علی ، علم غیب اور سائنسی حقائق

مسند احمد کے مطابق علی رضی الله عنہ اور خوارج کا جب اختلاف ہوا تو علی نے ان کو سمجھانے کے لئے ابن عباس رضی الله عنہ کو بھیجا انہوں نے ان کو نصیحت کی تو
فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ، فِيهِمُ ابْنُ الْكَوَّاءِ
ان میں چار ہزار واپس لوٹ آئے جن میں ابْنُ الْكَوَّاءِ بھی تھا

روایات کے مطابق ابْنُ الْكَوَّاءِ اس کے بعد علی رضی الله عنہ کے ساتھ رہا اور ان سے ٹیڑھے سوالات کرتا رہتا تھا

کہا جاتا ہے کہ علی نے علم غیب تک رسائی کا دعوی کیا کہ یہ کہا کہ وہ جو قیامت تک جو  ہو گا وہ اس کو جانتے ہیں گویا علی الوحی سے یہ سب بتا سکتے تھے

مصنف عبد الرزاق میں ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ الْكَوَّاءِ، سَأَلَ عَلِيًّا عَنِ الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ مَا هُوَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: «ذَلِكَ الضّرَاحُ فِي سَبْعِ سَمَاوَاتٍ فِي الْعَرْشِ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
أَبَا الطُّفَيْلِ کہتے ہیں انہوں نے ابن الکواء سے سنا کہ اس نے علی سے بیت المعمور پر سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ علی نے کہا یہ شیشہ ہے سات آسمان اوپر عرش پر اس میں ہر روز ستر ہزار داخل ہوتے ہیں جو واپس نہیں پلٹتے یہاں تک کہ قیامت ہو

کتاب الجامع في الحديث لابن وهب از أبو محمد عبد الله بن وهب بن مسلم المصري القرشي (المتوفى: 197هـ) کے مطابق
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، وَحَمَّادِ بْنِ هِلَالٍ، أَنَّ ابْنَ الْكَوَّاءِ، قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: مَا قَوْسُ قُزَحَ؟ قَالَ: «لَا تَقُولُوا قَوْسَ قُزَحَ، فَإِنَّ قُزَحَ الشَّيْطَانُ، وَلَكِنْ أَمَنَةٌ مِنَ اللَّهِ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ بَعْدَ قَوْمِ نُوحٍ»
ابْنَ الْكَوَّاء نے علی رضی الله عنہ سے کہا یہ قَوْسَ قُزَحَ کیا ہے ؟ علی نے جواب دیا اس کو قَوْسَ قُزَحَ مت کہو کیونکہ   قُزَحَ شیطان ہے لیکن یہ امان ہے جو الله نے نوح کے بعد زمین والوں کو غرق ہونے سے دی

کتاب ادب المفرد از امام بخاری کی روایات ہیں
عن أبي الطفيل سأل ابن الكواء عليا رضي الله عنه عَنِ الْمَجَرَّةِ قَالَ: هُوَ شَرَجُ السَّمَاءِ، وَمِنْهَا فتحت السماء بماء منهمر.
صحيح الإسناد.
البانی نے صحیح قرار دیا ہے

الأدب المفرد پر تحقیق میں البائی کہتے ہیں یہ صحیح ہے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ سَأَلَ ابْنُ الْكَوَّا عَلِيًّا عَنِ الْمَجَرَّةِ، قَالَ: هُوَ شَرَجُ السَّمَاءِ، وَمِنْهَا فُتِحَتِ السَّمَاءُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ
[قال الألباني] : صحيح

أبي الطفيل نے ابن الکواء سے روایت کیا کہ اس نے علی رضی الله عنہ سے کہکشاں ملکی وے (جادہ شیر) پر سوال کیا – علی نے کہا یہ آسمان کی مقعد ہے اور اس میں نہر کی طرح پانی برسا

یاد رہے کہ طوفان نوح کے حوالے سے سوره القمر میں ہے کہ فُتِحَتِ السَّمَاءُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ آسمان کو کھول دیا گیا کہ اس میں سے نہر کی طرح پانی برسا

الفقيه و المتفقه از المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ) میں ہے

أناه أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ رَوْحٍ , وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ فَهْدٍ النَّهْرَوَانِيَّانِ بِهَا , قَالَا: أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَلَمَةَ الْكُهَيْلِيُّ بِالْكُوفَةِ , أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ , نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ , نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , نا مَعْمَرٌ , عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دُبَيٍّ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ , قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا , وَهُوَ يَخْطُبُ , وَهُوَ يَقُولُ [ص:352]: «سَلُونِي , وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ»
أَبِي الطُّفَيْلِ نے کہا میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا وہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے مجھ سے پوچھو اللہ کی قسم تم کوئی چیز نہ ہو گی جو قیامت تک ہو کہ وہ تم پوچھو اور میں اس کا تم سے ذکر نہ کر دوں

محقق عادل بن یوسف العزازی کہتے ہیں اسناده صحيح

اخبار مکہ از الازرقی کی روایت ہے

حَدَّثنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ أَبِي الْمَهْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: «سَلُونِي، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ، وَسَلُونِي عَنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ مَا مِنْهُ آيَةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْلَمُ أَنَّهَا بِلَيْلٍ نَزَلَتْ أَمْ بِنَهَارٍ، أَمْ بِسَهْلٍ نَزَلَتْ أَمْ بِجَبَلٍ» فَقَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ خَلْفِي، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ الْبَيْتَ الْمَعْمُورَ، مَا هُوَ؟ قَالَ: «ذَاكَ الضُّرَاحُ فَوْقَ سَبْعِ سَمَوَاتٍ تَحْتَ الْعَرْشِ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
أَبِي الطُّفَيْلِ نے کہا میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا وہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے سوال کرو الله کی قسم کوئی چیز نہ ہو گی جو قیامت تک ہو کہ تم اس کا پوچھو اور میں جواب نہ دوں اور کتاب الله کے بارے میں پوچھو الله کی قسم کوئی اس میں آیت نہیں کہ جس کو میں نہ جانتا ہوں کہ دن میں اتری یا رات میں سیدھی زمین پر اتری یا پہاڑ پر پس ابن الکواء کھڑا ہوا اور میں اس کے اور علی کے درمیان تھا اور یہ میرے پیچھے تھا کہا کیا اپ نے بیت المعمور دیکھا ہے کیا ہے یہ ؟ علی نے کہا یہ شیش ( محل) ہے سات آسمان اوپر عرش کے نیچے ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو واپس نہیں پلٹتے یہاں تک کہ قیامت ہو

کتاب جامع بيان العلم وفضله از ابن عبد البر دار ابن الجوزی کے مطابق

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَتْحٍ، نا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: ” شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ: سَلُونِي فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ وَسَلُونِي عَنْ كِتَابِ اللَّهِ؛ فَوَاللَّهِ مَا مِنْهُ آيَةٌ إِلَّا  وَأَنَا أَعْلَمُ بِلَيْلٍ نَزَلَتْ أَمْ بِنَهَارٍ أَمْ بِسَهْلٍ نَزَلَتْ أَمْ بِجَبَلٍ، فَقَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا {الذَّارِيَاتِ ذَرْوًا فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا} [الذاريات: 2] ؟ قَالَ: وَيْلَكَ سَلْ تَفَقُّهًا وَلَا تَسَلْ تَعَنُّتًا، {الذَّارِيَاتُ ذَرْوًا} [الذاريات: 1] : رِيَاحٌ، {فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا} [الذاريات: 2] : السَّحَابُ {فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا} [الذاريات: 3] : السُّفُنُ {فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا} [الذاريات: 4] : الْمَلَائِكَةُ قَالَ: أَفَرَأَيْتَ السَّوَادَ الَّذِي فِي الْقَمَرِ؟ قَالَ: أَعْمَى سَأَلَ عَنْ عَمْيَاءَ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ} [الإسراء: 12] فَمَحْوُهُ السَّوَادُ الَّذِي فِيهِ، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ ذَا الْقَرْنَيْنِ؟ أَنَبِيًّا كَانَ أَمْ مَلِكًا؟ قَالَ: لَا وَاحِدًا مِنْهُمَا وَلَكِنَّهُ كَانَ عَبْدًا صَالِحًا أَحَبَّ اللَّهَ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ وَنَاصَحَ اللَّهَ فَنَاصَحَهُ اللَّهُ، دَعَا قَوْمَهُ إِلَى الْهُدَى فَضَرَبُوهُ عَلَى قَرْنِهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْهُدَى فَضَرَبُوهُ عَلَى قَرْنِهِ الْآخَرِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الثَّوْرِ، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ هَذَا الْقَوْسَ مَا هُوَ؟ قَالَ: هِيَ عَلَامَةٌ بَيْنَ نُوحٍ وَبَيْنَ رَبِّهِ وَأَمَانٌ مِنَ الْغَرَقِ قَالَ: أَفَرَأَيْتَ الْبَيْتَ الْمَعْمُورَ مَا هُوَ؟ قَالَ: الصُّرَاحُ فَوْقَ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ  تَحْتَ الْعَرْشِ يُدْخِلَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ [ص:465] أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ: فَمَنِ الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ؟ قَالَ: هُمَا الْأَفْجَرَانُ مِنْ قُرَيْشٍ كُفِينَهُمَا يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ: فَمَنِ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا؟ قَالَ: كَانَ أَهْلُ حَرُورَاءَ مِنْهُمْ “

أَبِي الطُّفَيْلِ نے کہا میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا وہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے مجھ سے پوچھو اللہ کی قسم تم کوئی چیز نہ ہو گی جو قیامت تک ہو کہ وہ پوچھو اور میں اس کا تم سے ذکر نہ کر دوں اور کتاب الله کے بارے میں پوچھو الله کی قسم کوئی اس میں آیت نہیں کہ جس کو میں نہ جانتا ہوں  کہ دن میں اتری یا رات میں سیدھی زمین پر اتری یا پہاڑ پر پس ابن الکواء کھڑا ہوا اور میں اس کے اور علی کے درمیان تھا اور یہ میرے پیچھے تھا کہا یہ الذَّارِيَاتِ ذَرْوًا فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا} [الذاريات: 2] کیا ہے ؟ علی نے جواب دیا تیری بربادی ہو وہ سوال کر جس سے تفقہ ہو نہ کہ بھڑاس نکال- {الذَّارِيَاتُ ذَرْوًا} [الذاريات: 1] یہ ہوائیں ہیں {فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا} [الذاريات: 2] یہ بادل ہیں {فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا} [الذاريات: 3] یہ کشتیاں ہیں {فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا} [الذاريات: 4] یہ فرشتے ہیں – ابن الکواء نے کہا یہ چاند میں اپ نے دھبے دیکھے ہیں؟ علی نے کہا اندھے نے اندھے سے سوال کیا ہے کیا  تو نے قرآن میں الله کا کہا نہیں سنا ؟ {وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ} [الإسراء: 12] (پس ہم رات کی نشانی کو مٹا دیتے ہیں )تو اس میں جو مٹا دیا جاتا ہے وہ یہ دھبے ہیں ابْنُ الْكَوَّاءِ نے پوچھا اپ نے ذو القرنین کو دیکھا ، نبی ہیں کہ فرشتہ ہیں ؟ علی نے کہا ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں بلکہ صالح شخص ہیں الله سے محبت کرنے والے تو الله نے ان سے محبت کی اور … قوم کو پکارا ہدایت کی طرف تو ان کے ایک سینگ پر مارا اور پھر پکارا تو دوسرے سینگ پر مارا اور ذوالقرنین کے بیل جیسے دو سینگ نہیں تھے ابْنُ الْكَوَّاءِ نے پوچھا یہ قَوْسَ قُزَحَ کیا ہے ؟ علی نے کہا یہ نوح اور الله کے درمیان غرق ہونے سے امان کی علامت ہے ابْنُ الْكَوَّاءِ نے پوچھا کیا اپ نے بیت المعمور کو دیکھا؟ یہ کیا ہے ؟ علی نے کہا ایک شیش ( محل) ہے سات آسمان اوپر عرش کے نیچے ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو واپس نہیں پلٹتے یہاں تک کہ قیامت ہو ابْنُ الْكَوَّاءِ نے پوچھا آیت بَدَّلُوا  نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ میں یہ کون ہیں ؟ علی نے کہا قریش کے فاجر لوگ جن سے بدر کے دن بچے ابن الکواء نے پوچھا آیت الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا میں یہ کون ہیں ؟ علی نے کہا یہ اہل حَرُورَاءَ خوارج ہیں

محقق ابی الاشبال الزھیری کہتے ہیں
اسنادہ صحیح و رجاله ثقات
سند میں وهْب بن عَبد اللَّهِ بن أَبي دبي الكوفي ہے

مکتبہ عباد الرحمان سے اسی کتاب کا جو نسخہ چھپا ہے اس کے محقق ابو عبد الله محمد بن عبد الرحمان الصالح اس روایت پر کہتے ہیں
اسنادہ صحیح

امام بخاری نے بھی یہ روایت تاریخ الکبیر میں عبد الله بن وھب کے ترجمہ میں دی ہے لیکن اس کو مکمل نقل نہیں کیا صرف یہ لکھا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا مجھ کو علم ہے کون سی آیت کہاں اتری

====================================================

قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ محققین جو اہل سنت میں سے ہیں وہ ان روایات کو صحیح کہہ رہے ہیں جبکہ یہ صحیح نہیں ہیں

روایت سند سے صحیح بھی ہوں تو ان کا متن خود بخود صحیح نہیں ہو جاتا

روایت کے مطابق ابن الکواء نے پوچھا آیت الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا میں یہ کون ہیں ؟ علی نے کہا یہ اہل حَرُورَاءَ خوارج ہیں – یہ قول   صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت جہنمیوں کے بارے میں ہے اور علی نے خوارج کو کافر قرار  نہیں دیا نہ اہل سنت کے ائمہ نے ان کو کافر قرار دیا ہے- یہاں تک کہ ابن زبیر اور ابن عباس نے خوارج کو حج بھی کرنے دیا ہے

قوس قزح کو طوفان نوح کے بعد الله اور اہل ارض کے درمیان ایک امان نامہ قرار دیا گیا ہے اصلا یہ قول یہود کا ہے
کتاب پیدائش باب ٩ میں ہے

I have set my rainbow in the clouds, and it will be the sign of the covenant between me and the earth. Whenever I bring clouds over the earth and the rainbow appears in the clouds,  I  will remember my covenant between me and you and all living creatures of every kind. Never again will the waters become a flood to destroy all life.
میں نے اپنا قوس قزح بادلوں میں رکھا ہے اور یہ میرے اور زمین کے درمیان ایک عہد میثاق ہے
میں جب بھی زمیں پر بادل لاؤں گا اور قوس قزح بادلوں میں ظاہر کروں گا تو میں اپنے اور تمہارے تمام زندہ مخلوقات درمیان اس عہد کو یاد کروں گا کہ آئندہ کبھی بھی پانی سیلاب نہ بنے گا کہ تمام حیات کو برباد کر دے

یہ نظم کائنات کا تغیر ہے کیونکہ اگر قوس قزح نوح علیہ السلام کے دور سے شروع ہوا ہے تو روشنی کا انعکاس پہلے نہ ہوا ہو گا اور نہ آدم علیہ السلام نے دیکھا ہو گا جبکہ زمیں و آسمان کے اس تغیر کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث نبوی میں

بابل کی غلامی میں یہود کو قوس قزح پر یہ قول بابل سے ملا جن کی

Epic of Gilgamesh

کے مطابق دیوی اشتار

Ishtar

نے اہل ارض  سے وعدہ کے کہ ان کو  آج کے بعد طوفان سے تباہ نہ کرے گی اور وعدہ کے طور پر اپنا ہار دیا جو قوس قزح ہے

اہل کتاب کے محققین کہتے ہیں کہ کتاب پیدائش کا یہ حصہ

Priests of Temples

نے توریت میں شامل گیا کہ اس کو  اپنے حساب سے بیان کیا

اسی طرح علی رضی الله عنہ سے منسوب اس قول میں کہا گیا ہے کہ علی نے ملکی وے کہکشاں کو آسمان کی مقعد قرار دیا جس سے  طوفان نوح پر پانی نکلا  اور زمین پر آیا – یہ بھی ایک غیر سائنسی بات ہوئی کیونکہ آسمان کا پانی بادل سے اتا ہے نہ کہ ملکی وے سے

ملکی وے یا جاہ شیر کہکشاں ایک نہر ہے یہ قول قدیم فراعنہ مصر کا تھا ان کے نزدیک دریائے نیل اصل میں آسمان کی نہر ہے جو ملکی وے سے ملی ہوئی ہے – ابن الکواء نے جس طرح پانی اور ملکی وے کو ملایا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ قول عربوں میں ابن الکواء سے آیا – یاد رہے کہ خوارج مصر سے آئے تھے جو فراعنہ مصر کی تہذیب کا مقام تھا اور ابن الکواء بھی سابقہ خارجی تھا اس طرح ان کے ڈاک خانے مل جاتے ہیں

Ancient Egypt: The Light of the World Book by Gerald Massey

علی نے چاند کے گڑھوں کو مستقل قرار نہیں دیا اور کہا وہ مٹ جاتے ہیں اور آیت کی غلط تاویل بھی کی کیونکہ آیت میں چاند کی گھٹتی بڑھتی منازل کا ذکر ہے جو زمین سے نظر اتی ہیں-  چاند کے گڑھے اس پر حقیقی ہیں کالے دھبے نہیں ہیں جو مٹ جائیں

یعنی ابن الکواء یا ابی الطفیل  کے بقول علی رضی الله عنہ نے تین اقوال کہے جو فی الحقیقت غلط ہیں آج سائنس سے ہم کو  ان کا علم ہے

أبو الطفيل عامر بن واثلة الليثي بہت سے محدثین کے نزدیک صحابی نہیں – امام احمد نے کہا اس نے رسول الله کو دیکھا سنا نہیں ہے

وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا أبو سعيد مولى بني هاشم. قال: حدثني مهدي بن عمران المازني. قال: سمعت أبا الطفيل، وسئل هل رأيت رسول الله – صلى الله عليه وسلم -؟ قال: نعم، قيل: فهل كلمته؟ قال: لا. «العلل» (5822)

دارقطنی نے کہا الله کو پتا ہے کہ اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا یا نہیں

قال الدَّارَقُطْنِيّ: أبو الطفيل رأى النبي – صلى الله عليه وسلم – وصحبه، فأما السماع فالله أعلم. «العلل» 7 42.

الکامل از ابن عدی میں ان کے بارے میں لکھا ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثني صَالِحُ بْنُ أَحْمَد بْن حنبل، قَال: حَدَّثَنا علي، قَالَ: سَمِعْتُ جرير بْن عَبد الحميد، وقِيلَ لَهُ: كَانَ مغيرة ينكر الرواية، عَن أبي الطفيل؟ قَال: نَعم.

جرير بْن عَبد الحميد سے پوچھا گیا کہ مغیرہ کیا ابو الطفیل کی روایت کا انکار کرتے تھے کہا ہاں

جامع التحصیل کے مطابق

له رؤية مجردة وفي معجم الطبراني الكبير روايته عن زيد بن حارثة وهو مرسل لم يدركه

ابو طفیل نے مجرد دیکھا ہے اور معجم طبرانی میں اس کی روایت زید بن حارثہ سے ہے جو مرسل ہے اس کی ملاقات زید سے نہیں

الذھبی کے بقول انہوں نے

رَأَى النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَهُوَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ

نبی کو حجه الوداع کے موقعہ پر دیکھا

بحوالہ سير أعلام النبلاء

تاریخ دمشق کے مطابق

الأخرم: لم ترك البخاري حديث أبي الطفيل؟ قال: لأنه كان يُفرط في التشيع.

الأخرم نے کہا بخاری نے ابو طفیل کی حدیث کیوں ترک کی ؟ کہا کیونکہ یہ شیعیت میں  افراط کرتے تھے

اہل تشیع کے مطابق یہ صحابی

عامر بن واثلة ل، ى، ين (كش) كان كيسانيا يقول بحياة محمدابن الحنيفة وخرج تحت راية المختار

کیسانیہ فرقے کے تھے جو اس کے قائل ہیں کہ محمد بن حنفیہ کو موت نہیں اور یہ مختار ثقفی کے جھنڈے تلے نکلے

اہل سنت کے امام  ابن حزم نے ابو طفیل کو  صاحب راية المختار  قرار دیا ہے  بحوالہ ھدی الساری از ابن حجر

مختار ثقفی اہل سنت میں کذاب ہے اور اہل تشیع کے مطابق غلط شخص کو امام سمجھتا تھا صحیح عقیدے پر نہیں تھا

آخر میں روایت میں علی کا دعوی کہ وہ ہر اس بات کو جانتے ہیں جو قیامت تک ہو گی بھی صحیح نہیں ہوسکتا ورنہ تو یہ علی کی لیلا بن جائے گی کہ ابن ملجم آگے اتا ہے وہ نماز میں کھڑے رہتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ابن ملجم ان کو قتل کرنے کے لیے بڑھ رہا ہے

ان شواہد کی روشنی میں یہ روایت باطل متن منکر ہے

جو قول اغلبا صحیح ہے وہ صرف یہ کہ علی نے ذو القرنین پر خیال کا اظہار کیا

مشکل الآثار از طحاوی میں ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ , عَنْ بِسَامٍّ الصَّيْرَفِيِّ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: ” سَلُونِي قَبْلَ أَنْ لَا تَسْأَلُونِي , وَلَنْ تَسْأَلُوا بَعْدِي مِثْلِي ” فَقَامَ إِلَيْهِ ابْنُ الْكَوَّاءِ فَقَالَ: مَا كَانَ ذُو الْقَرْنَيْنِ , أَمَلَكٌ كَانَ أَوْ نَبِيٌّ؟ قَالَ: ” لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا وَلَا مَلَكًا , وَلَكِنَّهُ كَانَ عَبْدًا صَالِحًا , أَحَبَّ اللهَ فَأَحَبَّهُ , وَنَاصَحَ اللهَ فَنَصَحَهُ , ضَرَبَ عَلَى قَرْنِهِ الْأَيْمَنِ فَمَاتَ , ثُمَّ بَعَثَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ , ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى قَرْنِهِ الْأَيْسَرِ فَمَاتَ , وَفِيكُمْ مِثْلُهُ
ابْنُ الْكَوَّاءِ نے کہا ذُو الْقَرْنَيْنِ کون ہیں نبی یا فرشتہ ؟ علی نے کہا نہ نبی ہیں نہ فرشتہ ہیں بس نیک بندے ہیں الله سے محبت کرنے والے تو الله نے ان سے محبت کی اور الله سے مشورہ کیا تو الله نے ان کو نصیحت دی انہوں نے دائیں جانب ایک قریہ پر ضرب کی وہ ہلاک ہوئے پھر الله نے انہیں بھیجا بائیں جانب قریہ پر ضرب کی وہ بھی ہلاک ہوئے اور تمھارے درمیان ان کے جیسا موجود ہے

طحاوی نے اس روایت کو قبول کیا ہے اور علی کے قول کہ وہ ذو القرنین جیسے ہیں کی تاویل بھی کی ہے
فَقَالَ قَائِلٌ: فَفِي حَدِيثِ عَلِيٍّ الَّذِي رَوَيْتَهُ: ” وَفِيكُمْ مِثْلُهُ ” فَمَا الْمُرَادُ بِذَلِكَ مِمَّا قَدْ جُعِلَ فِيهِ مِثْلًا لِذِي الْقَرْنَيْنِ. فَكَانَ جَوَابَنَا لَهُ فِي ذَلِكَ بِتَوْفِيقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَوْنِهِ: أَنَّهُ أُرِيدَ بِهِ أَنَّهُ مِثْلٌ لِذِي الْقَرْنَيْنِ فِي دُعَائِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَفِي قِيَامِهِ بِالْحَقِّ , دُعَاءً وَقِيَامًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , كَمَا كَانَ ذُو الْقَرْنَيْنِ فِيمَا دَعَا إِلَيْهِ , وَفِيمَا قَامَ بِهِ قَائِمًا وَدَاعِيًا بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

طحاوی نے کہا : ہمارا جواب الله کی توفیق و مدد سے یہ ہے کہ علی کی مراد ہے کہ وہ ذو القرنین کی مثل ہیں الله سے دعا کرنے میں  اور حق پر قائم ہونے پر  جیسا کہ ذو القرنین حق پر قائم ہوئے اور اس کی دعوت دی روز محشر تک کے لئے

راقم کہتا ہے علی نے اہل جمل اور اہل صفیں کو شکست دی تھی لہذا  علی اگر کوفہ میں مسجد میں خطاب کر رہے تھے تو کعبہ پشت کی طرف تھا بصرہ دائیں طرف تھا جہاں اہل جمل سے لڑے اور رقہ بائیں طرف تھا جہاں اہل شام سے لڑے اس طرح علی نے اپنے اپ کو مرد صالح  ذو القرنین سے ملایا جنہوں نے دائیں اور بائیں جانب قتال کیا

 

This entry was posted in Aqaid, history. Bookmark the permalink.

5 Responses to علی ، علم غیب اور سائنسی حقائق

  1. wajahat says:

    buhat maloomati thread binaya aap nay. Allah aap ko jizaiyay khair dayy.

    • Islamic-Belief says:

      شکریہ بھائی چند دن پہلے اپ کو سخت جواب دیا اس کے لئے معذرت

      • وجاہت says:

        میں ذرا مصروف تھا اس وجہ سے یہاں پر سوالات نہیں پوچھ سکا – اصل میں میری یہ عادت ہے کہ میں ہر بات کی تہہ تک جاتا ہوں- اس وجہ سے بہت سے سوالات اسے پوچھتا ہوں – جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں

        آپ کے جوابات معلوماتی ہوتے ہیں – معذرت
        کی ضرورت نہیں ہے – آپ اپنا کام جاری رکھیں اور حق بیان کرتے رہیں

        ایک بات آپ سے پوچھنی تھے کہ آپ کی پوری ویبسائٹ کو کیسے ڈونلوڈ کیا جا سکتا ہے – کیا پتا بلاگ بند ہو جایے – اور اس بلاگ کی ساری پوسٹ جو بہت معلوماتی ہیں نہ مل سکیں

        اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ اس ویبسائٹ کو پورے کا پورا ڈونلوڈ کرنے کا بھی کوئی حل نکالیں – یہاں کی ایک ایک پوسٹ کو الگ الگ کاپی پیسٹ کرنا بہت وقت طلب ہے

        • Islamic-Belief says:

          شکریہ
          اس کا علم نہیں کہ داؤن لوڈ کس طرح کر سکتے ہیں
          یہی ہو سکتا ہے کہ موضوعات کی بنیاد پر بلاگ کو کتابی صورت دی جائے جیسے بعض موضوعات میں کیا بھی گیا ہے

  2. Naim says:

    جزاکم الله خیرا
    پلیز موضوعات کو کتابی شکل دے تا ہم دانلود کرسکے
    الله آپ کا علم مے اضافه کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *