وفات النبی پر کتاب

قرآن ایک مسلمان کے لئے عقائد کی اساس ہے – کتاب الله  میں وہ تمام عقائد موجود ہیں جو اخروی فلاح کے لئے ضروری ہیں-  الله تعالی نے خبر دی ہے کہ صرف اس   كي  ذات ابدی ہے ،   جو الاول ہے اور الحیی القیوم   ہے –  انبیاء  علیہم السلام اس دنیا میں پیدا ہوئے ان کو الله نے اپنی دعوت کے لئے منتخب کیا    اور جب وہ اس    كام کو پورا کر گئے تو وہ بھی  موت سے ہمکنار ہوئے –

یہ کتاب مختلف  مباحث  پر مشتمل ہے چونکہ تمام کا تعلق حیات الانبیاء فی القبر سے ہے اس لئے اس کتاب کا نام وفات النبی رکھا گیا ہے جس میں مرض وفات کے  واقعات کا بھی    تذکرہ ہے اور تدفین نبوی صلی الله علیہ وسلم کا

اللہ ہم کو حق کی طرف ہدایت دے بے شک انسان کو اندھیرے سے اجالنے میں لانا صرف اسی کے بس میں ہے

===========

الله  کا فیصلہ ہے کہ کل من علیھا فان    کہ ہر  کوئی فنا کے گھاٹ اترے گا چاہے نبی ہو ولی ہو  کافر ہو یا فاسق – اس قاعدہ سے کسی کو مفر نہیں-  موت کے عمل سے گزرنا شدنی ہے – رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کو صلح حدیبیہ کے بعد بشارت دی گئی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے  تمام  گناہ بخش دیے گئے ہیں اور الله اپنی نعمت  اپ پر  تمام کرے گا – سن ١٠ ہجری میں حجه الوداع کے موقعہ پر آیت نازل ہوئی کہ آج کے دن  دین مکمل ہوا – اور اسلام عرب کے کونے کونے تک پہنچ گیا اور وہ  وعدہ الہی بھی پورا ہوا  کہ  دین اسلام  تمام ادیان پر غالب آ جائے گا- ساتھ ہی لوگ جوق در جوق اسلام کو اپنانے لگے  – ا س طرح  رسول الله صلی الله علیہ وسلم    کا مقصد تبلیغ پورا ہوا     اور ایک روز وہ وقت آ ہی گیا کہ اپ صلی الله علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا :

الله نے اپنے ایک بندے کو اختیار دے دیا ہے کہ دینا کو لے یا آخرت کو

یہ وہ وقت تھا کہ   ابو بکر رضی الله عنہ یہ سن کر رو دے  لیکن باقی اصحاب رسول اس بات کی سنجیدگی کو سمجھ نہ سکے –    نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس طرح خبر دی کہ ان کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے-

آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہی ایام میں اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے  اطمینان کا اظہار کیا کہ

وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ مَا اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِی

الله کی قسم! مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کرو گے

بخاری میں سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے مروی حدیث ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو  خواب میں ان کا جنت میں مقام دکھایا گیا-  حدیث میں الفاظ ہیں

  اور یہ گھر جس میں آپ اب کھڑے ہیں ‘ یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھ میکائیکل ہیں۔ اچھا اب اپنا سر اٹھاؤ میں نے جو سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی طرح کوئی چیز ہے۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ کا مکان ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی اگر آپ وہ پوری کر لیتے تو اپنے مکان میں آ جاتے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کی طبعیت نا ساز ہونا شروع ہوئی جس کو مرض وفات کہا جاتا ہے – اب ہم اس نے چیدہ   چیدہ واقعات دیکھتے ہیں

فہرست

مبحث الاول :  واقعات و کلام

مرض وفات  النبی

واقعہ قرطاس

دوا  پلانے والا واقعہ

رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منسوب وصیتیں

وفات اور آخری کلام

مبحث الثانی: 

ابوبکر رضی الله عنہ کی تقریر اور اجماع صحابہ

نماز جنازہ؟

تدفین اور چادر کا ڈالا جانا

مبحث الثالث: حیات الانبیاء  فی القبر کا مسئلہ

رسول الله  صلی الله علیہ وسلم    کی روح کا قبر میں واپس آنا یا   حیات النبی فی القبر کا  عقیدہ

رسول الله  صلی الله علیہ وسلم      پر امت کا عمل پیش ہونے کا عقیدہ

انبیاء کے اجسام کا باقی رہنے کا عقیدہ

موسی علیہ السلام  کے لئے قبر میں نماز پڑھتے رہنے کا عقیدہ

تمام  انبیاء علیھما  السلام  کا اپنی  قبروں  میں نماز پڑھنا

رسول الله صلی الله علیہ وسلم  پر ازواج مطہرات پیش ہونے کا عقیدہ

علماء کا رسول الله صلی الله علیہ وسلم   کے جسد مطہر کا عرش عظیم سے   تقابل کرنا

مبحث الرابع: قبر نبوی پر تعمیرات کا شرعی پہلو

اے الله میری قبر کو بت نہ   بننے  دیجئے گا

 گنبد کی تعمیر اور اس کا مقصد اور اس پر اختلاف امت

حجرہ عائشہ( رضی الله عنہا ) کو مزار کہنے کا رواج

ڈونلوڈ کریں

وفات النبی

 

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

2 Responses to وفات النبی پر کتاب

  1. وجاہت says:

    وفات نبی صلی الله وسلم پر ایک کتاب یہ بھی ہے امام نسائی کی یہ کیسی ہے

    لنک

    http://www.mediafire.com/file/ahg9dfad43rk5o2/wafat+un+Nabi.pdf

    • Islamic-Belief says:

      امام نسائی کی کتاب میں تو صرف احادیث ہیں جو معروف ہیں ان پر کوئی تبصرہ نہیں ہے البتہ اس سے منسلک اہل حدیث عالم کی تحریر سے کافی اختلاف ہے جو فلسفیانہ باتیں اس میں لکھی ہیں ان کو قبول نہیں کیا جا سکتا کہ قبر کی حیات ایک ایسی حیات ہے جو دنیا سے الگ ہے وغیرہ وغیرہ
      راقم کہتا ہے شریعت کے احکام زندہ کے لئے ہیں مردہ کے لئے نہیں کہ مردے قبر میں نماز پڑھیں وغیرہ
      جب انسان مر گیا اس کا عمل منقطع ہوا یہ حدیث نبوی ہے

      کتاب واپس داؤن لوڈ کریں اس میں اضافہ ہوا ہے اور اس غلام مصطفی کی تحریر کو بھی پیش کیا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *