عقیدہ عرض اعمال کا ارتقاء

قرآن الله تعالی کی طرف سے ہے اور ان تمام عقائد کی وضاحت کرتا جو ایک انسان کی اخروی فلاح کے لئے ہوں

افسوس !

عقائد میں اضافے کیے جاتے رہے صوفیا ہوں یا محدثین دونوں نے روایات کی بنیاد پر اضافے کیے ہیں

قرآن کہتا ہے

أَفَمَنۡ هُوَ قَآٮِٕمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ‌ۗ وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ۔
تو کیا جو (اللہ) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ تمہارے معبودوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ سورة الرعد ۳۳

يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ۬‌ۗ۔
ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ سورة الرعد٤۲

وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرً۬ا
اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے کیلئے کافی ہے۔ سورة بنی اسرائیل۱۷

وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔ سورة البقرہ۲۱۰

وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُ ۥ
اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ سورة ھود ۱۲۳

وَلِلَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ
اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔ سورة الحج ٤۱

وَإِلَى ٱللَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ
اور (سب)کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے ۔ سورة لقمان۲۲

أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلۡأُمُورُ
دیکھو سب کام اللہ کی طرف رجوع ہوں گے ۔ سورة الشوریٰ۵۳

اس کے برعکس رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منسوب ایک روایت پیش کی جاتی ہے
إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي قال فقالوا يا رسول اللهِ وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت قال يقولون بليت قال إن الله تبًارك وتعالى حرم على الأرض أجساد الأنبياء صلى الله عليهم
بے شک تمہارے دنوں میں جمعہ سب سے افضل ہے پس اس میں کثرت سے درود پڑھو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے – صحابہ نے پوچھا یا رسول الله یہ کیسے جبکہ اپ تو مٹی ہوں گے … رسول الله نے فرمایا بے شک الله تبارک و تعالی نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء کے جسموں کو کھائے

اس روایت کو اگر درست تسلیم کیا جائے تواس سے یہ نکلتا ہے

اول عرض اعمال قبر میں انبیاء پر ہوتا ہے

دوم رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر جمعہ کے دن قبر میں عمل پیش ہوتا ہے

سوم انبیاء کے اجسام محفوظ رہیں گے

چہارم درود رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر  زندگی میں بھی پیش ہو رہا تھا صحابہ کو اشکال وفات کےبعد والے دور پر ہوا

بعض علماء ایسی روایات کو سنتے ہی وجد میں آ گئے اور تصحیح کر بیٹھے مثلا

البانی کتاب صحیح ابی داود میں  ابن ابی حاتم کا قول پیش کرتے ہیں

وقد أعِل الحديث بعلة غريبة، ذكرها ابن أبي حاتم في “العلل ” (1/197) ،  وخلاصة كلامه: أن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر- وهو شامي- لم يحدتْ عنه  أحد من أهل العراق- كالجعفي-، وأن الذي يروي عنه أبو أسامة وحسين الجعفي واحد، وهو عبد الرحمن بن يزيد بن تميم، وهو ضعيف؛ وعبد الرحمن بن يزيد بن  جابر ثقة، وهذا الحديث منكر، لا أعلم أحداً رواه غير حسين الجعفي!  قلت: ويعني: أنه أخطأ في قوله: عبد الرحمن بن يزيد بن جابر؛ وإنما هو:  عبد الرحمن بن يزيد بن تميم؛ الضعيف! وهذه علة واهية كما ترى؛ لأن الجعفي ثقة اتفاقاً؛ فكيف يجوز تخطئته لمجرد عدم العلم بأن أحداً من العراقيين لم يحدِّث عن ابن جابر؟! وما المانع من أن يكون الجعفي العرافي قد سمع من ابن جابر حين لزل هذا البصرة قبل أن يتحول إلى دمشق، كما جاء في ترجمته؟! وتفرد الثقه بالحديث لا يقدح؛ إلا أدْ يثبت خَطَأهُ كماهو معلوم.

اور بے شک اس پر ایک انوکھی علت بیان کی جاتی ہے جس کا ذکر ابن ابی حاتم نے العلل 1/ ١٩٧ میں کیا اور خلاصہ کلام ہے کہ عبد الرحمن بن یزید بن جابر جو شامی ہے اس سے کسی عراقی نے روایت نہیں کی جیسے یہ الجعفی  – اور وہ جس سے  ابو اسامہ اور  حسين الجعفي روایت کرتے ہیں وہ اصل میں عبد الرحمن بن يزيد بن تميم  ہے جو ضعیف ہے جبکہ عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ثقہ ہے اور یہ حدیث منکر ہے جس کو سوائے حسین کے کوئی روایت نہیں کرتا

البانی کہتے ہیں میں کہتا ہوں اور اس کا مطلب ہوا کہ اس حسين الجعفي    نے عبد الرحمن بن يزيد بن جابر بولنے میں غلطی کی اور وہ عبد الرحمن بن يزيد بن تميم تھا جو ضعیف ہے (حد ہو گئی) اور ابی حاتم کی پیش کردہ علت واہیات ہے جیسے کہ دیکھا کیونکہ یہ الجعفي  ثقہ بالاتفاق ہے اور یہ کیسے جائز ہے کہ ایک لا علمی پر مجرد غلطی کہا جائے کہ کسی عراقی نے ابن جابر سے روایت نہیں کیا ہے؟ اور اس میں کچھ مانع نہیں کہ عراقی الجعفي  نے ابن جابر سے سنا ہو جب بصرہ گئے دمشق سے پہلے جیسا کہ ان کے ترجمہ میں ہے اور ثقہ کا تفرد حدیث میں مقدوح نہیں

البانی کا مقصد ہے کہ حسين الجعفي  جو کوفی تھا ممکن ہے کبھی بصرہ میں اس کی ملاقات عبد الرحمان بن یزید بن جابر سے ہوئی ہو- ایسے ممکنات کو دلیل بناتے ہوئے البانی اس کی تصحیح کے لئے بے چین ہیں اور حد ہے کہ ائمہ حدیث ابی حاتم تک پر جرح کر رہے ہیں اور ان کے قول کو واھی کہہ رہے ہیں- باقی امام بخاری کی رائے بھی ابی حاتم والی ہی ہے اس کو خوبصورتی سے گول کر گئے

البانی کے عقائد پر کتاب موسوعة العلامة الإمام مجدد العصر محمد ناصر الدين الألباني  کے مطابق البانی  اس روایت کی دلیل پر ایک دوسری روایت بھی پیش کرتے ہیں

ولعل مما يشير إلى ذلك قوله صلى الله عليه وسلم: “ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام”   وعلى كل حال فإن حقيقتها لا يدريها إلا الله سبحانه وتعالى، ولذلك فلا يجوز قياس الحياة البرزخية أو الحياة الأخروية على الحياة الدنيوية

اور ہو سکتا ہے کہ اسی بات پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کے  قول  میں اشارہ دیا گیا کہ   تم میں کوئی ایسا نہیں جو مجھ پر سلام پڑھے اور الله میری روح کو نہ لوٹا دے اور ہر حال میں حقیقت الله ہی جانتا ہے اور اس لئے یہ جائز نہیں کہ حیات برزخی یا اخروی کو دنیاوی پر قیاس کیا جائے

سلام بولنے پر روح لوٹانے والی روایت کو اہل حدیث علماء خواجہ محمّد قاسم اور زبیر علی زئی رد کرتے ہیں جبکہ البانی اسی کو دلیل میں پیش کر رہے ہیں –  ابن کثیر تفسیر میں سورہ الاحزاب  میں اس سلام پر روح لوٹائے جانے والی روایت کو صحیح کہتے ہیں اور دلیل بناتے ہوئے لکھتے ہیں

وَمِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ الصَّلَاةُ والسلام عليه عند زيارة قبره صلى الله عليه وسلم

اور اس لئے یہ مستحب ہے کہ  زيارة قبر نبی صلى الله عليه وسلم  کے وقت  الصَّلَاةُ والسلام کہے

عرض اعمال والی روایت کو صحیح کہنے والے ابو داود کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اس پر سکوت کیا ہے اور ان سے منسوب ایک خط میں انہوں نے کہا کہ قد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح  جس پر بھی میں سکوت کروں وہ صحیح سمجھی جائے –اس کے برعکس البانی اس قول کو خاطر میں نہیں لاتے اور پوری ایک کتاب ضیف ابو داود تالیف کر بیٹھے جس میں اکثر وہ روایات ہیں جن پر ابو داود کا سکوت ہے

سوال یہ ہے کہ یہ تضاد کیوں ہے عقیدے کی ضعیف سے ضعیف روایت پر ابو داود کے سکوت کا حوالہ دینا اور قبول کرنا اور  عمل میں انہی کو رد کرنا

عرض اعمال والی درود پیش ہونے والی روایت پر ابن حبان کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس کو صحیح میں لکھا ہے – ابن حبان چوتھی صدی ہجری کے محدث ہیں ان سے ایک   صدی قبل بخاری اور ابی حاتم اس روایت کو معلول قرار دے چکے تھے لیکن وہ اس کی تصحیح کر بیٹھے – اس کی وجہ ابن حبان کا اپنا عقیدہ ہے کہ قبروں کے پاس دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ابن حبان سماع الموتی کے قائل تھے

 ابن حبان المتوفی  ٣٥٤ ھ   اپنی صحیح میں روایت کرتے  ہیں

 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا مَرَرْتُمْ بِقُبُورِنَا وَقُبُورِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ

ابو هُرَيْرَةَ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا  جب تم ہماری (اہل اسلام) اور اہل الْجَاهِلِيَّةِ کی قبروں پر سے گزرتے ہو تو پس ان کو خبر دو کہ وہ اگ والے ہیں

البانی کتاب التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه میں  کہتے ہیں صحيح اور اسی طرح – «الصحيحة» (18)، «أحكام الجنائز» (252) میں اس کو صحیح قرار دیتے ہیں

ابن حبان اس حدیث پر صحیح ابن حبان میں حاشیہ لکھتے ہیں

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ، أَنْ يَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا عَلَى هِدَايَتِهِ إِيَّاهُ الْإِسْلَامَ، بِلَفْظِ الْأَمْرِ بِالْإِخْبَارِ إِيَّاهُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ مَنْ قَدْ بَلِيَ بِمَا لَا يَقْبَلُ عَنِ الْمُخَاطِبِ بِمَا يُخَاطِبُهُ بِهِ

  نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا اس حدیث میں کہ جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی قبر پر سے گزرے تو الله کی تعریف کرے اس ہدایت پر جو اس نے اسلام سے دی اور حکم کے الفاظ جو اس حدیث میں ہیں کہ وہ اگ میں سے ہیں سے یہ محال ہے کہ ان  کو مخاطب کیا جائے جو بے شک (اتنے) گل سڑ گئے ہوں کہ  خطاب کرنے والے (کی اس بات ) کو قبول نہ کر سکتے ہوں جس پر ان کو مخاطب کیا گیا ہے

ابن حبان کے حساب سے ایسا خطاب نبی صلی الله علیہ وسلم نے سکھایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے سمجھنے اور سننے کے قابل  ہیں اس ضعیف روایت کو اپنی صحیح  میں بھی لکھتے ہیں اس سے بھی عجیب بات ہے کہ مردوں کے نہ سننے کے قائل البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں جبکہ سندا یہ روایت کمزور ہے

ابن حبان مردوں کے سننے کے قائل  تھے اور نیک و صالحین کی قبور پر جا کر دعا کرتے اور وہ ان کے مطابق قبول بھی ہوتی

وما حلت بي شدة في وقت مقامي بطوس, فزرت قبر علي بن موسى الرضا صلوات الله على جده وعليه ودعوت الله إزالتها عني إلا أستجيب لي, وزالت عني تلك الشدة, وهذا شيء جربته مرارا, فوجدته كذلك
طوس میں قیام کے وقت جب بھی مجھے کوئی پریشانی لاحق ہوئی ،میں نے (امام) علی بن موسی الرضا صلوات الله على جده وعليه کی قبرکی زیارت کی، اور اللہ سے اس پریشانی کے ازالہ کے لئے دعاء کی ۔تو میری دعاقبول کی گئی،اورمجھ سے وہ پریشانی دورہوگئی۔اوریہ ایسی چیز ہے جس کامیں نے بارہا تجربہ کیا تو اسی طرح پایا

[الثقات لابن حبان، ط دار الفكر: 8/ 456]

 قبروں سے فیض حاصل کرنے اور مردوں کے سننے کے ابن حبان قائل تھے

شیعہ اماموں کی قبروں سے اہلسنت کے محدثین کا فیض حاصل کرنا کسی شیعہ نے لکھا ہوتا تو سب رافضی کہہ کر رد کر دیتے لیکن یہ ابن حبان خود لکھ رہے ہیں – اس ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے وہ صحیح ابن حبان میں عرض اعمال کی روایت کی تصحیح کر گئے

عرض اعمال والی  روایت کو پانچویں صدی کے  امام حاکم نے بھی صحیح قرار دیا اور شیخین کی شرط پر کہا جبکہ بخاری تاریخ الکبیر اور الصغیر میں اس روایت کے راوی حسین الجعفی پر بات کر چکے ہیں – امام حاکم خود شیعیت کی طرف مائل ہوئے اور حدیث طیر کو صحیح کہتے تھے کہ علی سب صحابہ سے افضل ہیں

چوتھی صدی کے امام دارقطنی (المتوفى: 385هـ) بھی حرم علی الازض والی روایت کی تصحیح کر گئے حالانکہ اپنی کتاب العلل میں ایک روایت پر لکھتے ہیں

وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَوَهِمَ فِي نَسَبِهِ، وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ

اور اس کو ابو اسامہ نے روایت کیا ہے اور کہا ہے عبد الرحمان بن یزید بن جابر اور اس کے نسب میں وہم کیا اور یہ تو بے شک عبد الرحمان بن یزید بن تمیم ہے

یعنی دارقطنی یہ مان رہے ہیں کوفی ابو اسامہ نے عبد الرحمن بن یزید  کے نسب میں غلطی کی لیکن اس کو حسین الجعفی کے لئے نہیں کہتے جو بالکل یہی غلطی کر رہا ہے

آٹھویں صدی کے ابن تیمیہ اور ابن قیم نے ایسی روایات کی بھرپور تائید کی

حسين بن علي الجعفي صحيح بخاري کے راوی ہیں لیکن امام بخاری کے نزدیک ان کی تمام روایات صحیح نہیں ہیں اور یہ غلطی نسب میں کر گئے ہیں اور عبد الرحمان بن یزید بن تمیم کو ابن جابر کہہ گئے

حسین بن علی الجعفي کے لئے ابن سعد طبقات میں لکھتے ہیں

وَكَانَ مَأْلَفًا لِأَهْلِ الْقُرْآنِ وَأَهْلِ الْخَيْرِ

اور یہ اہل قرآن اور اہل خیر کی طرف مائل تھے

الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ مُحَمَّدُ بنُ رَافِعٍ کہتے ہیں

وَكَانَ رَاهِبَ أَهْلِ الكُوْفَةِ.

اور یہ اہل کوفہ کے راھب تھے

اور يَحْيَى بنُ يَحْيَى التَّمِيْمِيُّ  کے مطابق

إِنْ كَانَ بَقِيَ مِنَ الأَبْدَالِ أَحَدٌ، فَحُسَيْنٌ الجُعْفِيُّ

اگر ابدال میں سے کوئی رہ گیا ہے تو وہ  حُسَيْنٌ الجُعْفِيُّ ہیں

صحیح مسلم کے مقدمے میں امام مسلم  لکھتے ہیں کہ اہل خیر کے بارے میں ائمہ محدثین کی رائے اچھی نہیں تھی

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْءٍ أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ»   قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ: فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، «لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْءٍ أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ». قَالَ مُسْلِمٌ: ” يَقُولُ: يَجْرِي الْكَذِبُ عَلَى لِسَانِهِمْ، وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْكَذِبَ

حسین بن علی  الجعفی کا روایت میں غلطی کرنا ان کا اہل خیر کی طرف مائل ہونا اور لوگوں کا ان کو ابدال کہنا اور راہب کوفہ کہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ زہد کی طرف مائل تھے اور روایت جب عبد الرحمان بن یزید بن تمیم سے سنی تو اس قدر پسند آئی کہ اس کے متن اور عبد الرحمان سے اس کا پورا نسب تک نہ جانا اور بیان کر دی

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات محدثین نے صرف ان کے لئے کی ہے نہیں ائمہ محدثین تو نسب میں غلطیاں بہت سے راویوں سے منسوب کرتے ہیں جس کے لئے کتب تک موجود ہیں لہذا بخاری  اور ابی حاتم جیسے پائے کے محدثین کی رائے کو لفاظی کر کے رد نہیں کیا جا سکتا

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *