كتاب التوحيد و ألأسماء الحسني

كتاب توحيد ألأسماء الحسني

قرآن  کریم کو  دنیا میں الله تعالی کی معرفت کے لئے  نازل کیا گیا ہے –  انسان  اپنے خالق کو جاننا چاہتا ہے  کبھی اس  کا دل دیکھنے کا چاہتا ہے –  لیکن محدود انسانی عقل اور حواس  خمسہ اور عالم تکوینی کی ساخت  کی وجہ سے رب کو نہیں دیکھا جا سکتا – الله عرش پر   مستوی  ہے – اس کی ذات کو یہ زمین اٹھا نہیں سکتی ایسا اس نے خود بتایا ہے کہ موسی نے درخواست کی کہ وہ الله کو دیکھنا چاہتے ہیں الله نے اپنا ظہور پہاڑ پر کرنا شروع کیا کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا[1]

وَلَمَّا جَاء مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَن تَرَانِي وَلَكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
الأعراف

اور جب موسی ہمارے مقرر کردہ مقام پر پہنچا اور اپنے رب سے ہم کلام ہوا بولا اے رب مجھے دکھا ، میں تجھ کو دیکھوں-  کہا : تم مجھے نہیں دیکھ سکتے لیکن اس پہاڑ کو دیکھو اگر اپنے مکان پر رہ گیا تو دیکھ لو گے پس جب اس کے رب نے جبل پر ظہور کیا اس کو ریزہ کر دیا اور  موسی گر گیا جب ہوش آیا بولا تو پاک ہے میں توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا مومن ہوں

یعنی الله تعالی کو یہ زمین اٹھا نہیں سکتی وہ عرش پر مستوی ہے اور اپنے علم کی وجہ سے ہر انسان کی شہہ رگ کے قریب ہے-  معلوم ہوا کہ ہمارا رب اس زمین یا کسی بھی سیارہ پر اوتار نہیں بنا اور  نہ مخلوق میں سے کسی کی شکل پر اترا-

پہلی صدی ہجری کے اختتام تک مسلمانوں میں یونانی افکار داخل ہو چکے تھے – اس سے بنو امیہ اور بنو عباس دونوں متاثر ہوئے-   ابْنُ خَلِّكَانَ  کے مطابق خَالِدُ ابْنُ الخَلِيْفَةِ يَزِيْدَ بنِ مُعَاوِيَةَ بنِ أَبِي سُفْيَانَ الأُمَوِيُّ نے علم الكِيْمِيَاءَ  پر تین رسائل تصنیف کیے[2]

کتاب  إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال   از  مغلطاي کے مطابق

وذكر العسكري أنه كان مولعا بالكيمياء، وهو الذي شهرها في بلاد العرب.

اور عسکری نے ذکر کیا کہ خالد علم كيمياء  کا شوق رکھتے تھے اور عربوں کے شہروں میں اس کے لئے مشہور تھے

خیال  رہے کہ علم  کیمیا   اس دور میں کیمسٹری  سے زیادہ غناسطی  تصورات  بھی رکھتا تھا –   کتاب الأعلام    از   الزركلي الدمشقي (المتوفى: 1396هـ)   کے مطابق   البيروني نے کہا  کہ كان خالد أول فلاسفة الإسلام  خالد اسلام کے پہلے فلسفی تھے –      الزركلي کہتے ہیں یہ اشتغل بالكيمياء والطب والنجوم  علم کیمیا اور طب اور علم   نجوم میں مشغول رہتے –  کتاب معجم الأدباء      از  الحموي (المتوفى: 626هـ) کے مطابق   خالد   علّامة خبيرا بالطبّ والكيمياء شاعرا     علم   طب کیمیا اور شاعری کے جاننے والے علامہ تھے – کہہ سکتے ہیں کہ خالد پہلے مسلمان سائنس دان تھے – خالد ایک محدث بھی ہیں  ان  کی روایت سنن ابو داود میں موجود ہے اور  ان کا شمار ثقات میں کیا گیا ہے[3]

 خالد  کے بعد   الجعد بن درهم    نام کا ایک شخص خراسان سے دمشق پہنچا [4]– محمد بن مروان  جو  اموی   تھے ان کو اس کا کلام پسند آتا یہاں تک کہ اس کو اپنے بیٹے    (بنو امیہ کے آخری خلیفہ)   مروان الحمار کا اتالیق مقرر کیا [5]–   خلیفہ هشام بن عبد الملك  نے  الجعد بن درهم     کو دمشق سے نکال دیا اور عراق بھیجا جہاں اس کی ملاقات  الجهم بن صفوان  سے ہوئی اور  الجهم بن صفوان  اس کا شاگرد بن گیا –  اسی شاگرد سے جهمية کا مذھب نکلا-  الجعد بن درهم   اور   الجهم بن صفوان    فلسفیانہ کلام کو پسند کرتے تھے – خالد بن عبد الله القسري   جو    وَاسِطٍ   پر    خلیفہ هشام بن عبد الملك کے دور میں گورنر تھے انہوں نے  الجعد بن درهم    کو  سن    ١٠٥ ہجری کو    عید الاضحی  کے دن  بطور  قربانی ذبح یا  قتل کیا –   لگتا ہے کہ  الجعد بن درهم  کا    دمشق  میں  اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا     اس وجہ سے ہشام نے اس کو دمشق سے نکال دیا –     الجعد  کے شاگرد مروان  حمار   ( آخری اموی خلیفہ )   اور ہشام  بن عبد الملک کا جھگڑا بھی رہا-  بہر حال محدثین  و علماء نے   الجعد کے قتل کو پسند کیا کیونکہ فلسفہ کے کلام سے ان  کو سخت کوفت ہوتی تھی-

الجعد  سے  عراق میں جھم  بن صفوان  المتوفی ١٢٨ ھ  متاثر  ہو چکا تھا اور یہ  ایک  مصیبت بن گیا[6] – اس نے ان  افکار کو پھیلا دیا وہ جو الجعد صرف چند شاگردوں  کو بیان کرتا  تھا  – اب  یہ  تمام امت کے سامنے آ گئے –   کلام الله   اور رب  کی کیا تعریف  ہے؟  اس پر بحث کا باب کھل گیا-

اس دور میں بنو ہاشم خروج کر رہے تھے   یہاں تک کہ ممکن ہے   دمشق میں کتب خانوں سے ان کو فلسفہ کی کتب بھی  مل گئی ہوں-     اسی دور میں بصرہ میں عمرو بن عبيد بن كيسان بن باب المتوفی ١٤٤ ھ بھی تھا  جو ایک محدث تھا  – یہ اور واصل بن عطاء المتوفی ١٣١ ھ  دونوں امام حسن بصری کے  شاگرد تھے  یہاں تک کہ ان دونوں  نے حسن بصری کی مجلس کو چھوڑ دیا اور ان کو اعتزل یا چھوڑنے والے کہا گیا[7]–   واصل بن عطاء  کا شاگرد هياج بن العلاء السلمي ہوا جو رؤوس المعتزلة   میں سے ایک تھا اور  أمير المؤمنين  المأمون   اس کی بہت عزت کرتے-   بنو عباس نے  الہاشمیہ اور بغداد میں اپنے دربار میں  اس قسم کے افکار کے تمام روساء کو جمع کر دیا – جن کو معتزلہ کہا جاتا ہے –

کہا جاتا ہے کہ معتزلہ  نے خلق قرآن کا قول  جھم  بن صفوان  المتوفی ١٢٨ ھ   سے لیا –   اور جھم نے اس کو   الجعد بن درهم  سے لیا –     کہا گیا کہ الله کو خالق کہا جائے گا لیکن کلام اصل میں منشائے الہی ہے جو جبریل کو منتقل ہوا   اور پھر کلام بنا- لہذا یہ کلام    اصل میں  قول رسول کریم یعنی فرشتہ کا قول ہے[8] – چونکہ فرشتہ  مخلوق ہے لہذا   قرآن کو   فنا  ہونا ہو گا   کیونکہ یہ مخلوق سے ادا ہوا ہے –   یعنی معتزلہ   نے  اس کا انکار کیا کہ الله تعالی  درحقیقت  کلام کرتے ہیں  اس طرح   مسئلہ خلق قرآن کا آغاز ہوا-

اس دور میں سب سے پہلے صفت کا لفظ  اسلامی لٹریچر میں  استعمال ہوا –  لفظ صفت عربی میں فلسفہ یونان سے آیا ہے یہ لفظ قرآن میں نہیں ہے اور الله کے نام ہیں جن کو صفت نہیں کہا گیا ہے  الاسماء الحسنی کہا گیا ہے –  راقم نے مجبورا  اس تحریر میں صفت کا لفظ  استعمال کیا ہے –

فلسفہ یونان کے امہات میں سے ہے کہ اشیاء اپنی صفت اور ضد سے پہچانی جاتی ہیں- یہ طریقہ استدلال فلسفہ کی وجہ  سے    فلاسفہ اور محدثین دونوں میں  رائج ہوا کیونکہ معتزلہ اس طریقہ کار کو استعمال کرتے تھے –

راقم کہتا ہے   الله کو ضد اور صفت کی بجائے اس طرح سمجھا جائے گا جیسا اس نے کتاب الله میں بیان کیا ہے بس نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم – یہ قول امام ابن حزم کا بھی  ہے [9]–   ابن حزم کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل میں کہتے ہیں

فَلَا يجوز القَوْل بِلَفْظ الصِّفَات وَلَا اعْتِقَاده بل هِيَ بِدعَة مُنكرَة

  یہ صفات کا لفظ بولنا اور اس پر اعتقاد جائز نہیں بلکہ یہ بدعت منکر ہے

محدثین  یونانی فلسفہ سے متاثر نہیں تھے لیکن معتزلہ کے رد میں وہ فلسفیانہ اصطلا حات کو استعمال  کرتے رہے تھے  -فلسفہ کی پہلی شق ہے کہ ہر چیز اپنی صفت سے جانی جائے گی-    اشیاء اپنی صفت سے جانی جاتی ہیں لیکن کیا صفت کا لفظ الله کے لئے بولا جا سکتا ہے ؟   کیا الله کوئی چیز ہے ؟ اس پر نص کیا ہے ؟   لهذا سب سے پہلے    محدثین کی جانب سے   الله کو ایک  شيء (چیز) بنایا گیا –  اس پر دلائل پیش کیے گئے  جس میں  سوره الانعام کی آیت سے استخراج کیا گیا

قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ
کہو کس چیز کی شہادت سب سے بڑی ہے ؟ کہو الله کی جو گواہ ہے ہمارے اور تمہارے بیچ

اور قرآن میں ہے

كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلاَّ وَجْهَهُ
ہر چیز ہلاک ہو جائے گی سوائے الله کے وجھہ کے

اس سے محدثین نے استخراج کیا کہ الله ایک چیز ہے لیکن وہ یہ بھول  گئے کہ فلسفہ کی یہ شق عام چیزوں کے لئے ہے کیونکہ اصول عام پر ہوتا ہے استثنیٰ پر نہیں ہوتا –  الله نے اپنے لئے اگرچہ شيء یعنی چیز کا لفظ بولا ہے لیکن اپنے اپ کو ان سے الگ بھی کیا ہے

ليس كمثله شيء

إس کی مثل کوئی شيء  نہیں ہے

اس کے   علاوہ    ایک روایت سے ان کو دلیل بھی ملی مثلا امام بخاری ایک حدیث    الصحیح میں  پیش کرتے ہیں جس میں     صفة الرحمن کا لفظ ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ، وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟»، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ»

سعید بن ابی ھلال روایت کرتے ہیں کہ ابا الرجال نے روایت کیا کہ ان کی ماں عمرہ نے روایت کیا اور وہ حجرہ عائشہ میں تھیں کہ عائشہ رضی الله عنہا نے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو سریہ پر بھیجا اور وہ نماز میں کو سوره الخلاص پر ختم کرتے واپس انے پر اس کا ذکر رسول الله سے ہوا آپ نے فرمایا کہ اس سے پوچھو ایسا کیوں کرتے تھے پس ان صاحب سے پوچھا تو انہوں کے کہا کہ اس میں صفت الرحمن کا ذکر ہے اور مجھ کو یہ پسند ہے لہذا اس کو پڑھتا تھا پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اس کو خبر دو کہ الله بھی اس کو پسند کرتا ہے

ابن حزم اس روایت میں راوی سعید بن ابی ھلال پر تنقید کرتے ہیں[10]

إِن هَذِه اللَّفْظَة انْفَرد بهَا سعيد بن أبي هِلَال وَلَيْسَ بِالْقَوِيّ قد ذكره بالتخطيط يحيى وَأحمد بن حَنْبَل

یہ لفظ بیان کرنے میں سعيد بن أبي هِلَال ( المتوفی ١٤٩ ھ ) کا تفرد ہے جو قوی نہیں اور اس کے اختلاط کا ذکر یحیی اور احمد نے کیا ہے

 محدث الساجي نے بھی اس راوی کو الضعفاء میں ذکر کیا ہے امام احمد کے الفاظ کتاب سؤالات أبي بكر أحمد بن محمد بن هانئ الأثرم میں موجود ہیں-  صفة الرحمن کے الفاظ کو بولنے میں سعيد بن أبي هلال راوی کا تفرد ہے لہذا ابن حزم کی رائے اس روایت پر درست معلوم ہوتی ہے   –     –   اللہ تعالی فلسفہ اور اس کی اصطلاحات سے بلند و بالا ہے  لہذا اس کو شی اور صفت سے سمجھنا صحیح نہیں ہے اس نے  اپنے بارے میں کتاب الله میں جو بتا دیا ہے وہ انسانوں کے لئے کافی ہے-

اسی دور میں      مُقَاتِلُ بنُ سُلَيْمَانَ البَلْخِيُّ أَبُو الحَسَن   نام کا ایک شخص بھی    مشہور ہوا- اس نے تفسیر لکھی جس میں خالصتا  تجسیم کا انداز تھا –   بہت سے لوگ اس  سے متاثر ہونے جن میں امام احمد بن حنبل بھی تھے[11]

اس طرح الله تعالی کے لئے ذات ، وجود اور صفت کے الفاظ استعمال ہونے لگے جو غیر قرانی ہیں – اگلی صدیوں میں معتزلہ اور جھمیہ تو معدوم ہو گئے لیکن اہل سنت میں  ان کلامی بحثوں کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو گئے    اور   ان فلسفیانہ اصطلاحات کو بھی  قبول کر لیا گیا –

ساتویں صدی ہجری  میں محی الدین ابن العربی  (المتوفی ٦٣٨ ھ)  ایک صوفی  ظاہر ہوئے –   تخلیق کائنات کے حوالے سے   یونانی فلسفی پلوتینس[12]   کے نظریہ صدور  جیسا  فلسفہ ابن عربی نے پیش کیا    جس میں  الله  سے   کائنات  کا صدور ہوتا ہے اور تدریجا یہ پہلے سے ابتر ہوتا چلا جاتا ہے  گویا الله  خلق نہیں کرتا بلکہ اس سے کائنات کا ظہور ہوتا ہے –  اس کو     تنزلات ستہ  کہا  جاتا ہے   اور  یہ سب الله تعالی  کے علم میں ہوا ہے – یا با الفاظ دیگر یہ کائنات   ابھی تخلیق نہیں ہوئی نہ ہو گی – اس کی وجہ یہ ہے کہ لا وجود الا الله – اگر وجود صرف الله تعالی کا ہے تو پھر جو چیز بھی الله کے سوا ہے وہ بھی اسی کی ذات کا حصہ ہے – صوفیا  میں یہ نظریہ وحدت الوجود کہلاتا ہے اگر وہ الله کے سوا کائنات کو حقیقی کہیں – اور یہی بات وحدت الشہود کہلاتی ہے اگر وہ کائنات کو وہم و خیال قرار دیں-

یعنی  ساتویں صدی کے آخر تک الله تعالی کی ذات و صفات پر کلام اس قدر تھا کہ  سب الجھ گیا تھا –   صوفی منش محدثین  البیہقی   اور ابو نعیم  بھی میدان میں تھے – خالص صوفیا  مثلا الغزالی  بھی ایک متکلم تھے- یہ سب صفات میں کلام کرتے تھے – تصوف کی قدیم کتاب   التعارف از کلابازی میں بھی صفات پر بحث ہے

     اہل سنت میں سے  بعض نے صفات الله میں جھمیہ کا موقف پسند کیا [13]–   جھم  کے مطابق اس کا رب ایک انرجی نما   ہے جو تمام    کائنات میں ہے –   چونکہ یہ قول وحدت الوجود یا وحدت الشہود  جیسا ہی ہے اس قول کو صوفیاء میں درجہ قبولیت مل گیا-

دوسری طرف  محدثین   میں    دو گروہ ہوئے  – ایک گروہ نے فوض  کا قول لیا – فوض کہتے ہیں سوپنے کو کہ ہم صفات میں علم اللہ کو سونپتے ہیں ہم اس میں اعضا والی رائے نہیں رکھیں گے – ان کی دلیل ہے کہ یہ متشابہات ہیں – سلف کے وہ محدثین اور علماء جو صفات کا علم الله کو سونپتے ہیں ان کو اہل حدیث المفوضہ کہا جاتا ہے جن میں امام الزہری ، امام مالک،امام  ابن قتیبہ ، امام الاشعری، ابن جوزی ، ، ابن عقیل، ابن حجر ،   النووی وغیرہ ہیں[14]–  المفوضہ  میں امام الاشعری  ہیں – انہی سے   الأشاعرة    کا مذھب نکلا ہے –  الأشاعرة کے علماء کہتے ہیں کہ اللہ کی صفات کی تفصیل معلوم نہیں ان پر ایمان لایا جائے گا اور ان کو اسی طرح نہیں قبول کیا جائے گا جس سے جسم ثابت ہو جو اعضا والا ہے مثلا الله کا ہاتھ ،پیر، اس کا سینہ ،انگلی، بازو ،سر ،سر کے بال –

محدثین  میں سے بعض نے  افراط کا مظاہرہ کیا اور   عرش الہی کو ایک  ٹھوس چیز ثابت کرنے کے لئے یہ عقیدہ لیا کہ ان کا رب اس پر بیٹھا ہے اور روز محشر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس پر بٹھایا جائے گا – اسی گروہ نے اپنے رب کو اعضا والا کہا یہاں تک کہ  کہا اس کے سر کے بال گھنگھریالے ہیں- ان کو   ا لمشبهة یا  المجسمة   یا    الحشوية  کہا جاتا ہے [15]  وہ محدثین اور علماء جو صفات کو ظاہر پر لیتے ہیں ان میں سرفہرست امام احمد، ابن تیمیہ، غیر مقلدین اور وہابی فرقہ کے لوگ ہیں- سلف میں المروزی کے مطابق امام احمد الله کے لئے صورت یا چہرے کے قائل تھے اور اسی قول کو ابی یعلی مصنف طبقات حنابلہ نے لیا ہے[16]–  لیکن ابن عقیل اور ابن جوزی جو حنبلی ہی  ہیں انہوں نے اس کو    ا لمشبهة کا قول کہہ کر اسکا انکار کیا ہے  اور اس کا بھی انکار کیا کہ یہ احمد کا قول تھا – ابن تیمیہ نے ابی یعلی کا قول لیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ تین قرون تک لوگ صفت صورت کو مانتے تھے جبکہ یہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے- شوافع میں ابن المقلن بھی   ا لمشبهة ہیں وہ کہتے ہیں کہ روز محشر الله تعالی اپنی پنڈلی کو ظاہر کریں گے جس سے محشر روشن ہو جائے گا [17] – لیکن    شوافع میں  آٹھویں صدی کے محدث الذھبی اس کے سخت انکاری تھے اور اس طرح ابن تیمیہ اور الذھبی دونوں صفات میں ایک دوسرے کے مخالف تھے – اگلی صدیوں میں ابن حجر نے صفات میں    ا لمشبهة کا انکار کیا ہے ا  ور کہا ہے کہ الله کے اعضا نہ بولے جائیں – وہابیوں نے    ا لمشبهة کی رائے اختیار کی اور ان کے نزدیک ابن تیمیہ کا عقیدہ ابن جوزی سے جدا اور صحیح ہے- اس طرح وہابیہ نے حنابلہ کے اس گروہ کا حصہ بننا پسند کیا جو ا ا لمشبهة   میں سے ہے-

ابن تیمیہ اور وہابی  صفات کو متشابھات  کہنے کے خلاف ہیں   اور ان کی تاویل سے بھی منع کرتے ہیں –  ان کے نزدیک صفات  کا مفہوم  ظاہر پر لیا جائے گا -اس کو محدثین کا عقیدہ بتاتے ہیں جبکہ یہ تمام محدثین کا عقیدہ نہیں تھا صرف چند کا تھا جو روایت پسند تھے کہ اگر روایت میں الله کے اعضا کا ذکر ہے تو وہ وہی ہیں جو انسان کے حوالے سے ہم کو پتا ہیں[18]–  گویا اللہ نے ہاتھ کہا ہے تو اس کا ہاتھ ہے اور روایات کو اس کے ظاہر پر لیتے ہوئے یہ لوگ اس مقام تک گئے کہ رب العالمین کے لئے سلفیوں نے اس عقیدہ کو بھی لیا کہ وہ کھنگریا لے بالوں والا ہے

البانی الرد على المفوضة میں  کہتے ہیں

أن عقيدة السلف تحمل آيات على ظاهرها دون تأويل ودون تشبيه

سلفی عقیدہ ہے کہ آیات کو ظاہر پر ہی لیا جائے گا بغیر تاویل و تشبہ کے

البانی  ایک سوال کے جواب میں مفوضہ پر کہتے ہیں

وكما جاء في بعض كتب الأشاعرة كالحافظ ابن حجر العسقلاني، وهو من حيث الأصول والعقيدة أشعري

اور ایسا بعض الأشاعرة کی کتب میں ہے جیسے ابن حجر عسقلانی کی کتب اور وہ اصول میں أشعري عقیدہ پر ہیں

نووی بھی عقیدے میں اشاعرہ والا عقیدہ رکھتے ہیں لهذا وہابی عالم عالم مشهور حسن سلمان نے کتاب لکھی   جس کا نام ہے
الردود والتعقبات على ما وقع للإمام النووي في شرح صحيح مسلم من التأويل في الصفات وغيرها من المسائل المهمات
جس میں ان کے مطابق امام نووی بھی صفات میں صحیح عقیدہ نہیں رکھتے تھے – اسی طرح ان کے مطابق ابن حجر بھی كان متذبذباً في عقيدته صفات پر عقیدے میں متذبذب تھے[19]
سلفی عقیدہ ہے کہ  جب الله تعالی  نے موسی علیہ السلام   سے کہا
فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا [الطور: 48] کہ بے شک تم ہماری انکھوں میں تھے
تو اس کا مطلب ہے اس کی حقیقی طور سے دو آنکھیں ہیں یہ ابن تیمیہ کا عقیدہ ہے جس کو سلف میں امام احمد سے منسوب کیا گیا ہے      مؤول کا مطلب تفسیر   و تاویل ہے یعنی الْعَيْنُ مُؤَوَّلَةٌ بِالْبَصَرِ أَوِ الْإِدْرَاكِ آنکھ کی تفسیر نگاہ یا ادرک ہے کہ الله دیکھ رہا ہے اس کو پتا ہے – یہ اشاعرہ کے علماء کے ایک گروہ کا کہنا ہے    یعنی المفوضہ اور المؤولہ (المفوضة مؤولة ) ، اشاعرہ میں دو گروہ ہیں
عصر حاضر میں شعیب الارنوط المفوضہ میں سے ہیں کہ صفات کی تاویل نہیں کی جائے گی نہ ظاہر پر لیا جائے گا

راقم   لفظ صفت کا استعمال صحیح نہیں سمجھتا   اور المفوضہ کی رائے کو صحیح کہتا ہے- اس کتاب میں اس کے تحت المفوضہ  اور المشبھہ کے دلائل کو  سوال و جواب کی صورت  دیکھا گیا ہے

[1]
عربي لغت لسان عرب کے مطابق وَقَالَ الزَّجَّاجُ: تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ أَي ظَهَرَ وبانَ، قَالَ: وَهَذَا قَوْلُ أَهل السُّنة وَالْجَمَاعَةِ، وَقَالَ الْحَسَنُ: تَجَلَّى بَدَا لِلْجَبَلِ نُور العَرْش
زجاج کہتے ہیں تجلی کی رب نے پہاڑ پر یعنی ظاہر ہو اور نظر آئے اور یہ قول اہل سنت کا ہے اور حسن کہتے ہیں تجلی شروع کی پہاڑ پر عرش کے نور کی
[2]
لیکن امام الذھبی نے اس بات کو غیر صحیح قرار دیا ہے – كَانَ خَالِدٌ يَعْرِفُ الكِيْمِيَاءَ، وَصَنَّفَ فِيْهَا ثَلاَثَ رَسَائِلَ، وَهَذَا لَمْ يَصِحَّ.
[3]
خالد کو مغرب میں
CALID
کہا جاتا ہے- کہا جاتا ہے کہ اپنے مصر کے سفر میں ان کو کتب ملیں جن سے یہ متاثر ہوئے یہاں تک کہ علمی کشش پر انہوں نے خلافت کو بھی خیرباد کہہ دیا کہ اس میں وقت صرف ہوتا –  کہا جاتا ہے کہ ایک بازنیطی راہب
Marianos  Romanus (Morienus the Greek)
  نے یونانی کی کچھ کتب کا ان کے حکم پر عربی میں ترجمہ بھی کیا-
[4]

الجعد بن درهم    کے مخالفین کے بقول اس نے یہ کلام جادو گر  أبان بن سمعان سے سیکھا جس نے  اس کو     طالوت بن أخت لبيد بن الاعصم  سیکھا –  یعنی وہی    لبيد بن الاعصم  جس نے نبی صلی الله علیہ وسلم پر جادو کیا –  کتاب سير أعلام النبلاء

  پر تعلیق میں   شعيب الأرناؤوط   کہتے ہیں

ولم يذكر ابن كثير سنده في هذا الخبر حتى ننظر فيه، ويغلب على الظن أنه افتعله أعداء الجعد

ابن کثیر نے اس کی سند نہیں دی … ظن غالب ہے کہ یہ جعد کے دشمنوں نے گھڑی

[5]

اس سے نسبت کی  بنا پر مروان حمار کو مروان الجعدي  بھی کہا جاتا ہے

[6]

الذھبی کتاب العَلو للعلي الغفار میں بتاتے ہیں کہ أبو معاذ خالد بن سلیمان کہتے ہیں

 كَانَ جهم على معبر ترمذ وَكَانَ فصيح اللِّسَان لم يكن لَهُ علم وَلَا مجالسة لأهل الْعلم فَكلم السمنية فَقَالُوا لَهُ صف لنا رَبك عزوجل الَّذِي تعبده

 فَدخل الْبَيْت لَا يخرج مِنْهُ ثمَّ خرج إِلَيْهِم بعد أَيَّام

 فَقَالَ هُوَ هَذَا الهوا مَعَ كل شَيْء وَفِي كل شَيْء وَلَا يَخْلُو مِنْهُ شَيْء فَقَالَ أَبُو معَاذ كذب عَدو الله بل الله جلّ جَلَاله على الْعَرْش كَمَا وصف نَفسه

 جھم (بن صفوان) ترمذ کی گزر گاہ پر تھا اور فصیح تھا لیکن صاحبِ عِلم نہ تھا اور نہ ہی عِلم والوں کے ساتھ اُسکا اُٹھنا بیٹھنا تھا ، لہذا وہ لوگوں کے ساتھ باتیں کیا کرتا ، لوگوں نے اُسے کہا جِس الله کی تم عِبادت کرتے ہو ہمیں اُسکی صفات بتاو تو وہ (جھم بن صفوان) اپنے گھر میں داخل ہوا اور کئی دِن کے بعد باہر نکلا اور لوگوں کو جواب دِیا کہ وہ جیسے کہ یہ ہوا ہر چیز کے ساتھ ہے ، اور ہر چیز میں ہے اور کوئی چیز اُس سے خالی نہیں تو أبو معاذ نے کہا اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے ، اللہ تو اپنے عرش پر ہے جیسا کہ خود اللہ نے اپنے بارے میں بتایا ہے

[7]

محدثین میں  قتادة اور سعید ابن أبي عروبة  اور سلام بن مسكين   نے اس کے باوجود  عمرو بن عبيد بن كيسان  سے احادیث کو لینا جاری رکھا – ابن معین کہتے ہیں كانوا يصدقون في حديثهم، ولم يكونوا يدعون إلى بدعة   یہ حضرات  عمرو بن عبيد بن كيسان کی ان احادیث  کی تصدیق کرتے ہیں جن میں اس کی بدعت نہ ہو –

[8]

الله خلق کرتا اور امر کرتا ہے یا حکم کرتا ہے
فرشتے اس نے خلق کیے جو وہ کام کرتے ہیں جو الله تعالی ان کو حکم کرتے ہیں
یہ عالم بالا کا عموم ہے

لیکن جب الله کسی چیز کا ارادہ کر لے تو اس کو ان فرشتوں کی حاجت نہیں وہ کن کہتا ہے اور چیز ہو جاتی ہے
یہ الله کی قوت، قدرت اور اس کے جبروت کا منظر ہے یہ خصوص ہے

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
زمین و آسمانوں کی ابتداء کرنے والا اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لے تو کہتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُون
عیسیٰ کی مثال الله کے نزدیک آدم جیسی ہے جس کو مٹی سے خلق کیا پھر کہا ہو جا اور ہو گیا

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
بلا شبہ ہمارا حکم یہ ہے کہ جب ہم ارادہ کریں کسی چیز کا تو اس سے کہیں ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے

قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
مریم نے کہا اے رب مجھے لڑکا کیسے ہو گا جبکہ کسی مرد نے چھوا تک نہیں کہا یہ الله ہے جو جو چاہتا ہے خلق کر دیتا ہے جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لے تو کہتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو خلق کیا حق کے ساتھ اور جس روز وہ کہے ہو جا وہ ہو جاتا ہے اس کا قول حق ہے اور اسی کے لئے بادشاہی ہے

هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ فَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
اور وہی ہے جو زندہ و مردہ کرتا ہے پس جب کسی امر کا فیصلہ کرے تو کہتا ہے ہو جا پس ہو جاتا ہے

ان تمام آیات سے واضح ہے کہ کن فیکون الله کا وہ حکم ہوتا ہے جو نیا ہو جس میں کوئی نیا بڑا کام ہونے جا رہا ہو جیسے اس کا ذکر تخلیق زمین و آسمان تخلیق آدم تخلیق عیسیٰ کے سلسلے میں بیان ہوا ہے

[9]

ابن حزم کا طریقہ استدلال المعتزلة جیسا بھی نہیں المعتزلة کے نزدیک الله کی صرف چھ صفت بذات تھیں اور باقی صفات بالفعل تھیں مثلا الله کسی کو رزق دیتا ہے اور کسی کو نہیں دیتا لہذا ان کے نزدیک الله ہر وقت نعوذ باللہ الرزاق نہیں – ابن حزم نے ایسی کوئی تقسیم نہیں کی- ہمارے نزدیک ابن حزم اور باقی اہل سنت کے موقف میں طریقہ استدلال کے فرق کی وجہ سے کچھ اختلاف ضرور ہے لیکن وہ اتنا نہیں کہ اس پر ابن حزم کو اہل سنت سے ہی خارج کر دیا جائے واللہ اعلم-

 البانی کتاب لآيات البينات في عدم سماع الأموات على مذهب الحنفية السادات

 میں تعلیق میں لکھتے ہیں

 علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي من كبار حفاظ الحديث وأئمة الظاهرية ولكنه في الأسماء والصفات جهمي جلد

 ابن حزم کھلے جھمی ہیں

اسی بات کو الصحیحہ میں بھی لکھتے ہیں

 ہمارا موقف اس سلسلے میں افراط و تفریط سے الگ اعتدال پر مبنی ہے

انسان کو الله نے حواس خمسہ دیے ہیں اور اس کے لئے کہا

  فجعلناه سَمِيعاً بَصِيراً

 ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنا دیا

لیکن البصیر نہیں کہا بصیر کہا لہذا البصیر الله ہے یہ ایسے ہی ہے کہ العلی الله کا نام ہے اور علی ایک صحابی کا

جب ابن حزم کہتے ہیں کہ الله کے لئے (قوت) سمع اور بصر کا اطلاق درست نہیں تو ان کا مقصد یہی ہوتا ہے انسانی حواس خمسہ سے الله کو بلند رکھیں

ابن حزم کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل میں کہتے ہیں

 قَالَ الله تبَارك وَتَعَالَى {لَيْسَ كمثله شَيْء وَهُوَ السَّمِيع الْبَصِير} فَقُلْنَا نعم إِنَّه سميع بَصِير لَا كشيء من البصراء وَلَا السامعين مِمَّا فِي الْعَالم وكل سميع وبصير فِي الْعَالم فَهُوَ ذُو سمع وبصر فَالله تَعَالَى بِخِلَاف ذَلِك بِنَصّ الْقُرْآن فَهُوَ سميع كَمَا قَالَ لَا يسمع كالسامعين وبصير كَمَا قَالَ لَا يبصر كالمبصرين لَا يُسَمِّي رَبنَا تَعَالَى إِلَّا بِمَا سمى بِهِ نَفسه وَلَا يخبر عَنهُ إِلَّا بِمَا أخبر بِهِ عَن نَفسه فَقَط كَمَا قَالَ الله تَعَالَى {هُوَ السَّمِيع الْبَصِير} فَقُلْنَا نعم هُوَ السَّمِيع الْبَصِير وَلم يقل تَعَالَى إِن لَهُ سمعا وبصرا فَلَا يحل لأحد أَن يَقُول إِن لَهُ سمعا وبصراً فَيكون قَائِلا على الله تَعَالَى بِلَا علم وَهَذَا لَا يحل وَبِاللَّهِ تَعَالَى

الله تعالی کہتا ہے لَيْسَ كمثله شَيْء وَهُوَ السَّمِيع الْبَصِير اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ السَّمِيع الْبَصِير ہے پس ہم کہتے ہیں ہاں وہ سننے والا دیکھنے والا ہے لیکن کسی بینا کی طرح نہیں اور کسی سننے والے کی طرح نہیں جو اس عالم میں ہیں ، اور ہر سننے والا اور دیکھنے والا جو اس عالم میں ہے تو وہ سمع و بصر والا ہے- لیکن الله تعالی کے لئے اس کے خلاف قرآن میں نص ہے پس وہ سننے والا ہے جیسا اس نے کہا ، نہ کہ وہ سنتا ہے ایسے جسے کوئی (انسان یا جانور) سنّتا ہے، اور دیکھتا ہے جیسا اس نے کہا، مگر ایسے نہیں جسے کوئی دیکھنے والا دیکھتا ہے – ہمارے رب تعالی نے کوئی نام نہ رکھا سوائے وہ جو اس نے خود رکھا اور کسی دوسرے نام کی خبر نہیں دی سوائے ان کے جن کی اس نے خبر دی- الله نے کہا کہ هُوَ السَّمِيع الْبَصِير پس ہم کہتے ہیں ہاں وہ السَّمِيع الْبَصِير ہے اور الله نے اپنے لئے (قوت) سمع اور بصر نہیں کہا سو یہ حلال نہیں کسی کے لئے بھی کہ وہ الله کے لئے سمع و بصر کہے کیونکہ وہ الله پر وہ بات بولے گا جس کا علم نہیں اور یہ حلال نہیں ہے

ابن حزم کہہ رہے ہیں الله کے نام کا مطلب ہے لیکن اس کی کیفیت کا پتا نہیں۔ ابن حزم کی رائے میں چونکہ اسماء کا مفھوم انسان کی عقل سے دور ہے لہذا ان کو صرف اسم ہی کہنا صحیح ہے ان کی تاویل منع ہے اور چونکہ الله نے کہا ہے مجھ کو میرے ناموں سے پکارو تو اس کو ان ہی ناموں سے پکارا جائے گا- ان کے نزدیک الله کے ناموں کا مفھوم بھی ہے لیکن ان کی صحیح کیفیت الله کو پتا ہے

البانی سے سوال ہوا کہ هل آيات الصفات والأحاديث من المتشابهات أو من المحكمات ؟ کیا آیات صفات متشابھات ہیں؟

  تو انہوں نے کہا

 أما باعتبار الكيفية فهي متشابهة

 کیفیت کے اعتبار سے متشابھات میں سے ہیں

 بحوالہ موسوعة العلامة الإمام مجدد العصر محمد ناصر الدين الألباني

 ابن حزم نے کہیں بھی نہیں کہا کہ الله کے ناموں کا مطلب نہیں، اس کو اپ اچھی طرح سمجھ لیں

[10]

البانی اس صفت والی روایت کو صحیح کہتے ہیں لیکن کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها  میں ایک دوسری روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں

 وفوق هذا كله؛ فإن أصل الإسناد- عند سائر المخرجين فيه سعيد بن أبي هلال، وهو مختلط

 اور ان سب میں بڑھ کر اس کی اسناد میں سارے طرق میں سعيد بن أبي هلال جو مختلط ہے

 کتاب سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة میں ایک دوسری روایت پر کہتے ہیں

 الثانية: سعيد بن أبي هلال؛ فإنه كان اختلط؛ كما قال الإمام أحمد

 دوسری علت سعيد بن أبي هلال بے شک مختلط ہے جیسا کہ امام احمد نے کہا

ایک اور روایت پر کتاب سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة لکھتے ہیں

 وفي إسناده سعيد بن أبي هلال؛ وهو وإن كان ثقة؛ فقد كان اختلط

 اور اس کی اسناد میں سعيد بن أبي هلال ہے اگر وہ ثقہ بھی ہو تو ان کو اختلاط تھا

[11]

سیر الاعلام النبلاء میں مُقَاتِلُ بنُ سُلَيْمَانَ البَلْخِيُّ أَبُو الحَسَنِ کے ترجمہ میں امام الذھبی کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے کہا

وَعَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ، قَالَ: أَتَانَا مِنَ المَشْرِقِ رَأْيَان خَبِيْثَانِ: جَهْمٌ مُعَطِّلٌ، وَمُقَاتِلٌ مُشَبِّهِ

مشرق سے دو خبیث آراء آئیں ایک جھم معطل اور مقاتل مشبه

میزان الاعتدال میں الذھبی کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفه نے کہا

قال أبو حنيفة: أفرط جهم في نفى التشبيه، حتى قال: إنه تعالى ليس بشئ.  وأفرط مقاتل – يعنى في الاثبات  – حتى جعله مثل خلقه

جھم نے افراط کیا تشبیہ کی نفی میں یہاں تک کہ کہا الله تعالی کوئی چیز نہیں اور مقاتل نے اثبات میں افراط کیا یہاں تک کہ اس کو مخلوق کے مثل کر دیا

امام بخاری تاریخ الکبیر میں کہتے ہیں لا شيء البتة –  کسی طرح بھی کوئی چیز نہیں ہے

ابن حبان کہتے ہیں کہ مقاتل وكان يشبه الرب بالمخلوقات یہ  رب کو مخلوقات  سے تشبیہ دیتا

وكيع  اس کو کذاب کہتے

جبکہ تاریخ بغداد کے مطابق امام احمد مقاتل کی روایت پر  کہتے مَا يعجبني أن أروي عَنْهُ شيئًا مجھے پسند نہیں کہ اس سے روایت کروں لیکن اس کی تفسیر پر کہتے

وقال أبو بكر الأثرم: سمعت أبا عبد الله، هو أحمد بن حنبل، يسأل عن مقاتل بن سليمان، فقال: كانت له كتب ينظر فيها، إلا أني أرى أنه كان له علم بالقرآن. «تاريخ بغداد» 13/161.

أبو بكر الأثرم: نے کہا میں نے امام احمد کو سنا ان سے مقاتل بن سلیمان پر سوال ہوا تو انہوں نے کہا اس کی کتابیں تھیں میں ان کو دیکھتا تھا بلاشبہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کو قرآن کا علم ہے

ابن حجر کہتے ہیں:    ونقل أبو الفتح الأزدي أن ابن معين ضعفه، قال: وكان أحمد بن حنبل لا يعبأ بمقاتل بن سليمان، ولا بمقاتل بن حيان

. «تهذيب التهذيب» 10/ (500)

 أبو الفتح الأزدي کہتے ہیں امام ابن معین اس کی تضعیف کرتے اور کہا امام احمد مقاتل کو کوئی عیب نہ دیتے

امام احمد کا مقاتل بن سلیمان المشبه سے متاثر ہونا  معنی خیز ہے

[12]  پلوتینس، (ca. 204/5–270 عیسوی) قدیم دنیا کے ایک بڑے فلسفی تھے ۔ ان کی کتاب Enneads  مابعدالطبیعیاتی تحریروں کا مجموعہ ہے ،  جس نے صدیوں کافر، عیسائی، یہودی، اسلامی ، غناسطی  صوفیاء کو متاثر کیا ہے ۔

[13]

    برصغیر کے اہل تصوف یعنی دیوبندی اور بریلوی دونوں  عرش  کو     لا محدود  کہتے ہیں

[14]

احناف میں   سے بعض کا  اشاعرہ  جیسا  صفات پر عقیدہ ہے جو عصر حاضر میں شعیب الارنوط کا بھی ہے کہ صفت پر ایمان لایا جائے گا اس سے الله تعالی کے اعضا یا بالوں کا اثبات نہیں کیا جائے گا-

[15]

جس   اہل حدیث اور سلفی وہابی فرقہ کے لوگ ہیں  اگرچہ یہ اس کا انکار کرتے ہیں کہ وہ مجسمیہ ہیں لیکن دوسری طرف وہ روایات  جن میں الله تعالی کے لئے اعضا کی خبر ہے اس کی تاویل نہیں کرتے اور ان کو اس کے ظاہر پر لیتے ہیں

[16]

شَيْخُ الحنَابِلَةِ قاضی ابویعلی جن کی کتب پر ابن تیمیہ اور وہابیوں نے اپنا عقیدہ صفات رکھا ہے ان کے بارے میں الذھبی سیر الاعلام میں کہتے ہیں
وَجَمَعَ كِتَاب (إِبطَال تَأْويل الصِّفَات) فَقَامُوا عَلَيْهِ لمَا فِيْهِ مِنَ الوَاهِي وَالمَوْضُوْع،
اور انہوں نے کتاب (إِبطَال تَأْويل الصِّفَات) کو جمع کیا اور اس میں واہی (احادیث) اور موضوعات کو بیان کیا

[17]

ان لوگوں کی دلیل ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ایک ضعیف حدیث ہے

[18]

سیر الاعلام النبلاء میں الذھبی خود پھنس جاتے ہیں جب یہ قول لکھتے ہیں
ابْنُ سَعْدٍ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عطَاءِ بنِ السَّائِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:
اهْتَزَّ العَرْشُ لِحُبِّ لِقَاءِ اللهِ سَعْداً.
قَالَ: إِنَّمَا يَعْنِي: السَّرِيْرَ.
مجاہد نے ابن عمر سے روایت کیا کہ سعد سے ملاقات پر الله کا عرش ڈگمگا گیا- کہا: اس کا تخت
الذھبی کہتے ہیں
قُلْتُ: تَفْسِيْرُهُ بِالسَّرِيْرِ مَا أَدْرِي أَهُوَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ؟ وَهَذَا تَأْوِيْلٌ لاَ يُفِيْدُ، فَقَدْ جَاءَ ثَابِتاً عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَعَرْشُ اللهِ، وَالعَرْشُ خَلْقٌ لِلِّهِ مُسَخَّرٌ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَهْتَزَّ اهْتَزَّ بِمَشِيْئَةِ اللهِ، وَجَعَلَ فِيْهِ شُعُوْراً لِحُبِّ سَعْدٍ، كَمَا جَعَلَ -تَعَالَى- شُعُوْراً فِي جَبَلِ أُحُدٍ بِحُبِّهِ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-.
میں کہتا ہوں: اس کی تفسیر تخت سے کرنا مجھے نہیں پتا کہ مجاہد کا قول ہے یا ابن عمر کا ؟ اور اس تاویل کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ عرش رحمان ثابت ہے … اور اگر الله چاہے تو اپنی مشیت سے عرش میں شعور پیدا کر سکتا ہے سعد کی محبت کے لئے جیسا جبل احد میں کیا نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے
امام مالک اس کے برعکس اس روایت کے خلاف ہیں نہ وہ تاویل کرتے ہیں نہ اس کو تفویض کرتے ہیں اس کی روایت سے ہی منع کرتے ہیں

كتاب العلو للعلي الغفار في إيضاح صحيح الأخبار وسقيمها میں الذھبی کہتے ہیں
وَقد بَينا دين الْأَئِمَّة وَأهل السّنة أَن هَذِه الصِّفَات تمر كَمَا جَاءَت بِغَيْر تكييف وَلَا تَحْدِيد وَلَا تجنيس وَلَا تَصْوِير كَمَا رُوِيَ عَن الزُّهْرِيّ وَعَن مَالك فِي الاسْتوَاء فَمن تجَاوز هَذَا فقد تعدى وابتدع وضل
اور ہم نے واضح کیا ہے ائمہ کا دین اور اہل سنت کا کہ صفات جیسی ائی ہیں بغیر کیفیت اور حدود اور چھونے اور تصویر کے جیسا امام الزہری سے اور امام مالک سے روایت کیا گیا ہے استواء پر اس سے اگر کسی نے تجاوز کیا تو اس نے بدعت و گمراہی کی
رحمان کے عرش کا ہلنا اس کا ڈگمگانا اور پھر اس کو جبل احد سے سمجھانا کیا کیفیت نہیں ہیں – راقم کے نزدیک جس کام سے امام الذھبی منع کر رہے ہیں اسی کو کر رہے ہیں اور امام مالک کا قول اس روایت پر کیا ہے ؟ کم از کم اسی کو دیکھ لیں

[19]

یہ کتاب یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں
http://ia601408.us.archive.org/20/items/rudud_nawawi2/rudud_nawawi2.PDF

سعودی کی دائمی کمیٹی کہتی ہے کہ ہمارا موقف ابی بکر الباقلانی اور بیہقی اور ابن جوزی اور نووی ور ابن حجر اور ان کے جیسوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ تعالی کی بعض صفات کی تاویل کو اصلی معنی سے پھیر دیا … کہ انہوں نے غلطی کی ہے صفات کے نصوص کی تاویل کرکے اور امت کے اسلاف اور آئمہ سنت کی مخالفت کی سوائے انہوں نے صفات ذات کی تاویل کی یا صفات افعال یا بعض دیگر کی ہے۔
http://www.alifta.net/fatawa/fatawaDetails.aspx?BookID=3&View=Page&PageNo=2&PageID=880

دائمی کمیٹی کا موقف صحیح نہیں ہے

ابن حجر یا نووی یا ابن جوزی نے کہاں تاویل کی ہے ؟ بلکہ یہ علماء تو تاویل کے خلاف ہیں یہ معنی کی تفویض کرتے ہیں
اشاعرہ کا ایک گروہ ہے جو الموولہ ہیں وہ تاویل کرتے ہیں تاکہ تجسیم نہ ہو یہ تمام علماء الله کو ایک جسم نہیں کہتے جبکہ سلف کے ابن تیمیہ اور امام احمد المجسمیہ اور المشبہ میں سے ہیں اسی طرح یہ گروہ سلف رب العالمین کے لئے بال تک مانتے ہیں
لہذا تاویل کہنا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے

نووی ہوں یا ابن حجر یا ابن جوزی یا امام مالک (یا بعض حنابلہ معدوم کے نزدیک امام احمد) یہ اہل حدیث مفوضہ میں سے ہیں یہ لوگ صفات کی تاویل نہیں کرتے ان کو تفویض کرتے ہیں
جبکہ امام احمد اور ان کے ہم قبیل المجسمیہ اور المشبہ میں سے ہیں یہ لوگ صفات کو ظاہر پر لیتے ہیں اور الله کے اعضاء وجوارح کو مانتے ہیں

اپ غور کریں امام احمد کا نام دونوں گروہوں میں شامل ہے اس کی وجہ حنبلیوں کا اپس کا اختلاف ہے
ابن جوزی حنبلی ہیں لیکن المشبہ کے خلاف ہیں اور ان کے مطابق یہ امام احمد کا عقیدہ نہیں تھا وہ المفوضہ تھے حنابلہ کا یہ گروہ اب معدوم ہے

اس کے برعکس ابن تیمیہ کہتا تھا کہ امام احمد الله کے بالوں کے قائل تھے جیسا اس کی کتاب جو جھمیوں کے رد میں ہے اس میں موجود ہے
اسی المشبہ کے عقیدے کو حنبلی مقلدین وہابی اور موجودہ فرقہ اہل حدیث نے اپنا لیا ہے
——–

بن باز کہتے ہیں امام احمد اہل حدیث المفوضہ کے خلاف تھے فرماتے ہیں
ج٣ ص ٥٥ پر
دائمی کمیٹی کے فتوے

اور پھر امام احمد رحمه الله اور دیگر أئمہ سلف نے تو اہل تفويض کی مذمت کی ہے، اور انہیں بدعتی قرار دیا ہے، کیونکہ اس مذہب کا تقاضہ یہ ہے کہ الله سبحانه و تعالی نے اپنے بندوں کے ساتھ ایسا کلام فرمایا ہے جسے وہ نہیں سمجھ سکتے ہیں، اور اس کے معنی کے ادراک سے قاصر ہیں
http://www.alifta.net/Search/ResultDetails.aspx?languagename=ur&lang=ur&view=result&fatwaNum=&FatwaNumID=&ID=158&searchScope=4&SearchScopeLevels1=&SearchScopeLevels2=&highLight=1&SearchType=exact&SearchMoesar=false&bookID=&LeftVal=0&RightVal=0&simple=&SearchCriteria=allwords&PagePath=&siteSection=1&searchkeyword=216181217129216167216170#firstKeyWordFound

دائمی کمیٹی کے مطابق احادیث میں تجسیم پر اشارہ ہے کہتے ہیں

اور ان کی سنت مطہرہ تو ایسی عبارتوں سے بھری پڑی ہیں، جن کے بارے میں مخالف یہ خیال رکھتا ہے کہ اس کا ظاہر موجب تشبیہ و تجسیم ہے، اور یہ کہ اس کے ظاہر کا عقیدہ رکھنا سراسر گمراہی ہے، اور پھر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے بیان نہ فرمائیں، اور اس کی وضاحت نہ کریں، اور پھر یہ کیسے جائز ہے کہ سلف یہ کہتے نظر آئیں کہ انہیں اسی طرح گذار دو جس طرح يہ وارد ہيں، جبکہ اس کا مجازی معنی ہی مراد ہو، اور یہ عرب کو ہی سمجھ میں نہ آئے

http://www.alifta.net/Search/ResultDetails.aspx?languagename=ur&lang=ur&view=result&fatwaNum=&FatwaNumID=&ID=167&searchScope=4&SearchScopeLevels1=&SearchScopeLevels2=&highLight=1&SearchType=exact&SearchMoesar=false&bookID=&LeftVal=0&RightVal=0&simple=&SearchCriteria=allwords&PagePath=&siteSection=1&searchkeyword=216181217129216167216170#firstKeyWordFound
—–

سلفیوں کی غلطی یہ ہے کہ متشابھات کے مفھوم پر بحث کر رہے ہیں جبکہ ان کی تاویل صرف الله کو پتا ہے اسی سے تفویض کا حکم کرنا نکلتا ہے کہ ہم اسماء و صفات میں مفھوم الله کو سپرد کرتے ہیں

 

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *