس میں کیا ہے اور کہا ہے یہ خبر مشھور ہے

   اس روایت  کے راوی سليم بن عامر کا عمر رضی الله تعالی عنہ سے سماع ثابت نہیں ہو سکا.

 اپنے عقیدہ  کے اثبات کے لئے ابن تیمیہ نے ابن لَهِيعَة تک کی سند پیش کی. جب کہ ان کی روایت بھی ضعیف ہوتی ہے

 قال الإمام أبو عبد الله بن منده: وروى عن أبي الدرداء قال: روى ابن لَهِيعَة عن عثمان بن نعيم الرُّعَيْني، عن أبي عثمان الأصْبَحِي، عن أبي الدرداء قال: إذا نام الإنسان عرج بروحه حتى يؤتى بها العَرْش قال: فإن كان طاهرًا أذن لها بالسجود، وإن كان جُنُبًا لم يؤذن لها بالسجود. رواه زيد بن الحباب وغيره.

 ابن تیمیہ نے یہ واقعہ ابن مندہ کے حوالے سے    ایک ضعیف راوی کی سند سے بھی پیش  کیا

وروى ابن منده حديث على وعمر ـ رضي الله عنهما ـ مرفوعًا، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد، ثنا محمد بن شعيب، ثنا ابن عياش بن أبي إسماعيل، وأنا الحسن بن علي، أنا عبد الرحمن بن محمد، ثنا قتيبة والرازي، ثنا محمد بن حميد، ثنا أبو زهير عبد الرحمن بن مغراء الدوسي، ثنا الأزهر بن عبد الله الأزدي، عن محمد بن عجلان، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: لقي عمر بن الخطاب على بن أبي طالب فقال: يا أبا الحسن … قال عمر: اثنتان. قال: والرجل يرى الرؤيا: فمنها ما يصدق، ومنها ما يكذب. فقال: نعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” ما من عبد ينام فيمتلئ نومًا إلا عُرِج بروحه إلى العرش، فالذي لا يستيقظ دون العرش فتلك الرؤيا التي تصدق، والذي يستيقظ دون العرش فهي الرؤيا التي تكذب

یہ روایت معرفة الصحابة  از أبو نعيم  میں بھی حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الطَّلْحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ثنا الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ کی سند سے بیان ہوئی ہے لیکن راوی الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ  ضعیف ہے

ابن حجر لسان المیزان میں اس پر بحث کرتے ہیں کہ

أزهر بن عبد الله خراساني.  عنِ ابن عجلان.

تُكلم فيه.

قال العقيلي: حديثه غير محفوظ، رواه عنه عبد الرحمن بن مغراء، انتهى.

والمتن من رواية ابن عجلان، عن سالم، عَن أبيه، عَن عَلِيّ رفعه: الأرواح جنود مجندة … الحديث.

وذكر العقيلي فيه اختلافا على إسرائيل، عَن أبي إسحاق عن الحارث، عَن عَلِيّ في رفعه ووقفه ورجح وقفه من هذا الوجه.

قلت: وهذه طريق أخرى تزحزح طريق أزهر عن رتبة النكارة.

وأخرج الحاكم في كتاب التعبير من المستدرك من طريق عبد الرحمن بن مغراء، حَدَّثَنَا أزهر بن عبد الله الأزدي بهذا السند إلى ابن عمر قال: لقي عمر عَلِيًّا فقال: يا أبا الحسن الرجل يرى الرؤيا فمنها ما يصدق ومنها ما يكذب قال: نعم، سمعت رسول الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: ما من عبد، وَلا أمة ينام فيمتلىء نوما إلا عرج بروحه إلى العرش فالذي لا يستيقظ دون العرش ذلك الرؤيا التي تصدق والذي يستيقظ دون العرش فذلك الرؤيا التي تكذب.

قال الذهبي في تلخيصه: هذا حديث منكر، لم يتكلم عليه المصنف وكأن الآفة فيه من أزهر.

 أزهر بن عبد الله خراساني.   ابن عجلان سے (روایت کرتے ہیں)

انکے بارے میں کلام ہے

عقیلی کہتے ہیں: ان کی حدیث غیر محفوظ ہے اس سے عبد الرحمن بن مغراء روایت کرتے ہیں انتھی

اور اس روایت کا متن ابن عجلان، عن سالم، عَن أبيه، عَن عَلِيّ سے مرفوعا روایت کیا ہے …

میں (ابن حجر) کہتا ہوں: اور اس کا دوسرا طرق أزهر کی وجہ سے ہٹ کر نکارت کے رتبے پر جاتا ہے

اور حاکم نے مستدرک میں کتاب التعبیر میں اس کی عبد الرحمن بن مغراء، حَدَّثَنَا أزهر بن عبد الله الأزدي کی ابن عمر سے روایت بیان کی ہے کہ عمر کی علی سے ملاقات ہوئی پس کہا اے ابو حسن  ایک آدمی خواب میں دیکھتا ہے جس میں سے کوئی سچا ہوتا ہے اور کوئی جھوٹا پس علی نے کہا ہاں میں نے رسول الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ  کوئی بندہ نہیں ، اور بندی نہیں جس کو نیند آئے  الا یہ کہ اپنی روح کے ساتھ عرش تک اوپر جائے پس جو نہ سوئے عرش کے بغیر وہ خواب سچا ہے اور جو سوئے عرش کے بغیر  اس کا خواب جھوٹا ہے

الذهبي تلخیص میں کہتے ہیں یہ حدیث منکر ہے  مصنف نے اس پر کلام نہیں کیا اور اس میں آفت أزهر کیوجہ سے ہے

کتاب : الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني میں شوکانی اس کی بہت سی سندیں دیتے ہیں ان کو رد کرتے ہیں پھر لکھتے ہیں

والحاصل: أن رؤية الأحياء للأموات في المنام كائنة في جميع الأزمنة منذ عصر الصحابة إلى الآن. وقد ذكر من ذلك الكثير الطيب القرطبي في تذكرته، وابن القيم   في كثير من مؤلفاته، والسيوطي في شرح الصدور   بشرح أحوال الموتى في القبور.

الوجه الثامن: من وجوه الأدلة المقتضية لالتقاء أرواح الأحياء والأموات، وهو دليل عقلي لا يمكن الإنكار له، ولا القدح في دلالته، ولا التشكيك عليه، وذلك أنه قد وقع في عصرنا فضلا عن العصور المتقدمة أخبار كثيرة من الأحياء أفم رأوا في منامهم أمواتا فأخبروهم بأخبار هي راجعة إلى دار الدنيا

اور حاصل یہ ہے کہ زندوں کا مردوں کو نیند میں دیکھنا  چلا آ رہا ہے عصر صحابہ سے ہمارے دور تک- اور اس کا ذکر کیا ہے قرطبی نے تذکرہ میں اور ابن قیم نے اپنی بہت سی مولفات میں اور السيوطي نے شرح الصدور بشرح أحوال الموتى في القبور میں  

اور دوسری وجہ : اور وہ دلائل جو ضرورت کرتے ہیں کہ زندوں کی روحیں مرنے والوں سے ملتی ہیں وہ عقلی ہیں جن پر کوئی قدح نہیں نہ ان پر شک ہے اور ہمارے زمانے کے بہت سے فضلا کو خبریں ملی ہیں ان مردوں کو جو اس دار سے جا چکے ہیں

غیر مقلدین کی ایک معتبر شخصیت عبد الرحمن کیلانی کتاب روح عذاب قبر اور سماع الموتی میں لکھتے ہیں

کیلانی خواب ١

اس فلسفہ کا خمیر انہی ضعیف روایات پر اٹھا ہے جس سے معبروں (خواب کی تعبیر کرنے والوں) کی دکان چل رہی تھی

 ظاہر ہے اس فلسفہ کی قرآن و حدیث میں جڑیں نہیں لہذا اس پر سوال پیدا ہوتے ہیں جو کرتے ہی زبان بند ی کرا دی جاتی ہے

kelani khwab

صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق اچھا خواب الله کی طرف سے ہے اور برا شیطان کی طرف سے  نہ کہ اس میں روحیں نکل کر عالم بالا جاتی ہیں

حدیث میں ہے ایک شخص خواب بیان کر رہا تھا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کو ڈانٹا اور کہا
لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ
اس کی خبر مت دو کہ شیطان نے تیرے ساتھ نیند میں کیا کھیلا

صحیح مسلم کی روایت ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ؟ – قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ – فَأَبَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللهُ لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ، فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ، فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ؟ فَقَالَ: غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ، فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ»

حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ بصری روایت کرتے ہیں ابی زبیر سے وہ جابر رضی الله عنہ سے کہ
طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (مکہ میں ہجرت سے پہلے) اور عرض کی کہ یارسول اللہ ! آپ ایک مضبوط قلعہ اور لشکر چاہتے ہیں؟ (اس قلعہ کے لیے کہا جو کہ جاہلیت کے زمانہ میں دوس کا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے قبول نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے حصے میں یہ بات لکھ دی تھی ( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ان کی حمایت اور حفاظت میں رہیں گے) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی۔ پھر مدینہ کی ہوا ان کو ناموافق ہوئی (اور ان کے پیٹ میں عارضہ پیدا ہوا) تو وہ شخص جو سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا تھا، بیمار ہو گیا اور تکلیف کے مارے اس نے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہنا شروع ہوگیا، یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ پھر سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا اور ا س کی حالت اچھی تھی مگر اپنے دونوں ہاتھوں کو چھپائے ہوئے تھا۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا :’’مجھے اس لیے بخش دیا کہ میں نے اس کے پیغمبرکی طرف ہجرت کی تھی۔‘‘ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ تو اپنے دونوں ہاتھ چھپائے ہوئے ہے؟ وہ بولا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ ہم اس کو نہیں سنواریں گے جس کو تو نے خود بخود بگاڑا ہے۔ پھر یہ خواب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے جیسے تو نے اس کے سارے بدن پر کرم کیا ہے۔ (یعنی اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی درست کر دے)۔ ‘‘

اس روایت کے مطابق طفیل رضی الله عنہ نے اس شخص کو خواب میں دیکھا اور اس نے بتایا کہ اس کی بخشش ہو گئی

اس کی سند میں ابی زبیر ہے جو جابر رضی الله عنہ سے روایت کر رہا ہے
محدثین کہتے ہیں ابو زبیر کی وہی روایت لینی چاہیے جو لیث بن سعد کی سند سے ہوں امام مسلم نے اس اصول کو قبول نہیں کیا
اور روایت کو صحیح سمجھا ہے جبکہ دیگر محدثین اس سے الگ کہتے ہیں ان کے مطابق یہ روایت صحیح نہیں بنتی

كتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از صلاح الدين العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

محمد بن مسلم أبو الزبير المكي مشهور بالتدليس قال سعيد بن أبي مريم ثنا الليث بن سعد قال جئت أبا الزبير فدفع لي كتابين فانقلبت بهما ثم قلت في نفسي لو أني عاودته فسألته اسمع هذا كله من جابر قال سألته فقال منه ما سمعت ومنه ما حدثت عنه فقلت له اعلم لي على ما سمعت منه فاعلم لي على هذا الذي عندي ولهذا توقف جماعة من الأئمة عن الاحتجاج بما لم يروه الليث عن أبي الزبير عن جابر وفي صحيح مسلم عدة أحاديث مما قال فيه أبو الزبير عن جابر وليست من طريق الليث وكأن مسلما رحمه الله اطلع على أنها مما رواه الليث عنه وإن لم يروها من طريقه والله أعلم

محمد بن مسلم أبو الزبير المكي تدلیس کے لئے مشھور ہیں – سعيد بن أبي مريم نے لیث بن سعد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں ابو الزبیر کے پاس گیا اس نے دو کتابیں دیں ان کو لے لر واپس آیا – پھر میں نے دل میں کہا جب اس کے پاس جاؤں گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیا یہ سب اس نے جابر بن عبد الله رضی الله عنہ سے سنا بھی ہے ؟ لیث نے ابو الزبیر سے (واپس جا کر) سوال کیا تو اس نے جواب میں کہا: اس میں ہے جو ان سے سنا اور وہ بھی جو میں نے ان سے روایت کر دیا ہے- میں (لیث) نے اس سے کہا: مجھے اس کا علم دو جو تم نے سنا ہو- پس اس نے صرف وہ بتایا اور یہ اب میرے پاس ہے-اس وجہ سے ائمہ (حدیث) کی جماعت نے اس (ابو الزبیر) سے دلیل نہیں لی سوائے اس کے کہ جو لیث کی سند سے ہو – اور صحیح مسلم میں اس کی چند روایات ہیں جس میں ابو الزبیر عن جابر کہا ہے جو لیث کی سند سے نہیں اور امام مسلم اس بات سے واقف تھے کہ اس کی لیث کی سند والی روایات کون سی ہیں ، انہوں نے اس کو اس طرق سے روایت نہیں کیا الله آعلم

ابن سیرین سے منسوب کتاب تفسیر الاحلام یا کتاب الرویا غیر ثابت ہیں لیکن یہ کتاب  صوفیوں کی گھڑی ہوئی ہے

عرب عالم مشھور بن  حسن ال سلمان اپنی  كتاب  كتب حذر منها العلماء  (وہ کتب جن سے علماء نے احتیاط برتی) میں اس پر بحث کرتے ہیں

ibn-seren-dreambook

لب لباب یہ ہے کہ یہ کتاب ابن سیرین سے ثابت نہیں ہے اس کا تین قرون میں تذکرہ نہیں ملتا ابن سیرین ایک محتاط محدث تھے اور تعبیر کے لئے ممکن نہیں کہ انہوں نے قوانین بنائے ہوں

لیکن افسوس بر صغیر کے علماء نے اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور غیر مقلدین علماء تک اس کو فتووں میں استمعال کر رہے ہیں

 

This entry was posted in Aqaid, Mysticism. Bookmark the permalink.

13 Responses to  کتاب الرویا کا بھید

  1. hammad says:

    kiya kahaian gay aap yahan kiya as link maian jo bataian arab ulma nay ki haian woh sahih haian.

    link

    http://www.alarabiya.net/articles/2011/10/01/169553.html

    kiya yeh hadees sahih hai

    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    ” نيك اور صالح خواب اللہ كى جانب سے ہيں، اور برے خواب شيطان كى جانب سے، چنانچہ جب تم ميں سے كوئى شخص برا خواب ديكھے تو وہ اپنى بائيں جانب تين بار تھو تھو كے اور شيطان اور اس كے شر سے تين بار پناہ مانگے تو وہ اسے كوئى ضرر نہيں دے گى ”

    صحيح بخارى كتاب بدء الخلق حديث نمبر ( 3049 )۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرا می ہے ۔
    «اصدقهم رويا اصدقهم حديثا» (مسلم)

    “سب سے زیادہ سچا خواب اس کا ہو تا ہے جو گفتگو میں سب سے زیا دہ سچا ہو۔ اسی بناء پر معروف ہے کہ انبیاء علیہ السلام کے سب خواب سچے ہو تے ہیں اگر چہ بعض خواب تعبیر کے محتا ج ہو تے ہیں اور صا لحین کے خواب بھی غا لباً سچے ہو تے ہیں اور بعض خواب ایسے بھی ہو تے ہیں جو تعبیر کے محتاج نہیں ہو تے ۔ اور دیگر لو گو ں کے خواب سچے اور پراگندہ سب قسم کے ہو تے ہیں دوسری رو ایت میں ہے ۔
    «الصدق الرويا بالاسحار» (مسند احمد)

    “سب سے سچا خواب سحری کے وقت کا ہو تا ہے ۔
    ” ایک دفعہ دو آدمیوں نے خواب میں اذان دی امام ابن سیر ین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کے ورع و تقوی کے پیش نظر فر مایا تو حج کرے گا ۔ قرآن میں ہے
    ﴿ وَأَذِّن فِى النّاسِ بِالحَجِّ…﴿٢٧﴾… سورة الحج

    اور دوسرے کی حا لت اس کے بر عکس تھی فر ما یا : تو چوری میں پکڑ ا جائے گا ۔ قرآن میں ہے ۔
    ﴿ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا العيرُ‌ إِنَّكُم لَسـٰرِ‌قونَ ﴿٧٠﴾… سورة يوسف

    تعبیر رؤیا کے جملہ اصولوں کی تشریح کتا ب “تعبیر الرؤیا ” کے شروع میں مو جو د ہے جو کا فی نفع بخش ہیں ۔ مو ضوع ہذا پر اس کتا ب کو بنیا دی حیثیت حاصل ہے با زار سے بزبان اردو دستیاب ہے مؤلف کا اسم گرا می امام محمد بن سیر ین رحمۃ اللہ علیہ ہے ۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

    link

    http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/13429/0/609

    yahan bhi to khawab ki tabeer batai gai . kiya yeh sahih hai

    link

    http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/5502/0/

    مو ت کے با و جو د مردہ اور زندہ کا را بطہ خوابو ں کی صورت میں قا ئم رہتا ہے جس طرح کہ صحیح احا دیث سے ثا بت ہے اسے اچھی اور بری حالت میں دیکھنا کا فی اہمیت رکھتا ہے مردے کا زندہ کے با رے میں خیا لا ت کا اظہار کرنا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے جملہ تفاصیل کے لیے ملا حظہ ہو ۔
    «تعطير الانام في تعبير المنام مولفه شيخ عبد الغني نابلسي اور منتخب في تفسير الاحلام امام ابن سيرين اور الاشارات في علم العبارات للشيخ خليل بن شاهين ظاهرين»

    link

    http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/13428/0/608

    kahain aisa to nahin keh aap nay yeh thread jild bazi maian bana ker buhat saari cheezaian choor dee hoon.

    • Islamic-Belief says:

      حماد بھائی

      اپ خود تضاد پر غور کریں

      قول اول جو حدیث نبوی ہے اچھا خواب من جانب الله ہے- خواب الله کا براہ راست بندے پر عمل ہے
      یہ بات شریعت کے تحت ہے بندہ پر علم من جانب الله آئے گا

      قول دوم خواب میں روحیں آسمان پر جا کر نیک لوگوں کی روحوں سے مل رہی ہیں
      یہ طریقت و تصوف ہے کہ بندہ خود پردہ غیب میں جھانک سکتا ہے

      یہ دو الگ باتیں ہیں اس کو سرسری نہ لیں
      ————
      مسند احمد کی روایت ہے
      حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ»
      سچا خواب سحری کا ہے

      اسکی سند میں دراج، أبو السمح المصري ہے

      الذھبی میزان میں کہتے ہیں
      دراج، أبو السمح [عو] المصري.
      صاحب ابى الهيثم العتوارى.
      قال أحمد: أحاديثه مناكير، ولينه.
      وقال عباس – عن يحيى: ليس به بأس.
      وقال عثمان بن سعيد، عن يحيى: ثقة.
      وقال فضلك الرازي: ما هو ثقة، ولا كرامة.
      وقال النسائي: منكر الحديث.
      وقال أبو حاتم: ضعيف.
      وقال النسائي أيضا: ليس بالقوي.
      وقد ساق ابن عدي له أحاديث وقال: عامتها لا يتابع عليها.

      یہ روایت سخت ضعیف اور منکر ہے

      البانی نے اس کو “الضعيفة” (1732). میں ذکر کیا ہے
      —————–
      سچے خواب کا نیک اور صالحیت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیا قیصر صالح تھا؟ کیا مصر کے بادشاہ جو یوسف علیہ السلام کے دور میں تھا صالح تھا
      قرآن کہتا ہے ان کا خواب سچا تھا تو ظاہر ہے یہ من جانب الله تھا جبکہ ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ صحیح العقیدہ نہیں تھے
      ہاں صالح لوگوں کو بھی سچا خواب ا سکتا ہے اسی پر حدیث میں ہے کہ قرب قیامت میں مومن کو سچا خواب آئے گا

      ———-
      یہ خواب کی تعبیر جو ابن سیرین سے منسوب کتاب تعبیر الرؤیا سے بیان کی جا رہی ہے
      اس کتاب کی سند کیا ہے کیا یہ ابن سیرین سے ثابت ہے؟
      نہیں!
      اس پر بلاگ میں اضافہ کیا گیا ہے
      ————

      ابن سیرین یا کسی اور نے کوئی تعبیر بتائی تو یہ کیسے ثابت ہو گا کہ وہ تعبیر میں صحیح بات تک پہنچے اس کی “بیرونی” دلیل درکار ہے یعنی کوئی اور کسی اور کتاب یا مقام پر صحیح سند سے اقرار کرے کہ ابن سیرین کی بات تعبیر میں صحیح نکلی جو انہوں نے بولا ایسا ہی میرے ساتھ پیش آیا
      اطلاعا عرض ہے ایسی کوئی بات نہیں ملتی
      ————

      بنوعباس کے دور میں یونانی حکماء کی تعبیر رویا پر کتب کے تراجم ہوئے جس سے عربوں کو پتا چلا کہ اگر یہ چیز دیکھیں تو کیا تعبیر کرے اسی لئے اس دور کے ابن سیرین سے تعبیر رویا منسوب کی جاتی ہے جو لوگوں نے کی اور اس کو ایک شرعی علم قرار دینے کے لئے دعوی کیا کہ یہ علم ابن سیرین سے ملا
      یہ علم اس سے قبل بنو امیہ کو نہیں تھا نہ وہ خوابوں پر اتنا چلتے تھے وہ ٩٠ سال تک بغیر تعبیر رویا سے حکومت کر گئے
      لیکن عباسیوں میں توہم پرستی تھی یہاں تک کہ الواثق عباسی خلیفہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کی سلطنت پر یاجوج ماجوج کا خروج ہو گیا ہے
      تعبیر بتاتے والوں نے کہا خطرہ سنگین ہے

      یعنی بنو امیہ پریکٹکل لوگ تھے جبکہ عباسی خلفاء توہم پرست تھے یہ سوچ میں تبدیلی تعبیر رویا کی صنف میں ترقی کی وجہ بن رہی تھی

  2. hammad says:

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے – امین

  3. السلام علیکم :

    ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی صاحب کی جانب سے پیش کردہ عقائد و نظریات کے دلائل کے خلاف آج کل فلسفہ اور منطق غالیبً مسلک اھلحدیث کی جانب سے پیش کیا جارھا ھے جو کہ “عجب زنب + روح ” پر مشتمل ھے اس پر کجھ روشنی ڈالیں قران سنت کے دائرہ کار میں رھتے ھوئے_

    نوٹ : اس فلسفہ اور منطق کی تفصیلات کی طرف اس لئے نہیں گیا کیونکہ حوالے سے آپ یقیننً پہلے سے بوہت کجھ جانتے ھونگے _

    شکریہ

    • Islamic-Belief says:

      اس پر انہوں نے جو لکھا ہے اس کے لنک دیں تو سمجھ سکیں گے کہ کیا نئی تھیوری ہے

  4. لنک تو نہیں تو ھے البتہ کجھ تفصیلی و تفسیری مضامین ھیں وہ ارسال کرنے کی جسارت چاہتا ہوں _

    والسلام

    ————-

    قرآن کہتا ہے کہ جب مرنے والا مر رہا ہوتا ہے اور تم اس کو دیکھ رہے ہوتے ہوتے ہو. . جب اس کی جان حلق تک پہنچ جاتی ہے .. تو تم دوبارہ اس جان کو اس کے جسم میں لوٹا کیوں نہیں دیتے اگر تم سچے ہو. .
    اس آیت سے صاف پتہ چلا کہ ہماری نگاہوں کے سامنے یہ سب کاروائی ہو رہی ہوتی ہے کہیں برزخ میں یا آسمانوں میں نہیں ہو رہی ہوتی. . لیکن کیونکہ یہ سب فوق الطبعی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے اس لئے ہم مشاہدہ نہیں کر سکتے. .
    دراصل مرنے کے بعد روح عالم طبعی کے اصولوں کے تحت چلنے والے جسم اور عالم کو چهوڑ کر، فوق الطبعی عالم کے جسم تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے. .
    جب ہم نے عرفات کے میدان میں عہد الست دیا تھا تو وہ بھی فوق الطبعی عالم کے اصولوں کے تحت ہوا تھا. . ہمارا اصل جسم، وہی جسم حقیقی ہے جو کہ عہد الست کے وقت عطا کیا گیا تھا .. لیکن فوق الطبعی عالم کا ہمارا اصل جسم روح ہونے کے باوجود ارادی و اختیاری حرکت سے محروم ہوتا ہے. . اسی لئے اس وجود کو میت سے تعبیر کیا جاتا ہے. .
    یہی روح اور جسم حقیقی کو جب عالم طبعی کے حیوان کا جسم بھی اضافی طور سے مل جاتا ہے. . تو انسان ایک مرکب وجود کی شکل اختیار کر لیتا ہے. . یعنی روح ، جسم حقیقی اور جسم حیوانی. .
    جب حیوانی جسم سوتا ہے تو اصل انسان بالکل اسی پوزیشن میں آ جاتا ہے جس وقت وہ فوق الطبعی عالم میں عہد الست دے رہا تھا. . یعنی میت کی حالت میں فوق الطبعی عالم میں ارادی و اختیاری حرکت سے محروم. .
    جب حیوان کی موت ہی آ جاتی ہے تو انسان پھر مستقل طور سے عہد الست والی پوزیشن میں آ جاتا ہے. . روح اسی جسم حقیقی تک محدود و مقید ہو کر رہ جاتی ہے جو کہ انسان کا اصل جسم حقیقی ہے. . اس جسم حقیقی کو انسانی جسم میں موجود ایک ہڈی میں محفوظ کر لیا جاتا ہے. .
    جس طرح ایک بیج ہوتا ہے یا ایک گٹھلی ہوتی ہے کہ ایک خول میں اصل چیز محفوظ ہی رہتی ہے. . جونہی پانی اور زمین اور اسباب میسر آ جاتے ہیں تو اوپر کا حفاظتی خول تو بکھر جاتا ہے لیکن اسی خول کے اندر کے مادے سے زندگی پهوٹ کر باہر آ جاتی ہے. .
    اللہ نے قرآن میں جابجا انسان کے اسی بیج کی طرح سے دوبارہ پیدا کیے جانے کا ذکر کیا ہے. .

    جب انسان مرتا ہے تو جہاں بھی اس کی عجب الذنب ہو گی وہیں اس کا فوق الطبعی عالم کا وجود ہو گا اور اسی میت کی حالت میں یعنی ارادی و اختیاری حرکت سے محروم. .
    جب قیامت کے روز مینہ برسے گا تو عجب الذنب گٹھلی کے اوپر کے خول کی طرح پهٹ کر الگ ہو جائے گی اور ہر انسان اپنی اپنی عجب الذنب پر ەی یعنی اپنے جسم حقیقی میں روح کے لوٹنے پر پیدا ہو گا. .

    جب فرشتے روح کو عالم طبعی کے حیوان سے نکال کر صرف عجب الذنب میں محفوظ جسم حقیقی تک محدود و مقید کر دیتے ہیں تو انسان فوق الطبعی عالم کے اصولوں کے تحت آ جاتا ہے .. یعنی میت کی حالت میں ارادی و اختیاری حرکت سے محروم. .
    اگلے مرحلے میں جہاں بھی عجب الذنب ہو وہی میت جیسے لاچار انسان یعنی (روح اور جسم حقیقی ) کا ٹھکانہ ہوتا ہے اور عذاب و راحت کے سارے مراحل وہیں ہوتے ہیں جہاں وفات یافتہ انسان کا وجود ہوتا ہے. . یعنی جہاں بھی محفوظ عجب الذنب میں روح اور جسم حقیقی پر مشتمل اصل انسان ہوتا ہے. .
    اگر تدفین ایک نارمل قاعدے کے مطابق ہو تو عجب الذنب چھے فٹ کے مردہ جسم سے ہی جڑی رہتی ہے. . جنازے کے اوپر عالم طبعی کا مردہ حیوانی جسم ہوتا ہے جسے گل سڑ کر ختم ہو جانا ہوتا ہے. . جبکہ اسی جنازے پر اصل وفات یافتہ انسان بھی عجب الذنب کے اندر روح اور جسم حقیقی کی شکل میں فوق الطبعی اصولوں کے مطابق موجود ہوتا ہے. . وہ ارادی حرکت سے محروم ایک میت کی مانند فوق الطبعی اصولوں کے تحت جنازے پر اپنا لے جایا جانا محسوس کرتا ہے جبکہ اس کے عزیز برزخ کی وجہ سے اس کے محسوسات سے ناواقف ہی رہتے ہیں. .
    یہی وہ حقیقت ہے جسے بخاری نے باقاعدہ ایک باب باندھ کر بیان کیا ہے کہ. . کلام المیت علی الجنازە. . میت جنازے کے اوپر کلام کرتی ہے. . یہاں میت سے مراد چھے فٹ کا حیوانی لاشہ نہیں ہے بلکہ فوق الطبعی عالم میں منتقل ہونے والا اصل انسان ہے جو روح اور جسم حقیقی پر مشتمل ہوتا ہے اور عجب الذنب میں ہوتا ہے. ..
    اگر نارمل تدفین نہ ہو بلکہ تدفین میں تاخیر ہو جائے تو سوال، جواب اور پھر عذاب و راحت کے تمام معاملات عجب الذنب میں موجود انسان کے ساتھ زمین کے اوپر ہی شروع ہو جاتے ہیں. . جہاں بھی وفات یافتہ انسان کی محفوظ عجب الذنب ہو وہی انسان کی قبر ہوتی ہے. . یہودی عورت جس کی تدفین نہیں ہوئی تھی اس کو عذاب قبر فوق الطبعی اصولوں کے مطابق اس کے مردہ جسم میں محفوظ عجب الذنب میں موجود اس کے اصل وجود کو دیا جا رہا تھا، وہی اس کی قبر تھی اور اسی چیز کی جانب نبی ص نے بتلایا بھی کہ اسے تو اس کی قبر میں عذاب بھی دیا جا رہا ہے. ..

    سورت الزمر میں اللہ نے صاف کہا ہے کہ نیند کے وقت بھی اور باقاعدہ موت کے وقت بھی روح کو فرشتے قبض کر کے ایک مقام پر روک دیتے ہیں. . اگر نیند ہو تو آنکھ کھلنے پر روح کو واپس بھیج دیا جاتا ہے. . جبکہ موت کی صورت میں مستقل روک لیا جاتا ہے. . یہ روکے جانے کا مقام عجب الذنب کے اندر موجود جسم حقیقی ہی ہوتا ہے. . جب نیند کی حالت ہوتی ہے تو عالم طبعی کا حیوان تو سانسیں لیتا ہوا سو رہا ہوتا ہے جبکہ اصل انسان فوق الطبعی عالم میں روح اور جسم حقیقی کی حالت میں پہنچ چکا ہوتا ہے. . اس دوران اصل انسان عالم حقیقی میں بعض اوقات ان واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے جو کہ مستقبل میں اسے پیش آنے ہوتے ہیں. . لیکن جب آنکھ کھلنے پر وہ دوبارہ عالم طبعی کے حیوان میں پہنچتا ہے تو نیند میں جو کچھ اس نے فوق الطبعی عالم میں مشاہدہ کیا ہوتا ہے وہ عالم طبعی میں ہوبہو اس کو یاد نہیں رہ پاتا بلکہ ایک مماثل کیفیت کی صورت میں ہی یاد رہ پاتا ہے. . اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے عالم طبعی کے انسان اور فوق الطبعی عالم کے انسان میں برزخ رکھی ہے. . اسی برزخ کی وجہ سے فرشتے ہمارے کاندھوں پر یوتے ہیں، فرشتے ەم ارے سامنے مرنے والے کی جان کھینچ رہے ہوتے ہیں لیکن ہم ان چیزوں کو یوبہو کسی طور نہیں سمجھ سکتے. . ایک ہی صورت ہے کہ ہمیں عالم طبعی کی کسی مماثل صورت میں بتلایا جائے. .
    یوسف ع گہری نیند میں گئے. . فرشتوں نے انکی روح کو عارضی طور سے قبض کر کے عجب الذنب میں موجود جسم حقیقی میں پہنچا دیا. اب وہ سانسیں لیتے حیوانی جسم کو چهوڑ کر فوق الطبعی عالم میں تھے جہاں انہوں نے مستقبل میں پیش آنے والی اس حقیقت کا مشاہدہ کیا کہ ایک وقت انکی بادشاہی میں انکے والدین اور انکے گیارہ بھائی موجود ہوں گے. .
    جب یوسف ع کی روح عجب الذنب میں موجود جسم حقیقی سے دوبارہ پورے حیوانی جسم میں لوٹی تو اب ان کو فوق الطبعی عالم کا مشاہدہ یوبہو کسی طور یاد نہیں رہ سکتا تھا. . کیونکہ انہوں نے مشاہدہ فوق الطبعی عالم میں کیا تھا جبکہ اب وہ برزخ کی سرحد کے پار عالم طبعی میں پہنچ چکے تھے انکو ایک مماثل کیفیت کی صورت میں ہی یاد رہ پایا گویا کہ چاند ، سورج اور گیارہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے ہیں. .. خواب سچا تھا لیکن عالم طبعی میں عالم حقیقی کی یوبہو سچائی کا ادراک عالم طبعی کے انسان کیلئے ممکن ہی نہیں. . ایسا کسی طور نہیں ہوا تھا کہ واقعی سورج اور چاند اپنی اپنی جگہیں چهوڑ کر انکو سجدہ کرنے پہنچے ہوں. ..

    پس فوق الطبعی عالم کے جتنے بھی واقعات و معاملات ہمیں بتلائے گئے ہیں وہ صرف مماثل کیفیات ہی ہوتی ہیں. . اور عذاب قبر ہو یا راحت قبر ہو اس کی جتنی بھی کیفیات ہمیں احادیث میں بتلائی گئی ہیں وہ صرف مماثل کیفیات ہی ہیں. . یہ زانیوں کا تنور جلنا. . کسی کے کلوں کا چیرا جانا. . کسی کے سر کا کچلا جانا. . ابراہیم کا دودھ پلانے والیوں سے دودھ پینا. . جنت میں اڑتے پرندوں کی شکل میں مزے کرنا. . شہید کی زندگی کا ہم ادراک ہی نہیں کر سکتے. یہ سب ہمیں بتانے کیلئے مماثل کیفیات ہیں ورنہ عذاب یا راحت اصل انسان کو یعنی عجب الذنب میں موجود جسم حقیقی اور روح کو دیا جاتا ہے. . جو کہ فوق الطبعی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے جس کو یوبہو سمجھنا عالم طبعی میں موجود انسانوں کیلئے ممکن ہی نہیں. .

    نبی ص زمینی قبروں کے پاس پہنچے. . اصل وفات یافتہ انسان انہی زمینی قبروں ہی میں موجود تھے یعنی محفوظ عجب الذنب میں موجود جسم حقیقی اور روح کی شکل میں. . نبی ص کو پاس پہنچنے پر عذاب کا پتہ چل گیا. . آپ ص نے قبر پر ٹہنیاں لگا دیں اور کہا کہا کہ جب تک یہ تر رہیں گی انکے عذاب میں کمی رہے گی. . سیدھی سی سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ رحمت اللعالمین کے ہاته کی لگائی گئی ٹہنیوں کی گیلی جڑوں کی رسائی جب تک زمین میں موجود عجب الذنب میں موجود اصل انسانوں تک رہے انکے عذاب میں کمی واقع رہے. .

    قلیب بدر کے مقتولین کی عجب الذنب کنویں میں موجود تهیں. . یعنی انکے اصل وجود فوق الطبعی اصولوں کے مطابق میت کی حالت میں تھے یعنی ارادی و اختیاری حرکت سے محروم. . لیکن محسوس کرنے اور سننے کی پوزیشن میں. . نبی ص عالم طبعی میں تھے اور مقتولین فوق الطبعی عالم میں. . دونوں کے درمیان برزخ تھی بالکل جس طرح جنازے پر لے جائی جانے والی میت اور اس کے عزیزوں کے درمیان. . نبی ص عالم طبعی کے اصولوں کے تحت کنویں کے پاس کهڑے تھے اور عام قاعدے کی رو سے آپ صرف کٹے پهٹے طبعی جسموں کو ہی دیکھ سکتے تھے جو کہ روح سے خالی تھے اور برزخ کی وجہ سے آپ عجب الذنب میں موجود فوق الطبعی عالم میں موجود مقتولین کو نہیں سنا سکتے تھے. . لیکن اللہ نے معجزانہ طور پر عالم طبعی کے انسان کی بات کو فوق الطبعی عالم کے انسانوں کو سنا دیا گیا. . ورنہ عمر رض یہی سوچ کر پریشان تھے کہ روح سے خالی کٹے پهٹے جسموں سے خطاب کا کیا مطلب؟

    وہی میت نما انسان یعنی محفوظ عجب الذنب میں موجود روح اور جسم حقیقی پر مشتمل وجود جب جنازے پر اپنے عزیزوں کے ہاتهوں اپنا لے جایا جانا ایک معمول کے مطابق محسوس کرتا ہے جب معمول کے مطابق پوچھتا ہے کہ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو ؟ تو کیا وہی وجود جو معمول کے مطابق بولتا ہے کیا ایک گهنٹے بعد قبر میں اتر کر اپنے عزیزوں کے جوتوں کی چاپ نہیں سن سکتا ؟ اگر جنازے پر اس وجود کا اپنے عزیزوں کے ہاتهوں لے جایا جانا محسوس کرنا اور اس پر بولنا اور سوال کرنا ایک معمول ہے تو اسی وجود کا جنازے سے قبر میں اتر کر انہی عزیزوں کے جوتوں کی چاپ سن لینا کیوں اتنا بڑا معمہ بنایا جا رہا ہے ؟
    محفوظ عجب الذنب میں موجود ارادی و اختیاری حرکت سے محروم اصل انسان فوق الطبعی عالم کے اصولوں کے تحت محسوس کرتا ہے. . فوق الطبعی اصولوں کے مطابق وہ جنازے پر بولتا ہے اور جوتوں کی چاپ سنتا ہے. . جبکہ اس کے عزیز طبعی اصولوں کے مطابق ہی دیکھ بول اور سن سکتے ہیں. ..
    پس اگر طبعی عالم میں موجود انسان کو فوق الطبعی عالم میں موجود انسان کو کچھ سنانا ہے تو یہ بغیر کسی معجزے کے ممکن نہیں ہے. .
    قلیب بدر اسی لئے معجزہ تھا کہ نبی ص عالم طبعی کے اصولوں کے تحت کنویں کے پاس کهڑے تھے اور مقتولین اپنی اپنی محفوظ عجب الذنب میں فوق الطبعی عالم کے اصولوں کے تحت موجود تھے دونوں کے درمیان برزخ تھی دو عالموں کا فرق تھا. . بالکل جیسے فرشتے ہمارے کاندھوں پر ہوتے ہیں لیکن ہم طبعی عالم کے اصولوں تک محدود ہونے کی وجہ سے انکا مشاہدہ نہیں کر سکتے. .
    پس نبی ص نے کنویں کے پاس طبعی عالم کے اصولوں کے تحت بولا جسے عجب الذنب میں موجود مقتولین نے فوق الطبعی عالم کے اصولوں کے تحت سنا اور وہی سنا اور سمجھا جو نبی ص انکو سنانا چاہ رہے تھے. . اور یہ بہرحال ایک معجزے کے بغیر ممکن نہیں ہے. .

    • Islamic-Belief says:

      اصل میں قرآن میں اور روایات میں تفاوت ہے جس کی بنا پر موت کی تعریف میں ہی جھگڑا ہے
      مثلا
      موت روح کی جسم سے مکمل علیحدگی ہے
      یہ تعریف عام ہے اور قرآن کے مطابق ہے
      ابانة ألروح عن الجسد
      مفردات القرآن از راغب الاصفہانی

      لیکن جب لوگوں نے روایات کو دیکھا تو وہ ان کی تطبیق قرآن سے نہ کر سکے اور انہوں نے بنیادی تعریف کہ موت روح کی جسد سے علیحدگی ہے کو رد کیا
      بعض نے یہ رائے لی کہ روح جسد میں لوٹا دی گئی اور قیامت تک قبرستان میں رہتی ہے جیسے امام ابن عبد البر
      بعض نے کہا روح قیامت تک جسد سے الگ ہو گئی جیسے امام ابن حزم اور وہ علماء جو روح کے لئے جسد کے قائل تھے
      بعض نے کہا روح کا جسم سے تعلق ہو جاتا ہے مثلا امام ابن تیمیہ اور ابن حجر

      متکلمین میں بھی اختلاف ہوا مثلا قاضی الباقلانی کا قول ہے – المسالِك في شرح مُوَطَّأ مالك از القاضي محمد المعافري الاشبيلي المالكي (المتوفى: 543هـ) کہتے ہیں

      وبهذه المسألة تعلّق القاضي أبو بكر بن الطّيّب بأنّ الرُّوح عرض، فقال: والدّليل عليه أنّه لا ينفصل عن البَدَنِ إلَّا بجُزْءٍ منه يقول به، وهذا الجزء المذكور في حديث أبي هريرة: “كُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكلُهُ الأَرْضُ، إلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ” الحديث، فدلّ بهذا أنّه ليس بمُعْدَمٍ، ولا في الوجود شيء يَفْنَى ؛ لأنّه إنّ كان فَنِيَ في حقِّنا فهو في حقِّه موجودٌ مرئيٌّ معلومٌ حقيقةً، وعلى هذا الحال يقع السُّؤال في القبر والجواب، ويعرض عليه المقعد بالغَدَاةِ والعشيِّ، ويعلّق من شَجَرِ الجنّة
      اور اس مسئلہ میں قاضی ابو بکر بن الطیب الباقلانی نے تعلق کیا ہے کہ روح عرض ہے پس کہا اس کی دلیل ہے کہ یہ بدن سے (مکمل) الگ نہیں ہوتی سوائے اس کے ایک جز کے جس سے یہ بولتا ہے اور یہ جز حدیث ابو ہریرہ میں مذکور ہے ہر بنی آدم کو زمین کھا جائے گی سوائے عجب الذنب کے پس یہ دلیل ہے کہ کہ روح معدوم نہیں ہے اورنہ اس کے وجود میں کوئی چیز فنا ہوئی کیونکہ …. اسی حالت پر سوال قبر اور جواب ہوتا ہے ہے صبح شام ٹھکانہ پیش ہوتا ہے اور یہ جنت کے درخت سے معلق ہے

      اسی طرح مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح از ملا علي القاري (المتوفى: 1014هـ) لکھتے ہیں
      وَلَا شَكَّ أَنَّ الْجُزْءَ الَّذِي يَتَعَلَّقُ بِهِ الرُّوحُ لَا يَبْلَى، لَا سِيَّمَا عَجَبُ الذَّنَبِ،
      اور اس میں شک نہیں کہ ایک جز جس سے روح کا تعلق باقی رہتا ہے وہ ختم نہیں ہوتا خاص طور پر عجب الذنب سے

      الكوراني نے وضاحت کی – الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري از أحمد بن إسماعيل بن عثمان بن محمد الكوراني الشافعي ثم الحنفي المتوفى 893 هـ کہتے ہیں
      وقد يقال: إنه يتعلق بالجزء الأصلي الذي بقي معه من أول العمر إلى آخره، وهو الذي يركب منه الجسم في النشاة الأولى. ومنه يركب في النشأة الأخرى. وفي رواية البخاري ومسلم: أن ذلك عجب الذنب.
      کہا جاتا ہے کہ روح ایک اصلی جز سے تعلق کرتی ہے جو باقی ہے اس کے ساتھ اول عمر سے آخری تک اور یہ وہ ہے جس پر جسم چلتا ہے پہلی تخلیق سے اور اسی پر بعد میں اٹھے گا اور بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ بے شک یہ عجب الذنب ہے

      الکورانی یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسری رائے ہے کہ
      فإن النفس الناطقة مجردة ليست بحاتة في البدن. وهذا مختار الغزالي والراغب والقاضي أبي زيد.
      بے شک اکیلا نفس ناطقہ (روح) بدن کا عنصر (و جز) نہیں ہے اور یہ (مذھب) مختار (مناسب و قابل قبول) ہے غزالی اور راغب اور قاضی ابوزید کے مطابق

      یعنی روح کا تعلق بدن سے نہیں بن سکتا دونوں الگ ہیں

      اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے یہ متکلمین کے ایک گروہ کی رائے تھی کہ روح جسم میں عجب الذنب سے تعلق کرتی ہے
      یہ گروہ اب معدوم ہے اس اقتباس میں پوری تشریح اسی رائے کی بنیاد پر کی گئی ہے

      لگتا ہے لوگ اس مسئلہ میں ہاتھ پیر مارتے انہی بوسیدہ نظریات میں روح پھونک رہے ہیں جو ایک عرصہ ہوا تاریخ میں کھو چکے تھے

      ———-

      اب اپ پورا قرآن پڑھ لیں کہیں بھی یہ فلسفہ نہیں ملے گا جو اقتباس میں پیش کیا گیا ہے اور جب اپ قرآن کی روشنی میں احادیث کو دیکھنے ہیں تو ان کی وہی تشریح مناسب و مختار ہے جو ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے پیش کی ہے

      روح جسم سے مکمل الگ ہو جاتی ہے یہی نفس ہے جو حیات جدید اور خلق جدید پر واپس ڈالا جائے گا
      قرآن کہتا ہے توفی ہوا روح قبض ہوئی اور اخراج نفس ہوا لیکن یہ اقتباس کہہ رہا ہے اخراج ہوا ہی نہیں روح عجب الذنب میں سمٹ گئی
      گویا فرشتے خالی ہاتھ لوٹ گئے
      اقتباس میں جو تفصیل و تشریح ہے اس کے بعد عود روح والی روایت کی ضرورت ہی نہیں رہی کیونکہ عود تو تب ہوتا جب روح کو آسمان سے واپس زمین پر پھینکا جاتا جیسا مسند احمد کی روایت میں بیان ہوا ہے لیکن اقتباس کہتا ہے روح عجب الذنب میں قید تھی
      لہذا یہ رائے مسند احمد کی روایت کی بنیاد پر نہیں ہے یہ موت کی بنیادی تعریف میں گربڑ کی گئی ہے

      اصلا یہ اقتباس ان لوگوں کا تراشیدہ ہے جو حیات فی القبر کے شیدائی ہیں جو اولیاء الله اور انبیاء کی وفات کو تسلیم نہیں کر سکے ہیں اور حیات فی القبر کو ماننے والے گمراہ لوگ ہیں

      وفات النبی کے روز کسی صحابی کو یہ باطل فلسفہ نہیں سوجھا کہ عمر سے کہتا کہ اے عمر کیوں مسجد میں شور کرتے ہو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی روح تو انکی عجب الذنب میں ہی رہ گئی فرشتے خالی ہاتھ لوٹ چکے ہیں لیکن ہم تک علم آ چکا کہ جو محمد کا پجاری تھا وہ جان لے کہ محمد کو موت آ چکی اور الله الحی القیوم ہے

      سلیمان علیہ السلام کو موت آئی اقتباس کی روشنی میں ان کی روح بھی عجب الذنب میں پھنس گئی فرشتے خالی ہاتھ لوٹ گئے جنات لیکن صحیح عقیدہ رکھتے تھے کہ سلیمان کی روح اب جسد میں نہیں اور قرآن نے بھی انکی تائید کی کہ ہاں تم اگر غیب کو جانتے تو سمجھ لیتے کہ سلیمان وفات پا چکے

      قرآن نص قطعی ہے اور حجت ہے اس کے مقابلے پر اخبار احاد کی غلط تاویل کر کے اپنے گمراہ نظریات کو تراشنا ایک غلط بات ہے

      ایک وقت تھا جب غیر مقلدین سلفی عقیدہ کو ایسے پیش کرتے تھے کہ گویا وہ حرف آخر ہوں اور ان پر آسمان سے کوئی سند آئی ہو
      لیکن اب چند سالوں میں ہم دیکھ رہے ہیں وہ کتابیں پڑھ کر نئے فلسفے بھگار رہے ہیں کوئی کرامیہ کے عقیدہ کو صحیح کہتا ہے تو کوئی خوراج والی رائے رکھتا ہے اور تو اور کوئی قاضی الباقلانی کی رائے تک ا گیا ہے جن پر ابن تیمیہ جرح کرتے رہے ہیں
      یعنی اب واپس اشاعرہ کے علماء کی کتاب سے نظریہ سرقه کر کے اس کو خالص رائے پر کھڑا کرنے کے بعد یہ مطالبہ کرنا کہ اس کو تسلیم کیا جائے عجب بات ہے

      ہم نے اس مسئلہ جو رائے اختیار کی ہے اس سے قرآن و احادیث میں تطبیق ہو جاتی ہے جبکہ دوسری آراء میں یہ ممکن نہیں ہے
      جو چاہے قرآن و حدیث کا تقابل کر کے جان لے

      قرآن کہتا ہے
      قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ
      بلا شبہ ہم جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس محفوظ کتاب ہے

      حدیث میں ہے کہ انسان کا جسم زمین کھا جاتی ہے سوائے عجب الذنب کے-
      اس میں کوئی دلیل نہیں کہ یہ عجب الذنب زندہ ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالی قرآن میں خاص طور پر ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہڈی کو زندہ کریں گے

      اقتباس میں دعوی کیا گیا ہے کہ میت جس و عقل رکھتی ہے جبکہ یہ بات بھی خلاف قرآن ہے
      قرآن کہتا ہے زندہ و مردہ برابر نہیں اور اپ مردوں کو نہیں سنا سکتے الله جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے

      اس میں بھی ہے جس کو چاہتا ہے سنواتا ہے لیکن اقتباس میں اس خصوص کو ختم کر کے عموم کا دعوی کیا گیا ہے

      رسول الله صلي الله عليہ وسلم کے قول کہ جو مرا فقد قَامَت قِيَامَته اس پر اسکي قيامت قائم ہوئي پر بحث کرتے ہوئے ابن حزم (المتوفى: 456هـ) کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل ميں لکھتے ہيں

      قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَإِنَّمَا عَنى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بِهَذَا الْقيام الْمَوْت فَقَط بعد ذَلِك إِلَى يَوْم الْبَعْث كَمَا قَالَ عز وَجل {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون} فنص تَعَالَى على أَن الْبَعْث يَوْم الْقِيَامَة بعد الْمَوْت بِلَفْظَة ثمَّ الَّتِي هِيَ للمهلة وَهَكَذَا أخبر عز وَجل عَن قَوْلهم يَوْم الْقِيَامَة {يا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا} وَأَنه يَوْم مِقْدَاره خَمْسُونَ ألف سنة وَأَنه يحيي الْعِظَام وَيبْعَث من فِي الْقُبُور فِي مَوَاضِع كَثِيرَة من الْقُرْآن وبرهان ضَرُورِيّ وَهُوَ أَن الْجنَّة وَالنَّار موضعان ومكانان وكل مَوضِع وَمَكَان ومساحة متناهية بِحُدُودِهِ وبالبرهان الَّذِي قدمْنَاهُ على وجوب تناهي الإجسام وتناهى كل مَا لَهُ عدد وَيَقُول الله تَعَالَى {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض} فَلَو لم يكن لتولد الْخلق نِهَايَة لكانوا أبدا يحدثُونَ بِلَا آخر وَقد علمنَا أَن مصيرهم الْجنَّة أَو النَّار ومحال مُمْتَنع غير مُمكن أَن يسع مَا لَا نِهَايَة لَهُ فيماله نِهَايَة من الماكن فَوَجَبَ ضَرُورَة أَن لِلْخلقِ نِهَايَة فَإِذا ذَلِك وَاجِب فقد وَجب تناهى عَالم الذَّر والتناسل ضَرُورَة وَإِنَّمَا كلامنا هَذَا مَعَ من يُؤمن بِالْقُرْآنِ وبنبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَادّعى الْإِسْلَام وَأما من أنكر الْإِسْلَام فكلامنا مَعَه على مَا رتبناه فِي ديواننا هَذَا من النَّقْض على أهل الْإِلْحَاد حَتَّى تثبت نبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَصِحَّة مَا جَاءَ بِهِ فنرجع إِلَيْهِ بعد التَّنَازُع وَبِاللَّهِ تَعَالَى التَّوْفِيق وَقد نَص الله تَعَالَى على أَن الْعِظَام يُعِيدهَا ويحيها كَمَا كَانَت أول مرّة وَأما اللَّحْم فَإِنَّمَا هُوَ كسْوَة كَمَا قَالَ {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين}

      امام ابن حزم نے کہا کہ بے شک رسول الله صلي الله عليہ وسلم نے خبر دي قيام سے مراد فقط موت ہے کيونکہ اب اس کو يوم بعث پر اٹھايا جائے گا جيسا الله تعالي نے کہا {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون} پھر تم کو قيامت کے دن اٹھايا جائے گا پس نص کي الله تعالي نے ان الفاظ سے کہ زندہ ہونا ہو گا قيامت کے دن موت کے بعد يعني يہ ايک ڈيڈ لائن ہے اور اسي طرح الله نے خبر دي قيامت پر اپنے قول سے {يَا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا} ہائے بربادي کس نے ہميں اس نيند کي جگہ سے اٹھايا اور اس دن کي مقدار پچاس ہزار سال کي ہے اور بے شک اس نے خبر دي قرآن ميں اور برہان ضروري سے کثير مقامات پر کہ وہ ہڈيوں کو زندہ کرے گا اور جو قبروں ميں ہيں انکو جي بخشے گا – جنت و جہنم دو جگہيں ہيں اور مکان ہيں اور ہر مکان کي ايک حدود اور انتھي ہوتي ہے اور وہ برہان جس کا ہم نے ذکر کيا واجب کرتا ہے کہ اس ميں اجسام لا متناہي نہ ہوں اور گنے جا سکتے ہوں اور الله کا قول ہے {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض} وہ جنت جس کي چوڑائي آسمانوں اور زمين کے برابر ہے اور …. پس ضروري ہے کہ مخلوق کي انتھي ہو … اور بے شک اللہ تعالي نے نص دي کہ ہڈيوں کو واپس شروع کيا جائے گا اور انکو زندہ کيا جائے گا جيسا پہلي دفعہ تھا اور جو گوشت ہے تو وہ تو اس ہڈي پر غلاف ہے جيسا الله نے کہا {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين} اور بے شک ہم نے انسان کو خلق کيا مٹي سے پھر اس کا نطفہ ايک ٹہرنے والي جگہ کيا

      ابن حزم بار بار الله تعالي کے قول کي ياد دہاني کرا رہے ہيں کہ موت کے بعد اجسام ہڈيوں ميں بدل جائيں گے اور زندہ بھي ہڈي کو کيا جائے گا پھر اس پر گوشت کا غلاف آئے گا لہذا يہ ظاہر ہے کان يا آلات سماعت تو گوشت کے ھوتے ہيں جب وہ ہي معدوم ہو جائيں تو انسان کيسے سنے گا

      عجب الذنب ایک ہڈی ہے جو باقی رہے گی لیکن بے جان و بے روح رہے گی جس طرح ایک بیج بے جان ہوتا ہے
      یہ الله کا فعل ہے جو بے جان میں سے زندہ کو نکآلتا ہے

      روح عالم بالا میں رہے گی جیسا صحیح مسلم کی حدیث میں ہے

    • Islamic-Belief says:

      چونکہ یہ بلاگ خواب پر ہے اور اقتباس میں اس کا بھی ذکر ہے لہذا ہم اس پر اب تبصرہ کرتے ہیں

      اقتباس میں کہا گیا ہے

      ============
      یوسف ع گہری نیند میں گئے. . فرشتوں نے انکی روح کو عارضی طور سے قبض کر کے عجب الذنب میں موجود جسم حقیقی میں پہنچا دیا. اب وہ سانسیں لیتے حیوانی جسم کو چهوڑ کر فوق الطبعی عالم میں تھے جہاں انہوں نے مستقبل میں پیش آنے والی اس حقیقت کا مشاہدہ کیا کہ ایک وقت انکی بادشاہی میں انکے والدین اور انکے گیارہ بھائی موجود ہوں گے. .
      جب یوسف ع کی روح عجب الذنب میں موجود جسم حقیقی سے دوبارہ پورے حیوانی جسم میں لوٹی تو اب ان کو فوق الطبعی عالم کا مشاہدہ یوبہو کسی طور یاد نہیں رہ سکتا تھا. . کیونکہ انہوں نے مشاہدہ فوق الطبعی عالم میں کیا تھا جبکہ اب وہ برزخ کی سرحد کے پار عالم طبعی میں پہنچ چکے تھے انکو ایک مماثل کیفیت کی صورت میں ہی یاد رہ پایا گویا کہ چاند ، سورج اور گیارہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے ہیں. .. خواب سچا تھا لیکن عالم طبعی میں عالم حقیقی کی یوبہو سچائی کا ادراک عالم طبعی کے انسان کیلئے ممکن ہی نہیں. . ایسا کسی طور نہیں ہوا تھا کہ واقعی سورج اور چاند اپنی اپنی جگہیں چهوڑ کر انکو سجدہ کرنے پہنچے ہوں. ..
      ======

      حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم کی روشنی میں انبیاء کا خواب الوحی ہے اور خواب من جانب الله ہے
      اس میں یوسف کی روح عالم طبعی سے نکل کر عالم فوق طبعی سے ملی ایک لغو بے سروپا بات ہے
      اس پر نص پیش کی جائے جو نہ قرآن میں ملے گی نہ حدیث میں

      بقول صاحب اقتباس یوسف کو خواب کا علم نہیں تھا لیکن قرآن اس کے خلاف ہے قرآن کہتا ہے یوسف کو تاویل الرویا سکھا دی گئی
      تو جو خواب پہلے دیکھا تھا بعد میں اسکی صحیح تاویل تک تو وہ پہنچ چکے تھے
      یہ کس نے اور کب دعوی کیا کہ سورج اور چاند اپنا مقام چھوڑ کر ان کو سجدہ کرنے پہنچے یہ صاحب اقتباس کے ذہین کی پریشان خیالی ہے جس کو انہوں نے قلم بند کر دیا ہے
      ایسا امت میں کسی کا دعوی رہا ہی نہیں تو اس قسم کی بے سر و پا بات کا کیا تعلق ہے؟

      یوسف کی روح برزخ کی حد پر تھی ؟ برزخ ایک آڑ کو کہتے ہیں جبکہ ہمارے درمیان اور فرشتوں اور جنات کے درمیان کوئی آڑ نہیں
      جنات ہم کو دیکھ رہے ہیں ہم نہیں دیکھ سکتے
      فرشتے جنات و انسان کو دیکھ رہے ہیں ہم دونوں فرشتوں کو نہیں دیکھ سکتے
      اس کو برزخ نہیں پردہ غیب کہا جاتا ہے یہی لفظ اس مفھوم پر متقدمین استمعال کرتے رہے ہیں
      برزخ یا آڑ تو تب بنے گی جب ایک طرف والے دوسری طرف سے بے خبر ہوں اور دوسری جانب والے پہلی طرف سے بے خبر ہوں
      یہ روح اور دنیا کے لئے صحیح ہے کیونکہ جو ارواح اس کو عالم کو چھوڑ گئیں ان کو عالم ارضی کی خبر نہیں اور جو عالم ارضی میں ابھی جسموں میں ہیں ان کو عالم بالا تک رسائی نہیں
      برزخ کی یہ نئی تشریح جو اقتباس میں پیش کی گئی ہے دور جدید کی ایجاد ہے اس پر کوئی دلیل و برہان پیش کی جائے

      قرآن میں ہے جو مر رہا ہے اس کے اور دنیا کے پیچھے برزخ ہے لیکن یہاں تو اس کو ایک زندہ نبی پر بھی بیان کر دیا گیا ہے
      پھر انبیاء پر اس نام نہاد برزخ کا لفظ بولنا بھی صحیح نہیں
      انبیاء شیطان کو دیکھ لیتے ہیں وہ فرشتوں کو دیکھ لیتے ہیں وہ کس طرح نام نہاد برزخ کی حد پر ہیں وہ بھی خواب میں جبکہ بیداری میں بھی وہ بعض اوقات فرشتوں و جنات کو دیکھ لیتے ہیں

      • jawad says:

        یہ روح اور دنیا کے لئے صحیح ہے کیونکہ جو ارواح اس کو عالم کو چھوڑ گئیں ان کو عالم ارضی کی خبر نہیں اور جو عالم ارضی میں ابھی جسموں میں ہیں ان کو عالم بالا تک رسائی نہیں

        آپ کی بات صحیح ہے

        قران میں حبیب نجار کے قصّے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مرنے والا نہیں جانتا نہ ہی اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟؟

        اِنِّىۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِؕ‏ ﴿۲۵﴾ قِيۡلَ ادۡخُلِ الۡجَـنَّةَ ؕ قَالَ يٰلَيۡتَ قَوۡمِىۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ‏ ﴿۲۶﴾ بِمَا غَفَرَلِىۡ رَبِّىۡ وَجَعَلَنِىۡ مِنَ الۡمُكۡرَمِيۡنَ‏ ﴿۲۷﴾ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَمَا كُـنَّا مُنۡزِلِيۡنَ‏ ﴿۲۸﴾ اِنۡ كَانَتۡ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمۡ خٰمِدُوۡنَ‏ ﴿۲۹
        سوره یٰسین

        کہنے لگا) میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو ﴿۲۵﴾ حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا۔ بولا کاش! میری قوم کو خبر ہو جائے ﴿۲۶﴾ کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا ﴿۲۷﴾ اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اُتارا اور نہ ہم اُتارنے والے تھے ہی ﴿۲۸﴾ وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشین) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے ﴿۲۹

        یعنی حبیب نجار کو خبر نہیں تھی کہ جب اس کی قوم نے اس کو شہید کیا تو اس کے بعد الله رب العزت نے اس قوم کے ساتھ کیا سلوک کیا -اگر اس کا دنیا سے رابطہ ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ قَالَ يٰلَيۡتَ قَوۡمِىۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ

        ویسے ذہن میں سوال ہے کہ- کیا اکثر محدثین و علما ء جو میت پر عذاب و ثواب کا فتویٰ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میت کا ہمہ وقت دنیا کے لوگوں سے رابطہ ہے وہ اپنے چاہنے والوں کو پہچانتے ہیں وغیرہ جسے ابن تیمیہ، ابن قیم یا ابن حجر، حاکم وغیرہ -کیا انہوں نے قرآن سمجھ کر نہیں پڑھا جو ان کو اتنی موٹی بات سمجھ نہ آئ ؟؟

        • Islamic-Belief says:

          میں بھی کبھی کبھی یہی سوچتا ہوں کہ یہ بنیادی باتیں ان علماء کی سمجھ میں کیوں نہیں آئیں – اغلبا انسان جس ماحول میں رہتا ہے اس سے الگ ہو کر نہیں سوچتا لہذا جو بات مدرسوں میں چل رہی تھی اسی کو بیان کیا جاتا رہا

          عربوں میں زہد کے نام پر
          lose literature
          مسجدوں میں پڑھا جاتا تھا – اس لٹریچر کا اثر بہت تھا مثلا ابن ابی الدنیا کی کتب

          آج بھی ابن ابی الدنیا کی کتب دیکھ لیں ضعیف منقطع متروک روایات ہیں لیکن ان میں موجود ہے کہ قبر سے مردہ نکلتا ہے اور فرشتے اس کو پیچھا کرتے ہیں واپس قبر میں لے جاتے ہیں – اس قسم کا دو نمبر لٹریچر مسجدوں میں بیان ہوتا تھا اور زہد کے نام بیان کیا جاتا
          اس کا اثر ہوا کہ صحیح حدیث کا مطلب تک بدل دیا گیا اور معجزات کو عام کر دیا گیا

          اگر فتاوی ابن تیمیہ کھنگالیں تو وہ مسلسل فتووں میں سماع الموتی کی دلیل پر قلیب بدر کا ذکر کرتے ہیں

          ⇑ ابن تیمیہ اور ابن قیم کے خلاف اہل الحدیث
          http://www.islamic-belief.net/masalik/غیر-مقلدین/

          ابن قیّم کتاب الروح میں لکھتے ہیں

          وَالسَّلَف مجمعون على هَذَا وَقد تَوَاتَرَتْ الْآثَار عَنْهُم بِأَن الْمَيِّت يعرف زِيَارَة الْحَيّ لَهُ ويستبشر بِهِ

          اور سلف کا اس پر اجماع ہے اور متواتر آثار سے پتا چلتا ہے کہ میّت قبر پر زیارت کے لئے آنے والے کو پہچانتی ہے اور خوش ہوتی ہے

          كتاب اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم للإمام ابن تيميه ج ٢ ص ٢٦٢ دار عالم الكتب، بيروت، لبنان میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں

          فأما استماع الميت للأصوات، من القراءة أو غيرها – فحق.

          پس میت کا آوازوں کو، جیسے قرات اور دیگر کا، سننا حق ہے.

          سلف کا اجماع ہے مردے کی پاور فلل صلاحیتوں پر؟ ہمارے خیال میں آپ بھی ابن قیم کی اس بات سے متفق نہیں ہوں گے لہذا عود روح کے عقیدے کو بھی سلف کے نے ان نام نہاد اجماع کے دعووں سے علیحدہ کر کے سوچئے

          عبد الوہاب النجدی کے پوتے عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن عبد الوهاب بن سليمان التميمي (المتوفى: 1285هـ) کتاب المطلب الحميد في بيان مقاصد التوحيد میں لکھتے ہیں

          ومن قال: أن الميت يسمع ويستجيب فقد كذب على الله وكذب بالصدق إذ جاءه

          جس نے کہا کہ میت سنتی ہے اور جواب دیتی ہے اس نے بے شک الله پر جھوٹ باندھا اور اس سچ کا انکار کیا جو اس تک آیا

          یعنی جب تک آزادانہ تحقیق ہوئی یہی نتیجہ نکلا کہ مردہ نہیں سنتا لیکن جیسے ہی لوگوں کے نام اس بحث میں اتے ہیں عقیدت کے جوش میں آیات کو چھپا دیا گیا اور تاویل کی گئی

          • jawad says:

            جی صحیح فرمایا آپ نے

            نیز یہ بھی ہے کہ دوسری و تیسری صدی ہجری سے تا حال محدثین و علماء روایات و واقعیات کو جمع کرنے اور ان کو پرکھنے اور ان روایات سی متعلق ایک دوسرے کی تنقید وتنقیص اور تقلید میں اتنے منہمک ہو گئے کہ عقائد سے متعلق قرآن کے واضح فرامین پر کوئی توجہ نہ د سکے- اور یہی امّت میں گمراہی کی اصل وجہ بنی – آج اگر کوئی کہتا ہے کہ صاحب قبر نہ سن سکتا ہے نہ زندہ کو پہچان سکتا ہے نہ امّت کے اعمال انبیاء پر پیش ہوتے ہیں – نہ وہ درود سنتے ہیں نہ اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں وغیرہ – تو یہ امّت روایتوں کی تحقیق میں اپنا وقت صرف کرنا شرع کردیتی ہے – کہ فلاں راوی ثقہ ہے, فلاں پر تدلیس کا الزام ہے فلاں کا دوسرے سے سماع ثابت ہے وغیرہ – جب کہ اگر قرآن میں تھوڑا بہت غور و فکر کرلیا جائے تو بات بڑی واضح ہو جاتی ہے کہ یہ تمام عقائد گمراہ کن ہیں- صحابہ کرام رضوان الله اجمین کو نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی وفات کے بعد جن عقائد میں ابہام ہوتا- وہ اس سے متعلق نبی کے فرمان کو قرآن کی نص پر پرکھتے تھے- نہ کہ ان بحثوں میں پڑتے تھے کہ فلاں راوی ثقہ ہے یا غیر ثقہ- اور اسی وجہ سے وہ گمراہی سے بچے رہے

          • Islamic-Belief says:

            وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ
            الله اپنے کلمات کو حق کرے گا

            اس وقت نہ راوی کی ثقاہت چلے گی نہ کوئی تدلیس کا پوچھے گا – اصل عقیدہ تو قرآن سے ہی لیا گیا ہے

            عمر رضی الله عنہ نے ایک ثقہ صحابیہ فاطمہ بیت المنذر رضی الله عنہا کے لئے کہا ہم ایک عورت کے کہنے پر قرآن کو نہیں چھوڑ سکتے
            عائشہ رضی الله عنہا نے ایک ثقہ صحابی ابن عمر رضی الله عنہ کے لئے کہا ان کو قلیب بدر میں کلام نبوی سمجھ نہیں آیا اسی طرح میت کو رونے والے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے کی بھی انہوں نے قرآن سے وضاحت کی

            یہ اکابر صحابہ و صحابیات کو عمل تھا جو ہماری رہمنائی کرتا ہے

  5. jawad says:

    جزاک الله

    بلک صحیح فرمایا آپ نے – صحابہ کرام کے دور میں ثقہ راویوں کی کمی نہیں تھی- لیکن پھر بھی قرآن کو فوقیت دیتے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *