معصوم عن الخطا کا عقیدہ

کیا کوئی بشر معصوم عن الخطآ ہے ؟ اصلا یہ بحث ایک سیاسی جھگڑے میں شروع ہوئی اور وہ تھی عثمان رضی الله عنہ کا قتل – مخالفین عثمان  نے خلیفہ وقت کو خآطی کہا اور ان کے مقابلے پر علی رضی الله عنہ  کی فضیلت کی احادیث گھڑی گئیں – اس طرح علی رضی الله عنہ اور ائمہ  کے لئے معصوم ہونے کا  عقیدہ شیعان علی میں آیا- دوسرے طرف اہل سنت جو علی کی امامت کے انکاری تھے انہوں نے مقابلتا  انبیاء کی معصومیت کا عقیدہ اختیار کیا اور اس کے لئے دلائل ڈھونڈے

قرآن میں فرشتوں کی ایک صفت آئی ہے کہ

لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ

یہ انکار نہیں کرتے اس امر پر جو الله نے دیا ہو اور وہی کرتے ہیں جس کا امر ہوتا ہے

چونکہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا تو نا ممکن سمجھا جانے لگا کہ انبیاء سے کسی غلطی کا صدور ممکن ہے- اس عقیدے کا تقابل جب قرآن سے کیا جاتا ہے تو جواب نفی میں ملتا ہے- قرآن میں انبیاء کا غلطی سے معصوم ہونے کا رد کیا گیا ہے – سوره الانفعآل میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جنگ بدر کے قیدیوں کے معاملے میں غلطی کی نشان دہی کی گئی ہے- قرآن میں کئی مقام پر اگلے پچھلے گناہ معاف کرنے کا ذکر ہے (جس میں ذنب گناہ کا لفظ ہے) – آدم علیہ السلام کا شجر ممنوعہ سے کھانے کا ذکر ہے – نوح علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے لئے دعآ کا ذکر ہے اور اس پر الله تعالی کی ناراضگی کا بھی ذکر ہے – اس طرح  واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی غلطی سے پاک ذات ہے تو وہ صرف الله تعالی ہے- اسی لئے سبحان الله بولا جاتا ہے کہ الله (غلطی و عیب سے) پاک ہے

عصمت انبیاء کے عقیدے کو وحی  سے جوڑا جاتا ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ انبیاء سے غلطی ممکن ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ وحی الہی میں غلطی بھی ہو سکتی ہے – لیکن یہ اعتراض  سطحی ہے قرآن میں واضح ہے کہ وحی  کی حفاظت الله نے خود کی ہے اور اس میں کسی بھی قسم  کے کسی شیطانی القا  کا دخل نہیں ہوا  لہذا قرآن جو کلام الله ہے وہ پاک کلام ہے

عبيد الله  السجزيّ   أبو نصر (المتوفى: 444هـ) کتاب رسالة السجزي إلى أهل زبيد في الرد على من أنكر الحرف والصوت   میں الباقلاني المتوفی ٤٠٢ ھ  اور ان کی اتباع کرنے والے الأشعرية  کے لئے لکھتے ہیں وہ کہتے ہیں

أن وقوع الكبائر من الأنبياء عليهم السلام في حال النبوة جائز إلا فيما يختص بالرسالة  لا يجوز عليهم الكذب فيها ولا التغيير، ولا الكتمان

کہ انبیاء سے کبائر کا وقوع جائز ہے سوائے اس کے جو رسالت کے لئے خاص ہو کہ اس میں جھوٹ اور تغیر اور کتمان ان کے لئے جائز نہیں ہے

یعنی سن ٤٤٤ ہجری تک عصمت انبیاء کا عقیدہ وہ نہیں تھا جس  شکل میں آج یہ عقیدہ  ہے

اگلی چند صدیوں میں اس قول میں مزید تشریحات و آراء شامل ہوتی رہیں اور عصمت انبیاء کو عمومی  طور پر تسلیم کر لیا گیا- لیکن اب اس میں کبائر و صغائر کی تقسیم سرے سے ہی نکال دی گئی – ظاہر ہے انبیاء میں سے کوئی بھی نہیں جو گناہ کبیره کا مرتکب ہو اور جن کو ہم صغائر کہہ رہے ہیں کیا وہ انبیاء کے لئے واقعی صغائر تھے اس کی کیا دلیل  ہے ؟ کہنے کا مقصد ہے کہ گناہ کبیرہ انبیاء میں سے کسی نے نہیں کیے لیکن جن کو ہم صغائر کہہ رہے ہیں کیا وہ انبیاء کے مقام و مرتبہ کے مطابق صغائر میں اتے ہیں ؟  اس کو ایک مثال سے سمجھیں انبیاء میں یونس علیہ السلام ایک فیصلہ کرتے ہیں کہ عذاب الہی  کا سنتے ہی اپنا علاقہ چھوڑ دیتے ہیں دوسری طرف ان کی قوم توبہ میں مشغول ہوتی ہے اور الله ان کو ہدایت دے دیتا ہے لیکن الله تعالی کو یونس علیہ السلام کا عمل پسند نہیں اتا اور ان کو مچھلی میں قید کر دیتا ہے –  اسی طرح آدم علیہ السلام بھی ابدی زندگی کی خواہش میں ابلیس کی باتوں میں ا کر شجر ممنوعہ میں سے کھا لیتے ہیں اس کو قرآن میں  عھد بھولنا کہا گیا ہے – یعنی انبیاء کی معمولی غلطیاں بھی اتنی بڑی سمجھی جاتی ہیں ان کو اس کی سزا بھی دی جاتی ہے  لہذا عام لوگوں میں اور انبیاء میں فرق رکھا گیا ہے

عصمت انبیاء کا عقیدہ اماموں سے منسوب کرنے کے لئے ٢٥٠ سے ٣٥٠ ہجری کے درمیان اہل تشیع نے روایات بیان کین اس وقت تک ائمہ فوت ہو چکے تھے اور راویوں نے متضاد اقوال اماموں سے منسوب کر دیے- شیعوں کی دیکھا دیکھی اہل سنت کے متکلمین نے انبیاء کی معصومیت کا عقیدہ اختیار کر لیا

غلو کے اس سفر نے سن ٨٠ کی دہائی میں ایک نیا موڑ لیا جب نام نہاد امیر جماعت المسلمین مسعود احمد بی ایس سی نے یہ موقف  بنایا کہ قرآن کے تراجم میں غلطیاں ہیں اور اس کا پرچار شروع کیا – مسعود احمد نے اس پر عصمت رسول کے نام سے کتابچہ لکھا جس میں تقریری انداز میں معصوم عن الخطا کے عقیدے کے تحت قرآن میں تحریف کی لہذا اس سلسلے میں انہوں نے کچھ آیات پر بحث کی

اب ہم ان مخصوص آیات کو دیکھتے ہیں ان میں اہل تشیع اور اہل سنت کے تفسیری اقوال میں تضاد  پر غور کرتے ہیں اور پھر امیر المسلمین مسعود بی ایس سی کی آراء کو دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں

عبس و تولی کی شرح شیعوں میں

ابي الحسن علي بن ابراهيم القمي المتوفی ٣٢٩ ھ کی تفسیر میں ہے کہ یہ آیت عثكن  کے لئے ہے

سورة عبس مكية (بسم الله الرحمن الرحيم عبس وتولى أن جاء ه الاعمى) قال: نزلت في عثكن وابن أم مكتوم وكان ابن أم مكتوم مؤذنا لرسول الله صلى الله عليه وآله وكان اعمى، وجاء إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وعنده اصحابه وعثكن عنده، فقدمه رسول الله صلى الله عليه وآله عليه فعبس وجهه وتولى عنه فانزل الله عبس وتولى يعني عثكن ان جاء ه الاعمى (وما يدريك لعله يزكى) أي يكون طاهرا ازكى (او يذكر) قال يذكره رسول الله صلى الله عليه وآله ثم خاطب عثكن فقال: (أما

سوره عبس مکی ہے … یہ عثكن اور ابن أم مكتوم کے لئے نازل ہوئی ہے – اور ابن ام مکتوم، رسول الله صلى الله عليه وآله کے ایک موذن تھے اور یہ نابینا تھے اور یہ رسول الله صلى الله عليه وآله کے پاس آئے اور ان کے اصحاب کے پاس اور عثكن وہاں تھا پس رسول الله صلى الله عليه وآله  نے اس کو آگے کیا تو اس نے منہ موڑا اور پلٹا پس الله تعالی نے آیات نازل کیں … یعنی عثكن نے کیا جب اس کے پاس نابینا آیا

کتاب مستدرك سفينة البحار از الشيخ علي   کے مطابق  عثكن: المراد بعثكن عثمان، كما قاله العلامة المجلسي – عثكن سے مراد عثمان ہے جیسا کہ علامہ مجلسی نے کہا ہے

عبس و تولی کی شرح اہل سنت میں

  فخر الدين الرازي اپنی تفسیر مفاتيح الغيب میں لکھتے ہیں

 اجمع المفسرون على ان الذي عبس وتولى هو الرسول صلى الله عليه وآله

فخر الدين الرازي نے کہا مفسرین کا اجماع ہے کہ عبس وتولى سے مراد رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہیں

یہی تفسیر الواحدي المتوفی ٤٦٨ ھ  نے تفسیر التَّفْسِيرُ البَسِيْط  میں کی ہے

عَبَسَ  يعني النبي -صلى الله عليه وسلم

صحیح ابن حبان میں ہے

 الْجُعْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قالت أنزلت: {عَبَسَ وَتَوَلَّى} في بن أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْشِدْنِي قَالَتْ وَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “يَا فُلَانُ أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بأسا فيقول لا فنزلت: {عَبَسَ وَتَوَلَّى} أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

 عَائِشَةَ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ عَبَسَ وَتَوَلَّى ، ابن ام مکتوم نابینا کے حوالے سے نازل ہوئی انہوں نے کہا کہ یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا نبی الله مجھ کو ہدایت دیں اور رسول الله کے پاس اس وقت قریش کے سردار تھے پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑا اور دوسرے کو دیکھا اور کہا اے فلاں جو میں کہتا ہوں اس میں تم کوئی برائی پاتے ہو ؟ تو انہوں نے کہا نہیں – پس آیت نازل ہوئی

شعيب الأرنؤوط صحیح ابن حبان کی تعلیق میں کہتے ہیں

إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الله بن عمر الجعفي فهو من رجال مسلم.

اسکی اسناد صحیح ہیں امام مسلم کی شرط پر ہیں اور اس کے رجال ثقات ہیں بخاری و مسلم کے ہیں سوائے عبد الله بن عمر الجعفي  کے کہ وہ رجال صحیح مسلم میں سے ہیں

البانی نے بھی اس طرق کو صحیح قرار دیا ہے

البتہ امام حاکم نے مستدرک میں اس روایت کو کی سند سے بیان کر کے کہا ہے

فَقَدْ أَرْسَلَهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ

اس کو ایک جماعت نے ہشام بن عروہ سے مرسل روایت کیا ہے

الذھبی نے اس پر کہا ہے على شرط البخاري ومسلم کہ یہ بخاری و مسلم کی شرط پر ہے

عبس و تولی کی شرح مسعود احمد کی نظر میں

لیکن مسعود احمد کہتے ہیں

اور  حدیث پر کہتے ہیں

 جبکہ یہ الفاظ ھو الصواب تلخیص مستدرک میں سرے سے اس روایت پر ہیں ہی نہیں

من ذنبك وما تأخر کی شرح شیعوں میں

سوره فتح کی آیت

إنا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر

هم نے تم کو واضح فتح دی تاکہ الله تمہارے اگلے و پچھلے گناہ معاف کرے

ابوجعفر محمّد بن یعقوب بن اسحاق رازی معروف به کُلِـینی (پیدائش ٢٤٩ ھ   – وفات ٣٢٩ ھ) کی کتاب الکافی کی روایات صریحا عصمت انبیاء کے عقیدے کا رد کرتی ہیں

الکافی باب الشکر ج ٢ ص ١٤٢ کی روایت ہے

حميد بن زياد، عن الحسن بن محمد بن سماعة، عن وهيب بن حفص، عن أبي بصير، عن أبي جعفر عليه السلام قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله عند عائشة ليلتها، فقالت: يا رسول الله لم تتعب نفسك وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وماتأخر؟ فقال: يا عائشة ألا أكون عبدا شكورا.

امام أبي جعفر عليه السلام کہتے ہیں کہ ایک رات رسول الله صلی الله علیہ و الہ عائشہ کے ساتھ تھے – انہوں نے کہا اے رسول الله اپ اتنی مشکل کیوں اٹھاتے ہیں اور الله نے اپ نے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں پس اپ صلی الله علیہ و الہ نے فرمآیا اے عائشہ کیا میں شکر گزار نہ بنوں

الکافی ج ٥ ص ٨٧ ح 8345 کی روایت ہے

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن علي بن أسباط، عن أبي إسحاق الخراساني، عن بعض رجاله قال: إن الله عزوجل أوحى إلى داود عليه السلام أني قد غفرت ذنبك وجعلت عار ذنبك على بنى أسرائيل فقال: كيف يا رب وأنت لا تظلم؟ قال: إنهم لم يعاجلوك بالنكرة

أبي إسحاق الخراساني نے بعض اصحاب سے روایت کیا کہ الله تعالی نے داود علیہ السلام پر الوحی کی کہ میں نے تمھارے گناہ بخش دیے

الکافی ج ٤ ص ٢٧٠  کی آدم علیہ السلام سے متعلق روایت میں  ہے

فقال له جبرئيل: إن الله عزوجل قد غفر ذنبك وقبل توبتك وأحل لك زوجتك

پس جبریل نے آدم علیہ السلام سے کہا الله نے اپ کے گناہ بخش دیے

معلوم ہوا کہ ٣٠٠ ہجری تک اہل تشیع میں  عصمت انبیاء کا عقیدہ متفقہ نہ تھا کلینی اور قمی کا اس پر اختلاف تھا –  تفسیر القمی المتوفی ٣٢٩ ھ میں  لکھا گیا

حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا محمد بن احمد عن محمد بن الحسين عن علي ابن النعمان عن علي بن أيوب عن عمر بن يزيد بياع السابري، قال: قلت لابي عبدالله عليه السلام قول الله في كتابه ” ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر ” قال: ما كان له من ذنب ولا هم بذنب ولكن الله حمله ذنوب شيعته ثم غفرها له

عمر بن يزيد بياع السابري نے امام ابو عبد الله سے کہا الله تعالی کا قول ہے  تو انہوں نے فرمایا ان سے  گناہ نہیں ہوتا نہ وہ گناہ گار ہوتے ہیں لیکن الله نے ان کے شیعوں کے گناہ لئے ہیں اور ان کو بخشا ہے

یہ قول امام جعفر سے منسوب ہے  جبکہ الکافی میں ان کے بیٹے  انبیاء کے گناہ کا ذکر کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے گناہ بخشے گئے

من ذنبك وما تأخر کی شرح اہل سنت  میں

اس آیت میں اہل لغت کا مفسرین کا کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں ذنب کا مطلب وہی ہے جو معروف ہے یعنی گناہ

صحیح ابن حبان کے مطابق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَوْلِهِ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 2]، قَالَ: [ص:93] نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَإِنَّ أَصْحَابَهُ قَدْ أَصَابَتْهُمُ الْكَآبَةُ وَالْحُزْنُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:  «أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» فَتَلَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ بَعْدَهَا: {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} الآية [الفتح: 5].

انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آیت رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپس پر نازل ہوئی اور ان کے اصحاب حزن و تکلیف میں تھے پس رسول الله نے فرمایا کہ مجھ پر آیت نازل ہوئی جو دنیا اور اس میں جو کچھ سے اس سب سے بڑھ کر مجھ کو پسند ہے

کتاب کشف الباری اردو شرح صحیح البخاری ج ٢ از سلیم الله خان میں ہے

من ذنبك وما تأخر کی شرح مسعود احمد کی نظر میں

اپنی اس تحقیق میں مسعود احمد نے اہل تشیع کو خوب داد دی اور اہل سنت کے علماء کو دوسروں کہہ کر لتاڑا

مزید لکھا

چنانچہ مسعود بی ایس سی ترجمہ کرتے ہیں

یعنی اپنے مخصوص جامد سوچ کے ساتھ موصوف یہاں تک گئے کہ قرآن میں تحریف معنوی تک کر گئے اور اس کو اپنی تحقیق کی اپج قرار دیا موصوف نے ذنب کا ترجمہ الزامات کر دیا ہے جو ١٤٠٠ سو سال میں عربی لغت کا ایک شاندار اضافہ ہے اور اس مفھوم کو صرف انبیاء تک مخصوص کیوں کیا جہاں جہاں قرآن میں ذنب آئے اس کو الزام سے بدل دیا جائے تو کیا خوب رہے  صوفیوں کا ایک گروہ ایسا بھی گزرا ہے جو کہتا تھا کہ قرآن میں جہاں کافر ہو اس کو مومن پڑھو اور جہاں مومن ہو اس کو کافر پڑھو کو مطلب اور سمجھ میں آئے گا – موصوف بھی اسی ڈگر پر چلے اورعجیب و غریب ترجمہ  کر گئے

عصمت انبیاء کا عقیدہ  قرن اول میں نہ دوم میں نہ سوم میں کہیں نہیں ملتا اس کو ائمہ کی وفات کے بعد اہل تشیع کے غالی لوگوں نے گھڑا اور ان سے بحث میں بعض متکلمین نے اس کو محدود انداز میں  لیا اور یہاں تک کہ سن ٤٠٠ ہجری کے بعد اس کو قبولیت عامہ مل گئی

قرآن میں ہے
واذ قال ابراهيم لابيه آزر أتتخذ اصناما آلهة انى اريك وقومك في ضلال مبين

اس پر تفسیر قمی میں ہے
حدثني ابى عن صفوان عن ابن مسكان قال قال ابوعبدالله عليه السلام ان آزر ابا ابراهيم كان منجما لنمرود بن كنعان فقال له انى ارى في حساب النجوم ان هذا الزمان يحدث رجلا فينسخ هذا الدين ويدعو إلى دين آخر، فقال نمرود في أي بلاد يكون؟ قال في هذه البلاد، وكان منزل نمرود بكونى ربا (كوثي ريا خ ل)

ابن مسکان نے کہا امام ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا ازر ابراہیم کے والد، نمرود کے ایک منجم تھے

یعنی ابي الحسن علي بن ابراهيم القمي کے دور تک اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ ازر باپ نہیں تھا
اس کی وجہ اہل تشیع کے عقیدہ میں ارتقاء ہے جو معصوم عن الخطا کے حوالے سے ہے کہ جو معصوم ہے اس کی نسل بھی معصوم ہوتی ہے اور یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ سن ٣٢٩  ہجری تک اہل تشیع اس عقیدہ میں ہم خیال نہیں تھے

کتاب حقائق الإيمان (أو حقيقة الإيمان والكفر). از زين الدين   العاملي الشهير بالشهيد الثاني  کے مطابق

فهل يعتبر في تحقق الإيمان أم يكفي اعتقاد إمامتهم ووجوب طاعتهم في الجملة؟ فيه الوجهان السابقان في النبوة. ويمكن ترجيح الاول، بأن الذي دل على ثبوت إمامتهم دل على جميع ما ذكرناه خصوصا العصمة، لثبوتها بالعقل والنقل.
و ليس بعيدا الاكتفاء بالاخير، على ما يظهر من حال (2) رواتهم ومعاصريهم من شيعتهم في أحاديثهم عليهم السّلام، فان كثيرا منهم ما كانوا يعتقدون عصمتهم لخفائها عليهم، بل كانوا يعتقدون أنهم علماء أبرار، يعرف ذلك من تتبع سيرهم وأحاديثهم وفي كتاب أبي عمرو الكشي (1) رحمه اللّه جملة مطلعة على ذلك، مع أن المعلوم من سيرتهم عليهم السّلام مع هؤلاء أنهم كانوا حاكمين بايمانهم بل عدالتهم.

کیا امامت پر اعتقاد اور ان کی فی جملہ اطاعت کرنا ایمان کے لئے کافی ہے یا تحقیق ایمان میں معتبر ہے ؟ تو اس میں دو رخ ہیں جو نبوت میں گزرے ہیں اور اس میں پہلے کی ترجیح کا امکان ہے کہ ان ائمہ کی امامت کا ثبوت ہی دلالت کرتا ہے کہ جو ہم نے ذکر کیا اس پر خصوصا عصمت پر اس پر عقلی و نقلی ثبوت ہیں اور اس میں دوسرے پر بھی بھروسہ کیا جا سکتا ہی جو حال احوال سے ہم پر ظاہر ہوا کہ ان ائمہ سے روایت کرنے والے اور ان کے ہم عصر لوگ جو ان کے شیعوں میں سے ہیں احادیث کی روایت کرنے میں تو ان میں اکثریت ان کی ہے جو ان کی عصمت کا عقیدہ نہیں رکھتے کہ ان پر یہ چھپا رہا  بلکہ یہ ان ائمہ کو نیک جاننے کا عقیدہ رکھتے  تھے – اس کو وہ جانتا ہے جو ان کی احادیث پر سے گزرتا ہے جو کتاب ابو عمرو الکشی میں ہے  کہ ائمہ علیہم السلام کی سیرتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کی عدالت کا حکم کرتے ہیں ان کے ایمان کا حکم نہیں

یہ شیعہ عالم شهيد الثاني  کی گواہی ہے کہ ائمہ سے روایت کرنے والے  اکثر وہ ہیں جو عصمت انبیاء کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے

تفسیر قمی میں سوره  المومن کی تفسیر میں ہے

قال: حدثني أبي عن الحسن بن محبوب عن علي بن رياب عن ضريس الكناني عن أبي جعفر عليه السلام قال قلت له جعلت فداك ما حال الموحدين المقرين بنبوة محمد صلى الله عليه وآله من المسلمين المذنبين الذين يموتون وليس لهم إمام ولا يعرفون ولايتكم؟ فقال: اما هؤلاء فانهم في حفرهم لا يخرجون منها فمن كان له عمل صالح ولم يظهر منه عداوة فانه يخد له خدا إلى الجنة التي خلقها الله بالمغرب فيدخل عليه الروح في حفرته إلى يوم القيامة حتى يلقى الله فيحاسبه بحسناته وسيئاته فاما إلى الجنة واما إلى النار فهؤلاء الموقوفون لامر الله قال: وكذلك نفعل بالمستضعفين والبله والاطفال وأولاد المسلمين الذين لم يبلغوا الحلم، واما النصاب من أهل القبلة فانهم يخد لهم خدا إلى النار التي خلقها الله في المشرق فيدخل عليهم اللهب والشرر والدخان وفورة الحميم إلى يوم القيامة ثم بعد ذلك مصيرهم إلى الجحيم

ضريس الكناني نے امام ابی جعفر سے روایت کیا کہ میں نے پوچھا .. ان موحدوں کا کیا حال ہو گا جو نبوت محمدی کا اقرار کرتے ہوں مسلمانوں میں سے جو گناہ گار ہوں جو مر جائیں اور ان کا کوئی امام نہ ہو  اور نہ وہ اس کو پہچانتے ہوں کہ اس کی ولایت ہے ؟ پس ابو جعفر نے کہا  یہ سب (برزخ) گڑھے میں ہوں گے اس میں سے نکل نہ سکیں گے تو ان میں سے جس کا عمل اچھا ہو گا اور عدوات اہل بیت نہ ظاہر ہوئی ہو گی تو ان کو  جنت کی طرف لے جایا جائے گا جو الله نے مغرب کی طرف بنائی ہے  اس میں گڑھے میں ان کی روح قیامت تک رہے گی یہاں تک کہ الله سے ملاقات ہو تو ان کی نیکیوں کا اور گناھوں کا  حساب لے گا پھر یا تو جنت ہے یا جہنم ہے اور اگر جہنم ہوئی تو ان کا امر الله پر موقف ہے اور کہا اور ایسا ہی کمزوروں کے ساتھ ہو گا اور مصیبت زدہ اور بچے اور اولاد مسلمین کے ساتھ جو جوانی کو نہ  پہنچے ہوں اور جہاں تک ناصبی اہل قبلہ ہیں تو ان کو اگ میں ڈالا جائے گا جو الله نے مشرق میں خلق کی ہے جس میں اگ اور انگارے اور دھواں ہے اور گرم پانی کا چشمہ قیامت تک کے لئے پھر ان کو جحیم کی طرف لے جایا جائے گا

یعنی اہل سنت کے نیک لوگ جو ائمہ کو نہیں پہچانتے ہوں گے وہ بھی جنت میں جائیں گے معلوم ہوا کہ قمی کے دور تک ایمانیات میں عصمت انبیاء  و معصومین کے عقیدہ کا تو ذکر ہی نہیں تھا

قرآن میں جو عقیدہ پیش کیا گیا ہے اس کو قبول کرنا ہی صحیح ہے نہ کہ عقائد میں اضافہ کرنا اور وہ آراء لینا جن کی جڑیں قرآن میں نہ ہوں – انبیاء سے بشر ہونے کی بنا پر اجتہاد میں چند مقام پر خطا ہوئی ، ان کے مقام و مرتبہ کی بنا پر رب العزت نے اس کی فورا پکڑ کی اور بعد میں ان کو بخش بھی دیا یھاں تک کہ انبیاء علیھم السلام تمام گناہوں سے پاک اس دنیا سے رخصت ہوئے

This entry was posted in Aqaid, innovations. Bookmark the permalink.

5 Responses to معصوم عن الخطا کا عقیدہ

  1. محمد حمیر یوسف says:

    السلام علیکم

    اخی محترم عصمت انبیاء کے بارے میں یہ دلائل مجھے ایک ویب سائٹ سے ملے۔ ان کے بارے میں آپ کیا عرض کریں گے؟

    —————————————————————————-
    قرآن کریم کی متعدد آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ انبیاء کرام ہر گناہ ، خطا و لغزش سے معصوم (محفوظ) ہوتے ہیں، چنانچہ ذیل میں ہم چند آیات کے ترجمہ بطور دلیل پیش کرتے ہیں :
    ” (یہی وہ لوگ ہیں) جن کو خدا نے ہدایت کی ہے، تو تم انہیں کی راہ چلو۔”
    (قرآن مجید، سورہ انعام 6، آیت : 90)
    اس آیت شریف سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیا ء کرام کے اسماء کا ذکر کیا ہے، اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے : ”میں نے ان کے آباء و اولاد میں سے بھی بعض کو رسول بنایا، اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی خود خدا نے ہدایت کی۔آیت مبارکہ” فَبِہُداہُمُ اقْتَدِہْ“(یعنی انہیں کی راہ )سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمومی ہدایت نہیں ہے ،بلکہ ایک ایسی ہدایت ہے جو صرف انبیاءعلیہم السلام سے مخصوص ہے، لہٰذا اس ہدایت اور امتیاز کے ہوتے ہوئے کوئی نبی گناہ نہیں کرسکتا ،اور نہ وہ ہدایت کے راستے سے گمراہ ہوسکتا ہے، چنانچہ دوسری آیت میں صراحت کے ساتھ ارشاد ہوا :
    “اور جسے اللہ ہدایت دےاسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔”
    (قرآن مجید ، سورہ زمر 39، آیت : 37)
    مذکورہ دونوں آیتوں کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی ہدایت و راہنمائی اللہ تعالیٰ نے کی ہے، اور ہدایت بھی ایسی کی ہے کہ گناہ صغیرہ کا بھی کوئی نبی و رسول ارتکاب نہیں کرسکتا،لہٰذا جب ضلالت ،گمراہی اور گناہ ان سے سرزد نہیں ہو سکتا تو اب دوسرے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ان بر گزیدہ افراد کی پیروی کریں۔

    • Islamic-Belief says:

      سلام اخی

      یقینا یہ قرآن میں موجود ہے کہ انبیاء کی اتباع کی جائے لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ

      آدم علیہ السلام کی طرح شجر ممنوعہ سے کھایا جائے
      یونس علیہ السلام کی طرح فرار کیا جائے
      نوح علیہ السلام کی طرح عذاب کے وقت اپنے رشتہ داروں کی سفارش کی جائے
      موسی علیہ السلام کی طرح الله کو براہراست دیکھنے کا مطالبہ کیا جائے
      داود علیہ السلام کی طرح خلیفہ کے منصب میں تصرف کیا جائے

      ان اعمال کے بعد انبیاء کی توبہ کا بھی قرآن و حدیث میں ذکر ہے اگر یہ گناہ نہ ہوتے تو ان کے بعد معافی مانگنا چہ معنی دراد؟

      یہ بات تلخ ہے لیکن یہ بھی قرآن میں ہے اس کا مقصد ہمکو سمجھانا ہے کہ بشر ہونے کی وجہ سے انبیاء ایسا کر گئے لیکن الله نے ان کو معاف کر دیا یہاں تک کہ وہ معصوم عن الذنب اس دنیا سے گئے اور تمام جنت میں پہنچ گئے اب محشر میں ان سے اس حوالے سے بازپرس نہیں ہو گی

      اگر ہو گی تو اس بات پر کہ کیا انہوں نے توحید کا علم اپنی اقوام دیا تھا ؟ جیسا کہ نصرانی دعوی کریں گے کہ عیسیٰ ہم کو ابن الله کا حکم کر گیا لہذا اس وقت الله تعالی سوره المائدہ کی آیات ہے کہ عیسیٰ سے باز پرس کریں گے اور حق واضح ہو گا

      یہ راقم کی رائے ہے- اپ اس پر اعتراض پیش کریں تو ہم دونوں اس پر مزید غور کرتے ہیں

  2. وجاہت says:

    صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابٌ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان (باب)

    3019

    . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ، فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ

    حکم : صحیح 3019

    ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ان سے سعید بن مسیب اورابوسلمہ نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ایک چیونٹی نے ایک نبی ( عزیر یا موسیٰ علیہ السلام ) کو کاٹ لیا تھا ۔ تو ان کے حکم سے چیونٹیوں سے سارے گھر جلا دئے گئے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ اگر تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو تم نے ایک ایسی خلقت کو جلا کر خاک کر دیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی ۔

    اس حدیث پر یہ سوالات کیے گیۓ ہیں

    Sahih al-Bukhaari: An ant knocks a prophet from the prophets, and the Prophet burns the village. . Source: Saheeh al – Bukhari book Jihad and walk the door if burned the Muslim polytheist H 3019 p. 743. . Of the strange Bukhari: The prophet of the prophets is burning the entire village of ants Why ?? For he is only an ant of his disc. It was narrated in the book of Sharhad al-Sari in Sahih al-Bukhaari that the Prophet is Musa bin Imran. . We attach. 1 – Prophets of God the greatest patience and wider chest and higher degree of what is happening Almkhvvim .. Is not these prophets who bear the hardships of the message and prophecy and subjected to all kinds of injustice and criminalization patiently !! So why the Prophet of God Moses can not afford an ant ?? . 2 – Why punish every nation Ant? What are they ??? . . This is some of the myths of Abu Hurayrah in Saheeh al-Bukhaari

    • Islamic-Belief says:

      ایک نبی نے چیونٹی کو ہلاک کیا

      اعتراض
      انبیاء تو صابر ہوتے ہیں وہ یہ نہیں کر سکتے
      تمام چیونٹییوں کو ہلاک کیوں کیا

      جواب
      انبیاء تبلیغ میں صبر کرتے ہیں لیکن اس کے سوا مختلف انبیاء کا مزاج الگ الگ ہے

      موسی نے قبطی کا قتل کیا سوره قصص
      سلیمان نے ہدہد کو قتل کرنے کی دھمکی دی سوره النمل

      اور اگر ہدہد جواب نہ لاتا تو ذبح ہی کیا جاتا
      —–
      تمام چیونٹییوں کا قتل کا حکم کیا – اس چیز پر الله کی جانب سے نبی کی سرزنش کی گئی اور اس کو غلطی کہا گیا
      اہل سنت کے لئے دلیل ہوئی کہ انبیاء معصوم نہیں تھے

      سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی بات سنی کہ راستہ خالی کرو ایسا نہ ہو لشکر سلیمان کے قدمووں تلے قتل ہو جاؤ
      حتى إذا أتوا على واد النمل قالت نملة يا أيها النمل ادخلوا مساكنكم لا يحطمنكم سليمان وجنوده وهم لا يشعرون

      لیکن ان سے پہلے اور بعد میں کتنے ہی انبیاء زمین پر گھوڑوں پر چلے اس کی وجہ سے چونٹی کا قتل نہ ہوا ہو گا ؟
      یقینا ہوا ہو گا

      پھر کیا صرف چونتی ہی الله کی تسبیح کر رہی ہے ؟ تمام عالم کر رہا ہے اس میں حشرات الارض بھی شامل ہیں جانور پرندے بھی ہیں مثلا کوا ہے چوہا ہے گرگٹ ہے شریعت میں ان کے قتل کا حکم ہے
      ———-

      شریعت میں جو چیز منع ہے وہ اگ سے جلا کر قتل کرنا
      اس روایت میں ہے
      فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ
      نبی نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا پس ان کو جلا دیا گیا

      اس حدیث سے شارحین نے یہی مطلب لیا ہے

      ———
      اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ نبی نے جلا کر قتل کرنے کا حکم کیا یہ تو ان کے متبعین نے کیا ہو گا حدیث کے الفاظ ہیں کہ انہوں نے قتل کا حکم کیا تھا – اس میں طریقہ کا تعین خود نہیں کیا تھا

      مثلا حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اگ سے جلا کر قتل کرنے سے منع کیا لیکن علی رضی الله عنہ کو یہ حکم نہیں پہنچا تھا انہوں نے اپنے شیعوں میں سے ابن سبا کو جلا کر قتل کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *