فرشتوں کو پکارنا

الله تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے- انبیاء کی خبریں دیں کی انہوں نے مصیبت و پریشانی میں صرف الہ واحد کو پکارا

مشرکین مکہ اس کے برعکس فرشتوں کو پکارتے ان کو عورت کی شکل میں رکھتے یعنی لات عزی اور منات

قرآن کہتا ہے

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى إِنْ هِيَ إِلا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بهَا من سُلْطَان

کیا تم نے اللَّاتَ، َالْعُزَّى اور ایک اور  تیسری  مَنَاةَ کو دیکھا؟ کیا تمہارے لئے تو ہوں لڑکے اور اس کے لئے لڑکیاں؟ یہ تو بڑی غیر منصفانہ تقسیم ہوئی! یہ تو صرف چند نام ہیں، جو تم نے اور تمہارے اباؤ اجداد نے رکھ دیے ہیں، الله کی طرف سے ان پر  کوئی سند نہیں اتری

اللات  طائف میں، العُزَّى مکہ میں اور مَنَاة مدینہ میں عربوں کی خاص دیویاں تھیں

الكلبي (المتوفى: 204هـ) کی کتاب الاصنام میں ہے

عرب طواف میں پکارتے

 وَاللاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الأُخْرَى … فَإِنَّهُنَّ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شفاعتهن لَتُرْتَجَى

اور اللاتِ اور الْعُزَّى اور ایک اور تیسری مَنَاةَ

یہ تو بلند  پرند نما حسین (دیویاں) ہیں اور بے شک ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے

کتاب غریب الحدیث از ابن الجوزی کے مطابق

تِلْكَ الغرانيق الْعلَا قَالَ ابْن الْأَعرَابِي الغرانيق الذُّكُور من الطير
وَاحِدهَا غرنوق وغرنيق وَكَانُوا يدعونَ أَن الْأَصْنَام تشفع لَهُم فشبهت بالطيور الَّتِي ترْتَفع إِلَى السَّمَاء وَيجوز أَن تكون الغرانيق جمع الغرانق وَهُوَ الْحسن

یہ تو بلند غرانیق ہیں – ابن الاعرابی کہتے ہیں غرانیق سے مراد نر پرندے ہیں جن کا واحد  غرنوق ہے اور غرنيق  ہے یہ مشرکین ان ( دیویوں) کو اس نام سے اس لئے پکارتے تھے کیونکہ یہ بت ان کے لئے شفاعت کرتے اور(نر) پرندے بن کر جاتے جو آسمان میں بلند ہوتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد حسن ہو

تاج العروس اور غریب الحدیث از ابن قتیبہ  میں  کہا گیا ہے  کہ غرانیق سے مراد

طيور الماء طويلة العنق

پانی کے پرندے ہیں جن کی طویل گردن ہوتی ہے

 اردو میں ان کو بگلا کہتے ہیں مشرکین نے فرشتوں کو بگلے بنا دیا اور پھر ان کو دیوی کہا

 قرآن میں ایک مقام پر فرمان باری تعالیٰ ہے  

  وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ 

(فاطر 13 – 14)

 اور جن لوگوں کو یہ مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کھجور کی گٹھلی کے باریک غلاف کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمہاری مراد پوری نہیں کر سکتے اور قیامت کے روز یہ لوگ تمہارے شرک سے لاعلمی کا اظہار کریں گے اور آپ کو (اللہ) خبیر کی طرح کوئی خبر نہیں دے سکتا

اس کے برعکس ایک روایت کو امت میں صحیح قرار دے کر فرشتوں کو پکارنے کا جواز پیدا کیا گیا ہے

یہ روایت مسند البزار بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ بِأَرْضٍ فَلاةٍ 3128 میں بیان ہوئی ہے

– حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” إِنَّ للَّهِ مَلائِكَةً فِي الأَرْضِ، سِوَى الْحَفَظَةِ، يَكْتُبُونَ مَا يَسْقُطُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ، فَإِذَا أَصَابَ أَحَدُكُمْ عَرْجَةً، بِأَرْضٍ فَلاةٍ، فَلْيُنَادِ: أَعِينُوا، عِبَادَ اللَّهِ “.

قَالَ الْبَزَّارُ: لا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إن لله ملائكة في الأرض سوی الحفظة، يكتبون ا سقط من ورق الشجر، فإذا أصاب أحدكم عرجة بأرض فلاة، فليناد : أعينوا عبادالله.
زمین میں حفاظت والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو درختوں کے گرنے والے پتوں کو لکھتے ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو ویرانے میں چلتے ہوئے پاؤں میں موچ آ جائے تو وہ کہے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔

الْبَزَّارُ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ اس کو نبی علیہ السلام سے کسی نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہو سوائے اس سند سے

راقم کہتا ہے یہ سند ضعیف ہے

أبان بن صالح بن عمير القرشي نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے – سند میں حاتم بن إسماعيل   المدني بھی ہے جس کو  ثقة مشهور صدوق بھی کہا گیا ہے اور نسائی کی جانب سے ليس بالقوى  قوی نہیں بھی کہا گیا ہے – إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از  مغلطاي میں ہے

ذكره ابن خلفون في «الثقات» قال: قال أبو جعفر البغدادي: سألت أبا عبد الله عن حاتم بن إسماعيل فقال: ضعيف.

ابن خلفؤن نے اس کا ذکر ثقات میں کیا ہے اور أبو جعفر البغدادي نے کہا میں نے امام ابو عبد الله (یعنی امام احمد)  سے اس کے بارے میں پوچھا تو کہا ضعیف ہے

سوال ہے کہ کیا فرشتوں کو مدد کے لئے پکارا جا سکتا ہے ؟ یہ تو مشرکین مکہ کا عمل تھا وہ دیویوں کو فرشتے

سمجھ کر ان کو پکارتے تھے

فرشتوں سے مدد مانگنا کیا الله سے مدد مانگنے کے مترادف ہے ؟ میرے علم میں یہ تو  شرک ہے

افسوس ایک اہل حدیث عالم غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری اس کے برعکس اس حدیث سے فرشتوں کی پکار کو ثابت کرتے ہیں

وسیلے کی ممنوع اقسام کےدلائل کا تحقیقی جائزہ (2)

البتہ اگر ان میں مذکور ’’عباداللہ“ سے مراد فرشتے لیے جائیں تو صحیح حدیث سے ان کی تائید ہو جائے گی، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
إن لله ملائكة في الأرض سوی الحفظة، يكتبون ا سقط من ورق الشجر، فإذا أصاب أحدكم عرجة بأرض فلاة، فليناد : أعينوا عبادالله. 
’’زمین میں حفاظت والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو درختوں کے گرنے والے پتوں کو لکھتے ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو ویرانے میں چلتے ہوئے پاؤں میں موچ آ جائے تو وہ کہے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔“ (كشف الأستار عن زوائد البزار:3128/1، وسنده حسن) 

 حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
رجاله ثقات. ’’اس کے سارے راوی ثقہ ہیں۔“ (مجمع الزوائد:32/10) 

 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ھذا حديث حسن الإسناد، غريب جدا . 
’’اس کی سند حسن ہے لیکن یہ انوکھی روایت ہے۔“ (مختصر زوائد البزار:120/2، شرح ابن علان علي الأذكار:15/5) 

علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
إنما هم الملائكة، فلا يجوز أن يلحق بهم المسلمون من الجن أو الإنس ممن يسمونهم برجال الغيب من الأولياء والصالحين، سواء كانوا أحياء أو أمواتا، فإن الاستغاثة بهم وطلب العون منهم شرك بين لأنهم لا يسمعون الدعاء، ولوسمعوا لما استطاعوا الاستجابة وتحقيق الرغبة، وهذا صريح في آيات كثيرة، منها قوله تبارك وتعالى : ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ.﴾ (فاطر 13 – 14) 
’’اس حدیث میں اللہ کے بندوں سے مراد صرف فرشتے ہیں۔ ان کے ساتھ مسلمان جنوں اور ان اولیاء اور صالحین کو ملانا جنہیں غیبی لوگ کہا جاتا ہے، جائز نہیں، خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت ہو گئے ہوں۔ ان جنوں اور انسانوں سے مدد طلب کرنا واضح شرک ہے کیونکہ وہ پکارنے والے کی پکار کو سن نہیں سکتے۔ اگر وہ سن بھی لیں تو اس کا جواب دینے یا حاجت روائی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں۔ ایک مقام پر فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾ (فاطر 13 – 14) ”اور جن لوگوں کو یہ مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کھجور کی گٹھلی کے باریک غلاف کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمہاری مراد پوری نہیں کر سکتے اور قیامت کے روز یہ لوگ تمہارے شرک سے لاعلمی کا اظہار کریں گے اور آپ کو (اللہ) خبیر کی طرح کوئی خبر نہیں دے سکتا۔“ (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرھا السيء في الأمة:111/2، ح:655) 

http://shamela.ws/browse.php/book-12762/page-986

 یعنی اس حدیث میں ماتحت الاسباب مدد مانگنے کا بیان ہے، کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے وہاں ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نیک بندوں کی اعانت پر مامور کر رکھا ہے۔

راقم کہتا ہے البانی کا قول کہ اس سے مراد فرشتے ہیں اس کی حماقت ہے – یہ حدیث ضعیف و منکر ہے

اپنی اس غلط بات کو کہ فرشتوں سے مدد لی جا سکتی ہے غلام مصطفی  نے امام احمد سے بھی دلیل لی ہے

کتاب مسائل الإمام أحمد لابنه عبدالله میں ہے امام احمد کے بیٹے عبد الله نے بیان کیا کہ ان کے باپ احمد بن حنبل نے کہا

حَدثنَا قَالَ سَمِعت ابي يَقُول حججْت خمس حجج مِنْهَا ثِنْتَيْنِ رَاكِبًا وَثَلَاثَة مَاشِيا اَوْ ثِنْتَيْنِ مَاشِيا وَثَلَاثَة رَاكِبًا فضللت الطَّرِيق فِي حجَّة وَكنت مَاشِيا فَجعلت اقول يَا عباد الله دلونا على الطَّرِيق فَلم ازل اقول ذَلِك حَتَّى وَقعت الطَّرِيق اَوْ كَمَا قَالَ ابي

میرے باپ نے کہا میں نے پانچ حج کیے جن میں دو سواری پر اور تین چل کر کیے  یا کہا تین سواری پر  اور دو پیدل – تو مجھ پر حج کا  راستہ کھو گیا اور میں پیدل چل رہا تھا تو میں نے کہنا شروع کر دیا

اللہ کے بندو ! مجھے راستہ بتاؤ۔ میں مسلسل کہتا رہا حتی کہ صحیح راستے پر آ گیا – ایسا میرے باپ نے کہا

اس کو البانی نے بھی بیان کیا

أن حديث ابن عباس الذي حسنه الحافظ كان الإمام أحمد يقويه، لأنه قد عمل به 

حدیث ابن عباس جس کو حافظ ابن حجر نے حسن قرار دیا ہے اس کو امام احمد نے قوی کیا ہے کیونکہ وہ اس پر عمل کرتے تھے

مزید براں البانی نے بھی اس کو منکر نہیں بلکہ حسن کہا

قلت: وهذا إسناد حسن كما قالوا

میں البانی کہتا ہیں یہ اسناد حسن ہیں جیسا انہوں نے کہا 

http://shamela.ws/browse.php/book-12762/page-986

راقم کہتا ہے مدد و پکار صرف الله کا حق ہے – مصیبت میں الله ہی کو پکارا جائے  

افسوس امام احمد کے نزدیک راوی  حاتم بن إسماعيل ضعیف تھا لیکن وہ اس ضعیف حدیث پر عمل کرتے تھے کیونکہ ان کا خود کا قول تھا کہ ضعیف سے دلیل لو

عبد اللہ بن احمد اپنے باپ  احمد سے  کتاب السنہ میں  نقل کرتے  ہیں

http://shamela.ws/browse.php/book-323/page-199

سَأَلْتُ أَبِي رَحِمَهُ الله عَنِ الرَّجُلِ، يُرِيدُ أَنْ يَسْأَلَ، عَنِ الشَّيْءِ، مِنْ أَمْرِ دِينِهِ مَا يُبْتَلَى بِهِ مِنَ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ فِي حَضْرَةِ قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ الرَّأْي وَمِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ لَا يَحْفَظُونَ وَلَا يَعْرِفُونَ الْحَدِيثَ الضَّعِيفَ الْإِسْنَادِ وَالْقَوِيَّ الْإِسْنَادِ فَلِمَنْ يَسْأَلُ، أَصْحَابَ الرَّأْي أَوْ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ عَلَى مَا كَانَ مِنْ قِلَّةَ مَعْرِفَتِهِمْ؟ [ص:181] قَالَ: يَسْأَلُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ وَلَا يَسْأَلُ أَصْحَابَ الرَّأْي، الضَّعِيفُ الْحَدِيثِ خَيْرٌ مِنْ رَأْي أَبِي حَنِيفَةَ

میں نے اپنے باپ سے اس آدمی کے بارے میں  پوچھا جو دین کے کسی کام پر جس سے ایمان برباد نہ ہو جسے طلاق یا دیگر پر اصحاب رائے کے پاس جائے یا ان اصحاب حدیث کے پاس جائے جو حدیث کو صحیح طرح یاد نہیں رکھتے اور قوی الاسناد کو ضعیف الاسناد سے جدا نہیں کر پاتے  تو ان دونوں میں سے کس سے سوال کرے اصحاب رائے سے یا قلت معرفت والے اصحاب حدیث سے   امام احمد نے کہا  اصحاب حدیث سے سوال کرے اور اصحاب رائے سے نہیں ایک ضعیف حدیث ابو حنیفہ کی رائے سے بہتر ہے

اس قسم کی ایک روایت  عتبَة بن غَزوَان  سے بھی مروی ہے جو المعجم الكبير از طبرانی میں ہے

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا أَوْ أَرَادَ أَحَدُكُمْ عَوْنًا وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ، فَلْيَقُلْ: يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ ” وَقَدْ جُرِّبَ ذَلِكَ

زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ نے کہا عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ نے نبی علیہ السلام سے روایت کیا کہ فرمایا جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز کھو جائے یا کوئی مدد طلب کرے جو ایسی زمین میں ہے جہاں کوئی دوست نہ ہو تو پس کہے اے الله کے بندوں مدد کرو اے عباد الله مدد کرو کیونکہ عباد الله نظر نہیں آتے- اورمیں (طبرانی) نے بھی اس کو آزمایا  ہے

افسوس امام  سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (المتوفى: 360هـ) نے بھی اس بد عقیدگی کو پھیلایا

اس کا ذکر الشوکانی نے  تحفة الذاكرين بعدة الحصن الحصين من كلام سيد المرسلين  میں کیا ہے

حَدِيث عتبَة بن غَزوَان عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ إِذا ضل على أحدكُم شَيْء وَأَرَادَ أحدكُم عونا وَهُوَ بِأَرْض فلاة لَيْسَ بهَا أحد فَلْيقل يَا عباد الله أعينوا يَا عباد الله أعينوا يَا عباد الله أعينوا فَإِن لله عباد لَا يراهم قَالَ فِي مجمع الزَّوَائِد وَرِجَاله وثقوا على ضعف فِي بَعضهم إِلَّا أَن زيد بن عَليّ لم يدْرك عتبَة

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد أز  أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (المتوفى: 807هـ) میں لکھتے ہیں

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ عُتْبَةَ.

اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے اس کے رجال ثقہ ہیں جن میں بعض میں کمزوری ہے الا یہ کہ زید بن علی  نے

عُتْبَة کو نہیں پایا

افسوس شوکانی نے اس کے باوجود لکھا

وَفِي الحَدِيث دَلِيل على جَوَاز الِاسْتِعَانَة بِمن لَا يراهم الْإِنْسَان من عباد الله من الْمَلَائِكَة وصالحي الْجِنّ وَلَيْسَ فِي ذَلِك بَأْس كَمَا يجوز للْإنْسَان أَن يَسْتَعِين ببني آدم إِذا عثرت دَابَّته أَو انفلتت

اس حدیث سے دلیل ہے ان سے مدد کے جواز کی جو الله کے بندے نظر نہ آتے ہوں  فرشتوں میں سے یا صالح جنوں میں سے اس میں کوئی برائی نہیں ہے جیسا یہ جائز ہے کہ انسان بنی آدم سے مدد لے جب اس کا جانور مر جائے یا کھو جائے

غیر مقلد شوکانی نے قریب  ٢٠٠ سال پہلے  یہ بھی لکھا

قلت وَحكى لي بعض شُيُوخنَا الْكِبَار فِي الْعلم أَنَّهَا انفلتت دَابَّته أظنها بغلة وَكَانَ يعرف هَذَا الحَدِيث فقاله فحبسها الله عَلَيْهِ فِي الْحَال وَكنت أَنا مرّة مَعَ جمَاعَة فانفلتت مَعنا بَهِيمَة فعجزوا عَنْهَا فقلته فوقفت فِي الْحَال بِغَيْر سَبَب

میں کہتا ہوں مجھ سے حکایت کیا ہمارے علم کے اکابر شیوخ نے کہ اگر جانور کھو جائےیہ حدیث معلوم ہو تو ان (الفاظ کو) کہے پس الله کافی ہو گا  اور ایک بار میں ایک جماعت میں تھے ہمارا جانور کھو گیا ہم عاجز ہو گئے پس ہم نے یہ کہا تو مل گیا بلا سبب کے

اصل میں یہ الفاظ امام النووی  (المتوفى: 676هـ) کے ہیں جو انہوں نے الاذکار میں لکھے ہیں

روينا في كتاب ابن السني، عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “إذَا انْفَلَتَتْ دابَّةُ أحَدِكُمْ بأرْضِ فَلاةٍ فَلْيُنادِ: يا عِبادَ الله! احْبِسُوا، يا عِبادَ اللَّهِ! احْبِسُوا، فإنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ في الأرْضِ حاصِرًا سَيَحْبِسُهُ”. قلت: حكى لي بعض شيوخنا الكبار في العلم أنه افلتت له دابّة أظنُّها بغلة، وكان يَعرفُ هذا الحديث، فقاله؛ فحبسَها الله عليهم في الحال. وكنتُ أنا مرّةً مع جماعة، فانفلتت منها بهيمةٌ وعجزوا عنها، فقلته، فوقفت في الحال بغيرِ سببٍ سوى هذا الكلام.

کتاب ذم الكلام وأهله از  أبو إسماعيل عبد الله بن محمد بن علي الأنصاري الهروي (المتوفى: 481هـ) میں ہے کہ عبد الله بن مبارک  نے اس روایت کی سند سفر میں دیکھی

وَضَلَّ ابْنُ الْمُبَارَكِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي طَرِيقٍ وَكَانَ قَدْ بَلَغَهُ أَنَّ مَنِ اضْطُرَّ فِي مَفَازَةٍ فَنَادَى عِبَادَ اللَّهِ أَعِينُونِي أُعِينَ قَالَ

فَجَعَلْتُ أَطْلُبُ الْجُزْءَ أَنْظُرُ إِسْنَادَهُ

. قال الهروي: فلم يستجز أن يدعو بدعاء لا يرى إسناده

اور ابن مبارک پر رستہ کھو گیا ان کے سفروں میں سے ایک میں اور ان کو پہنچا ہوا تھا کہ جو مصیبت میں ہو وہ پکارے اے الله کے بندوں میری مدد کرو اس کی مدد ہو گی کہا انہوں نے جز طلب کیا کہ اس کی سند دیکھیں 

   الهروي نے کہا : پس انہوں نے دعا نہ کی جس کی سند انہوں نے نہ دیکھی ہو  

وہابی عالم محمد صالح المنجد کہتے ہیں

 لأنهما صريحان بأن المقصود بـ ” عباد الله ” فيهما خلقٌ من غير البشر بدليل قوله في الحديث الأول : (فإن لله في الأرض حاضراً سيحبسه عليهم) ، و قوله في هذا الحديث : (فإن لله عبادا لا نراهم) . وهذا الوصف إنما ينطبق على الملائكة أو الجن ؛ لأنهم الذين لا نراهم عادة … فلا يجوز أن يُلحَق بهم المسلمون من الجن أو الإنس ممن يسمونهم برجال الغيب من الأولياء والصالحين ، سواء كانوا أحياء أو أمواتا ، فإن الاستغاثة بهم وطلب العون منهم شرك بيِّن ؛ لأنهم لا يسمعون الدعاء ، ولو سمعوا لما استطاعوا الاستجابة وتحقيق الرغبة .

https://islamqa.info/ar/132642

اس میں صریحا ہے کہ عباد الله سے مقصود اس میں وہ مخلوق ہے جو غیر بشری ہے قول حدیث اول ہے کہ الله کے لئے زمین میں  حاضر رہتے ہیں جو حساب کرتے ہیں اور قول حدیث میں ہے کہ عباد الله کو نہیں دیکھا جا سکتا اور یہ وصف صرف فرشتوں اور جنات پر ہی  منطبق کیا جا سکتا ہے کہ ان کو عادت (جاری) میں نہیں دیکھا جا سکتا … پس یہ جائز نہیں کہ اس میں جن و انس کے  مسلمانوں ، اولیاء و الصالحین میں سے ، برابر ہے کہ زندہ ہوں یا مردہ کو بھی فرشتوں سے  ملا دیا جائے  جن کو رجال الغیب کا نام دیا گیا ہے  ، کیونکہ اس سے مدد طلب کرنا  واضح شرک ہے کیونکہ یہ پکار نہیں سنتے اگر سن لیں تو جواب نہیں دے سکتے 

دور جدید کے غیر مقلد   البانی سلسلة الأحاديث الضعيفة : 108/2، 109، ح655 میں کہتے ہیں

العبادات لا تؤخذ من التجارب، سيما ما كان منھا في أر غيي كھذا الحديث، فلا يجوز الميل الي تصحيحه، كيف وقد تمسك به بعضھم في جواز الاستغاثه بالموتي عند الشدائد، وھو شرك خالص، والله المستعان ! 
 عبادات تجربوں سے اخذ نہیں کی جا سکتیں، خصوصاً ایسی عبادات جو کسی غیبی  امر کے بارے میں ہوں، جیسا کہ یہ حدیث ہے، لہٰذا تجربے کی بنیاد پر  اس کو صحیح قرار دینے کی طرف میلان  کرنا جائز نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے، جب کہ بعض لوگوں نے اس سے مصیبتوں پر مرنے والوں سے مدد مانگنے پر بھی استدلال کیا ہے۔ یہ خالص شرک ہے، اللہ محفوظ فرمائے   

راقم کہتا ہے البانی کی یہ بات صحیح ہے البتہ اہل حدیث کا دین میں عقائد میں ارتقاء جاری ہے

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

5 Responses to فرشتوں کو پکارنا

  1. وجاہت says:

    بہت علمی تھریڈ آپ نے بنایا – بہت سارے لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہوں گی

    بس ایک گزارش ہے آپ سے کہ آپ جو حوالے دیتے ہیں ساتھ ساتھ ان کے لنک بھی دے دیا کریں تا کہ اگر کوئی دیکھنا چایے تو آسانی سے دیکھ سکے – ہر بندہ حوالے نہیں ڈھونڈ سکتا – اس وجہ سے آپ سے کہا – امید ہے کہ آپ اس تھریڈ میں بھی حوالے شامل کر دیں گے – حوالے سے مراد لنک ہے – کتابوں کے لنک اور متعلقہ پیج بھی جیسے مکتبہ شاملہ کا پیج کا لنک

    جیسے آپ نے لکھا

    علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

    إنما هم الملائكة، فلا يجوز أن يلحق بهم المسلمون من الجن أو الإنس ممن يسمونهم برجال الغيب من الأولياء والصالحين، سواء كانوا أحياء أو أمواتا، فإن الاستغاثة بهم وطلب العون منهم شرك بين لأنهم لا يسمعون الدعاء، ولوسمعوا لما استطاعوا الاستجابة وتحقيق الرغبة، وهذا صريح في آيات كثيرة، منها قوله تبارك وتعالى : ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ.﴾ (فاطر 13 – 14)

    ’’اس حدیث میں اللہ کے بندوں سے مراد صرف فرشتے ہیں۔ ان کے ساتھ مسلمان جنوں اور ان اولیاء اور صالحین کو ملانا جنہیں غیبی لوگ کہا جاتا ہے، جائز نہیں، خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت ہو گئے ہوں۔ ان جنوں اور انسانوں سے مدد طلب کرنا واضح شرک ہے کیونکہ وہ پکارنے والے کی پکار کو سن نہیں سکتے۔ اگر وہ سن بھی لیں تو اس کا جواب دینے یا حاجت روائی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں۔ ایک مقام پر فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾ (فاطر 13 – 14) ”اور جن لوگوں کو یہ مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کھجور کی گٹھلی کے باریک غلاف کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمہاری مراد پوری نہیں کر سکتے اور قیامت کے روز یہ لوگ تمہارے شرک سے لاعلمی کا اظہار کریں گے اور آپ کو (اللہ) خبیر کی طرح کوئی خبر نہیں دے سکتا۔“

    (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرھا السيء في الأمة:111/2، ح:655)

    اس کا لنک یہ ہے جہاں یہ عبارت موجود ہے

    http://shamela.ws/browse.php/book-12762/page-986

    امید ہے کہ آپ جلد ہی یہ کام کر دیں گے

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمین

  2. دوسری قسم: یہ ہے کہ کوئی بارگاہِ الہی میں اپنے نبی اور اس کی تابعداری کرنے والوں کی محبت اور اولیاء اللہ کی محبت کو توسل كر تے ہيں اور يہ کہتے کہ: اے اللہ میں تجھـ سے تیرے نبی اور اس کے فرمان بردار لوگوں سے اپنی محبت اور تیرے اولیاء سے اپنی محبت کے صدقے یہ مانگتا ہوں تو ایسا کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ یہ بندے کا اپنے رب کی بارگاہ میں اپنے نیک عمل کو وسیلہ بنانا ہے، اور تین غار والوں کا اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنانا ثابت ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہے ۔
    Wasele ki yeh qism jaiz hai.. Agr hai to kesy bta dein
    Yeh saudi daemi kameeti ka fatwa hai

    • Islamic-Belief says:

      الثاني: أن ينادي الله متوسلاً إليه بحب نبيه واتباعه إياه وبحبه لأولياء الله بأن يقول: اللهم أني أسالك بحبي لنبيك واتباعي له وبحبي لأوليائك أن تعطيني كذا – فهذا جائز؛ لأنه توسل من العبد إلى ربه بعلمه الصالح، ومن هذا ما ثبت من توسل أصحاب الغار الثلاثة بأعمالهم الصالحة .
      http://alifta.com/Search/ResultDetails.aspx?languagename=ar&lang=ar&view=result&fatwaNum=true&FatwaNumID=1328&ID=269&searchScope=3&SearchScopeLevels1=&SearchScopeLevels2=&highLight=1&SearchType=EXACT&SearchMoesar=false&bookID=&LeftVal=0&RightVal=0&simple=&SearchCriteria=AnyWord&PagePath=&siteSection=1&searchkeyword=#firstKeyWordFound
      ———–

      مکمل فتوی اردو میں ہے
      http://alifta.com/fatawa/fatawaDetails.aspx?languagename=ur&BookID=3&View=Page&PageNo=1&PageID=269
      ———
      وہابیوں نے کہا
      اے اللہ میں تجھ سے تیرے فلاں ولی یا تیرے فلاں نبی کے حق کو وسیلہ بناتے ہوئے سوال کرتا ہوں – یہ جائز نہیں
      اے اللہ میں تجھـ سے تیرے نبی یا فلان ولى کے جاه سے توسل کرتا ہوں تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے
      اے اللہ میں تجھـ سے تیرے نبی اور اس کے فرمان بردار لوگوں سے اپنی محبت اور تیرے اولیاء سے اپنی محبت کے صدقے یہ مانگتا ہوں تو ایسا کرنا بھی جائز ہے


      راقم کہتا ہے یہ مولویوں نے الفاظ کا کھیل کھیلا ہے جو بھی جاہ یا عزت کا حوالہ دے رہا ہے اس کو معلوم ہے کہ ان انبیاء کی عزت الله کے ہاں ہے کیونکہ الله نے اس کی خبر دی اور اسی وجہ سے ہم کو ان سے محبت ہے لہذا بعض دعا کو جائز اور بعض کو نا جائز اس بنا پر کہنا ان لوگوں کا کمال ہے یہ الفاظ کی بازی گری ہے
      میرے نزدیک کسی بھی قسم کے وسیلہ کے الفاظ یا صدقے کے الفاظ یا محبت کا ذکر یا عزت کا ذکر کرنا حرام ہے

      حدیث غار میں نیک عمل کو وسیلہ بنانے کی دلیل ہے لیکن وہ عمل ہے اس میں ذوات کا ذکر نہیں ہے
      نیک عمل میں انبیاء و اولیاء سے محبت شامل ہے لیکن اس محبت کو انبیاء و صالحین نے کبھی وسیلہ نہیں بنایا
      قرآن میں اس قسم کی کوئی خبر نہیں

  3. anum shoukat says:

    اسلامک بلیف انکل آپ نے بالکل صحیح فرمایا یہ الفاظی ایسی کرتے ہیں کہ سامنے والے کو لگے ہی نہ کہ وسیلہ مانگا جا رہا ہے اور جماعت اسلامی کے ادارے سے دو سالہ عالمہ کورس کیا تو ہماری ٹیچر ایسے ہی دعا مانگتی تھی عزت اور محبت کا واسطہ ڈالتی تھیں تو میں یہی سمجھ رہی تھی تب تک کہ یہ وسیلہ کا شرک نہیں کرتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *