علی علی علی علی

یمن کا ایک شخص عبد الله ابن سبا ، عثمان رضی الله عنہ کے دور میں ایمان لایا – یہ اس سے قبل ایک یہودی تھا اور قرآن و حدیث پر اس کا اپنا ہی  نقطۂ نظر تھا – یہود میں موسی و ہارون (علیھما السلام)  کے بعد  انبیاء کی اہمیت واجبی   ہے –  کوئی بھی نبی موسی (علیہ السلام) سے بڑھ کر نہیں ہے اور موسی  (علیہ السلام) نے الله سے براہ راست کلام کیا اللہ کو ایک جسم کی صورت دیکھا –  باقی انبیاء میں داود  (علیہ السلام) قابل اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کی اہمیت ایک موسیقار سے زیادہ یہود کے نزدیک نہیں ہے –  جنہوں نے آلات موسیقی کو ایجاد کیا اور ان  کے سازووں سے ہیکل سلیمانی گونجتا رہتا تھا – ان کے بعد اہمیت الیاس  (علیہ السلام) کی ہے جو شمال کی یہودی ریاست اسرئیل میں آئے اور ان کو زجر و توبیخ کی – آج جو یہودیت ہم کو ملی ہے وہ شمال مخالف یہودا کی ریاست کی ہے- اس ریاست میں یہودا اور بن یامین نام کے دو قبائل تھے جو یہود کے بقول ١٢ میں بچ گئے جبکہ باقی ١٠ منتشر ہو گئے جن کی اکثریت شمالی ریاست میں تھی-  راقم کی تحقیق کے مطابق ابن سبا  کے اجداد کا تعلق بھی شمالی یہود سے تھا –  الیاس  (علیہ السلام) کی اسی لئے اہمیت ہے کہ شمال سے تھے اور وہ ایک آسمانی بگولے میں اوپر چلے گئے

اب ابن سبا کا فلسفہ دیکھتے ہیں

علی الیاس ہیں اورآنے والا دابة الارض ہیں

سبائیوں  کو قرآن سے آیت ملی

 و رفعناه مکانا علیا

اور ہم نے اس کو ایک بلند مقام پر اٹھایا

اس  آیت میں علیا کا لفظ  ہے  یعنی الیاس کو اب بلند کر کے علی کر دیا گیا ہے

اپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیا عجیب بات ہے- تو حیران نہ ہوں یہ کتب شیعہ میں موجود ہے

مختصر بصائر الدرجات  از الحسن بن سليمان الحليي  المتوفی ٨٠٦ ھ روایت پیش کرتے ہیں

حدثنا الحسين بن أحمد قال حدثنا الحسين بن عيسى حدثنا يونس ابن عبد الرحمن عن سماعة بن مهران عن الفضل بن الزبير عن الاصبغ ابن نباتة قال: قال لي معاوية يا معشر الشيعة تزعمون ان عليا دابة الارض فقلت نحن نقول اليهود تقوله فارسل إلى رأس الجالوت فقال ويحك تجدون دابة الارض عندكم فقال نعم فقال ما هي فقال رجل فقال اتدري ما اسمه قال نعم اسمه اليا قال فالتفت الي فقال ويحك يا اصبغ ما اقرب اليا من عليا.

الاصبغ ابن نباتة کہتے ہیں کہ معاویہ نے کہا اے گروہ شیعہ تم گمان کرتے ہو علی دابة الارض ہے پس میں الاصبغ ابن نباتة نے معاویہ کو جواب دیا ہم وہی کہتے ہیں جو یہود کہتے ہیں  پس معاویہ نے یہود کے سردار جالوت کو بلوایا اور کہا تیری بربادی ہو کیا تم اپنے پاس دابة الارض کا ذکر پاتے ہو؟ جالوت نے کہا ہاں – معاویہ نے پوچھا کیا ہے اس میں ؟ جالوت نے کہا ایک شخص ہے – معاویہ نے پوچھا اس کا نام کیا ہے ؟ جالوت نے کہا اس کا نام الیا (الیاس) ہے – اس پر معاویہ میری طرف پلٹ کر بولا بردبادی اے الاصبغ یہ الیا ، علیا کے کتنا قریب ہے

الاصبغ ابن نباتة کا تعلق یمن سے تھا یہ علی کا محافظ تھا – یعنی الیاس اب علی ہیں

اسی کتاب میں دوسری روایت ہے

 حدثنا الحسين بن احمد قال حدثنا محمد بن عيسى حدثنا يونس عن بعض اصحابه عن ابى بصير قال: قال أبو جعفر (ع) اي شئ يقول الناس في هذه الآية (وإذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم) فقال هو أمير المؤمنين

ابى بصير  يحيى بن القاسم الاسدى ، امام جعفر سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ اس آیت  (وإذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم) پر کیا چیز بول رہے ہیں پس امام نے کہا یہ تو امیر المومنین ہیں

ابى بصير  يحيى بن القاسم الاسدى کے لئے  الطوسي کہتے ہیں  إنه واقفي یہ واقفی تھے اور الکشی کہتے ہیں مختلط تھے
 بحوالہ سماء المقال في علم الرجال – ابو الهدى الكلباسي
كليات في علم الرجال از جعفر السبحاني  کے مطابق  الواقفة سے مراد وہ لوگ ہیں
وهم الذين ساقوا الامامة إلى جعفر بن محمد، ثم زعموا أن الامام بعد جعفر كان ابنه موسى بن جعفر عليهما السلام، وزعموا أن موسى بن جعفر حي لم يمت، وأنه المهدي المنتظر، وقالوا إنه دخل دار الرشيد ولم يخرج منها وقد علمنا إمامته وشككنا في موته فلا نحكم في موته إلا بتعيين
جو کہتے ہیں امامت امام جعفر پر ختم ہوئی پھر انہوں نے دعوی کیا کہ ان کے بیٹے موسی  امام ہیں اور دعوی کیا کہ موسی مرے نہیں زندہ ہیں اور وہی امام المہدی ہیں اور کہا کہ وہ دار الرشید میں داخل ہوئے اور اس سے نہ نکلے اور ہم ان کو امام جانتے ہیں اور ان کی موت پر شک کرتے ہیں پس ہم ان کی موت کا حکم تعین کے ساتھ نہیں لگا سکتے

علی رضی الله عنہ ہی الیاس تھے- جو اب بادلوں میں ہیں – علی کی قبر قرن اول میں کسی کو پتا نہیں تھی – سبائیوں کے نزدیک یہ نشانی تھی کہ وہ مرے نہیں ہیں – البتہ قرن اول اور بعد کے شیعہ یہ عقیدہ آج تک رکھتے ہیں کہ علی مدت حیات میں بادل الصعب کی سواری کرتے تھے اور علی اب دابتہ الارض ہیں جس کا ذکر قرآن میں ہے- اسی بنا پر روایات میں ہے کہ اس جانور کی داڑھی بھی ہو گی – یعنی یہ انسان ہے- عام اہل سنت کو مغالطہ ہے کہ یہ کوئی جانور ہے

مسند امام الرضا کے مطابق امام الرضا اور یہود کے سردار جالوت میں مکالمہ ہوا

 قال لرأس الجالوت: فاسمع الان السفر الفلاني من زبور داود عليه السلام. قال: هات بارك الله فيك وعليك وعلى من ولدك فتلى الرضا عليه السلام السفر الاول من الزبور، حتى انتهى إلى ذكر محمد وعلي وفاطمة والحسن والحسين فقال سألتك يا رأس الجالوت بحق الله أهذا في زبور داود عليه السلام ولك من الامان والذمة والعهد ما قد أعطيته الجاثليق فقال راس الجالوت نعم هذا بعينه في الزبور باسمائهم. فقال الرضا عليه السلام: فبحق العشر الآيات التي أنزلها الله تعالى على موسى بن عمران في التورية هل تجد صفة محمد وعلي وفاطمة والحسن والحسين في التوراية منسوبين إلى العدل والفضل، قال نعم ومن جحد هذا فهو كافر بربه وأنبيائه. فقال له الرضا عليه السلام: فخذ على في سفر كذا من التورية فاقبل الرضا عليه السلام يتلو التورية وأقبل رأس الجالوت يتعجب من تلاوته وبيانه وفصاحته ولسانه، حتى إذا بلغ ذكر محمد قال رأس الجالوت: نعم، هذا أحماد وبنت أحماد وإيليا وشبر و شبير تفسيره بالعربية محمد وعلي وفاطمة والحسن والحسين. فتلى الرضا عليه السلام إلى آخره

یہود کے سردار جالوت نے کہا میں نے زبور میں( اہل بیت کے بارے میں ) پڑھا ہے امام رضا نے شروع سے آخر تک زبور کو پڑھا یہاں تک کہ محمد اور علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین کا ذکر آیا پس کہا اے سردار جالوت الله کا واسطہ کیا یہ داود کی زبور ہے ؟  جالوت نے کہا جی ہاں … امام رضا نے کہا الله نے دس آیات موسی پر توریت میں نازل کی تھیں جس میں  محمد ، علی ، فاطمہ ، حسن ، حسین کی صفت ہیں جو عدل و فضل سے منسوب ہیں جالوت بولا جی ہیں ان پر  حجت نہیں کرتا مگر وہ جو کافر ہو

علی ہارون ہیں

یہود کے مطابق اگرچہ موسی کو کتاب الله ملی لیکن موسی لوگوں پر امام نہیں تھے – امام ہارون تھے لہذا دشت میں خیمہ ربانی

Tabernacle

میں صرف بنی ہارون کو داخل ہونے کا حکم تھا

 “Then bring near to you Aaron your brother, and his sons with him, from among the people of Israel, to serve me as priests—Aaron and Aaron’s sons, Nadab and Abihu, Eleazar and Ithamar.”

Exodus. 28:1

تم بنی اسرائیل کے ہاں  سے صرف ہارون اور اس کے بیٹے  میرے قریب آئیں کیونکہ یہ امام بنیں گے – ہارون اور اس کے بیٹے ندب اور ابیہو، علییضر اور اثمار

اسی بنا پر جب یہ حدیث پیش کی جاتی ہے جو حدیث منزلت کے نام سے مشھور ہے جس کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم نے علی سے کہا کہ تم کو وہی  منزلت حاصل ہے جو موسی کو ہارون سے تھی تو اس کا مفھوم سبائیوں اور اہل تشیع کے نزدیک وہ  نہیں جو اہل سنت کے ہاں مروج ہے بلکہ  جس طرح  ہارون کو امام اللہ تعالی نے مقرر کیا اسی طرح علی کا امام مقرر ہونا بھی من جانب الله ہونا چاہیے

ali-facets

علی صحابی سے ہارون بنے پھر خلیفہ پھر امام پھر الیاس اور پھر دابتہ الارض

جس طرح موسی کے بعد ان کے بھائی ہارون  اور ان کے بیٹے امام ہوئے اسی طرح محمد کے بعد ان کے چچا زاد  بھائی اور ان کے بیٹے امام ہوں گے یعنی ابن سبا توریت کو ہو بہو منطبق کر رہا تھا

حسن و حسین کو  بنی ہارون کے نام دینا

حسن اور حسین رضی الله عنہما کے دو نام شبر اور شبیر بھی بتائے جاتے ہیں – ان ناموں کا عربی میں کوئی مفھوم نہیں ہے نہ یہ عربی   میں قرن اول سے پہلے بولے جاتے تھے – آج لوگ اپنے بچوں کا نام شبیر اور شبر بھی رکھ رہے ہیں – یہ نام کہاں سے آئے ہیں ؟  ان پر غور کرتے ہیں

ان ناموں کی اصل سمجھنے کے لئے اپ کو سبائی فلسفہ سمجھنا ہو گا تاکہ اپ ان ناموں کی روح تک پہنچ سکیں

امام حاکم مستدرک میں روایت کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحَسَنَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، قَالَ: «بَلْ هُوَ حَسَنٌ» فَلَمَّا وَلَدَتِ الْحُسَيْنَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ: «بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ» ثُمَّ لَمَّا وَلَدَتِ الثَّالِثَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟» قُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، قَالَ: «بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا سَمَّيْتُهُمْ بِاسْمِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَرٌ وَشُبَيْرٌ وَمُشْبِرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ “

هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب فاطمه نے حسن کو جنا تو نبی صلی الله علیہ وسلم  آئے – نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرا بیٹا دکھاؤ اس کو کیا نام دیا ؟ علی نے کہا میں نے اس کو حرب (جنگ) نام دیا ہے – اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ یہ تو حسن ہے  – پھر جب فاطمہ نے حسین کو جنا تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرا بیٹا دکھاؤ اس کو کیا نام دیا ؟ علی نے کہا میں نے اس کو حرب (جنگ) نام دیا ہے – اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا  بلکہ یہ تو حسین ہے  – پھر تیسری دفعہ فاطمہ نے بیٹا جنا تو  نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرا بیٹا دکھاؤ اس کو کیا نام دیا ؟ علی نے کہا میں نے اس کو حرب (جنگ) نام دیا ہے – اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ یہ محسن ہے – پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ان کو ہارون کے بیٹوں کے نام دیے ہیں شبر ، شبیر اور مبشر

امام حاکم اور الذھبی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں
 سند میں هانئ بن هانئ الهمداني الكوفي  ہے  یعنی یمن کے قبیلہ ہمدان کے تھے پھر کوفہ منتقل ہوئے امام بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں علی سے سنا ہے
الذھبی میزان میں لکھتے ہیں
هانئ بن هانئ [د، ت، ق] .عن علي رضي الله عنه.
قال ابن المديني: مجهول.  وقال النسائي: ليس به بأس.
ابن المدینی کہتے ہیں یہ مجھول ہے اور نسائی کہتے ہیں اس میں برائی نہیں ہے
الذھبی نے نسائی کی رائے کو ترجیح دی ہے
ابن سعد طبقات میں کہتے ہیں وَكَانَ يَتَشَيَّعُ , وَكَانَ مُنْكَرَ الْحَدِيثِ یہ شیعہ تھے منکر الحدیث ہیں
ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں الذھبی نے اس کا شمار مجہولین میں کیا ہے یعنی الذھبی مختلف کتابوں میں رائے بدلتے رہے
محدث ابن حبان جو امام الرضا کی قبر سے فیض حاصل کرتے ہیں وہ اس روایت کو صحیح ابن حبان میں نقل کرتے ہیں

أمالي الصدوق: 116 / 3. (3 – 4) البحار: 43 / 239 / 4 وص 263 / 8. (5 – 6) كنز العمال: 37682، 37693. کی روایت ہے

 الإمام زين العابدين (عليه السلام): لما ولدت فاطمة الحسن (عليهما السلام) قالت لعلي (عليه السلام): سمه فقال: ما كنت لأسبق باسمه رسول الله، فجاء رسول الله (صلى الله عليه وآله)… ثم قال لعلي (عليه السلام): هل سميته ؟ فقال: ما كنت لأسبقك باسمه، فقال (صلى الله عليه وآله): وما كنت لأسبق باسمه ربي عزوجل. فأوحى الله تبارك وتعالى إلى جبرئيل أنه قد ولد لمحمد ابن فاهبط فأقرئه السلام وهنئه وقل له: إن عليا منك بمنزلة هارون من موسى فسمه باسم ابن هارون. فهبط جبرئيل (عليه السلام) فهنأه من الله عزوجل ثم قال: إن الله تبارك وتعالى يأمرك أن تسميه باسم ابن هارون. قال: وما كان اسمه ؟ قال: شبر، قال: لسان عربي، قال: سمه الحسن، فسماه الحسن. فلما ولد الحسين (عليه السلام)… هبط جبرئيل (عليه السلام) فهنأه من الله تبارك وتعالى ثم قال: إن عليا منك بمنزلة هارون من موسى فسمه باسم ابن هارون، قال: وما اسمه ؟ قال: شبير، قال: لساني عربي، قال: سمه الحسين، فسماه الحسين

 الإمام زين العابدين (عليه السلام) کہتے ہیں کہ جب فاطمہ نے حسن کو جنا تو علی نے کہا اس کا نام رکھو انہوں نے کہا میں  رسول الله سے پہلے نام نہ رکھو گی پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم آئے اور علی سے پوچھا نام رکھا ؟ علی نے کہا نام رکھنے میں اپ پر سبقت نہیں کر سکتا پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمآیا میں نام رکھنے میں اپنے رب پر سبقت نہیں کر سکتا پس الله تعالی نے الوحی کی اور جبریل کو زمین کی طرف بھیجا کہ محمد کے ہاں بیٹا ہوا ہے پس ہبوط کرو ان کو سلام کہو اور تہنیت اور ان سے کہو کہ علی کی منزلت ایسی ہے جیسی ہارون کو موسی سے تھی پس اس کا نام ہارون کے بیٹے کے نام پر رکھو پس جبریل آئے …. اور کہا اس کا نام شبر رکھو نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا عربی زبان میں کیا ہے؟ کہا: اس کا نام الحسن ہے پس حسن رکھو پھر جب حسین پیدا ہوئے تو جبریل آئے (یہی حکم دہرایا گیا اور من جانب اللہ نام رکھا گیا) شبیر- رسول الله نے پوچھا عربی میں کیا ہے ؟ حکم ہوا حسین پس حسین رکھا گیا

تفسیر قرطبی سوره الاعراف کی آیت ١٥٥ میں کی تفسیر میں قرطبی المتوفي ٦٧١ ھ  روایت پیش کرتے ہیں

أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْطَلَقَ مُوسَى وَهَارُونُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَانْطَلَقَ شَبَّرُ وَشَبِّيرُ- هُمَا ابْنَا هَارُونَ- فَانْتَهَوْا إِلَى جَبَلٍ فِيهِ سَرِيرٌ، فَقَامَ عَلَيْهِ هَارُونُ فَقُبِضَ رُوحُهُ. فَرَجَعَ مُوسَى إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالُوا: أَنْتَ قَتَلْتَهُ، حَسَدْتَنَا  عَلَى لِينِهِ وَعَلَى خُلُقِهِ، أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوَهَا، الشَّكُّ مِنْ سُفْيَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَقْتُلُهُ وَمَعِيَ ابْنَاهُ! قَالَ: فَاخْتَارُوا مَنْ شِئْتُمْ، فَاخْتَارُوا مِنْ كُلِّ سِبْطٍ عَشَرَةً. قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ:” وَاخْتارَ مُوسى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقاتِنا” فَانْتَهَوْا إِلَيْهِ، فَقَالُوا: مَنْ قتلك يا هارون؟ قال: ما قتلني حَدٌ وَلَكِنَّ اللَّهَ تَوَفَّانِي. قَالُوا: يَا مُوسَى، مَا تُعْصَى

عُمَارَةَ بْنِ عَبْدٍ، علی رضی الله عنہ سے روایت کرتا ہے کہ موسی اور ہارون چلے اور ان کے ساتھ شبر و شبیر چلے پس ایک پہاڑ پر پہنچے جس پر تخت تھا اس پر ہارون کھڑے ہوئے کہ ان کی جان قبض ہوئی پس موسی قوم کے پاس واپس لوٹے – قوم نے کہا تو نے اس کو قتل کر دیا ! تو حسد کرتا تھا  … موسی نے کہا میں نے اس کو کیسے قتل کیا جبکہ اس کے بیٹے شبیر اور شبر میرے ساتھ تھے پس تم جس کو چاہو چنو اور ہر سبط میں سے دس چنو کہا اسی پر قول ہے  وَاخْتارَ مُوسى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقاتِنا پس وہ سب ہارون کی لاش  تک آئے اور ان سے پوچھا : کس نے تم کو قتل کیا ہارون؟ ہارون نے کہا مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ الله نے وفات دی

یعنی قرطبی نے تفسیر میں اس قول کو قبول کیا کہ شبر و شبیر ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام تھے

روایت میں   عُمارة بْن عَبد، الكُوفيُّ ہے العلل میں احمد کہتے ہیں
قال عبد الله بن أحمد: سألته (يعني أَباه) : عن عمارة بن عبد السلولي، قال: روى عنه أبو إسحاق. «العلل» (4464) .
یہ کوفہ کے ہیں – لا يروي عنه غير أبي إسحاق. «الجرح والتعديل  صرف أبي إسحاق روایت کرتا ہے
امام بخاری کہتے ہیں اس نے علی سے سنا ہے جبکہ امام ابی حاتم کہتے ہیں مجهول لا يحتج به، قاله أبو حاتم. یہ مجھول ہے دلیل مت لو

اس قصہ کا ذکر اسی آیت کی تفسیر میں  شیعہ تفسیر  مجمع البيان از  أبي على الفضل بن الحسن الطبرسي المتوفی ٥٤٨ ھ  میں بھی ہے

 و رووا عن علي بن أبي طالب (عليه السلام) أنه قال إنما أخذتهم الرجفة من أجل دعواهم على موسى قتل أخيه هارون و ذلك أن موسى و هارون و شبر و شبير ابني هارون انطلقوا إلى سفح جبل فنام هارون على سرير فتوفاه الله فلما مات دفنه موسى (عليه السلام) فلما رجع إلى بني إسرائيل قالوا له أين هارون قال توفاه الله فقالوا لا بل أنت قتلته حسدتنا على خلقه و لينه قال فاختاروا من شئتم فاختاروا منهم سبعين رجلا و ذهب بهم فلما انتهوا إلى القبر قال موسى يا هارون أ قتلت أم مت فقال هارون ما قتلني أحد و لكن توفاني الله

شیعہ عالم الموفق بن احمد بن محمد المكي الخوارزمي المتوفى سنة 568 کتاب المناقب میں ہے کہ ایک دن نبی صلی الله علیہ وسلم نے فاطمہ رضی الله عنہا سے فرمایا کہ

 الحسن والحسين ابناه سيدا شباب أهل الجنة من الاولين والآخرين وسماهما الله تعالى في التورأة على لسان موسى عليه السلام ” شبر ” و “شبير ” لكرامتها على الله عزوجل

علی کے بیٹے حسن و حسین اہل جنت کے پچھلوں اور بعد والوں کے جوانوں کے سردار ہیں  اور الله نے ان کو توریت میں نام دیا ہے شبر و شبیر- یہ الله کا علی پر کرم ہے

ابن شہر آشوب کتاب مناقب علی میں اسی قسم کی ایک روایت پیش کرتے ہیں – توریت میں شبر و شبیر کا کوئی ذکر نہیں ہے

صحیح ابن حبان کی تعلیق میں شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں

قلت: وقد جاء في التسمية سبب آخر، فقد روى أحمد 1/159، وأبو يعلى “498”، والطبراني “2780”، والبزار “1996” من طريقين عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن محمد بن علي وهو ابن الحنفية، عن أبيه علي بن أبي طالب أنه سمى ابنه الأكبر حمزة، وسمى حسينا بعمه جعفر، قال: فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، فلما أتى قال: “غيرت اسم ابني هذي”، قلت: الله ورسوله أعلم، فسمى حسنا وحسينا. قال الهيثمي في “المجمع” 8/52 بعد أن نسبه غليهم جميعا: وفيه عبد الله بن محمد بن عقيل، حديثه حسن، وباقي رجاله رجال الصحيح.

میں کہتا ہوں اور ایک روایت میں ایک دوسری وجہ بیان ہوئی ہے پس کو احمد اور ابو یعلی نے طبرانی نے اور البزار نے دو طرق سے عبد الله بن محمد سے انہوں نے ابن حنفیہ سے انہوں نے اپنے باپ علی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بڑے بیٹے کا نام حمزہ رکھا تھا اور حسین کا جعفر پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی کو طلب کیا  اور کہا ان کے نام بدل کر حسن و حسین کر دو

شبر و شبیر کا بھیانک انجام

اہل سنت کی تفسير روح البيان أز  أبو الفداء (المتوفى: 1127هـ)  کے مطابق

وكان القربان والسرج فى ابني هارون شبر وشبير فامرا ان لا يسرجا بنار الدنيا فاستعجلا يوما فاسرجا بنار الدنيا فوقعت النار فاكلت ابني هارون

اور قربانی اور دیا جلانا بنی ہارون میں شبر اور شبیر کے لئے تھا پس حکم تھا کہ کوئی دنیا کی اگ سے اس کو نہ جلائے لیکن ایک روز ان دونوں نے علجت کی اور اس کو دنیا کی اگ سے جلایا جس پر اگ ان دونوں کو کھا گئی

شیعہ عالم  الحسين بن حمدان الخصيبي  المتوفی ٣٥٨ ھ کتاب الهداية الكبرى میں بتاتے ہیں ایسا کیوں ہوا

وان شبر وشبير ابني هارون (عليه السلام) قربا قربانا ثم سقياه الخمر وشراباها ووقفا يقربان، فنزلت النار عليهما وأحرقتهما لأن الخمر في بطونهما فقتلا بذلك.

اور شبر اور شبیر بنی ہارون میں سے انہوں نے قربانی دی پھر شراب پی لی اور قربانی کو وقف کیا پس اگ آسمان سے نازل ہوئی اور اگ نے ان دونوں کو جلا ڈالا کیونکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی اس بنا پر یہ قتل ہوئے

اور توریت کے مطابق

Book of Leviticus, chapter 10:
Aarons sons Nadab and Abihu took their censers, put fire in  them and added incense; and they offered unauthorized fire before the Lord,  contrary to his command. So fire came out from the presence of the Lord  and consumed them, and they died before the Lord. Moses then said to  Aaron, This is what the Lord spoke of when he said: Among those who approach me I will be proved holy; in the sight of all the  people I will be honoured. Aaron remained silent.

ہارون کے بیٹے ندب اور ابیھو نے اپنے اپنے دیے لئے اس میں اگ جلائی اور اس ممنوعہ اگ کو رب پر پیش کیا اس کے حکم کے بر خلاف – لہذا اگ رب کے پاس سے نکلی اور ان کو کھا گئی اور وہ دونوں رب کے سامنے مر گئے – موسی نے ہارون سے کہا یہ وہ بات ہے جس کا ذکر الله نے کیا تھا کہ تمہارے درمیان جو میرے پاس آئے میری پاکی بیان کرے – لوگوں کی نگاہ میں میں محترم ہوں – ہارون  اس پر چپ رہے

واضح رہے کہ توریت کی کتاب لاوی کے مطابق ہارون کے بیٹوں کی یہ المناک وفات ہارون کی زندگی ہی میں ہوئی اور ان کا نام ندب اور ابہو ہے نہ کہ شبر و شبیر

یہود کے ایک مشہور حبر راشی

Rashi

کے بقول ندب اور ابیہو کا یہ بھیانک انجام شراب پینے کی بنا پر ہوا

AND THERE WENT OUT FIRE — Rabbi Eleizer said: the sons of Aaron died only because they gave decisions on religious matters in the presence of their teacher, Moses (Sifra; Eruvin 63a). Rabbi Ishmael said: they died because they entered the Sanctuary intoxicated by wine. You may know that this is so, because after their death he admonished those who survived that they should not enter when intoxicated by wine (vv. 8—9). A parable! It may be compared to a king who had a bosom friend, etc., as is to be found in Leviticus Rabbah (ch. 12; cf. Biur).

http://www.sefaria.org/Rashi_on_Leviticus.10.3?lang=en

 اس طرح شیعہ کتب اور بعض قدیم یہودی احبار کا اجماع ہے کہ   شبر اور شبیر کا اگ سے خاتمہ ہوا

 دور نبوی میں توریت ایک طومار کی صورت میں صرف علماء اہل کتاب کے پاس تھی -عام مسلمان تک اس کی رسائی  نہیں تھی -دوم اس کی زبان  بھی غیر عرب تھی اس لئے عرب مسلمان تو صرف یہ جانتے تھے کہ یہ ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام ہیں لیکن ان کے بھیانک انجام سے بے خبر تھے –   شبر و شبیر  کے نام حسن و حسین کو دینا جو عذاب الہی سے قتل ہوئے کی اور کیا وجہ ہوئی؟ شبر و شبیر ابن سبا کے ایجاد کردہ نام ہیں جس کو سبانیوں نے حسن و حسین سے منسوب کر دیا

اس سے یہ واضح ہے کہ سبائییوں کا ایجنڈا تھا کہ کسی نہ کسی موقعہ پر حسن و حسین کو شبر و شبیر   بنا ہی  دیا جائے گا یعنی قتل کیا جائے گا

کہتے ہیں  کوئی دیکھنے نہ دیکھے کم از کم  شبیر تو دیکھے گا


 

قرن اول میں ہی علی کے حوالے سے کئی آراء گردش میں آ چکی تھیں  ان کی تفصیل اس ویب سائٹ پر کتاب

Ali in Biblical Clouds

میں موجود ہے

This entry was posted in Aqaid, history, Mysticism. Bookmark the permalink.

2 Responses to علی علی علی علی

  1. وجاہت says:

    تحقیق درکار ہے اور صحیح ترجمہ درکار ہے

    اس کو کن کن محدثین نے صحیح ہے – کیا امام احمد نے صحیح کہا ہے

    قال وسمعت محمد بن منصور يقول كنا عند أحمد بن حنبل فقال: له رجل يا أبا عبد الله ما تقول في هذا الحديث الذي يروى أن علياً قال: “أنا قسيم النار ” فقال: وما تنكرون من ذا أليس روينا أن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال لعلي: ” لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق ” قلنا بلى قال: فأين المؤمن قلنا في الجنة قال: وأين المنافق قلنا في النار قال: فعلي قسيم النار.

    • Islamic-Belief says:

      کتاب ترتيب الأمالي الخميسية للشجري کے مطابق امام احمد نے کہا

      أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِيُّ ابْنُ الْكُوفِيِّ، بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْكِنَانِيُّ الْمُقْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي الْأُشْنَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي يُرْوَى أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: أَنَا قَسِيمُ النَّارِ؟ وَمَا تُنْكِرُ مِنْ ذَا أَلَيْسَ رَوَيْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ» .
      قُلْنَا بَلَى، قَالَ: أَيْنَ الْمُؤْمِنُ؟ قُلْنَا: فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: فَأَيْنَ الْمُنَافِقُ؟ قُلْنَا: فِي النَّارِ، قَالَ: فَعَلِيُّ قَسِيمُ النَّارِ
      مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيّ کہتے ہیں ہم احمد بن حنبل کے پاس تھے ایک شخص نے کہا اے اللہ کے بندے اس حدیث پر کیا کہتے ہو جو علی علیہ السلام نے روایت کی کہ میں اگ کو تقسیم کرنے والا ہوں؟ اس کا ہم انکار نہیں کریں گے کیا نبی صلی الله علیہ وسلم نے روایت نہیں کیا گیا کہ اے علی تجھ سے منافق بغض رکھے گا اور مومن محبت کرے گا ؟ ہم نے کہا جی امام احمد نے کہا مومن کہاں ہے ؟ ہم نے کہا جنت میں پھر احمد نے کہا منافق کہاں ہے ؟ ہم نے کہا اگ میں احمد نے کہا پس علی اگ کو تقسیم کرنے والے ہوئے
      —-

      کتاب میزان از الذھبی کے مطابق اس روایت کو موسى بن طريف الأسدي الكوفي نے بیان کیا ہے
      يحدث عن عباية، عن علي رضي الله عنه، أنه قال: أنا قسيم النار، هذا لي وهذا لك.
      لسان المیزان کے مطابق کوفہ کے شیعہ الاعمش تک اس روایت کو رد کرتے تھے
      وقال الخريبي: كنا عند الأعمش فقال: ألا تعجبون من موسى بن طريف يحدث عن عباية، عَن عَلِيّ رضي الله عنه أنه قال: أنا قسيم النار هذا لي وهذا لك
      الکامل از ابن ا\عدی کے مطابق اعمش سے پوچھا گیا کہ اگر ایسا ویسا ہے تو اس روایت کو بیان کیوں کرتے ہو ؟ تو کہا میں تو اس کا مذاق اڑانے کے لئے روایت کرتا ہوں
      حَدَّثَنا السَّاجِيّ، حَدَّثَنا مُحَمد بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنا عَبد الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنا سُفيان، عَن الأَعْمَش عن مُوسَى بْن طريف، عن أَبِيهِ حديث علي أَنَا قسيم النار فقيل للأعمش لم رويت هذا فَقَالَ إنما رويته على الاستهزاء.
      حَدَّثَنَا السَّاجِيُّ، حَدَّثَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمد، حَدَّثَنا مُحَمد بن الصلت، حَدَّثَنا قيس سَمِعت الأَعْمَش يَقُول يأتيني سُرَّاقُ الْقَبَائِلِ يَسْأَلُونِي عَنْ حَدِيثِ علي أَنَا قسيم النار والله ما حدثت عن مُوسَى بْن طريف عن عباية إلا استهزاء بعباية.

      ذكره الدَّارَقُطْنِيّ في «الضعفاء والمتروكين» (520) ، وقال كوفي، عن عباية بن ربعي، متروك.
      دارقطنی کے نزدیک یہ راوی متروک ہے

      موسی اور اس کا شیخ عباية بن ربعي دونوں غالی شیعہ ہیں

      الذھبی کہتے ہیں دونوں من غلاة الشيعة. ہیں

      امام احمد کا قول باقی محدثین سے منفرد ہے جبکہ اس روایت کو ان سے بہت پہلے سے رد کیا جا رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *