محدثين أور صوفیاء کا   اتحاد

سن ٢٠٠ ہجری کے بعد مسلمانوں میں قبر والوں سے شغف بڑھ رہا تھا – وہاں جا کر محدثین اپنی ببتائیں عرض کرتے اور قبور کو تریاق مجرب قرار دیتے تھے

ذهبی کتا ب سیر اعلام النبلاء ،ج ٩ ص ٣٤٤ ، میں لکھتے ہیں
وعن ابراهیم الحربی ، قال ۰ قبر معروف ( الکرخی ) التریاق المجرب
اور ابراهیم حربی کہتے هیں کہ معروف (کرخی) کی قبر مجرب تریاق هے

امام احمد ابدال کی تلاش میں رہتے جن سے دعا کرا سکیں

امام احمد کہتے ہیں بحر الدم (1010) بحوالہ موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله، دار الکتب

وقال أحمد: معروف من الأبدال، وهو مجاب الدعوة

احمد کہتے ہیں معروف ابدال میں سے ہیں اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے

اور ابن حبان کتاب ثقات میں لکھتے ہیں

وما حلت بي شدة في وقت مقامي بطوس, فزرت قبر علي بن موسى الرضا صلوات الله على جده وعليه ودعوت الله إزالتها عني إلا أستجيب لي, وزالت عني تلك الشدة, وهذا شيء جربته مرارا, فوجدته كذلك
طوس میں قیام کے وقت جب بھی مجھے کوئی پریشانی لاحق ہوئی ،میں نے (امام) علی بن موسی الرضا صلوات الله على جده وعليه کی قبرکی زیارت کی، اور اللہ سے اس پریشانی کے ازالہ کے لئے دعاء کی ۔تو میری دعاقبول کی گئی،اورمجھ سے وہ پریشانی دورہوگئی۔اوریہ ایسی چیز ہے جس کامیں نے بارہا تجربہ کیا تو اسی طرح پایا

[الثقات لابن حبان، ط دار الفكر: 8/ 456]

ابن عساکر تاریخ الدمشق ج ٢ ص ٣١٥ میں لکھتے ہیں

مسجد مغارة الدم مسجد الدير الذي  كان لرهبان النصارى فجعل مسجدا

مسجد مغارة الدم  مسجد دیر عیسائی راہبوں کا مسکن تھے جن کو مسجد بنایا گیا

یہ مقام  جبل قاسيون دمشق میں ہے اور  ہابیل علیہ السلام سے منسوب تھا اور بعض کے نزدیک عزیر سے

کتاب البداية والنهاية از ابن کثیر کے مطابق

بِجَبَلِ قَاسِيُونَ شَمَالِيَّ دِمَشْقَ مَغَارَةٌ يُقَالُ لَهَا مَغَارَةُ الدَّمِ مَشْهُورَةٌ بِأَنَّهَا الْمَكَانُ الَّذِي قَتَلَ قَابِيلُ أَخَاهُ هَابِيلَ عِنْدَهَا وَذَلِكَ مِمَّا تَلَقَّوْهُ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذَلِكَ.

 جبل قاسیون شمال دمشق میں ایک غار ہے جس کو مَغَارَةُ الدَّمِ  کہا جاتا ہے جو اس مکان کے طور پر مشھور ہے اس میں قابیل نے ہابیل  کا قتل کیا تھا اور ایسا اہل کتاب میں قبول چلا آ رہا  ہے اور الله ہی اس بات کی صحت جانتا ہے

ابن کثیر مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قدامة کے لئے البداية والنهاية میں لکھتے ہیں کہ ہر پیر اور جمعرات کو وہ اس مقام پر جاتے

 وَكَانَ يَزُورُ مَغَارَةَ الدَّمِ فِي كُلِّ يَوْمِ اثنين وخميس

یعنی زمین کے ان مقامات سے جہاں اولیاء الله کا قتل ہوا یا ان کی قبریں ہیں یہ تبرک  حاصل کرنے کے مقامات عوام کے علاوہ خواص محدثین میں بھی مشہور ہو چلے تھے- زمین و آسمان میں روحانیت کے ڈانڈے قبروں پر جا کر مل رہے تھے

اسی دوران محدثین اپس میں غیر محسوس انداز میں وہ روایات صحیح کہہ رہے تھے جن کو بیان کرنے سے سلف امت یعنی امام مالک منع کرتے تھے یعنی روایت کہ الله نے آدم کو صورت رحمان پر پیدا کیا

کتاب قوت القلوب از  أبو طالب المكي میں ہے

وهجر الإمام أحمد بن حنبل رحمه الله تعالى أبا ثور صاحب الشافعي لما سئل عن معنى قول النبي: إن اللّه تعالى خلق آدم على صورته قال: إن الهاء عائدة على آدم فغضب وقال: ويله وأي صورة كانت لآدم يخلقه عليها؟ ويله يقول إن اللّه تعالى خلق على مثال فأي شيء يعمل في الحديث المفسر إن الله تعالى خلق آدم على صورة الرحمن، فبلغ ذلك أبا ثور فجاءه واعتذر وحلف أنه ما قلت عن اعتقاد وإنما هو رأي رأيته والقول ما قلت وهو مذهبي

اور امام احمد بن حنبل نے ابو ثور صاحب الشافعی   کی تفسیر پر  اختلاف کیا  جب ابو ثور  سے  قول نبوی پر سوال ہوا  کہ اللہ نے آدم کو اپنی صورت خلق کیا ؟  أبا ثور صاحب الشافعي  نے کہا اس میں  الهاء کی ضمیر  آدم کی طرف ہے- پس احمد کو غصہ آیا اور کہا : افسوس   آدم  کے لئے پھر کیا  صورت پر تھی جس پر ان کی تخلیق ہوئی؟   تو کس چیز  (صورت )  پر   تخلیق آدم میں عمل ہوا (  پھر)  حدیث  میں تفسیر  آ گئی ہے کہ الله تعالی نے آدم کو صورت رحمان پر خلق کیا- پس  جب یہ بات ابو ثور کو پہنچی وہ   آئے اور عذر  پیش کیا اور قسم لی کہ انہوں نے رائے سے کلام کیا تھا ، نہ کہ اعتقاد  سے اور ان  کا قول بھی وہی ہے جو احمد کا ہے اور یہی (اب ) ان کا مذھب ہے

ساتویں صدی ہجری میں انہی اجزاء کو شیخ صوفیاء  محی الدین ابن العربی المتوفی ٦٣٨ ھ  جن کو شیخ اکبر کہا جاتا ہے انہوں نے اس پر کتاب الفتوحات المکیہ میں   حدیث إن الله خلق آدم على صورة الرحمن کے حوالہ سے لکھا

ج ١ ص ٧٨ : ورد في الحديث إضافة الصورة إلى الله في الصحيح وغيره مثل حديث عكرمة قال عليه السلام ” رأيت ربي في صورة شاب الحديث ” هذا حال من النبي صلى الله عليه وسلم وهو في كلام العرب معلوم متعارف وكذلك قوله عليه السلام ” إن الله خلق آدم على صورته اعلم أن المثلية الواردة في القرآن لغوية لا عقلية

اور الصحیح میں  حدیث میں آیا ہے صورت کی اضافت الله کی طرف ہے اور دیگر میں بھی جیسے عکرمہ کی حدیث ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب کو جوان کی صورت دیکھا یہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے حال بیان کیا جو کلام عرب معلوم ہے اور متعارف ہے اور اسی طرح اپ کا قول ہے بے شک الله نے آدم کو اپنی صورت خلق کیا – جان لو کہ  مثالین جو  قرآن میں  ہیں وہ لغوی ہیں عقلی نہیں ہیں

ج ١ ص ٩ : من الخبر الثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الله خلق آدم على صورته من حيث إعادة الضمير على الله ويؤيد هذا النظر الرواية الأخرى وهي قوله عليه السلام على صورة الرحمن وهذه الرواية وإن لم تصح من طريق أهل النقل فهي صحيحة من طريق الكشف

نبی صلی الله علیہ وسلم سے خبر ثابت ہے کہ الله نے آدم کو اپنی صورت خلق کیا اس وجہ سے کہ اس میں ضمیر پلٹتی ہے الله کی طرف اور اس کی تائید ایک دوسری روایت سے بھی ہے جس میں ہے صورت الرحمان پر خلق کیا اور یہ وہ روایت ہے اور اگر یہ اہل نقل کے نزدیک سندا صحیح نہ بھی ہو تو یہ صحیح  ہوئی ہے کشف سے

پھر ابن عربی حروف  کے اسرار پر بات کرتے ہیں

ج ٣ ص ٥١ : فقوله للشئ كن بحرفين الكاف والنون بمنزلة اليدين في خلق آدم

الله کا قول کہ کن کہتا ہے اس میں دو حرف ہیں ک اور ن  یہ آدم کی تخلیق میں ہاتھوں کی طرح ہیں

ج ٤ ص ٤٩ : وورد في الصحيح أن الله خلق آدم على صورته وهو الإنسان الكامل

اور الصحیح میں آیا ہے کہ الله نے آدم کو اپنی  صورت پر خلق کیا اور وہ الانسان الکامل تھے

ج ١ ص ٣٣ : ولهذا قال إن الله خلق آدم على صورة الرحمن فنطقت بالثناء على موجدها فقالت لام ياء هاء حاء طاء فأظهرت نطقاً ما خفي خطاً لأن الألف التي في طه وحم وطس موجودة نطقاً خفيت

اور اس وجہ سے الله نے آدم کو اپنی صورت خلق کیا پس اپنی موجودات کی تعریف بولی پس کہا

ل  ی ھ ح ط  پس اس سے ظاہر ہوا گویائی ظاہر ہوئی

پھر ابن عربی نے اس کتاب میں حروف کو عالموں سے ملایا

عالم الجبروت عند أبي طالب المكي ونسميه نحن عالم العظمة وهو الهاء والهمزة

العالم الأعلى وهو عالم الملكوت وهو الحاء والخاء والعين والغين

العالم الوسط وهو عالم الجبروت عندنا وعند أكثر أصحابنا وهو التاء والثاء والجيم والدال والذال والراء والزاي والظاء والكاف واللام والنون والصاد والضاد والقاف والسين والشين والياء

عالم الامتزاج بين عالم الجبروت الوسط وبين عالم الملكوت وهو الكاف والقاف

العالم الأسفل وهو عالم الملك والشهادة وهو الباء والميم والواو

یعنی ابن عربی نے حدیث سے وہ وہ ثابت کر دیا کہ خالق و مخلوق کے بیچ کی حدیں سمٹنے لگیں

اس طرح انسان الکامل کا تصور بن گیا

محدثین قبروں پر جا رہے تھے وہاں دعا کرتے صاحب قبر کو پکارتے نہیں تھے – امام الذھبی نے اس کا ذکر کیا کہ

سیر الاعلام النبلاء ج ٩ ص ٣٤٣ پر  کہتے ہیں  ہیں

يُرِيْدُ إِجَابَةَ دُعَاءِ المُضْطَرِ عِنْدَهُ؛ لأَنَّ البِقَاعَ المُبَارَكَةِ يُسْتَجَابُ عِنْدَهَا الدُّعَاءُ، كَمَا أَنَّ الدُّعَاءَ فِي السَّحَرِ مَرْجُوٌّ، وَدُبُرَ المَكْتُوْبَاتِ، وَفِي المَسَاجِدِ، بَلْ دُعَاءُ المُضْطَرِ مُجَابٌ فِي أَيِّ مَكَانٍ اتَّفَقَ، اللَّهُمَّ إِنِّيْ مُضْطَرٌ إِلَى العَفْوِ، فَاعْفُ عَنِّي

  ابراہیم حربی کی مراد یہ هے کہ معروف کرخی کی قبر کے پاس مضطر آدمی کی دعا قبول هوتی هے ،کیونکہ مبارک مقامات کے پاس دعا قبول هوتی هے ،جیسا کہ سحری کے وقت ،اور فرض نمازوں کے بعد ،اور مساجد میں ،بلکہ مضطر آدمی کی دعا هر جگہ قبول هو تی هے

محدثین خواب  میں صوفیاء کی خبریں پا رہے تھے –  القَولُ البَدِيعُ في الصَّلاةِ عَلَى الحَبِيبِ الشَّفِيعِ  از  شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن بن محمد السخاوي (المتوفى: 902هـ) کے مطابق

أبي بكر بن محمد بن عمر قال كنت عند أبي بكر بن مجاهد فجاء الشبلي فقام إليه أبو بكر بن مجاهد فعانقه وقبل بين عينيه، وقلت له يا سيدي تفعل بالشبلي هكذا وأنت وجميع من ببغداد يتصوران أو قال يقولون أنه مجنون فقال لي فعلت كما رأيت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فعل به وذلك أني رأيت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – في المنام وقد أقبل الشبلي فقام إليه وقبل بين عينيه فقلت يا رسول الله أتفعل هذا بالشبلي فقال هذا يقرأ بعد صلاته لقد جاءكم رسول من أنفيكم إلى آخر السورة ويتبعها بالصلاة علي وفي رواية لأنه لم يصل صلاة فريضة إلا ويقرأ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} الآية، ويقول ثلاث مرات صلى الله عليك يا محمد، صلى الله عليك يا محمد، صلى الله عليك يا محمد، قال فلما دخل الشبلي سألته عما يذكر في الصلاة فذكر مثله، وهي عند ابن بشكوال من طريق أبي القاسم الخفاف قال كنت يوماً اقرأ القرآن على رجل يكني أبا بكر وكان ولياً لله فإذا بأبي بكر الشبلي قد جاء إلى رجل يكني بأبي الطيب كان من أهل العلم فذكر قصة طويلة وقال في آخرها: ومشى الشبلي إلى مسجد أبي بكر بن مجاهد فدخل عليه فقام إليه فتحدث أصحاب ابن مجاهد بحديثهما وقالوا له أنت لم تقم لعلي بن عيسى الوزير وتقوم للشبلي فقال ألا أقوم لمن يعظمه رسول الله – صلى الله عليه وسلم – رأيت النبي – صلى الله عليه وسلم – في النوم فقال لي يا أبا بكر إذا كان في غد فييدخل عليك رجل من أهل الجنة فإذا جاءك فأكرمه قال ابن مجاهد فلما كان بعد ذلك بليلتين أو أكثر رأيت النبي – صلى الله عليه وسلم – في المنام فقال لي يا أبا بكر أكرمك الله كما أكرمت رجلاً من أهل الجنة، فقلت يارسول الله لم أستحق الشبلي هذا منك فقال هذا رجل يصلي خمس صلوات يذكر في أثر كل صلاة ويقرأ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} الآية، يقول ذلك منذ ثمانين سنة أفلا أكرم من يفعل هذا؟ قلت ويستأنس هنا بحديث أبي إمامه – رضي الله عنه – عن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال من دعا بهؤلاء الجعوات في دبر كل صلاة مكتوبة حلت له الشفاعة مني يوم القيامة، اللهم أعط محمداً الوسيلة وأجعل في المصطفين محبته وفي العالمين درجته وفي المقربين داره رواه الطبراني في الكبير وفي سنده مطرح بن يزيد وهو ضعيف, وأما عند إقامة الصلاة فعن الحسن البصري قال من قال مثل ما يقول المؤذن فإذا قال المؤذن قد قامت الصلاة قال اللهم رب هذه الدعوة الصادقة والصلاة القائمة صل على محمد عبدك وروسلك وأبلغه درجة الوسيلة في الجنة، دخل في شفاعة محمد صلى الله عليه وسلم أو نالته شفاعة محمد – صلى الله عليه وسلم – رواه الحسن بن عرفة والنميري.

الزاهد أبو بكر دلف بن جعفر بن يونس الشبلي كي پیدائش سن ٢٤٧ ہے اور وفات ٣٣٤ ہجری  ہے

 

تذکرہ کچھ متصوفین کا

غیر مقلد  عبد اللہ محدث روپڑی

ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 150 – 155 جلد 01 فتاویٰ اہل حدیث – حافظ عبد اللہ محدث روپڑی – ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ، سرگودھا​

اب رہی ”توحید الٰہی” سو اس کے متعلق بہت دنیا بہکی ہوئی ہے۔ بعض تو اس کا مطلب ” ہمہ اوست” سمجھتے ہیں یعنی ہر شئے عین خدا ہے، جیسے برف اور پانی بظاہر دو معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقت ایک ہے اسی طرح خدا اور دیگر موجودات ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ تمام موجودات وحدت حقیقی کا عکس ہیں۔ جیسے ایک شخص کے ارد گرد کئی شیشے رکھ دیئے جائیں تو سب میں اس کا عکس پڑتا ہے ایسے ہی خدا اصل ہے اور باقی اشیاء اس کا عکس ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ کُلی جزئ کی مثال ہے جیسے انسان اور زید عمر بکر ہیں۔ حقیقت سب کی خدا ہے اور یہ تَعَیُّنَات حوادث ہیں۔ غرض دُنیا عجیب گھورکھدندے میں پڑی ہوئی ہے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔
صحیح راستہ اس میں یہ ہے کہ اگر اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ خدا کے کوئی شئے حقیقۃً موجود نہیں اور یہ جو کچھ نظر آرہا ہے یہ محض توہمات ہیں جیسے ”سوفسطائیہ” فرقہ کہتا ہے کہ آگ کی گرمی اور پانی کی برودت وہمی اور خیالی چیز ہے تو یہ سراسر گمراہی ہے۔ اور اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ موجودات انسانی ایجادات کی طرح نہیں کہ انسان کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہیں بلکہ یہ ان کا وجود خدا کے سہارے پر ہے اگر اُدھر سے قطع تعلق فرض کیا جائے تو ان کا کوئی وجود نہیں۔ تو یہ مطلب صحیح ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بجلی کا کرنٹ (برقی رَو) قمقموں کے لئے ہے۔ گویا حقیقت میں اس وقت بھی ہر شئے فانی ہے مگر ایک علمی رنگ مین اس کو سمجھنا ہے اور ایک حقیقت کا سامنے آنا ہے۔ علمی رنگ مین تو سمجھنے والے بہت ہیں مگر حقیقت کا اس طرح سامنے آنا جیسے آنکھوں سے کوئی شے دیکھی جاتی ہے یہ خاص اربابِ بصیرت کا حِصّہ ہے گویا قیامت والی فنا اس وقت ان کے سامنے ہے۔ پس آیہ کریمہ کل شئ هالك الا وجهه۔ ان کے حق مین نقد ہے نہ اُدھار۔
نوٹ:
ابن عربیؒ، رومیؒ اور جامیؒ وغیرہ کے کلمات اس توحید مین مشتبہ ہیں۔ اس لئے بعض لوگ ان کے حق مین اچھا اعتقاد رکھتے ہیں بعض بُرا۔ ابن تیمیہؒ وغیرہ ابن عربیؒ سے بہت بدظن ہیں۔ اسی طرح رومیؒ اور جامیؒ کو کئی علماء برا کہتے ہیں مگر میرا خیال ہے کہ جب ان کا کلام محتمل ہے جیسے جامیؒ کا کلام اُوپر نقل ہو چکا ہے اور وہ درحقیقت ابن عربیؒ کا ہے۔ کیونکہ ابن عربی کی کتاب ”عوارف المعارف” سے ماخوذ ہے تو پھر ان کے حق مین سُوء ظنی ٹھیک نہیں۔ اسی طرح رومیؒ کو خیال کر لینا چاہیئے، گرض حتی الوسع فتویٰ میں احتیاط چاہیئے۔ جب تک پُوری تسلی نہ ہو فتویٰ نہ لگانا چاہیئے خاص کر جب وہ گزرچکے۔اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہو چکا تو اَب کُرید کی کیا ضرورت؟ بلکہ صرف اس آیت پر کفایت کرنی چاہیئے۔
تلك امة قد خلت لها ماكسبت ولكم كسبتم ولا تسئلون عما كانو تعملون
نوٹ:
ابن عربیؒ وغیرہ کاکچھ ذکر ”تنظیم” جلد 9 نمبر 22 مورخہ 29 مارچ 1940 ء مطابق 20 صفر المظفر 1359 ھ میں بھی ہو چکا ہے اور رسال ”تعریف اہلسنت” کے صفحہ 365 ، 366 میں بھی ہم اس کے متعلق کافی لکھ چکے ہیں زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو وہاں ملاحظہ ہو۔

ابن عربی کو رحمہ الله علیہ لکھا گیا ہے

 

نذیر حسین

ملا حظہ فرمائیں: صفحہ 123 – 124 الحیاۃ بعدالمماۃ – فضل حسین بہاری – المکتبۃ الاثریہ، سانگلہ ہل

یعنی شیخ کی آخری تصنیف فتوحات مکیہ سے ان کے گناہ کا کفارہ ہو گیا ہے

ثناء اللہ امرتسری  

ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 334 جلد 01 فتاویٰ ثنائیہ – ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری – ادارہ ترجمان السنہ، لاہور

خطبات بہاولپوری

راقم کہتا ہے تصوف سے ہندوستان ہی نہیں محدثین بھی متاثر تھے – سچ بولیں اور سچ  پھیلائیں

 

This entry was posted in Aqaid, history. Bookmark the permalink.

One Response to محدثين أور صوفیاء کا   اتحاد

  1. وجاہت says:

    بہت ہی معلوماتی تھریڈ ہے – اکثر ان باتوں کو چھپایا جاتا ہے

    جزاک الله خیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *