محدثین  اور خوابوں کی دنیا

بخاری میں دو حدیثیں ہیں

من راٰنی فی المنام فقد راٰنی، فان الشیطان لا یتمثل فی صورتی

          جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے بے شک مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل  نہیں بنا سکتا صحیح بخاری و صحیح مسلم

دوسری حدیث ہے

من رآني في المنام فسيراني في اليقظة، ولا يتمثل الشيطان بي» قال أبو عبد الله: قال ابن سيرين: «إذا رآه في صورته

جس نے مجھے حالت نیند میں دیکھا وہ جاگنے  کی حالت میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا امام بخاری کہتے ہیں ابن سیریں کہتے ہیں اگر آپ کی صورت پر دیکھے

 ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور مبارکہ کی ہے جب بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو مسلمان ہوئے لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم سے  فورا ملاقات نہ کر سکے پھر ان مسلمانوں نے  دور دراز کا سفر کیا اور نبی کو دیکھا. ایسے افراد کے لئے بتایا جا رہا ہے کہ ان میں جو نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے گا وہ عنقریب بیداری میں بھی دیکھے گا اور یہ بات نبی صلی الله علیہ وسلم کی زندگی تک ہی محدود تھی کیونکہ اب جو ان کو خواب میں دیکھے گا وہ بیداری میں نہیں دیکھ سکتا

ہماری اسلامی کتب میں سن ١٣٠  ہجری  اور اس کے بعد سے آج تک  عالم مادی اور عالم روحانی اس طرح خلط ملط ملتے ہیں کہ  غیب میں گویا نقب لگی ہو مسلسل عالم بالا سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم   محدثین کے خوابوں میں آ رہے تھے   یہاں ہم صرف ایک کتاب سیر الاعلام  النبلاء از امام الذھبی  کو دیکھتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم  اور یہاں تک کہ الله تعالی کس کس کے خواب میں آ رہے تھے

بصری سلیمان بن طرخان المتوفی ١٤٣ ھ   کے ترجمہ میں الذھبی لکھتے ہیں

جَرِيْرُ بنُ عَبْدِ الحَمِيْدِ: عَنْ رَقَبَةَ بنِ مَصْقَلَةَ، قَالَ:رَأَيْتُ رَبَّ العِزَّةِ فِي المَنَامِ، فَقَالَ: لأُكْرِمَنَّ مَثْوَى سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، صَلَّى لِيَ الفَجْرَ بِوُضُوْءِ العِشَاءِ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً.

جَرِيْرُ بنُ عَبْدِ الحَمِيْدِ روایت کرتے ہیں رَقَبَةَ بنِ مَصْقَلَةَ، سے کہ میں نے رب العزت کو نیند میں دیکھا مجھ سے کہا سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ جیسوں کا اکرام کرو میرے لئے چالیس سال تک فجر کی نماز پڑھتا  تھا عشاء کے وضو سے

الله تعالی عالم الغیب ہیں اور قادر ہیں لیکن الله تعالی کسی صحابی کے خواب میں نہیں آئے تابعی کے خواب میں نہیں آئے لیکن تبع تابعین کا دور ختم ہوتے ہی لوگ  بیان کرنے لگ جاتے ہیں کہ الله تعالی اور رسول الله ان کو غیب کی خبریں دیتے ہیں

بصری عبد الله بن عون المتوفی ١٣٢ ھ  کے ترجمہ میں الذہبی لکھتے ہیں

حَمَّادُ بنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ فَضَاءٍ  قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي المَنَامِ، فَقَالَ: (زُوْرُوا ابْنَ عَوْنٍ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ، أَوْ أَنَّ اللهَ يُحِبُّه وَرَسُوْلَه)

حَمَّادُ بنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ فَضَاءٍ کہا میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا خواب میں فرمایا ابن عون کی زیارت کرو کیونکہ یہ الله اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے یا کہ الله اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے

عباد بن کثیر کے ترجمہ میں الذھبی لکھتے ہیں

الحَكَمُ بنُ مُوْسَى: حَدَّثَنَا الوَلِيْدُ بنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَحْرِصُ عَلَى السَّمَاعِ مِنَ الأَوْزَاعِيِّ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي المَنَامِ، وَالأَوْزَاعِيُّ إِلَى جَنْبِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! عَمَّنْ أَحْمِلُ العِلْمَ؟قَالَ: (عَنْ هَذَا) ، وَأَشَارَ إِلَى الأَوْزَاعِيِّ.قُلْتُ: كَانَ الأَوْزَاعِيُّ كَبِيْرَ الشَّأْنِ.

الحَكَمُ بنُ مُوْسَى کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم دمشقی المتوفي ١٩٥ ھ  نے کہا  مجھے الأَوْزَاعِيِّ سے سماع کا کوئی شوق نہیں تھا یہاں تک کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور الأَوْزَاعِيِّ  ان کے پہلو میں تھے  میں نے پوچھا کس سے علم لوں یا رسول الله ؟ اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اور الأَوْزَاعِيِّ کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے – میں الذھبی کہتا ہوں الأَوْزَاعِيِّ کی بڑی شان ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں آنا اس لئے بیان کیا جاتا تھا تاکہ لوگوں پر رعب جمایا جا سکے الولید کو پروپگینڈا کرنا پڑ رہا ہے کہ اس کا سماع الأوزاعي سے ٹھیک  ہے

إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي کے مطابق

 وقال أبو داود: الوليد أفسد حديث الأوزاعي

ابوداود کہتے ہیں الولید بن مسلم نے  الأوزاعي کی حدیث میں فساد کر دیا ہے

بغداد کے هُشَيْمُ بنُ بَشِيْرِ بنِ أَبِي خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ السَّلَمِيُّ  المتوفی ١٨٣ ھ کے ترجمہ میں الذھبی لکھتے ہیں

قَالَ يَحْيَى بنُ أَيُّوْبَ العَابِدُ: سَمِعْتُ نَصْرَ بنَ بسَّامٍ وَغَيْرَهُ مِنْ أَصْحَابِنَا، قَالُوا: أَتَيْنَا مَعْرُوْفاً الكَرْخِيَّ فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي المَنَامِ، وَهُوَ يَقُوْلُ

لهُشَيْمٍ: (جَزَاكَ اللهُ عَنْ أُمَّتِي خَيْراً) .

يَحْيَى بنُ أَيُّوْبَ العَابِدُ نے کہا میں نے نصر بن بسام سے اور ہمارے بہت سے اصحاب سے سنا کہ معروف الکرخی نے کہا میں نے نیند میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا اور وہ کہہ  هُشَيْمُ بنُ بَشِيْرِ  کے لئے رہے تھے  کے لئے جَزَاكَ اللهُ عَنْ أُمَّتِي خَيْراً

امام الشافعی کے ترجمہ میں الذھبی لکھتے ہیں

زكَرِيَّا بنُ أَحْمَدَ البَلْخِيُّ القَاضِي: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بنَ أَحْمَدَ بنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيَّ يَقُوْلُ: رَأَيْتُ فِي المَنَامِ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي مَسْجِدِه بِالمَدِيْنَةِ، فَكَأَنِّيْ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! أَكْتُبُ رَأْيَ مَالِكٍ؟ قَالَ: (لاَ) .  قُلْتُ: أَكْتُبُ رَأْيَ أَبِي حَنِيْفَةَ؟  قَالَ: (لاَ) .  قُلْتُ: أَكْتُبُ رَأْيَ الشَّافِعِيِّ؟  فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، كَأَنَّهُ انْتَهَرَنِي، وَقَالَ: (تَقُوْلُ رَأْيَ الشَّافِعِيِّ! إِنَّهُ لَيْسَ بِرَأْيٍ، وَلَكِنَّهُ رَدٌّ عَلَى مَنْ خَالَفَ سُنَّتِي) .

زكَرِيَّا بنُ أَحْمَدَ البَلْخِيُّ القَاضِي کہتے ہیں میں نے أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بنَ أَحْمَدَ بنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيَّ کو سنا کہا میں نے نیند میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا اپ مسجد النبی میں تھے پس میں ان تک پہنچا اور سلام کیا اور کہا اے رسول الله کیا  مالک کی رائے لکھوں؟ فرمایا نہیں – میں نے پوچھا کیا ابو حنیفہ کی رائے لکھوں ؟ فرمایا نہیں – پوچھا کیا شافعی کی رائے لکھوں ؟  باتھ کو اس طرح کیا کہ گویا منع کر رہے ہوں اور کہا تو شافعی کی رائے کا کہتا ہے وہ میری رائے نہیں ہے بلکہ میری سنت کی مخالف ہے

یعنی رسول الله نے خواب میں امام شافعی کا قول نا پسند کیا

اسی طرح ایک قول ہے

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ الخُوَارِزْمِيُّ نَزِيْلُ مَكَّةَ – فِيْمَا كَتَبَ إِلَيَّ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ رَشِيْقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَسَنٍ البَلْخِيُّ، قَالَ: قُلْتُ فِي المَنَامِ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا تَقُوْلُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيْفَةَ، وَالشَّافِعِيَّ، وَمَالِكٍ؟  فَقَالَ: (لاَ قَوْلَ إِلاَّ قَوْلِي، لَكِنَّ قَوْلَ الشَّافِعِيِّ ضِدُّ قَوْلِ أَهْلِ البِدَعِ

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ أَبِي حَاتِمٍ کہتے ہیں مکہ والے أَبُو عُثْمَانَ الخُوَارِزْمِيُّ نے روایت کیا اس خط میں جو لکھا کہ مُحَمَّدُ بنُ رَشِيْقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَسَنٍ البَلْخِيُّ نے کہا میں نے خواب میں رسول الله سے پوچھا اے رسول الله  اپ   مالک شافعی اور ابو حنیفہ کی رائے پر کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا ان کا قول وہ نہیں  جو میرا ہے اور شافعی کا قول اہل بدعت کی ضد ہے

یعنی رسول الله نے خواب میں امام شافعی کا قول پسند کیا

یہ متضاد اقوال خواب میں لوگ سن رہے تھے اور جمع کر رہے تھے

عصر حاضر کے محقق شعيب الأرناؤوط  اس پر تعلیق میں جھنجھلا کر رہ گئے لکھتے ہیں

ومتى كان المنام حجة عند أهل العلم؟ ! فمالك وأبو حنيفة وغيرهما من الأئمة العدول الثقات اجتهدوا، فأصاب كل واحد منهم في كثير مما انتهى إليه اجتهاده فيه، وأخطأ في بعضه، وكل واحد منهم يؤخذ من قوله ويرد، فكان ماذا؟

اور کب سے خواب اہل علم کے ہاں حجت ہو گئے؟ پس مالک اور ابو حنیفہ اور دوسرے ائمہ عدول ہیں ثقات ہیں جنہوں نے اجتہاد کیا ہے پس ان سب میں بہت سا ہے جو ان کے اجتہاد پر ہے اور اس میں بعض کی خطا بھی ہے اور ان سب کا قول لیا جاتا ہے اور رد بھی ہوتا ہے تو یہ کیا ہے ؟

یعنی جب خوابوں سے ائمہ پر سوال اٹھتا ہے تو فورا اس کو غیر حجت کہا جاتا ہے اگر یہ سب غیر حجت ہے تو ان کو جمع کرنے اور لوگوں کا ان کو بیان کرنا کتنا معیوب ہو گا ؟ جس دور میں ان کو بیان کیا گیا اس دور میں یقینا یہ معیوب نہ ہو گا بہت سے  ان خوابوں کو جمع کر رہے تھے

اس کے برعکس الموسوعة الفقهية الكويتية جو ٤٥ جلدوں میں فتووں کا مجموعہ ہے اور وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت نے چھاپا ہے  اس میں وہابی علماء کا فتوی ج ٢٢ ص ١٠ پر ہے

وَهَذِهِ الأْحَادِيثُ تَدُل عَلَى جَوَازِ رُؤْيَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، وَقَدْ ذَكَرَ الْحَافِظُ فِي الْفَتْحِ، وَالنَّوَوِيُّ فِي شَرْحِ مُسْلِمٍ أَقْوَالاً مُخْتَلِفَةً فِي مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ. وَالصَّحِيحُ مِنْهَا أَنَّ مَقْصُودَهُ أَنَّ رُؤْيَتَهُ فِي كُل حَالَةٍ لَيْسَتْ بَاطِلَةً وَلاَ أَضْغَاثًا، بَل هِيَ حَقٌّ فِي نَفْسِهَا، وَلَوْ رُئِيَ عَلَى غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي حَيَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَصَوُّرُ تِلْكَ الصُّورَةِ لَيْسَ مِنَ الشَّيْطَانِ بَل هُوَ مِنْ قِبَل اللَّهِ، وَقَال: وَهَذَا قَوْل الْقَاضِي أَبِي بَكْرِ بْنِ الطَّيِّبِ وَغَيْرِهِ، وَيُؤَيِّدُهُ قَوْلُهُ: فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ

اور یہ احادیث (جو اوپر پیش کی گئی ہیں) دلیل ہیں نیند میں رسول الله کو دیکھنے کے جواز پر اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور النووی نے شرح المسلم میں مختلف اقوال نقل کیے ہیں جو اس معنی پر ہیں قول نبوی ہے جس  نے نیند میں مجھے دیکھا پس اس نے جاگنے میں دیکھا اور  مقصود ان میں صحیح  ہے کہ دیکھنا ہر حال میں باطل نہیں اور نہ پریشان خوابی ہے بلکہ یہ  فی نفسہ حق ہے اور اگر اس صورت پر دیکھے جس پر اپ صلی الله علیہ وسلم زندگی میں نہیں تھے تو اس صورت کا تصور شیطان کی طرف سے نہیں بلکہ یہ الله کی طرف سے ہے اور کہا یہ قول ہے قاضی ابو بکر بن الطیب اور دوسروں کا اور اس کی تائید اس قول سے ہوتی ہے پس اس نے حق دیکھا  

پانچویں صدی کے حنابلہ کے امام ابن الزغوانی کہتے ہیں کہ ان کے سامنے أبو عمرو بن العلاء البصري المتوفی ١٦٨ ھ کی سند پر قرات ہوئی اور الذہبی لکھتے ہیں

أَملَى عليَّ القَاضِي عَبْدُ الرَّحِيْمِ بن الزَّرِيْرَانِي  أَنَّهُ قرَأَ بِخَطِّ أَبِي الحَسَنِ بنِ الزَّاغونِي: قرَأَ أَبُو مُحَمَّدٍ الضّرِير عليَّ القُرْآن لأَبِي عَمْرٍو، وَرَأَيْتُ فِي المَنَامِ رَسُوْلَ اللهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ القُرْآن مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ بِهَذِهِ القِرَاءة، وَهُوَ يَسْمَع، وَلَمَّا بلغت فِي الحَجّ إِلَى قَوْلِهِ: {إِنَّ اللهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [الحَجّ:14] الآيَة، أَشَارَ بِيَدِهِ، أَي: اسْمَعْ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الآيَة مَنْ قرَأَهَا، غُفِرَ لَهُ، ثُمَّ أَشَارَ أَن اقرَأْ، فَلَمَّا بلغتُ أَوّل يَس، قَالَ لِي: هَذِهِ السُّورَة مَنْ قرَأَهَا، أَمِنَ مِنَ الفَقْر، وَذَكَرَ بَقِيَّةَ المَنَام.

ابن زغوانی نے کہا کہ … میں نے خواب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا اور اپ نے مجھ پر قرآن اول سے آخر تک پڑھا اس قرات پر … اور اس میں (صلی الله علیہ وسلم نے) فرمایا سوره یس وہ سوره ہے جو  پڑھے اس کو فقر سے امن ہو گا

کہا جاتا ہے خواب محدثین نے بیان تو کیے لیکن علماء نے  ان سے دلیل نہیں لی جبکہ الزغوانی نے سوره یس کی فضیلت نقل کی –  امام مسلم خواب سے مقدمہ میں دلیل لیتے ہیں

مسند علي بن الجَعْد بن عبيد الجَوْهَري البغدادي (المتوفى: 230هـ)   میں ہے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ خَمْسَ مِائَةِ حَدِيثٍ، أَوْ ذَكَرَ أَكْثَرَ، فَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ، فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا الْيَسِيرَ خَمْسَةَ أَوْ سِتَّةَ أَحَادِيثَ، فَتَرَكْتُ الْحَدِيثَ عَنْهُ»

ھم کو عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي نے خبر دی کہ سوید نے بیان کیا کہ علی نے بیان کیا انہوں نے اور حمزہ نے ابان سے سنیں ہزار احادیث یا کہا اس سے زیادہ پس حمزہ نے خبر دی کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ان پر وہ ہزار روایات پیش کیں تو رسول الله صرف پانچ یا چھ کو پہچان پائے پس اس پر میں نے ابان بن ابی عیاش کی احادیث ترک کیں

امام مسلم نے صحیح کے مقدمہ میں اس قول کو بلا جرح  نقل کیا ہے گویا یہ ان کے نزدیک دلیل تھا جبکہ اس کی سند ضعیف ہے

  القَولُ البَدِيعُ في الصَّلاةِ عَلَى الحَبِيبِ الشَّفِيعِ از  شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن بن محمد السخاوي (المتوفى: 902هـ) کے مطابق

وعن سليمان ابن سحيم قال رأيت النبي – صلى الله عليه وسلم – في النوم فقلت يا رسول الله هؤلاء الذين يأتونك فيسلمون عليك اتفقه سلامهم قال نعم وأرد عليهم رواه ابن أبي الدنيا والبيهقي في حياة الأنبياء والشعب كلاهما له ومن طريقه ابن بشكوال وقال إبراهيم بن شيبان حججت فجئت المدينة فتقدمت إلى القبر الشريف فيلمت على رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فيمعته من داخل الحجرة يقول وعليك السلام

 سليمان بن سحيم نے کہا میں نے خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا ان سے کہا یا رسول الله یہ جو اپ تک اتے ہیں اور سلام کہتے ہیں کیا اپ ن کا سلام پہچانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں میں جواب دیتا ہوں

اس کو ابن ابی الدنیا نے اور البیہقی نے روایت کیا ہے حیات الانبیاء میں اور شعب الایمان میں اور ان دونوں نے اس کو ابن بشکوال کے طرق سے روایت کیا ہے اور کہا ابراہیم بن شیبان نے حج کیا اور مدینہ پہنچے تو قبر النبوی پر حاضر ہوئے پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو سلام کہا حجرہ میں داخل ہو کر اور وہاں جواب آیا تم پر بھی سلام ہو

امام السخاوی نے اس کو بیان کیا ہے اور اس طرح رد الله علی روحی والی روایت کی تصحیح کی گئی ہے

  خواب میں   رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا آنا صحیح حدیث سے  ثابت نہیں ہے اس پر تفصیل یہاں ہے

⇓  کیا  اج نبی صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں آنا حدیث سے ثابت  ہے ؟

اہم مباحث

This entry was posted in Aqaid, Mysticism. Bookmark the permalink.

10 Responses to محدثین  اور خوابوں کی دنیا

  1. وجاہت says:

    مسند علي بن الجَعْد بن عبيد الجَوْهَري البغدادي (المتوفى: 230هـ) میں ہے

    أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ خَمْسَ مِائَةِ حَدِيثٍ، أَوْ ذَكَرَ أَكْثَرَ، فَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ، فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا الْيَسِيرَ خَمْسَةَ أَوْ سِتَّةَ أَحَادِيثَ، فَتَرَكْتُ الْحَدِيثَ عَنْهُ»
    اس قول کی تحقیق درکار ہے

    ھم کو عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي نے خبر دی کہ سوید نے بیان کیا کہ علی نے بیان کیا انہوں نے اور حمزہ نے ابان سے سنیں ہزار احادیث یا کہا اس سے زیادہ پس حمزہ نے خبر دی کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ان پر وہ ہزار روایات پیش کیں تو رسول الله صرف پانچ یا چھ کو پہچان پائے پس اس پر میں نے ابان بن ابی عیاش کی احادیث ترک کیں

    امام مسلم نے صحیح کے مقدمہ میں اس قول کو بلا جرح نقل کیا ہے گویا یہ ان کے نزدیک دلیل تھا جبکہ اس کی سند ضعیف ہے

  2. wajahat says:

    یہ احادیث بھی تو ہیں
    ——————–

    صحيح مسلم: كِتَابُ الرُّؤْيَا (بَابُ فِي قَولِ النَّبِيِّ ﷺ:(مَن رَّآنِي فِي المَنَامِ فَقَد رَآنِي)) صحیح مسلم: کتاب: خواب کا بیان

    (باب: نبی ﷺ کا فرما ن :”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھ ہی کو دیکھا”)

    5920 . وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، لَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي»

    یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا،”جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا وہ عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا یا (فرما یا : )گو یا اس نے مجھ کو بیداری کے عالم میں دیکھا ،شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔”

    صحيح مسلم: كِتَابُ الرُّؤْيَا (بَابُ فِي قَولِ النَّبِيِّ ﷺ:(مَن رَّآنِي فِي المَنَامِ فَقَد رَآنِي)) صحیح مسلم: کتاب: خواب کا بیان

    (باب: نبی ﷺ کا فرما ن :”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھ ہی کو دیکھا”)

    5919 . حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي»

    . محمد (بن سیرین ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ۔”
    —————–

    اب یہاں ابن سیرین کی حدیث ہے یہاں کوئی قول نہیں بیان کیا گیا

    —————————–

    صحيح مسلم: كِتَابُ الرُّؤْيَا (بَابُ فِي قَولِ النَّبِيِّ ﷺ:(مَن رَّآنِي فِي المَنَامِ فَقَد رَآنِي)) صحیح مسلم: کتاب: خواب کا بیان

    (باب: نبی ﷺ کا فرما ن :”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھ ہی کو دیکھا”)

    5921 . وَقَالَ: فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ»

    (ابن شہاب نے) کہا : ابو سلمہ نے کہا : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :”جس نے مجھے دیکھا اس نے سچ مچ (سچا خواب)دیکھا ۔”

    سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّؤْيَا) سنن ابو داؤد: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

    (باب: خوابوں کا بیان)

    5023 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ- أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ-، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي<.

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ” جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے جاگتے میں بھی دیکھے گا ، یا فرمایا کہ اس نے گویا مجھے جاگتے میں دیکھا ۔ اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔“

    اب یہاں بیان کیا جا رہا ہے کہ

    جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے جاگتے میں بھی دیکھے گا ، یا فرمایا کہ اس نے گویا مجھے جاگتے میں دیکھا ۔ اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔“

    اب ایک بات کی وضاحت تو آپ نے کر دی لیکن " فرمایا کہ اس نے گویا مجھے جاگتے میں دیکھا " اس کی وضاحت کیسے ہو گی

    • Islamic-Belief says:

      یہ ایک ہی قول ہے اس کو توڑ توڑ کر اپنا مدعا ثابت کرنا کیا صحیح ہے اگر ایسا ہے تو اصحاب رسول میں سے کس کس نے بعد وفات نبی ، نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا ؟
      جو ان کو خواب میں آج بھی دیکھے گا وہ عنقریب بیداری میں بھی دیکھے گا لیکن ایسا نہیں ہو رہا

  3. وجاہت says:

    taحقیق درکار ہے

    سنن الترمذی اور مسند امام احمد میں مروی ہے :
    عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” أتاني ربي في أحسن صورة، فقال: يا محمد، قلت: لبيك ربي وسعديك، قال: فيم يختصم الملأ الأعلى؟ قلت: رب لا أدري، فوضع يده بين كتفي فوجدت بردها بين ثديي فعلمت ما بين المشرق والمغرب، فقال: يا محمد، فقلت: لبيك وسعديك، قال: فيم يختصم الملأ الأعلى؟ قلت: في الدرجات والكفارات، وفي نقل الأقدام إلى الجماعات، وإسباغ الوضوء في المكروهات، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، ومن يحافظ عليهن عاش بخير ومات بخير، وكان من ذنوبه كيوم ولدته أمه “: «هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه». [ص:368] وفي الباب عن معاذ بن جبل، وعبد الرحمن بن عائش عن النبي صلى الله عليه وسلم وقد روي هذا الحديث عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم بطوله وقال: ” إني نعست فاستثقلت نوما فرأيت ربي في أحسن صورة؟ فقال: فيم يختصم الملأ الأعلى؟ ” (سنن الترمذی حدیث ۳۲۳۴ ، اور مسند امام احمد ۳۴۸۴ )
    ترجمہ :
    عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرا رب (خواب میں) بہترین صورت میں نظر آیا، اور اس نے مجھ سے کہا: محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں تیری خدمت میں حاضر و موجود ہوں، کہا: اونچے مرتبے والے فرشتوں کی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: (میرے) رب! میں نہیں جانتا، (اس پر) میرے رب نے اپنا دست شفقت و عزت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان (سینے میں) محسوس کی، اور مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کا علم حاصل ہو گیا، (پھر) کہا: محمد! میں نے عرض کیا: (میرے) رب! میں حاضر ہوں، اور تیرے حضور میری موجودگی میری خوش بختی ہے، فرمایا: فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے کہا: انسان کا درجہ و مرتبہ بڑھانے والی اور گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کے بارے میں (کہ وہ کیا کیا ہیں) تکرار کر رہے ہیں، جماعتوں کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والے قدموں کے بارے میں اور طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی مکمل وضو کرنے کے بارے میں۔ اور ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں، جو شخص ان کی پابندی کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا، اور خیر (بھلائی) ہی کے ساتھ مرے گا، اور اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس دن کہ ان کی ماں نے جنا تھا، اور وہ گناہوں سے پاک و صاف تھا“۔
    علامہ الالبانی نے اسے صحیح کہا ہے

    لنک

    http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1.34236/#post-269233

    • وجاہت says:

      آپ ایک بلاگ بنا دیں کہ الله کو خواب میں دیکھنے کا دعوه کس کس نے کیا

      اہلحدیث حضرات تو الله کو خواب میں دیکھنے کے قائل ہیں فتویٰ آپ کے سامنے ہے

      لنک

      http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1.34236/

      • Islamic-Belief says:

        سلام
        ان کے دلائل صحیح نہیں

        صحیح مسلم کی روایت ہے

        ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘
        (صحیح مسلم، کتاب الایمان، ح: 178)

        اس کا ترجمہ صحیح نہیں
        رسول الله نے فرمایا
        میں نے نور دیکھا

        یہ روایت امام مسلم کے استاد امام ابن معین کے نزدیک صحیح نہیں ہے

        اس میں يزِيد بن إِبْرَاهِيم التسترِي ہے اور اس طرق سے امام مسلم نے صحیح میں اس کو نقل کیا ہے

        کتاب ذخيرة الحفاظ از ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) کے مطابق

        حَدِيث: نور أَنى أرَاهُ. رَوَاهُ يزِيد بن إِبْرَاهِيم التسترِي: عَن قَتَادَة، عَن عبد الله بن شَقِيق قَالَ: قلت لأبي ذَر: لَو رَأَيْت رَسُول الله لسألته، قَالَ لي: عَمَّا كنت تسأله؟ قَالَ: كنت أسأله: هَل رأى ربه عز وَجل؟ فَقَالَ: قد سَأَلته، فَقَالَ: نور أريه مرَّتَيْنِ أَو ثَلَاثًا. وَهَذَا لم بروه عَن قَتَادَة غير يزِيد هَذَا، وَلَا عَن يزِيد غير مُعْتَمر بن سُلَيْمَان، وَكِلَاهُمَا ثقتان، وَحكي عَن يحيى بن معِين أَنه قَالَ: يزِيد فِي قَتَادَة لَيْسَ بذلك وَأنكر عَلَيْهِ رِوَايَته: عَن قَتَادَة عَن أنس.

        حدیث میں نے نور دیکھا اس کو يزِيد بن إِبْرَاهِيم التسترِي نے قتادہ سے انہوں نے عبد الله بن شقیق سے روایت کیا ہے کہا ہے میں نے ابو ذر سے پوچھا کہ اگر رسول الله کو دیکھتا تو پوچھتا ؟ انہوں نے کہا کیا پوچھتے ؟ میں نے کہا پوچھتا کہ کیا انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ؟ ابو ذر نے کہا میں نے پوچھا تھا پس کہا میں نے دو یا تین بار نور دیکھا اور اس کو روایت نہیں کیا قتادہ سے مگر یزید نے اور یزید سے کسی نے روایت نہیں کیا سوائے معتمر بن سلیمان کے اور یہ دونوں ثقہ ہیں اور یحیی بن معین سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا یزید قتادہ سے روایت کرنے میں ایسا اچھا نہیں ہے اور اس کی روایات کا انکار کیا جو قتادہ عن انس سے ہوں

        ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں الذھبی کہتے ہیں

        قال القطان ليس بذاك

        تاریخ الاسلام میں الذھبی کہتے ہیں

        وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هُوَ فِي قَتَادَةَ لَيْسَ بِذَاكَ

        ابن معین کہتے ہیں قتادہ سے روایت کرنے میں ایسا (اچھا) نہیں ہے

        ميزان الاعتدال في نقد الرجال میں الذھبی اس نور والی روایت کا يزيد بن إبراهيم کے ترجمہ میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس میں اس کا اور معتمر کا تفرد ہے

        محمد بن وزير الواسطي، حدثنا معتمر بن سليمان، عن يزيد بن إبراهيم، عن قتادة، عن عبد الله بن شقيق، قال: قلت لأبي ذر: لو رأيت النبي صلى الله عليه
        وسلم لسألته: هل رأى ربه؟ فقال: قد سألته فقال لي: نور إني أراه مرتين أو ثلاثا.
        تفرد به عن قتادة.
        وما رواه عنه سوى معتمر.

        الغرض یہ روایت صحیح نہیں ہے
        ——–

        نبی صلی الله علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ انہوں نے الله کو ہی دیکھا

        ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’تین چیزیں ہیں، جس نے ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی دعویٰ کیا اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا۔ جس نے یہ گمان کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دیکھا ہے اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا‘‘۔
        (صحیح مسلم ،کتاب الایمان، ح:177 )

        یعنی بیداری میں تو دیکھا نہیں اب خواب والی حدیث ہے جو ترمذی میں ہے

        معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں رات کو اٹھا، میں نے وضو کیا اور نماز پڑھی جتنی میرے مقدر میں تھی پھر مجھے نماز میں اونگھ آ گئی۔ اچانک میں نے اپنے رب کو سب سے اچھی صورت میں دیکھا ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی
        البانی نے اس کو صحیح کہہ دیا ہے جبکہ دارقطنی علل میں اس روایت پر کہتے ہیں
        6,pg54:

        وسئل عن حديث مالك بن يخامر عن معاذ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال رأيت ربي في أحسن صورة فقال لي يا محمد فيم يختصم الملا الاعلى الحديث بطوله فقال ……… قال ليس فيها صحيح وكلها مضطربة

        اس کی کوئی سند صحیح نہیں تمام مضطرب ہیں

        شعيب الأرنؤوط مسند احمد میں اس روایت پر کہتے ہیں
        ضعيف لاضطرابه
        اضطراب کی بنا پر ضعیف ہے

        بلاگ بنایا جا سکتا ہے ان شاء اللہ

    • Islamic-Belief says:

      ترمذی میں سند ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الأَعْلَى؟ قُلْتُ: رَبِّ لاَ أَدْرِي، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ وَالكَفَّارَاتِ، وَفِي نَقْلِ الأَقْدَامِ إِلَى الجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغِ الوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ، وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ، وَمَنْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

      کتاب جامع التحصیل کے مطابق خالد کی ملاقات ابن عباس سے نہیں ہے ان سے مرسل روایت کرتا ہے
      خالد بن اللجلاج العامري ذكره الصغاني فيمن اختلف في صحبته وهو تابعي يروي عن أبيه وله صحبة وفي التهذيب لشيخنا أنه يروي عن عمر وابن عباس مرسلا ولم يدركهما
      الذھبی تاریخ الاسلام میں اس کے لئے کہتے ہیں
      وَقَدْ أَرْسَلَ عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
      عمر اور ابن عباس سے یہ ارسال کرتا ہے

      اسی طرح اس میں قتادہ مدلس ہے جو عن سے روایت کر رہا ہے
      ان علتوں کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے

  4. وجاہت says:

    اور ایک بات اور پوچھنی ہے کہ کیا ہمارے محدثین نے امام بخاری کی شان میں زیادہ غلو نہیں کیا – جن میں ابن ہجر ، امام ذھبی بھی شامل ہیں

    أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل المهروني سمعت خالد بن عبد الله المروزي سمعت أبا سهل محمد بن أحمد المروزي سمعت أبا زيد المروزي الفقيه يقول كنت نائما بين الركن والمقام فرأيت النبي صلي الله عليه وسلم في المنام فقال لي يا أبا زيد إلي متي تدرس كتاب الشافعي ولا تدرس كتابي فقلت يا رسول الله وما كتابك قال جامع محمد بن إسماعيل

    ابن ہجر اپنی کتاب تغليق التعليق میں یہ روایت پر لکھتے ہیں کہ

    قلت إِسْنَاد هَذِه الْحِكَايَة صَحِيح ورواتها ثِقَات أَئِمَّة وَأَبُو زيد من كبار الشَّافِعِيَّة لَهُ وَجه فِي الْمَذْهَب وَقد سمع صَحِيح البُخَارِيّ من الْفربرِي وَحدث بِهِ عَنهُ وَهُوَ أجل من حدث بِهِ عَن الْفربرِي

    http://shamela.ws/browse.php/book-347#page-1949

    امام ذھبی بھی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ

    أخبرنا الحسن بن علي ، أخبرنا عبد الله بن عمر ، أخبرنا عبد الأول بن عيسى ، أخبرنا أبو إسماعيل الأنصاري ، أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل ، سمعت خالد بن عبد الله المروزي ، سمعت أبا سهل محمد بن أحمد المروزي ، سمعت الفقيه أبا زيد المروزي ، يقول : كنت نائما بين [ ص: 315 ] الركن والمقام ، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا أبا زيد إلى متى تدرس كتاب الشافعي ولا تدرس كتابي ؟ فقلت : يا رسول الله وما كتابك ؟ قال : جامع محمد بن إسماعيل يعني البخاري .

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=3618&idto=3618&bk_no=60&ID=3476

    امام ذھبی یہ بھی لکھتے ہیں

    قال: سمعت أبا زيد المروزي الفقيه يقول: كنت نائمًا بين الرُّكن والمقام، فرأيت النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أبا زيد إلى متى تدرِسّ كتاب الشّافعي ولا تدرسّ كتابي؟ فقلت: يا رسول الله وما كتابك؟ فقال: ” جامع محمد بن إسماعيل ” يعني البُخاري.

    http://shamela.ws/browse.php/book-35100/page-17256

    کیا یہ صحیح تھا ان محدثین کا لکھنا

    • Islamic-Belief says:

      شوافع میں یہ خیال پیدا ہوا کہ امام شافعی حدیث رسول کے مخالف تھے

      ایک خواب یہ ہے جس کا اپ نے ذکر کیا
      دوسرا یہ ہےجس کا میں نے ذکر کیا

      امام الشافعی کے ترجمہ میں الذھبی لکھتے ہیں

      زكَرِيَّا بنُ أَحْمَدَ البَلْخِيُّ القَاضِي: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بنَ أَحْمَدَ بنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيَّ يَقُوْلُ: رَأَيْتُ فِي المَنَامِ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي مَسْجِدِه بِالمَدِيْنَةِ، فَكَأَنِّيْ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! أَكْتُبُ رَأْيَ مَالِكٍ؟ قَالَ: (لاَ) . قُلْتُ: أَكْتُبُ رَأْيَ أَبِي حَنِيْفَةَ؟ قَالَ: (لاَ) . قُلْتُ: أَكْتُبُ رَأْيَ الشَّافِعِيِّ؟ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، كَأَنَّهُ انْتَهَرَنِي، وَقَالَ: (تَقُوْلُ رَأْيَ الشَّافِعِيِّ! إِنَّهُ لَيْسَ بِرَأْيٍ، وَلَكِنَّهُ رَدٌّ عَلَى مَنْ خَالَفَ سُنَّتِي) .

      زكَرِيَّا بنُ أَحْمَدَ البَلْخِيُّ القَاضِي کہتے ہیں میں نے أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بنَ أَحْمَدَ بنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيَّ کو سنا کہا میں نے نیند میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا اپ مسجد النبی میں تھے پس میں ان تک پہنچا اور سلام کیا اور کہا اے رسول الله کیا مالک کی رائے لکھوں؟ فرمایا نہیں – میں نے پوچھا کیا ابو حنیفہ کی رائے لکھوں ؟ فرمایا نہیں – پوچھا کیا شافعی کی رائے لکھوں ؟ باتھ کو اس طرح کیا کہ گویا منع کر رہے ہوں اور کہا تو شافعی کی رائے کا کہتا ہے وہ میری رائے نہیں ہے بلکہ میری سنت کی مخالف ہے

      اس طرح امام شافعی کو مخالف حدیث ق قول نبوی ثابت کرنے کی سازش کی گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *