قتل عثمان کا پس منظر

اہل سنت میں شروع سے دو رحجان رہے ہیں ایک شیعیت ہے اور دوسرا ناصبییت ہے ایک میں علی رضی الله عنہ کی  طرف داری ہے دوسری میں انکی مخالفت ہے – اس رحجان میں کبھی اضافہ ہو جاتا ہے کبھی کمی ہو جاتی ہے  ہمارے اکثر قاری اس سلسلے میں ہماری تحقیق جاننا چاہتے ہیں جو  راقم نے کافی اصرار پر یہاں لگا دی ہے

اس بلاگ میں سوالات  کا جواب نہیں دیا جائے گا  


علی رضی الله عنہ کا شیخین (ابو بکر و عمر رضی الله عنہما) سے خلافت پر اختلاف تھا انہوں نے ٦ ماہ تک ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت نہیں کی اور آخر کار فاطمہ رضی الله عنہا کی وفات کے بعد ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت کی (صحیح بخاری)- ابو بکر نے وفات کے وقت عمر رضی الله عنہ کو خلیفہ کر دیا اور علی سے اس وقت بھی کچھ پوچھا نہیں گیا – شیخین نے علی کو کہیں کا گورنر بھی مقرر نہیں کیا یہاں تک کہ کوفہ میں علی کے خیر خواہوں نے ایک فیصلہ کیا کہ امراء کے خلاف محاذ کھڑا کیا جائے اور ممکن ہے جب یہ معزول ہوں تو علی کو عامل مقرر کر دیا  جائے-  سوال یہ ہے کہ ایسا بعض کوفیوں کو کیا ہوا کہ وہ علی کے حق میں اتنا آگے تک جا رہے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کوفی اصلا یمنی تھے جن کو ان کے علاقوں سے عمر نے نکال کر کوفہ منتقل کر دیا تھا اس میں قبیلہ بنو اسد والے کثیر تعداد میں تھے اور بعد میں علی کے شیعوں میں بھی اسدیوں کی کثرت تھی اسی طرح علی کے ساتھ لڑنے والے بھی یمنی قبائل تھے – کوفیوں میں شیخین مخالف جذبات پیدا ہو چکے تھے

یمنی قحطانی قبائل اپنے اپ کو قریش سے زیادہ قدیم بتاتے ہیں – حدیث رسول کہ امراء قریش میں سے ہوں گے  کی وجہ سے وہ امت میں خلیفہ نہیں بن سکتے تھے  -علی کے لشکر میں قحطانی اور مرادی یمنی ہمدردوں کی بھی اکثریت ہے – یہاں تک کہ علی  کا قتل بھی قحطانی ہی کرتے ہیں- قحطانیقبیلہ سے مسلمانوں کا امیر ہو گا اس قسم کی  ایک روایت صحیح بخاری میں بھی آ گئی ہے جو اسی دور اختلاف کی ایجاد ہے – ہر چند کہ امام الذھبی نے اس کو منکر قرار دیا تھا لیکن بھر بھی اس کو صحیح کہا جاتا ہے

ایک طرف تو عربوں میں یہ قبائلی عصبیت بدل رہی تھی دوسری طرف خود علی خلیفہ بنتے بنتے رہ جاتے ہیں – عمر رضی الله عنہ کی شہادت کے بعد ٦ رکنی کیمٹی میں علی موجود ہیں جس کو خلیفہ کا انتخاب کرنا ہے – عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہ جو اس کے سربراہ ہیں وہ عثمان رضی الله عنہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں – علی رضی الله عنہ اب بھی خلیفہ نہیں بن پاتے – عثمان اور علی دونوں صحابی ہیں   دونوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے داماد ہیں لیکن دونوں میں فرق بہت ہے عثمان عمر میں بڑے اور متمول ہیں اور علی عمر میں بہت چھوٹے اور غریب تھے علی کے گھر میں لونڈی غلام تک نہ تھے اور دوسری بیوی تک کی اجازت ان کو نہیں دی گئی (صحیح بخاری)- علی رضی الله عنہ کے پاس گزر اوقات کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ تھا کہ ان کو مال فدک ملتا اور یہی وجہ تھی کہ وہ مسلسل شیخین سے اس کا مطالبہ کر رہے تھے – جو  بالاخر عمر رضی الله عنہ نے ان کو دے دیا

علی رضی الله عنہ نے ابو بکر رضی الله عنہ کی وفات کے بعد اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے شادی کی اور ابو بکر کے صلبی بیٹے محمد بن ابی بکر(جو ١٠ھ میں پیدا ہوا) اب علی کے لے پالک تھے – علی رضی الله نے فاطمہ رضی الله عنہ کی وفات کے بعد شیخین اور عثمان  کی خلافت میں کئی شادیاں کیں اور متعدد لونڈیاں رکھیں – اس طرح علی کا کنبہ بہت بڑا ہوا  جو ظاہر کرتا ہے علی فارغ البال ہو گئے تھے

سن ٣١ ہجری کا واقعہ ہے جو صحیح البخاری میں ہی ہے

حدیث نمبر: 3717حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ وَقَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”.ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور (زندگی سے مایوس ہو کر) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔

یہ خبر کہ عثمان رضی الله عنہ کے بعد زبیر بن العوام رضی الله عنہ کا نام بطور خلیفہ لیا جا رہا ہے امت میں پھیل چکی تھی –   اس کی خبر کوفیوں کو بھی ہوئی اور مصریوں کو بھی –  حدیث نبوی کے مطابق جو عھدہ مانگے اس کو وہ نہ دو لہذا علی رضی الله عنہ یہ مطالبہ نہیں کر سکتے تھے کہ ان کو عامل مقرر کیا جائے لیکن ان کے ہمدرد یہ کر سکتے تھے لہذا کوفہ کے لوگ عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے پاس پہنچا شروع ہوئے کہ امراء کو تبدیل کیا جائے

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کو عمر رضی الله عنہ نے  ٢١ ھ میں کوفہ کے عامل کی حیثیت سے معزول کیا

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ  کوفہ کے عامل ہوئے اور دور عثمان تک رہے

 سعد بن ابی وقاص کو عثمان نے  واپس کوفہ کا  گورنر کیا

ولید بن عقبہ رضی الله عنہ کو ٢٥ ھ میں گورنر کیا

سعید بن العاص رضی الله عنہ کو ٢٩ ہجری میں گورنر کیا

ابو موسی رضی الله عنہ کو ٣٤ ہجری میں گورنر کیا

 سعید بن العاص رضی الله عنہ  کو ٣٤ ہجری میں گورنر کیا

یعنی کوفی مسلسل درد سر بن چکے تھے امراء کے خلاف جھوٹے سچے قصے گھڑ کر مدینہ پہنچ جاتے اور عثمان رضی اللہ عنہ پر زور ڈالتے کہ ان کو تبدیل کرو لیکن عثمان اس سب کو بھانپ چکے تھے کہ ان کا مقصد  کیا ہے  – ان کوفی ہمدردروں کے نام معلوم ہیں اور یہ سب اصحاب علی ہیں (میل بن زیاد ، والأشتر النخعی ، مالک بن یزید ، و علقمہ بن قیس النخعی ، وثابت بن زید النخعی ، و جندب بن زھیر العامری ، و جندب بن کعب الأزدی ، وعروۃ بن الجعد ، وعمرو بن الحمق الخزائی، وصعصعۃ بن صوحان ، وأخوہ زید بن صوحان و ابن الکوا)  ان کے شیعہ ہیں یعنی یہ ہمدرد  علی کو بتائے بغیر بالا ہی بالا ان کے حق میں ایک تحریک چلا رہے تھے

مسند احمد کی روایت جس کو شعیب اور البانی صحیح کہتے ہیں  میں ہے

عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ – رضي الله عنه – قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ , إِنْ وَلِيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ: ” مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا , أَهَانَهُ اللهُ – عز وجل

 عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ نے کہا کہ میرے باپ رضی الله عنہ نے کہا اے بیٹے اگر تجھ کو والی لوگوں پر کیا جائے تو قریش کی تکریم کرنا کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس نے قریش کی اہانت کی الله عز وجل اس کی اہانت کرے گا

شیعان علی میں کثیر تعداد یمنی کوفیوں کی تھی جن کو اس پر اعتراض تھا کہ قریشی امراء ہی کیوں مقرر کیے جا رہے ہیں

دوسرا صوبہ مصر تھا یہاں صحابی رسول عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رضی الله عنہ گورنر تھے اور ان کا سیکریٹری عثمان رضی الله عنہ کا لے پالک  محمّدابن أَبِي حُذيفة تھا –  کتاب مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار از ابن حبان کے مطابق

محمد بن أبى حذيفة بن عتبة له صحبة كان عامل عثمان بن عفان على مصر

 محمد بن أبى حذيفة بن عتبة  صحابی ہے اس کو عثمان بن عفان نے  مصرپر عامل مقرر کیا تھا

وفات نبی کے وقت یہ  گیارہ سال کا تھا اور اس کی پرورش عثمان رضی الله عنہ نے کی

جبکہ کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل کے مطابق

 محمد بن أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة ولد أيضا بأرض الحبشة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وله رؤية

محمّد حبشہ میں پیدا ہوا اور اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو صرف دیکھا

الذھبی  تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

فنشأ مُحَمَّد فِي حُجْر عُثْمَان، ثُمَّ إنّه غضب على عُثْمَان لكونه لم يستعمله أو لغير ذلك، فصار إلْبًا على عُثْمَان

پس محمّد ،عثمان  رضی الله عنہ کے حجرے میں پلا بڑھا لیکن عثمان پر غضب ناک ہوا کہ انہوں نے اس کو کیوں عامل نہیں کیا اور انہی پر پلٹا

کتاب أسد الغابة کے مطابق

ولما قتل أبوه أَبُو حذيفة، أخذ عثمان بْن عفان مُحَمَّدا إليه فكفله إِلَى أن كبر ثُمَّ سار إِلَى مصر فصار من أشد الناس تأليبا عَلَى عثمان

جب محمّد کے باپ  شہید ہوئے تو اس کو عثمان نے  لے لیا اور کفالت کی یہاں تک کہ بڑا ہوا پھر مصر بھیجا

جھگڑا یہ ہوا کہ محمّد بن ابو حذیفہ کو عثمان نے امارت سے معزول کیا اور محمّد بن ابی بکر کو امیر مقرر کیا محمّد بن ابو حذیفہ نے محمّد ابن ابی بکر کے کان بھرے کہ میرے پاس عثمان کا خط آیا ہے کہ جیسے ہی نیا گورنر محمد بن ابی بکر مصر پہنچے اس کو قتل کر دینا – یہ سن کر محمد بن ابی بکر بدک گیا- بالاخر مصریوں اور کوفیوں نے پلان بنایا کہ اب بغاوت و خروج کیا جائے اور عثمان کو معزول کر دیا جائے – لیکن کیسے ؟ مدینہ تو عثمان کے ہمدرد اصحاب رسول سے بھرا پڑا تھا لہذا مناسب وقت ایام حج  تھے جس میں اصحاب رسول مشغول ہوں تو عثمان کو محصور کیا جائے زور ڈال کر ان کو ہٹا دیا جائے اور علی کو امام و خلیفہ مقرر کیا جائے  لہذا حاجیوں کے روپ میں ہدی کے جانوروں کے ساتھ نکلا جائے لیکن مدینہ پہنچ کر  احرام کھول دیا جائے اور دم میں انہی جانوروں کو قربان کیا جائے-  مدینہ پر اس قسم کا حملہ شمال سے ممکن تھا کیونکہ یہ مکہ کے رستے میں اتا ہے یہی وجہ ہے کہ عراق و مصر سے باغی خروج کرتے ہیں اور علی کو مجبورا مدینہ اس بنا پر چھوڑنا پڑتا ہے کہ اس قسم کی بغاوت ان کے خلاف بھی ہو سکتی تھی

باغیوں میں اصحاب بیعت شجرہ میں سے عبد الرحمن بن عُدَيْسٍ بھی ہے -دیگر اصحاب رسول میں سے زيد بن صوحان، زياد بن النضر الحارثي، حكيم بن جبلة (جو عثمان کے بصرہ کے بیت المال کے عمل دار تھے )، حرقوص بن زهير السعدي ہیں – محمّد بن ابو حذیفہ ہیں – محمد بن ابی بکر ہیں (یہ صحابی نہیں ہے) – یہ باغیوں کے سرغنہ تھے اور ان میں بعض  کے ساتھ ٢٠٠ سے ٣٠٠ سو لوگ تھے جو ساتھ مل کر ٧٠٠ سے   ہزار کی تعداد بن گئی تھی

قتل سے پہلے

گورنر کا شراب پینا

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ) صحیح مسلم: کتاب: حدود کا بیان

(باب: شراب کی حد)

4457 .

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ، مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ، حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَزِيدُكُمْ، فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ، وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ، قُمْ فَاجْلِدْهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ، فَقَالَ الْحَسَنُ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ قُمْ فَاجْلِدْهُ، فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ، فَقَالَ: أَمْسِكْ، ثُمَّ قَالَ: «جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ»، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ، ” وَكُلٌّ سُنَّةٌ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ. زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ

 ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور علی بن حجر سب نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ابن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ داناج (فارسی کے لفظ دانا کو عرب اسی طرح پڑھتے تھے) سے روایت کی، نیز اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ۔۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔۔ کہا: ہمیں یحییٰ بن حماد نے خبر دی، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن مختار نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ان عامر داناج کے مولیٰ عبداللہ بن فیروز نے حدیث بیان کی: ہمیں ابو ساسان حُضین بن منذر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، ان کے پاس ولید (بن عقبہ بن ابی معیط) کو لایا گیا، اس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر کہا: کیا تمہیں اور (نماز) پڑھاؤں؟ تو دو آدمیوں نے اس کے خلاف گواہی دی۔ ان میں سے ایک حمران تھا (اس نے کہا) کہ اس نے شراب پی ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے (شراب کی) قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے شراب پی ہے تو (اس کی) قے کی ہے۔ اور کہا: علی! اٹھو اور اسے کوڑے مارو۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: حسن! اٹھیں اور اسے کوڑے ماریں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اس  کی ناگوار باتیں بھی انہی کے سپرد کیجیے جن کے سپرد اس کی خوش گوار ہیں۔ تو ایسے لگا کہ انہیں ناگوار محسوس ہوا ہے، تب انہوں نے کہا: عبداللہ بن جعفر! اٹھو اور اسے کوڑے مارو۔ تو انہوں نے اسے کوڑے لگائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ شمار کرتے رہے حتی کہ وہ چالیس تک پہنچے تو کہا: رک جاؤ۔ پھر کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگوائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس لگوائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی (کوڑے) لگوائے، یہ سب سنت ہیں اور یہ (چالیس کوڑے لگانا) مجھے زیادہ پسند ہے۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: اسماعیل نے کہا: میں نے داناج کی حدیث ان سے سنی تھی لیکن اسے یاد نہ رکھ سکا

راقم کہتا ہے  ولید بن عقبہ   رضی الله عنہ سے کوفیوں کو بہت خنس تھی اور کوفیوں کا مقصد شروع سے یہ رہا کہ علی کو وہاں کا گورنر کرا دیا جائے -کوفی یمنی  تھے لہذا شیعان علی کی ایک روایت یہ ہے کہ قرآن میں ایک فاسق کا ذکر ہے جو ولید بن عقبہ رضی الله عنہ تھے

﴿قال: قدمت علی رسول اللہ ﷺ فدعانی الی الاسلام ، فدخلت فیہ، واٴقررت بہ۔۔۔﴾ (مسند احمد بن حنبل ،ج ۳۰، ص ۴۰۳، رقم ۸۴۵۹  پر الحدیث

ترجمہ: (میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی جو میں نے منظور کر لی اور مسلمان ہوگیا۔ پھر آپ نے زکوة کی فرضیت سنائی میں نے اس کا بھی اقرار کیا اور کہا کہ میں واپس اپنی قوم کے پاس جاتا ہوں اور ان میں سے جو ایمان لائیں اور زکوة ادا کریں میں ان کی زکوة جمع کرتا ہوں۔ اتنے اتنے دنوں کے بعد آپ میری طرف کسی آدمی کو بھیج دیں میں اس کے ہاتھ جمع شدہ مال زکوة آپ کی خدمت میں بھجوادوں گا۔ سیدنا حارث نے واپس آکر یہی مال زکوة جمع کیا جب وقت مقررہ گزر چکا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی قاصد نہ آیا تو آپ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا یہ تو نا ممکن ہے کہ اللہ کے رسول اپنے وعدے کے مطابق اپنا آدمی نہ بھیجیں ۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ ہم سے ناراض نہ ہوگئے ہوں؟ اور اس بنا پر آپ نے اپنا کوئی قاصد مال زکوة لینے کے لیے نہ بھیجا ہو، اگر آپ متفق ہوں تو ہم اس مال کو لے کر خود ہی مدینہ منورہ چلیں اور آپ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ یہ تجویز طے پاگئی اور یہ حضرات اپنا مال زکوة لے کر چل کھڑے ہوئے۔ ادھر سے رسول اللہ ﷺ ولید بن عقبہ کو اپنا قاصد بنا کر بھیج چکے تھے۔ لیکن یہ حجرات راستے میں ہی ڈر کے مارے لوٹ آئے اور یہاں آ کر کہہ دیا کہ حارث نے زکوة بھی روک لی اور میرے قتل کے درپے ہوئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور کچھ آدمی حارث کی تنبیہ کے لیے روانہ فرما دیے۔ مدینے کے قریب راستے میں ہی اس مختصر سے لشکر نے حضرت حارث کو پالیا۔ سیدنا حارث نے پوچھا آخر کیا بات ہے؟ تم کہاں اور کس کے پاس جا رہے ہو؟ انہوں نے آپ کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ پوچھا کیوں؟ کہا اس لیے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد ولید کو زکوة نہ دی بلکہ انہیں قتل کر نا چاہا۔ حارث نے فرمایا قسم ہے اس رب کی جس نے محمد ﷺ کو سچا بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے اسے دیکھا نہ وہ میرے پاس آیا، چلو میں تو خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں۔ یہاں جو آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا تم نے زکوة بھی روک لی اور میرے آدمی کو قتل کرنا چاہا۔ آپ نے جواب دیا ہر گز نہیں یا رسول اللہﷺ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے نہ میں نے انہیں دیکھا ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس آئے، بلکہ قاصد کو نہ دیکھ کر اس ڈر کے مارے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھ سے ناراض نہ ہوگئے ہوں اور اسی وجہ سے قاصد نہ بھیجا ہو میں خود حاضر خدمت ہوا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
 يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا۔۔۔۔۔۔
(الحجرات: ۶)

اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔۔۔۔ حکیم تک نازل ہوئی۔

سند میں محمد بن سابق ہے جو ضعیف ہے۔
دینار کا باپ  عیسٰی مجھول ہے۔
محمد بن سابق التمیمی:
قال یحییٰ بن معین : ضعیف۔
قال ابو حاتم لا یحتیج بہ۔
وقال یعقوب بن شیبة : ولیس ممن یوصف بالضبط للحدیث۔تھذیب التھذیب ،ج۷، ص۱۶۳، تھذیب الکمال للمزی،ج۲۵،ص۶۳۳، تاریخ الکبیرللبخاری الترجمة ۳۱۲، الجرح والتعدیل

اس تناظر میں صحیح مسلم کی روایت میں بھی ایسا ہی ہے دو کوفیوں کی شکایات پر عثمان نے گورنر کو کوڑے لگوائے اور وہ بھی خاص اہل بیت النبی سے – کیا یہ ہر وقت  مجلس عثمان میں ہی رہتے تھے ؟ کسی اور صحابی کا ذکر بھی اس روایت میں نہیں ہے

کہا جاتا ہے کہ حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ المتوفی ٩٩ ھ  جو گواہ بن کر کھڑا ہوا یہ  بعد میں  كَانَ صَاحِبَ شُرْطَةِ عَلِيٍّ  علی کا خصوصی گارڈ بنا اس کا بیان بھی صحیح بخاری کی روایت سے جدا ہے

حدیث نمبر 3872:
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، ‏‏‏‏حدثنا هشام، ‏‏‏‏أخبرنا معمر، ‏‏‏‏عن الزهري، ‏‏‏‏حدثنا عروة بن الزبير، ‏‏‏‏أن عبيد الله بن عدي بن الخيار، ‏‏‏‏أخبره أن المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث قالا له ما يمنعك أن تكلم خالك عثمان في أخيه الوليد بن عقبة وكان أكثر الناس فيما فعل به‏.‏ قال عبيد الله فانتصبت لعثمان حين خرج إلى الصلاة فقلت له إن لي إليك حاجة وهى نصيحة‏.‏ فقال أيها المرء، ‏‏‏‏أعوذ بالله منك، ‏‏‏‏فانصرفت، ‏‏‏‏فلما قضيت الصلاة جلست إلى المسور وإلى ابن عبد يغوث، ‏‏‏‏فحدثتهما بالذي قلت لعثمان وقال لي‏.‏ فقالا قد قضيت الذي كان عليك‏.‏ فبينما أنا جالس معهما، ‏‏‏‏إذ جاءني رسول عثمان، ‏‏‏‏فقالا لي قد ابتلاك الله‏.‏ فانطلقت حتى دخلت عليه، ‏‏‏‏فقال ما نصيحتك التي ذكرت آنفا قال فتشهدت ثم قلت إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم وأنزل عليه الكتاب، ‏‏‏‏وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وآمنت به، ‏‏‏‏وهاجرت الهجرتين الأوليين، ‏‏‏‏وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورأيت هديه، ‏‏‏‏وقد أكثر الناس في شأن الوليد بن عقبة، ‏‏‏‏فحق عليك أن تقيم عليه الحد‏.‏ فقال لي يا ابن أخي أدركت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت لا، ‏‏‏‏ولكن قد خلص إلى من علمه ما خلص إلى العذراء في سترها‏.‏ قال فتشهد عثمان فقال إن الله قد بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب، ‏‏‏‏وكنت ممن استجاب لله ورسوله صلى الله عليه وسلم وآمنت بما بعث به محمد صلى الله عليه وسلم‏.‏ وهاجرت الهجرتين الأوليين كما قلت، ‏‏‏‏وصحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبايعته، ‏‏‏‏والله ما عصيته ولا غششته حتى توفاه الله، ‏‏‏‏ثم استخلف الله أبا بكر فوالله ما عصيته ولا غششته، ‏‏‏‏ثم استخلف عمر، ‏‏‏‏فوالله ما عصيته ولا غششته، ‏‏‏‏ثم استخلفت، ‏‏‏‏أفليس لي عليكم مثل الذي كان لهم على قال بلى‏.‏ قال فما هذه الأحاديث التي تبلغني عنكم فأما ما ذكرت من شأن الوليد بن عقبة، ‏‏‏‏فسنأخذ فيه إن شاء الله بالحق قال فجلد الوليد أربعين جلدة، ‏‏‏‏وأمر عليا أن يجلده، ‏‏‏‏وكان هو يجلده‏.‏ وقال يونس وابن أخي الزهري عن الزهري أفليس لي عليكم من الحق مثل الذي كان لهم‏.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیارنے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبد الر حمن بن اسود بن عبد یغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا تم اپنے ماموں (امیرالمؤمنین) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے، (ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو حضرت عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا)، عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیرخواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں خدا کی پنا ہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فا رغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبد یغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جودیا تھا، سب میں نے بیان کر دیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس (بلانے کے لیے) آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیرخواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیاتھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں (ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لئے آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر (شراب نوشی کی) حد قائم کریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنوا ری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر (ابتداء ہی میں) لبیک کہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم انشاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر (گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اورزہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔
—-

روایات کے مطابق گواہوں نے ایک انگوٹھی پیش کی کہ ہم نے ولید رضی اللہ عنہ کو شراب نوشی کرتے دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ان کی انگوٹھی اتار لائے اور انہیں علم نہیں ہو سکا۔   عثمان رضی اللہ عنہ نے   ولید کو طلب کیا اور ان سے فرمایا: “جھوٹے گواہ کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اے میرے بھائی! تم صبر کرو۔” اس کے بعد انہوں نے ولید پر شراب کی سزا نافذ کی   طبری۔ 3/1-314 –   اس میں ایک الزام بیان ہوا لوگ گواہ بنے اور حد قائم ہوئی- اب یہ صحیح ہوئی اس کا فیصلہ تو اب الله کے پاس ہے جب  ولید بن عقبہ  رضی الله عنہ  محشر میں سوال کریں گے

حج میں اختلاف

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ

(بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ)

صحیح مسلم2964: کتاب: حج کے احکام ومسائل

(باب: حج تمتع کرنما جائز ہے)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ، فَكَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَنْهَى عَنْهُ؟» فَقَالَ عُثْمَانُ: دَعْنَا مِنْكَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ، أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا

عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی،کہا:(ایک مرتبہ) مقام عسفان پر   علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکھٹے ہوئے۔  عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع سے یا (حج کے مہینوں میں ) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔  علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا:آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟  عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:آپ  ہمیں   چھوڑ دیں (یعنی جو دل چاہے کریں)۔  علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں آپ استطاعت نہیں رکھتا کہ اپ کو  چھوڑ دوں ۔جب   علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ   دیکھا توحج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کردیا ۔

‌صحيح البخاري 1563: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ التَّمَتُّعِ وَالإِقْرَانِ وَالإِفْرَادِ بِالحَجِّ، وَفَسْخِ الحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ) صحیح بخاری: کتاب: حج کے مسائل کا بیان

(باب: حج میں تمتع، قران اور افراد کا بیان۔۔۔)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ قَالَ مَا كُنْتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے علی بن حسین ( حضرت زین العابدین ) نے اور ان سے مروان بن حکم نے بیان کیا کہ   عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو میں نے دیکھا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے سے منع کیا  لیکن   علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا ” لبیک بعمرۃ وحجۃ “ اور کہا کہ میں کسی ایک شخص کی بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا۔

راقم کہتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے صرف ایک حج کیا ہے اور اس میں حج و عمرہ کو ملانے کا ذکر نہیں ہے

صحیح مسلم میں ہے

ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: ” لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ

علی نے عثمان سے کہا اپ جانتے ہیں کہ ہم نے تمتع کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ- عثمان نے کہا ٹھیک ہے لیکن ہم اس میں خوف زدہ تھے

مشکل الاثار میں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ , قَالَ: ثنا الْحَجَّاجُ , قَالَ: ثنا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سُئِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ , فَقَالَ: كَانَتْ لَنَا , لَيْسَتْ لَكُمْ

عثمان نے کہا یہ ہمارے لئے تھا تمھارے لئے نہیں ہے

ابن حجر نے کہا

ويحتمل أن يكون عثمان أشار إلى أن الأصل في اختياره – صلى اللَّه عليه وسلم – فسخ الحجّ إلى العمرة في حجة الوداع دفع اعتقاد قريش منع العمرة في أشهر الحجّ، وكان ابتداء ذلك بالحديبية؛ لأن إحرامهم بالعمرة كان في ذي القعدة، وهو من أشهر الحجّ، وهناك يصحّ إطلاق كونهم خائفين، أي من وقوع القتال بينهم وبين المشركين، وكان المشركون صدّوهم عن الوصول إلى البيت، فتحلّلوا من عمرتهم، وكانت أول عمرة وقعت في أشهر الحجّ، ثم جاءت عمرة القضيّة في ذي القعدة أيضًا، ثم أراد – صلى اللَّه عليه وسلم – تأكيد ذلك بالمبالغة فيه، حتى أمرهم بفسخ الحجّ إلى العمرة

اور احتمال ہے کہ عثمان کا اشارہ ہے جو اصل میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے اختیار کیا کہ حج کو عمرہ سے بدلا حجه الوداع میں قریش کے عقیدہ کو دفع کرنے کہ حج کے ماہ میں عمرہ منع ہے اور اس کی شروعات حدیبیہ میں ہوئی جب عمرہ کا احرام باندھا جو ذیقعدہ میں تھا جو حج کا مہینہ ہے اور اس پر خوف کا اطلاق صحیح ہے کہ ان میں اور مشرکین میں قتال ہو سکتا تھا اور مشرکین نے راستہ روکا تو اس کو عمرہ سے بدلا اور پہلا عمرہ حج کے مہینوں میں ہوا پھر عمرہ قضیہ ہوا جو ذیقعدہ میں ہوا

عثمان رضی الله عنہ کے نزدیک ایسا کرنا علت کی بنا پر  تھا  لہذا یہ خصوص تھا کہ میقات میں ایام حج میں عمرہ کی نیت سے داخل ہوں اور علی رضی الله عنہ نے اس کو عموم سمجھا

عثمان کی طرح ابو ذر رضی الله عنہ بھی اس کو حکم خصوصی کہتے تھے جو صرف اصحاب النبی کے لئے ہے

أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «كَانَتْ الْمُتْعَةُ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً

محصور عثمان

الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں

وَقَالَ يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: آخِرُ خرجةٍ خَرَجَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ حَصَبَهُ النَّاسُ، فَحِيلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاةِ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ يومئذٍ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.

عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ کہتے ہیں کہ آخری بار جب عثمان نکلے تھے تو جمعہ کا دن تھا پس جب منبر پر آئے تو لوگوں نے گھیر لیا پس وہ ان کے اور نماز کے بیچ حائل ہوئے اور اس دن لوگوں نے أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رضی الله عنہ  کے پیچھے نماز پڑھی

مسند احمد کی روایت أبي إمَامَة بن سَهْل سے مروی  ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى  بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ:   كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِني بِالْقَتْلِ، قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي؟! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا، فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ [أَنَّ لِي] بِدِينِي [بَدَلاً]   مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ، وَلاَ زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ قَطُّ وَلاَ قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي

ہم عثمان کے ساتھ تھے اور وہ محصور تھے گھر میں پس عثمان نے کہا انہوں نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے- ہم نے کہا الله اپ کے لئے کافی ہے امیر المومنین- عثمان نے کہا یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاھتے ہیں؟ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک مسلم کا خون حلال نہیں سوائے تین کے – ایک شخص کفر اختیار کرے اسلام قبول کرنے کے بعد یا زنا کرے شادی کے بعد یا نفس کا قتل کرے پس اس کو قتل کیا جائے الله کی قسم جب سے الله نے ہدایت دی ہے مجھ کو دین بدلنا پسند نہیں اور نہ میں جاہلیت میں زنا کیا، نہ اسلام میں کبھی،  نہ قتل نفس کیا تو یہ مجھے کیوں قتل کریں گے

 محقق  احمد شاکر اور شعیب اس کو صحیح کہتے ہیں

اس دوران نماز میں امام عبد الرحمان بن عدیس تھا  اور عید کی نماز میں امام علی رضی الله عنہ  تھے یہ دونوں اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں

صحیح بخاری کی روایت ہے

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، – وَهُوَ مَحْصُورٌ – فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ، وَنَتَحَرَّجُ؟

عبید الله بن عدی،  عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ محصور تھے ان سے کہا کہ آپ امام ہیں لیکن ہم کو امام الفتنہ نماز پڑھا رہا ہے اور ہم کراہت کر رہے ہیں

اس روایت میں امام الفتنہ سے مراد عبد الرحمن بن عدیس البلوی ہے

ابن شبہ اپنی کتاب، تاریخ المدینہ، ج ۴، ص ۱۱۵٦، میں روایت ہے

فَطَلَعَ ابْنُ عُدَيْسٍ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَطَبَ النَّاسَ وَصَلَّى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ الْجُمُعَةَ، وَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: أَلَا إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَذَا وَكَذَا» ، وَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَكْرَهُ ذِكْرَهَا

ابن عدیس منبر رسول پر چڑھا اور خطاب کیا، اور لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی، اور خطبے میں کہا کہ آگاہ ہو جاو، مجھے ابن مسعود نے کہا کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ عثمان بن عفان ایسے ایسے ہیں۔ راوی کہتا ہے ابن عدیس نے ایسا کلام کیا کہ جو بیان کرنے سے مجھے کراہت ہو رہی ہے

یہ بات جب عثمان رضی الله عنہ تک پہنچی توعثمان نے جواب دیا

كذب والله ابن عديس ما سمعها من ابن مسعود، ولا سمعها ابن مسعود من رسول الله قط

اللہ کی قسم! ابن عدیس نے جھوٹ بولا، نہ اس نے ابن مسعود سے کچھ سنا، نہ ابن مسعود نے (اس بارے میں) رسول اللہ سے

ایک روایت موضوعات ابن الجوزی میں ہے جس کے مطابق منبر پر ابن عدیس نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا

أَلا إِن عُثْمَان أضلّ من عَيْبَة على قفلها

خبردار بے شک عثمان گمراہ ہے اس کے بارے میں جس کے یہ عیب قفل پر کرتا ہے

یعنی تالا لگا کر عثمان رضی الله عنہ علی رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے تھے

الذھبی تلخیص الموضوعآت میں اس پر لکھتے ہیں

قد افتراه ابْن عديس

اس کو ابن عدیس نے افتری کیا ہے

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ” إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا “، أَوْ قَالَ: ” اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً “، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ” عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ “، وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ

رواه: الإمام أحمد، والحاكم في “مستدركه”، وقال “صحيح الإسناد

عثمان جب محصور تھے تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے عثمان رضی الله عنہ سے کلام کی اجازت مانگی – پس ان کو اجازت دی گئی ابو ہریرہ کھڑے ہوئے اور الله کی حمد کی اور تعریف کی پھر کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہا تم کو میرے بعد فتنہ و اختلاف ملے گا …. پس لوگوں میں سے کسی  نے کہا : پس ہم کیا کریں رسول الله  فرمایا تمھارے لئے امین ہے اس کے  اصحاب ہیں،  ان کا اشارہ عثمان کے لئے تھا

اس روایت کو بعض علماء صحیح کہتے ہیں جبکہ اس کی سند میں أَبُو حَبِيبَةَ  مجھول ہیں ان کی ثقاہت ابن حبان اور عجلی نے کی ہے  جو ان دونوں کا تساہل ہے – کوئی اور ان کی تعدیل نہیں کرتا

شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة  از أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ)  کی روایت ہے

أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاهِدٍ، قَالَ: نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: نا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: نا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أن عليا أتى عثمان وهو محصور فأرسل إليه أني قد جئت لأنصرك فأرسل إليه بالسلام وقال: لا حاجة لي فأخذ علي عمامته من رأسه فألقاها في الدار التي فيها عثمان وهو يقول ذلك ليعلم أني لم أخنه بالغيب.

ميمون بن مهران کی ابن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے اور وہ محصور تھے پس انہوں نے کسی کو  عثمان رضی الله عنہ کے پاس بھیجا کہ میں آیا ہوں تمہاری مدد کے لئے تو عثمان نے ان کو سلام کہا اور کہا مجھ  تیری حاجت نہیں- پس علی نے اپنا عمامہ جو سر پر تھا اس کو دار عثمان پر پھینکا اور کہا یہ اس لئے کہ {«ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ» } [يوسف: 52]  تو جان لے کہ میں چھپ کر خیانت نہیں کر رہا

 امام احمد کہتے ہیں وجعفر بن برقان، ثقة، ضابط لحديث ميمون جعفر بن برقان، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ سے روایت کرنے میں ثقہ ضابط ہیں

مسند احمد کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ:  حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الشَّرِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: ” إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ [ص:91] أَكُونَ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الشَّرِيد کہتے ہیں میں نے علی کو کہتے سنا  وہ خطبہ دے رہے تھے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ میں اور عثمان وہ ہیں جن پر الله کا قول ہے  وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ

كتاب الفتن از أبو عبد الله نعيم بن حماد بن معاوية بن الحارث الخزاعي المروزي (المتوفى: 228هـ) کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ” إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]

علی کہتے کہ میں امید کرتا ہوں میں اور عثمان ہی وہ ہیں جن کے لئے قرآن میں ہے  کہ ہم ان کے دلوں کی کدورت دور کر دیں گے

یعنی عثمان اور علی رضی الله عنہما میں اختلافات شدید تھے آخری وقت میں عثمان رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ سے ملاقات تک کو پسند نہ کیا اور علی کو یہ گمان تھا کہ عثمان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ  علی  درپردہ خیانت کر رہے ہیں

ظاہر ہے جب علی کی آفر کو عثمان رضی الله عنہ نے رد کر دیا تو وہاں الدار پر چوکیداری ال علی میں کوئی نہیں کر رہا تھا –

ابن کثیر البداية والنهاية میں لکھتے ہیں

فروى الواقدي عن موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التميمي عن أبيه أن عمر…. كان عثمان بن عفان يكرم الحسن والحسين ويحبهما وقد كان الحسن بن علي يوم الدار وعثمان بن عفان محصور عنده ومعه السيف متقلداً به يحاجف عن عثمان

واقدی کی موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث التميمي سے ان کی باپ سے ان کی عمر سے روایت ہے کہ عثمان رضی الله عنہ کے گھر پر حسن و حسین رضی الله عنہما تلوار لٹکائے تھے ان  کی چوکیداری کے لئے

اس کی سند میں واقدی کذاب ہے – موسى بن محمد بن أبراهيم بن الحارث القرشي، التيمي کو امام احمد ضعیف کہتے ہیں – امام بخاری کہتے ہیں یہ منکر روایات بیان کرتا ہے – أبو أحمد الحاكم  اس کو منكر الحديث کہتے ہیں – عقیلی کہتے ہیں امام بخاری اس کو  منكر الحديث کہتے ہیں  – يحيى بن معين اس کو ضعیف اور دارقطنی متروک کہتے ہیں

کتاب المجالسة وجواهر العلم  ازأبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) کی روایت ہے جس کو محقق   أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان صحیح کہتے ہیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيِّ، نَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، نَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: [ص:161] أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا الدَّارَ، فَقُلْتُ: جِئْتُ أُقَاتِلُ مَعَكَ، قَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تَقْتُلَ النَّاسَ كُلَّهُمْ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَإِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَ نَفْسًا وَاحِدَةً كَأَنَّكَ قَتَلْتَ النَّاسَ كُلَّهُمْ. فَقَالَ: انْصَرِفْ مَأْذُونًا غَيْرَ مَأْزُورٍ. قَالَ: ثُمَّ جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فقال: جئت يا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُقَاتِلُ مَعَكَ، فَأْمُرْنِي بِأَمْرِكَ. فَالْتَفَتَ عُثْمَانُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: انْصَرِفْ مَأْذُونًا لَكَ، مَأْجُورًا غَيْرَ مَأْزُورٍ، جَزَاكُمُ اللهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا

ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حسن رضی الله عنہ ، عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ میں اپ کے ساتھ لڑوں گا لیکن عثمان نے ان کو چلے جانے کا حکم دیا اور جزا کی دعا کی

عثمان کی حفاظت ان کے چند پہرے دار کر رہے تھے لہذا صدردروازے سے کوئی داخل نہیں ہوا بلوائی ایک پڑوسی کے گھر سے اندر کودے اور عثمان رضی الله عنہ تک  جا پہنچے ان میں علی رضی الله عنہ کے لے پالک اور ابو بکر رضی الله عنہ کے صلبی بیٹے محمد بن ابی بکر سر فہرست تھے

الذھبی لکھتے عمرو بن حزم رضی الله عنہ کے گھر کے راستے سے عثمان پر بلوائی داخل ہوئے

فجاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا، فدخل حتى انتهى إلى عثمان، فأخذ بلحيته، فقال بها حتى سمعت وقع أضراسه، فقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما أغنت عنك كتبك. فقال: أرسل لحيتي يا ابن أخي

پس محمد بن ابی بکر تیس آدمیوں کے ساتھ آیا اور گھر میں داخل ہوا حتی کہ عثمان تک جا پہنچا اور ان کو داڑھی سے پکڑا اور کہا  تجھ کو معاوية نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، تجھ کو بنی عامر نے فائدہ نہیں پہنچایا، تجھ کو تیری تحریر نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، عثمان نے کہا اے بھائی کے بیٹے میری داڑھی چھوڑ دے

اسی بلوہ میں عثمان رضی الله عنہ شہید ہو گئے

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” ادْعُوا لِي بَعضَ أَصْحَابِي “، قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: ” لَا “. قُلْتُ: عُمَرُ؟ قَالَ: ” لَا “. قُلْتُ: ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ؟ قَالَ: ” لَا “. قَالَتْ: قُلْتُ: عُثْمَانُ؟ قَالَ: ” نَعَمْ “، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: ” تَنَحَّيْ “. فَجَعَلَ يُسَارُّهُ، وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ فِيهَا، قُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ: ” لَا، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، وَإِنِّي صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ

وأخرجه الترمذي (3711) عن سفيان بن وكيع، عن أبيه، ويحمل بن سعيد القطان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي سهلة، قال: قال عثمان يوم الدار: إن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قد عهد إليَّ عهدا فأنا صابر عليه. قال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح، لا نعرفه إلا من حديث إسماعيل بن أبي خالد.

ابو سہلہ رحمہ اللہ(سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا :میرے پاس میرے کسی صحابی کو بلاؤ۔ میں نے عرض کیا : ابو بکر کو بلائیں؟فرمایا : نہیں۔عرض کیا : عمر کو؟ فرمایا : نہیں۔ عرض کیا : آپ کے چچا زاد علی کو؟ فرمایا : نہیں۔ عرض کیا : عثمان کو؟ فرمایا : ہاں۔ جب  عثمان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک طرف ہونے کا کہا اور رازدارانہ انداز میں کچھ فرمانے لگے، اس بات کو سنتے ہوئے   عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ ابو سہلہ کہتے ہیں : جب   عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن آیا اور آپ کا محاصرہ کر لیا گیا تو ہم نے عرض کیا : امیر المومنین! کیا آپ باغیوں سے قتال نہیں کریں گے؟ فرمانے لگے : نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (شہادت کا)وعدہ دیا تھا، میں اسی پر اپنے آپ کو پابند رکھوں گا۔

سند میں قیس بن ابی حازم ہے جو مختلط تھا اور جنگ جمل کے حوالے سے اس کی روایات قابل اعتماد  نہیں ہیں یہی راوی حواب کے کتوں والی روایت بھی بیان کرتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ (1) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَتْ إِحْدَانَا عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ كَلَّمَهُ، أَنْ ضَرَبَ مَنْكِبَهُ (2) ، وَقَالَ: ” يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي ” ثَلَاثًا، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ كَانَ هَذَا عَنْكِ؟ قَالَتْ: نَسِيتُهُ، وَاللهِ فَمَا ذَكَرْتُهُ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمْ يَرْضَ بِالَّذِي أَخْبَرْتُهُ حَتَّى كَتَبَ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ اكْتُبِي إِلَيَّ بِهِ، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ بِهِ كِتَابًا

مسند احمد

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا۔(جب وہ حاضر ہوئے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ ہم (ازواج)نے بھی یہ دیکھ کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلام تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں پر ہاتھ مار کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عثمان! اللہ تعالٰی آپ کو خلافت کی قمیص پہنائیں گے، اگر منافق آپ سے وہ قمیصِ خلافت چھیننا چاہیں تو آپ نے اسے اتارنا نہیں، یہاں تک مجھے آ ملو(شہید ہو جاؤ)۔پھر فرمایا : عثمان! اللہ تعالیٰ آپ کو خلعت ِ خلافت پہنائیں گے، اگر منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو آپ نے شہید ہونے تک اسے نہیں اتارنا۔یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی

شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں

إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح غير الوليد بن سليمان فقد روى له النسائي وابن ماجه وهو ثقة.

قتل کے بعد

فضائل الصحابة از امام احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ السَّاعَةَ، قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَأَخَذْتُ بِوَسَطِهِ تَخَوُّفًا عَلَيْهِ، فَقَالَ: خَلِّ لَا أُمَّ لَكَ، قَالَ: فَأَتَى عَلِيٌّ الدَّارَ، وَقَدْ قُتِلَ الرَّجُلُ، فَأَتَى دَارَهُ فَدَخَلَهَا، وَأَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، فَأَتَاهُ النَّاسُ فَضَرَبُوا عَلَيْهِ الْبَابَ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ قُتِلَ وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ خَلِيفَةٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ: ” لَا تُرِيدُونِي، فَإِنِّي لَكُمْ وَزِيرٌ خَيْرٌ مِنِّي لَكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ عَلَيَّ فَإِنَّ بَيْعَتِي لَا تَكُونُ سِرًّا، وَلَكِنْ أَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُبَايِعَنِي بَايَعَنِي، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَبَايَعَهُ النَّاسُ.

مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ کہتے ہیں کہ میں علی کے ساتھ تھا اور عثمان محصور تھے پس ایک شخص آیا اور کہا امیر المومنین کا قتل ہو گیا پھر دوسرا آیا اس نے کہا امیر المومنین کا ابھی قتل ہوا- پس علی اٹھے اور محمد کہتے ہیں میں نے ان کو تھام لیا … پس وہ عثمان کے گھر تک گئے وہاں ایک شخص  مقتول تھا پس وہ داخل ہوئے اور دروازہ (اندر سے) بند کر دیا پس لوگ آئے اور دروازہ کو پیٹنا  شروع کیا اور اندر داخل ہو گئے اور کہا یہ شخص تو قتل ہی ہو گیا اور اب (اےعلی) اپ کو ہی خلیفہ ہونا چاہیے اور ہم نہیں جانتے کہ اپ سے زیادہ کوئی حقدار ہو پس علی نے کہا تم کو میری ضرورت نہیں ہے امیر سے بہتر میں وزیر ہوں انہوں نے کہا الله کی قسم ہم اپ سے زیادہ حق دار کسی اور کو نہیں جانتے پس علی نے کہا اگر تم زور دیتے ہو تو میری بیعت چھپ کر نہیں مسجد میں ہو گی پس جو چاہے بیعت کرے پس مسجد میں آئے اور بیعت ہوئی

یہ روایت صحیح نہیں ہو سکتی- اس کے مطابق علی کو جب  قتل کی خبر ملی وہ عثمان کے گھر چلے گئے دروازہ اندر سے بند کر لیا – کیا قتل گاہ جا کر کوئی ایسا کرے گا ؟    سند میں سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ کٹر شیعہ ہے

امیر المومنین علی رضی الله عنہ کی بیعت کا ایک قصہ ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں ج ٧ ص ٢٢٦ میں  پیش کرتے ہیں جو واقدی کذاب  اور مجہولین کی سند سے ہے

وَقَالَ الْوَاقِدِيُّ: بَايَعَ النَّاسُ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ، وَتَرَبَّصَ سَبْعَةُ نَفَرٍ لَمْ يُبَايِعُوا، مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وصهيب، وزيد بن ثابت، ومحمد بن أبى مَسْلَمَةَ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَّا بَايَعَ فِيمَا نَعْلَمُ. وَذَكَرَ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ شُيُوخِهِ قَالُوا: بَقِيَتِ المدينة خمسة أيام بعد مقتل عُثْمَانَ وَأَمِيرُهَا الْغَافِقِيُّ بْنُ حَرْبٍ، يَلْتَمِسُونَ مَنْ يُجِيبُهُمْ إِلَى الْقِيَامِ بِالْأَمْرِ. وَالْمِصْرِيُّونَ يُلِحُّونَ عَلَى عَلِيٍّ وَهُوَ يَهْرُبُ مِنْهُمْ إِلَى الْحِيطَانِ، وَيَطْلُبُ الْكُوفِيُّونَ الزَّبِيرَ فَلَا يَجِدُونَهُ، وَالْبَصْرِيُّونَ يَطْلُبُونَ طَلْحَةَ فَلَا يُجِيبُهُمْ، فَقَالُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ لَا نُوَلِّي أَحَدًا مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ، فَمَضَوْا إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالُوا: إِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الشورى فلم يقبل منهم، ثم راحوا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَبَى عَلَيْهِمْ، فَحَارُوا فِي أَمْرِهِمْ، ثُمَّ قَالُوا: إِنْ نَحْنُ رَجَعْنَا إِلَى أَمْصَارِنَا بِقَتْلِ عُثْمَانَ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَمْرِهِمْ وَلَمْ نَسْلَمْ، فَرَجَعُوا إِلَى على فألحوا عليه، وأخذ الأشتر بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يَقُولُونَ: أَوَّلُ مَنْ بَايَعَهُ الْأَشْتَرُ النَّخَعِيُّ وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَمِيسِ الرَّابِعُ وَالْعِشْرُونَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مُرَاجَعَةِ النَّاسِ  َهُمْ فِي ذَلِكَ، وَكُلُّهُمْ يَقُولُ: لَا يَصْلُحُ لَهَا إِلَّا عَلِيٌّ، فَلَمَّا كان يوم الجمعة وصعد على الْمِنْبَرَ بَايَعَهُ مَنْ لَمْ يُبَايِعْهُ بِالْأَمْسِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَهُ طَلْحَةُ بِيَدِهِ الشَّلَّاءِ، فَقَالَ قَائِلٌ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ،    ثُمَّ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنَّمَا بَايَعْتُ عَلِيًّا واللج على عنقي والسلام، ثم راح إلى مكة فأقام أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، وَكَانَتْ هَذِهِ الْبَيْعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لخمسة بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ،

واقدی نے کہا کہ لوگوں نے علی کی بیعت مدینہ میں کی اور … سات لوگوں نے بیعت نہیں کی جن میں ابن عمر ہیں سعد بن ابی وقاص ہیں صہیب الرومی ہیں اور زید بن ثابت ہیں اور محمد بن ابی مسلمہ ہیں اور سلامہ بن وقش ہیں اور اسامہ بن زید ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ انصار میں سے کسی نے اس بیعت پر اختلاف کیا ہو اور سیف بن عمر نے ذکر کیا اپنے شیوخ کی ایک جماعت سے انہوں نے کہا عثمان کے قتل کے بعد پانچ دن تک الْغَافِقِيُّ بْنُ حَرْبٍ مدینہ پر امیر تھا – … مصری علی سے ملے اور علی ان سے فرار کر کے باغوں میں چلے گئے اور کوفی زبیر کو طلب کرتے تھے وہ ان کو نہ ملے اور بصری طلحہ کو انہوں نے بھی جواب نہ دیا  …. لوگ سعد کے پاس آئے کہ اپ اہل شوری میں سے ہیں لیکن انہوں نے قبول نہ کیا پھر ابن عمر کے پاس وہ ان سے دور ہوئے … سب سے پہلے کوفیوں میں سے ُ الْأَشْتَرُ النَّخَعِيّ نے علی کی بیعت کی…. پھر علی منبر پر گئے سب سے پہلے طَلْحَةُ جن کا ہاتھ شل تھا  نے بیعت کی

یہ روایت ہمارے مورخین ابن کثیر وغیرہ نے لکھی ہے جبکہ یہ جھوٹ کا درخت ہے- علی رضی الله عنہ  نہ تو کہیں چھپے تھے بلکہ وہ ان سب باغیوں کو عید کی نماز پڑھا چکے تھے

الأم از امام  الشافعي  المكي (المتوفى: 204هـ) کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ: شَهِدْنَا الْعِيدَ مَعَ عَلِيٍّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ.

ابْنِ أَزْهَرَ سے مراد عبد الرحمن بن أزهر الزهري، صحابي صغير، مات قبل الحرة. (التقريب ص 336) .

ابی عبید سعد بن عبيد الزهري، ثقة من الثانية، وقيل: له إدراك. (التقريب ص 231)

موطا کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ….فَقَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ

ابِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہتے ہیں ہم نے عید علی کے ساتھ دیکھی اور عثمان محصور تھے پس علی نے نماز پڑھائی پھر پلٹے اور خطبہ دیا

کتاب  تاريخ الإسلام از الذھبی کے مطابق

يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: اسْتَعْمَلَ عُثْمَانُ عَلَى الْحَجِّ وَهُوَ مَحْصُورٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَلَمَّا صَدَرَ عَنِ الْمَوْسِمِ إِلَى الْمَدِينَةِ، بَلَغَهُ وَهُوَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَتْلُ عُثْمَانَ

یونس بن یزید نے کہا عثمان نے ابن عباس کو حج پر امیر مقرر کیا اور وہ محصور تھے … وہ رستے ہی میں تھے کہ قتل عثمان کی خبر ملی

 أنساب الأشراف کے مطابق

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ:
عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، قَالَ: قُتِلَ عُثْمَانُ وَعَلِيٌّ بِأَرْضٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا: الْبُغَيْبِغَةُ فَوْقَ الْمَدِينَةِ بِأَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ، فَأَقْبَلَ عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: لَتُنَصِّبَنَّ لَنَا نَفْسَكَ أَوْ لَنَبْدَأَنَّ بِكَ، فَنَصَّبَ لَهُمْ نَفْسَهُ فَبَايَعُوهُ.

جس روز عثمان کا قتل ہوا اس روز علی مدینہ سے چار فرسخ دور الْبُغَيْبِغَةُ میں تھے

طلحہ اور زبیر رضی الله عنہما  بھی اس وقت مدینہ میں نہیں تھے یہ دونوں مکہ میں تھے – اور ان کو شہادت عثمان رضی الله عنہ کی خبر رستے میں ملی اور مدینہ پہنچنے کی بجائے ان لوگوں نے اور قریشیوں کے ساتھ بصرہ کا رخ کیا-

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ، وَدَفَنَهُ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ

قتادہ سے روایت ہے کہ  زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ نے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی تدفین کی۔

 شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں روایت منقطع ہے  قتادہ نے عثمان  کو نہیں پایا

 قتادة لم يدرك عثمان

 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ:أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ .
عثمان رضی الله عنہ کا قتل ایام تشریق کے وسط میں ہوا

مسند احمد کی اس  روایت  کو صحیح کہا گیا ہے

باغیوں  کا مطالبہ  یہ تھا کہ عثمان خلافت چھوڑ کر اس سے دور ہو جائیں لیکن عثمان رضی الله عنہ نے اس سے انکار کر دیا – باغی واپس جانے والے نہیں تھے حج بھی ختم ہو رہا تھا ان کا اضطراب بڑھ رہا تھا دوسری طرف یہ خبر حاجیوں کو مل گئی تھی کہ مدینہ میں کیا تماشہ ہو رہا ہے لہذا اصحاب رسول  جن میں اکثریت قریشیوں کی ہے انہوں نے ان مصری و یمننیوں کو  روکنے کا قصد کیا – ابھی راستہ میں ہی تھے کہ عثمان  کے قتل کی خبر ملی اور یہ  خبر بھی کہ علی نے باغیوں کی افر قبول کر لی ہے اور اب وہ امام بن گئے ہیں – یہ  خبر اس قبولیت عامہ کے خلاف تھی جس کے مطابق عوام کا میلان زبیر بن العوام رضی الله عنہ کی طرف تھا- لہذا یہ علی نے بد نیتی سے کیا یا وقت کی کروٹ نے ان کو خلیفہ کیا واضح نہیں تھا – اس گروہ نے بصرہ کا رخ کیا اور یہ لشکر مدینہ نہیں گیا – علی کو اس لشکر کی خبر ہوئی ان کے نزدیک صورت حال تیزی سے بدل رہی تھی لھذا انہوں نے حسن رضی الله عنہ کو بھیجا کہ وہ اشتعال پھیلنے سے روک دیں لیکن اب پانی سر سے اوپر جا چکا تھا- دونوں گروہوں میں اختلاف شدید تھا یہاں تک کہ ابن عمر رضی الله عنہ نے  جو  مدینہ میں ہی تھے  علی رضی الله عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا

اب اس تمام صورت الحال میں دونوں گروہ اصحاب رسول کے ہیں – ان کو الله آزما چکا ہے لہذا ان پرمنفی کلام ممنوع ہے

ان روایات کو اس بلاگ میں اس لئے جمع کیا گیا تاکہ جو ہوا اور جیسے ہوا اس کو سمجھا جائے اس کا مقصد نہ علی رضی الله عنہ  کی حمایت ہے نہ عثمان  رضی الله عنہ کی بلکہ امت فرقوں میں میں کیسے بٹی  اس کی تفصیل ہے

مزید دیکھئے

⇑  کیا جنگ جمل میں اصحاب رسول نے شرکت نہیں کی ؟

تاریخ

تدفین پر ابہام

ابن جوزی نے اپنی کتاب تلقيح فهوم أهل الأثر میں لکھا کیا

 وَكَانَ يَوْمئِذٍ صَائِما وَدفن لَيْلَة السبت بِالبَقِيعِ فِي حش كَوْكَب والحش الْبُسْتَان وكوكب رجل من الْأَنْصَار وأخفي قَبره وَفِي سنه ثَلَاثَة أَقْوَال أَحدهَا تسعون وَالثَّانِي ثَمَان وَثَمَانُونَ وَالثَّالِث اثْنَان وَثَمَانُونَ وَقيل لم يبلغ الثَّمَانِينَ وَقَالَ عُرْوَة مكث عُثْمَان فِي حش كَوْكَب مطروحا ثَلَاثًا لَا يُصَلِّي عَلَيْهِ حَتَّى هتف بهم هَاتِف ادفنوه وَلَا تصلوا عَلَيْهِ فَإِن الله قد صلى عَلَيْهِ وَاخْتلفُوا فِيمَن صلى عَلَيْهِ فَقيل الزبير وَقيل حَكِيم بن حزَام وَقيل جُبَير بن مطعم

http://shamela.ws/browse.php/book-6700#page-71

اور قتل کے دن عثمان رضی الله عنہ روزے سے تھے اور ہفتہ کی رات میں بقیع  میں حش کوکب میں دفن ہوئے انصار کی جانب سے اور ان کی قبر کو تین سال مخفی رکھا گیا اور ایک قول ہے ٩١ ہجری تک اور دوسرا ہے سن ٨٨ ہجری تک اور تیسرا ہے سن ٨٠ ہجری تک اور عروه نے کہا تین دن تک عثمان کی لاشحش کوکب میں کھلی پڑی رہی یہاں تک کہ ہاتف غیبی نے آواز دی کہ اس کو دفن کرو اور اس پر نماز مت پڑھو کیونکہ اس پر سلامتی من جانب  الله تعالی  ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ کس نے نماز جنازہ پڑھائی زبیر نے یا حکیم بن حزام نے یا جبیر نے

طبرانی اور دیگر اہلسنت بھی کچھ ایسا ہی روایت کرتے ہیں

حدثنا عَمْرُو بن أبي الطَّاهِرِ بن السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ثنا عبد الرحمن بن عبد اللَّهِ بن عبد الْحَكَمِ ثنا عبد الْمَلِكِ الْمَاجِشُونُ قال سمعت مَالِكًا يقول قُتِلَ عُثْمَانُ رضي اللَّهُ عنه فَأَقَامَ مَطْرُوحًا على كُنَاسَةِ بني فُلانٍ ثَلاثًا فَأَتَاهُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلا فِيهِمْ جَدِّي مَالِكُ بن أبي عَامِرٍ وَحُوَيْطِبُ بن عبد الْعُزَّى وَحَكِيمُ بن حِزَامٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ وَعَائِشَةُ بنتُ عُثْمَانَ مَعَهُمْ مِصْبَاحٌ في حِقٍّ فَحَمَلُوهُ على بَابٍ وَإِنَّ رَأْسَهُ يقول على الْبَابِ طَقْ طَقْ حتى أَتَوْا بِهِ الْبَقِيعَ فَاخْتَلَفُوا في الصَّلاةِ عليه فَصَلَّى عليه حَكِيمُ بن حِزَامٍ أو حُوَيْطِبُ بن عبد الْعُزَّى شَكَّ عبد الرحمن ثُمَّ أَرَادُوا دَفْنَهُ فَقَامَ رَجُلٌ من بني مَازِنٍ فقال وَاللَّهِ لَئِنْ دَفَنْتُمُوهُ مع الْمُسْلِمِينَ لأُخْبِرَنَّ الناس فَحَمَلُوهُ حتى أَتَوْا بِهِ إلى حَشِّ كَوْكَبٍ فلما دَلُّوهُ في قَبْرِهِ صَاحَتْ عَائِشَةُ بنتُ عُثْمَانَ فقال لها بن الزُّبَيْرِ أسكتي فَوَاللَّهِ لَئِنْ عُدْتِ لأَضْرِبَنَّ الذي فيه عَيْنَاكِ فلما دَفَنُوهُ وَسَوَّوْا عليه التُّرَابَ قال لها بن الزُّبَيْرِ صِيحِي ما بَدَا لَكِ أَنْ تَصِيحِي قال مَالِكٌ وكان عُثْمَانُ بن عَفَّانَ رضي اللَّهُ عنه قبل ذلك يَمُرُّ بِحُشٍّ كَوْكَبٍ فيقول لَيُدْفَنَنَّ ها هنا رَجُلٌ صَالِحٌ.

عبد الْمَلِكِ الْمَاجِشُونُ نے کہا کہ امام مالک نے کہا قتل عثمان کے بعد ان کو کھلا چھوڑ دیا بنی فلاں کے کناسہ میں تین دن پھر بارہ مرد گئے جن میں مالک بن ابی آمر اور حُوَيْطِبُ بن عبد الْعُزَّى وَحَكِيمُ بن حِزَامٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ وَعَائِشَةُ بنتُ عُثْمَانَ  تھے

الطبراني، ابوالقاسم سليمان بن أحمد بن أيوب (متوفاى360هـ)، المعجم الكبير، ج 1، ص78، ح109، تحقيق: حمدي بن عبدالمجيد السلفي، ناشر: مكتبة الزهراء – الموصل، الطبعة: الثانية، 1404هـ – 1983م.
التميمي، أبو العرب محمد بن أحمد بن تميم بن تمام (متوفاى333هـ )، المحن، ج 1، ص87، تحقيق : د عمر سليمان العقيلي، ناشر : دار العلوم – الرياض – السعودية، الطبعة : الأولى، 1404هـ – 1984م؛
الأصبهاني، ابو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفاى430هـ)، معرفة الصحابة، ج 1، ص68، طبق برنامه الجامع الكبير.
ابن عبد البر النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفاى 463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 3، ص1047، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل – بيروت، الطبعة: الأولى، 1412هـ؛
المزي، ابوالحجاج يوسف بن الزكي عبدالرحمن (متوفاى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 19، ص225، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م؛
العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابوالفضل (متوفاى852هـ)، تلخيص الحبير في أحاديث الرافعي الكبير، ج 2، ص145، تحقيق السيد عبدالله هاشم اليماني المدني، ناشر: – المدينة المنورة – 1384هـ – 1964م.

هيثمى نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: الْحُشُّ: الْبُسْتَانُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

 راقم کہتا ہے یہ قول صحیح نہیں ہے  کیونکہ زبیر رضی الله عنہ اس وقت مدینہ میں نہیں مکہ میں تھے اور ممکن ہے کہ بلوائیوں کی جانب سے ایسا کیا گیا ہو لیکن یہ صحیح سند سے نہیں آیا جس کو متصل سمجھا جائے

امام طبری اپنی کتاب تاریخ طبری میں بھی لکھتے ہیں کہ

ذكر الخبر عن الموضع الَّذِي دفن فِيهِ عُثْمَان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ومن صلى عَلَيْهِ وولي أمره بعد مَا قتل إِلَى أن فرغ من أمره ودفنه

حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عبد الله المحمدي، قال: حدثنا عمرو بن حماد وعلى ابن حُسَيْن، قَالا: حَدَّثَنَا حُسَيْن بن عِيسَى، عَنْ أبيه، عن أبي ميمونة، عن أبي بشير العابدي، قَالَ: نبذ عُثْمَان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثلاثة أيام لا يدفن، ثُمَّ إن حكيم بن حزام القرشي ثُمَّ أحد بني أسد بن عبد العزى، وجبير بن مطعم بن عدي بن نوفل بن عبد مناف، كلما عَلِيًّا فِي دفنه، وطلبا إِلَيْهِ أن يأذن لأهله فِي ذَلِكَ، ففعل، وأذن لَهُمْ علي، فلما سمع بِذَلِكَ قعدوا لَهُ فِي الطريق بالحجارة، وخرج بِهِ ناس يسير من أهله، وهم يريدون بِهِ حائطا بِالْمَدِينَةِ، يقال لَهُ: حش كوكب، كَانَتِ اليهود تدفن فِيهِ موتاهم، فلما خرج بِهِ عَلَى الناس رجموا سريره، وهموا بطرحه، فبلغ ذَلِكَ عَلِيًّا، فأرسل إِلَيْهِم يعزم عَلَيْهِم ليكفن عنه، ففعلوا، فانطلق حَتَّى دفن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حش كوكب، فلما ظهر مُعَاوِيَة بن أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الناس أمر بهدم ذَلِكَ الحائط حَتَّى أفضى بِهِ إِلَى البقيع، فأمر الناس أن يدفنوا موتاهم حول قبره حَتَّى اتصل ذَلِكَ بمقابر الْمُسْلِمِينَ.

أبي بشير العابدي نے کہا عثمان تین دن تک دفن نہ ہوئے پھر حکیم بن حزام نے اور نبی اسد میں سے کوئی اور جبیر بن معطم نے علی سے تدفین پر کلام کیا اور ان سے اجازت لی کہ صرف ان کے گھر والے ہی ان کو دفن کریں پس ایسا کیا گیا اور علی نے جازت دی پس اس پر راستہ میں پتھر ڈالے گئے اور بہت تھوڑے گھر والوں میں سے نکلے اور انہوں نے مدینہ کا ایک باغ لیا جس کو حش کوکب کہا جاتا تھا اس میں یہودی اپنے مردوں کو دفن کرتے تھے پس جب یہ لوگ نکلے تو لوگوں نے عثمان کے جنازہ پر پتھر برسائے اور اس کی خبر علی کو دی گئی پس انہوں نے لوگ بھیجے جنہوں نے عثمان کو کفن دیا اور پھر یہ لوگ حش کوکب تک پہنچے  تو وہاں دفن ہوئے پس جب معاویہ خلیفہ ہوئے انہوں نے اس قبر کو منہدم کیا  عثمان کو بقیع منتقل کیا  جو مسلمانوں کا مقابر تھا

سند میں أبو ميمونة اور أبي بشير العابدي دونوں   مجہول ہیں

This entry was posted in history. Bookmark the permalink.

Comments are closed.