نزول المسیح و خروج الدجال پر کتاب

روایاتِ

 نزول  المسیح  و  خروج الدجال

تاریخ اور جرح و تعدیل کے میزان میں

بقلم

ابو شہریار

======================================

 

اہل سنت کی کتب اور روایات

یہود و نصاری  کا تصور دجال

دجال  جزیرے کا قیدی؟

قم باذن الدجال؟

کیا ابن صیاد الدجال ہے ؟

الدجال کی مدت خروج

کعب الاحبار کا تصور مسیح  اور احادیث

معرکہ مہدی بمقابلہ مسیح ہے

ابو ہریرہ رضی الله عنہ  کی روایات

دمشق  یا بیت المقدس- کہاں ہے دجال؟

دجال  اور کعبہ کی زیارت

متفرق

اہل تشیع کی کتب  اور روایات

حرف آخر


پیش لفظ

کتاب کا موضوع   روایات   نزول مسیح و خروج  دجال ہے  جو صحیح احادیث سے ثابت ہے لیکن ان   روایات میں تمام صحیح نہیں – بعض اہل کتاب کے اقوال ، سیاسی بیانات اور   ذاتی آراء بھی ہیں جو حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم  سمجھی جانے لگی ہیں  ان کی وجہ سے دجال ایک مسلمان سے یہودی بن جاتا ہے – نزول مسیح     میں التباس پیدا ہوتا ہے اور   آخر میں  شریعت   کے حکم کہ غیر حربی کفار و اہل کتاب کا اور خاص کر عورتوں بچوں اور بوڑھوں کا قتل نہ ہو گا ، اس کا انکار ہوتا ہے –

صدیوں سے سنتے آئے قصوں کو    تاریخ کی کسوٹی پر   پرکھنا  مشکل کام ہے – اس تحقیق سے ہر ایک کا متفق ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا  – لیکن   راقم   تک جو علم آیا ہے  اور جو شواہد مل گئے ہیں ان کی بنیاد پر  اب یہ  مشکل امر ہے کہ وہ  ان  سب   کو      چھپا   دے  جو معلوم ہوا – لہذا اس میں سے  کچھ ضروری  باتیں   و اسرار    اس کتاب میں    آپ کے سامنے  لائے جائیں گے

و ما علینا الا البلاغ المبین

ابو شہر یار

٢٠١٧

Download

روایات مسیح

 

This entry was posted in Aqaid, history, ilm ul hadith. Bookmark the permalink.

29 Responses to نزول المسیح و خروج الدجال پر کتاب

  1. وجاہت says:

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آپ نے بہت سارے بلاگ کو ملا کر ایک کتاب کی شکل دی – پڑھنے والے کو سارا مواد ایک جگہ ہی ملے گا

    پوری کتاب پڑھی بہت اچھی تحقیق ہے آپ کی

    الله ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا کرے – آمین

  2. Naim says:

    جزاکم الله خیرا

  3. jawad says:

    جزاک الله

    اچھی تحقیق ہے

    روایات دجال سے متعلق اسی قسم کی ایک تحقیق مولانا شبیر ازہر میرٹھی کی کتاب میں بیان ہوئی ہے
    “احادیث دجال کا تحقیقی مطالعہ”

    کتاب کا لنک یہاں موجود ہے-

    https://www.scribd.com/document/125476207/%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%AB-%D8%AF%D8%AC%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81-%D8%AA%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%81-%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%B2%DB%81%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%B9%DA%BE%DB%8C

    • Islamic-Belief says:

      شکریہ

      اس میں ایک فرق ہے
      مولانا شبیر ازہر میرٹھی نزول مسیح کو نہیں مانتے
      راقم نزول مسیح کا انکاری نہیں ہے البتہ اس میں تمام روایات صحیح بھی نہیں لہذا مولانا شبیر ازہر میرٹھی کی بہت سے باتوں سے اتفاق ہے اور بہت سی باتوں سے اختلاف

      • jawad says:

        جزاک الله

        میرا بھی تقریباً یہی خیال ہے – مولانا ازہر میرٹھی کی اکثر باتیں صحیح بھی ہیں لیکن کچھ باتیں اختلافی بھی ہیں

        نزول مسیح سے متعلق نظریہ میرے خیال میں اختلافی ہے- اس پر اجماع کا دعویٰ صحیح نہیں – اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نظریہ “نزول مسیح” کا متعلقاً انکار کیا جائے- لیکن اس کو سمجھنا آسان نہیں –

        آج سے دو یا تین سال پہلے اردو فورم پر عقیدہ نزول مسیح پر فریقین پر ایک زبردست بحث و مباحثہ ہوا تھا – اگر اس بحث کو جماع کرلیا جاتا تو کم از کم ٢٥٠ سے ٣٠٠ صفحات کی صغیم کتاب بن سکتی تھی- اگرچہ بَغْيًا بَيْنَهُمْ کے تحت اس بحث کا کوئی حتمی نتیجہ تو نہیں نکلا- لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس نظریہ پر شدید تحقیق کی ضرورت ابھی باقی ہے – اور اس پر یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ اس نظریہ نزول مسیح پر سلف کا اجماع ہے- کیوں کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کے لئے استمال ہونے والا لفظ “توفی” تعبیر طلب ہے

        اب یہی دیکھ لیں کہ ہمارے اسلاف میں عیسیٰ علیہ سلام کی آمد سے متعلق یہ نظریہ عام ہے کہ ان کا نزول دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی منار پر ہوگا – لیکن آپ نے اپنی کتاب “نزول المسیح و خروج الدجال” میں اس روایت کا انکار کیا ہے کہ ان کا نزول مسجد کے منار پر ہوگا (صفحہ ٩٢ -٩٨-

        • Islamic-Belief says:

          سلام جواد بھائی

          پچھلے چند دنوں میں اور آج بھی اس کتاب کی تہذیب کی گئی ہے اور حواشی ڈالی گئی ہے لہذا اس کو دوبارہ ڈاؤن لوڈ کر لیں
          ———
          صحیح کہا اپ نے – اصل میں ہر مرض کی دوا جرح و تعدیل نہ ہے اور نہ تھی
          علل کا علم ہونا ایک خوبی ہے لیکن اس میں تمام محدثین ایک مقام پر نہیں تھے امام احمد ، ابن
          ابی حاتم ، بخاری ان سب کا اپس میں بھی اختلاف تھا روایات کی تصحیح و تضعیف پر
          لیکن آج اس سب کو چھپایا جاتا ہے – اسی لئے دین میں عقل کی اہمیت بھی ہے

          علل کے علاوہ سوشل سائنس اور پولیٹکل سائنس جیسے موضوعات میں اس قسم کی روایات کا عقدہ چھپا ہے راقم اسی انداز ،میں اس کو دیکھتا ہے – راوی پر جرح و تعدیل اور علل کے باوجود سوال رہ جاتا ہے کہ اس راوی نے ایسا کہا ہی کیوں؟ اب چاہے وہ ضعیف ہو یا ثقہ

          راقم یہ بھی دیکھتا ہے کہ علماۓ اسلام کا مزاج آج کل ان یہود سے الگ نہیں جنہوں نے مسیح علیہ السلام پر رجم کا فتوی دیا
          دجال تو چھوڑیے عیسیٰ علیہ السلام کس طرح نماز پڑھیں گے ؟ کیا وہ رفع الیدین کراتے ہیں یا نہیں وہ امین کیسی کہتے ہیں
          انہی باتوں پر کڑاکا بولے گا

          پھر یقینا ان سے سوال ہوں گے کہ یا نبی الله یہ فلاں عالم اور محدث اور مفتی کہاں ہیں ؟ ان سوالات کے جوابات جب ان متشدد علماء کو ملیں گے تو شاید نزول مسیح کا مزہ ہی کرکرا ہو جائے گا

          اس وقت عیسیٰ ان علماء کو افعی کے بچے ہی قرار دیں گے جیسا پہلے کیا تھا
          انجیل متی باب ٢٢ آیت ٣٣

          الله ہم کو صحیح عقیدہ سجھائے
          امین

          • jawad says:

            وعلیکم السلام و رحمت الله

            جی بلکل متفق- آپ کا یہ جو کہنا ہے کہ-

            علماۓ اسلام کا مزاج آج کل ان یہود سے الگ نہیں جنہوں نے مسیح علیہ السلام پر رجم کا فتوی دیا دجال تو چھوڑیے عیسیٰ علیہ السلام کس طرح نماز پڑھیں گے ؟ کیا وہ رفع الیدین کراتے ہیں یا نہیں وہ امین کیسی کہتے ہیں انہی باتوں پر کڑاکا بولے گا
            پھر یقینا ان سے سوال ہوں گے کہ یا نبی الله یہ فلاں عالم اور محدث اور مفتی کہاں ہیں ؟ ان سوالات کے جوابات جب ان متشدد علماء کو ملیں گے تو شاید نزول مسیح کا مزہ ہی کرکرا ہو جائے گا

            اور پھر یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام کے نزول کے سبب جو عیسایوں کے عقائد کا تو جو پول کھلے گا سو کھلے گا- ساتھ ہی ہمارے نام نہاد مسلمانوں اور علماء و مشائخ کا پول بھی کھل جائے گا – اور حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان دین کے علمبرداروں کے ایمان کی اصل حیثیت کیا ہے؟؟ یعنی قیامت سے پہلے ہی کھرے کھوٹے کا فیصلہ ہو جائے گا –

  4. فہیم احسن says:

    السلام اخی

    آج ایسے ہی انٹرنیٹ پر سرچ کر رہا تھا کہ الله کا احسان ہوا اپ کی ویب سائٹ پر آ گیا- اتفاق سے آج کل نزول مسیح کی روایات ہی دیکھ رہا تھا اس سلسلے میں دیوبندی اور اہل حدیث حضرات کی کتب دیکھیں لیکن ان میں بس روایات صحیح صحیح لکھا ہوتا ہے اور اس وجہ سے ذہن خلجان کا شکار ہوتا ہے کہ دجال کون ہے کیا ابن صیاد ہے کیا وہ جزیرے میں ہے کیا وہ کہیں قید ہے کیا برمودا ٹریانگل میں ہے علماء نے اس قسم کی تمام روایات کو صحیح کہا ہے اور ایک ملغوبہ دماغ میں بن جاتا ہے

    اپ کی کتاب پڑھ کر یہ فائدہ ہوا کہ کچھ سمجھ آیا کہ نزول مسیح ہو گا لیکن اس سلسلے کی بعض روایات صحیح نہیں

    میں اپ سے سوال کرنا چاہوں گا کہ امام مہدی کا کیا قرآن اور صحیحین میں ذکر ہے ؟ کیونکہ بعض علماء منبر پر کہتے ہیں کہ امام مہدی کا ذکر قرآن میں ہے صحیح بخاری و مسلم میں بھی ہے

    براہ کرم جواب عنایت کریں

    • Islamic-Belief says:

      سلام فہیم بھائی

      شکریہ

      اپ نے صحیح کہا کہ علماء یہ کہہ رہے ہیں کہ امام مہدی کا ذکر قرآن میں ہے

      راقم کہتا ہے یہ جھوٹ ہے ایک آیت ہی دکھا دیں جس میں المہدی کا بطور شخصیت ذکر ہو

      اور اسی طرح صحیح بخاری و مسلم سے ایک حدیث دکھا دیں جس میں ہو کہ امام مہدی کے لقب کا بنو فاطمہ سے کوئی شخص آئے گا امت کی اصلاح کرے گا

      اصلا یہ جھوٹ عوام کے لئے ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں امام مہدی کی آمد کا تصور رہے ورنہ اسلاف کی
      عزت پر بٹہ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے

      مہدی کا تصور سنن اربعہ میں ہے جن کی روایات پر ان محدثین نے خود صحیح کا حکم نہیں لگایا بلکہ متاخرین نے لگایا ہے

      السجزی المتوفی ٣٦٣ ہجری جو چوتھی صدی کے ہیں پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہدی کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے ان سے قبل کسی نے ان روایات کو متواتر بھی قرار نہیں دیا

      دوم علماء کی حتی المقدور کوشش ہے کہ جرح و تعدیل میں روایات مہدی پر جو نقل کیا گیا ہے اس کو چھپا کر متاخرین کا باجا بجاتے رہیں

      لہذا جب ہم ان پر ظاہر کرتے ہیں کہ علم حرج و تعدیل میں روایات پر کلام تضعیف ہے تو یہ لوگ عورتوں کی طرح کوسنے دیتے ہیں اور اسلاف و اکابرین کی عزت کی دہائییاں دینے لگ جاتے ہیں اور تو اور مہدی اور نزول مسیح کو ملا کر کہتے ہیں اس کا ذکر قرآن میں ہے – راقم کہتا ہے یہ لوگ کذاب ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں – نزول مسیح پر قرآن کی آیات سے دلیل لی جاتی ہے لیکن مہدی پر کون سی دلیل ہے؟ لہذا ان کی جانب سے دونوں کو ملانا خلط مبحث کرنا ہے

  5. وجاہت says:

    پلیز اس کا لنک دے دیں

    السجزی المتوفی ٣٦٣ ہجری جو چوتھی صدی کے ہیں پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہدی کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے ان سے قبل کسی نے ان روایات کو متواتر بھی قرار نہیں دیا

  6. محمد حمیر یوسف says:

    اسلام علیکم برادر

    اگر حضرت مہدی کا ذکر قرآن میں نہیں آیا تو حضرت عیسیٰ کے دوبارہ نزول کا ذکر بھی تو قرآن میں کھل کر بیان نہیں ہوا ہے

    جو لوگ حضرت عیسی کے واپس آنے کو ثابت کرتے ہیں وہ یہ آیات پیش کرتے ہیں :
    سورۃ النسآء:4 , آیت:157 اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے مسیح عیسی ابن مریم کو جو رسول ہیں اللہ کے حالانکہ نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اسے بلکہ معاملہ مشتبہ کردیا گیا ان کے لیے اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میںَ اور نہیں ہے انہیں اس واقع کا کچھ بھی علم سوائے گمان کی پیروی کے اور نہیں قتل کیا ہے انہوں نے مسیح کو یقینا!

    سورۃ النسآء:4 , آیت:158 بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
    بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف۔ اور ہے اللہ زبردست طاقت رکھنے والا، بڑی حکمت والا۔
    اس آیت میں 4:58 میں عیسی علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے لئے لفظ – رفعہ – یعنی اس کو اوپر بلند کرنا ہے۔ اس آیت سے عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی

    اب اس سے اگلی آیت کو دیکھئے ، جس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی کی وفات سے پہلے سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے

    قرآن کی آیت 4:158 تک ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کی طرف کس طور اٹھائے گئے۔ یہاں تک اثبات ظاہر کیجئے تو آگے بڑھتے ہیں اور 4:159 کو دیکھتے ہیں۔ کہ اس کے معانی کیا ہیں۔

    4:159 وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
    شبیر احمد: اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا میسح ان پر گواہ۔

    آیت کے ممکنہ اردو تراجم
    :
    اور نہیں کوئی کتاب والے لوگوں میں سے مگر یقینا وہ ایمان رکھتا ہو اِس (عیسی علیہ السلام کے بارے)‌ میں اُس ( عیسی علیہ السلام)‌ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ (عیسی علیہ السلام)‌ ہونگے اِس کا گواہ۔
    اور نہیں کوئی اہل کتاب میں‌سے مگر یقینا وہ ایمان رکھتا ہو اُس (عیسی علیہ السلام)‌ پر اُس ( عیسی علیہ السلام)‌ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ (عیسی علیہ السلام)‌ ہونگے اُن کے گواہ۔

    And there is not from the people of book but surely he believes in him before his death and on the day of the resurrection, he will be a witness for them.

    اس آیت میں یہ کہیں‌نہیں‌ملتا کہ عیسی علیہ السلام مستقبل میں زندہ آئیں گے بلکہ پچھلی دو آیات کے واقعات کی تصدیق میں‌یہ بتایا جارہا ہے کہ جو اہل کتاب ان کے ساتھ تھے وہ ان کی موت سے قبل اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ نہ وہ مصلوب کئے گئے اور نہ ہی ان کا قتل ہوا — یہ ایمان ان کا حضرت عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے تھا۔ اسی لئے یہ اہل کتاب مومن کہلائے۔ خود ان اہل کتاب لوگوں پر حضرت عیسی علیہ السلام گواہ ہونگے۔

    تو کیا کہ ان کو وفات دے کر اللہ تعالی نے اوپر اٹھا لیا ۔ یا زندہ اوپر اٹھا لیا ۔۔ اس کا کوئی تذکرہ اس آیت میں‌ہے نہیں۔

    (ایک ضروری بات:میرا تعلق قادیانی یا احمدی جماعت سے نہیں ہے، جسکا دعویٰ بھی یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھا نہیں لیا گیا، بلکہ انکی وفات ہوچکی تھی)

    • Islamic-Belief says:

      اس آیت میں قبل موته میں موته کی الھا کی ضمیر کس کی طرف ہے

      ١. ایک قول ہے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے کہ عیسیٰ کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے

      ٢. دوسرا قول ہے خود اہل کتاب کی طرف ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے

      اگر عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور دوسرا قول صحیح ہے تو اشکال ہے کہ کیا تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ان پر ایمان لے اتے ہیں ؟ ہمیں معلوم ہے ایسا نہیں ہے
      لہذا پہلا قول ہی درست ہوا کہ عیسیٰ کی موت سے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے جو وہ ہیں جو ان کو نزول ثانی پر دیکھیں گے

      آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ کی عربی میں ہے
      الجدول في إعراب القرآن الكريم
      المؤلف: محمود بن عبد الرحيم صافي (المتوفى: 1376هـ)

      (اللام) لام القسم (يؤمننّ) مضارع مبني على الفتح في محلّ رفع.. و (النون) نون التوكيد، والفاعل ضمير مستتر تقديره هو (الباء) حرف جرّ و (الهاء) ضمير في محلّ جرّ متعلّق ب (يؤمننّ) ، (قبل) ظرف زمان منصوب متعلّق ب (يؤمننّ) ،

      اس میں مضارع کا صیغہ ہے جو یا تو حال ہے یا مستقبل یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں یہ ہو گا یا مستقبل میں ہو گا
      اس لئے یہ کہنا جو اہل کتاب ان کے ساتھ تھے وہ ان کی موت سے قبل اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ نہ وہ مصلوب کئے گئے اور نہ ہی ان کا قتل ہوا — یہ ایمان ان کا حضرت عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے تھا۔ درست نہیں کیونکہ یہ ماضی ہے مضارع نہیں ہے اس کو صیغہ ماضی میں کہا جانا چاہیے تھا
      کہ اہل کتاب میں لوگ عیسیٰ پر یہ ایمان لائے تھے

      ——
      غريب القرآن
      المؤلف: أبو محمد عبد الله بن مسلم بن قتيبة الدينوري (المتوفى: 276هـ)
      {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ} يريد: ليس من أهل الكتاب في آخر الزمان عند نزوله – أحد إلا آمَنَ به حتى تكون المِلَّة واحدة، ثم يموت عيسى بعد ذلك.

      اہل کتاب میں کوئی نہ ہو گا آخری زمانہ میں جو ان کے نزول کے بعد ایمان نہ لائے یہاں تک کہ ملت ایک ہو گی پھر عیسیٰ کی وفات ہو گی
      ——–

      یہ صرف روایات ہی نہیں بلکہ قرآن کے متن میں ماضی حال اور مستقبل کے صیغوں میں جیسا آیا ہیں ان کو ہم نہیں بدل سکتے کہ کہیں ہم تحریف نہ کر دیں عربی کے معروف نحویوں نے بھی اس آیت میں یہی کہا ہے کہ یہ مستقبل سے مراد ہے

      اس بنا پر اپ کی رائے صحیح نہیں سمھجی جا سکتی

      راقم عربی کا عالم نہیں اپ اس آیت کی عربی ترکیب میں اپنے قول کی گنجائش دیکھیں اگر کوئی بات معلوم ہو تو شیر کریں پھر غور کریں گے

      • محمد حمیر یوسف says:

        جی بہتر، میں بھی خود عربی کا عالم نہیں ہوں، یہ مذکورہ بالا وضاحت میں نے ایک ویب سائٹ کے مضمون سے نقل کی تھی۔ باقی آپکی وضاحت کافی اچھی ہے۔ لیکن بس ایک بات جو مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آئی وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کس واسطہ دوبارہ ہوگا، اگر دجال سے منسوب روایات غلط ہیں، جیسا آپ کے آرٹیکل مین لکھا ہوا ہے۔ کیا دجال ایک فرضی شئے ہوگی؟ نیزاگر امام مہدی سے منسوب روایات غلط مانی جاتی ہیں، تو بالکل اسی طرح نزول عیسیٰ علیہ السلام سے مطابق روایات میں بھی کلام کیا جاسکتا ہے؟
        ذرا محترم اس پر بھی روشنی ڈالیں
        شکریہ

        • Islamic-Belief says:

          اس کتاب کے پیش لفظ اور اختتام میں لکھا ہوا ہے کہ نزول مسیح اور خروج دجال سے متعلق روایات صحیح ہیں لیکن تمام صحیح نہیں
          مطلب کچھ پر ہم کلام کرتے ہیں

          لہذا دجال ہے لیکن مسلمان ہے اور اسی کے لئے نزول مسیح ہے لیکن دمشق میں نہیں بلکہ صحیح حدیث میں نہیں کہاں البتہ حدیث میں ہے کہ دونوں دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کعبہ کا طواف کریں گے
          اپ اس کتاب کو حرفا روبارہ پڑھیں

  7. عثمان سلفی says:

    عیسیٰ علیہ السلام کے سانس سے کافر کیوں ہلاک ہوں گے؟ اس قول کی وجہ کیا ہے ؟

    • Islamic-Belief says:

      اس کی تفصیل کتاب میں ص ٨٢ پر شامل کر دی گئی ہے
      اس کو داؤن لوڈ کر لیں

  8. shahzad khan says:

    اسلام و علیکم سوال ہے کہ دجال کا وجود ہے یا نہیں دجال کے متعلق صحیح احادیث میں کیا آیا ہے جن روایات میں دجال کے متعلق آتا ہے کہ وہ مافوق الفطرت عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہے ان روایات کی کیا حیثیت ہے نیز فتنہ دجال سے کیا مراد ہے براہ کرم رہنمائی فرما دیں

    • Islamic-Belief says:

      اس پر تفصیلی کتاب یہاں ہے
      http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2017/04/روایات-مسیح.pdf

      مختصرا دجال کا وجود ہے وہ مافوق الفطرت کام راقم کے نزدیک نہیں کر سکتا کہ آسمان کو حکم کرے اور وہ پانی پرسائے یا زمیں کو رزق کا حکم دے یا مردے کو زندہ کرے
      البتہ اس کا وجود ہے اور یہ جھوٹا الوہیت اور توحید دونوں کا مدعی ہو گا

  9. shahzad khan says:

    جذاک اللہ میرا میں نے کتاب کا مطالعہ کیا بہت اچھی معلومات ہیں سوال یہ ہے کہ ان روایات کو صحیح نہیں مانا جا سکتا جن میں دجال کسی جزیرے میں قید اور تمیم داری والی رویتاور مسلم کی اور بخاری کی رویات جبکہ بخاری اور مسلم میں تو امت کا یہ اجتماع ہے کہ ان کی کوئی روایت ضعیف نہیں برائے مہربانی ذرا رہنمائی فرما دیں کہ اگر کسی کو ان روایات کے بارے میں سمجھانا ہو جن میں دجال کے بارے میں مافوق الفطرت عمل کا لکھا ہوا ہے تو کیسے سمجھایا جائے

    • Islamic-Belief says:

      بھائی شکریہ

      یہ کام مشکل ہے لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ روایات میں تضاد ہے اور اسرائیلایات بھی ان میں شامل ہو گئی ہیں لہذا اس میں توقف اختیار کیا جائے
      پھر اپ خود سوچیں ہم کو سب پتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے ؟ الله تعالی انسانوں کو اگر آزماش میں ڈالے گا تو یقینا وہ وہ ہو گا جس کی ہم کو خبر نہیں ورنہ اس سب میں
      MYSTREY
      کیا ہے

      باقی اپ اس ویب سائٹ کو دیکھیں اس میں بہت معلومات جمع ہیں مثلا علم حدیث میں اپ کے سوالات کا جواب ہے

  10. shahzad khan says:

    اسلام و علیکم بھائی کیٹیگری میں علم حدیث نام کا مضمون ہی نہیں ہے

  11. وجاہت says:

    ایک بات پوچھنی ہے کہ سنن دارمی میں ٤١١ نمبر پر ابن سرین نے دو بندوں کی بات کیوں نہیں سنی – وہ تو حدیث اور قرآن کی آیت سننے کی بات کر رہے تھے

    لنک

  12. shahzad khan says:

    بھائی آپ کی کتاب میں موطا امام مالک کی اکروایت دیکھی جس میں مسیح ابن مریم اور مسیح دجال لکھا ہے دونوں کے ناموں کے ساتھ لفظ مسیح آنے کی وجہ کیا ہے

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری میں سولہ مقام پر مسیح الدجال کے الفاظ احادیث میں موجود ہیں
      وجہ یہ ہے کہ عیسیٰ اور دجال دونوں کا دعوی مسیح کا ہو گا
      عیسیٰ علیہ السلام سچے ہیں اور دجال جھوٹا ہے

      موطا کی حدیث ہے
      وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” أَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ قِيلَ: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ لِي هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ”

      یہاں مسیح الدجال کا لفظ ہے

  13. shahzad khan says:

    بھائی آپ کی کتاب نزول مسیح اور دجال پر جوآپ نے بخاری و مسلم اور دیگر روایات پر تحقیق کی جن روایات میں دجال کے مافوق الفطرت عمل کرنے کے بارے میں آیا ہے جن کے بارے میں آپنے لکھا کہ ان میں تضاد ہے ۔۔سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر عثمانی رحمہ نے بھی ان روایات کے بارے میں یہی رائے رکھتے تھے؟……. کیونکہ ان روایات کو بنیاد بنا کر منکرین آمد دجال ڈاکٹر عثمانی رحمہ کی شخصیت پر بھی انگلی اُٹھاتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ روایات خلاف قرآن ہیں اور ان کو تسلیم کرنے والا بھی عقیدے کی خرابی میں مبتلا تھا

    • Islamic-Belief says:

      ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نزول مسیح کے قائل تھے
      ان مخصوص روایات پر ان کا نقطۂ نظر معلوم نہیں کیونکہ میں نے کسی تقریر میں ان سے اس پر کچھ نہیں سنا
      اس دور میں یہ مسئلہ اتنا نہیں تھا کہ کوئی ان کی صحیح چھان بین کرتا- قرب قیامت میں عجیب باتیں ہوں گی تو لوگ ان کو لکھتے رہے ہیں
      ———-
      میرا خیال ہے کہ کسی نے صحیح طرح یہود کے انبیاء کی کتب میں جو مسیح پر لکھا ہے اس کو اور صحیح مسلم کو ملا کر دیکھا بھی نہیں کہ اس میں کیا مماثل ہے اور کیا کعب الاحبار کے اقوال ہیں
      اس قسم کی تحقیق مسلمانوں میں سے پہلے کسی نے نہیں کی – لیکن چونکہ ٹی وی پر ایک پروگرام جو شاہد مسعود کا تھا اس میں وہ مسلسل
      Armageddon
      کا ذکر کرتے تھے تو میں نے محسوس کیا کہ اس پر مجھے کو معلومات نہیں ہیں- الله کا کرم ہے کہ اس نے توفیق دی- لہذا پہلے حرفا حرفا تمام بائبل ( جس میں توریت – انبیاء کی کتب – تواریخ اور اناجیل اربعہ) کو پڑھا اور ان کی بعض شروحات جو انگریزی میں تھیں ان کو بھی پڑھا
      میرے پاس سو سے اوپر یہود و نصاری کی کتب ہیں جو میں نے خود خریدی ہیں اور اس تمام کو پڑھنے میں ٢ سال سے اوپر کا وقت لگا
      اس کے بعد میں نے پہلی کتاب لکھی
      Conflicts during Second Temple Period and their influence on prophetic literature
      لکھی لیکن اس دور میں یہ ویب سائٹ نہیں تھی

      اسی طرح
      In search of hidden Torah
      اور
      Contending Voices
      کا خاکہ ذہین میں تھا کہ اگر الله کا حکم ہوا تو اس پر لکھو گا

      پھر ٢٠١٣ میں جب ویب سائٹ کا اجراء ہوا تو اس پر لکھا

      ——-
      کتاب روایات نزول مسیح میں اس علم کی کچھ جھلک ہے – مسلمان ابھی اتنا ہی سمجھ سکتے ہیں – اس کے آگے جو ہے وہ عام لوگ اور مسلمان علماء بھی نہیں سمجھ پائیں گے کیونکہ وہ یہود کی تاریخ سے لا علم ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *