نور محمدی کا ذکر

محدثین اور صوفیاء کی کتب میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جس کا متن ہے

 يا جابر إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره ، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى ، ولم يكن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولا سماء ولا أرض ولا شمس ولا قمر ولا جني ولا إنسي ، فلما أراد الله تعالى أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول القلم ، ومن الثاني اللوح ، ومن الثالث العرش ، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول حملة العرش ومن الثاني الكرسي ومن الثالث باقي الملائكة ، ثم قسم الجزء الرابع إلى أربعة أجزاء فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين ومن الثاني نور قلوبهم وهي المعرفة بالله ومن الثالث نور أنسهم وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله ثم نظر إليه فترشح النور عرقاً  فتقطرت منه مائة ألف قطرة

رسول الله نے فرمایا اے جابر الله نے اشیاء خلق کرنے سے قبل تمہارے نبی کا نور خلق کیا اور یہ الله کی قدرت سے جہاں الله چاہتا جاتا اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم نہ جنت نہ جہنم نہ فرشتے نہ آسمان نہ زمین نہ سورج نہ چاند نہ جن و انس- پس جب الله نے ارادہ کیا خلق  کرنے کا تو اس نور کے چار ٹکرے کیے- ایک جز سے قلم بنا دوسرے سے لوح،  تیسرے سے عرش،  پھر چوتھے کے بھی چار جز اور کیے ان میں سے ایک سے عرش کو اٹھانے والے، دوسرے سے کرسی ، تیسرے سے باقی فرشتے –  پھر چوتھے کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے سے  مومنوں کی آنکھوں کا نور بنا،  دوسرے سے دلوں کا نور جو الله کی   معرفت ہے ،  تیسرے سے ان کے نفسوں کا نور جو توحید ہے لا إله إلا الله محمد رسول الله –  پھر اس (کلمہ) پر نظر کی تو اس  نور سے پسینہ  نکلا  جس سے ایک لاکھ قطرے اور نکلے

یہ مکمل روایت نہیں ہے اس کا متن بہت طویل ہے اور  متن عجیب و غریب ہے – عرش و کرسی  موجود تک نہ تھے جب قلم بنا اور لوح بنی اور فرشتے بنے-  طاہر القادری نے اس وجہ سے اس روایت کامکمل ترجمہ تک اپنی کتاب نور محمدی میں نہیں کیا کیونکہ آگے جو پسینہ کا ذکر ہے وہ کیا ہے اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہو گا

اہل تشیع عالم  ملا باقر مجلسی نے بھی اس کو بحار الأنوار میں بیان کیا ہے – رياض الجنان از فضل الله بن محمود الفارسي میں ہے

في البحار، عن رياض الجنان لفضل الله بن محمود الفارسي: عن جابر بن عبد الله قال: قلت لرسول الله (صلى الله عليه وآله): أول شئ خلق الله تعالى ما هو ؟ فقال: نور نبيك يا جابر، خلقه ثم خلق منه كل خير

فضل الله بن محمود الفارسي نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول الله (صلى الله عليه وآله) سے پوچھا کہ کیا چیز الله تعالی نے سب سے پہلے خلق کی؟ فرمایا تیرے نبی کا نور اے جابر ! اس نور کو تخلیق کیا اور پھر اس سے ساری اشیاء کو خلق کیا

 اہل سنت میں السيوطيُّ نے الخصائص الكبرى میں  اس طرق کا ذکر کیا ہے –  القسطلاني اور ابن عربي الصوفي نے اپنی کتب میں اس طرق کا ذکر کیا ہے-  برصغیر میں  أحمد رضا بريلوي نے کہا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق کی روایت تھی –   محدثین میں  العجلوني نے كشف الخفاء  میں بھی ذکر ہے کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لکھا

أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث  رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء

الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة میں المؤلف: محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) نے ذکر کیا ہے کہ مصنف عبد الرزاق میں ایک روایت جابر رضی الله عنہ سے مروی تھی جس میں ہے کہ سب سے پہلے نور محمدی کو خلق کیا گیا

وَمِنْهَا: مَا يَذْكُرُونَهُ فِي ذِكْرِ الْمَوْلِدِ النَّبَوِيّ أَن نور مُحَمَّد خُلِقَ مِنْ نُورِ اللَّهِ بِمَعْنَى أَنَّ ذَاتَهُ الْمُقَدَّسَةَ صَارَتْ مَادَّةً لِذَاتِهِ الْمُنَوَّرَةِ وَأَنَّهُ تَعَالَى أَخَذَ قَبْضَة من نوره فخلق من نُورَهُ، وَهَذَا سَفْسَطَةٌ مِنَ الْقَوْلِ، فَإِنَّ ذَاتَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ أَنْ تَكُونَ مَادَةً لِغَيْرَةٍ وَأَخْذُ قَبْضَةٍ مِنْ نُورِهِ لَيْسَ مَعْنَاهُ أَنَّهُ قُطِعَ مِنْهُ جُزْءٌ فَجَعَلَهُ نُورَ نَبِيِّهِ فَإِنَّهُ مُسْتَلْزِمٌ لِلْتَجَزِي وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يَتْبَعَهُ فِي ذَاتِهِ تَعَالَى اللَّهُ عَنْهُ.
وَالَّذِي أَوْقَعَهُمْ فِي هَذِهِ الْوَرْطَةِ الظَّلْمَاءِ هُوَ ظَاهِرُ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فِي مُصَنَّفَةٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَخْبِرْنِي عَنْ أَوَلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللَّهُ قَبْلَ الأَشْيَاءِ، فَقَالَ: يَا جَابِرُ! إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ الأَشْيَاءِ نُورُ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ ….. وَقَدْ أخطأوا فِي فَهْمِ الْمُرَادِ النَّبَوِيِّ وَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ الإِضَافَةَ فِي قَوْلِهِ مِنْ نُورِهِ كَالإِضَافَةِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فِي قِصَّةِ خَلْقِ آدَمَ ونفخت فِيهِ من روحي وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى مِنْ قِصَّةِ سَيِّدِنَا عِيسَى وَرَوْحٌ مِنْهُ، وَكَقَوْلِهِمْ بَيْتُ اللَّهِ الْكَعْبَةُ وَالْمَسَاجِدُ وَقَوْلِهِمْ رَوْحُ اللَّهِ لِعِيسَى وَغَيْرِ ذَلِكَ.

اور ان میں ہیں جو ولادت نبوی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ نور محمدی کو نور رب تعالی سے خلق کیا گیا ان معنی میں کہ ذات مقدس سے نور نکلا …رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے نور میں سے کچھ نور نکال کر اسے اپنے نبی کا نور بنایا، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے کوئی جزء کاٹ کر علیحدہ کیا اور اس سے اپنے نبی کا نور بنایا، ورنہ اس سے تو اللہ تعالیٰ کا اجزاء میں جانا لازم ہو گا۔۔۔جن قصاص و مذکرین نے عبدالرزاق کی اس روایت کے ظاہر کو اپنایا ہے وہ ورطہ ظلمات کا شکار ہوئے ہیں (پھر حدیث نقل کرتے ہیں) …. ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سمجھنے میں خطا کی ہے۔ وہ لوگ نہیں جانتے کہ اس حدیث میں  (من نوره)  سے اضافت مراد ہے۔ بالکل اس اضافت کی طرح جیسی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور اس میں اپنی روح پھونکنے کے قصہ میں بیان کی ہے، یا جیسے اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسی علیہ السلام کے قصہ میں  (روح منه)  کہا۔ یا کعبہ و مساجد کو بیت اللہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کو (روح الله)  وغیرہ کہا۔
 

حال ہی میں ایک نئی تحقیق بریلووی علماء کی طرف سے کی گی ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ نور محمدی والی روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لیکن طباعت کے دوران یہ جزمفقود ہو گیا  تھا اس کی وجہ سے یہ روایات مطبوعہ نسخے میں سے غائب ہو گئی
https://archive.org/details/MusanafAbdulRazzaqByAbuBakrAbdulRazzaqBinHammam
یہ جز اب پاکستان سے چھپا ہے

اس روایت کی سند اس کتاب کے ص ٦٢ پر ہے  عبد الرزاق عن معمر عن ابن المنکدر عن جابر

یہ سند بظاہر صحیح ہے- البتہ راقم  کے نزدیک یہ روایت  عبد الرزاق کے دور اختلاط کی معلوم ہوتی ہے

قابل غور ہے کہ القسطلاني شارح صحيح البخاري نے المواهب اللدنية میں اس روایت کا ذکر کیا ہے ، أبن عربي الصوفي نے تلقيح الأذهان ومفتاح معرفة الإنسان میں اس کا ذکر کیا ہے – محدثین میں إسماعيل العجلوني نے كشف الخفا اور الأربعين میں إس روایت  كا ذكر كيا ہے – حسين بن محمد بن الحسن الديار بكري نے تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس میں اس کا ذکر کیا ہے – أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري، شهاب الدين شيخ الإسلام، أبو العباس (المتوفى: 974هـ) نے فتوی میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں تھی-   محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ)   نے بھی اس کو مصنف عبد الرزاق کی روایت قرار دیا ہے – اس روایت کے مصدر کو بیان کرنے  میں احمد رضا بریلوی  یا ابن عربی یا سیوطی کا تفرد نہیں ہے – اس کو غیر صوفی عجلونی نے بھی ذکر کیا ہے – اب کیا یہ ممکن ہے کہ یہ روایت موجود نہ ہو لیکن اس کا ذکر کیا جاتا ہو وہ بھی متن کے ساتھ ! اگر یہ روایت مصنف عبد الرزاق کی نہیں تھی تو پھر کہاں سے آئی؟ اس کا جواب کون دے گا – کیا ان لوگوں نے اس کو گھڑا ؟ کسی نے اس بنا پر  القسطلاني اور العجلوني کو کذاب قرار نہیں   دیا ہے

نوٹ: احناف بھی اس روایت کو رد کرتے ہیں
إرشاد العاثر لوضع حديث أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر از حسن السقاف
مرشد الحائر لبيان وضع حديث جابر از عبد الله بن الصديق الغماري

سیوطی نے اس روایت کا دفاع نہیں کیا ہے بلکہ ان سے سوال ہوا اس روایت پر
وَهَلِ الْوَارِدُ فِي الْحَدِيثِ: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ نُورَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ
تو کہا
وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ فِي السُّؤَالِ لَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ،
یہ مذکورہ حدیث جس پر سوال ہے اس کی اسناد پر اعتماد نہیں ہے
الحاوي للفتاوي

دور جدید میں لوگ اس جز مفقود کو غیر ثابت کہہ رہے ہیں- لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ اینے سارے لوگ جن میں بعض خود علم حدیث کے جاننے والے ہیں وہ اس روایت کا ذکر مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے کر گئے ہیں – بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ “ممکن” ہے ان سب لوگوں نے حوالے کو مواھب الدنیہ از قسطلانی سے نقل کیا ہو یعنی ان سب نے تحقیق نہیں کی بلکہ مکھی پر مکھی ماری اور مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیتے رہے – یہ قول وہابیوں میں مشہور ہے اس روایت کے جواب کے طور پر
سليمان بن سحمان النجدي (المتوفى: 1349هـ) نے کتاب الصواعق المرسلة الشهابية على الشبه الداحضة الشامية میں لکھا
هذا حديث موضوع مكذوب على رسول الله صلى الله عليه وسلم مخالف لصريح الكتاب والسنة، وهذا الحديث لا يوجد في شيء من الكتب المعتمدة
یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے رسول الله پر جھوٹ ہے کتاب و سنت کی مخالف ہے اور کتب معتمد میں نہیں ہے

یعنی ٧٨ سال پہلے اس کو گھڑی ہوئی کہا جاتا تھا – اس وقت کسی نے اس مصنف عبد الرزاق جز مفقود کا ذکر نہیں کیا کہ اس کی سند ثابت نہیں ہے

راقم کا  نقطہ نظر ہے کہ ممکن ہے کہ  یہ روایت عبد الرزاق نے روایت کی لیکن یہ ان کے دور اختلاط کی ہے

تقریب التہذیب از ابن حجر میں ہے

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير عمي في آخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعة مات سنة إحدى عشرة وله خمس وثمانون

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري .. ثقہ حافظ تھے مصنف   ہیں … آخری عمر میں تغیر کا شکار تھے اور ان میں تشیع تھی

محدث  ابن صلاح کا قول ہے عبد الرزاق ابن همام  مختلط تھے – اس پر  حافظ عراقی نے لکھا ہے
لم يذكر المصنف أحدا ممن سمع من عبد الرزاق بعد تغيره إلا إسحق بن إبراهيم الدبرى فقط وممن سمع منه بعد ما عمى أحمد بن محمد بن شبوية قاله أحمد بن حنبل وسمع منه أيضا بعد التغير محمد بن حماد الطهرانى والظاهر أن الذين سمع منهم الطبرانى فى رحلته إلى صنعاء من أصحاب عبد الرزاق كلهم سمع منه بعد التغير وهم أربعة أحدهم الدبرى الذى ذكره المصنف وكان سماعه من عبد الرزاق سنة عشر ومائتين

مصنف ( ابن الصلاح) نے ذکر نہیں کیا کہ عبد الرزاق سے کس نے تغیر کے بعد سنا صرف اسحاق بن ابراہیم کے اور جس نے سنا ان کے نابینا ہونے کے بعد ان میں ہیں احمد بن محمد یہ امام احمد نے کہا اور ان سے اس حالت میں سنا محمد بن حماد نے اور ان سے سنا طبرانی نے جب صنعاء کا سفر کیا – ان سب نے بعد میں سنا اور یہ چار ہوئے جن میں الدبری ایک ہیں ان سب نے ١٢٠  ھ میں سنا

  عالم اختلاط میں   عبد الرزاق  نے معمر عن ابن المنکدر کی سند سے بھی روایات بیان کی ہیں اور غیر عالم اختلاط میں بھی کی ہیں   مثلا

شعب الإيمان از بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: نَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ” ثَلَاثَةٌ هُنَّ فَوَاقِدُ: جَارُ سَوْءٍ فِي دَارِ مَقَامِهِ، وَزَوْجَةُ سَوْءٍ إِنْ دَخَلْتَ عَلَيْهَا آذَتْكَ، وَإِنْ غِبْتَ عَنْهَا لَمْ تَأْمَنْهَا، وَسُلْطَانٌ إِنْ أَحْسَنْتَ لَمْ يَقْبَلْ مِنْكَ وَإِنْ أَسَأْتَ لَمْ يُقِلْكَ “

سنن الکبری بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ , ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ” إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ , فَلْيَقُمْ؛ فَإِنَّهُ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ “

سوالات ابن هاني؛ 228/5 کے مطابق احمد نے  عبد الرزاق کے حوالے سے کہا
لا يعبأ بحديث من سمع منه وقد ذهب بصره، كان يلقن أحاديث باطلة
جس نے عبد الرزاق  کے نابینا ہونے کے بعد اس سے احادیث سنی ہیں، ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وہ باطل حدیثوں کی تلقین قبول کر لیتے  تھے۔

نور محمد کا عقیدہ اہل تشیع کا عقیدہ ہے –  اور  عبد الرزاق کو شیعہ بھی کہا گیا ہے

تقریب التہذیب از ابن حجر میں یہ الفاظ ہیں

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير عمي في آخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعة مات سنة إحدى عشرة وله خمس وثمانون

اس میں عبد الرزاق کو شیعہ لکھا گیا ہے

قال الذهبي: عبد الرزاق بن همام ابن نافع، الحافظ الكبير، عالم اليمن، أبو بكر الحميري الصنعاني الثقة الشيعي
امام الذھبی نے ان کو شیعی کہا ہے

رجال الطوسي جو شیعوں کی کتاب ہے اس میں عبد الرزاق کا شمار شیعوں میں کیا گیا ہے
اور امام جعفر کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے

کتاب نقد الرجال از السيد مصطفى بن الحسين الحسيني التفرشي کے مطابق
عبد الرزاق بن همام اليماني: من أصحاب الباقر والصادق عليهما السلام، رجال الشيخ

امام احمد نے کہا
العلل ومعرفة الرجال: 2 / 59 الرقم 1545
قال عبد الله بن أحمد بن حنبل: سألت أبي، قلت له: عبد الرزاق كان يتشيع ويفرط في التشيع ؟ فقال: أما أنا فلم أسمع منه في هذا شيئا، ولكن كان رجلا تعجبه أخبار الناس – أو الأخبار
عبد الله نے احمد سے سوال کیا : کیا شیعہ تھے اور مفرط تھے ؟ احمد نے کہا جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے ان سے ایسا کچھ نہیں سنا لیکن یہ ایک آدمی تھے جن کی خبروں پر لوگوں کو تعجب ہوتا

ابن عدی نے کہا
وقد روى أحاديث في الفضائل مما لا يوافقه عليها أحد من الثقات
یہ فضائل علی میں وہ روایت کرتے جن کی ثقات موافقت نہیں کرتے

یعنی اہل تشیع کے پاس یہ شیعہ تھے اور امام جعفر سے اور امام صادق سے روایت کرتے تھے

 جامع الترمذي ،  أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (بَابٌ فِي فَضْلِ النَّبِيِّ ﷺ​) جامع ترمذی: كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں  باب: نبی صلی الله علیہ وسلم  کی فضیلت کا بیان حدیث ٣٦٠٩ ہے​

حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ قَالَ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَفِي الْبَاب عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ
 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا:’ جب آدم روح اورجسم کے درمیان تھے

 امام ترمذی کہتے ہیں:   ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں  اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔

  مسند احمد میں بھی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: ” وآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ
عبد الله بن أبي الجذعاء مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ رضی الله عنہ  نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا اپ کب نبی ہوئے؟ فرمایا جب آدم جسد و روح کے درمیان تھے

اس کو شعیب نے صحیح کہا ہے- یہ روایت قابل غور ہے اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ آدم علیہ السلام اس وقت نبی نہیں تھے کیونکہ تخیلق سے پہلے تقدیر لکھی گئی اس میں تمام انبیاء جو صلب آدم سے ہیں ان کو نبی مقرر کیا گیا ان کی ارواح کو خلق کیا گیا اور آدم جب جسد و روح کے درمیان تھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مقدر لکھا گیا کہ یہ آخری نبی ہوں گے

طحاوی مشکل الاثار میں کہتے ہیں
وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” كُنْتُ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ “، فَإِنَّهُ، وَإِنْ كَانَ حِينَئِذٍ نَبِيًّا، فَقَدْ كَانَ اللهُ تَعَالَى كَتَبَهُ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ نَبِيًّا
اس حدیث میں ہے کہ وہ اس وقت نبی تھے   پس الله نے ان کا نبی ہونا لوح محفوط میں لکھا- یعنی بنی آدم کی تقدیر لکھی گئی جب آدم علیہ السلام  جسد اور روح کے درمیان کی حالت میں تھے

 مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنِّي عَبْدُ اللهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمُنْجَدِلٌ   فِي طِينَتِهِ

عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رضی الله عنہ نے کہا کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : میں الله کا غلام  ، نبیوں پر مہر ہوا اور ہے شک آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں تھے

اس کی سند میں سعيد ابن سويد الكلبي ہے اور امام بخاري کہتے ہیں : لم يصح حديثه اس کی حدیث صحیح نہیں

اور ابن حجر نے کتاب تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة میں اس کا ذکر کیا

قال البُخَارِيّ لم يَصح حَدِيثه يَعْنِي الَّذِي رَوَاهُ مُعَاوِيَة عَنهُ مَرْفُوعا إِنِّي عبد الله وَخَاتم النَّبِيين فِي أم الْكتاب وآدَم منجدل فِي طينته

امام بخاري کہتے ہیں اس کی حدیث صحیح نہیں یعنی حدیث جو مُعَاوِيَةُ بْنَ صَالِحٍ  نے سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ سے  موفوع روایت کیا ہے کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : میں الله کا غلام  ، نبیوں پر مہر ہوا اور ہے شک آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں تھے

کتاب الموضوعات  از ابن جوزی میں ہے

وَقد رَوَى جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَيَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِيهِ سُفْيَانَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْد عَن الْوَلِيد بن عبد الرحمن عَنْ نُمَيْرٍ الْحَضَرِيِّ عَنْ أَبِي ذَر قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” خُلِقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ مِنْ نُورٍ وَكُنَّا عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ اللَّهُ آدَمَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ثُمَّ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ فَانْقَلَبْنَا فِي أقلاب الرِّجَالِ ثُمَّ جَلَلْنَا فِي صُلْبِ عبد المطلب، ثُمَّ شَقَّ اسْمَانَا مِنِ اسْمِهِ فَاللَّهُ مَحْمُودٌ وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَاللَّهُ الاعلى وعَلى عليا “.

هَذَا وَضعه جَعْفَر بن أَحْمَدَ وَكَانَ رَافِضِيًّا يضع الحَدِيث.

أَبِي ذَر نے کہا رسول الله نے فرمایا میں اور علی کو نور سے خلق کیا گیا اور ہم تخلیق آدم سے ہزار سال پہلے سے  عرش کے دائیں طرف  تھے  پھر الله تعالی نے آدم کو خلق کیا پھر ہم کو رجال کے دلوں میں سے گزارا پھر صلب عبد المطلب میں رکھا پھر ہمارے ناموں کو الله کے نام کے ساتھ شق کیا گیا کہ میں محمد ہوں  اور الله محمود ہے اور الله الاعلى ہے اور علی علیا ہے

ابن جوزی نے کہا اس کو رافضی جَعْفَر بن أَحْمَدَ (بن علي بن بيان المتوفی ٣٠٤ ھ )  نے گھڑا ہے

فضائل الصحابة از أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) کی روایت ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ قثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ قثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنَّا أَنَا وَعَلِيٌّ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ عَامٍ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ قَسَمَ ذَلِكَ النُّورَ جُزْءَيْنِ، فَجُزْءٌ أَنَا، وَجُزْءٌ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
سلمان نے روایت کیا کہ میں نے اپنے حبیب رسول الله سے سنا کہ میں اور علی الله تعالی کے سآمنے ١٤٠٠٠ سال تک ایک نور کی طرح تھے قبل اس کے کہ آدم خلق ہوتے پس جب الله نے آدم کو خلق کیا اس نور کو تقسیم کیا ایک جز سے میں بنا ایک سے علی

اس کی سند میں الحسن بن على ہے- تاریخ دمشق میں اس کی سند ہے
أخيرنا أبو غالب بن البنا أنا أبو محمد الجوهري أنا أبو علي محمد بن أحمد بن يحيى العطشي نا أبو سعيد العدوي الحسن بن علي أنا أحمد بن المقدام العجلي أبو الأشعث (2) أنا الفضيل بن عياض عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبي رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول كنت أنا وعلي نورا بين يدي الله مطيعا يسبح الله ذلك النور ويقدسه قبل أن يخلق ادم بأربعة عشر ألف عام فلما خلق الله ادم ركز ذلك النور في صلبه فلم نزل (3) في شئ واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب فجزء أنا وجزء علي

اس سند سے معلوم ہوتا ہے کہ سند میں أبو سعيد العدوي الحسن بن علي ہے جو اصل میں
أبو سعيد العدوي الحسن بن على بن زكريا بن صالح ، اللؤلؤى، البَصْري، الذئب ہے اور متروک ہے – یہ روایت أبو بكر بن مالك القطيعي کا اضافہ ہے کیونکہ أبو سعيد العدوي الحسن بن على کی پیدائش ٢١٠ ہجری کی ہے اور امام احمد کی وفات  کے وقت یہ بچہ ہو گا

شیعوں کی کتاب الخصال از صدوق أبى جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمى
المتوفى 381 ھ ، منشورات  جماعة المدرسين في الحوزة العلمية قم المقدسة میں روایت ہے

روى الصدوق في الخصال: 481 ـ 482؛ وفي معاني الأخبار: 306 ـ 308، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الرحمن بن عبد الله بن الحسين بن إبراهيم
ابن يحيى بن عجلان المروزي المقرئ قال : حدثنا أبوبكر محمد بن إبراهيم الجرجاني
قال : حدثنا أبوبكر عبد الصمد بن يحيى الواسطي قال : حدثنا الحسن بن علي المدني، عن عبد الله بن المبارك، عن سفيان الثوري، عن جعفر بن محمد الصادق، عن أبيه، عن جدّه، عن عليّ بن أبي طالب(عم) قال: «إنّ الله تبارك وتعالى خلق نور محمد(ص) قبل أن خلق السماوات والأرض والعرش والكرسيّ واللوح والقلم والجنّة والنار، وقبل أن خلق آدم ونوحاً…، ثمّ أظهر عزَّ وجلَّ اسمَه على اللوح، وكان على اللوح منوِّراً أربعة آلاف سنة، ثم أظهره على العرش، فكان على ساق العرش مثبَتاً سبعة آلاف سنة، إلى أن وضعه اللهُ عزَّ وجلَّ في صلب آدم…».

اس کتاب کے محقق على اكبر الغفارى کا کہنا ہے کہ سند میں مجہولین ہیں

 على بن الحسن بن شقيق أبو عبد الرحمن المروزى ، وجميع رجال السند إلى هنا مجهول ولم أظفر بهم

بھر حال شیعہ آجکل اس کا رد کر رہے ہیں کہ نور محمد کو سب سے پہلے خلق کیا گیا

قراءةٌ في العدد المزدوج (40ـ41) من مجلة الاجتهاد والتجديد

This entry was posted in Aqaid, innovations, Mysticism. Bookmark the permalink.

26 Responses to نور محمدی کا ذکر

  1. Aysha butt says:

    Ap ne kha k sanad e badith theak hai.. Lekin kesy… Iski sari sanad aan hun se pur hai or muhadiseen ka usool hai k gair shahein wali riwayt jis mn aan hum ho wo sama ki tasreh k baghair zaef hoti hai

    Dosri trf jis nushke ka dawa breli krty hai

    wo to musanf abudul razzaq se sabit nai..
    Tohed.com mn iski mukammal tehkeek hai dekh lein mujh se yhn link copy nahi ho raha
    http://www.tohed.com/تخلیق-نور-محمدی-ﷺ-پر-حدیث-جابر-کے-نام-س

    • Islamic-Belief says:

      اپ نے کہا غیر صحیح کی حدیث جس میں عن ہو سماع نہ ہو وہ ضعیف ہوتی ہے

      جواب
      یہ کوئی اصول نہیں ہے – یہ متاخرین اہل حدیث کا قول ہے – علم حدیث میں یہ کوئی اصول نہیں -عن سے روایت صحیحین کی بھی ضعیف ہو سکتی ہے
      لیکن جب اس میں مدلس ہو اس نور محمدی کی روایت کی سند میں مدلس کون ہے ؟
      —–

      اپ نے جس ویب سائٹ کا ذکر کیا میں نے وہ سب دیکھ لیا تھا
      میرے نزدیک ان کی تحقیق ممکن ہے اس جز المفقود پر صحیح ہو لیکن اس میں موجود نور محمدی والی روایت کا ذکر بہت سے لوگ پہلے کر چکے ہیں کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں تھا

      اسی وجہ سے میں نے یہ حوالے دیے ہیں
      ——–
      اہل سنت میں السيوطيُّ نے الخصائص الكبرى میں اس طرق کا ذکر کیا ہے – القسطلاني اور ابن عربي الصوفي نے اپنی کتب میں اس طرق کا ذکر کیا ہے- برصغیر میں أحمد رضا بريلوي نے کہا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق کی روایت تھی – محدثین میں العجلوني نے كشف الخفاء میں بھی ذکر ہے کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لکھا

      أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء

      الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة میں المؤلف: محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) نے ذکر کیا ہے کہ مصنف عبد الرزاق میں ایک روایت جابر رضی الله عنہ سے مروی تھی جس میں ہے کہ سب سے پہلے نور محمدی کو خلق کیا گیا
      ——

      یہ سب پرانے لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ مصنف عبد الرزاق میں یہ روایت موجود تھی – لیکن موجود طبع میں یہ روایت نہیں ملتی – اس کا مطلب ہے کہ کسی دور میں اس روایت کو غلط سمجھتے ہوئے اس میں سے نکال دیا گیا یا جس نسخنے کو شائع کیا گیا وہی ناقص تھا

      • Aysha butt says:

        Ajulani ne is ko radd kiya hai kis bunyad pr ap k mutabiq to sanad theak hai.. Unka radd naql kr dei

        • Islamic-Belief says:

          عجلونی نے اس کا ذکر کیا کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں ہے – لیکن تصحیح کر لیں: عجلونی نے اس کو رد نہیں کیا بلکہ اس کی تاویل کی اور مواھب کے شارح علي بن علي الشبراملسي کا قول نقل کیا کہ الله نور نہیں لہذا اس روایت میں جو بیان ہوا اس میں نور کی اضافت ہے – نور جسم کے لئے ہے وغیرہ

          كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس از إسماعيل بن محمد العجلوني الجراحي (المتوفى: 1162هـ) میں ہے

          (أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث) رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء.
          قال: يا جابر، أن الله تعالى خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقُدرة حيث شاء الله، ولم يكن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولا سماء ولا أرض ولا شمس ولا قمر ولا جِنِّيٌ ولا إنسي، فلما أراد الله أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم ومن الثاني اللوح ومن الثالث العرش، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول حَمَلَة العرش ومن الثاني الكرسي ومن الثالث باقي الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول السماوات ومن الثاني الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين ومن الثاني نور قلوبهم وهى المعرفة بالله ومن الثالث نور إنسهم وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله – الحديث، كذا في المواهب، …. تنبيه: قال الشبراملسي ليس المراد بقوله من نوره ظاهره من أن الله تعالى له نور قائم بذاته لاستحالته عليه لأن النور لا يقوم إلا بالأجسام، بل المراد خلق من نور مخلوق له قبل نور محمد وأضافه إليه تعالى لكونه تولى خلقه، ثم قال ويحتمل أن الإضافة بيانية، أي خلق نور نبيه من نور هو ذاته تعالى لكن لا بمعنى أنها مادة خلق نور نبيه منها بل بمعنى أنه تعالى تعلقت إرادته بإيجاد نور بلا توسط شئ في وجوده، قال وهذا أولى الأجوبة نظير ما ذكره البيضاوي في قوله تعالى … (ثم سواه ونفخ فيه من روحه) … حيث قال أضافه إلى نفسه تشريفا وإشعارا بأنه خلقٌ عجيب وأن له مناسبة إلى حضرة الربوبية انتهى ملخصا.

    • Aysha butt says:

      Ap ne hi ik bar kha tha k jab koi ravi aan se riwayt krta hai to mUtlb wo kisi ka name chuba rha hota hai jo k tadless kehlati hai
      Toh is riwayt k sary ravi aan se riwayt kr rahy hai
      Iska kya mutlb hsi
      Dosri trf jo khty hai yeh riwayt us juz ul.mafqid ki hai kha yeh jata hai k yeh nushka musanaf abdul razzaq ka hissa tha . Actual abdul razzaq mn yeh hadith phle number pr thi… Jab us website k tehkik k mutabik yeh nushkha . Bht bad mn likha gya or likhne wale ne apne se le kr us shaks tak sanad hi nai di jis sr us ne lia..
      Ap ka ik blockhai muddhisor sufi ka ittehad..kis trh 2no chezian mix hui.. Toh suyyuti sahib to kudd 800 saal bad ae or unhin ne ye sanad likhi or ibne arbi b sufi the raza khan brelvi b sufi party se the.. Toh jo sanad juz ul.mufkood ki haibwohi inhon ne naql ki or kga k razzaq se hai… Toh inki bbat ka itbar kesa

      • Islamic-Belief says:

        راوی اگر مدلس معلوم ہو تو یہ حکم لگتا ہے ہر راوی پر نہیں کہ اس کی عن سے روایت پر تحقیق کی جاتی ہے کہ سماع ہوا ہے یا نہیں

        —–
        suyyuti sahib to kudd 800 saal bad ae or unhin ne ye sanad likhi or ibne arbi b sufi the raza khan brelvi b sufi party se the.. Toh jo sanad juz ul.mufkood ki haibwohi inhon ne naql ki or kga k razzaq se hai… Toh inki bbat ka itbar kesa
        جواب

        القسطلاني شارح صحيح البخاري نے المواهب اللدنية میں ذکر کیا ہے ، أبن عربي الصوفي نے تلقيح الأذهان ومفتاح معرفة الإنسان میں اس کا ذکر کیا ہے – محدثین میں إسماعيل العجلوني نے كشف الخفا اور الأربعين میں إس كا ذكر كيا ہے – اب کیا یہ ممکن ہے کہ یہ روایت موجود نہ ہو لیکن اس کا ذکر کیا جاتا ہو وہ بھی متن کے ساتھ ! اگر یہ روایت مصنف عبد الرزاق کی نہیں تھی تو پھر کہاں سے آئی؟ اس کا جواب کون دے گا – کیا ان لوگوں نے اس کو گھڑا ؟ کسی نے ابن عربی، القسطلاني اور العجلوني کو کذاب نہیں قرار دیا ہے
        محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) کا شمار برصغیر کے سنجیدہ احناف میں ہوتا ہے -انہوں نے بھی اس کو مصنف عبد الرزاق کی روایت قرار دیا ہے – اس میں احمد رضا یا ابن عربی یا سیوطی کا تفرد نہیں ہے – اس کو غیر صوفی عجلونی نے بھی ذکر کیا ہے- حسين بن محمد بن الحسن الديار بكري نے تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس میں اس کا ذکر کیا ہے – أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري، شهاب الدين شيخ الإسلام، أبو العباس (المتوفى: 974هـ) نے فتوی میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں تھی

        نوٹ: احناف بھی اس روایت کو رد کرتے ہیں
        إرشاد العاثر لوضع حديث أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر از حسن السقاف
        مرشد الحائر لبيان وضع حديث جابر از عبد الله بن الصديق الغماري
        ——
        سیوطی نے اس کا دفاع نہیں کیا ہے بلکہ ان سے سوال ہوا اس روایت پر
        وَهَلِ الْوَارِدُ فِي الْحَدِيثِ: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ نُورَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ
        تو کہا
        وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ فِي السُّؤَالِ لَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ،
        یہ مذکورہ حدیث جس پر سوال ہے اس کی اسناد پر اعتماد نہیں ہے
        الحاوي للفتاوي
        ——
        دور جدید میں لوگ اس جز مفقود کو غیر ثابت کہہ رہے ہیں- لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ اینے سارے لوگ جن میں بعض خود علم حدیث کے جاننے والے ہیں وہ اس روایت کا ذکر مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے کر گئے ہیں

        بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ “ممکن” ہے ان سب لوگوں نے حوالے کو مواھب الدنیہ از قسطلانی سے نقل کیا ہو یعنی ان سب نے تحقیق نہیں کی بلکہ مکھی پر مکھی ماری اور مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیتے رہے – یہ قول وہابیوں میں مشہور ہے اس روایت کے جواب کے طور پر
        سليمان بن سحمان النجدي (المتوفى: 1349هـ) نے کتاب الصواعق المرسلة الشهابية على الشبه الداحضة الشامية میں لکھا
        هذا حديث موضوع مكذوب على رسول الله صلى الله عليه وسلم مخالف لصريح الكتاب والسنة، وهذا الحديث لا يوجد في شيء من الكتب المعتمدة
        یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے رسول الله پر جھوٹ ہے کتاب و سنت کی مخالف ہے اور کتب معتمد میں نہیں ہے

        یعنی ٧٨ سال پہلے اس کو گھڑی ہوئی کہا جاتا تھا – اس وقت کسی نے اس مصنف عبد الرزاق جز مفقود کا ذکر نہیں کیا کہ اس کی سند ثابت نہیں ہے

        ——–
        میری تحقیق کا نقطہ نظر الگ ہے – میں کہہ رہا ہوں “ممکن” یہ روایت عبد الرزاق نے روایت کی لیکن یہ ان کے دور اختلاط کی ہے

        ———

        • Aysha butt says:

          Kya siqqa ravi dour e ikhtalat mn mashoor qool ko b riwayt kr jata hai…
          Kya door e ikhtalt k riwayt ravi ki qubool.hoti hai agr wo sahih ul isnad ho or wesa matan kisi dosri hadith mn b na aya ho
          Dosra imam razzaq siqqa tohai lekin muddlis b hai.

          • Islamic-Belief says:

            اختلاط کا مطلب ہے حدیث کو اپنے یا دوسروں کے قول سے خلط ملط کرنا
            اس کا مطلب سٹھیا جانا بھی ہوتا ہے
            —–
            عبد الرزاق مدلس بھی ہے اور صحیحین میں بھی ان کی بیشتر روایات عن سے ہی ہیں اور یہ نہ تو امام بخاری کے ہم عصر ہیں نہ امام مسلم کے بلکہ ان دونوں کے استادوں نے عبد الرزاق سے سنا ہے -لہذا عبد الرزاق کی روایات میں یہ احتمالات ہیں کہ تدلیس ہو سکتی ہے اور اختلاط بھی اور ان کو شیعہ بھی کہا گیا ہے اور نور محمد اہل تشیع کا بھی عقیدہ ہے

          • Aysha butt says:

            Ikhtalat mn qol ko galt malt kia jata hai.. Jab k aisa qol kisi muddhis ya aima ne toh bayn nai kiya mutaqadeemen mn se na hi is se milta julta koi qol ya hadith kisi or ne bayn ki… To phr razzaq mn se isko kehna galti b to ho sakti hai
            Qk suyyuti ne jis dor mn zikr kiya us waqt to sufiat b raij mazhab bn chuka tha to ho sakta tab garri gai ho..unhon ne to sahih hadith ki b batil taweelat kr k marzi k mutlb nikale…. To phir isko sahih sanad kehna theak kesy hai
            Jinhon ne b yeh hadith likhi razzaq sahib ki sanad se likhi … 800 saal bad log isko razzaq kk kitab se bta rahy hai … Unhon ne 211 hijri mn wafat pai or kha jata unka asl nuskha gum gya or kai dusre nusko se mil gya.. To ho sakta kisi ne sanad garh k yeh hadith phila di ho..m

            Hala k bukhri muslim b isi dour k hai unhon ne yeh hadith nai likhi hala k unhon ne ap k mutabiq abdul razzaq se suna b hai
            ..or mazkoora hadith mn aan hai jo tadless ki nishani hai toh tadless ki wajh se hadith toh zaef hogai.. Phr apka qol k sanad sahih hai galt hogya na…
            Uyeh hadith mutaqadeemeen nai to bayn nai kiiii jab k mutakirren ne isko razzaq ki hadith kha…

          • Islamic-Belief says:

            اپ نے کہا : کسی محدث نے اس کو روایت نہیں کیا تو ہو سکتا ہے مصنف عبد الرزاق میں سے اس کو کہنا غلطی ہو … سیوطی نے صوفیت کے دور میں اس کا ذکر کیا ہے …. ہو سکتا ہے کسی نے سند گھڑی ہو – کتاب صحیح بخاری و مسلم بھی اسی دور کی ہیں انہوں نے اس کو نہیں لکھا … اس کی سند میں عن ہے تدلیس ہو سکتی ہے تو اپ کا قول سند صحیح ہے غلط ہوا

            ——
            جواب
            عبد الرزاق نے میرے نزدیک اس کو دور اختلاط میں بیان کیا اور اسی حوالے کو لوگوں نے لکھا اس میں صوفی ہی نہیں عجلونی بھی ہیں جو علم الموضوعات کے ماہر تھے انہوں نے اس کا حوالہ مصنف عبد الرزاق ہی دیا ہے – بلاگ کو دوبارہ دیکھیں اس حوالے کو بیان کرنے میں صوفی منفرد نہیں ہیں
            ہو سکتا ہے کسی نے سند گھڑی ہو یہ تو احتمال ہے اس کی دلیل کیا ہے کہ معاملہ یہی ہے ؟ مدلس کی عن سے روایت رد ہوتی ہے لیکن اگر وہ تصریح کر دے کہ اس نے شیخ سے سنا ہے تو یہ بات ختم ہو جاتی ہے –
            مسند احمد 7731 میں ہے
            حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ
            یعنی عبد الرزاق کا سماع معمر سے ہے

            اس بنا پر تدلیس کے حوالے سے یہ نور محمدی کو رد نہیں کیا جا سکتا
            ——–
            اب میرے نزدیک بات یہ ہے کہ عبد الرزاق نے کسی شیعہ سے علی اور رسول الله کے نور ہونے کی خبر سنی تھی وہ ان کے دماغ میں تھی لیکن عالم اختلاط میں وہ حدیث بن گئی -اسی طرح فضائل علی کا معاملہ بھی ہے جو ان کے حوالے سے آ رہا ہے
            یعنی سند “بظاہر” صحیح لگ رہی ہے لیکن اس میں مخفی علت اختلاط کا عالم ہے
            ——
            اپ کا کہنا ہے کہ گویا کہ ایک روایت کو پھیلانے کی خاطر پورا ایک جز گھڑا گیا اس کی اسناد اور متن کو بھی گھڑا گیا – اب اپ نے کیا جز المفقود دیکھا ہے ؟ اس میں کل کتنی روایات ہیں ؟ کیا تمام پر گھڑی سند ہونے کا حکم لگے گا؟
            ہر سند و متن کو پہلے ثابت کرنا ہو گا کہ یہ گھڑی ہوئی ہے صرف ایک روایت کی بات نہیں ہو سکتی – میرے نزدیک یہ غلطی لوگوں نے کی ہے کہ تمام جز پر تحقیق نہیں کی صرف اس روایت پر بات کی ہے

        • Aysha butt says:

          Ap ne kha k yeh in k alim e ikhtalat ki riwaut hai or inko shia b kha gya hai…. Apne hi ik bar kha tha k shia agr apne mazhab ka parchar kry to riwayt nai qubol ki jati chahe sahih sanad ho… Jesy wo zadan wali riwayt hai roh lotane walu…. Islie ap k mutabisanad sahih b ho to riwayt to shia aqida bta rhi hai….
          To phir xahbi me kha k iski sanad pr itbar nai yeh qol liya jae ga

          • Islamic-Belief says:

            زاذان کا معلوم ہے کہ فارسی نسل کا شیعہ تھا اور علی کے اصحاب میں سے تھا اور پھر عود روح کا بدعتی عقیدہ بیان کیا
            عبد الرزاق کیا اس نوعیت کے شیعہ تھے یا اختلاط میں شیعی روایات بیان کر گئے یہ واضح نہیں ہے – غالب رائے میرے نزدیک یہ ہے کہ ان کی جو فضائل علی کی روایات ہیں وہ بھی میرے نزدیک اختلاط کی ہیں نہ کہ شیعہ بدعتی عقیدے کی وجہ سے

          • Aysha butt says:

            Ok. Lekin agr koi ikhtalat mn shia ki biddati aqide ki riwayt bayn kr jae ..jesy k yeh wali hai phr chahe uski sanad sahi ho to kya woh qubool ki jati hai us se daleel lety hai kya ahlesunnat….

          • Islamic-Belief says:

            محدث کے اختلاط کی تحقیق میں اختلاف ہوتا ہے اس بنا پر کوئی روایت لیتا ہے کوئی ردکرتا ہے مثلا قرع النعال والی روایت امام بخاری نے صحیح سمجھی ہے میرے نزدیک اس میں راوی کا اختلاط ہے – اس نور محمدی کو میں اختلاط کی روایت کہہ رہا ہوں لیکن جو قبول کر رہے ہیں وہ اس قول کو ظاہر ہے قبول نہیں کرتے

          • Aysha butt says:

            Apnekha is rwayt ko ajlani muddis ne naql kia or wo muzuat k mahir thy yoh unhon ne es hadith pr koi hikm hnai lsgya. K yeh kisi hadith hai

          • Islamic-Belief says:

            عجلونی نے اس کا ذکر کیا ہے – لیکن حوالہ مصنف عبد الرزاق کا ہی دیا ہے
            یہ دو الگ باتیں ہیں

            عجلونی نے اس کا ذکر کیا کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں ہے – عجلونی نے اس کو رد نہیں کیا بلکہ اس کی تاویل کی اور مواھب کے شارح علي بن علي الشبراملسي کا قول نقل کیا کہ الله نور نہیں لہذا اس روایت میں جو بیان ہوا اس میں نور کی اضافت ہے – نور جسم کے لئے ہے وغیرہ

            كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس از إسماعيل بن محمد العجلوني الجراحي (المتوفى: 1162هـ) میں ہے

            (أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث) رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء.
            قال: يا جابر، أن الله تعالى خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقُدرة حيث شاء الله، ولم يكن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولا سماء ولا أرض ولا شمس ولا قمر ولا جِنِّيٌ ولا إنسي، فلما أراد الله أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم ومن الثاني اللوح ومن الثالث العرش، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول حَمَلَة العرش ومن الثاني الكرسي ومن الثالث باقي الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول السماوات ومن الثاني الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين ومن الثاني نور قلوبهم وهى المعرفة بالله ومن الثالث نور إنسهم وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله – الحديث، كذا في المواهب، …. تنبيه: قال الشبراملسي ليس المراد بقوله من نوره ظاهره من أن الله تعالى له نور قائم بذاته لاستحالته عليه لأن النور لا يقوم إلا بالأجسام، بل المراد خلق من نور مخلوق له قبل نور محمد وأضافه إليه تعالى لكونه تولى خلقه، ثم قال ويحتمل أن الإضافة بيانية، أي خلق نور نبيه من نور هو ذاته تعالى لكن لا بمعنى أنها مادة خلق نور نبيه منها بل بمعنى أنه تعالى تعلقت إرادته بإيجاد نور بلا توسط شئ في وجوده، قال وهذا أولى الأجوبة نظير ما ذكره البيضاوي في قوله تعالى … (ثم سواه ونفخ فيه من روحه) … حيث قال أضافه إلى نفسه تشريفا وإشعارا بأنه خلقٌ عجيب وأن له مناسبة إلى حضرة الربوبية انتهى ملخصا.

  2. Aysha butt says:

    Yani ap ne apni phli tehkeek se ruju kr liya hai

    ⇑ نور محمدی کو سب سے پہلے خلق کیا گیا؟

    جواب
    متن ہے
    “أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر
    اے جابر الله نے سب سے پہلے تمھارے نبی کا نور خلق کیا

    سند دی جاتی
    عبدالرزق عن معمر عن ابن المنکدر عن جابر

    جبکہ یہ روایت مصنف عبد الرزق میں نہیں تھی پھر کسی صوفی دور میں اس کو اس کے کسی نسخہ میں شامل کیا گیا

    • Islamic-Belief says:

      جی ہاں

      —–
      نشاندہی کا شکریہ – اس جواب کو نئی تحقیق کے مطابق کر دیا ہے

      • Aysha butt says:

        mere nazdeek.apki phli tehkeek sahih hai

        ——
        Sab se phle yeh hadith qastalani jo k kud 8th century k hai unhon abdulrazzaq se mansob ki bila sanad . Kha yeh jata hai qastalni b sufi the. 10 hijzri mn yeh juz likha gya or us mn yeh sanad naql ki gai phir yah se baki sab ne wo hadith naql kr di jinka apne zikr kya hai
        Is nuskhe ka hal ap dekh chuke hai… Ab ap kya khte hai
        Hadith ki tarekh mn b milta hai k bazon ne siqqa ravion sek naam pr sanadein garri or logon mnapne isko aam kia..
        Jab k hadith mn hai sab se phle qalam bna. Phli wahi mn b qalam ka zikr hai k us k zarye ilm shikya or phr qalam ki qasam b toh mujood hai.

        • Islamic-Belief says:

          قسطلانی کے صوفی ہونے یا نہ ہونے سے اس کا تعلق نہیں کیونکہ صوفی منہج کا مطلب وضاع نہیں ہے – اپ کے نزدیک قسطلانی کذاب ہے ؟ ایسا تو کسی نے نہیں کہا
          جب تک صریح ثبوت نہ ہو جو بھی اپ نے توحید ڈٹ کام سے نقل کیا وہ سب ظن و تخمین ہے
          اس پر بحث برائے بحث بے کار ہے کیونکہ مصنف عبد الرزاق کا حوالہ متعدد لوگوں نے دیا ہے اور اس میں لوگوں نے تاویل روایت کی ہے جیسے عجلونی نے تو کیا یہ آسان نہ تھا کہ کہا جاتا کہ روایت گھڑی ہوئی ہے اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں
          لیکن عجلونی ایسا نہیں کرتے وہ تاویل کرتے ہیں یعنی وہ محدث جو اس فن کو جانتے تھے وہ اس روایت کو رد نہیں کرتے
          اسی وجہ سے میں نے اپنی پچھلی تحقیق سے رجوع کیا اور اس کو عبد الرزاق کا اختلاط قرار دیا ہے

          قسطلانی نے مکمل متن نہیں دیا دو چار جملے اس حدیث کے لکھے ہیں
          وروى عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله الأنصارى قال: قلت يا رسول الله، بأبى أنت وأمى، أخبرنى عن أول شىء خلقه الله تعالى قبل الأشياء. قال: يا جابر، إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى، ولم يكن فى ذلك الوقت لوح ولا قلم، ولا جنة ولا نار، ولا ملك ولا سماء، ولا أرض ولا شمس ولا قمر، ولا جنى ولا أنسى، فلما أراد الله تعالى أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم، ومن الثانى اللوح، ومن الثالث العرش. ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول حملة العرش، ومن الثانى الكرسى، ومن الثالث باقى الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول السماوات، ومن الثانى الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين، ومن الثانى نور قلوبهم- وهى المعرفة بالله- ومن الثالث نور أنسهم، وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله «1»

          بس یہ تمام کلام ہے جو قسطلانی نے کیا لیکن یہ مکمل روایت نہیں ہے – بعد والوں نے اس کو مکمل نقل کیا ہے مثلا
          بلغة السالك لأقرب المسالك المعروف بحاشية الصاوي على الشرح الصغير (الشرح الصغير هو شرح الشيخ الدردير لكتابه المسمى أقرب المسالك لِمَذْهَبِ الْإِمَامِ مَالِكٍ)
          المؤلف: أبو العباس أحمد بن محمد الخلوتي، الشهير بالصاوي المالكي (المتوفى: 1241هـ)
          اس میں اس کا مکمل متن ہے
          —–
          الفتاوى الحديثية
          المؤلف: أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري، شهاب الدين شيخ الإسلام، أبو العباس (المتوفى: 974هـ)
          میں اس کا مکمل متن ہے

          فقد أخرج عبد الرَّزَّاق بِسَنَدِهِ عَن جَابر بن عبد الله الْأنْصَارِيّ رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: (قلت: يَا رَسُول الله بِأبي أَنْت وَأمي أَخْبرنِي عَن أوّل شَيْء خلقه الله قبل الْأَشْيَاء؟ قَالَ: يَا جَابر إِن الله خلق قبل الْأَشْيَاء نور نبيك مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من نوره فَجعل ذَلِك النُّور يَدُور بِالْقُدْرَةِ حَيْثُ شَاءَ الله، وَلم يكن فِي ذَلِك الْوَقْت لوح وَلَا قلم وَلَا جنَّة وَلَا نَار وَلَا ملك وَلَا سَمَاء پھر مکمل متن نقل کیا
          سوال ہے کہاں سے متن آیا ؟
          ——-

          اپ نے کہا
          ///

          اس نسخہ کا ناسخ (لکھنے والا) اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی ہے جس کے خط (تاریخ نسخ 933؁ھ) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص دسویں صدی ہجری میں موجود تھا۔
          ///

          تو یہ ابن حجر الهيتمي (المتوفى: 974هـ) کا ہم عصر ہوا اور ابن حجر نے اس کا متن بھی دیا ہے اور حوالہ بھی – فقد أخرج عبد الرَّزَّاق بِسَنَدِهِ عَن جَابر بن عبد الله الْأنْصَارِيّ رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ:

          یعنی اگر ہم مان لیں کہ جز مفقود گھڑا ہوا ہے تو یہ ماننا بھی پڑے گا کہ ابن حجر الهيتمي (المتوفى: 974هـ) بھی اس کو گھڑنے میں شامل تھے
          ایسا کسی نے نہیں کہا کہ یہ کذاب تھے

          یہ بعید ہے کوئی حدیث کا نسخہ “خفیہ” گھڑا جائے اور علماء کو معلوم نہ ہو سکے یہاں تک کہ اس کے “ہم عصر چوٹی کے علماء” اس نسخے کو نقل کرتے پھریں
          ایسا کرنے میں وقت لگتا ہے ایک نسخہ بنایا اس کو کسی ایک شہر میں چھاپا اس کو پھیلنے میں اور درجہ قبولیت حاصل کرنے میں وقت لگے گا
          اس نسخہ کے نکلنے کے سو دو سو سال بعد ایسا ممکن تھا- لیکن یہ نہیں کہ مکہ میں بیٹھے ابن حجر بھی اس کو نقل کرنے لگ جائیں جو ملزم اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی کے ہم عصر ہی ہیں – میرے نزدیک ایسا ممکن نہیں ہے
          —–
          صوفی منہج کے علماء و محدثین میں تاویل کی غلطی ضرور ہوئی کہ سند کو دیکھا نہیں اور متن کو لے کر غلو کیا لیکن باقاعدہ ان محدثین نے متن گھڑا یہ قول غیر مستند اور حد سے متجآور ہے

          کہتے ہیں جتنا چھانو گے اتنا کرکرا ہو گا

          • Aysha butt says:

            Ibne hajr kese isko garrne mn shamil the.
            Unhon ne toh naql kia hoga . Mumkin haiesko kisi na nukmal ya jaali nuskhe se lia gya ho jesy k tohed.com walo ne nuskho k detail di hai un ka dawa k un k pas jo nuska hai wo sahih hai wo mullah umr wala hai jo k complete hai us mn yeh hadith nai bal k book wudhu k mutalik hadith se shru hoti hai
            Baki sanadon mn jin galtion ko zikr hai usko b toh nzr andaz nai kiya ja sakta… Mazeed kattib kud keh raha hai k is kitab pr samaat nai hai jesy k dosri book pr hoti hai
            Mn ne islamqa pr ik blog prha tha us mn likhatha galiban ibne hajr ya koi or muddhis hai wo khty hai
            Har wo hadith jis ne sanad agarche sahih malom ho wo sahih aisi hadith jiska matan sahih na ho usko garea hoa taslim kiya jae ga.. Mn bhool gai ho k yeh qol tha ya usool..
            Suyyati b khty hai k aisi sanad nai jis pr itemad kiya jae

          • Islamic-Belief says:

            یہ بعید ہے کوئی حدیث کا نسخہ “خفیہ” گھڑا جائے اور علماء کو معلوم نہ ہو سکے یہاں تک کہ اس کے “ہم عصر چوٹی کے علماء” اس نسخے کو نقل کرتے پھریں
            ایسا کرنے میں وقت لگتا ہے ایک نسخہ بنایا اس کو کسی ایک شہر میں چھاپا اس کو پھیلنے میں اور درجہ قبولیت حاصل کرنے میں وقت لگے گا
            اس نسخہ کے نکلنے کے سو دو سو سال بعد ایسا ممکن تھا- لیکن یہ نہیں کہ مکہ میں بیٹھے ابن حجر بھی اس کو نقل کرنے لگ جائیں جو ملزم اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی کے ہم عصر ہی ہیں – میرے نزدیک ایسا ممکن نہیں ہے

            ——–
            ابن حجر کو اس کا متن کہاں سے ملا یہ سوال ہے اور اس کا حوالہ انہوں نے مصنف عبد الرزاق دیا ہے اگر مواھب از قسطلانی سے لیا ہوتا تو متن مکمل نہ دے پاتے

            یہ اشکال لا ینحل ہے – اس پر غور کریں

          • Aysha butt says:

            Mutlb sofia is hadith k mutalik gulv ka shikar hain

          • Islamic-Belief says:

            جی ہاں

          • Aysha butt says:

            Yeh hadith tu gulv se barri hoinhai… Sofua ne tu us ko zahir pr nai lia hoa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *