قدمونی قدمونی پر ایک نظر

ایک مشھور روایت ہے کہ مردہ کو جب کھاٹ پر رکھا جاتا ہے وہ کلام کرتا ہے – اس بلاگ میں اس کی اسناد پر بحث کی گئی ہے

صحیح بخاری -> کتاب الجنائز –  باب کلام المیت علی الجنازۃ
باب : میت کا چارپائی پر بات کرنا

حدیث نمبر : 1380
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، أنه سمع أبا سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ” إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على أعناقهم، فإن كانت صالحة قالت قدموني قدموني. وإن كانت غير صالحة قالت يا ويلها أين يذهبون بها. يسمع صوتها كل شىء إلا الإنسان، ولو سمعها الإنسان لصعق”.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا‘ ان سے ان کے باپ نے بیان کیا‘ ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنازہ تیار ہو جاتا ہے پھر مرد اس کو اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ مردہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ ہاں آگے لیے چلو مجھے بڑھائے چلو اور اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے۔ ہائے رے خرابی! میرا جنازہ کہاں لیے جارہے ہو۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے اگر انسان سنے تو بے ہوش ہو جائے

الطبقات الكبرى از  المؤلف: أبو عبد الله محمد بن سعد بن منيع الهاشمي بالولاء، البصري، البغدادي المعروف بابن سعد (المتوفى: 230هـ) اور مسند احمد میں ہے کہ یہ قول ابو ہریرہ کا تھا

قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا وَلَا تَتَّبِعُونِي بِنَارٍ، وَأَسْرِعُوا بِي إِسْرَاعًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم يَقُولُ: ” إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوِ الْمُؤْمِنُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: قَدِّمُونِي. وَإِذَا وُضِعَ الْكَافِرُ أَوِ الْفَاجِرُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: يَا وَيْلَتِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي “

ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، نے المقبری سے روایت کیا انہوں نے عبد الرحمان مولی ابو ہریرہ سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے کہ بے شک ابو ہریرہ جب ان کی وفات کا وقت آیا کہا نہ میرے اوپر خیمہ لگانا نہ اگ ساتھ لے کر چلنا اور میرا جنازہ تیزی سے لے جانا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے کہا جب صالح بندے کو بستر پر رکھا جاتا ہے یا مومن بندے کو تو کہتا ہے مجھے لے چلو اور کافر کو بستر پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے بربادی کہاں جا رہے ہو

طبقات الکبری از ابن سعد میں ہے کہ ابو ہریرہ کا قول تھا

قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِأَبِي هُرَيْرَةَ الْمَوْتُ قَالَ: لَا تَضْرِبُوا عَلَى قَبْرِي فُسْطَاطًا , وَلَا تَتَّبِعُونِي بِنَارٍ، فَإِذَا حَمَلْتُمُونِي , فَأَسْرِعُوا , فَإِنْ أَكُنْ صَالِحًا تَأْتُونَ بِيِ إِلَى رَبِّي، وَإِنْ أَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ , فَإِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَطْرَحُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

ابو معشر نے کہا سعید المقبری نے کہا جب ابو ہریرہ کی وفات کا وقت آیا کہا میری قبر پر خیمہ نہ لگانا نہ میرے  پیچھے اگ لے کر جانا پس جب مجھے اٹھانا جلدی کرنا کیونکہ اگر میں نیک ہوں تو تم مجھے میرے رب کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر اس کے علاوہ ہوں تو تم ایک چیز اپنے کندھوں سے پھینک رہے ہو

مسند احمد کی سند ہے

حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ، وَأَسْرِعُوا بِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: يَا وَيْلَهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي؟ “

المقبری نے عبد الرحمان مولی ابو ہریرہ سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے کہ بے شک ابو ہریرہ جب ان کی وفات کا وقت آیا کہا نہ میرے اوپر خیمہ لگانا نہ اگ ساتھ لے کر چلنا اور میرا جنازہ تیزی سے لے جانا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے کہا جب صالح بندے کو جنازہ پر رکھا جاتا ہے یا مومن بندے کو تو کہتا ہے مجھے لے چلو اور کافر کو جنازہ پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے بربادی کہاں جا رہے ہو

حَدَّثَنَا يُونُسُ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً [ص:466] قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ ” قَالَ حَجَّاجٌ: لَصُعِقَ

سعید المقبری نے اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نے ابو سعید الخدری سے سنا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب جنازہ کورکھتے  ہیں اور مرد  اس کو گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر یہ نیک ہے تو کہتا ہے مجھے لے چلو اور اگر بد ہے تو کہتا ہے بربادی کہاں جا رہے ہو اس آواز کو ہر چیز سنتی ہے اور انسان سنے تو بے ہوش ہو جائے

سعید بن ابی سعید ( أَبُو سَعْدٍ بنُ كَيْسَانَ) ایک ہی روایت تین  سندوں سے بیان کر رہا ہے

 ایک سعید المقبری  عنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کی سند سے

دوسری  سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ کی سند سے

تیسری سعید المقبری  عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، کی سند سے

سعید المقبری سے تین لوگوں نے اس روایت کو لیا أبي معشر الْمَدِينِيّ ، دوسرے لَيْثٌ بن سعد ، تیسرے ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ العَامِرِيُّ

سعيد بن أبي سعيد المَقْبُرِي المدني کا تفرد ہے

ابی معشر ضعیف ہے – العلل ومعرفة الرجال از احمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ) کے مطابق

سَأَلت يحيى بن معِين عَن أبي معشر الْمَدِينِيّ الَّذِي يحدث عَن سعيد المَقْبُري وَمُحَمّد بن كَعْب فَقَالَ لَيْسَ بِقَوي فِي الحَدِيث

ابن معین کہتے ہیں کہ أبي معشر الْمَدِينِيّ جو سعید المقبری سے روایت کرتا ہے … یہ حدیث میں قوی نہیں ہے

ابی معشر کے مطابق یہ الفاظ ابو ہریرہ کے ہیں اس کو حدیث نبوی نہیں کہا ہے  یعنی موقوف عن ابو ہریرہ ہے

یہ بات کہ میت کے اس قول کو انسان کے سوا سب سنتے ہیں یہ صرف ابو سعید الخدری  کی سند سے ہیں

لہذا محدثین اس کو صرف دو سندوں سے قبول کرتے ہیں جو لیث اور ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ کی اسناد ہیں

سعيد بن أبي سعيد المَقْبُرِي اختلاط کا شکار تھے

المختلطين از  صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

سعيد بن أبي سعيد المَقْبُرِي المدني:

 قال شعبة: ساء بعد ما كبر.

وقال محمد بن سعد: ثقة إلا أنه اختلط قبل موته بأربع سنين.

شعبہ کہتے ہیں یہ بوڑھے ہوئے تو خراب ہوئے

ابن سعد نے کہا یہ ثقہ ہیں لیکن یہ مرنے سے ٤ سال قبل اختلاط کا شکار ہوئے

قال الواقدى: كبُر واختلط قبل موته بأربع سنين – واقدی نے کہا بوڑھے ہوئے اور مرنے سے ٤ سال قبل مختلط ہوئے

إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي بن قليج بن عبد الله البكجري المصري الحكري الحنفي، أبو عبد الله، علاء الدين (المتوفى: 762هـ)  کے مطابق ١٢٥ ھ میں وفات ہوئی

إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال کے مطابق

وفي كتاب الباجي عن ابن المديني: قال ابن عجلان: كانت عنده أحاديث سندها عن رجال عن أبي هريرة فاختلطت عليه فجعلها كلها عن أبي هريرة.

اور الباجی کی کتاب میں ابن المدینی سے روایت ہے کہ ابن عجلان نے کہا ان کے پاس احادیث تھیں جو عن رجال عن ابو ہریرہ سے تھیں ان کو جب اختلاط ہوا تو انہوں نے تمام کو ابو ہریرہ سے روایت کر دیا

شعبہ نے بھی احتیاط کی ہے اور کہا ہے کہ سعید  بوڑھے ہو چکے تھے

وَقَال يَعْقُوب بْن شَيْبَة: قد كَانَ تغير وكبر واختلط قبل موته، يقال: بأربع سنين، حَتَّى استثنى بعض المحدثين عنه ما كتب عنه فِي كبره مما كتب قبله، فَكَانَ شعبة يَقُول: حَدَّثَنَا سَعِيد الْمَقْبُرِيّ بعدما كبر.

يَعْقُوب بْن شَيْبَة نے کہا کہ یہ بدل گئے اور بوڑھے ہوئے اور مرنے سے پہلے مختلط ہو چکے تھے کہا جاتا ہے ٤ سال یہاں تک کہ بعض محدثین نے اس کو الگ کیا ہے جو ان کے بڑھاپے سے پہلے لکھا یہاں تک کہ شعبہ کہتے کہ سعید المقبری نے روایت کیا بوڑھا ہونے کے بعد

قال يحيى القطان: “سمعتُ محمد بن عجلان يقولُ: كان سعيدٌ المقبري يُحَدِّث عن أبيه عن أبي هريرة، وعن رجل عن أبي هريرة، فاختلط عليَّ فجعلتها كلها عن أبي هريرة   الميزان: (3/645)

یحیی القطان کہتے ہیں میں نے ابن عجلان کو سنا کہ سعید المقبری اپنے باپ سے اور وہ ابو ہریرہ سے روایت کرتے اور سعید ایک آدمی سے اور وہ ابو ہریرہ سے روایت کرتا لیکن جب سعید کو اختلاط ہوا تو سعید المقبری نے ان تمام روایات کو ابو ہریرہ سے روایت کر دیا

جامع التحصيل في أحكام المراسيل از  صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

سعيدا المقبري سمع من أبي هريرة ومن أبيه عن أبي هريرة وأنه اختلف عليه في أحاديث وقالوا أنه اختلط قبل موته وأثبت الناس فيه الليث بن سعد يميز ما روى عن أبي هريرة مما روى عن أبيه عنه وتقدم أن ما كان من حديثه مرسلا عن أبي  هريرة فإنه لا يضر لأن أباه الواسطة

سعید المقبری نے ابو ہریرہ سے سنا اور اپنے باپ سے انہوں نے ابو ہریرہ سے اور ان کی احادیث پر اختلاف ہوا اور کہا کہ یہ مرنے سے قبل مختلط ہوئے اور لوگوں میں سب سے ثابت ان سے روایت کرنے میں اللیث ہیں جو اس کی  تمیز کر سکتے ہیں کہ یہ ابو ہریرہ سے کیا روایت کرتے ہیں اور کیا اپنے باپ سے کرتے ہیں اور جیسا کہ گزرا ان کا ابو ہریرہ سے روایت کرنا مرسل ہے اگرچہ اس میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے سنا ہے

سعید المقبری کو اختلاط تھا الذھبی نے اس کا انکار کیا اس پر ابن الكيال (المتوفى: 929هـ) نے کتاب  الكواكب النيرات في معرفة من الرواة الثقات میں لکھا

 والعجب من الذهبي انكار اختلاطه وقد أقر باختلاطه الواقدي وابن سعد ويعقوب بن شيبة وابن حبان

اور الذھبی کی عجیب بات ہے کہ اس کا انکار کیا اور اس اختلاط کا ذکر کیا ہے واقدی نے  ابن سعد نے یعقوب نے اور ابن حبان نے 

اگرچہ ابن معین نے کہا تھا کہ ابن أبي ذئب کی سعید المقبری سے روایت سب سے مناسب ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ محدثین اس کو بھی منکر کہتے ہیں –  العلل لابن أبي حاتم از محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلي، الرازي ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ)  کے مطابق ایک روایت اس کو انہوں نے اپنے باپ ابی حاتم پر پیش کیا اور سوال کیا کہ ابْنِ أَبِي ذئبٍ  روایت کرتے ہیں

عَنِ ابْنِ أَبِي ذئبٍ  ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ  ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قال: قال رسولُ الله (ص)   : إِذَا بَلغَكُمْ عَنِّي حَدِيثًا  يَحْسُنُ بِي أَنْ أَقُولَهُ ، فَأَنَا قُلْتُهُ، وَإِذَا بَلغَكُمْ عَنِّي حَدِيثًا  لاَ يَحْسُنُ بِي أَنْ أَقُولَهُ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَمْ أَقُلْهُ.

قَالَ أَبِي: هَذَا حديثٌ مُنكَرٌ؛ الثقاتُ لا يَرْفَعُونَهُ

ابْنِ أَبِي ذئبٍ روایت کرتے سعید المقبری سے وہ اپنے باپ سے وہ ابو ہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کو کوئی حدیث پہنچے جو اچھی لگے کہ میں نے کہی ہو تو اس کو میں نے ہی کہا ہے اور اگر تم کو حدیث پہنچے جو اچھی نہ لگے کہ میں نے کہی ہو تو وہ مجھ سے نہیں نہ میں نے اس کو کہا ہے

ابی حاتم نے کہا یہ حدیث منکر ہے – ثقات اس کو نہیں پہچانتے

یعنی  سعید المقبری  کی باپ سے ان کی ابو ہریرہ سے روایت منکر بھی کہی گئی ہے

امام بخاری نے تاریخ الکبیر میں ایک اور روایت کا حوالہ دیا

وَقال ابْنُ طَهمان،  عَنِ ابْنِ أَبي ذِئب، عَنْ سَعِيدٍ المَقبُريّ، عَنِ النَّبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم؛ مَا سَمِعتُم عَنِّي مِن حَدِيثٍ تَعرِفُونَهُ فَصَدِّقُوهُ.  وَقال يَحيى: عَنْ أَبي هُرَيرةَ، وَهُوَ وهمٌ، لَيْسَ فِيهِ أَبو هُرَيرةَ.

ابْنِ أَبي ذِئب نے سعید المقبری سے روایت کیا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تم میری جو حدیث سنو اس کو پہچانو تصدیق کرو اور یحیی نے کہا یہ عن ابو ہریرہ ہے –   لیکن یہ وہم ہے اس میں ابو ہریرہ نہیں ہے

یعنی امام بخاری کے نزدیک   ابْنِ أَبي ذِئب کی روایت میں سعید المقبری نے براہ راست نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  عَنِ ابْنِ أَبي ذِئب نے دور اختلاط میں سنا ہے

یاد رہے کہ ابن أبي ذئب مدلس بھی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ رجال کے حوالے سے احتیاط سے بھی کام نہیں لیتے تھے

اس سند میں عبد الرحمن بن مهران بھی  ہے – جس کے بارے میں محدثین کی معلومات کم ہیں

قال البَرْقانِيّ: قلتُ للدَّارَقُطْنِيِّ عبد الرحمن بن مهران، عن أبي هريرة، فقال: شيخ مدني، يعتبر به

البرقانی کہتے ہیں میں دارقطنی سے کے بارے میں پوچھا  کہا  مدنی بوڑھا اعتبار کیا جاتا ہے

یہاں اعتبار محدثین کی اصطلاح ہے  کہ روایت لکھ لی جائے حتی کہ شاہد ملے

ابن حجر نے صرف مقبول من الثالثة  تسرے درجے کا مقبول کہا ہے – اس کی وضاحت خود تقریب میں اس طرح کی

من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ ” مقبول ” حيث يتابع، وإلا فلين الحديث.

جس کی احادیث بہت کم ہوں اور اس پر کوئی بات ثابت نہیں کہ اس کی حدیث ترک کی جائے تو اس کے لئے مقبول کا لفظ سے اشارہ کیا ہے  جب متابعت ہو ورنہ یہ لین الحدیث ہو گا

یعنی ایسا راوی جس پر کوئی جرح کا خاص کلمہ نہ ہو اس کی احادیث بھی کم ہوں تو اس کی روایت لکھی جائے گی جسکی  روایت کی متابعت ملنے پر یہ مقبول کہلائے گا وگرنہ لین الحدیث  (کمزور ) ہے

ان وجوہات کی بنا پر اس طرق کو قابل قبول نہیں کہا جا سکتا

اب کس کی روایت سعید المقبری سے لیں؟

وقال الساجي: حدثني أحمد بن محمد قال: قلت ليحيى بن معين: من أثبت الناس في سعيد المقبري؟ قال: ابن أبي ذئب

ابن معین نے کہا اس سے روایت کرنے میں اثبت ابن أبي ذئب ہے

ابن حراش: جليل، أثبت الناس فيه الليث بْن سَعْد –  ابن خراش نے کہا اثبت لیث ہے

دارقطنی کہتے ہیں

لأنَّ الليث بن سعد ضبط عن المقبري ما رواه عن أبي هريرة، وما رواه عن أبيه عن أبي هريرة

لیث بن سعد یاد رکھتے تھے المقبری کی روایت جو انہوں  نے ابو ہریرہ سے روایت کی اور جو انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے  ابو ہریرہ سے روایت کی

  وقال عبد الله: سَمِعتُهُ يقول (يعني أَباه) : أصح الناس حديثًا عن سعيد بن أبي سعيد المقبري ليث بن سعد، يفصل ما روى عن أبي هريرة، وما (روى) عن أبيه، عن أبي هريرة، هو ثبت في حديثه جدًا. «العلل» (659) .

عبد الله نے کہا میں نے باپ سے سنا کہ سعید المقبری سے روایت کرنے میں سب سے صحیح ليث بن سعد ہے جو واضح کرتے ہیں جو یہ اپنے باپ سے وہ ابو ہریرہ سے روایت کر دیتے ہیں اور جو یہ صرف اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں

محدثین میں بعض نے لیث کی سند پسند کی اور بعض نے ابن أبي ذئب کی سند – لیکن جیسا واضح کیا اس میں ابن أبي ذئب بھی قابل اعتماد نہیں ہیں کیونکہ محدثین کی اس طرق سے روایت کردہ متن کو رد کرتے ہیں- لیث کو اس لیے پسند کیا جاتا تھا کہ وہ تمیز کر لیتے تھے کہ سعید المقبری نے  اختلاط میں جو روایات اپنے باپ سے اور ابو ہریرہ سے روایت کی ہیں ان میں کون سی صحیح ہیں گویا یہ ایک طرح کا لیث کا اندازہ ہے جس کی بنیاد پر سعید المقبری کے اختلاط والی روایات کو لیا گیا ہے

 الليث بن سعد بن عبد الرحمن بن عقبة مصری ہیں سن ٩٤ میں پیدا ہوئے اور سن ١١٣ میں حج کیا  اور ١٧٥ میں وفات ہوئی

قال ابن بكير  سَمِعْتُ اللَّيْثَ يَقُوْلُ: سَمِعْتُ بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَمائَةٍ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِيْنَ سَنَةً

ابن بکیر نے کہا میں نے اللَّيْثَ سے سنا کہ انہوں نے امام الزہری سے مکہ میں سن ١١٣ میں سنا

  سعید المقبری سن ١١٩ ھ سے ١٢٣ ھ تک مختلط تھے- محدثین کا یہ کہنا کہ لیث کے اندر صلاحیت تھی کہ وہ سعید المقبری کی سند میں علت کو جان لیتے تھے ظاہر کرتا ہے کہ سعید المقبری میں اختلاط کی کیفیت شروع ہی ہوئی تھی کہ لیث نے ان سے سنا

عجیب بات یہ ہے کہ لیث کو جب سعید یہ روایت سناتے ہیں تو اس کو سعید الخدری رضی الله عنہ کی حدیث کہتے ہیں اور جب ابن ابِي ذئبٍ کو یہ سناتے ہیں تو اس کو ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث قرار دیتے ہیں

اس اشکال کو اپ مندرجہ ذیل جدول میں دیکھ سکتے ہیں

ابن ابِي ذئبٍ کی سند

 

قال البَرْقانِيّ: قلتُ للدَّارَقُطْنِيِّ عبد الرحمن بن مهران، عن أبي هريرة، فقال: شيخ مدني، يعتبر به

لیث کی سند کتاب
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ مسند أبي يعلى

 

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سنن نسائی
حَدَّثَنَا يُونُسُ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ مسند احمد
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ مسند احمد
حَدَّثَنا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صحیح بخاری
حَدَّثَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صحیح بخاری
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ مسند أبو داود الطيالسي
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، مسند أحمد
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَحَجَّاجٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ مسند أحمد
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ سنن نسائی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،

 

صحیح ابن حبان

المزی تہذیب الکمال میں  عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرة  کے ترجمہ میں یہ روایت لکھ کر کہتے ہیں

هكذا رواه ابن أَبي ذئب، وخالفه الليث بْن سعد (س)  فرواه عَنْ سَعِيد الْمَقْبُرِيِّ، عَن أَبِيهِ، عَن أَبِي سَعِيد الخُدْرِيّ

ایسا ابن أَبي ذئب نے روایت کیا ہے (یعنی  ابن أَبي ذئب عَن سَعِيد الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرة ) اور ان کی مخالفت کی ہے الليث بْن سعد نے انہوں نے اس کو  سَعِيد الْمَقْبُرِيِّ، عَن أَبِيهِ، عَن أَبِي سَعِيد الخُدْرِيّ کی سند سے روایت کیا ہے

راقم کے خیال میں یہ روایت دور اختلاط کی ہے جس کی بنا پر اسناد میں یہ گھپلا پیدا ہو رہا ہے اور چونکہ لیث کا حجاز پہنچنا بھی اسی دور کے پاس کا ہے جس میں لیث کو مختلط کہا گیا ہے گمان غالب ہے کہ اسناد میں  یہ تضاد اس کیفیت کی بنا پر پیدا ہوا ہے

الذھبی میزان میں لکھتے ہیں کہ سفیان بن عُيَيْنَة،   سعید المقبری کے پاس  پہنچے لیکن

فإن ابن عُيَيْنَة أتاه فرأى لعابه يسيل فلم يحمل عنه، وحدث عنه مالك والليث

اس کا لعاب اس کے منہ سے بہہ رہا تھا لہذا نہیں لکھا

سفيان بن عيينة بن أبي عمران ميمون سن ١٠٧ میں پیدا ہوئے

کتاب سیر الاعلام النبلاء از الذھبی کے مطابق

سمع في سنة تسع عشرة ومائة ، وسنة عشرين ، وبعد ذلك

سفيان بن عيينة نے سن ١١٩ اور ١٢٠ اور اس کے بعد سنا ہے

سفيان بن عيينة کوفہ میں پیدا ہوئے اس کے بعد حجاز کا سفر کیا جہاں ١١٩ کے بعد لوگوں سے سنا اس دور میں انہوں نے سعید المقبری کو دیکھا جن کے منہ سے لعاب بہہ رہا تھا

تہذیب الکمال کے مطابق

وَقَال نوح بْن حبيب القومسي: سَعِيد بْن أَبي سَعِيد، وابن أَبي مليكة، وقيس بْن سَعْد، ماتوا سنة سبع عشرة ومئة.

نوح بْن حبيب نے کہا کہ سعید بن ابی سعید کی موت سن ١١٧ میں ہوئی

 خليفة بْن خياط کے بقول ١٢٦ میں ہوئی

أَبُو بَكْر بْن أَبي خَيْثَمَة اور ابن سعد کے مطابق ١٢٣ میں ہوئی

وَقَال الواقدي، ويعقوب بْن شَيْبَة، وغير واحد: مات فِي أول خلافة هشام بن عبد الملك.

الواقدي اور يعقوب بْن شَيْبَة  اور ایک سے زائد محدثین کہتے ہیں  هشام بن عبد الملك (١٠٥ سے ١٢٥ تک خلیفہ) کی خلافت کے شروع میں ہوئی

اس طرح دیکھا جائے تو  زیادہ ترمحدثین  سعید المقبری کی موت کو ١١٧ ہجری کے پاس لے اتے ہیں جس میں اللیث نے مکہ جا کر حج کیا  گویا اللیث نے سعید المقبری کو عالم اختلاط میں پایا ہے یہ قول کہ وفات ١٢٠ کے بعد ہوئی یہ ہشام بن عبد الملک کی خلافت کا آخری دور بن جاتا ہے لہذا یہ صحیح نہیں ہے- ہشام نے ٢٠ سال حکومت کی ہے تو تاریخ وفات میں  یہ کوئی معمولی فرق نہیں رہتا

اختلاط کا دورانیہ ٤ سال کا تھا لیکن تاریخ وفات میں اختلاف کی بنا پر واضح نہیں رہا کہ یہ کب شروع ہوا

اگر ١١٧ وفات لی جائے تو اس کا مطلب ہے اختلاط سن ١١٣ میں شروع ہوا

قال الْبُخَارِيّ : مات بعد نَافِع.

نافع کی موت ١١٩ یا ١٢٠ میں ہوئی ہے بحوالہ سیر الاعلام النبلاء

امام بخاری نے  تاريخ الصغير یا  التاريخ الأوسط میں  صرف یہ لکھا ہے کہ سعید المقبری کی وفات نافع کے بعد ہوئی کوئی سال بیان نہیں کیا جبکہ اختلاط کا علم ہونا ضروری ہے- امام بخاری نے یھاں سعید المقبری کے حوالے سے اللیث پر اعتماد کرتے ہوئے اس روایت کو صحیح سمجھا ہے

امام مالک نے بھی سعید المقبری سے روایت لی ہے لیکن یہ نہیں لکھی بلکہ روایت بیان کی

موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني کی سند ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ، فَقَالَ: ” أَنَا لَعَمْرِ اللَّهِ أُخْبِرُكَ، أَتْبَعُهَا مِنْ أَهْلِهَا، فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ، فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ، عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ “، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا قِرَاءَةَ عَلَى الْجِنَازَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ

امام مالک نے سعید المقبری سے انہوں نے  اپنے باپ سے روایت کیا  انہوں نے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے کہ جنازہ پر نماز کیسے پڑھیں؟ ابو ہریرہ نے  کہا لعمر الله میں اس کی خبر دیتا ہوں میت کے اہل کے ساتھ ہوں گے پس جب رکھیں تو الله کی تکبیر و حمد کہیں اور نبی پر درود پھر کہیں

اللَّهُمَّ، عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ

امام محمد نے کہا یہ قول ہم لیتے ہیں کہ جنازہ پر قرات نہیں ہے اور یہی قول ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللَّهُ کا ہے 

قابل غور ہے  کہ امام مالک تو مدینہ کے ہی تھے انہوں نے یہ  قدمونی والی روایت  نہ لکھی جبکہ اللیث جو ١١٧ میں مصر سے آئے ان کو اختلاط کی کیفیت میں سعید المقبری ملے اور انہوں نے اس کو روایت کیا

الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر میں ہے
قال الحاكم: مالك هو الحكم في حديث المدنيين

امام حاکم نے کہا – امام مالک حکم ہیں اہل مدینہ کی حدیث پر

مستدرک میں حاکم کہتے ہیں

مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ….. وَاحْتَجَّ بِهِ فِي الْمُوَطَّأِ

اہل مدینہ کی احادیث پر امام مالک فیصلہ کرنے والے ہیں   یہ وہ حدیث ہے جس  سے امام مالک نے موطا میں دلیل لی ہے

لہذا سعید المقبری کی روایت جو امام مالک نے نہ  لکھی ہو  اس کی کوئی نہ کوئی تو وجہ ضرور ہے جس میں یہ کلام المیت والی روایت بھی ہے

This entry was posted in Aqaid, ilm ul hadith. Bookmark the permalink.

16 Responses to قدمونی قدمونی پر ایک نظر

  1. وجاہت says:

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمیں

  2. افضل خان says:

    امام مالک نے جو روایت بیان کی ہے اس کے مطابق جنارہ کی نماز میں قرات نہیں ہے یا سوره فاتحہ نہیں ہے ؟

    • Islamic-Belief says:

      ابن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ جنازہ میں سوره فاتحہ پڑھی جائے گی اس کی سند صحیح بخاری اور مصنف عبد الرزاق میں ہے
      عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
      6427 – عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جِنَازَةٍ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّهُ مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ أَوْ إِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ
      لیکن اس روایت میں جہاں بھی یہ اتی ہے اس میں سعد بن ابراہیم کا تفرد ہے جن کی اصحاب رسول میں کسی سے ملاقات نہیں ہے

      سیر الاعلام النبلاء از الذھبی میں ہے
      سعد بن ابراھیم مدینہ کے ہیں لیکن وہاں انہوں نے روایت نہیں کیا علی المدینی نے کہا
      كَانَ سَعْدُ بنُ إِبْرَاهِيْمَ لاَ يُحَدِّثُ بِالمَدِيْنَةِ، فَلِذَلِكَ لَمْ يَكْتُبْ عَنْهُ أَهْلُهَا، وَمَالِكٌ لَمْ يُكْتَبْ عَنْهُ
      سعد نے مدینہ میں روایت نہیں کیا ان کے گھر والوں نے ان سے نہ لکھا امام مالک نے بھی نہ لکھا
      سفیان بن عیینہ نے مکہ میں اور شعبہ نے وسط میں ان سے لکھا ہے
      سوال  ہے کہ سعد نے اپنے شہر میں روایات بیان کیوں نہیں کیں یہاں تک کہ امام مالک  جنازہ میں سوره فاتحہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں
      اس روایت کو بیان کرنے کے باوجود امام ترمذی کے مطابق خود سفیان ثوری جنازہ میں قرات کے قائل نہیں ہیں

      مروزی نے العلل میں لکھا ہے
      وَقَالَ: كَانَ مَالك ينْتَقد الرِّجَال
      اور
      إِن مَالِكًا لم يرو عَنهُ
      امام مالک رجال پر تنقید کرتے اور انہوں نے سعد بن ابراہیم سے روایت نہیں کرتے تھے

      شرح علل ترمذی میں ابن رجب کہتے ہیں
      فإن مالكاً لم يحدث عن سعد بن إبراهيم
      امام مالک سعد بن ابراہیم سے روایت نہیں کرتے

      کتاب تحرير علوم الحديث از عبد الله بن يوسف الجديع کے مطابق علی المدینی نے کہا
      وكان مالك بن أنس يتكلم فيه، وكان لا يروي عنه مالك شيئاً، وكان سعد قد طعن على مالك في نسبه
      امام مالک ، سعد بن ابراہیم پر کلام کرتے اس سے بالکل روایت نہ کرتے اور یہ سعد امام مالک کے نسب پر طعن کرتا تھا

      ————————–
      المنتقى من السنن المسندة از ابن جارود میں ہے

      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَرَأَ عَلَى جَنَازَةٍ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ وَقَالَ: «إِنَّمَا جَهَرْتُ لِأُعْلِمَكُمْ أَنَّهَا سُنَّةٌ، وَاْلْإِمَامُ كَفَّهَا»
      لیکن یہاں سفیان ثوری ہیں مدلس کا عنعنہ ہے

      خود سفیان ثوری اس روایت پر عمل نہیں کرتے – سنن ترمذی میں ہے کہ سفیان جنازہ کی نماز میں قرات نہیں کرتے تھے صرف حمد و ثنا کرتے تھے
      معلوم ہوا یہ روایت سفیان کے نزدیک خود قابل قبول نہیں ہے
      ———-

      مصنف ابن ابی شبیہ میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَرَأَ عَلَى جِنَازَةٍ وَجَهَرَ، وَقَالَ: «إِنَّمَا فَعَلْتُهُ لِتَعْلَمُوا أَنَّ فِيهَا قِرَاءَةً»
      ابن عجلان نے کہا سعید المقبری نے کہا کہ ابن عباس نے جنازہ پڑھا اور اس میں جہر سے قرات کی اور کہا میں نے یہ کیا کہ تم کو معلوم ہو کہ اس میں قرات ہے

      امام مالک نے کہا ابن عجلان کو حدیث کا علم نہیں ہے
      ابن عجلان اہل مدینہ میں سے ہیں

      الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر میں ہے
      قال الحاكم: مالك هو الحكم في حديث المدنيين

      امام حاکم نے کہا – امام مالک حکم ہیں اہل مدینہ کی حدیث پر

      اب علت یہ ہے کہ امام مالک نے اس روایت کو چھوڑ کر سعید المقبری کی موطا میں وہ روایت لکھی ہے جس میں قرات کا ذکر نہیں ہے جو ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے
      جو اس بلاگ کے آخر میں لکھی گئی ہے
      ——–

      ایک روایت مستدرک میں شرحبيل بن سعد کی سند سے ہے
      أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى بِنَا عَلَى جِنَازَةٍ بِالْأَبْوَاءِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
      لیکن شرحبيل بن سعد بہت ضعیف ہے یہاں تک کہ مورخین نے بھی اس کو چھوڑ دیا
      قال يحيى القطان: سئل محمد بن إسحاق عنه فقال: نحن لا نروى عنه شيئا

      =========
      بعض اہل حدیث مثلا ابو جابر دامانوی نے اپنی کتاب نماز جنازہ کا مسنون طریقہ میں کہا ہے کہ قرات کی روایت اصحاب رسول میں اور بھی بیان کرتے ہیں پھر دلیل دی کہ مصنف عبد الرزاق میں ابو امامہ بن سھل بن حنیف کی روایت ہے اور ان صاحب کو رضی الله عنہ لکھ کر دھوکہ دیا گویا کہ یہ کوئی صحابی ہو
      صحیح یہ ہے کہ ان کا سماع رسول الله سے نہیں اور جس روایت کا حوالہ دیا وہ مصنف عبد الرزاق میں ہے
      أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سُهَيْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: «السُّنَّةُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ أَنْ يُكَبِّرَ، ثُمَّ يَقْرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُخْلِصَ الدُّعَاءَ لِلْمَيِّتِ، وَلَا يَقْرَأَ إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، ثُمَّ يُسَلِّمَ فِي نَفْسِهِ عَنْ يَمِينِهِ»،
      اس میں ابو امامہ نے اس کو سعید المسیب کا قول نقل کیا ہے نہ کہ حدیث رسول اور آخر میں امام ابن المسیب کا قول ہے کہ امام سیدھی جانب سلام پھیرے گا

      =========
      مسند الشافعی کی روایت ہے
      أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى عَلَى الْجِنَازَةِ.
      عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ نے جنازہ میں سوره فاتحہ پڑھی
      اس کی سند میں موسی بن وردان ہے جس کو ابن معین نے ضعیف اور ابن عدی نے کمزور قرار دیا ہے
      ———-
      مسند حمیدی اور طبرانی کی روایت میں سهل بن عتيك الأنصاريّ رضی الله عنہ کے جنازہ کی نماز کا ذکر ہے کہ اس میں فاتحہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پڑھی
      لیکن اصابہ از ابن حجر نے حمیدی کی روایت ہے
      وأخرج من طريق الحميدي، عن يحيى بن يزيد بن عبد الملك النوفلي، عن أبي عبادة الزرقيّ، عن ابن شهاب، عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة، عن ابن عباس- أنّ رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلم لما أتي بجنازة سهل بن عتيك كبّر عليها أربعا، وقرأ بفاتحة الكتاب.
      [وقال: وقفه محمد بن الحسن وضحاك، وقاله عن يحيى- وهو غريب من حديث الزّهري، لا يعرف إلا من هذا الوجه

      میزان الاعتدال میں ہے
      يحيى بن يزيد بن عبد الملك النوفلي المدني.
      قال أبو حاتم: منكر الحديث، لا أدرى منه أو من أبيه.

      اور طبرانی کی روایت پر ابن حجر کہا
      فإن الطّبراني أخرجه من طريق يعقوب بن يزيد، عن الزّهري، ولكن لا ذكر فيه لابن عتيك، ولا لرفع الحديث، بل هو موقوف على ابن عبّاس وهو شاذّ من حيث السّند، فإن المحفوظ عن الزّهري في هذا ما رواه يونس وشعيب عنه عن أبي أمامة بن سهل، عن رجال من أصحاب النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلم موقوفا. ومن رواية الزهري عن محمد بن سويد عن الضّحاك بن قيس عن حبيب بن مسلمة موقوفا أيضا
      ابن عباس کی روایت شاذ ہے اور محفوظ وہ ہے جو ابو امامہ نے رجال اصحاب النبی سے روایت کیا ہے

      راقم کہتا ہے کہ ابو امامہ نے اصلا ابن المسیب سے اس کو سنا ہے
      ابن حجر نے لکھا ہے کہ الضحاك بن قيس الفهري نے بھی اس کو موقوف روایت کیا ہے
      کتاب جامع التحصیل کے مطابق ابی حاتم اور ابن عبد البر کے مطابق یہ صحابی نہیں ہے

      اسی طرح حبيب بن مسلمة الفهري پر بھی اتفاق نہیں ہے کہ واقعی صحابی ہیں یا نہیں
      ———-
      سنن الکبری البیہقی میں ہے
      أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ السُّنَّةَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ أَنْ يُقْرَأَ فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ مُخَافَتَةً ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا وَالتَّسْلِيمُ عِنْدَ الْآخِرَةِ»
      ابی امامہ سھل نے کہا جنازہ میں قرات ہے
      لیکن یہ صحابی نہیں اور یہ انہوں نے ابن المسیب کا قول بیان کیا ہے

      ——-
      فقہاء نے ان ضعیف روایات سے دلیل لے کر جنازہ کی نماز میں فاتحہ کا حکم کیا ہے
      البتہ احناف نے موطا کی روایت کو ترجیح دی ہے جس میں صرف حمد ہے

      طبرانی کبیر کی روایت ہے
      حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ النَّخَعِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ قِرَاءَةٌ، وَلَا قَوْلٌ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، وَأَكْثِرْ مِنْ طَيِّبِ الْقَوْلِ»
      مسروق نے کہا ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا ہمارے لئے میت پر نماز میں قرات یا قول نہیں کی گئی ہے بس امام کی تکبیر پر تکبیر کریں گے اور اکثر اچھا قول کہیں گے
      اسی کتاب کی دوسری روایت ہے
      حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَوْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا عَلَى الْجَنَازَةِ قَوْلٌ وَلَا قِرَاءَةٌ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، أَكْثِرْ مِنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ»
      مسروق یا علقمہ نے کہا ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا ہمارے لئے جنازہ میں نہ قول ہے نہ قرات ہے – امام کی تکبیر پر تکبیر کرو اور اکثر اچھا کلام کرو

      دارقطنی نے علل میں ذکر کیا ہے کہ
      وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ. … وَالْمَحْفُوظُ قَوْلُ مَنْ قَالَ لَمْ يُوَقِّتْ لَنَا
      محفوظ وہ ہے جس میں ہے کہ ابن مسعود نے کہا کہ ہمارے لئے مقرر نہیں کیا گیا

      یعنی یہ روایت صحیح ہے محفوظ ہے

      مجمع الزوائد میں الہیثمی نے لکھا ہے
      وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ قِرَاءَةٌ وَلَا قَوْلٌ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، وَأَكْثِرْ مِنْ طِيبِ الْكَلَامِ.
      رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
      اس کے رجال صحیح کے ہیں

      اس اثر کو احناف نے لیا ہے

  3. خواجہ says:

    راجح کیا ہے یعنی نماز جنازہ میں قرات کی جائے گی یا نہیں کی جائیگی۔؟؟

    • Islamic-Belief says:

      اس میں اختلاف ہے

      امام مالک اور ابو حنیفہ کے نزدیک نہیں کی جائے گی
      امام بخاری اور احمد کے نزدیک کی جائے گی

  4. خواجہ says:

    عمل کس پر کیا جائے؟ ؟

  5. خواجہ says:

    جزاک اللہ خیرا

  6. خواجہ says:

    مرد اور عورت کی نماز پر آپ کی کوئی تحریر مل سکتی ہے؟؟

  7. خواجہ says:

    آپ کے دیے گئے لنک پر کچھ خاص نہیں ملا اگر کچھ اور آپ خاص مرد اور عورت کی نماز پر تحریر دیں تو مہربانی ہوگی

    • Islamic-Belief says:

      اس پر کوئی تحریر نہیں کیا کیونکہ ہمارا موقف ہے کہ مرد و عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں جو احناف جدید فرق بتاتے ہیں وہ چند روایات ہیں جن میں مجہولین ہیں

      • خواجہ says:

        وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ (صحیح مسلم )
        اس سےبھی منع فرماتے کہ آدمی اپنے بازو اس طرح بچھا دے جس طرح درندہ بچھاتا ہے،

        کیا اس میں بھی شیخ مجھولین موجود ہے

  8. خواجہ says:

    بات طرق کی نہیں *الرجل*سے یہاں مرد کی تخصیص ہوتی ہے جو واضح نص ہے کہ یہاں صرف مرد سے کہا جارہا ہے

    • Islamic-Belief says:

      بہت خوب

      بھائی راوی نے روایت بالمعنی کی ہے یا وہی الفاظ ہیں جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہے
      اپ کو شاید معلوم نہیں – یہ کوئی دلیل نہیں کہ الرجل ہے – کیونکہ مرد مرد کو(راوی راوی کو) روایت سنا رہا ہے تو وہ بات کو اپنے انداز میں کہہ رہا ہے
      مس الذکر یا مرد کا عضو تناسل چھونے پر وضو ٹوٹ جائے گا ایک عورت کی روایت ہے -سوال ہو سکتا ہے اس عورت کو کیا یہ مسائل تھے؟

      ——
      تخصص واقعي ہوئی یا نہیں کیونکہ حدیث میں أَحَدُكُمْ الفاظ بھی آئے ہیں
      عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ»
      عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَعْتَدِلُ أَحَدُكُمْ فِي السُّجُودِ وَلا يَفْتَرِشُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبْعِ.
      عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ

      یہاں ہے یعنی تم میں سے کوئی سجدہ کرے
      مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہے
      یہاں تک کہ عائشہ رضی الله عنہا نے بھی اس کو روایت کیا ہے اور انہوں نے یہ بالکل نہیں کہا کہ یہ مرد کی نماز کے لئے ہے میں الگ طرح پڑھتی ہوں
      راقم کو احناف کی فقہ کی کتب جو معلوم ہیں ان میں اس طرح تخصیص کی کوئی دلیل نہیں معلوم
      اپ چند معروف فقہ حنفی کی کتابوں کا ذکر کریں جو عربی میں ہوں جس میں الرجل سے احادیث پر تخصیص کا اصول قائم کرنے کا ذکر ہو خیال رہے انڈیا پاکستان کے مولویوں کی کتب درکار یا دلیل نہیں ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *