عمرو بن العاص کی وصیت پر تیسری نظر

فرقہ اہل حدیث جن  کا دعوی ہے کہ وہ  کتب  احادیث کو جانتے ہیں – ان کی علمی سطحیت کا عالم یہ ہوا ہے کہ عصر حاضر کے ان کے چند   محققین کی جانب سے  ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ کے خلاف باطل پروپیگنڈا  جاری ہے کہ  ڈاکٹر مرحوم نے  صحیح مسلم کی روایت میں مطلب براری کے لئے اس کا متن تبدیل کیا اور روایت  کے وہ الفاظ نقل کیے جو درحقیقت اس کے نہیں – اس سلسلے میں ان کو جو ” ناریل”  ہاتھ لگا ہے وہ یہ ہے کہ عثمانی صاحب نے  عمرو بن العاص رضی الله عنہ کی وہ روایت جس میں ان کی جان کنی کے عالم کا ذکر ہے – اس میں الفاظ کو تبدیل کیا لہذا کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے  سیاقتہ الموت کو سیاق الموت  اور تنحر کو ینحر کر دیا تاکہ اپنا مدعا ثابت کر سکیں

سیاقتہ الموت یا  سیاق الموت

یہ الفاظ کتاب مشكاة المصابيح از محمد بن عبد الله الخطيب العمري، أبو عبد الله، ولي الدين، التبريزي (المتوفى: 741هـ) میں ہیں

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لِابْنِهِ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي. رَوَاهُ مُسلم

احادیث کی تخریج کی کتاب جامع الأصول في أحاديث الرسول از مجد الدين أبو السعادات المبارك بن محمد بن محمد بن محمد ابن عبد الكريم الشيباني الجزري ابن الأثير (المتوفى : 606هـ) میں ہے کہ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں
–عبد الرحمن بن شماسة المهدي – رحمه الله -: قال: «حضرنا عمرو بن العاص [وهو] في سِياقِ الموت، فبكى طويلاً، وحول وجهه إلى الجدار
ابن اثیر کے مطابق بھی صحیح مسلم میں الفاظ ہیں سیاق الموت

کتاب جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزَّوائِد از محمد بن محمد بن سليمان بن الفاسي بن طاهر السوسي الردواني المغربي المالكي (المتوفى: 1094هـ) کے مطابق صحیح مسلم کی اس حدیث کے الفاظ ہیں
عبد الله بن شماسة المهري: حضرنا عمرو بن العاص وهو في سياق الموت فبكى طويلًا وحوَّل وجهه إلى الجدار فجعل ابنه يقول: ما يبكيك يا أبتاه؟ أما بشرك

معلوم ہوا کہ ہے قدیم نسخوں سیاقه الموت کی بجائے سیاق الموت بھی لکھا تھا

سیاق الموت یا سیاقه الموت میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے

شرح صحیح مسلم از النووی میں ہے
وَأَمَّا أَلْفَاظُ مَتْنِهِ فَقَوْلُهُ (فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ) هُوَ بِكَسْرِ السين أى حال حضور الموت
اور متن کے الفاظ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ … یعنی موت کے حاضر ہونے کے حال پر تھے

مبارکپوری اہل حدیث کتاب مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں لکھتے ہیں
يقال: ساق المريض نفسه وسيق إذا شرع في نزع الروح.
یہ نزع الروح کا وقت ہے

یہی مفہوم عربی لغت میں لکھا ہے جس کا ذکر الدكتور موسى شاهين لاشين کتاب فتح المنعم شرح صحيح مسلم میں کرتے ہیں
وفي القاموس: ساق المريض شرع في نزع الروح.

محمد الأمين بن عبد الله الأُرَمي العَلَوي الهَرَري الشافعي کتاب الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم میں کہتے ہیں
أن عمرًا (في سياقة الموت) أي في سكرة الموت وحضور مقدماته
عمرو سیاق الموت میں تھے یعنی سکرات الموت میں تھے اس کے مقدمات کی حاضری پر

اس حال میں زبان صحابی سے جو کلام ادا ہوا اس کو علماء نے بدعت قرار دیا ہے جس میں محمد بن صالح العثيمين بھی ہیں
خواجہ محمد قاسم کراچی کا عثمانی مذھب میں لکھتے ہیں عمرو بن العاص کا خیال صحیح نہیں تھا

تنحر یا ینحر

شرح السنة   از  البغوي الشافعي (المتوفى: 516هـ)  میں اس روایت میں ہے

وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، وَهُوَ يَبْكِي: أَنَا مِتُّ فَلا يَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي، فَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ، وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي

یہاں بھی  يُنْحَرُ ہے

ایمان ابن  مندہ المتوفي ٣٩٥ ھ میں ہے

أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الزُّجَاجُ، ح، وَأَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْحَائِطِ يَبْكِي طَوِيلًا وَابْنُهُ يَقُول….. فَإِذَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ، وَلَا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ مِنْ دَفْنِي، فَامْكُثُوا حَوْلِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ، وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا فَإِنِّي آنَسُ بِكُمْ حَتَّى أَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي

ابن مندہ کے مطابق متن میں یہاں    يُنْحَرُ ہے

التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبيراز أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) میں ہے

وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ فِي حَدِيثٍ عِنْدَ مَوْتِهِ “إذَا دَفَنْتُمُونِي أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٍ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ رُسُلَ رَبِّي”

اور صحیح مسلم میں ہے کہ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ نے اپنی موت کے وقت ان سے کہا … “إذَا دَفَنْتُمُونِي أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٍ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ رُسُلَ رَبِّي”

یہاں بھی  يُنْحَرُ ہے

البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبير از  ابن الملقن   الشافعي المصري (المتوفى: 804هـ) کے مطابق

وَمِنْهَا: حَدِيث عَمْرو بن الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه أَنه قَالَ: «إِذا دفنتموني فسنوا عَلّي التُّرَاب سنّا، ثمَّ أقِيمُوا حول قَبْرِي قدر مَا ينْحَر جزور وَيقسم لَحمهَا؛ حَتَّى أستأنس بكم، وَأعلم مَاذَا أراجع رسل رَبِّي» . رَوَاهُ مُسلم فِي «صَحِيحه» فِي كتاب الْإِيمَان، وَهُوَ بعض من حَدِيث طَوِيل.

حَدِيث عَمْرو بن الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه  میں ينْحَر ہے  جس کو امام مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے

ڈاکٹر عثمانی سے پہلے بھی لوگ اس روایت میں  سیاق الموت اور ینحر  کے الفاظ نقل کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں یہ صحیح مسلم کے ہیں

 معلوم ہوا فرقہ پرستوں کا پروپیگنڈا   بالکل باطل ہے کہ ڈاکٹر صاحب  نے الفاظ اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے تبدیل کیے

روایات کے الفاظ مختلف نسخوں میں الگ الگ ہوئے اس وجہ سے یہ اختلاف پیدا ہوا چونکہ صحیح مسلم کا وہ نسخہ جو برصغیر میں ہے  اس میں وہ الفاظ نہیں تھے جو اوپر دیے گئے ہیں  طاغوت پرستوں  نے عوام کے لئے شوشہ چھوڑا کہ یہ ڈاکٹر  نے اپنے مقصد حاصل کرنے کے لئے تبدیل کیے ہیں جبکہ  ان درس حدیث  دینے والوں کو تو خوب معلوم ہو گا کہ یہ تبدیلی کیوں اور کیسے ہوتی ہے – یہ حال ہوا ہے امت کے علماء کا

یاد رہے کہ الله کا حکم ہے

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والوں الله کے لئے عدل کے گواہ بن کر کھڑے ہو  اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کی دشنمی تم کو اکسائے کہ عدل نہ کرو  عدل کرو یہ تقوی کے قریب ہے اور الله سے ڈرو بے شک الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو

This entry was posted in Aqaid, ilm ul hadith. Bookmark the permalink.

3 Responses to عمرو بن العاص کی وصیت پر تیسری نظر

  1. anum shoukat says:

    بھائی اللہ آپکو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب فرمائے آپ نے اس ٹوپک پر وضاحت کی آج کل اہل حدیثوں کی طرف سے بہت بات اچھالی جا رہی ہے خاص طور پر فیس بک پر۔

  2. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی یہ حدیث بھی عمرو بن العاص رضی الله کے بارے میں ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ) صحیح بخاری: کتاب: فضیلتوں کے بیان میں (باب: قریش کی فضیلت کا بیان)

    3500

    حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ

    حکم : صحیح 3500

    ہم سے ابوالیمان نےبیان کیا ، کہا ہم سے شعیب نے خبردی ، ان سےزہری نےبیان کیا کہ محمد بن جبیربن مطعم بیان کرتےتھے کہ حضرت معاویہ تک یہ بات پہنچی جب وہ قریش کی ایک جماعت میں تھے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ یہ حدیث بیا ن کرتے ہیں کہ عنقریب (قرب قیامت میں ) بنی قحطان سےایک حکمران اٹھے گا۔ یہ سن کر حضرت معاویہ غصے ہوگئے ۔پھر آپ خطبہ دینے اٹھے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کی مطابق حمدوثنا کےبعد فرمایا، لوگو ! مجھے معلوم ہواہےکہ بعض لوگ ایسی احادیث بیان کرتےہیں جونہ توقرآن مجید میں موجود ہیں اورنہ رسول اللہﷺ سےمنقول ہیں۔ دیکھو! تم میں سب سے جاہل یہ لوگ ہیں۔ ان سے اوران کےخیالات سےبچتےرہو جن خیالات نےان کوگمراہ کردیا ہے۔میں نے نبی کریمﷺ سے یہ سناہے کہ یہ خلافت قریش میں رہے گی اورجو بھی ان سےدشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سرنگوں اوندھا کردے گا جب تک وہ (قریش ) دین کوقائم رکھیں گے۔

    اس حدیث کے حاشیہ میں لکھا گیا ہے کہ

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/3500

    حدیث حاشیہ: قریش جب دین اورشریعت کوچھوڑ دیں گے توان میں سے بھی جاتی رہےگی۔ آپ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔ پانچ چھ سوبرس تک خلافت بنوامیہ اوربنو عباسیہ میں قائم رہی جو قریشی تھے۔ جب انہوں نے شریعت پرچلنا چھوڑ دیا توان کی خلافت چھن گئی اور دوسرے لوگ باد شاہ بن گئے ۔ جب سے آج تک پھر قریش کوخلافت اورسرداری نہیں ملی ۔ عبداللہ بن عمرو نےجو حدیث روایت کی ہے وہ اس کےخلاف نہیں ہے۔ ا س حدیث کامطلب یہ ہےکہ قیامت کےقریب ایک قحطانی عرب کابادشاہ ہوگا۔ ابوہریرہ سےبھی مروی ہے۔ذی مخبرحبشی سے بھی مرفوعا مروی ہے کہ حکومت قریش سےپہلے حمیر میں تھی اورپھر ان میں چلی جائے گی ۔ اس کو احمد اورطبرانی نےنکالا ہے ۔قحطان یمن میں ایک مشہور قبیلہ ہےحضرت معاویہ کومحمد بن جبیروالی حدیث کاعلم نہ تھا ، اس لیے انہیں شبہ ہوااور ان سخت لفظوں میں اس پرنوٹس لیا مگر ان کا یہ نوٹس صحیح نہ تھا کیونکہ یہ حدیث صحیح ہےاور رسول اللہ ﷺ سےسند صحیح کےساتھ ثابت ہےجیسا کہ حضرت ابوہریرہ نےبھی اس کوروایت کیا ہے۔

    ——

    اگر اس حدیث کوصحیح مان لیا جایے تو اس بات کا کیا جواب ہو گا کہ حضرت امیر معاویہ رضی الله کو کیا نہیں پتا تھا کہ تمام صحابہ ثقہ ہیں اور عادل ہیں – انہوں نے کیوں ایک صحابی کی بات کو نظر انداز کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *