معاویہ و یزید کے خلاف چارج شیٹ

محرم کی آمد ہے اور امت پر اس ماہ میں اصحاب رسول و صالحین پر شب و شتم جائز ہو جاتا ہے- علماء و ذاکرین دل کھول کر بھڑاس نکالتے ہیں – ان پیشہ وروں کی اصلاح تو نا ممکن ہے لیکن ہم نے حسب موقعہ محرم کی مناسبت سے اصحاب رسول اور ان کی اولاد کے لئے ایک چارج شیٹ تیار کی ہے تاکہ ہمارے قارئین ان مقدمات کو سمجھ سکیں

یہ لسٹ ہماری نہیں ہے ایک غیر مقلدین کی ویب سائٹ سے لی ہے – افسوس رافضیوں کو کیا کوسین – اہل سنن اور  سلف کے متبع ہی اس میں اس قدر مشغول ہیں کہ کسی اور کا کیا شکوہ کریں

غیر مقلدین کی  سرخ لسٹ دیکھتے ہیں اور اس پر ہم تبصرہ کریں گے

لسٹ ہے

اول : عید کے خطبات نماز سے پہلے کیے جانے لگے۔ صحیح بخاری کتاب العیدین
دوم: نمازیں لیٹ پڑھائی جانے لگیں صحیح بخاری و صحیح مسلم
سوم: حج میں تلبیہ پڑھنے سے روکا جانے لگا سنن نسائی
چہارم : علی پر جمعہ اور عید کے خطبوں میں لعن کیا جانے لگا سنن ابو داود ،مسند احمد
پنجم: سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین پر عمل ختم ہوتا جا رہا تھا۔ سلسلہ احادیث الصحیحہ
ششم : زكاة کا بے جا مصرف کیا جانے لگا مصنف ابن ابی شیبہ ، اروء الغلیل للالبانی
ہفتم : ظلم وجبر سے امت کو خاموش کروایا گیا بخاری ، مسلم ،ابوداود
ہشتم: محرمات سے نکاح ہوا
نہم: یزید شرابی تھا
دھم: یزید کتوں اور بندروں سے کھیلتا تھا

اول  : عید کے خطبات نماز سے پہلے کیے جانے لگے۔ صحیح بخاری کتاب العیدین

صحیح بخاری کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدٌ بن أسلم عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلاَةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَهْوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ فَجَبَذَنِي فَارْتَفَعَ، فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ. فَقَالَ: يا أَبَا سَعِيدٍ، قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ. فَقُلْتُ مَا أَعْلَمُ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ. فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ”.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عید  الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ جاتے اور سب سے پہلے عید نماز پڑھاتے  اور سلام پھیرنے کے بعد  لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے، لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں  وعظ و نصیحت فرماتے اور نیکی کا حکم دیتے، پھر اس کے بعد اگر کسی مہم پر صحابہ کرام کو روانہ کرنا ہوتا تو افراد چن کر روانہ کر دیتے، یا کسی کام کا حکم دینا ہوتا تو حکم دے کر گھروں کی جانب واپس روانہ ہوتے  ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : لوگوں کا اسی پر عمل جاری و ساری رہا ، یہاں تک کہ میں مدینہ کے گورنر مروان کے ساتھ عید الاضحی یا عید الفطر کے موقع پر عید گاہ گیا  ، جب ہم عید گاہ پہنچے تو وہاں کثیر بن صلت نے منبر بنایا ہوا تھا، تو مروان نے نماز سے قبل منبر پر چڑھنا چاہا  تو میں نے اس کے کپڑے سے کھینچا، تو مروان اپنا کپڑا چھڑوا کر منبر پر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے لوگوں سے خطاب کیا، اس  پر میں [ابو سعید] نے کہا:  اللہ کی قسم ! تم نے دین بدل دیا ہے   تو مروان نے کہا:  ابو سعید  جو باتیں تم جانتے ہو [ان کا دور ]اب نہیں رہا
ابو سعید نے جواب دیا:  اللہ کی قسم  جو باتیں میرے علم میں ہیں وہ ان سے کہیں بہتر ہیں جو میرے علم میں نہیں ہیں
مروان نے کہا:  لوگ نماز کے بعد ہمارے خطاب کیلیے بیٹھتے  نہیں تھے، اس لیے میں نے اپنے خطاب کو ہی نماز سے پہلے کر دیا

اس میں معاویہ رضی الله عنہ کا قصور کیا ہے اس دور میں کوئی ان کو ایس ایم ایس میسج بھیج کر بتا دیتا کہ مدینہ میں مروان نے ایسا کیا تو وہ اس کو روک دیتے اور کیا یہ خطبہ سننے سے بچنے کے لیے لوگ چلے گئے یہ کیا صحیح تھا ؟ اگر یہ لوگ عید کا خطبہ نہیں سننا چاہتے تھے تو یہ تو واجب نماز تھی – فرض جمعہ میں کیا ہوتا تھا اس پر کتب خاموش ہیں کون کون اس خطبہ  جمعہ کو چھوڑتا تھا ؟

اسنادی نکات : روایت عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ  المتوفی ٧٤ ھ کی سند سے ہے

محدثین کے مطابق یہ سماع صحیح ہے البتہ ثقات ابن حبان میں ہے

عِيَاض بْن عَبْد الله يروي عَن أَبِيه عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ روى عَنهُ سَلمَة بْن كهيل وَلَيْسَ هَذَا بِابْن أبي سرح

عِيَاض بْن عَبْد الله جو اپنے باپ سے وہ ابو سعید سے روایت کرنا ہے وہ ابن ابی سرح نہیں ہے

مسئلہ یہ ہے کہ عِيَاض بْن عَبْد الله کا سماع ابو سعید سے اگر ہے تو مدینہ میں ہی دیگر اصحاب نبی مثلا جابر بن عبد الله سے کیوں نہیں ہے جبکہ یہ بھی ایک ہی دور کے مدنی اصحاب رسول ہیں دوسری طرف محدثین میں سے بعض  نے کہا ہے یہ مکہ کے ہیں

وقال ابن يونس:عياض بن عبد الله بن سعد بن أبى سرح   ولد بمكة، ثم قدم مصر، فكان مع أبيه، ثم خرج إلى مكة، فلم يزل بها حتى مات

ابن یونس  نے کہا عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح مکہ میں پیدا ہوا پھر باپ کے ساتھ مصر گیا پھر مکہ لوٹا اور وہیں  رکے یہاں تک کہ وفات ہوئی

جبکہ تاریخ الکبیر امام بخاری میں  ہے يُعَدُّ فِي أهل المَدِينة ان کاشمار اہل مدینہ میں ہے – ثقات ابن حبان میں ہے  عِدَادُهُ فِي أهل الْمَدِينَة ان کا شماراہل مدینہ میں ہے

راقم کو عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح کی جابر رضی الله عنہ سے کوئی مسند روایت نہیں ملی

عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح کا ابو سعید رضی الله عنہ سے روایت کرنا اور جابر رضی الله عنہ  سے روایت  نہ کرنا عجیب بات ہے جبکہ جابر رضی الله عنہ کی وفات کہا جاتا ہے ٧٨  میں ہوئی ہے

—————

مصنف عبد الرزاق کی روایت  5644  ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ،  عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، لَمَّا رَأَى النَّاسَ يَنْقُصُونَ فَلَمَّا صَلَّى حَبَسَهُمْ فِي الْخُطْبَةِ».

يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ کہتے ہیں کہ عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا عمر رضی الله عنہ نے شروع کیا  جب دیکھا کہ لوگ کم ہونے لگے ہیں

یہی بات یوسف نے عثمان رضی الله عنہ کے لئے بھی بولی

اور امام الزہری کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ  نے اس کو شروع کیا

معمر کہتے ہیں ان کو پہنچا کہ عثمان اپنی خلافت کے آخری دور میں ایسا کرتے تھے

ابن حجر فتح الباری ج ٢ ص ٤٥٠ میں لکھتے ہیں کہ نماز عید سے پہلے خطبہ عثمان بھی دیتے تھے

وَسَيَأْتِي فِي الْبَابِ الَّذِي بَعْدَهُ أَنَّ عُثْمَانَ فَعَلَ ذَلِكَ أَيْضًا لَكِنْ لِعِلَّةٍ أُخْرَى

اور آگے باب میں ہے کہ عثمان بھی ایسا کرتے تھے لیکن اس کی وجہ اور ہے

کتاب : كوثَر المَعَاني الدَّرَارِي في كَشْفِ خَبَايا صَحِيحْ البُخَاري از محمَّد الخَضِر بن سيد عبد الله بن أحمد الجكني الشنقيطي (المتوفى: 1354هـ) کے مطابق عید کی نماز سے پہلے خطبہ دینا

وقيل بل سبقه إليه عثمان؛ لأنه رأى ناسًا لم يدركوا الصلاة فصار يقدم الخطبة رواه ابن المنذر بإسناد صحيح إلى الحسن البصري

عثمان نے کیا کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ لوگ نماز میں نہیں آ رہے پس خطبہ کو پہلے کیا اس کو ابن المنذر نے صحیح اسناد سے حسن بصری سے روایت کیا ہے

ابو مسعود عقبة بن عمرو بن ثعلبة  رضی الله عنہ کی وفات ٣٩ یا ٤٠ ہجری میں ہوئی اور مصنف عبد الرزاق کی روایت 5648  ہے

 عَبْدُ الرَّزَّاقِ،   عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَقُولُ: «خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ – أَوْ أَضْحَى – هُوَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي مَسْعُودٍ حَتَّى أَفْضَيْنَا إِلَى الْمُصَلَّى، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ الْكِنْدِيُّ قَدْ بَنَى لِمَرْوَانَ مِنْبَرًا مِنْ لَبِنٍ وَطِينٍ، فَعَدَلَ مَرْوَانُ إِلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى حَاذَى بِهِ فَجَاذَبْتُهُ لِيَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ»، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، تُرِكَ مَا تَعْلَمُ، فَقَالَ: كَلَّا وَرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا نَعْلَمُ ثُمَّ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ

عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْح کہتے ہیں کہ ابو سعید سے سنا کہ میں مروان کے ساتھ یوم فطر یا عید الاضحی پر نکلا اور میرے اور مروان کے درمیان ابی مسعود تھے یہاں تک کہ نماز کی جگہ پہنچے پس کثیر بن الصلت نے مروان کے لئے ایک منبر بنوایا ہوا تھا جس پر مروان چڑھا پھر اس پر سے نماز کے لئے اٹھا  پس کہا اے ابو سعید چھوڑ دیا جس کو تم جانتے تھے اس پر ابو سعید نے کہا ہرگز نہیں مشارق و مغارب کے رب کی قسم تم اس خیر تک نہیں پہنچو گے جس کو ہم جانتے ہیں – پھر خطبہ شروع کیا

عینی عمدہ القاری میں لکھتے ہیں

وَزَاد عبد الرَّزَّاق عَن دَاوُد ابْن قيس وَهُوَ بيني وَبَين أبي مَسْعُود، يَعْنِي: عقبَة بن عَمْرو الْأنْصَارِيّ

ابی مسعود سے مراد عقبَة بن عَمْرو الْأنْصَارِيّ  ہیں

کثیر بن صلت کے لئے ابن سعد طبقات میں واقدی کے حوالے سے لکھتے ہیں

وَلَهُ دَارٌ بِالْمَدِينَةِ كَبِيرَةٌ فِي الْمُصَلَّى وَقِبْلَةُ الْمُصَلَّى فِي الْعِيدَيْنِ إِلَيْهَا.

ان کا ایک بڑا گھر مدینہ میں تھا مصلی کے ساتھ اور اس میں عیدیں کے لئے مصلی کا قبلہ تھا

یہ روایت المسنَد الصَّحيح المُخَرّج عَلى صَحِيح مُسلم از  أبو عَوانة يَعقُوب بن إسحَاق الإسفرَايينيّ (المتوفى 316 هـ) میں بھی ہے جہاں اس میں ابی مسعود صحابی کا ذکر ہے

سیر الاعلام النبلاء میں الذھبی کہتے ہیں

قال المدائني وغيره: تُوُفيّ سنة أربعين. وقال خليفة تُوُفيّ قبل الأربعين وقال الواقدي: مات في آخر خلافة معاوية بالمدينة.

المدائني اور دیگر نے کہا کہ ان کی وفات ٤٠ ھ میں ہوئی اور خلیفہ نے کہا ٤٠ سے بھی پہلے  اور واقدی نے کہا کہ معاویہ کی خلافت میں مدینہ میں

ابن حبان ، مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار   میں کہتے ہیں

مات بالكوفة في خلافة على بن أبى طالب وكان عليها واليا له

ان کی وفات کوفہ میں علی رضی الله عنہ کی خلافت میں ہوئی ان کی طرف سے وہاں کے والی تھے

الأعلام میں  الزركلي الدمشقي (المتوفى: 1396هـ) کہتے  ہیں ابی مسعود : ونزل الكوفة. وكان من أصحاب علي،  فاستخلفه عليها لما سار إلى صفين (انظر عوف بن الحارث) وتوفي فيها  کی وفات کوفہ میں ہوئی

جمہور محدثین و مورخین کے مطابق ابی مسعود رضی الله عنہ کی وفات دور علی میں کوفہ میں ہوئی

یعنی ابی مسعود تو کوفہ میں دور علی میں وفات پا گئے تو اب وہ مروان کا دور کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ دور معاویہ کا ہے ہی نہیں – یہ دور عثمان کا ہو گا جب مروان کو کسی بنا پر امیر مقرر کیا گیا ہو گا   اور مروان اور ابی مسعود اور ابو سعید الخدری نے ساتھ نماز پڑھی

 اگرچہ متاخرین  شارحیین نے جمہور کا قول چھوڑ کر  واقدی کے قول پر اعتماد کیا ہے  اور دعوی کیا ہے  ابی مسعود نے  معاویہ کے دور میں وفات پائی

راقم کہتا ہے واقدی کا  منفرد قول  جمہور کے مقابلے پر شاذ ہے ابی مسعود کا انتقال دور علی میں ہوا

عثمان رضی الله عنہ کے دور میں جمعہ کی نماز بازار میں ہوتی تھی کیونکہ لوگ زیادہ تھے – اسی طرح عید کی واجب نماز میں ابن منذر کے بقول انہوں نے خطبہ پہلے دیا کہ لوگ جمع ہو لیں

راقم کی رائے میں روایت میں ابی مسعود کی موجودگی سے پتا چلتا ہے کہ یہ دور معاویہ کا واقعہ ہے ہی نہیں

شیعہ عالم کتاب الدرجات الرفيعة- السيد علي ابن معصوم ، عقبة بن عمرو رضی الله عنہ پر کہتے ہیں
وقال أبو عمرو كان قد نزل الكوفة وسكنها واستخلفه على في خروجه إلى صفين. ومات سنة احدى أو اثنتين أو أربعين والله أعلم
ابو عمر نے کہا کہ یہ کوفہ آئے اور اس میں رکے اور علی نے ان کو صفین جاتے وقت امیر کوفہ کیا اور یہ سن ٤٢ یا ٤١ میں مرے

یعنی شیعوں اور سنیوں کے بقول عقبة بن عمرو رضی الله عنہ دور معاویہ سے پہلے دور حسن میں انتقال کر گئے تھے
تو پھر راقم کہتا ہے کھینچ تان کر کے اس روایت کو دور معاویہ تک کیسے لایا جا سکتا ہے؟

سن ٣١ ہجری کا واقعہ ہے جو صحیح البخاری میں ہی ہے

حدیث نمبر: 3717حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ وَقَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”.ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور (زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔

یعنی یہ خطبہ کو پہلے کرنے  کا واقعہ عثمان رضی الله عنہ کی بیماری کی وجہ سے پیش آیا جس میں اپ حج پر نہ جا سکے اور اتنے بیمار ہوئے کہ وصیت تک کر دی-  عقبة بن عمرو بن ثعلبة الخزرجي، أبو مسعود البدري کی وجہ سے یہ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ دور عثمان کا ہے اور مدینہ کا ہے تو خطبہ عید دینا عثمان رضی الله عنہ کا کام ہے مروان کا نہیں ہے – مروان کا یہ کام کرنا بطور علت ہے جس کی وجہ نکسیر پھوٹنے کی بیماری ہے اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں ہو سکتی

مصنف عبد الرزاق میں ہے
ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، لَمَّا رَأَى النَّاسَ يَنْقُصُونَ فَلَمَّا صَلَّى حَبَسَهُمْ فِي الْخُطْبَةِ».
یوسف نے کہا جس نے عید کی نماز میں خطبہ پہلے کیا وہ عمر ہیں جب دیکھا کہ لوگ کم ہو گئے ہیں

تاریخ أبي زرعة الدمشقي میں ہے
حدثنا خلف بن هشام المقرئ قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد قال: غدوت مع يوسف بن عبد الله بن سلام في يوم عيد، فقلت له: كيف كانت الصلاة على عهد عمر ؟ قال: كان يبدأ بالخطبة، قبل الصلاة ـ

يحيى بن سعيد  نے کہا میں نے يوسف بن عبد الله بن سلام کے ساتھ عید کے دن پوچھا کہ عہد عمر میں عید کی نماز کیسی تھی ؟ کہا عمر بن خطاب خطبہ دیتے  نماز عید سے پہلے

ان آثار کو محدثین نے غریب یعنی منفرد کہا ہے لیکن اس کو رد نہیں کیا کیونکہ سند میں کوئی ایسی علت نہیں کہ ان کو غیر صحیح قرار دیا جائے –  معلوم ہوا کہ عموم یہ ہے کہ نماز پہلے پھر  خطبہ دیا جاتا تھا لیکن کسی وجہ سے اس کو آگے پیچھے عمر رضی الله عنہ نے کیا ہے عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے

الأوسط از ابن المنذر میں ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يُصَلُّونَ ثُمَّ يَخْطُبُونَ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَأَى أَنَّهُمْ لَا يُدْرِكُونَ الصَّلَاةَ خَطَبَ ثُمَّ صَلَّى
حسن بصری نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں ابی بکر کے دور میں عمر کے دور میں عثمان کے دور میں نماز ہوتی پھر خطبہ لیکن جب لوگ زیادہ ہوئے دور عثمان میں تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ نماز کو نہیں پاتے تو انہوں نے خطبہ کیا پھر نماز

یعنی لوگوں کو اتے اتے وقت لگتا اور نماز چھوٹ جاتی لہذا آسانی کی وجہ سے ہوا – بہر حال حسن بصری نے ان تمام ادوار کو نہیں دیکھا لہذا کسی نے ان کو خبر دی ہو گی اس کے برعکس یوسف نے ان ادوار کو دیکھا ہے

کتاب الام میں شافعی نے جو روایت دی وہ ہے
أخبرنا الرَّبِيعُ قال أخبرنا الشَّافِعِيُّ قال أخبرنا إبْرَاهِيمُ قال حدثني دَاوُد بن الْحُصَيْنِ عن عبد اللَّهِ بن يَزِيدَ الْخِطْمِيِّ أَنَّ النبي صلى اللَّهُ عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَبْتَدِئُونَ بِالصَّلَاةِ قبل الْخُطْبَةِ حتى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فَقَدَّمَ الْخُطْبَةَ.
رسول الله، ابو بکر عمر اور عثمان سب نماز کے بعد خطبہ عید دیتے لیکن جب معاویہ آئے تو انہوں نے خطبہ پہلے کر دیا

راقم کہتا ہے اس کی سند میں إبراهيم بن أبي يحيى الأسلمي ہے جو متروك الحديث ہے

فتح الباری میں ابن حجر نے لکھا ہے
وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عُثْمَانُ فَعَلَ ذَلِكَ أَحْيَانًا بِخِلَافِ مَرْوَانَ فَوَاظَبَ عَلَيْهِ فَلِذَلِكَ نُسِبَ إِلَيْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ مِثْلُ فِعْلِ عُثْمَانَ قَالَ عِيَاضٌ وَمَنْ تَبِعَهُ لَا يَصِحُّ عَنْهُ وَفِيمَا قَالُوهُ نَظَرٌ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّزَّاقِ وبن أبي شيبَة روياه جَمِيعًا عَن بن عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَهَذَا إِسْنَاد صَحِيح
اور احتمال ہے اس طرح خطبہ پہلے کرنا عثمان رضی الله عنہ نے کبھی کبھی کیا ہے … اور روایت کیا گیا ہے کہ ایسا عمر نے بھی کیا ہے اور قاضی عِيَاضٌ اور ان کی اتباع کرنے والوں نے کہا ہے یہ صحیح نہیں اس پر نظر ہے اور مصنف عبد الرزاق اور ابن ابی شیبہ میں دونوں نے اس کو .. یوسف بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ  کی سند سے روایت کیا ہے اور یہ سند صحیح ہے

أبو العبَّاس أحمَدُ بنُ الشيخِ کتاب المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم میں کہتے ہیں
وقد رُوِيَ أنَّ أوَّلَ مَنْ فعل ذلك عمر بن الخَطَّاب ، وقيل : عثمان ، وقيل : عَمَّار ، وقيل : ابن الزبير ، وقيل : معاوية ـ رضى الله عنهم ـ … فإنْ صحَّ عن واحدٍ مِنْ هؤلاء أنَّه قدَّم ذلك ، فلعلَّه إنما فعل ؛ لمَا رأى من انصرافِ الناسِ عن الخُطْبة ، تاركين لسماعها مستعجلين ، ، أو ليدرك الصلاَة مَنْ تأخَّر وبَعُدَ منزلُهُ.
اور روایت کیا گیا ہے سب سے عید کی نماز کرنا بھر خطبہ دینا عمر نے کیا اور کہا جاتا ہے عثمان نے کیا اور کہا جاتا ہے عمار نے کیا اور کہا جاتا ہے ابن زبیر نے کیا اور کہا جاتا ہے معاویہ نے کیا پس اگر یہ ان سب سے صحیح ہیں جن کا ذکر کیا تو ہو سکتا ہے انہوں نے ایسا کیا ہو جب دیکھا کہ لوگ خطبہ پر جا رہے ہیں اور جلدی میں خطبہ نہیں سن رہے اور نماز میں دیر کر رہے ہیں

راقم کہتا ہے اگر کوئی بیماری عام ہو یا کوئی اور وجہ ہو مثلا قحط وغیرہ تو ایسا کیا جا سکتا ہے

دوم:  نمازیں لیٹ پڑھائی جانے لگیں  صحیح بخاری و صحیح مسلم

معاویہ و یزید پر یہ الزام ثابت نہیں ہے یہ عبد الملک بن مروان کے دور کا ذکر ہے کہ اس میں کہا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف نماز وقت پر نہیں پڑھاتا تھا

صحیح میں ہے

وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ الحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي المَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: «إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلاَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ»، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «صَدَقَ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالعَصْرِ فِي السُّنَّةِ»، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: «وَهَلْ تَتَّبِعُونَ فِي ذَلِكَ إِلَّا سُنَّتَهُ»

حجاج بن یوسف کو یوم عرفہ میں نماز میں جمع کرنا بتایا گیا

بعض روایات میں ہے کہ وہ نماز لیٹ کرتا تھا لیکن ان میں ایک راوی کا تفرد ہے

مسند ابو داود الطیالسی کی روایت ہے کہ حجاج نماز میں تاخیر کرتا جس پر محمد بن عمرو بن الحسن نے جابر بن عبد الله سے سوال کیا

ثنا شعبة، عن سعد بن إبراهيم، قال: سمعت محمد بن عمرو بن الحسن يقول:  لما قدم الحجاج بن يوسف كان يؤخر الصلاة، فسألنا جابر بن عبد الله عن وقت الصلاة، فقال: كان رسول الله – عليه السلام – يصلي الظهر بالهجير أو حين تزول، ويصلي العصر والشمس مرتفعة، ويصلي المغرب حين تغرب الشمس، ويصلي العشاء يؤخر أحيانًا ويعجل أحيانًا، إذا اجتمع الناس عَجَّل، وإذا تأخروا أَخَّر، وكان يصلي الصبح بغلس أو قال: كانوا يصلونها بغلس  قال أبو داود: هكذا قال شعبة.

مسند دارمی میں ہے

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ – وَكَانَ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ – فَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ النَّبِيُّ صَلى الله عَليهِ وسَلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ, وَالْعَصْرَ,

صحیح مسلم میں ہے

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ

ان تمام میں سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف کا تفرد ہے جو امام مالک کے نزدیک متروک ہے

امام بخاری نے اسی کی سند سے باب وقتِ المغرب میں اس کو روایت کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ کہ حجاج نماز لیٹ کرتا تھا بیان نہیں کیے جس کا مطلب ہے یہ الفاظ ان کے نزدیک غیر محفوظ تھے

عن محمد بن عمْرو بن الحسن بن علي قال: قدِم الحَجَّاج فسألْنا جابرَ بن عبدِ اللهِ [عن صلاة النبي – صلى الله عليه وسلم] فقالَ:  كان النبيُّ – صلى الله عليه وسلم – يصَلي الظهرَ بالهاجرةِ، والعصرَ والشمسُ نقيَّةٌ، والمغربَ إذا وَجبتْ، والعشاءَ أحياناً وأحياناً؛ إذا رآهم اجتمَعوا عجَّل، وإذا رآهُمْ أبطَؤا أخَّر، والصبحَ كانوا أو كانَ النبيُّ – صلى الله عليه وسلم – يصَليها بغلَسٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کی وفات معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں ٥٩ ہجری میں ہوئی سنن نسائی میں ایک حدیث ہے

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
ما صلَّيتُ وراءَ أحدٍ أشبَهَ صلاةً برسولِ اللَّهِ من فلانٍ ، فصلَّينا وراءَ ذلِكَ الإنسانِ وَكانَ يطيلُ الأوليينِ منَ الظُّهرِ ، ويخفِّفُ في الأخريينِ ، ويخفِّفُ في العصرِ ، ويقرأُ في المغربِ بقصارِ المفصَّلِ ، ويقرأُ في العشاءِ ب الشَّمسِ وضحاها وأشباهِها . ويقرأُ في الصُّبحِ ، بسورتينِ طويلتين(صحيح النسائي:982)
میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو فلاں شخص سے بڑھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھاتا ہو۔ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا تھا اور آخری وہ ہلکی پڑھاتا تھا۔ وہ عصر کی نماز بھی ہلکی پڑھاتا تھا۔ وہ مغرب کی نماز میں چھوٹی مفصل سورتیں پڑھتا تھا اورعشاء کی نماز میں (والشمس وضحھا) اور اس جیسی سورتیں پڑھتا تھا۔ اور صبح کی نماز میں لمبی سورتیں پڑھتا تھا۔

بنو امیہ کے گورنروں کے پیچھے نماز پڑھنے والے ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی یہ شہادت کافی ہے

معاویہ رضی الله عنہ نے مدینہ پر عتبہ کو پھر سعید بن ابی العاص کو پھر مروان بن الحکم کو گورنر مقرر کیا یہ تمام اموی ہیں اور اغلبا ان تین میں سے کسی ایک کی نماز پر ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی رائے ہے کہ وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی نماز جیسی تھی

بعض  اہل سنت نے اس میں شخص سے مراد عمر بن عبد العزیز کو لیا ہے جبکہ ان کی پیدائش سن ٦١ ہجری کی ہے یعنی ابوہریرہ رضی الله عنہ کی وفات کے بعد پیدائش ہوئی ہے

سوم: حج میں تلبیہ پڑھنے سے روکا جانے لگا سنن نسائی

 کیا معاویہ رضی الله تعالی عنہ نے سنت رسول کو بدلا

امام نسائی نے سنن میں، ابن خزیمہ نے صحیح میں ،امام حاکم مستدرک میں  یہ روایت  بیان کی اور کہا هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ  کہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی روایت ہے کہ

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عرفات میں ابن عبّاس رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا وجہ کے کہ لوگ لبیک نہیں کہہ رہے؟ میں نے کہا کہ لوگ معاویہ سے خوف زدہ ہیں. پھر ابن عبّاس باہر آئے لبیک کہا اور کہا کہ علی سے بغض کی وجہ سے انہوں  نے سنت رسول ترک کر دی

سند ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:  مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟   قُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ:  لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ

اس کی سند میں منہال بن عمرو ہے جس کو امام جوزجانی سی المذہب یعنی بد عقیدہ کہتے ہیں اور یہ الفاظ جوزجانی شیعہ راویوں کے لئے کہتے ہیں

اس روایت کو البانی  صحيح الإسناد کہتے ہیں بعض لوگوں کے بقول یہ روایت  خالد بن مخلد القطواني المتوفی ٢١٣ ھ  شیعہ کی وجہ سے صحیح نہیں جس کی وفات خلیفہ مامون کے دور میں ہوئی ہے حالانکہ اس کی سند میں قرن اول کے راوی المنھال کا تفرد اہم ہے ظاہر قرن سوم کے شخص کا تفرد  تو بعد میں آئے  گا

یہی راوی منہال بن عمرو روایت کرتا تھا کہ

علی رضی الله تعالی عنہ نے کہا

أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ

میں عبد الله ہوں اور رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا بھائی ہوں اور میں سب سے بڑا صدیق ہوں، اس کا دعوی میرے بعد کوئی نہیں کرے گا سوائے كَذَّابٌ کے

امت آج تک صرف ابو بکر صدیق کو ہی صدیق کہتی آئی ہے جب کہ یہ راوی کہتا ہے کہ علی سب سے بڑے صدیق ہیں

چہارم : علی پر جمعہ اور عید کے خطبوں میں لعن کیا جانے لگا سنن ابو داود ،مسند احمد

جس وقت معاویہ و حسن رضی الله عنہما میں معاہدہ ہوا تو اس کی شق تھی کہ خلافت قبول کرنے کے بعد علی رضی الله عنہ پر کوئی تنقید ہماری یعنی اہل بیت کے سامنے نہیں ہو گی – چونکہ حسن رضی الله عنہ بہت سمجھ دار تھے اور جانتے تھے کہ اقتدار جب منتقل کر دیں گے تو فتنہ پرداز لوگ اس قسم کی  باتیں کر سکتے ہیں لہذا انہوں نے اس کو ایک شق بنا دیا اور اس پر عمل ہوا کہ علی رضی الله عنہ کی تنقیص نہیں کی جاتی تھی

معاویہ رضی الله عنہ کے گورنر صحابی رسول الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کے لئے ابن کثیر نے البدایہ و النہایہ میں لکھا ہے

وَكَانَ إِذْ كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَلَى الْكُوفَةِ إِذَا ذَكَرَ عَلِيًّا فِي خُطْبَتِهِ يَتَنَقَّصُهُ بَعْدَ مَدْحِ عُثْمَانَ

اور الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کوفہ میں خطبہ میں عثمان رضی الله عنہ کی تعریف کے بعد علی رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے تھے

اس روایت میں گالیاں دینے کا ذکر نہیں دوم اس کی سند ابن کثیر دیتے ہیں

وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ. قَالَ قَالَ سَلْمَانُ لِحُجْرٍ

اس کی سند کمزور ہے أَبِي إِسْحَاقَ السبيعي ایک کوفی شیعہ مدلس راوی ہے جس  نے اس کو پھیلایا ہے

اسی کی ایک دوسری روایت ہے جو ابو عبداللہ الْجَدَلِيّ سے سنی ہے

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي  إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الله الْجَدَلِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ لِي: أَيُسَبُّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ الله، أَوْ سُبْحَانَ الله، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا، فَقَدْ سَبَّنِي

ابو عبداللہ الْجَدَلِيِّ نے ہم سے بیان کیا کہ میں ام سلمہ کے پاس گیا تو آپ نے مجھے فرمایا، کیا تم میں رسول اللہ  کو سب و شتم کیا جاتا ہے؟ میں نے کہا معاذاللہ یا سبحان اللہ یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا  آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ  کو فرماتے سنا ہے جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔

ابن حجر کہتے ہیں ابو عبداللہ الْجَدَلِيّ  ثقة رمى بالتشيع ثقہ ہیں لیکن شیعیت سے متصف ہیں

طبقات ابن سعد کے مطابق

كان شديد التشيع. ويزعمون أنه كان على شرطة المختار

یہ شدید شیعہ تھے اور دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ مختار ثقفی کے پہرے دار تھے

قال الجوزجاني: كان صاحب راية المختار

الجوزجاني کہتے ہیں یہ  المختار کا جھنڈا اٹھانے والوں میں سے ہیں

کذاب مختار کے ان صاحب کی بات اصحاب رسول کے لئے کس طرح قبول کی جا سکتی ہے

مسند احمد کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: قَدْ عَلِمْتَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى» ، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟

زید بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: مغیرہ بن شُعْبَةَ نے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دی، تو اس پر زید بن ارقم کھڑے ہو گئے اور کہا:  تمہیں علم ہے کہ رسول ص نے مردہ لوگوں کو گالیاں دینے سے منع کیا ہے، تو پھر تم علی ابن ابی طالب پر کیوں سب کر رہے ہو جب کہ وہ وفات پا چکے ہیں؟

اس کی سند میں حجاج ابن أيوب مولى بني ثعلبة ہے جس کا حال مجھول ہے

مستدرک الحاکم میں اس کی دوسری سند ہے جس کو حاکم صحیح کہتے ہیں

عمرو بن محمد بن أبي رزين الخزاعي، عن شعبة، عن مسعر، عن زياد بن علاقة، عن عمه قطبة بن مالك

لیکن اس کی مخالف حدیث مسند احمد میں موجود ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:   نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ

الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مردوں کو برا کہنے سے منع کیا ہے

ایک طرف تو وہ خود یہ حدیث بیان کریں اور پھر اس پر عمل نہ کریں ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے

سنن ابو داود کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حُصَيْنٌ: أَخْبَرَنَا عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الْكُوفَةِ، اسْتَعْمَلَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: فَأَقَامَ خُطَبَاءَ يَقَعُونَ فِي عَلِيٍّ، قَالَ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَتَبِعْتُهُ فَقَالَ: أَلا تَرَى إِلَى هَذَا الرَّجُلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ الَّذِي يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّة (مسند احمد رقم 1644 سنن ابوداؤد رقم 4650)
جب معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو مغیرہ بن شعبۃ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور علی رضی اللہ عنہ کا ذکر برائی کے ساتھ کیا اس پر سعید بن زید رضی اللہ عنہ غصہ میں اپنا ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا اور کہا کیا اس ظالم شخص کو نہیں دیکھا جو کسی کے لیے ایک جنتی شخص کو لعنت دے رہا ہے۔

اس کی سند منقطع ہے النسائي  فضائل الصحابہ میں اس روایت کو پیش کرتے اور کہتے ہیں

هِلَال بن يسَاف لم يسمعهُ من عبد الله بن ظَالِم

هِلَال بن يسَاف نے عبد الله بن ظَالِم سے نہیں سنا

محدثین کے مطابق ان دونوں کے درمیان ابن حيان ہے جس کو میزان الاعتدال میں الذھبی نے مجھول قرار دیا ہے

ابن حيان [س] .عن عبد الله بن ظالم – لا يعرف.

مسلم کی بھی ایک روایت ہے

عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔

سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ نے سعد کو (ایک ) حکم دیا پس معاویہ نے  کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابو تراب [علی] پر سب و شتم نہ کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں اُن تین ارشادات نبوی کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے علی کے متعلق فرمائے تھے تو میں ہرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا۔ ان تین مناقب میں سے اگر ایک منقبت بھی میرے حق میں ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی

اس کی سند میں بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ہے  جن کے لئے امام بخاری کہتے ہیں

في حديثه بعض النظر

اس کی بعض حدیثیں نظر میں ہیں

بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ہی وہ راوی ہے جو روایت کرتا ہے کہ

وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»

جب آیت نازل ہوئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی فاطمہ حسن حسین کو بلایا اور کہا اے الله یہ میرے اہل بیت ہیں

امام بخاری اس روایت کے راوی پر جرح کرتے ہیں لیکن امام مسلم اس کو صحیح میں لکھتے ہیں

فيہ نظر بخاری کی جرح کا انداز ہے-  ابن حجر کی رائے میں اس نام کے دو لوگ ہیں ایک ثقہ اور ایک ضعیف لیکن بخاری کے نزدیک دونوں ایک ہی ہیں اور انہوں نے اس سے صحیح میں کچھ نہیں لکھا-  مسلم نے بھی تین روایات لکھی ہیں جن میں سے دو میں علی پر سب و شتم کا ذکر ہے اور یہی سند دی ہے

ابن کثیر لکھتے ہیں

وقال أبو زرعة الدمشقي‏:‏ ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن أبيه قال‏:‏ لما حج معاوية أخذ بيد سعد بن أبي وقاص‏.‏فقال‏:‏ يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك‏.‏قال‏:‏ فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه‏.‏فقال‏:‏ أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك،ثم وقعت في علي تشتمه ‏؟‏والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال حين غزا تبوكاً ‏(‏‏(‏إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ‏؟‏‏)‏‏)‏أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر‏:‏ ‏(‏‏(‏لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه، ليس بفرار‏)‏‏)‏ ‏(‏ج/ص‏:‏ 7/377‏)‏أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس، ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها الولد ماله أحب إليّ من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، لا أدخل عليك داراً بعد هذا اليوم، ثم نفض رداءه ثم خرج‏.‏

ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے انکی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا:  آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا،پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ رسول الله نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب آپ  غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو اپ نے  خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ  میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں  یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول الله  کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور اپ کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔ آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔

یہ روایت تاریخ کے مطابق غلط ہے اول تاریخ ابو زرعہ الدمشقی میں یہ موجود نہیں دوم سعد آخری وقت تک معاویہ کے ساتھ رہے سوم اس کی سند میں مدلس محمد بن اسحاق ہے جو عن سے روایت کرتا ہے چہارم معاویہ نے حج کے خطبہ میں علی پر سب و شتم کیوں نہیں کیا یہ موقعہ ہاتھ سے کیوں جانے دیا؟

 ابن ماجہ کی بھی ایک روایت ہے

حدثنا علي بن محمد حدثنا أبو معاوية حدثنا موسى بن مسلم عن ابن سابط وهو عبد الرحمن عن سعد بن أبي وقاص قال قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعدوقال تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من كنت مولاه فعلي مولاه وسمعته يقول أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وسمعته يقول لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله

حج پر جاتے ہوئے سعد بن ابی وقاص کی ملاقات معاویہ سے ہوئی اور جب کچھ لوگوں نے علی کا ذکر کیا تو اس پر معاویہ نے علی کی بدگوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص غضبناک ہو گئے اور کہا کہ تم علی کے متعلق ایسی بات کیوں کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ص کو کہتے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا، اُس اُس کا یہ علی مولا، اور یہ کہ اے علی آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون ع کو موسی ع سے تھی سوائے ایک چیز کہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، اور میں نے [رسول اللہ ] سے یہ بھی سنا ہے کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے۔

اس کی سند میں عبد الرحمن بن سابط و قيل ابن عبد الله بن سابط  المتوفی ١١٨ ھ ہیں جن کو ا بن حجر کہتے ہیں  ثقة كثير الإرسال –  کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل کے مطابق

  وقال يحيى بن معين لم يسمع من سعد بن أبي وقاص

یحیی بن معین کہتے ہیں انہوں نے  سعد بن أبي وقاص  سے نہیں سنا

ابن ماجہ کی اس روایت کو البانی صحیح کہتے ہیں جبکہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے

الغرض معاویہ یا مغیرہ رضی الله عنہ کا علی رضی الله عنہ پر سب و شتم ثابت نہیں ہے البتہ مروان کے دور میں بعض شر پسند یہ کرتے تھے مسلم کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ: فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا

ال مروان میں سے ایک شخص نے سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنہ المتوفی ٨٨ ھ  کے سامنے علی رضی الله عنہ پر لعنت کی جس پر انہوں نے اس کو نا پسند کیا

مورخین ابن اثیر ابن کثیر نے انہی روایات کو اپس میں ملا کر جرح و تعدیل پر غور کیے بغیر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ باقاعدہ معاویہ رضی الله عنہ اس کو کرواتے تھے جو صحیح نہیں ہے

پنجم:  سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین پر عمل ختم ہوتا جا رہا تھا۔ سلسلہ احادیث الصحیحہ

البانی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها جلد اول ص  ٨٢٣ پر معاویہ رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے ہوئے لکھتے ہیں

ووفاة النبي صلى الله عليه وسلم كانت في شهر ربيع الأول سنة إحدى عشرة هجرية، وإلى عام ثلاثين سنة كان إصلاح ابن رسول الله صلى الله عليه  وسلم  الحسن بن على السيد بين فئتين من المؤمنين بنزوله عن الأمر عام واحد وأربعين في شهر جمادى الآخرة، وسمي عام الجماعة لاجتماع الناس على معاوية، وهو أول الملوك، وفي الحديث الذي رواه مسلم:   سيكون خلافة نبوة ورحمة، ثم يكون ملك ورحمة، ثم يكون ملك وجبرية، ثم يكون ملك عضوض

نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات ربيع الأول میں ١١ ہجری میں ہوئی اور تیسوں سال میں اصلاح  رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بیٹے حسن بن علی سردار سے ہوئی کہ مومنوں کے گروہوں میں ایک امر پر اتفاق ہوا ٤١ ہجری جمادى الآخرة کے مہینہ میں اور اس کو عام الجماعة کا نام ملا کیونکہ لوگوں کا اجماع معاویہ پر ہوا اور وہ پہلا بادشاہ تھا اور مسلم کی حدیث جو انہوں نے روایت کی اس میں ہے پس خلافت نبوت و رحمت ہو گی پھر بادشاہت و رحمت ہو گی پھر بادشاہت و جبر ہو گا پھر ریاست بھنبھوڑنے والی ہو گی

البانی نے غلط کہا ایسی کوئی حدیث صحیح مسلم میں نہیں ہے

بھنبھوڑنے والی ریاست والی حدیث ہے

معجم ابن الأعرابي از أبو سعيد بن الأعرابي البصري الصوفي (المتوفى: 340هـ) اور طبرانی الکبیر  کی روایت ہے

نا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّايِغُ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ،  نا الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ الْغَنَوِيُّ، نا مُهَنَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتُمُ الْيَوْمَ فِي نُبُوَّةٍ وَرَحْمَةٍ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَكُونُ كَذَا وَكَذَا مُلُوكًا عَضُوضًا، يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَلْبَسُونَ الْحَرِيرَ، وَفِي ذَلِكَ يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ

حُذَيْفَةَ کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا آج تم پر نبوت و رحمت ہے پھر خلافت و رحمت ہو گی پھر ایسا ویسا ہو گا پھر ایسا ایسا ہو گا  بادشاہت بھنبھوڑنے والی ہو گی جو شراب پئیں گے اور ریشم پہنیں گے

اس کی سند میں مهند بن هشام القيسي الكوفي ہے جو مجھول ہے اس کو طبرانی کی سند میں العلاء بن المنهال نے ثقہ کہا ہے جبکہ اس کا حال نا معلوم ہے

خود العلاء بن المنهال کے لئے امام العقيلي کہتے ہیں : لا يتابع عليه اس کی روایات کی متابعت نہیں ہے

امام الذہبی نے ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں العلاء بن المنهال کے لئے کہا ہے فيه جهالة اس میں جہالت ہے یعنی یہ مجھول ہے

جبکہ أبو زرعة الرازي اور عجلی نے اس کو ثقہ کہا ہے

اسطرح العلاء بن المنهال تو مختلف فیہ ہو گیا اور یہ جس مُهَنَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْعَبْسِيُّ کو ثقہ کہتا ہے وہ مجھول ہے

ششم : زكاة کا بے جا مصرف کیا جانے لگا مصنف ابن ابی شیبہ ، اروء الغلیل از البانی 

إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل میں البانی نے صدقه فطر کی ایک روایت پر ح ٨٤٧ کے تحت بحث کی ہے

كنا نخرج زكاة الفطر إذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام , أو صاعا من شعير أو صاعا من تمر , أو صاعا من زبيب , أو صاعا من أقط

پھر اس پر کہا  کہ ترمذی میں اضافہ کے کہ ابو سعید نے وہ نہ کیا جو معاویہ نے کہا

فلما جاء معاوية , وجاءت السمراء قال:   أرى مدا من هذا يعدل مدين   – زاد الترمذى: من تمر. – قال: فأخذ الناس بذلك , قال أبو سعيد: فلا أزال

75- بَابُ صَاعٍ مِنْ زَبِيبٍ:باب: صدقہ فطر میں منقیٰ بھی ایک صاع دینا چاہیےحدیث نمبر:

  حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ الْعَدَنِيَّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيعِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  كُنَّا نُعْطِيهَا فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ وَجَاءَتْ السَّمْرَاءُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُرَى مُدًّا مِنْ هَذَا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ

.ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے یزید بن ابی حکیم عدنی سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو یا ایک صاع زبیب (خشک انگور یا خشک انجیر) نکالتے تھے۔ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور گیہوں کی آمدنی ہوئی تو کہنے لگے میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے

یعنی معاویہ نے دوسرے اناج میں ایک کی بجائے دو صاع نکالنے کا حکم دیا جو ایک سے زیادہ ہے ظاہر ہے یہ صدقه میں اضافہ ہے نہ کہ کمی

صحیح مسلم اور دیگر کتب میں ہے معاویہ نے کہا

إنى أرى أن مدين من سمراء الشام تعدل صاعا من تمر. فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ، أَبَدًا مَا عِشْتُ

میں دیکھتا ہوں کہ  گیہوں کے شام کے دو مد،  کھجور کے ایک صاع کے برابر ہیں – پس لوگوں نے ایسا کیا لیکن میں نے اس چیز کو نہیں چوڑا جو میں نکالتا تھا جب تک میں زندہ ہوں

اس کا مطلب ہے کہ شام میں مد کا جو پیمانہ چل رہا تھا وہ حجاز کے مد کے  پیمانے سے بڑا  تھا وہ مدینہ کے صاع کے برابر نہ تھا  اس لئے معاویہ جو شام سے آئے تھے ان کے قافلہ کے پاس شامی صاع ہونگے اور انہوں نے اس کو ناپتے ہوئے یہ حکم کیا کہ نیا صاع خریدنے کی بجائے اگر ہم پیمانہ کے تناسب کو لیں تو دو شامی مد، حجاز کے ایک صاع کے برابر ہے

مبارک پوری تحفہ الاحوذی میں لکھتے ہیں

تَنْبِيهٌ اعْلَمْ أَنَّ الصَّاعَ صَاعَانِ حِجَازِيٌّ وَعِرَاقِيٌّ فَالصَّاعُ الْحِجَازِيُّ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثُ رِطْلٍ وَالْعِرَاقِيُّ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ وَإِنَّمَا يُقَالُ لَهُ الْعِرَاقِيُّ لِأَنَّهُ كَانَ مُسْتَعْمَلًا فِي بِلَادِ الْعِرَاقِ مِثْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهَا وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّاعُ الْحَجَّاجِيُّ لِأَنَّهُ أَبْرَزَهُ الْحَجَّاجُ الْوَالِي وَأَمَّا الصَّاعُ الْحِجَازِيُّ فَكَانَ مُسْتَعْمَلًا فِي بِلَادِ الْحِجَازِ وَهُوَ الصَّاعُ الَّذِي كَانَ مُسْتَعْمَلًا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ كَانُوا يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ فِي عَهْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يُوسُفَ وَالْجُمْهُورُ وَهُوَ الْحَقُّ

تَنْبِيهٌ جان لو لہ صاع دو ہیں ایک حجازی ہے اور عراقی ہے – پس حجازی صاع پانچ أَرْطَالٍ یا تین أَرْطَالٍ کا ہے – اور عراقی صاع آٹھ أَرْطَالٍ کا ہے اور کہا جاتا ہے کہ عراق کے شہروں میں مثلا کوفہ اور دیگر میں جو صاع چلتا ہے اس کو حجاجی کہا جاتا ہے اور جہاں تک حجازی صاع کا تعلق ہے جو حجاز کے شہروں میں استمعال ہوتا ہے تو وہ وہ صاع ہے کو نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں چلتا تھا جس سے صدقه فطر نکالا جاتا تھا دور نبوی میں اور ایسا امام مالک ، الشافعی اور احمد اور یوسف اور جمہور کا کہنا ہے جو حق ہے

عراق كا صأع حجأز سے بڑا ہے – اور اسی طرح شام کا صاع کا پیمانہ الگ تھا

اگر یہ بات تھی تو پھر ابو سعید نے کیوں نہیں کیا ؟ ابو سعید نے اس لئے نہیں کیا کہ وہ اس کو محبوب رکھتے تھے کہ وہی کریں جو انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کرتے دیکھا اور تناسب والی بات کو باقی اصحاب نے سمجھ پر قبول کر لیا

عمدہ القاری میں علامہ عینی لکھتے ہیں

وَقَالَ النَّوَوِيّ: هَذَا الحَدِيث مُعْتَمد أبي حنيفَة، قَالَ بِأَنَّهُ فعل صَحَابِيّ، وَقد خَالفه أَبُو سعيد وَغَيره من الصَّحَابَة مِمَّن هُوَ أطول صُحْبَة مِنْهُ وَأعلم بِحَال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، وَقد أخبر مُعَاوِيَة بِأَنَّهُ رَأْي رَآهُ، لَا قَول سَمعه من النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، قُلْنَا: إِن قَوْله: فعل صَحَابِيّ، لَا يمْنَع لِأَنَّهُ قد وَافقه غَيره من الصَّحَابَة الجم الْغَفِير بِدَلِيل قَوْله فِي الحَدِيث: فَأخذ النَّاس بذلك، وَلَفظ النَّاس للْعُمُوم، فَكَانَ إِجْمَاعًا. وَلَا تضر مُخَالفَة أبي سعيد لذَلِك بقوله: أما أَنا فَلَا أَزَال أخرجه، لِأَنَّهُ لَا يقْدَح فِي الْإِجْمَاع، سِيمَا إِذا كَانَ فِيهِ الْخُلَفَاء الْأَرْبَعَة، أَو نقُول: أَرَادَ الزِّيَادَة على قدر الْوَاجِب تَطَوّعا.

امام نووی  نے کہا : اس حدیث پر امام ابو حنیفہ  نے اعتماد کیا ہے اور کہا یہ صحابی (معاویہ) کا فعل ہے اور ان کی مخالفت کی ہے ابو سعید نے اور دوسرے اصحاب نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے اور بے شک معاویہ نے خبر دی کہ وہ دیکھتے ہیں نہ کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے اس پر سنا- (عینی نے کہا) ہم (جوابا) کہتے ہیں  کہ ان (امام ابو حنیفہ) کا کہنا کہ صحابی کا فعل ہے اس سے منع نہیں کرتا کیونکہ اس میں معاویہ کی موافقت اصحاب رسول کے جم غفیر نے کی ہے اس میں دلیل حدیث ہے کہ اس کو لوگوں نے لیا اور لفظ الناس عموم ہے کہ اس پر اجماع ہوا اور ابو سعید کی مخالفت سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اس قول پر کہ   جہاں تک میں ہوں تو میں اس (صدقه فطر) کو نکالوں گا جیسا نکالتا تھا   کیونکہ انہوں نے اس اجماع پر قدح نہیں کیا خاص طور…. اس میں ارادہ ہے کہ جو مقدار واجب نفلی تھی اس سے زائد دیا گیا

ہفتم : ظلم وجبر سے امت کو خاموش کروایا گیا  بخاری ، مسلم ،ابوداود

البانی صاحب کتاب سلسلہ احادیث الصحیحہ میں ایک روایت کے شاہد پر دلیل دیتے ہیں

كما في  تفسير ابن كثير  (4/159) – عن عبد الله البهي قال:
إني لفي المسجد حين خطب مروان فقال: إن الله تعالى قد أرى أمير المؤمنين
في (يزيد) رأياً حسناً وأن يستخلفه، فقد استخلف أبو بكر عمر- رضي الله عنهما-. فقال عبد الرحمن بن أبي بكر- رضي الله  عنهما-: أهرقلية؟! إن أبا بكر- رضي الله عنه- ما جعلها في أحد من ولده، وأحد من أهل بيته، ولا جعلها معاوية  إلا رحمة وكرامة لولده! فقال مروان: ألست الذي قال لوالديه: (أفٍّ لكما) ؟ فقال

عبد الرحمن: ألست يا مروان! ابن اللعين الذي لعن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أباك؟! قال: وسمعتهما عائشة- رضي الله عنها-، فقالت: يا مروان! أنت القائل لعبد الرحمنكذا وكذا؟! كذبت! ما فيه نزلت، ولكن نزلت في فلان بن فلان. ثم انتحب
مروان (!) ثم نزل عن المنبر حتى أتى باب حجرتها، فجعل يكلمها حتى انصرف. قلت: سكت عنه ابن كثير، وهو إسناد صحيح.

 جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ

عبداللہ بہی نے کہا کہ ہم مسجد میں تھے جب مروان نے خطبہ دیا کہ اللہ نے معاویہ کو یزید کے بارے میں اچھی رائے دی ہے، کہ وہ انہیں اپنا خلیفہ بنائے جیسے ابو بکر نے عمر کو خلیفہ بنایا۔ عبدالرحمن بن ابو بکر نے کہا کہ کیا ہرقل  کے مطابق؟ ابوبکر نے اپنی اولاد میں کسی کو نہیں بنایا نہ اپنے گھر والوں میں، معاویہ اپنی اولاد پر رحمت و کرامت کر رہا ہے۔ مروان نے کہا کہ تہمارے لیے یہ آیت آئی ہے۔ اس پر عبدالرحمن نے کہا یہ اے مروان! کیا تم لعنتی کے بیٹے نہیں جس کے باپ پر اللہ کے رسول نے لعنت کی؟ یہ عائشہ رضی الله عنہا نے سنا تو انہوں نے کہا کہ اے مروان! تم عبدالرحمن کے لیے فلان فلان چیز کے قائل ہو؟ تم نے جھوٹ بولا، یہ فلان فلان کے لیے نازل ہوئی۔ مروان نیچے اترا جلدی سے، اور آپ کے حجرے پر آیا، کچھ بولا اور پھر چلا گیا۔ 

میں البانی یہ کہتا ہوں کہ ابن کثیر اس پر چپ رہے ہیں، مگر یہ سند صحیح ہے

عبد الله البھی کا عائشہ رضی الله عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے کتاب جامع التحصیل کے مطابق امام احمد کے نزدیک ان کا سماع نہیں ہے

عبد الله البهي سئل أحمد بن حنبل هل سمع من عائشة رضي الله عنها قال ما أرى في هذا شيئا إنما يروي عن عروة

اہم سوال ہے کہ کیا علی رضی الله عنہ نے ہرقل کی سنت پر عمل نہ کیا؟

ہشتم : محرمات سے نکاح ہوا

تاریخ الطبری دار التراث – بيروت ج ٥ ص ٤٨٠  کے مطابق

 قَالَ لوط: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا مُحَمَّد بن عَبْدِ الْعَزِيزِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عوف ورجع المنذر من عِنْدَ يَزِيد بن مُعَاوِيَة، فقدم عَلَى عُبَيْد اللَّهِ بن زياد الْبَصْرَة… فأتى أهل الْمَدِينَة، فكان فيمن يحرض الناس عَلَى يَزِيد، وَكَانَ من قوله يَوْمَئِذٍ: إن يَزِيد وَاللَّهِ لقد أجازني بمائة ألف درهم، وإنه لا يمنعني مَا صنع إلي أن أخبركم خبره، وأصدقكم عنه، وَاللَّهِ إنه ليشرب الخمر، وإنه ليسكر حَتَّى يدع الصَّلاة

منذربن الزبیر اہل مدینہ کے پاس آئے تو یہ ان لوگوں میں سے تھے جو لوگوں کو یزید بن معاویہ کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ اور یہ اس دن کہتے تھے : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دئے، لیکن اس نے مجھ پر جو نوازش کی ہے وہ مجھے اس چیز سے نہیں روک سکتی کہ میں تمہیں اس کی خبر بتلاؤں اور اس کے متعلق سچ بیان کردوں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یزید شرابی ہے اور شراب کے نشے میں نماز بھی چھوڑ دیتا ہے

أبو مخنف، لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف الكوفي ہے متروک راوی ہے

وقال الدارقطني: ضعيف

 وقال يحيى بن معين: ((ليس بثقة)). وقال مرةً أخرى: ((ليس بشيء)). ثقه نہیں ، کوئی چیز نہیں

وقال ابن عدي: ((شيعي محترق، صاحب أخبارهم)) اگ لگانے والا شیعہ ہے

 الطبقات الكبرى ، دار الكتب العلمية – بيروت، ج ٥ ص ٤٩ میں ہے

اخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيم عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَنْ غَيْرِهِمْ أَيْضًا. كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي. قَالُوا: لَمَّا وَثَبَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيَالِيَ الحرة فأخرجوا بَنِي أُمَيَّةَ عَنِ الْمَدِينَةِ وَأَظْهَرُوا عَيْبَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَخِلافَهُ أَجْمَعُوا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ فَأَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَيْهِ فَبَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ وَقَالَ: يَا قَوْمُ اتَّقُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لا شريك له. فو الله مَا خَرَجْنَا عَلَى يَزِيدَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ نُرْمَى بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ. إِنَّ رَجُلا يَنْكِحُ الأُمَّهَاتِ وَالْبَنَاتَ وَالأَخَوَاتِ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَيَدَعُ الصَّلاةَ

جب اہل مدینہ نے حرہ کے موقع پر فساد کیا، بنوامیہ کو مدینہ سے نکال دیا گیا ، یزید کے عیوب کا پرچار  اس کی مخالفت کی تو لوگوں نے عبداللہ بن حنظلہ کے پاس آکر اپنے معاملات انہیں سونپ دئے ۔ عبداللہ بن حنظلہ نے ان سے موت پر بیعت کی اور کہا: اے لوگو ! اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرو ! اللہ کی قسم ہم نے یزید کے خلاف تبھی خروج کیا ہے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہوا کہ ہم پر کہیں آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے کہ ایک آدمی ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کرتا ہے ، شراب پیتا ہے اور نماز چھوڑتا ہے

اس کی سند میں  أبو عبد الله، محمد بن عمر بن واقد، الواقدي ، الأسلمي مولاهم، المدني ہیں. الواقدی  قاضي بغداد تھے عبد الله بن بريدة، الأسلمي کے آزاد کردہ غلام تھے سن ٢٠٧ ھ میں وفات ہوئی  انکو محدثین متروك مع سعة علمه یعنی اپنی علمی وسعت کے باوجود متروک ہیں کہتے ہیں

الواقدي کٹر شیعہ ہیں اس وجہ سے انکی روایت  نہیں لی جا سکتی ورنہ تاریخ اور جرح و تعدیل کی کتابوں میں انکے اقوال راویوں کی وفات کے حوالے سے قابل قبول ہیں اگر یہ کسی کو شیعہ کہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ بھی کٹر شیعہ ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … أَنْ ذَكَرَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ. فَقَالَ: إِنِّي خَرَجْتُ كَرْهًا بِبَيْعَةِ هَذَا الرَّجُلِ. وَقَدْ كَانَ مِنَ الْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ خُرُوجِي إِلَيْهِ. رَجُلٌ يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَيَنْكِحُ الْحُرُمَ

معقل بن سنان نے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کا ذکر کیا اور کہا: میں اس شخص کی بیعت سے کراہت کی وجہ سے نکلا ہوں ، اور اس کی طرف جانا ،قضاو قدر میں تھا ۔یہ ایسا آدمی ہے جو شراب پیتا ہے ، محرمات سے نکاح کرتا ہے

اسکی سند میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ زِيَاد ہے جو مجھول ہے دوسرے الواقدی شیعہ بھی ہے

 وہ کون کون سی محرم عورتیں تھیں جن کا اس سے نکاح تھا ان کی لسٹ ہے کسی کے پاس ہے تو پیش کرے
انہوں نے جو بچے جنے ان کے کیا نام تھے کسی نسب کی کتاب میں ہیں؟

نہم:  یزید شرابی تھا 

تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 220 و تاريخ طبرى، ج 6، ص 170. ابن اثير در كامل (ج 3، ص 503-505) کے مطابق یزید بندروں سے کھیلتا تھا

ابن اثیراور طبری  نے لکھا  کہ ابو مخنف نے روایت کیا حسن نے کہا

قَالَ أَبُو مخنف: عن الصقعب بن زهير، عن الْحَسَن، قَالَ: أربع خصال كن فِي مُعَاوِيَة، لو لَمْ يَكُنْ فِيهِ منهن إلا واحدة لكانت موبقة: انتزاؤه عَلَى هَذِهِ الأمة بالسفهاء حَتَّى ابتزها أمرها بغير مشورة مِنْهُمْ وفيهم بقايا الصحابة وذو الفضيلة، واستخلافه ابنه بعده سكيرا خميرا، يلبس الحرير ويضرب بالطنابير،

یزید ریشم پہنتا ہے اور شرابی ہے

 أبو مخنف، لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف الكوفي ہے متروک راوی ہے

دھم:  یزید کتوں اور بندروں سے کھیلتا تھا

المنتظم في تاريخ الأمم والملوك میں ابن جوزی نے لکھا

عبد الله بن حنظلة الغسيل، والمنذر بن الزبير نے کہا

ويلعب بالكلاب

یہ کتوں سے کھیلتا ہے

سند میں واقدی ہے

تاریخ طبری ج ١٠ ص ٦٠ پر ہے معاویہ نے اپنے بیٹے کی خلافت پر بلایا

ودعاؤه عباد الله الى ابنه يزيد المتكبر الخمير، صاحب الديوك والفهود والقرود

جو متکبر شرابی تھا  مرغوں، چیتوں اور بندروں والا

یہ تمام اقوال نہایت کمزور سندوں سے ہیں – لیکن اگر مان لیں صحیح ہیں تو اس میں کیا برائی ہے ؟  یزید کو چڑیا گھر کا شوق ہو گا- آج ساری دنیا چڑیا گھر جا جا کر دیکھ رہی ہے اگر نہ جائے تو مسلمانوں کا خلیفه نہ جائے

کیا اصحاب کہف کا کتا نہیں تھا؟

شکار کے لئے کتوں کو پالنا  جائز ہے اس کا ذکر احادیث میں ہے

حسن و حسین رضی الله عنہما بھی کتوں سے کھیلتے تھے سنن ابو داود کی حسن حدیث ہے

حدَّثنا أبو صالحٍ محبوبُ بنُ موسى، حدَّثنا أبو إسحاق الفزَاريُّ، عن يونَس بن أبي إسحاق، عن مجاهدٍ
حَدّثنا أبو هُريرة، قال: قال رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم -: أتاني جبريلُ عليه السلام، فقال لي: أتيتُكَ البارحَةَ فلم يمنعْني أن أكونَ دخلتُ إلا أنَّه كانَ على الباب تماثيلُ، وكان في البيت قِرَامُ سِتْرٍ فيه تماثيلُ، وكان في البيت كلْبٌ، فَمُرْ برأسِ التِّمثَالِ الذي على بابِ البيت يقْطَعُ فيصيرُ كهيئةِ الشجرة، ومُرْ بالسِّترِ، فليُقْطَع، فيُجعَلُ منه وسادَتَان مَنبوذتانِ تُوطآن، ومُرْ بالكلب فليُخرَج” ففعل رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم -، وإذا الكلبُ لحَسَنٍ أو حُسين كان تحتَ نَضَدٍ لهم، فأمر به فأخْرِجَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں (دروازے پر)ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے”، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب ۴۴ (۲۸۰۶)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ۶۰ (۵۳۶۷)،

تلك عشرة كاملة

جھگڑا کیا ہوا ؟

معاویہ اور حسین رضی الله عنہما میں اختلافات حسن رضی الله عنہ کی وفات کے بعد ہوئے جس میں فریقین نے ایک دوسرے سے کلام نہیں کیا اور اختلاف اندر ہی اندر بڑھتا رہا

حسن و معاویہ رضی الله عنہما میں  جو معائدہ ہوا اس کی شقیں تھیں

بحوالہ  عمرو بن غرامة العمروي محقق تاریخ دمشق دار الفكر

 أن يعمل معاوية بالمؤمنين بكتاب الله وسنة نبيه صلى الله عليه وآله وسلم وسيرة الخلفاء الصالحين من بعده

معاویہ مومنوں کے ساتھ کتاب الله اور سنت النبی صلی الله علیہ وسلم کے مطابق عمل کریں گے اور ان کے بعد انے والے صالح خلفاء کی سیرت کے مطابق

المدائني کی سند سے شیعہ مورخ ابن أبي الحديد کتاب شرح النهج 4 / 8 میں لکھا ہے کہ کتاب الله اور سنت نبی پر عمل کا عہد ہوا  فتح الباري کے مطابق سیرت خلفاء صالحین پر عمل کا عہد ہوا

ليس لمعاوية أن يعهد لاحد من بعده عهدابل يكون الامر من بعده شورى بين المسلمين

معاویہ کسی کو بھی جانشین مقرر نہیں کریں گے اور ان کے بعد معاملہ مسلمانوں کی شوری کے پاس ہو گا

المدائني کہتا ہے یہ عہد بھی ہوا کہ معاویہ کسی کو جانشیں نہ کریں گے

 أن يكون الامر للحسن من بعده

امر خلافت معاویہ کے بعد حسن کو ملے گا

تاريخ الخلفاء للسيوطي ص 194 والاصابة 2 / 12 – 13 کے مطابق یہ عہد ہوا کہ خلافت واپس حسن کو ملے گی معاویہ کی وفات کے بعد

 أن لا يشتم عليا وهو يسمع

ابن اثیر کے مطابق حسن کے سامنے علی پر شتم نہ ہو گا کہ وہ سن رہے ہوں

اور شیعہ کتاب  مقاتل الطالبيين کے مطابق

أن يترك سب أمير المؤمنين والقنوت عليه بالصلاة 

علی پر نماز میں قنوت پڑھنا بند ہو گا اور ان کو گالی دینا بند ہو گا

تاریخ طبری   6 / 92 کے مطابق حسن و حسین کو مال ملے گا

 يسلم ما في بيت مال الكوفة خمسة آلاف ألف للحسن وله خراج دارابجرد 

خمسة آلاف ألف کوفہ کے بیت المال سے حسن کو دیے جائیں گے اور دار ابجرد کا خراج بھی

اور الاخبار الطوال ص 218 أبو حنيفة الدينوري  کے مطابق ان کے بھائی حسین کو

أن يحمل لاخيه الحسين في كل عام ألفي الف

ہر سال  حسین کو ٢٠٠٠ ملیں گے

اپ دیکھ سکتے ہیں ان شقوں میں تضاد ہے امیر المومنین حسن رضی الله عنہ جب معاویہ سے معائدہ کر رہے تھے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پہلے انتقال کر جائیں گے یا قتل یا شہید ہوں گے کیونکہ انہوں نے اس پر عھد کیا کہ امر خلافت واپس ان کو ملے گا- متاخرین شیعہ نے اس معائدہ میں اضافہ کیا کہ معاویہ کی موت پر یہ مسئلہ شوری طے کرے گی جبکہ شوری کا کوئی رول قابل قبول نہیں ہے کیونکہ خلافت واپس حسن پر لوٹ اتی جس سے ظاہر ہے کہ اصل عھد تھا کہ خلافت حسن کو واپس ملے گی-  أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن أبي سيف المدائني المتوفی ٢٢٤ ھ کا قول منفرد  ہے یہ بات ان کے حوالے سے شیعہ و سنی کتابوں میں ہے ان سے قبل کسی نے اس کو بیان نہیں کیا

حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ھجری میں وفات ہوئی – سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کر کے امّت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا – اس حملے میں جلیل القدر اصحاب رسول بھی ساتھ تھے – سن ٥١ ھجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور اس وقت عائشہ رضی الله عنہا حیات تھیں جن کی وفات معاویہ رضی الله عنہ کی وفات سات تین یا سات سال پہلے ہوئی ہے گویا کم از کم یزید کی بیعت کی دعوت تین سال تک دی جاتی رہی اور حسین رضی الله عنہ نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ وہ کسی معائدہ کی خلاف ورزی نہیں کر رہے تھے حسن کی وفات ہو چکی تھی لہذا امر خلافت ان کو نہیں لوٹ سکتا تھا  معاویہ فیصلہ کرنے میں آزاد تھے اور انہوں نے امت کو اس پر سوچنے کا پورا موقعہ دیا کہ کسی کو اختلاف ہو تو پیش کرے- حسین رضی الله عنہ کو یہ بات پسند نہ آئی لیکن انہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار بھی نہیں کیا یہاں تک کہ کوفہ کے ان کے حامیوں نے ان کو خط لکھ کر کوفہ بلوایا اور جب بات ظاہر کی اس وقت تک دیر ہو چکی تھی یزید امیر تھے اور حسین  کے لئے وہ اقتدار نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ وہ اسی طرح خلیفہ ہوئے جس طرح علی نے حسن کو خلیفہ کیا تھا جو حسین کے باپ علی کی سنت تھی اور سنت علی پر  چلنا بھی عھد کی شق تھا جیسا  تاریخ میں ہے

اس لئے یہ جھگڑا بڑھا اور اگلے ١٥٠ سال تک بنو ہاشم خلفاء کے خلاف خروج کرتے رہے جن میں کچھ اولاد حسن میں سے ہیں کچھ اولاد حسین میں سے ہیں کچھ عباس رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں یعنی ہر ٢٠ سال بعد ایک خروج ہوا اور یہاں تک کہ عباسی خلافت تک میں خروج ہوتے رہے جبکہ دونوں بنو ہاشم ہی تھے- ان تمام  خروج میں کامیابی صرف بنو عباس کو ہوئی جو سنی عقیدہ رکھنے والے بنو ہاشم  تھے اور ان کی شادیان شیعہ عقیدہ کے حامل بنو ہاشم میں بھی ہوئیں- بہت سے راوی جو الکافی کے راوی ہیں وہ بنو عباس کے درباری تھے مثلا عبد الله بن سنان، ان کے کاتب یا خزانچی  تھے- اس طرح شیعہ و سنی دونوں اسلامی خلافت میں اپنے اپنے اختلاف کے ساتھ جیتے رہے اس دوران بعض سیاسی خروج سے خود اثنا عشری شیعہ بھی پریشان ہوئے اور ان کی حمایت نہیں کی مثلا قرامطہ اسماعیلی شیعہ تھے لیکن بہت متشدد اور گمراہ تھے جنہوں نے حجر اسود کو اکھاڑ کر کوفہ پہنچایا ،  ان سے اسماعیلی شیعہ جو مصر میں تھے وہ بھی نا خوش تھے

الغرض ایک واقعہ جو ٦١ ہجری میں ہوا اس  کو اس طرح بیان کرتے  رہنا کہ گویا اہل بیت اور غیر اہل بیت ہر وقت جھگرتے رہے تاریخ کو مسخ کرنا ہے

This entry was posted in history. Bookmark the permalink.

49 Responses to معاویہ و یزید کے خلاف چارج شیٹ

  1. وجاہت says:

    kiya yeh qawl sahih hai

    سفیان بن عینہ فرماتے ہیں
    سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: مَا كَانَتْ فِي عَلِيٍّ خَصْلَةٌ تَقْصُرُ بِهِ عَنِ الْخِلَافَةِ، ولم يكن في معاوية خصلة ينازع بها علياً.(البدایہ و النھایہ ترجمہ معاویہ رضی اللہ عنہ جلد 8 ص 130)
    ترجمہ: سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں علی رضی اللہ عنہ میں ایک خامی نہیں تھی کہ وہ خلافت کہ اہل نہیں تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ میں ایک خوبی نہیں تھی کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی۔

    • Islamic-Belief says:

      یہ بات امام علی المدینی سے منسوب کی ہے کہ امام سفیان نے ایسا کہا سند تلاش پر نہیں ملی
      تاریخ دمشق میں ہے
      قال علي بن المديني: سمعت سفيان يقول: ما كانت في علي خصلة تقصر به عن الخلافة، ولا كانت في معاوية خصلة ينازع علياً بها.
      قال إبراهيم بن سويد: قلت لأحمد بن حنبل: من الخلفاء؟ قال: أبو بكر وعمر وعثمان وعلي. قلت: فمعاوية؟ قال: لم يكن أحد أحق بالخلافة في زمان علي من علي رضي الله عنه، ورحم اله معاوية.

      لیکن ان کی اسناد نہیں ہیں

  2. Wasi says:

    مسلم بن عقیل کو کس نے کیوں اور کس وجہ سے شہید کیا؟؟
    ——————
    حسین رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کس فوج نے کیا باغی تحریک کی فوج نے ؟ یا یزید کی حکومتی فوج ابنِ کی فوج نے ان سے جنگ کی ؟

    حسین رضی اللہ عنہ کو حکومتی فوج ابنِ زیاد نے یزید کے حکم سے شہید کیا تھا یا باغی فوج نے اپنی بغاوات پر پردہ ڈالنے کے لیے خود ہی شہید کیا؟
    اگر حکومت نے کیا تو کس جرم کی پاداش میں ؟
    ————
    اگر یزید کا حکم اور مرضی نہیں تھی اس سب معاملہ میں تو اس کے بعد اس نے کیا اقدام کیا ؟ کیا باغیوں سے یا جس نے انہیں شہید کیا ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی اگر نہیں تو کیوں نہیں کیا وجہ تھی ؟

    • Islamic-Belief says:

      اپ کے سوالات کے جوابات ١٤ سو سال سے لوگ تلاش کر رہے ہیں اور اس میں اختلاف کر رہے ہیں ان سوالات کے جوابات پر معلومات نہیں ہیں
      جو روایتین ہیں وہ بہت بعد کی ہیں اور صحیح معلومات کی کمی کی بنا پر حتمی کچھ نہیں ہے
      ——

      حسین کے نزدیک خلافت خاندان علی کو واپس منتقل ہوئی چاہیے تھی جیسا کہ حسن اور معاویہ میں معاہدہ ہوا تھا لیکن وہ خاموش رہے یہاں تک کہ یزید کی خلافت کا علان ہوا جو ٦١ ہجری سے سات سال پہلے یا تین سال پہلے سے ہوا لیکن حسین خموش رہے یہاں تک کہ سب سے چڑ کر خروج کیا – انہوں نے اصحاب رسول اور اہل بیت میں ابن عباس رضی الله عنہ تک کی نہ سنی

      احادیث اور منطق کے مطابق ایک وقت میں ایک ہی خلیفہ ممکن ہے- لیکن اب اگر اس کے کئی متمنی ہو جائیں تو یہ کس کو مسند خلافت پر بٹھایا جائے؟ اکابر صحابہ کی رائے میں جس پر لوگ پہلے جمع ہو جائیں اور اس کی بیعت لے لی جائے اس کے بعد چاہے کوئی بھی ہو خلیفہ کی خلافت سے خروج نہیں کیا جائے گا

      خروج کرنا ایک بہت ہی معیوب بات سمجھی جاتی تھی

      خلافت یزید کی رائے جب معاویہ رضی الله عنہ نے آگے رکھی تو اس کی مخالفت میں سابق خلفاء کے بیٹے پیش پیش تھے کیونکہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بھی خلیفہ ہو سکتے ہیں مثلا

      عبد الله بن عمر کو خواہش کہ وہ خلیفہ ہوں صحیح بخاری
      عبد الرحمن بن ابی بکر نے اعتراض کیا کہ خلفاء کے بعد ان کے بیٹے خلفاء نہ بنیں انہوں نے اس کو ہرقل کی سنت کہا جبکہ یہ علی کی سنت تھی گویا علی کی جانب سے حسن کو خلیفہ کیا جانا اصحاب رسول کے نزدیک مناسب نہ تھا
      حسین کے دل میں بھی خلیفہ بننے کی خواہش تھی
      ابن زبیر بھی خلیفہ ہونا چاہتے تھے کیونکہ ان کے والد کو ملنے والی خلافت پر علی نے قبضہ کیا

      اپ دیکھ سکتے ہیں خلفاء کے یہ بیٹے ہی اگلے خلیفہ بننے کے متمنی ہیں ابن عمر اور عبد رحمان صبر کرتے ہیں حسین خروج کرتے ہیں
      گویا ایک انار سو بیمار

      حقیقت میں خلافت اس کو ہی ملتی ہے جس کے پاس عصبیت ہو یہ امام ابن خلدون کہتے ہیں اور صحیح کہتے ہیں خلافت کوئی وہبی چیز نہیں اس کو حاصل کرنے میں تمام مسلمان برابر ہیں کوئی بھی اس کا دعوی کر سکتا ہے اگر وہ عصبیت رکھتا ہو تو حاصل کر لے گا دور نبوی میں بھی یہی تھا خلافت اسی کے لئے تھی جس پر لوگ جمع ہوں شرط صرف قریشی ہونا تھا امداد زمانہ کے ساتھ یہ شرط بھی ختم ہو گئی کیونکہ اب اہل بیت کا پتا ہی نہیں کون ہیں اور کون بنو امیہ ہیں

      لہذا سن ٦٠ میں بہت سے قریشی خلیفہ ہو سکتے تھے جن کے نام اوپر دیے گئے ہیں- معاویہ کی جانب سے یزید کا نام پیش کیا جانا کوئی برائی نہیں تھا – در حقیقت لوگ حسین پر جمع نہ تھے نہ ان کو خلیفہ چاہتے تھے – لوگ یزید پر جمع تھے اور اس میں کوئی برائی نہ جانتے تھے – لہذا عصبیت نہ ہونے کی صورت میں یا کمزور پڑنے کی صورت میں حسین قتل ہی ہوتے یا قیدی بنتے پھر ابن عباس رضی الله عنہ کے ذریعہ ان کی تربیت ہوتی جو اہل بیت کے اکابر و سادات تھے

      ایسا ابن زبیر کے ساتھ بھی ہوتا ہے ان کو عصبیت ملی لیکن وہ لڑنے میں کمزور تھی عبد الملک کے اہل شام اہل حجاز پر غالب ا گئے اور ابن زبیر کا قتل ہوا

      —- حسین کا خروج
      – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ، فَقُلْتُ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَكْتُ بِيَدِي فِي رَأْسِكَ. قَالَ: فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ: «لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللهِ وَرَسُولِهِ» . قَالَ: فَذَلِكَ الَّذِي سَلَى بِنَفْسِي عَنْهُ (الطبرانی کبیر رقم2859)
      طَاوُسٍ، ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حسین نے مجھ سے خروج پر اجازت مانگی میں نے کہا اگر یہ نہ ہوتا کہ میں تمہارا استهزأ کر رہا ہوں میں اپنے ہاتھ سے تمہارے سر (کے بالوں) کو پکڑتا (یعنی زبردستی روکتا ) – حسین نے کہا تو (گویا) اپ نے اس (امر خلافت سے) مجھ کو دور کیا – اگر میں اس اور اس جگہ قتل ہو جاؤں تو یہ مجھے محبوب ہے کہ میں اس کو حلال کروں جس کو اللہ اور رسول نے حرام کیا ہے – ابن عباس نے کہا تو یہ تو پھر تم نے خود ہی اپنی کھال ان سے اتروائی
      اسی جیسی روایت اخبار مکہ الفاکھی کی ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: اسْتَشَارَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقُلْتُ لَهُ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي وَبِكَ لَنَشَبْتُ بِيَدِي فِي رَأْسِكَ، قَالَ: فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ بِأَنْ قَالَ: ” لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي مَكَّةُ “، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَذَاكَ الَّذِي سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ ثُمَّ حَلَفَ طَاوُسٌ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ تَعْظِيمًا لِلْمَحَارِمِ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أَبْكِيَ لَبَكَيْتُ
      ابن عبّاس رضی الله عنہ نے کہا حسین نے مجھے عراق کی طرف اپنے خروج پر اشارہ دیا – میں نے کہا اگرایسا نہ ہو کہ میں کم تر کر رہا ہوں میں اپنے ہاتھ سے تمہارا سر پکڑتا – حسین نے کہا…. طاوس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ ابن عباس سے بڑھ کر رشتہ داروں کی تعظیم کوئی کرتا ہو اور اگر میں چاہوں تو اس پر ہی روؤں

      دونوں روایات میں سلی ہے جو عربی میں کھال اتارنے یا غلاف اتارنے پر بولا جاتا ہے – لسان عرب ج ١٤ ص ٣٦٩ میں ہے السَّلَى سَلى الشاةِ – بکری کی کھال اتاری جائے
      یعنی اہل بیت کے بڑوں نے بھی حسین رضی الله عنہ کو سمجھایا

      یزید کی بیعت ٦١ ہجری سے لے کر ٩٢ ہجری میں وفات پانے والے تمام اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے کی جن میں مشھور ہیں

      عبداللہ بن عباس
      ابو سعید الخدری
      عبد الله بن عمر
      جابر بن عبدالله
      عمرو بن العاص

      حسین کا خروج ان اصحاب رسول کی نگاہ میں غیر شرعی تھا اہل بیت میں ابن عباس بھی حسین کے مخالف تھے وہ مکہ میں ہی رہے

      حسین نے مسلم بن عقیل کو اپنے کوفہ پہنچنے سے پہلے بھیجا کہ وہاں کی صورت حال پتا کریں کہ عصبیت ہے یا نہیں
      وہاں اس کمزور عصبیت کا مظاہرہ ان بلوائیوں نے بیت المال لوٹ کر کیا اور مسلم بن عقیل کو اس میں پھنسا دیا گیا- جس میں مسلم کو دھر لیا گیا اور مسلم بن عقیل کو ایک ڈاکو کی طرح باغی کی طرح قتل کر دیا گیا شاید شیعان علی ہر صورت چاہتے تھے کہ حسین کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ میں اب پیچھے نہ ہٹیں
      مسلم بن عقیل اس کو بھانپ چکے تھے کہ یہ کم بخت لوگ دھوکہ باز ہیں لہذا مرنے سے قبل ایک خفیہ خط حسین تک بھیجا کہ رخ بدل لو

      اس کی خبر حسین کو رستے میں ہوئی اور سارا خلافت کا خواب بکھر گیا انہوں نے کوفہ سے رخ بدلا اور ٤٠ میل دور غیر آباد میدان کا رخ کیا
      اغلبا وہ فرار کر رہے تھے لیکن کہاں جائیں ان کو خود پتا نہ تھا

      اب تین آراء اہل سنت میں چل رہی ہیں
      اول ان کو شیعان حسین نے قتل کیا جو خطوط تلف کرنا چاہتے تھے
      دوم ابن زیاد نے قتل کیا جس میں یزید کا عمل دخل نہ تھا
      سوم ابن زیاد نے یزید کے حکم پر قتل کیا

      اس وقت کوفہ میں انس بن مالک رضی الله عنہ ، ابن زیاد کے ہاں تھے اور تمام خبریں مل رہی تھیں یہاں تک کہ صحیح بخاری کے مطابق حسین کا سر وہاں اتا ہے اور ابن زیاد حسین کی تعریف کرتا ہے
      کوئی باغی کتنا ہی خوبصورت ہو اس کی تعریف نہیں کی جاتی اور انس بن مالک کی موجودگی بتا رہی ہے کہ خلاف حکم حسین کا قتل ہوا کیونکہ وہ بھی کوئی تبصرہ نہیں کرتے
      حسین اور ان کے ساتھ تمام مرد قتل ہوئے سوائے زین العابدین کے جس سے ظاہر ہے کہ ان کو سوتے میں حملہ کر کے قتل کیا گیا یہاں تک کہ بلوہ میں بچے بھی قتل ہوئے

      قاتل پوشیدہ تھے جن کو نہ بنو امیہ جانتے تھے نہ اہل بیت لہذا کس کے خلاف اقدام کرتے- باوجود یہ کہ حسین کا قتل ہوا ابن عمر گھر والوں کو جمع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں یزید میں کوئی برائی نہیں جانتا کہ اس کی بیعت سے نکلوں اور ایک دوسری روایت کے مطابق کہتے ہیں حسین کا قتل اہل عراق نے کیا

      • Aysha butt says:

        Apki tehreer se lagta hai k hazrat hussain r.a shaheed nhi qatal huye thy. Es trh to phr wo bat b galt hoi k hussain r.a ne neze pr quran prhA tha or ap namz prh rhy thy us wakt.
        Clarufy kr dein

        • Islamic-Belief says:

          حسین نے نیزے پر قرآن پڑھا تھا یہ ابو مخنف کی روایت ہے اس کے مطابق قتل حسین پر ان کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا اور سر کا تماشہ بنانے کے لئے بنو امیہ نے اس کو نیزے پر اٹھا لیا اور حسین کے سر نے نیزے پر سوره کہف کی تلاوت کی
          یہ روایت ضعیف ہے قصہ گو کی ایجاد ہے

          ——-
          حسین نماز پڑھ رہے تھے اس روایت کا علم نہیں
          —-
          حسین شہید ہی ہوئے تھے کیونکہ وہ شیعان کوفہ کے دھوکہ میں آ کر قتل ہوئے – ان کے ساتھی بھاگ گئے اور وہ اپنے اھل کے ساتھ تنہا رہ گئے

          • Aysha butt says:

            Yazeed sihabi tha ya tabai… Or kya wo kustuntania wali bishart es k lie thi ya s amer maviya k bahi k lie the

          • Islamic-Belief says:

            یزید بن معاویہ صحابی نہیں ہے – قسطنطنیہ والی جنگ میں امیر عساکر تھے اس پر تفصیل یہاں ہے
            ⇓ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ اور یزید بن معاویہ رحمہ الله علیہ
            http://www.islamic-belief.net/history/

          • Aysha butt says:

            اگر حسین کو نیند میں قتل نہیں کیا گیا تھا تو فرات کے کنارے جنگ کس سے ہوئی ؟ اور علی کس مقام سے گزرے ہوں گے جہاں روئے؟ اور جبریل نے کربلا کی خبر دی تو مٹی دکھائی ؟ اور روایت ہے کہ ایک صحابی نے رسول الله کو خواب میں دیکھا فرمایا میں صبح سے حسین کا خون جمع کر رہا ہوں- دوسری طرف طبری میں ہے کہ یزید بن معاویہ کے لشکر سے حسین کی جنگ ہوئی
            واضح کر دیں

          • Islamic-Belief says:

            ⇓ شہادت حسین کی خبریں جرح و تعدیل کے میزان میں
            http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

            ⇑ خون کی بوتل اور حسین
            http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

            ان کو پڑھ لیں پھر کوئی سوال ہو تو کریں

            اپ اگر اردو میں سوال لکھیں تو اچھا ہو گا اپ کا سوال پڑھنا کافی مشکل ہوتا ہے

  3. ارشاد الحق says:

    حدیث میں اتا ہے ملک کاٹ کھانے والی ریاست بن جائے گا اور معاویہ کو ایک بادشاہ کہا جاتا ہے
    یعنی جو شخص اپنی رعایا کے ساتھ انصاف نہیں کرتا تھا اس کے دور میں ہونے والا جہاد جو غیر مسلموں سے کیا جاتا ہو گا وہ بھی حرام ہوا
    اور اس لوٹ مار کے مال سے حسن و حسین خمس کھا کر کیسے جیتے رہے

    اس بات نے مجھے بہت پریشان کیا ہوا ہے
    امید ہے اپ رہنمائی کریں گے

    • Islamic-Belief says:

      اسلام کی تعلیم ہے کہ نہ صرف ظلم ممنوع ہے بلکہ اس کی مد لیا گیا مال بھی حرام ہے
      جو ظالم بادشاہ ہو اس سے امت کی عصمت کا سودا کرنے والے حسن و حسین نہ تھے
      لہذا معاویہ کے خلاف جو روایات گھڑی گئی ہیں ان میں یہ کاٹ کھانے والی روایت بھی ہے

      اگر حسن و حسین نے کوئی مال معاویہ سے سودے بازی میں لیا تو یہ مال حرام تھا

      چونکہ ان ہستیوں کے لئے یہ تصور بھی ممکن نہیں لہذا اصل حقیقت یہی ہے کہ معاویہ کی خلافت بر حق تھی جو ان کو حسن نے تحفتا دی

  4. خالد says:

    حمید بن مسلم کہتا ہے ابن سعد نے مجھے بلا کر اپنے اہل و عیال کے پاس بھیجا کہ کو خوش خبری سناؤں کہ اللہ نے فتح دی …. واپس آیا تو دیکھا ابن زیاد لوگوں سے ملنے دربار میں بیٹھا ہے اور تہنیت دینے لوگ ا رہے ہیں … میں بھی اندر گیا گیا دیکھتا ہوں کہ حسین کا سر سامنے ہے اور ابن زیاد اپنی چھڑی سے ان کے دانتوں کو کھٹکھٹاتا رہا زید بن ارقم نے کہا اس کو دانتوں سے ہٹا وحدہ لا شریک کی قسم رسول الله کو میں نے دیکھا اپنے ہونٹ ان دانتوں پر رکھ کر پیار کرتے تھے اور یہ کہنا تھا کہ سب بوڑھے لوگ پھوٹ کر رونے لگے ابن زیاد نے کہا الله تجھ کو رولائے تو بڈھا ہوا اور تیری عقل جاتی رہی واللہ میں تیری گردن ہی مار دیتا

    کیا یہ صحیح واقعہ ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      اس واقعہ کی سند تاریخ الطبري میں ہے

      قَالَ أَبُو مخنف: حَدَّثَنِي سُلَيْمَان بن أبي راشد، عن حميد بن مسلم، قَالَ: دعاني عُمَر بن سَعْد فسرحني إِلَى أهله لأبشرهم بفتح اللَّه عَلَيْهِ وبعافيته، فأقبلت حَتَّى أتيت أهله، فأعلمتهم ذَلِكَ، ثُمَّ أقبلت حَتَّى أدخل فأجد ابن زياد قَدْ جلس لِلنَّاسِ، وأجد الوفد قَدْ قدموا عَلَيْهِ، فأدخلهم، وأذن لِلنَّاسِ، فدخلت فيمن دخل، فإذا رأس الْحُسَيْن موضوع بين يديه، وإذا هُوَ ينكت بقضيب بين ثنيتيه ساعة، فلما رآه زَيْد بن أَرْقَمَ: لا ينجم عن نكته بالقضيب، قَالَ لَهُ: اعل بهذا القضيب عن هاتين الثنيتين، فو الذى لا إله غيره لقد رأيت شفتي رَسُول الله ص عَلَى هاتين الشفتين يقبلهما، ثُمَّ انفضخ الشيخ يبكي، فَقَالَ لَهُ ابن زياد: أبكى اللَّه عينيك! فو الله لولا أنك شيخ قَدْ خرفت وذهب عقلك لضربت عنقك

      اول اس کا راوی ابو مخنف سخت جھوٹا اگ لگانے والا شیعہ مشھور ہے

      المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري میں تاریخ طبری کے محقق أكرم بن محمد زيادة الفالوجي الأثري کہتے ہیں

      سليمان بن أبي راشد، الأزدي، من السادسة، لم أعرفه، ولم أجد له ترجمة
      سلیمان بن ابی راشد میں اس کو نہیں جانتا نہ اس کا ترجمہ ملا

      دوسرے راوی پر کہتے ہیں
      حميد بن مسلم، الأزدي – وقيل: الأسدي -، من الرابعة، من أصحاب المختار بن أبي عبيد، الثقفي، الكذاب، لم أعرفه، ولم أجد له ترجمة
      حمید بن مسلم کہا جاتا ہے اسدی ہے یہ مختار ثقفی کے اصحاب میں سے ہے اس کا ترجمہ نہیں ملا نہ اس کو جان سکا

      یعنی اس کی سند میں دو مجھول ہیں

      =======

      اصل میں قاتلین حسین کو کوئی نہیں جنانتا تھا حتی کہ مختار ثقفی کذاب نے دعوی کیا کہ عراق میں اس کے دور میں جو عبد الملک کے اموی گورنر ہیں یہی قاتلین حسین ہیں اس طرح اس منحوس نے لوگوں کو قتل پر ابھآرا
      حميد بن مسلم، الأزدي اسی قسم کے چھوڑو لوگوں میں سے ہے جو مختار ثقفی کا ساتھی ہے اور جھوٹی روایات گھڑ رہا ہے

      طبری میں مندرجہ ذیل راوی بھی مختار کے ساتھ تھے
      حميد بن مسلم، الأزدي – وقيل: الأسدي
      الطفيل بن جعدة بن هبيرة

      سعد بن مسعود الثقفي ایک صحابی ہیں جو المختار بن أبي عبيد الثقفي کے چچا ہیں اور مختار ثقفی ابن عمر رضی الله عنہ کا سالا ہے یہ مکہ میں ابن زبیر کے پاس آیا لیکن ابن زبیر سے اختلاف کر عراق گیا اور وہاں جھوٹ بولنے لگا لوگوں کو جمع کیا اور خروج کیا
      مختار کے مطابق محمد بن حنفیہ امام ہیں جو ابن زبیر کی قید میں تھے محمد بن حنفیہ کا میلان بنو امیہ کی طرف تھا وہ ابن زبیر کی حمایت نہیں کر رہے تھے لہذا ابن زبیر نے سیاسی غلطی کی اور محمد کو قید کر دیا مختار نے عراق میں رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے دو دعوی کیے
      ایک یہ کہ عراق میں موجود اموی قاتلین حسین میں سے ہیں
      دوم محمد بن علی بن ابی طالب اصل امام ہیں جو مکہ میں ابن زبیر کے قیدی ہیں
      لہذا محمد کو آزاد کرانا ہو گا
      اس فرقہ کو کیسانیہ کہا جاتا ہے
      مختار ایک کذاب تھا اس سے ظاہر ہے کہ خود اس سے قتل کرنے مصعب بن زبیر کی فوج میں حسین کے بھائی عبید اللہ موجود تھے یعنی علی رضی الله عنہ کے بیٹے مختار کے خلاف تھے اور اس سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے

  5. خالد says:

    خالد بن سمیر کہتے ہیں ایک دفعہ حجاج (بن یوسف) الفاسق نے منبر پر خطبہ دیا تو کہا:بے شک (عبداللہ) بن زبیر نے قرآن میں تحریف کی ہے۔تو (عبداللہ) بن عمر بولے:تو نے جھوٹ بولا ہے،نہ وہ اس کی طاقت رکھتے تھے اور نہ تو اس (تحریف) کی طاقت رکھتا ہے۔حجاج (غصے) سے بولا:چپ ہو جا اے بوڑھے! تو سٹھیا گیا ہے اور تیری عقل چلی گئی ہے۔
    (ابن سعد ،٤/١٨٤وسندہ حسن)
    (ابن سعد ،٤/١٨٤وسندہ حسن)

    آپ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی مرض وفات میں جب حجاج بن یوسف عیادت کے لیے آیا تو آپ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور حجاج سے کوئی بات نہیں کی حتی کہ وہ چلا گیا۔
    (ابن سعد ١٨٦/٤ وسندہ صحیح،تاریخ دمشق ١٢٨/٣٣،١٢٩)
    (معلوم ہوا کہ آپ کا حجاج کے پیچھے نماز پڑھنے کا عمل منسوخ ہے)

    تحقیقی،اصلاحی اور علمی مقالات نمبر ١ از حافظ زبیر علی زئی ،صفحہ نمبر ٣٣٥-٣٣٦

    ان روایات سے متعلق اپ کیا کہتے ہیں

    • Islamic-Belief says:

      طبقات ابن سعد میں ہے

      قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ الْفَاسِقُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَرَّفَ كِتَابَ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: كَذَبْتَ كَذَبْتَ كَذَبْتَ. مَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ وَلا أَنْتَ مَعَهُ. فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: اسْكُتْ فَإِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ وَذَهَبَ عَقْلُكَ.

      اس کی سند میں خالد بن سمير السدوسى البصرى ہیں اور بصرہ میں حجاج بن یوسف ایک متشدد گورنر تھے انہوں نے مخالفین کو نہیں چھوڑا اس بنا پر لوگ ان کو الفاسق کہتے بعض ظالم کہتے ہیں
      ابن زبیر قرآن میں تحریف کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن وہ کیا بات تھی جس کی بنا پر حجاج نے ایسا کہا یہ بھی ہم تک نہیں پہنچی خواہ مخواہ اس قسم کے الزام نہیں لگائے جاتے
      افسوس کہ تابعین نے ان الزامات کو نقل نہیں کیا اور ان کی وجوہات کو بیان نہیں کیا جن کی بنا پر حجاج کو ایسا کہنا پڑا

      المسعودی کی روایت ہے کہ حجاج نے ابن زبیر کے لئے کہا
      أَنَّهُ قَامَ إِلَى الحَجَّاجِ، وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللهِ! اسْتُحِلَّ حَرَمُ اللهِ، وَخُرِّبَ بَيْتُ اللهِ
      اے الله کے دشمن تو نے حرم الله کو حلال کیا اور بیت الله کو خراب کیا

      یہ جھگڑا نہ صرف ابن زبیر سے حجاج کو ہے بلکہ ابن عباس کو بھی ہے وہ بھی تعمیر کعبہ کو بدلنے کے خلاف تھے

      صحیح بخاری کے مطابق حجاج تو ابن عمر کی عزت کرتے تھے
      ہم سے زکریا بن یحییٰ ابوالسکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن محاربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن سوقہ نے سعید بن جبیر سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں (حج کے دن) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب نیزے کی انی آپ کے تلوے میں چبھ گئی جس کی وجہ سے آپ کا پاؤں رکاب سے چپک گیا۔ تب میں نے اتر کر اسے نکالا۔ یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا۔ جب حجاج کو معلوم ہوا جو اس زمانہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل کے بعد حجاج کا امیر تھا تو وہ بیمار پرسی کے لیے آیا۔ حجاج نے کہا کہ کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس نے آپ کو زخمی کیا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو نے ہی تو مجھ کو نیزہ مارا ہے۔ حجاج نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ تم اس دن ہتھیار اپنے ساتھ لائے جس دن پہلے کبھی ہتھیار ساتھ نہیں لایا جاتا تھا (عیدین کے دن) تم ہتھیار حرم میں لائے حالانکہ حرم میں ہتھیار نہیں لایا جاتا تھا۔

      ابن عمر نے عبد الملک کی بیعت کی اور طبقات ابن سعد کی صحیح سند سے روایت ہے کہ خط لکھا
      فَإِنِّي قَدْ بَايَعْتُ لِعَبْدِ اللهِ عَبْدِ المَلِكِ أَمِيْرِ المُؤْمِنِيْنَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللهِ وَسُنَّةِ رَسُوْلِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِذَلِكَ
      پس میں نے امیر المومنین عبد الملک کی بیعت کی ہے سماع و اطاعت پر سنت الله اور سنت رسول پر جتنا حسب استطاعت ہو گا اور میرے بیٹے بھی اسی پر ہیں

      شعيب الأرناؤوط سیر الاعلام النبلاء پر تعلیق میں ج ٣ ص ٢٣١ اس کی سند کو قوی کہتے ہیں

      ابن عمر اور ابن زبیر میں بھی اختلاف تھا یہاں تک کہ صحیح مسلم کی روایت ہے ابن عمر نے مجمع میں ابن زبیر کی حرم کعبه میں لٹکتی لاش سے کلام کیا
      السَّلَامُ عَلَيْكَ، أَبَا خُبَيْبٍ
      السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ
      السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ
      أَمَا وَاللهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا، أَمَا وَاللهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا
      الله کی قسم میں نے تم کو اس سے منع کیا تھا
      ایسا تین بار کہا

  6. خالد says:

    مسند احمد میں ہے
    حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يَقُولُونَ، مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ
    ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول الله نے فرمایا
    میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے وہ عمل کریں گے جن کا حکم نہیں ہو گا اور وہ نہیں کریں گے جن کا حکم دیا ہو گا تو ان سے جو ہاتھ سے جہاد کرے وہ مومن اور جو زبان سے جہاد کرے وہ مومن اور جو دل میں برا جانے وہ مومن اس کے بعد ایمان نہیں ہے

    یہ معاویہ کے لئے ہے

    • Islamic-Belief says:

      اس روایت میں ابہام ہے یہ فرد پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ حکمرانوں کے خلاف خود ہی فیصلہ کرے اور خروج کرے
      سندا اس میں عطا بن یسار ہے جس کا سماع ابن مسعود سے نہیں ہے
      ابن ابی حاتم المراسیل میں کہتے ہیں
      إن عطاء لم يسمع من عبد الله بن مسعود
      شعيب الأرنؤوط اس روایت کو صحیح کہتے ہیں شعيب الأرنؤوط دلیل دیتے ہیں کہ ابن حبان میں ہے
      أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَّ اسْتَكْتَمَنِي أَنْ أُحَدِّثَ بِهِ مَا عَاشَ مُعَاوِيَةُ فَذَكَرَ عَامِرٌ قَالَ سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَهُوَ قَاضِي الْمَدِينَةِ قال: سمعت بن مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “سَيَكُونُ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يقولون فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن ومن جاهدهمذكر إِطْلَاقِ اسْمِ الْإِيمَانِ عَلَى مَنْ أَتَى جُزْءًا مِنْ بَعْضِ أَجْزَائِهِ

      یعنی عطا نے کہا
      عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَهُوَ قَاضِي الْمَدِينَةِ قال: سمعت بن مَسْعُودٍ
      ان کا سماع ابن مسعود سے ہے

      صحیح ابن حبان کی سند میں ہے مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ نے کہا
      قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَّ اسْتَكْتَمَنِي أَنْ أُحَدِّثَ بِهِ مَا عَاشَ مُعَاوِيَةُ
      میں روایت کرتا ہوں اس کو چھپایا جب تک معاویہ زندہ ہے

      معاوية بن إسحاق بْن طلحة کو اگرچہ بعض محدثین ثقہ کہتے ہیں لیکن أَبُو زُرْعَة کہتے ہیں : شيخ واه. بڈھا واہی ہے
      امام بخاری نے اس کی سند سے صحیح میں صرف ایک روایت متابعة ذکر کی ہے اور امام مسلم نے کوئی روایت نہیں لی

      راقم کہتا ہے روایت اس سند سے ضعیف ہے اور اس کی بنیاد پر سماع ثابت نہیں ہوتا لہذا شعیب اور البانی کا اس روایت کو صحیح سمجھنا غلط ہے

      راقم کہتا ہے روایت صریح کذب ہے اس روایت کے متن میں ہے
      صحيح موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان از البانی کے مطابق اس روایت کو سننے کے بعد
      قال: فخرجَ ابن عمر وهو يُقلّب كفّه وهو يقول: ما كان ابن أُمّ عبد يكذب على رسول الله – صلى الله عليه وسلم
      ابن عمر ہتھیلی کو بھینچتے ہوئے اٹھے اور کہہ رہے تھے ابن ام عبد (یعنی ابن مسعود رضی الله عنہ) رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولتے

      ہم کو صحیح بخاری کی روایات سے پتا ہے کہ ابن عمر نے معاویہ اور یزید کی بیعت کی اور صحیح مسلم سے پتا ہے کہ ابن عمر نے حرہ کے بلوائیوں کو بھی خروج سے منع کیا یہاں تک کہ عبد الملک بن مروان کی بیعت پر انتقال کیا

      ==========================================
      اب روایات کا تضاد دیکھیں

      اسی طرح مسند احمد کی ایک دوسری روایت کو بھی شعيب الأرنؤوط صحیح کہتے ہیں

      حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” سَيَكُونُ (4) أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ (5) ، فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَغِبَ (6) وَتَابَعَ “. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: ” لَا، مَا صَلَّوْا الصَّلَاةَ ”
      ام سلمہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ایسے امراء ہوں گے جن کو پہچانو اور انکار کرو گے پس جس نے انکار کیا وہ بَرِئَ ہوا اور جس نے کراہت کی وہ بچ کیا لیکن وہ جس نے رغبت کی اور تابع ہوا (؟ کلام میں حذف ہے) — لوگوں نے کہا اے رسول اللہ ہم ان سے قتال کریں؟ فرمایا نہیں بس نماز نہ پڑھو

      دوسری میں الفاظ ہیں
      قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: ” لَا، مَا صَلَّوْا لَكُمُ الْخَمْسَ ”
      پوچھا اے رسول الله ہم ان سے قتال کیوں نہ کریں ؟ فرمایا نہیں پس پانچ نماز نہ پڑھو

      یعنی یہ اوپر والی سے متناقض ہے اور شعيب الأرنؤوط دونوں کو صحیح کہہ رہے ہیں

      مسند احمد کی ایک اور روایت ہے اس کو بھی شعیب نے صحیح کہا
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي أُبَيِّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا
      نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ایسے امراء ہوں گے جو چیزوں میں مشغول ہو کر نماز موخر کر دیں گے اس کے وقت سے پس تم نماز وقت پر پڑھو پھر ان امراء کے ساتھ نفل کے طور پر

      =======

      اس کو نقل کرنے والے امام احمد خود اس کے خلاف موقف رکھتے ہیں

      حدثنا محمَّد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح، قال: سمعت أبا زُرعة، يحدث عن أبي هريرة، عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، قال: “يُهلكُ أمتي هذا الحيُّ من قريبٌ”، قالوا: في تأمُرُنا يا رسول الله؟، قال: “لو أن الناس اعتزلوهم”. [قال عبد الله بن أحمد]: وقال أبي- في مرضه الذي مات فيه: اضرب على هذا الحديث، فإنه خلافُ الأحاديث عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، يعني قوله: “اسمعوا وأطيعوا واصبروا”.

      ابو ہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ محلہ جلد ہی ہلاک کرے گا ہم نے پوچھا آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں اے رسول الله ! فرمایا کاش کہ لوگ ان سے الگ رہتے عبد الله بن احمد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے اس حالت مرض میں (اس روایت کے بارے میں) پوچھا جس میں ان کی وفات ہوئی احمد نے کہا اس حدیث کو مارو کیونکہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث کے خلاف ہے یعنی سمع و اطاعت کرو اور صبر کرو

      امام احمد خلافت تیس سال ہے والی روایت کو صحیح سمجھتے تھے لیکن حکمرانوں کی اطاعت سے خروج کے خلاف تھے

      ==========

      حسن و حسین کا عمل دیکھیں اگر یہ ظالم حکمران تھے تو ان سے خمس کا مال لینا مال ظلم تھا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اور ساتھ حج کرنا کیا جائز ہوا
      یہاں تک کہ حسن کی نماز جنازہ حسین نے ایک اموی گورنر سے پڑھوائی جبکہ حکم نبی تھا جو اپ نے بیان کیا

      لہذا یہ روایات منکر ہیں

  7. وجاہت says:

    سلام علکیم . امید ہے کہ آپ خریت سے ہوں گے ایک سوال پوچھنا ہے کہ

    قال أحمد بن إبراهيم الدورقي : قلت لعلي بن الجعد : بلغني أنك قلت : ابن عمر ذاك الصبي ، قال : لم أقل ، ولكن معاوية ما أكره أن يعذبه الله .

    [ ص: 465 ] وقال هارون بن سفيان المستملي : كنت عند علي بن الجعد ، فذكر عثمان ، فقال : أخذ من بيت المال مائة ألف درهم بغير حق ، فقلت : لا والله ، ما أخذها إلا بحق .

    کیا یہ روایات صحیح سند کے ساتھ مروی ہیں؟

    کیا علی بن جعد کو ثقہ مانا جاتا ہے کہ نہیں؟

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے امین

    • Islamic-Belief says:

      قال أحمد بن إبراهيم الدورقي : قلت لعلي بن الجعد : بلغني أنك قلت : ابن عمر ذاك الصبي ، قال : لم أقل ، ولكن معاوية ما أكره أن يعذبه الله .
      تاريخ بغداد ” 11 / 364، و” الضعفاء ” للعقيلي لوحة 295، و” تهذيب الكمال ” لوحة 960.
      أحمد بن إبراهيم الدورقي نے علی بن جعد سے کہا مجھ تک پہنچا کہ تم کہتے ہو ابن عمر وہ چھوکرا تو علی نے کہا میں نے ایسا نہیں کہا لیکن کہا معاویہ پر مجھے کوئی کراہت نہ ہو گی اگر الله اس کو عذاب دے

      [ وقال هارون بن سفيان المستملي : كنت عند علي بن الجعد ، فذكر عثمان ، فقال : أخذ من بيت المال مائة ألف درهم بغير حق ، فقلت : لا والله ، ما أخذها إلا بحق
      .” تاريخ بغداد ” 11 / 364، و” تهذيب الكمال ” لوحة 960.

      هارون بن سفيان المستملي نے کہا میں علی بن جعد کے ساتھ تھا پس عثمان کا ذکر ہوا کہا اس نے بیت المال سے ایک ہزار درہم لئے بغیر حق کے میں نے کہا نہیں الله کی قسم انہوں نے جو لیا حق سے لیا
      ———-
      سند ہے
      أَخْبَرَنَا العتيقي، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُوسُف بْن أَحْمَد، قَالَ: حَدَّثَنَا العقيلي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن الحسين، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن إِبْرَاهِيم الدورقي

      امام علی بن جعد رافضی تھے اور امام بخاری کے استاد ہیں ان کی بڑھی ہوتی شیعیت تھی یہ بات علم جرح و تعدیل میں معروف ہے

      اسی بنا پر اس اصول کا استخراج کیا گیا ہے کہ بدعتی کی روایت اس کی بدعت کے حق میں قبول نہیں کی جاتی

  8. وجاہت says:

    تحقیق درکار ہے

    حدثنا حدثنا هشيم ، قال : أخبرنا حصين ، قال : حدثنا عبد الرحمن بن معقل ، قال : ” صليت مع علي صلاة الغداة ، قال : فقنت ، فقال في قنوته : ” اللهم عليك بمعاوية وأشياعه ، وعمرو بن العاص ، وأشياعه ، وأبي السلمي ، وعبد الله بن قيس وأشياعه ”

    عبد الحمٰن بن معقل کہتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز حضرت علیہ السلام کے ساتھ پڑھی اور آپ علیہ السلام نے قنوت کیا اور قتوت میں یہ الفاظ کہے ” اے اللہ معاویہ اور اس کے گروہ ، عمرو بن العاص اور اس کے گروہ ، ابو السلمی اور عبداللہ بن قیس اور اس کے گروہ کو پکڑ لے ان کو برباد کر دے”

    مصنف ابن أبي شيبة (ت: أسامة) ج 3 ح 7124 ص 245
    المصنف (مصنف ابن أبي شيبة) (ط. الرشد) ج 3 ح 7116 ص 273
    مصنف ابن أبي شيبة (ت: عوامة) ج 5 ح 7123 ص 43

    • Islamic-Belief says:

      ترجمہ صحیح نہیں ہے
      حدثنا حدثنا هشيم ، قال : أخبرنا حصين ، قال : حدثنا عبد الرحمن بن معقل ، قال : ” صليت مع علي صلاة الغداة ، قال : فقنت ، فقال في قنوته : ” اللهم عليك بمعاوية وأشياعه ، وعمرو بن العاص ، وأشياعه ، وأبي السلمي ، وعبد الله بن قيس وأشياعه ”
      میں نے علی کے ساتھ نماز فجر پڑھی اس میں قنوت کیا اور کہا اے الله معاویہ اور اس کا گروہ اور عمرو اور اس کا گروہ اور ابی السلمی اور عبد الله بن قیس کا گروہ اب (ان سے نپٹنا) تیرے اوپر ہے

      قنوت دونوں جانب پڑھا جا رہا تھا دوسرا گروہ بھی قنوت پڑھ رہا تھا

      اس میں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ دونوں علی اور معاویہ ایک دوسرے کو خطا کار قرار دے رہے تھے

      ——–

      فائدہ
      علی کی دعا قبول نہیں ہوئی کیونکہ اللہ نے معاویہ اور ان کے گروہ کو باقی رکھا اور خود حسن بن علی نے ان کو امام تسلیم کیا

  9. وجاہت says:

    مروان بن حکم نے عید کی نماز میں خطبہ پہلے کر دیا ؟

    • Islamic-Belief says:

      دور عثمان کا واقعہ ہے جو اغلبا مدینہ میں وبا پھیلنے کی وجہ سے ہوا جس میں نکسیر پھوٹ رہی تھی اور عثمان رضی الله عنہ بھی بیمار تھے

      خطبے کو نماز عید سے پہلے اضطراری حالات کی وجہ سے یہ کیا گیا ہو گا کہ جو بیمار ہیں وہ آرام سے نماز میں آ جائیں

      • وجاہت says:

        آپ نے لکھا ہے کہ

        سن ٣١ ہجری کا واقعہ ہے جو صحیح البخاری میں ہی ہے

        حدیث نمبر: 3717حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ وَقَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”.ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور (زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔

        یعنی یہ خطبہ کو پہلے کرنے کا واقعہ عثمان رضی الله عنہ کی بیماری کی وجہ سے پیش آیا جس میں اپ حج پر نہ جا سکے اور اتنے بیمار ہوئے کہ وصیت تک کر دی- عقبة بن عمرو بن ثعلبة الخزرجي، أبو مسعود البدري کی وجہ سے یہ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ دور عثمان کا ہے اور مدینہ کا ہے تو خطبہ عید دینا عثمان رضی الله عنہ کا کام ہے مروان کا نہیں ہے – مروان کا یہ کام کرنا بطور علت ہے جس کی وجہ نکسیر پھوٹنے کی بیماری ہے اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں ہو سکتی

        =================

        یہاں آپ کو صحیح مسلم کی حدیث پیش کر رہا ہوں جس میں ہے کہ

        كِتَاب الْإِيمَانِ
        ایمان کے احکام و مسائل

        باب بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الإِيمَانِ وَأَنَّ الإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ وَأَنَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ

        باب: اس بات کا بیان کہ بری بات سے منع کرنا ایمان کی علامت ہے، اور یہ کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر دونوں واجب ہیں۔

        حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، عن سفيان . ح وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة كلاهما، ‏‏‏‏‏‏عن قيس بن مسلم ، عن طارق بن شهاب ، وهذا حديث ابي بكر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اول من بدا بالخطبة يوم العيد، ‏‏‏‏‏‏قبل الصلاة، ‏‏‏‏‏‏مروان، ‏‏‏‏‏‏فقام إليه رجل، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ الصلاة قبل الخطبة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ قد ترك ما هنالك، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو سعيد : اما هذا فقد قضى ما عليه، ‏‏‏‏‏‏سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ ” من راى منكم منكرا فليغيره بيده، ‏‏‏‏‏‏فإن لم يستطع فبلسانه، ‏‏‏‏‏‏فإن لم يستطع فبقلبه، ‏‏‏‏‏‏وذلك اضعف الإيمان ”

        طارق بن شہاب سے روایت ہے، سب سے پہلے جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، وہ مروان تھا (حکم کا بیٹا جو خلفائے بنی امیہ میں سے پہلا خلیفہ ہے) اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: خطبہ سے پہلے نماز پڑھنی چاہئیے۔ مروان نے کہا: یہ بات موقوف کر دی گئی۔ سیدنا ابوسعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا حق ادا کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے کسی منکر (خلاف شرع) کام کو دیکھے تو اس کو مٹا دے اپنے ہاتھ سے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل ہی سے سہی (دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو) یہ سب سے کم درجہ کا ایمان ہے۔“

        یہ سنن ترمزی میں بھی آیا ہے

        http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/2172

        • Islamic-Belief says:

          مصنف عبد الرزاق میں ہے
          ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، لَمَّا رَأَى النَّاسَ يَنْقُصُونَ فَلَمَّا صَلَّى حَبَسَهُمْ فِي الْخُطْبَةِ».
          یوسف نے کہا جس نے عید کی نماز میں خطبہ پہلے کیا وہ عمر ہیں جب دیکھا کہ لوگ کم ہو گئے ہیں

          تاریخ أبي زرعة الدمشقي میں ہے
          حدثنا خلف بن هشام المقرئ قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد قال: غدوت مع يوسف بن عبد الله بن سلام في يوم عيد، فقلت له: كيف كانت الصلاة على عهد عمر ؟ قال: كان يبدأ بالخطبة، قبل الصلاة ـ

          يحيى بن سعيد نے کہا میں نے يوسف بن عبد الله بن سلام کے ساتھ عید کے دن پوچھا کہ عہد عمر میں عید کی نماز کیسی تھی ؟ کہا عمر بن خطاب خطبہ دیتے نماز عید سے پہلے

          ———-
          اپ نے جو روایت پیش کی یہ ایک سند سے اتی ہے
          قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ
          طارق بن شہاب کی خبر مروان کے دور کی ہے جبکہ جو روایات میں نے نقل کیں یہ عمر کے دور کی بات ہے
          اغلبا اس کی وجہ یہ ہے طارق بن شہاب صحابی نہیں اور اس نے دور عمر نہیں دیکھا

  10. وجاہت says:

    تحقیق درکار ہے – یہ حدیث اکثر چھپائی جاتی ہے یہ مختلف طرق سے آئ ہے – سارے طرق جو مرے علم میں آیے لکھ رہا ہوں – باقی آپ کو پتا ہو تو لکھ دیں – اس کو اکثر جگہوں پر چھپایا گیا ہے – وجہ آپ کو پڑھ کر پتا چل جایے گی

    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 279 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 3

    حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَائَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَی مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَکُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَی خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَکُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَائٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَهَا وَتَجِيئُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِکَتِي ثُمَّ تَنْکَشِفُ وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَی إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنْ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَائَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشُدُکَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْوَی إِلَی أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ هَذَا ابْنُ عَمِّکَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْکُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللَّهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَيْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّهَ کَانَ بِکُمْ رَحِيمًا قَالَ فَسَکَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ

    زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق ، زہیر، جریر، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا تو عبداللہ نے کہا ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ رکے ہم میں سے بعض نے اپنا خیمہ لگانا شروع کردیا اور بعض تیراندازی کرنے لگے اور بعض وہ تھے جو جانوروں میں ٹھہرے رہے اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے منادی نے آواز دی الصلوہ جامعہ (یعنی نماز کا وقت ہوگیا ہے) تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جمع ہو گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میرے سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے ذمے اپنے علم کے مطابق اپنی امت کی بھلائی کی طرف راہنمائی لازم نہ ہو اور برائی سے اپنے علم کے مطابق انہیں ڈرانا لازم نہ ہو اور بےشک تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی حصہ میں ہے اور اس کا آخر ایسی مصیبتوں اور امور میں مبتلا ہوگا جسے تم ناپسند کرتے ہو اور ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر وہ ختم ہو جائے گا اور دوسرا ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا یہی میری ہلاکت کا ذریعہ ہوگا جس کو یہ بات پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اس معاملہ سے پیش آئے جس کے دیئے جانے کو اپنے لئے پسند کرے اور جس نے امام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر دل کے اخلاص سے بیعت کی تو چاہیے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے اور اگر دوسرا شخص اس سے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن مار دو راوی کہتا ہے پھر میں عبداللہ کے قریب ہوگیا اور ان سے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنی ہے تو عبداللہ نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا میرے کانوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا تو میں نے ان سے کہا یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چچا زاد بھائی معاویہ ہمیں اپنے اموال کو ناجائز طریقے پر کھانے اور اپنی جانوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اللہ کا ارشاد ہے اے ایمان والو اپنے اموال کو ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ ایسی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے اور نہ اپنی جانوں کو قتل کرو بےشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے راوی نے کہا عبداللہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔

    لنک

    http://www.hadithurdu.com/02/2-3-279/

    —————

    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 280

    ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوسعید اشج، وکیع، ابوکریب، ابومعاویہ، یہ حدیث ان دو اسناد سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

    ________________________________

    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 281

    محمد بن رافع، ابومنذر، اسماعیل بن عمر، یونس بن ابواسحاق ہمدانی، عبداللہ بن ابی سفر، عامر، حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ صاعدی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک جماعت کو کعبہ کے پاس دیکھا باقی حدیث اسی طرح بیان فرمائی۔

    ________________________________

    سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 856

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَائَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّکَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَفْعَلَ وَنَفْعَلَ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ

    مسدد، عیسیٰ بن یونس، اعمش، زید بن وہب، عبدالرحمن بن عبدرب الکعبہ، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے امام کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدیا اور اس سے قلبی معاہدہ اقرار کرلیا تو حتی الامکان اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی دوسرا اس سے جھگڑا کرتا ہوا آئے تو اس دوسرے کی گردن مار ڈالو عبدالرحمن بن عبدرب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا آپ نے خود حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے یہ سنا ہے؟ فرمایا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے میں نے کہا کہ یہ آپ کے چچا زاد بھائی معاویہ ہیں جو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم یہ کام کریں وہ کام کریں فرمایا کہ اللہ کی اطاعت میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی والے حکموں میں اس کی نافرمانی کرو۔

    ________________________________

    سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 500

    ہناد بن سری، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما ہیں اور ان کے پاس لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ میں نے ان سے سنا وہ کہتے تھے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہمراہ سفر میں تھے تو ہم لوگ ایک منزل پر اترے ہم میں سے کوئی تو اپنا خیمہ کھڑا کرتا اور کوئی تیر چلاتا تھا کوئی جانوروں کو گھاس کھلا رہا تھا کہ اس دوران رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے منادی کرنے کے واسطے آواز دی کہ نماز کے لئے جمع ہو جاؤ چنانچہ ہم سب کے سب جمع ہو گئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کھڑے ہو گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم کو خطبہ سنایا اور فرمایا مجھ سے قبل جو نبی گزرے ہیں ان پر لازم تھا کہ جس کام میں برائی دیکھے اس سے ڈرائے اور تمہاری یہ امت اس کی بھلائی شریعت میں ہے اور اس کے آخر میں بلا ہے اور قسم قسم کی باتیں ہیں جو کہ بری ہیں ایک فساد ہوگا پھر وہ ٹلنے نہیں پائے گا کہ دوسرا اٹھ کھڑا ہوگا ۔ جس وقت ایک فساد ہوگا تو مومن کہے گا کہ میں اب ہلاک ہوتا ہوں پھر وہ ختم ہو جائے گا اس وجہ سے تم میں سے جو چاہے دوزخ سے بچنا اور جنت میں جانا وہ میرے اللہ پر اور قیامت پر یقین کر کے اور لوگوں سے اس طریقہ سے پیش آئے جس طرح سے وہ چاہتا ہے کہ مجھ سے لوگ پیش آئیں اور جو شخص بیعت کرے کسی امام سے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے اور دل سے اس کے ساتھ اقرار کرے تو پھر اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے کہ جہاں تک ہو سکے اب اگر کوئی شخص اٹھ کھڑا ہو جو اس امام سے جھگڑا کرے تو اس کی گردن مار دو۔ عبدالرحمن نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے نزدیک آگیا اور میں نے ان سے دریافت کیا کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔

    ====================

    آپ کو ایک مزے کی چیز بتاتا ہوں محدث فورم والوں نے احادیث کی ٦ کتابوں کی تمام احادیث پر ایک ویب سائٹ بنائی ہے اور ساتھ میں ان کی تخریج بھی پیش کی – وہاں ان ٦ کتابوں کی کسی بھی احادیث کو ڈھونڈا جا سکتا ہے وہاں انٹرنشنل نمبرنگ دی گئی ہے – جو وحید زمان صدیقی اور دارسلام کے پرنٹ کے مطابق ہے

    اس ویب سائٹ پر بھی صحیح مسلم سے اس حدیث کو نکال دیا گیا ہے – ثبوت خود دیکھ لیں

    link

    http://mohaddis.com/View/Muslim/4776

    لیکن اس کو سنن ابو داوود سےنکالنا بھول گیۓ

    لنک

    http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/4248

    الله ہم سب کو حق سمجھنے کی توفیق عطا کرے – امین

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت ایک ہی سند سے کتابوں میں ہے

      عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ

      اس میں یہ الفاظ کہ
      فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ
      پس کوئی آئے جو اس سے تنازع کرے تو اس کی گردن مار دو

      سن نسائی اور سنن ابو داود میں ہیں

      روایت صحیح نہیں ہے اس میں زید بن وھب الجھنی کا تفرد ہے جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ تھا اور اس نے باقی اصحاب رسول کے خلاف منکرات نقل کی ہیں
      مثلا
      عثمان سے محبت کرنے والے دجال کے ساتھ ہیں
      عمر کہتے میں منافق ہوں
      اور اب یھاں کہہ رہا ہے کہ ( معاویہ چونکہ علی کی ) جو مخالفت کر رہے ہیں ان کی گردن مار دو

      خود اس کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو علی کے خلاف بھی بھڑاس نکالی کہ ان کو مردانہ اور زنانہ چادروں کا فرق تک نہ پتا تھا یہاں تک کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک چادر عورتوں کے لئے علی کو دی تو انہوں نے خود اوڑھ لی اور رسول الله کو منہ دوسری طرف کرنا پڑا یہ صحیح مسلم کی روایت اسی زید الجھنی کی ہے

      اس قسم کے فضول آدمی کی روایت قابل رد ہے اور یہ امام الفسوی نے خبردار کیا تھا لیکن ان کے ہم عصر محدثین نے مثلا ابو داود اور مسلم نے اس کی رویات لکھ دی ہیں

      روایت میں کہا گیا ہے کہ امت کا شروع کا حصہ اچھا ہے اور بعد والا فتنہ میں ہے جبکہ شروع میں ہی فتنہ ہوا جس میں اصحاب رسول نے ایک دوسرے کو قتل کیا ہزاروں لوگ قتل ہوئے عورتیں بیوہ ہوئیں اور بچے یتیم
      اب اس حقیقیت کی تطبیق اس روایت سے ممکن نہیں ہے چہ جائیکہ اس کو کلام نبوی قرار دیا جائے – روایت کو غور سے پڑھیں یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ زید خود آخری دور میں ہے کہ یہ معاویہ کا دور دور فتن ہے

      زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعِبة کی سند سے مختلف کتب میں صرف ایک یہی روایت ہے یعنی زید نے عبد الرحمان سے کوئی اور روایت نہیں سنی اور عبد الرحمان نے بھی یہ صرف اس کے کان میں پھونکی

      یہ روایت اس دور کی ہے جب معاویہ رضی الله عنہ خلیفہ ہیں اور عبد الله بن عمرو مکہ میں ہیں یعنی علی رضی الله عنہ کی شہادت کے بعد کا واقعہ بتا رہا ہے اس انداز میں کہ اصحاب رسول سے غلطی ہوئی ان کو معاویہ کی گردن مار دینی چاہیے تھی – اگر ایسا ہے تو یہ غلطی کس نے کی؟ یہ غلطی خود علی رضی الله عنہ نے کی جنہوں نے معاویہ سے معاہدہ کر لیا

      راقم کہتا ہے زید بن وھب ایک چھپا خارجی ہے اس کی سوچ کے پیمانے ان کے ہی جیسے ہیں یہاں تک کہ یہ علی کو بھی نہیں بخشتا

      زید کہتا ہے کہ معاویہ رضی الله عنہ حرام کھانے کا حکم کرتے اور قتل نفس کرتے دلیل میں دو آیات سناتا ہے

      مسند احمد میں ہے
      {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [النساء: 29

      مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
      {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ} [البقرة: 188]

      صحیح مسلم میں ہے
      يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: 29]

      اب سوال یہ ہے کہ اس حرام کھانے والے خلیفہ سے حسن رضی الله عنہ کا معائدہ کہ ان کو اس لوٹ کے مال میں سے خمس دیا جائے کیا ہے کیا وہ حرام نہیں ہے ؟

      یہ روایت سراپا اتہام ہے ال علی پر ، علی پر ، خلفاء رسول پر
      اس زید کی ہر روایت کو غور سے دیکھا جائے کہ یہ چھپا خارجی کیا کر رہا ہے

      • وجاہت says:

        6503 –

        لنک

        http://shamela.ws/browse.php/book-25794#page-4940

        حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ (1) الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ (2) ، إِذْ نَزَلَ (3) مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ (4) ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، إِذْ نَادَى مُنَادِيهِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: ” إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا دَلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ، وَحَذَّرَهُمْ (5) مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ شَدِيدٌ، وَأُمُورٌ (6) تُنْكِرُونَهَا، تَجِيءُ فِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ، تَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ سَرَّهُمِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَأَنْ يُدْخَلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا، فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ، وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ، فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ ” قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَقُلْتُ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ، آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، قَالَ: فَقُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي، يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [النساء: 29] قَالَ: فَجَمَعَ يَدَيْهِ، فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: ” أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ” (1)

        —— اور دوسری حدیث بھی مسند احمد سے ہے

        لنک

        http://shamela.ws/browse.php/book-25794#page-5290

        6793 –

        حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، قَالَ (3) : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشْرِهِ (4) ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، قَالَ:فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، وَيَقُولُ: ” أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، أَلَا وَإِنَّ عَافِيَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَفِتَنٌ، يُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، تَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ (1) ، ثُمَّ تَجِيءُ، فَيَقُولُ: هَذِهِ هَذِهِ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ، وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ (2) مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا، فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ ” وَقَالَ مَرَّةً: ” مَا اسْتَطَاعَ ” فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَدْخَلْتُ رَأْسِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ، قُلْتُ (3) : فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ مُعَاوِيَةَ يَأْمُرُنَا؟ فَوَضَعَ جُمْعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ نَكَسَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: ” أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ “، قُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: ” نَعَمْ (4) ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي ” (5)

        =====

        ان دونوں احادیث کی اسناد تقریباً ایک جیسی ہیں – لیکن دونوں احادیث کے آخر میں متن میں فرق ہے

        کیا یہ امام احمد سے غلطی ہوئی یا کتابت میں غائب کیا گیا متن

        سنن ابن ماجہ میں بھی متن کم کیا گیا

        لنک

        http://mohaddis.com/View/ibn-majah/3956

        • Islamic-Belief says:

          اس میں ایک وکیع کی روایت ہے اور ایک ابو معاویہ کی ہے
          ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات متن میں اختلاف یا الفاظ کی کمی بیشی ہوتی ہے

  11. shahzad khan says:

    اسلام وعلیکم بھائی اک سوال ہے کہ جمعہ کی نماز میں دو آذان ۔۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو آذانیں دی گئیں ۔۔جو، اب دی جاتی ہیں ۔۔یہ کہاں سے ثابت ہے برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں

    • Islamic-Belief says:

      جمعہ کی ٢ اذان دور نبوی میں نہیں دی جاتی تھی
      یہ عثمان رضی الله عنہ کے دور میں شروع ہوئی ایک مسجد میں اور ایک کسی دور مقام پر دی جاتی تھی
      پھر ہشام بن عبد الملک کے دور میں جمعہ کی تین اذان دی جاتی تھیں
      لیکن مسجد النبی میں اندر صرف ایک ہی اذان ہوتی تھی
      مقصد یہ تھا کہ نماز کا وقت ہوا لوگوں کو معلوم ہو جائے

      مسئلہ یہ تھا کہ اذان کا وقت ہوا کس طرح معلوم ہو- جب نہ گھڑی تھی نہ لاوڈ اسپیکر تھا لہذا یہ حل نکلا کہ دو اذان دی جائیں
      دین میں اگر کوئی نیا مسئلہ آئے تو قیاس کیا جا سکتا ہے لہذا عثمان رضی الله عنہ نے قیاس کیا اور اذان کو شروع کیا
      ——

      ایک صحابی رسول نے اس کو بدعت بھی کہا ہے

      ⇓ کیا جمعہ کے دن اضافی اذان بدعت ہے اور کیا تراویح بدعت ہے ؟ کیا اجتہاد کر کے بدعات کو کیا جا سکتا ہے ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/بدعات/

      ⇓ کیا عبد اللہ بن عمر سے بسند صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے آذان عثمان کو بدعت کہا ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/بدعات/

      لاؤڈ اسپیکر کی غیر موجودگی میں ٢ یا تین اذان دی جا سکتی ہیں – سنت عثمان رضی الله عنہ کے تحت

  12. Aysha butt says:

    Kya bibi fatima r.a or abu bakr r.a mn warast ka masla hall hogya tha kyA saddiq e akber r.A mn bibi ki wafat se phle mafi mang li thi…. Wazeh kr dein

    • Islamic-Belief says:

      یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تھا یہاں تک کہ فاطمہ رضی الله عنہا کی وفات ہوئی ایسا صحیح بخاری میں ہے
      ان کی وفات کے بعد دور عمر میں یہ باغات فدک علی کو دیے گئے

      • Aysha butt says:

        Murlb azrat abu bar ne maafi ni mangi thi….log es sisaly mn koi riwayt b laty hai k maafi tallafi hazrat fatima se hogi thi

        • Islamic-Belief says:

          جی کوئی معافی نہیں مانگی گئی – اس پر روایت کا علم نہیں ہے
          اپ کے علم میں ہو تو یہاں نقل کر دیں

          اصل میں اہل بیت النبی اور شیخین کا اس پر اختلاف ہوا اس کی تفصیل یہاں ہے کہ ایسا کیوں ہوا
          ⇑ اہل بیت، حقوق اور ان کی ذمہ داریاں
          http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

  13. وجاہت says:

    باب الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا

    باب: بیع صرف اور سونے کی چاندی کے ساتھ نقد بیع۔

    باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں

    حدیث نمبر: 4061

    حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري ، حدثنا حماد بن زيد ، عن ايوب ، عن ابي قلابة ، قال : كنت بالشام في حلقة فيها مسلم بن يسار ، فجاء ابو الاشعث ، قال : قالوا : ابو الاشعث ، ابو الاشعث ، فجلس فقلت له : حدث اخانا حديث عبادة بن الصامت ، قال : ” نعم غزونا غزاة وعلى الناس معاوية ، فغنمنا غنائم كثيرة ، فكان فيما غنمنا آنية من فضة فامر معاوية رجلا ان يبيعها في اعطيات الناس ، فتسارع الناس في ذلك ، فبلغ عبادة بن الصامت فقام ، فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينهى عن بيع الذهب بالذهب ، والفضة بالفضة ، والبر بالبر ، والشعير بالشعير ، والتمر بالتمر ، والملح بالملح إلا سواء بسواء ، عينا بعين ، فمن زاد او ازداد ، فقد اربى فرد الناس ما اخذوا ، فبلغ ذلك معاوية فقام خطيبا ، فقال : الا ما بال رجال يتحدثون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم احاديث قد كنا نشهده ونصحبه ، فلم نسمعها منه ، فقام عبادة بن الصامت فاعاد القصة ، ثم قال : لنحدثن بما سمعنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وإن كره معاوية او قال : وإن رغم ما ابالي ان لا اصحبه في جنده ليلة سوداء ” ، قال حماد : هذا او نحوه ،

    ‏‏‏‏ ابوقلابہ سے روایت ہے، میں شام میں چند لوگوں کے بیچ میں بیٹھا تھا اتنے میں ابوالاشعث آیا لوگوں نے کہا: ابوالاشعث، ابوالاشعث۔ وہ بیٹھ گیا میں نے اس سے کہا: تم میرے بھائی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرو اس نے کہا: اچھا ہم نے ایک جہاد کیا اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سردار تھے تو بہت چیزیں لوٹ میں حاصل کیں ان میں ایک برتن بھی تھا چاندی کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اس کے بیچنے کا لوگوں کی تنخواہ پر اور لوگوں نے جلدی کی اس کے لینے میں۔ یہ خبر سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پہنچی وہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے سونے کو سونے کے بدلے میں بیچنے سے اور چاندی کو چاندی کے بدلے اور گیہوں کو گیہوں کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے مگر برابر برابر نقدا نقد پھر جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو «ربا» ہو گیا۔“ یہ سن کر لوگوں نے جو لیا تھا پھیر دیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی وہ خطبہ پڑھنے لگے کھڑے ہو کر، کیا حال ہے لوگوں کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیثیں روایت کرتے ہیں جن کو ہم نے نہیں سنا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، پھر عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور قصہ بیان کیا بعد اس کے کہا: ہم تو وہ حدیث ضرور بیان کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا معلوم ہو یا کہا: خواہ ان کی ناک خاک آلود ہو ۔۔ مجھے پروا نہیں کہ میں ان کے لشکر میں ان کے ساتھ ایک سیاہ رات بھی نہ رہوں۔ حماد نے کہا: یہ (کہا: ) یا اس کے ہم معنی۔

    ————-

    • Islamic-Belief says:

      یعنی لوگوں نے چاندی کے برتنوں کو اپنے دوسرے عطیات یا وظائف کے بدلے حاصل کیا اس پر عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ نے جرح کی کہ چاندی کا برتن، چاندی کے برتن سے ہی بدلا جا سکتا ہے کسی وظیفہ یا عطیہ سے نہیں

      اس بنا پر آج بھی سونا چاندی روپیہ سے خریدنا صحیح نہیں

  14. وجاہت says:

    صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ تَشْبِيكِ الأَصَابِعِ فِي المَسْجِدِ وَغَيْرِهِ) صحیح بخاری: کتاب: نماز کے احکام و مسائل (باب: مسجد وغیرہ میں انگلیوں کا قینچی کرنا)

    480 .

    وَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ هَذَا الحَدِيثَ مِنْ أَبِي، فَلَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَوَّمَهُ لِي وَاقِدٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ بِهَذَا»

    حکم : صحیح 480 .

    اور عاصم بن علی نے کہا، ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو اپنے باپ محمد بن زید سے سنا۔ لیکن مجھے حدیث یاد نہیں رہی تھی۔ تو میرے بھائی واقد نے اس کو درستی سے اپنے باپ سے روایت کر کے مجھے بتایا۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو تمہارا کیا حال ہو گا جب تم برے لوگوں میں رہ جاؤ گے اس طرح ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں کر کے دکھلائیں


    یہاں جو بیان

    عبداللہ بن عمرو تمہارا کیا حال ہو گا جب تم برے لوگوں میں رہ جاؤ گے

    • Islamic-Belief says:

      سنن دارمی میں ہے
      حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ هُوَ ابْنُ بِشْرٍ الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ أَسْلَافًا، وَيَبْقَى حُثَالَةٌ كَحُثَالَةِ الشَّعِيرِ
      مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صالحین چلے گئے اور کوڑا رہ گیا جیسے جو کی بھوسی

      اس قول کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک اجمالی قول ہے کہ آہستہ آہستہ دین بدلتا جائے گا
      ———

      وقال أبو زرعة الدمشقي: قال أحمد بن حنبل: مات عبد الله بن عمرو ليالي الحرة، في ولاية يزيد بن معاوية. قال: وكانت الحرة يوم الأربعاء لليلتين بقيتا من ذى الحجة سنة ثلاث وستين. «تاريخه» (242)
      عبد الله بن عمرو کی حرہ کی راتوں میں یزید بن معاویہ کے دور میں وفات ہوئی جب وہاں بغاوت ہوئی جو سن ٦٣ میں ذو الحجه میں بدھ کے دن ہوا جب دو راتیں اس ماہ میں باقی تھیں

      ان شواہد کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ حرہ کی بغاوت کرنے والے مراد ہیں جن میں عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ پھنس گئے

      ابن عمر رضی الله عنہ کی بھی کچھ ایسی ہی رائے تھی

      حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

      نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے

      عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

      حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»

      نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر، عبد الله بن مُطِيعٍ کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا

      عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ باغیوں کا لیڈر تھا

  15. وجاہت says:

    آپ نے اپنے تھریڈ میں ایک حدیث کی تحقیق کی ہے

    معاویہ-و-یزید-کے-خلاف-چارج-شیٹ
    http://www.islamic-belief.net/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%DB%8C%DB%81-%D9%88-%DB%8C%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%DA%86%D8%A7%D8%B1%D8%AC-%D8%B4%DB%8C%D9%B9/

    مسند احمد کی حدیث ہے

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: قَدْ عَلِمْتَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى» ، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟

    زید بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: مغیرہ بن شُعْبَةَ نے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دی، تو اس پر زید بن ارقم کھڑے ہو گئے اور کہا: تمہیں علم ہے کہ رسول ص نے مردہ لوگوں کو گالیاں دینے سے منع کیا ہے، تو پھر تم علی ابن ابی طالب پر کیوں سب کر رہے ہو جب کہ وہ وفات پا چکے ہیں؟

    اس کی سند میں حجاج ابن أيوب مولى بني ثعلبة ہے جس کا حال مجھول ہے

    مستدرک الحاکم میں اس کی دوسری سند ہے جس کو حاکم صحیح کہتے ہیں

    عمرو بن محمد بن أبي رزين الخزاعي، عن شعبة، عن مسعر، عن زياد بن علاقة، عن عمه قطبة بن مالك

    ——

    ابو شہر یار بھائی اسے حاکم اور پھر الذھبی نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور شیخ شعیب الارنؤوط نے مسند احمد کے حاشیہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔حتی کہ شیخ البانی نے بھی اسے ‘سلسلہ احادیث صحیحیہ میں صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح روایت ہے۔

    کیا یہ ان لوگوں کی جہالتیں نہیں جب گالیاں دی ہی نہیں جاتی تھیں تو صحیح کہنے کا کیا مطلب بنتا ہے – الله ہمیں ایسی جاہلیت سے بچا ے – امین

    • Islamic-Belief says:

      یہ لوگ

      Pro Ali – Anti Maaviah
      ہیں
      میں
      Neutral
      ہوں

      ——-
      جب سند میں حجاج ابن أيوب مولى بني ثعلبة مجہول ہے تو یہ ان کے نزدیک صحیح ہو گی میرے نزدیک بے کار ہے

  16. وجاہت says:

    بھائی میں نے کب کہا کہ ایسا کیا جا رہا تھا – ایسا تو امام ذھبی لکھ رہے ہیں – ہو سکتا ہے کہ میرے سمجھنے میں غلطی ہو ابو شہر یار بھائی – میں آپ سے متفق ہوں

    لیکن علامہ اسمعیل بن ابو الفداء اپنی ‘تاریخ ابوالفداء میں بھی لکھ رہے ہیں

    وكان الذي طلبه الحسن أن یعطیه ما في بیت مال الكوفة وخراج دارا بجرد من فارس وأن لا یسب علیاً فلم یجبه إلى الكف عن سبّ علي فطلب الحسن أن لا یشتم علیاً وھو یسمع فأجابه إِلى ذلكَ ثم لم یف له به

    اور ابن کثیر اپنی کتاب ‘البدایہ و النہایہ میں بھی لکھ رہے ہیں

    فاشترط أن یأخذ من بیت مال الكوفة خمسة آلاف ألف درھم، وأن یكون خراج دار أبجرد له، وأن لا یسب علي وھو یسمع

    امام ابن جریر طبری بھی یہ روایت نقل کرتے ہیں

    وقد كان صالح الحسن معاویة على أن جعل له ما في بیت ماله وخرج دارا بجرد على ألا یشتم علي وھو یسمع فأخذ ما في بیت ماله

    کتاب ‘تاریخ ابن خلدون میں ہے

    فكتب إلى معاویة یذكر له النزول عن الأمر على أن یعطیه ما في بیت المال بالكوفة و مبلغه خمسة آلاف ألف و یعطیه خراج دار ابجرد من فارس و ألا یشتم علیا و ھو یسمع

    ابن عساکر نے ‘تاریخ الدمشق’ میں امام حسن رضی الله اور
    معاویہ رضی الله کے درمیاں صلح کی شرائط مندرجہ ذیل سند سے نقل کرتے ہیں

    اخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا الحسن بن علي أنا محمد بن العباس أنا احمد بن معروف نا الحسین بن محمد بن سعد أنا أبو عبید عن مجالد عن الشعبي وعن یونس بن أبي إسحاق عن أبیه وعن أبي السفر وغیرھم ۔۔۔۔۔۔۔ ولا یسب علي وھو یسمع وان یحمل إلیه خراج فسا ) 3 ( ودار ابجرد ) 4 ( من ارض فارس كل عام

    • Islamic-Belief says:

      بھائی ان تمام لوگوں نے جو شرط بیان کی وہ ہے
      ——–
      حسن کے سامنے علی کو گالی نہیں دی جائے گی کہ وہ سن رہے ہوں
      ———

      غور کریں سن رہے ہوں کے الفاظ ہیں اس کا مطلب ہے کہ حسن کا مذاق اس انداز میں نہیں اڑایا جائے گا جس سے حسن کی تحقیر ہو- حسن نے علی کے حوالے سے کچھ منع نہیں کیا انہوں نے اپنی عزت نفس کا معاہدہ کیا – یعنی جس کو جو کہنا ہے کہے لیکن ان کے منہ پر نہیں
      یہ ہے سادہ بات

      • وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی بات اگر اتنی سادہ ہے تو انہی لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے

        محمد بن سعد نے اپنی کتاب الطبقات الکبری اور امام ذھبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ

        أخبرنا علی بن محمد عن لوط بن یحیى الغامدی قال کان الولاة من بنی أمیة قبل عمر بن عبد العزیز یشتمون علیا رحمه الله فلما ولی عمر أمسک عن ذلک

        فی آل مروان نصب ظاهر سوى عمر بن عبد العزیز

        سیر اعلام النبلاء

        علامہ اسمعیل بن ابو الفداء اپنی کتاب ‘ تاریخ أبی الفداء ، فصل فی ذکر إبطال عمر بن عبد العزیز سب علی بن أبی طالب علی المنابرمیں لکھتے ہیں کہ

        کان خلفاء بنی أمیة یسبون علیاً رضی الله عنه من سنة إِحدى وأربعین وهی السنة التی خلع الحسن فیها نفسه من الخلافة إلى أول سنة تسع وتسعین آخر أیام سلیمان بن عبد الملک فلما ولی عمر أبطل ذلک وکتب إِلى نوابه بإبطاله

        میں ایک بات پھر کہوں گا کہ

        کیا یہ ان لوگوں کی جہالتیں نہیں جب گالیاں دی ہی نہیں جاتی تھیں تو عمر بن عبد العزیز پراس کو بند کروانے کا الزام لگانے کا کیا مطلب بنتا ہے – الله ہمیں ایسی جاہلیت سے بچا ے – امین

        • Islamic-Belief says:

          یہ سب ان کی جہالت ہی ہے کیونکہ قول کی سند میں لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف الأزدي الغامدي، أبو مخنف ہے

          اس کے بارے میں الذھبی نے خود میزان میں لکھا ہے اس کی توثیق نہیں ہے
          تركه أبو حاتم وغيره.
          وقال الدارقطني: ضعيف.
          وقال ابن معين: ليس بثقة.
          وقال – مرة: ليس بشئ.
          وقال ابن عدي: شيعي (1) محترق، صاحب أخبارهم.

          ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں لکھا ہے
          لوط بن يحيى، أبو مخنف: متروك، وقال الدارقطني: ضعيف

          تاریخ اسلام میں لکھا ہے
          قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِثِقَةٍ.
          وَقَالَ أَبُو حاتم: متروك الحديث.
          وقال الدارقطني: أخباري ضعيف.

          – الله ہمیں ایسی جاہلیت سے بچا ے – امین

  17. وجاہت says:

    ابن حزم اندلسی بھی اس جاہلیت میں پیچھے نہیں ہیں ابو شہر یار بھائی

    ابن حزم اندلسی اپنی کتاب رسائل ابن حزم الآندلسی میں لکھتے ہیں کہ

    بخلاف ما کان بنو أمیة یستعملون من لعن علیّ ابن أبی طالب رضوان الله علیه ، ولعن بنیه الطاهرین من بنی الزهراء؛ وکلهم کان على هذا حاشا عُمر بن عبد العزیز ویزید بن الولید

    http://shamela.ws/browse.php/book-1038#page-586

    سکین پیجز

    http://s3.picofile.com/file/8226195600/001.png

    http://s3.picofile.com/file/8226195684/002.png

    • Islamic-Belief says:

      وجاہت صاحب اپ اپنا وقت غیر ضروری چیزوں میں کیوں لگاتے ہیں ؟ ظاہر ہے بے شمار لوگ کہیں گے بنو امیہ گالی دیتے تھے
      اس کی لسٹ بنا کر ہم کو دین میں کیا فائدہ ہو گا؟
      لہذا اس قسم کے سوال اب بند کریں اور بنیادی ماخد کو دیکھیں کہ اس میں کون سی روایت صحیح ہے کون سی غلط ہے

      • وجاہت says:

        متفق – بات آئ تھی تو یہاں لکھ دی – انشاءللہ بنیادی ماخد کے لئے ہی سوالات کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *