مہر نبوت کی خبر

کہا جاتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر پر پیٹھ پر کبوتری کے انڈے برابر ایک مسا  تھا اس پر بال بھی تھے – اس کو مہر نبوت کا نام دیا گیا – آج ہم اس سے  متعلق روایات کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کن راویوں نے اس کو بیان کیا ہے

جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے منسوب روایات

طبقات ابن سعد میں ہے

ذِكْرُ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ كَتِفَيْ رَسُولِ اللَّهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ –

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ وَالْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالا: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سماك أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ

وَصَفَ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَقَالَ: وَرَأَيْتُ خَاتَمَهُ عِنْدَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ تُشْبِهُ جِسْمَهُ.

سماک بن حرب نے کہا اس نے جابر رضی الله عنہ سے سنا کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کا وصف بیان کیا کہا میں نے ان کے شانوں کے پاس مہر دیکھی جو کبوتری کے انڈے جیسی تھی

قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ.حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ الْخَاتَمَ الَّذِي

فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – سَلْعَةً مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ.

جابر بن سمرہ نے کہا انہوں نے وہ مہر دیکھی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے جسم پر تھی اس کی جنس کبوتری کے انڈے جیسی تھی

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: نَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ

عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – كَأَنَّهُ بَيْضَةٌ.

سماک نے کہا جابر نے کہا میں نے دیکھی وہ مہر جو رسول الله  کی پیٹھ پر تھی جیسے کہ کوئی انڈا ہو

صحیح مسلم میں ہے

حديث:1583و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاکٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ وَکَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَکَانَ کَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ قَالَ لَا بَلْ کَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَکَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ کَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ

 جابر بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک اور داڑھی مبارک کا اگلا حصہ سفید ہوگیا تھا اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیل لگاتے تو سفیدی ظاہر نہ ہوتی اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک کے بال پراگندہ ہوتے تو سفیدی ظاہر ہوجاتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کے بال بہت گھنے تھے ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس تلوار کی طرح ہے – جابر (رض) کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس سورج اور چاند کی طرح گولائی مائل تھا اور میں نے مہر نبوت آپ کے کندھے مبارک کے پاس دیکھی جس طرح کہ کبوتر کا انڈہ اور اس کا رنگ آپ کے جسم مبارک کے مشابہ تھا۔

حديث:1584حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ

جابر بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پشت مبارک میں مہر نبوت دیکھی جیسا کہ کبوتر کا انڈا۔

حديث:1585و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ان تمام کی اسناد میں سماک بن حرب کا تفرد ہے جس کا کہنا ہے کہ یہ کبوتر کے انڈے برابر مسا تھا

احمد کہتے ہیں سماک مضطرب الحدیث ہے

قال أبو طالب أحمد بن حميد: قلت لأحمد بن حنبل: سماك بن حرب مضطرب الحديث؟ قال: نعم. «الجرح والتعديل

قال يعقوب بن سفيان: قال أحمد بن حنبل: حديث سماك بن حرب مضطرب. «المعرفة والتاريخ

کتاب  ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق از الذھبی کے مطابق

كان شعبة يضعفه وقال ابن المبارك ضعيف الحديث

امام شعبة اس کی تضعیف کرتے اور ابن مبارک اس کو ضعیف الحدیث قرار دیتے

سماک کا انتقال بنو امیہ کے آخری دور میں هشام بن عبد الملك کے دور میں ہوا

أَبِي رمثة رضی الله عنہ سے منسوب روایات

طبقات ابن سعد میں ہے

[أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ. أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ. أَخْبَرَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ عَنْ أَبِي رمثة قال: قال لي رسول الله. ص: يَا أَبَا رِمْثَةَ ادْنُ مِنِّي امْسَحْ ظَهْرِي. فَدَنَوْتُ فَمَسَحَتْ ظَهْرَهُ ثُمَّ وَضَعَتْ أَصَابِعِي عَلَى الْخَاتَمِ فَغَمَزْتُهَا. قُلْنَا لَهُ: وَمَا الْخَاتَمُ؟ قَالَ: شَعْرٌ مُجْتَمِعٌ عِنْدَ كَتِفَيْهِ] .

عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ نے أَبِي رمثة سے روایت کیا کہ کہا مجھ سے رسول الله نے کہا اے أَبِي رمثة میری پیٹھ کو صاف کرو میں ایسا کیا تو میں نے پیٹھ مبارک کو چھوا پھر میری انگلی اس مہر پر لگی تو میں نے اس کو دبایا- ہم نے کہا یہ

مہر کیا تھی؟ کہا کچھ بال جمع تھے ان  کے شانوں کے پاس

سند میں  الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ،  امام احمد کے نزدیک یثبج الحدیث  ہے

 عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ نے بیان کیا کہ یہ بال تھے – یہی الفاظ ا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ نے ایک دوسرے صحابی سے بھی منسوب کیے ہیں

طبقات ابن سعد میں ہے

[أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَهِشَامٌ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَسَعْدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالُوا: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ. حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: فَنَظَرَ أَبِي إِلَى مِثْلِ السِّلْعَةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ أَلا أُعَالِجُهَا لَكَ؟ فَقَالَ: لا. طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا] .

إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ نے أَبِي رِمْثَةَ سے روایت کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  کے پاس گیا

تو میرے باپ نے ایک چیز شانوں پر دیکھی تو کہا یا رسول الله میں لوگوں کا طبیب جیسا ہوں کیا اس کا علاج نہ کر دوں ؟ فرمایا : نہیں اس کا علاج وہ کرے گا جس نے اس کو خلق کیا

اس سند میں عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ  المتوفی ١٦٩ ھ ہے جس کو البزار نے ضعیف کہا ہے

[أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ. حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَإِذَا فِي كَتِفِهِ مِثْلَ بَعْرَةِ الْبَعِيرِ أَوْ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ.

فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلا أُدَاوِيكَ مِنْهَا؟ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ نَتَطَبَّبُ. فَقَالَ: يُدَاوِيهَا الَّذِي وَضَعَهَا]

عَاصِمٍ نے أَبِي رِمْثَةَ سے روایت کیا کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم پاس پہنچا  تو ان کے  شانے پر اونٹ کی آنکھ یا کبوتری کے انڈے جیسی تھی تو میں کہا اے رسول الله یہ کیا ہے اس کی دوا اپ کیوں نہیں لیتے ؟ میں اپنے گھر والوں کا طبیب ہوں پس فرمایا اس کو دوا دے گا جس نے اس کو بنایا

سند میں عاصم بن بهْدلة اور حماد بن سلمہ دونوں مختلط ہوئے ہیں

قرہ سے منسوب روایات

طبقات ابن سعد میں ہے

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ. أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ. حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فبايعته وإن قميصه لمطلق ثم أدخلت يدي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ.

مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ نے اپنے باپ سے روایت کیا کہا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچا ایک مزینہ کے گروہ کے ساتھ ان کی ہم نے بیعت کی .. پھر میں نے ان کی قمیص کی جیب میں ہاتھ داخل کر کے انکی مہر کو

چھوا

اس کی سند  میں قرہ بن آیاس ہیں

کتاب جامع التحصیل از العلائی کے مطابق

قرة بن إياس والد معاوية بن قرة أنكر شعبة أن يكون له صحبة والجمهور أثبتوا له الصحبة والرواية

قرة بن إياس …..   شعبہ نے انکار کیا ہے کہ یہ صحابی تھے اور جمہور کہتے ہیں کہ ثابت ہے کہ صحابی ہیں

امام شعبہ کی اس رائے کی وجہ احمد العلل میں بتاتے ہیں

قال عبد الله بن أحمد: حدثني أبي. قال: حدَّثنا سليمان ابو داود، عن شعبة، عن معاوية -يعني ابن قرة – قال: كان أبي يحدثنا عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، فلا أدري سمع منه، أو حدث عنه

عبد الله بن احمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے شعبہ ہے انہوں نے معاویہ سے روایت کیا کہ

میرے باپ قرہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے پس میں نہیں جانتا کہ انہوں نے سنا تھا یا صرف ان

کی بات بیان کرتے تھے

جب معاویہ بن قرہ کو خود ہی شک ہو کہ باپ نے واقعی رسول الله سے سنا بھی تھا یا نہیں تو آج ہم اس کو کیسے قبول کر لیں؟

لہذا روایت ضعیف  ہے

عبد الله بن سرجس سے منسوب روایات

[أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ وَخَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ. أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ. فَدُرْتُ مِنْ خَلْفِهِ فَعَرَفَ الَّذِي أُرِيدُهُ. فَأَلْقَى الرِّدَاءَ عَنْ ظَهْرِهِ. فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ عَلَى بَعْضِ الْكَتِفِ مِثْلَ الْجُمْعِ. قَالَ حَمَّادٌ: جُمْعُ الْكَفِّ. وَجَمَعَ حَمَّادٌ كَفَّهُ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ. حَوْلَهُ خِيلانٌ كَأَنَّهَا الثَّآلِيلُ. ثُمَّ جِئْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: وَلَكَ! فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَسْتَغْفِرُ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ وَلَكُمْ. وَتَلا الآيَةَ: «وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ» محمد: 19. هَكَذَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ.

عَاصِمٌ الأَحْوَلُ نے عبد الله بن سرجس سے روایت کیا کہا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچا وہ اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے میں ان کے پیچھے آیا تو وہ جان گئے میں کیا چاہتا ہوں پس اپ صلی الله علیہ وسلم نے پیٹھ پر سے چادر ہٹا دی تو میں نے وہ مہر دیکھی جو شانوں میں سے بعض پر تھی جیسے جمع ہو – حماد نے کہا جیسے مٹھی جمع ہوتی ہے اور حماد نے انگلیاں بند کر کے مٹھی بنائی – اس کے گرد ایسا تھا جیسے مسے ہوں – پھر میں ان کے سامنے آیا اور میں نے کہا الله اپ کی مغفرت کرے یا رسول الله ! فرمایا اور تمہاری بھی مغفرت کرے – ان سے بعض قوم نے کہا  رسول الله نے تمہاری مغفرت مانگی ؟ کہا ہاں تمھاری بھی ! اور تلاوت کیا اور اپنے لیے استغفار کرو اور مومنوں اور مومنات کے لئے  سورہ محمد – ایسا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ نے کہا

عبد الله بن سرجس کی سند سے دیگر کتب میں بھی ہے مثلا

صحیح مسلم

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ – رضي الله عنه – قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا أَوْ قَالَ ثَرِيدًا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَسْتَغْفَرَ لَكَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ نَعَمْ وَلَكَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ) قَالَ ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى (9) جُمْعًا (10) عَلَيْهِ خِيلَانٌ (11) كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ. (م 7/ 86 – 87)

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: ” تَرَوْنَ هَذَا الشَّيْخَ، يَعْنِي نَفْسَهُ، كَلَّمْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْتُ مَعَهُ، وَرَأَيْتُ الْعَلَامَةَ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَهِيَ فِي طَرَفِ نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى، كَأَنَّهُ جُمْعٌ، يَعْنِي الْكَفَّ الْمُجْتَمِعَ، وَقَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا عَلَيْهِ، خِيلَانٌ كَهَيْئَةِ الثَّآلِيلِ ” (2)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ: «أَنَّهُ رَأَى الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صُحْبَةٌ» (حم) 20774

– حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ الْقَيْسِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، أَنَّهُ قَالَ: «قَدْ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ

بْنُ سَرْجِسَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تَكُنْ لَهُ صُحْبَةٌ» (حم) 20779

لیکن امام احمد کا کہنا ہے عبد الله بن سرجس صحابی نہیں اس نے رسول الله کو صرف دیکھا سنا نہیں

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ سے منسوب روایات

صحیح  بخاری میں ہے

6352 – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنِ الجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، «فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الحَجَلَةِ»

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ نے کہا میں اپنی خالہ کے ساتھ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس گیا پس  انہوں نے کہا یا رسول الله میرے بھانجے کو مرگی ہے پس اپ نے میرے سر کا مسح کیا اور برکت کی دعا کی پھر وضو کیا پس میں نے وضو کا پانی پیا پھر میں ان کی پیٹھ  پیچھے کھڑا ہوا تو دیکھا وہاں ایک مہر تھی زِرِّ الحَجَلَةِ کا ابھار  ہو

یہی روایت کتاب  الشريعة از أبو بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) میں ہے

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ , فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ , ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ , ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلِ زِرِّ الْحَجَلَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا “

ان دونوں کی سند میں الجعد بن عبد الرحمن بن أوس أبو زيد الكندي ہے اور امام علی المدینی کا کہنا ہے کہ امام مالک اس سے کچھ روایت نہ کرتے تھے

كذا ذكره أبو الوليد الباجي في كتاب «التعديل والتجريح» وقال: قال علي ابن المديني: لم يرو عنه مالك بن أنس شيئا.

اس حدیث کے الفاظ غیر واضح ہیں – صحیح بخاری میں ہے

، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحُجْلَةُ:‏‏‏‏ مِنْ حُجَلِ الْفَرَسِ الَّذِي بَيْنَ عَيْنَيْهِ

محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ«حجلة» ، «حجل الفرس» سے مشتق ہے جو گھوڑے کی اس سفیدی کو کہتے ہیں جو اس کی دونوں

آنکھوں کے بیچ میں ہوتی ہے۔

اس سے کچھ واضح نہیں ہوا کہ  یہ مہر یا مسا کس قسم کا تھا

اس کے برعکس دلائل النبوه از بیہقی اور شرح السنہ از بغوی میں ہے

وَحَكَى أَبُو سُلَيْمَانَ ” عَنْ بَعْضِهِمْ: أَنَّ رِزَّ الْحَجَلَةِ: بَيْضُ الْحَجَلِ

ان الفاظ کا مطلب مادہ پرندے کا انڈا ہے

ابو سعید الخدری رضی الله عنہ سے منسوب روایات

 مسند احمد میں ہے

– حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى، قَالَ أَبِي: ” سَمَّاهُ سُرَيْجٌ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَيْسَرَةَ الْخُرَاسَانِيَّ “، عَنْ عَتَّابٍ الْبَكْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نُجَالِسُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ، «هَكَذَا لَحْمٌ نَاشِزٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (حم) 11656

عَتَّابٍ الْبَكْرِيِّ  نے کہا ہم ابو سعید الخدری کے ساتھ  مدینہ میں مجلس کرتے پس ان سے پوچھتے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مہر نبوت پر جو ان کے شانوں کے درمیان تھی –پس انہوں نے کہا شہادت کی انگلی کی طرح – اس کا گوشت تھا کندھوں کے درمیان

عَتَّابٍ الْبَكْرِيِّ ، ابن حجر کے نزدیک مقبول ہے ایسا وہ مجہول  کہنے کی بجائے کہتے ہیں – البتہ روایت میں ہے کہ یہ انگلی کی طرح گوشت تھا

ابو زید عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ رضی الله عنہ سے منسوب روایات

مسند احمد میں ہے

– حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَزْرَةُ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتَرِبْ مِنِّي»، فَاقْتَرَبْتُ مِنْهُ، فَقَالَ: «أَدْخِلْ يَدَكَ فَامْسَحْ ظَهْرِي»، قَالَ: فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي قَمِيصِهِ، فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ، فَوَقَعَ خَاتَمُ

النُّبُوَّةِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، فَقَالَ: «شَعَرَاتٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ» (حم) 20732

عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ نے کہا ابو زید نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے کہا میرے پاس آو – پس میں ان کے پاس گیا – اپ نے فرمایا اپنا ہاتھ داخل کرو اور میری کمر کو مسح کرو – پس میں نے قمیص میں ہاتھ داخل کیا اپ کی پیٹھ کا مسح کیا تو میرا ہاتھ پڑا مہر النبوت پر جو انگلی کے  بیچ میں آئی – پس میں نے اس مہر نبوت پر سوال کیا – پس اپ نے فرمایا یہ بال ہیں کندھوں کے درمیان

– حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَهِيكٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا زَيْدٍ عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ قَالَ: «رَأَيْتُ الْخَاتَمَ

الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَجُلٍ قَالَ بِإِصْبَعِهِ الثَّالِثَةِ هَكَذَا، فَمَسَحْتُهُ بِيَدِي» (حم) 22882

أَبَا نَهِيكٍ عثمان بن نهيك الأزدي الفراهيدي کہتے عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ نے کہا میں نے وہ مہر دیکھی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے شانوں کے درمیان تھی  جیسا کہ ایک آدمی نے اپنی تیسری انگلی سے اس طرح کہا، میں نے اسے ہاتھ سے چھوا

سند میں عثمان بن نهيك الأزدي الفراهيدي  مجہول ہے

– حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي، وَامْسَحْ ظَهْرِي». وَكَشَفَ ظَهْرَهُ، فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ، وَجَعَلْتُ الْخَاتَمَ بَيْنَ أَصَابِعِي. قَالَ: فَغَمَزْتُهَا. قَالَ فَقِيلَ: وَمَا الْخَاتَمُ؟ قَالَ: شَعَرٌمُجْتَمِعٌ عَلَى كَتِفِه. (حم) 22889

– أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “ادْنُ مِنِّي فَامْسَحْ ظَهْرِي”. قَالَ: فَكَشَفْتُ عَنْ ظَهْرِهِ، وَجَعَلْتُ الْخَاتَمَ بَيْنَ أُصْبُعِي فَغَمَزْتُهَا،

قِيلَ: وَمَا الْخَاتَمُ؟ قَالَ: شَعْرٌ مُجْتَمِعٌ عَلَى كَتِفِهِ (رقم طبعة با وزير: 6267) , (حب) 6300 [قال الألباني]: صحيح – “المختصر” (31/ 17).

عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ نے ابو زید کا قول بیان کیا کہ مہر اصل میں بال جمع  تھے

سلمان الفارسی رضی الله عنہ کی روایت

مسند احمد میں سلمان کے ایمان لانے کے قصے کی روایت ہے

وَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَوَضَعَ رِدَاءَهُ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ

میں ان کے پیچھے کھڑا ہوا اس پر سے چادر کو ہٹایا تو کہا میں گواہی دیتا ہوں اپ نبی ہیں

سند ضعیف  ہے – سند میں  أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ہے  جس کی توثیق نہیں ملی

طبرانی میں ہے سلمان نے خبر دی

فَإِنَّهُ النَّبِيُّ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمَ النُّبُوَّةِ

یہ نبی ہیں جن کی بشارت عیسیٰ علیہ السلام نے دی اور اس کی نشانی یہ ہے کہ ان کے شانوں کے درمیان نبوت کی مہر ہے

سند میں السَّلْمُ بْنُ الصَّلْتِ  مجہول ہے

طبرانی الکبیر میں ہے سلامة العجلي نے کہا سلمان نے خبر دی

بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ

ان کے شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے

لسان المیزان از ابن حجر کے مطابق سلامہ مجہول ہے

طبرانی الکبیر اور مستدرک الحاکم  میں ہےعبد الله بن عبد القدوس نے أَبُو الطُّفَيْلِ کی سند سے روایت کیا کہ  سلمان نے خبر دی

فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ، هَذِهِ وَاحِدَةٌ،

جب نظر ختم نبوت پر گئی جو شانوں کے درمیان تھی میں بولا الله اکبر یہ وہی ہے

سند میں عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ  سخت ضعیف راوی ہے

معلوم ہوا کہ اس قسم کا کوئی اہل کتاب کا قول تھا

دلائل النبوہ از بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَهْلِ فَارِسَ مِنْ أَهْلِ أَصْبَهَانَ …. وَإِنَّ فِيهِ عَلَامَاتٍ لَا تَخْفَى: بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ

سلمان نے خبر دی کہ وہ فارس اصفہان کے ہیں … انہوں نے رسول الله کی علامت جو چھپی نہیں تھیں دیکھیں کہ ان کے شانوں کے درمیان مہر  نبوت ہے

سند میں أحمد بن عبد الجبار بن محمد العطاردي الكوفي  ضعیف ہے جو مدلس بھی ہے

ابن عباس رضی الله عنہ  کی روایت

دلائل النبوه از بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ حَبْرًا مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَكَانَ قَارِئًا لِلْتَوْرَاةِ فَوَافَقَهُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ يُوسُفَ كَمَا أُنْزِلَتْ عَلَى مُوسَى فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ لَهُ الْحَبْرُ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ عَلَّمَكَهَا؟ قَالَ: «اللهُ عَلَّمَنِيهَا» ، قَالَ: فَتَعَجَّبَ الْحَبْرُ لِمَا سَمِعَ مِنْهُ فَرَجَعَ إِلَى الْيَهُودِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَتَعْلَمُونَ وَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى دَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفُوهُ بِالصِّفَةِ وَنَظَرُوا إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَجَعَلُوا يَسْتَمِعُونَ إِلَى قِرَاءَتِهِ لِسُورَةِ يُوسُفَ، فَتَعَجَّبُوا مِنْهُ وَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ عَلَّمَكَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَّمَنِيهَا اللهُ» ، وَنَزَلَ: {لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ} [يوسف: 7] . يَقُولُ لِمَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرِهِمْ وَأَرَادَ أَنْ يَعْلَمَ عِلْمَهُمْ، فَأَسْلَمَ الْقَوْمُ عِنْدَ ذَلِكَ

الْكَلْبِيّ نے ْ أَبِي صَالِحٍ سے روایت کیا کہ ابن عباس نے کہا علمائے یہود میں سے ایک عالم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس  ایک روز آیا اور وہ توریت کی قرات کرتا تھا  لہذا جانتا تھا اور رسول الله اس وقت سورہ یوسف قرات کر رہے تھے جیسی موسی پر توریت میں نازل ہوئی – پس حبر یہود نے کہا اے محمد کس نے یہ سکھائی؟ اپ نے فرمایا الله نے – یہودی  حیران ہوا جب اس نے سورت سنی پھر یہود کے پاس گیا اور ان سے کہا کیا تم کو معلوم بھی ہے الله کی قسم محمد تو قرآن میں قرات کرتا ہے ایسا ہی توریت میں ہے – پس ایک گروہ یہود اپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان کو صفت سے پہچان گیا اور ان کی مہر کو دیکھا جو شانوں کے درمیان تھی  پس وہ سورہ یوسف سننے لگے اور حیران ہوتے رہے اور بولے اے محمد کس نے سکھائی؟ اپ نے فرمایا الله نے سکھائی

اس کی سند الکلبی کی وجہ سے ضعیف ہے

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضی الله عنہ  کی روایت

طبرانی الکبیر میں روایت ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ شِبْلٍ الْبَاهِلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ بَكْرِ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَوَقَعَ ثَوْبُهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فِي ظَهْرِهِ» ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: ارْفَعْ ثَوْبَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَذَهَبْتُ أَرْفَعُ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ «فَنَفَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ»

 أُمُّ بَكْرِ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ ایک یہودی گزرا اور میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے تھا اور رسول الله وضو کر رہے تھے تو کمر پر سے کپڑا تھا اور وہاں نبوت کی مہر تھی- پس یہودی بولا اس کپڑے کو ہٹاو- پس میں رسول الله کے پاس گیا ان کی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹا دیا – پس نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک چلو پانی کا میرے منہ پر مارا

سند ضعیف ہے أُمُّ بَكْرِ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ راویہ  مجہول ہے

أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدٍ کی روایت

طبرانی میں ہے

حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا بَكَّارُ بْنُ جَارَسْتَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدٍ، قَالَتْ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ

اس کی سند ضعیف ہے – سند میں بَكَّارُ بْنُ جَارَسْتَ  جس کو لین الحدیث کہا جاتا ہے

مستدرک الحاکم میں بھی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ عَمِّهِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَكْبَرِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَمَعَهُ ابْنَتُهُ أُمُّ خَالِدٍ، فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا قَمِيصٌ أَصْفَرُ وَقَدْ أَعْجَبَ الْجَارِيَةَ قَمِيصُهَا، وَقَدْ كَانَتْ فَهِمَتْ بَعْضَ كَلَامِ الْحَبَشَةِ فَرَاطَنَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلَامِ الْحَبَشَةِ سَنَهْ سَنَهْ وَهِيَ بِالْحَبَشَةِ حَسَنٌ حَسَنٌ، ثُمَّ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْلِي وأَخْلِقِي، أَبْلِي وأَخْلِقِي» قَالَ: فَأَبْلَتْ وَاللَّهِ، ثُمَّ أَخْلَقَتْ، ثُمَّ مَالَتْ إِلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى مَوْضِعِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَأَخَذَهَا أَبُوهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهَا» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ أَحَادِيثَ لِإِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ آبَائِهِ وَعُمُوَمَتِهِ، وَهَذِهِ أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ الَّتِي حَمَلَهَا أَبُوهَا صَغِيرَةً إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَحِبَتْ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوَتْ عَنْهُ

اس کی سند کو الذھبی نے تلخیص میں  منقطع قرار دیا ہے

علی رضی الله عنہ کی روایت

ترمذی کی ایک مشہور حدیث شمائل پر ہے

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنِ الحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حَلِيمَةَ مِنْ قَصْرِ الأَحْنَفِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ المَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ، إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالقَصِيرِ المُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ القَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ بِالجَعْدِ القَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالمُطَهَّمِ، وَلَا بِالمُكَلْثَمِ، وَكَانَ فِي الوَجْهِ تَدْوِيرٌ، أَبْيَضُ مُشْرَبٌ، أَدْعَجُ العَيْنَيْنِ، أَهْدَبُ الأَشْفَارِ، جَلِيلُ المُشَاشِ، وَالكَتَدِ، أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبَةٍ شَثْنُ الكَفَّيْنِ وَالقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ، وَإِذَا التَفَتَ التَفَتَ مَعًا، بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا، وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً، وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً، وَأَكْرَمُهُمْ عِشْرَةً، مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ، يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ “: «هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ». قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الأَصْمَعِيَّ، يَقُولُ فِي تَفْسِيرِ صِفَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: المُمَّغِطُ الذَّاهِبُ طُولًا. وَسَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ فِي كَلَامِهِ: تَمَغَّطَ فِي نُشَّابَتِهِ أَيْ مَدَّهَا مَدًّا شَدِيدًا. وَأَمَّا المُتَرَدِّدُ: فَالدَّاخِلُ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ قِصَرًا. وَأَمَّا القَطَطُ. فَالشَّدِيدُ الجُعُودَةِ، وَالرَّجِلُ الَّذِي فِي شَعْرِهِ حُجُونَةٌ أَيْ: يَنْحَنِي قَلِيلًا. [ص:600] وَأَمَّا المُطَهَّمُ، فَالبَادِنُ الكَثِيرُ اللَّحْمِ. وَأَمَّا المُكَلْثَمُ: فَالمُدَوَّرُ الوَجْهِ. وَأَمَّا المُشْرَبُ: فَهُوَ الَّذِي فِي بَيَاضِهِ حُمْرَةٌ. وَالأَدْعَجُ: الشَّدِيدُ سَوَادِ العَيْنِ، وَالأَهْدَبُ، الطَّوِيلُ الأَشْفَارِ، وَالكَتَدُ، مُجْتَمَعُ الكَتِفَيْنِ، وَهُوَ الكَاهِلُ. وَالمَسْرُبَةُ، هُوَ الشَّعْرُ الدَّقِيقُ الَّذِي هُوَ كَأَنَّهُ قَضِيبٌ مِنَ الصَّدْرِ إِلَى السُّرَّةِ. وَالشَّثْنُ: الغَلِيظُ الأَصَابِعِ مِنَ الكَفَّيْنِ وَالقَدَمَيْنِ. وَالتَّقَلُّعُ: أَنْ يَمْشِيَ بِقُوَّةٍ. وَالصَّبَبُ: الحُدُورُ، نَقُولُ: انْحَدَرْنَا فِي صَبُوبٍ وَصَبَبٍ. وَقَوْلُهُ:جَلِيلُ المُشَاشِ، يُرِيدُ رُءُوسَ المَنَاكِبِ. وَالعِشْرَةُ: الصُّحْبَةُ، وَالعَشِيرُ: الصَّاحِبُ. وَالبَدِيهَةُ: المُفَاجَأَةُ، يُقَالُ بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ: أَيْ فَجَأْتُهُ

علی رضی اللہ عنہ نے (نبی  صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے) فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری نبی ہیں۔

اگرچہ اس کو صحیح کہہ دیا جاتا ہے جبکہ اس کی سند منقطع ہے – جامع التحصيل في أحكام المراسيل از  صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

إبراهيم بن محمد بن الحنيفة عن جده علي رضي الله عنه قال أبو زرعة مرسل

ابراہیم بن محمد کی اپنے دادا علی سے روایت مرسل ہے

ابراہیم المَهدِيُ مِنّا أَهلَ البَيتِ والی روایت کے بھی راوی ہیں – اس تناظر میں قابل غور ہے کہ یہ مہر نبوت کا ذکر کرتے ہیں

عائشہ رضی الله عنہا کی روایت

دلائل النبوہ از بیہقی میں ہے

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: ” كَانَ مِنْ صِفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،…. کَانَ وَاسِعَ الظَّهْرِ، بَيْنَ کَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

6: أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /362، والبيهقي في دلائل النبوة، 1 /304.

  عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ   نبی   صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پشتِ اقدس کشادہ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی۔

اس کی سند صَبِيحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَرَغَانِيُّ  کی وجہ سے ضعیف ہے جو صَاحِبُ مَنَاكِيرَ مشہور ہے

أَبِي مُوسَى رضی الله عنہ کی روایت

دلائل النبوه از بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ الْبَغْدَادِيُّ، بِهَا قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ،… لَمْ يَمُرَّ بِشَجَرَةٍ وَلَا حَجَرٍ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا، وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيٍّ، وَإِنِّي أَعْرِفُهُ، خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فِي أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ مِثْلُ التُّفَّاحَةِ

نصرانی رَّاهِبُ نے کہا  رسول الله  کسی درخت یا یا پتھر کے پاس سے نہ گزرتے لیکن وہ سب ان کو سجدہ کرتے اور یہ سجدہ نبی کو ہی کرتے ہیں اور میں ان کو پہچانتا ہوں مہر نبوت سے جو شانوں  پر سیب جیسی ہے

سند میں عبد الرحمن بن غزوان  ، أبو نوح، قراد ہے جو منکرات بیان کرتا ہے اس روایت کا متن بھی منکر ہے کیونکہ سورہ حج میں ہے درخت و شجر صرف الله کو سجدہ کرتے ہیں.

یہاں بیان ہوا کہ بچپن میں ہی مہر اس قدر بڑی تھی کہ گویا سیب ہو

ابن اسحاق کی روایت

دلائل النبوه از بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ : وَكَانَ أَبُو طَالِبٍ هُوَ الَّذِي يَلِي أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ جَدِّهِ، كَانَ إِلَيْهِ وَمَعَهُ , ثُمَّ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ خَرَجَ فِي رَكْبٍ إِلَى الشَّامِ تَاجِرًا…. فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ فَيُوَافِقُ ذَلِكَ مَا عِنْدَ بَحِيرَاءَ مِنْ صِفَتِهِ , ثُمَّ نَظَرَ إِلَى ظَهْرِهِ فَرَأَى خَاتَمَ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عَلَى مَوْضِعِهِ مِنْ صِفَتِهِ الَّتِي عِنْدَهُ

بَحِيرَاءَ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کمر کو دیکھا ان کے شانوں کے درمیان اس مقام پر جس کی صفت اس کے پاس (پہلے سے) تھی

یہ سند منقطع ہے – ابن اسحٰق سے لے کر ابو طالب تک کوئی راوی نہیں

مہر نبوت پر  کیا لکھا تھا؟

بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس مہر پر محمد رسول الله لکھا تھا – اس کو محدثین عصر نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن قابل غور ہے کہ اس ابھار کو  مہر نبوت کیوں کہا گیا؟ کس طرح یہ نبوت کا نشان تھا؟

 صحیح ابن حبان میں ہے

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ الْفَتْحِ بْنِ سَالِمٍ الْمُرَبَّعِيُّ (2) الْعَابِدُ، بِسَمَرْقَنْدَ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَاضِي سَمَرْقَنْدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الْبُنْدُقَةِ مِنْ لَحْمٍ عَلَيْهِ، مَكْتُوبٌ مُحَمَّدُ رَسُولِ اللَّهِ

موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان از أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (المتوفى: 807هـ) میں ہے

 أنبأنا نصر بن الفتح بن سالم (1) المربعي (2) العابد بسمرقند، حدثنا رجاء بن مُرَجَّى الحافظ، حدثنا إسحاق بن إبراهيم قاضي سمرقند، حدثنا ابن جريج، عن عطاء. عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النُبُوَّةِ في ظَهْرِ رَسُولِ الله -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَ

الْبُنْدُقَةِ  مِنْ لَحْمٍ عَلَيْهِ مُكْتُوبٌ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله” (1).

قُلْتُ: اخْتَلَطَ عَلَى بَعْضِ الرُّوَاةِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ بِالخَاتَمِ الَّذِي كَانَ يَخْتِمُ بِهِ الْكُتُبَ.

ابن عمر سے مروی ہے کہ اس مہر پر محمد رسول الله لکھ تھا

ہیثمی نے کہا میں کہتا ہوں اس میں بعض راویوں نے ملا دیا ہے اس مہر (جسم والی)  کو اس مہر سے جس کو تحریر میں استعمال کیا

قابل غور ہے امام المہدی یعنی محمد بن عبد اللہ بن الحسن بن الحسن بن علی بن ابی طالب المعروف نفس الزکیہ کو بھی

صاحب الخال کہا جاتا تھا یعنی مسے  والا یا تل والا

 مقاتل الطالبيين  از أبو الفرج اصبہانی یعنی  علي بن الحسين بن محمد بن احمد بن الهيثم بن عبد الرحمن ابن مروان بن عبد الله بن مروان  میں روایت ہے

حدثني محمد بن إسماعيل بن جعفر الجعفري عن امه رقية بنت موسى بن عبدالله بن الحسن بن الحسن عن سعيد ابن عقبة الجهني – وكان عبدالله بن الحسن اخذه منها فكان في حجره – قال.ولد محمد وبين كتفيه خال اسود كهيئة البيضة عظيما فكان يقال له.المهدي

سعيد ابن عقبة الجهني نے بیان کیا کہ عبد الله بن الحسن ان سے (بات) لیتے – وہ اپنے  حجرے میں  تھے کہا محمد بن عبد الله المہدی پیدا ہوا تو اس کے شانوں کے درمیان ایک کالا  مسا تھا جیسے بڑا انڈا  ہو اس کو   المہدی کہا جاتا

مہر نبوت کی خبر معروف اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے بیان نہیں کی نہ ہی امہات المومنین رضی الله عنہم نے اس کی خبر دی – مزید براں جن لوگوں کا اس کی روایات میں تفرد ہے وہ بعد کے ہیں اور ان کے بیانات میں تضاد بہت ہے

سنن نسائی کی روایت ہے

الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلًا فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ فَاعْتَمَرَ وَأَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ

 مخرش کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ   نبی   صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات کو مقام جعرانہ سے نکلے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیٹھ مبارک کی طرف دیکھا تو اُسے خالص سفید چاندی کی طرح چمکتا ہوا پایا، پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عمرہ ادا فرمایا۔

یعنی پیٹھ مبارک پر  کوئی انڈے جیسی یا اونٹ کی آنکھ جیسی یا بالوں کا گچھا یا سیب جیسی غدود نما کوئی  چیز نہیں تھی

گمان غالب ہے کہ مہدی کی تحریک جو ١٢٠ ہجری کے بعد برپا ہوئی اس میں محمد المہدی کی تائید میں مہر نبوت کو بطور ایک نشانی بیان کیا گیا تاکہ عوام الناس کو یہ بتایا جائے کہ اس  المہدی کے جسم پر بھی وہی نشان ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر پر تھا

و الله اعلم

This entry was posted in history. Bookmark the permalink.

7 Responses to مہر نبوت کی خبر

  1. وجاہت says:

    بہت معلوماتی تھریڈ بنایا آپ نے – کیا اس کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں

  2. anum shoukat says:

    اس پورے ٹوپک میں یہ میسج ہے کہ امام مھدی نام کی شخصیت عیسی علیہ السلام سے پہلے ضرور آئے گی اور امام مھدی کو ثابت کرنے کیلئے انہوں نےنبی صلی علیہ وسلم جیسی مہر امام مہدی کے جسم پر بھی نشان ہونگا کے حوالے سے روایت گھڑی تاکہ عقیدہ پختہ ہو جائے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      نہیں
      ایسا نہیں ہے – امام المہدی نام کی شخصیت آ چکی قتل بھی ہو چکی
      اس کے لئے میری مہدی سے متعلق کتب پڑھیں

      http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2017/04/روایات-ظہور-المہدی.pdf

      ———-
      جب مہدی محمد بن عبد الله بن حسن بن حسن بن علی کے ہمدردوں نے دیکھا کہ اس کی پیٹھ پر شانوں کے درمیان کبوتری کے انڈے جیسا غدود ہے تو انہوں نے اس کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے بھی بیان کرنا شروع کر دیا جبکہ ایسا عیب جسم نبوی صلی الله علیہ وسلم میں نہ تھا

  3. wajahat says:

    آپ نے ایک حدیث پیش کی ہے

    سنن نسائی کی روایت ہے

    الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلًا فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ فَاعْتَمَرَ وَأَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ

    مخرش کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات کو مقام جعرانہ سے نکلے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیٹھ مبارک کی طرف دیکھا تو اُسے خالص سفید چاندی کی طرح چمکتا ہوا پایا، پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عمرہ ادا فرمایا۔

    آپ نے صحیح ترجمہ کیا ہے – لیکن یہاں دیکھیں کس طرح غلط ترجمہ کیا گیا

    http://mohaddis.com/View/Sunan-nasai/2867

    http://islamicurdubooks.com/Sunan-Nisai/Sunan-Nisaee-.php?hadith_number=2867

    یہ حدیث مسند احمد میں بھی ٣ جگہ بیان ہوئی ہے اور وہاں ترجمہ صحیح کیا گیا ہے

    http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-6-1370/?s=%D8%B3%D9%8E%D8%A8%D9%90%D9%8A%D9%83%D9%8E%D8%A9%D9%8F+%D9%81%D9%90%D8%B6%D9%91%D9%8E%D8%A9%D9%8D+%D9%81%D9%8E%D8%A7%D8%B9%D9%92%D8%AA%D9%8E%D9%85%D9%8E%D8%B1%D9%8E

    http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-9-3215/?s=%D8%B3%D9%8E%D8%A8%D9%90%D9%8A%D9%83%D9%8E%D8%A9%D9%8F+%D9%81%D9%90%D8%B6%D9%91%D9%8E%D8%A9%D9%8D+%D9%81%D9%8E%D8%A7%D8%B9%D9%92%D8%AA%D9%8E%D9%85%D9%8E%D8%B1%D9%8E

    http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-6-2448/?s=%D8%B3%D9%8E%D8%A8%D9%90%D9%8A%D9%83%D9%8E%D8%A9%D9%8F+%D9%81%D9%90%D8%B6%D9%91%D9%8E%D8%A9%D9%8D+%D9%81%D9%8E%D8%A7%D8%B9%D9%92%D8%AA%D9%8E%D9%85%D9%8E%D8%B1%D9%8E
    ===================
    سنن نسائی کی کس حدیث میں پورے الفاظ ہیں آپ نے جو پیش کی یا جو محدث والوں نے پیش کی

    آپ کی پیش کردہ حدیث

    الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلًا فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ فَاعْتَمَرَ وَأَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ

    محدث والوں کی پیش کردہ

    سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ دُخُولُ مَكَّةَ لَيْلًا) سنن نسائی: کتاب: مواقیت کا بیان

    (باب: رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونا)

    أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُزَاحِمٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلًا كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ فَاعْتَمَرَ ثُمَّ أَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ

    حکم : صحیح 2867

    حضرت محرش کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جعرانہ سے ایسی رات میں نکلے جو پگھلی ہوئی چاندی کی طرح سفید تھی، پھر آپ نے (مکہ مکرمہ پہنچ کر) عمرہ فرمایا اور پھر صبح سے پہلے واپس جعرانہ میں لوٹ آئے گویا کہ رات یہیں رہے ہوں۔

    واضح کریں

    • Islamic-Belief says:

      اصل میں اس روایت کے متن کو کسی نے بدلا ہے یا اس نے غلطی کی ہے

      سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ جب بھی اس کو بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پشت مبارک چاندی جیسی تھی
      لیکن ھناد بن السری نے اس کو چاندنی رات بنا دیا ہے جس کا درجہ صَدُوْقٌ کا ہے جبکہ امام سفیان علم حدیث کے امام ہیں
      لہذا صحیح متن ہے کہ پشت مبارک چاندی جیسی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *