زمین اور تحت الثری کا بیل

آج سائنس کی دنیا ہے اور بہت سے لوگ قرآن و سائنس کو ملا کر دین کی حقانیت ثابت کرتے ہیں – سائنس  میں کلیات کے ساتھ ساتھ  ارتقائی  تجزیے بھی ہوتے ہیں-  کچھ تحقیقی زوایے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں – یعنی قرآن کو سائنس سے ملا کر سمجھنا صحیح نہیں الا یہ کہ اس پر بصری شواہد آ جائیں مثلا زمین گول ہے آج  خلا سے اس کی تصویر لی جا چکی ہے لہذا اس کو تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے – لیکن کسی تھیوری کو قرآن سے ملانا  جو خود حتمی نہ ہو غلط عمل ہے- زمینی حقائق کی طرف مسلمانوں نے  سائنسی انداز میں تحقیق کی ہے جن کو فلسفی اور ملحد کہا گیا

بصرہ عراق کی فضا نرالی تھی یہاں محدثین میں سے حسن البصری کے شاگردوں میں سے  عمرو بن عبید نکلا  جو ایک محدث تھا اور اس نے المعتزلہ کی بنیاد رکھی  (واصل بن عطا اس کا شاگرد تھا)- اسی طرح یہاں سے اخوان الصفا نکلے جو فلسفہ یونان اور حکمت ہند کو دین سے ملا کر رسائل لکھ رہے تھے- اخوان الصفا  ایک خفیہ سوسائٹی تھی جس کا تعلق بصرہ سے تھا ان کو شوق تھا کہ اس دور کی سائنس سے دین کو ثابت کیا جائے – ان کے خیال میں شاید اسطرح دین کی قبولیت عامہ بڑھ  جاتی – لہذا یہ عمل بادی النظر میں مستحسن تھا لیکن وقت نے ان دونوں کو فنا کر دیا– دوسری طرف جب آپ دین کی بات کرتے ہیں تو اس میں علماء کا ایک گروہ روایت پسندی کا شکار ہے

سبحان الله – الله سے سوا کون  بے عیب ہے ؟  تحت الثری  پر روایات اور علماء  کیا کہتے ہیں دیکھتے ہیں

اہل سنت کی کتب

تفسیر الطبری ج ٢٣ ص ٥٢٤ میں ہے

حدثنا واصل بن عبد الأعلى، قال: ثنا محمد بن فُضَيل، عن الأعمش، عن أبي ظبيان، عن ابن عباس قال: “أوّل ما خلق الله من شيء القلم، فقال له: اكتب، فقال: وما أكتب؟ قال: اكتب القدر، قال فجرى القلم بما هو كائن من ذلك إلى قيام الساعة، ثم رفع بخار الماء ففتق منه السموات، ثم خلق النون فدُحيت الأرض على ظهره، فاضطرب النون، فمادت الأرض، فأُثبتت بالجبال فإنها لتفخر على الأرض

أبي ظبيان ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں سب سے پہلی چیز جو الله نے خلق کی وہ قلم ہے پس اس کو حکم دیا لکھ – قلم نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ پس قلم لکھنا شروع ہوا جو بھی ہو گا قیامت تک پھر اس کی سیاہی کے بخارت آڑ گئے جس سے آسمان بن گئے پھر النون کو تخلیق کیا جس پر زمین کو پھیلا دیا پھر النون پھڑکی جس سے زمین ڈگمگائی پس پہاڑ جما دیے

حصين بن جندب أبو ظبيان الجنبي کا سماع ابن عباس سے ثابت کہا جاتا ہے انہوں نے یزید بن معاویہ کے ساتھ القُسْطَنْطِيْنِيَّةَ پر حملہ میں شرکت کی – سند میں الأعمش ہے جو مدلس ہے اور اس بنیاد پر یہ روایت ضعیف ہے

الأعمش صحیحین کا بھی راوی ہے اور یہ مثال ہے کہ صحیحین کے راویوں کی تمام روایات صحیح نہیں ہیں

سوره القلم کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتے ہیں

وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ يُقَالُ النُّونُ الْحُوتُ الْعَظِيمُ الذي تحت الأرض السابعة، وقد ذكر الْبَغَوِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ إِنَّ عَلَى ظَهْرِ هذا الحوت صخرة سمكها كغلظ السموات وَالْأَرْضِ، وَعَلَى ظَهْرِهَا ثَوْرٌ لَهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ قَرْنٍ وَعَلَى مَتْنِهِ الْأَرَضُونَ السَّبْعُ وَمَا فِيهِنَّ وما بينهن، والله أَعْلَمُ.

اور ابن أَبِي نَجِيحٍ نے کہا کہ ان کو ابراہیم بن بکر نے خبر دی کہ مجاہد نے کہا وہ (لوگ) کہا کرتے النون ایک عظیم مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے اور البغوی نے ذکر کیا اور مفسرین کی ایک جماعت نے کہ اس مچھلی کے پیچھے چٹان ہے جیسے زمین و آسمان ہیں اور اس کے پیچھے بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں    

سند میں إِبْرَاهِيم بْن أَبي بكر، الأخنسيُّ  کا  حال مستور ہے

کسی دور میں مسلمانوں میں یہ روایت چل رہی تھی چاہے شیعہ ہوں یا سنی ہوں کافی بعد میں انکا رد کیا گیا

مثلا  ابو حیان نے تفسیر میں اس کو بے اصل بات کہا اسی طرح اللؤلؤ المرصوع فيما لا أصل له أو بأصله موضوع

میں  القاوقجي (المتوفى: 1305هـ) نے اس کو موضوع روایت کہا – ابن قیم نے کتاب المنار المنيف في الصحيح والضعيف میں اسکو الْهَذَيَانَاتِ کہا ہے- جو بات سند سے ہو اس کو محض الْهَذَيَانَاتِ کہہ کر سلف کے محدثین کا رد کرنا اور راوی پر بحث نہ کرنا بھی عجیب ہے دوم جب یہ الْهَذَيَانَاتِ  میں سے تھی  تو ابن کثیر نے اسکو تفسیر جیسی چیز میں شامل کیوں کیا

حیرت ہے کہ بہت سی اسلامی ویب سائٹ پر اس کو آج تک حدیث رسول کہہ کر اس کا دفاع کیا جا رہا ہے دوسری طرف عیسائی مشنری اس کو تنقید کے طور پر پیش کر رہے ہیں

مستدرک الحاکم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ الْأَرَضِينَ بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ إِلَى الَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ فَالْعُلْيَا مِنْهَا عَلَى ظَهْرِ حُوتٍ قَدِ التَّقَى طَرَفَاهُمَا فِي سَمَاءٍ، وَالْحُوتُ عَلَى ظَهْرِهِ عَلَى صَخْرَةٍ، وَالصَّخْرَةُ بِيَدِ مَلَكٍ، وَالثَّانِيَةُ مُسَخَّرُ الرِّيحِ، فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُهْلِكَ عَادًا أَمَرَ خَازِنَ الرِّيحِ أَنْ يُرْسِلَ عَلَيْهِمْ رِيحًا تُهْلِكُ عَادًا، قَالَ: يَا رَبِّ أُرْسِلُ عَلَيْهِمُ الرِّيحَ قَدْرَ مِنْخَرِ الثَّوْرِ، فَقَالَ لَهُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِذًا تَكْفِي الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا، وَلَكِنْ أَرْسِلْ عَلَيْهِمْ بِقَدْرِ خَاتَمٍ، وَهِيَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ الْعَزِيزِ: {مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ} [الذاريات: 42] ، وَالثَّالِثَةُ فِيهَا حِجَارَةُ جَهَنَّمَ، وَالرَّابِعَةُ فِيهَا كِبْرِيتُ جَهَنَّمَ ” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِلنَّارِ كِبْرِيتٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ فِيهَا لَأَوْدِيَةٌ مِنْ كِبْرِيتٍ لَوْ أُرْسِلَ فِيهَا الْجِبَالُ الرُّوَاسِي لَمَاعَتْ، وَالْخَامِسَةُ فِيهَا حَيَّاتُ جَهَنَّمَ إِنَّ أَفْوَاهَهَا كَالْأَوْدِيَةِ تَلْسَعُ الْكَافِرَ اللَّسْعَةَ فَلَا يَبْقَى مِنْهُ لَحْمٌ عَلَى عَظْمٍ، وَالسَّادِسَةُ فِيهَا عَقَارِبُ جَهَنَّمَ إِنَّ أَدْنَى عَقْرَبَةٍ مِنْهَا كَالْبِغَالِ الْمُؤَكَّفَةِ تَضْرِبُ الْكَافِرَ ضَرْبَةً تُنْسِيهِ ضَرْبَتُهَا حَرَّ جَهَنَّمَ، وَالسَّابِعَةُ سَقَرُ وَفِيهَا إِبْلِيسُ مُصَفَّدٌ بِالْحَدِيدِ يَدٌ أَمَامَهُ وَيَدٌ خَلْفَهُ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُطْلِقَهُ لِمَا يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَطْلَقَهُ» هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو السَّمْحِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ وَقَدْ ذَكَرْتُ فِيمَا تَقَدَّمَ عَدَالَتَهُ بِنَصِّ الْإِمَامِ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ “

عبد الله بن عمرو نے کہا نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : زمینیں ایک مچھلی کی پیٹھ پر ہیں

امام حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور الذھبی نے منکر

سوال ہے کہ ٤٠٠ سے ٨٠٠ ہجری تک جو امام حاکم اور الذھبی کے بیچ کا دور ہے لوگ اس روایت پر کیا کہتے تھے؟

شیعہ کتب

الكافي – از الكليني – ج 8 – ص  89 کی روایت ہے

 حديث الحوت على أي شئ هو   55 – محمد ، عن أحمد ، عن ابن محبوب ، عن جميل بن صالح ، عن أبان بن تغلب ، عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) قال : سألته عن الأرض على أي شئ هي ؟ قال : هي على حوت ، قلت : فالحوت على أي شئ هو ؟ قال : على الماء ، قلت : فالماء على أي شئ هو ؟ قال : على صخرة ، قلت : فعلى أي شئ الصخرة ؟ قال : على قرن ثور أملس  ، قلت : فعلى أي شئ الثور ؟ قال : على الثرى ، قلت : فعلى أي شئ الثرى ؟ فقال : هيهات عند ذلك ضل علم لعلماء    

باب  مچھلی کی حدیث کہ یہ کس پر ہے ؟ محمد ، احمد سے وہ ابن محبوب سے وہ جمیل بن صالح سے وہ ابان بن تغلب سے وہ ابی عبد الله امام جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں ابان نے امام سے زمین کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس چیز پر ہے ؟ امام نے فرمایا مچھلی پر میں نے پوچھا یہ مچھلی کس چیز پر ہے ؟ فرمایا پانی پر میں نے پوچھا پانی کس پر ہے ؟ فرمایا چٹان پر میں نے پوچھا اور چٹان کس چیز پر ہے ؟ فرمایا چکنے بیل کے سینگ پر  اس پر پوچھا بیل کس چیز پر ہے کہا یہ الثری پر ہے میں نے پوچھا الثری ؟ پس فرمایا دور بہت دور! علماء کا علم پر پر ضائع ہو گیا

اس پر حاشیہ لکھنے والے لکھتے ہیں

في هذا الحديث رموز إنما يحلها من كان من أهلها . ( في ) وذلك لان حديثهم صعب مستصعب

اس حدیث میں رموز ہیں جن کو وہی حل کر سکتا ہے جن میں اہلیت ہو اور انکی حدیث الجھی ہوئی مشکل ہے

یہ روایت تفسیر قمی میں بھی ہے اور صدوق نے اسکو قبول کیا ہے البتہ مفید نے اس کی صحت  پر شک کیا ہے

اس قسم کی روایات سے باطنی شیعوں کے مطابق تاویل کا علم نکلتا ہے

زمیں ایک بیل کے سنگ پر ہے ہمالیہ کے ہندووں کا بھی عقیدہ ہے

Hindus of the Himalayas: Ethnography and Change page 105  By Gerald Duane Berreman

Himalayan Heritage page 123 By J. P. Singh Rana

گویا کسی دور میں یہ بات بہت پھیلی ہوئی تھی

آئیں ہم تحت الثری میں اترتے ہیں زمین کی سطح کے نیچے ترتیب یہ ہے

مچھلی

پانی

چٹان

بیل کے سینگ

یہ اصلا اشارت ہیں برجوں کی طرف لہذا مندرجہ ذیل برج ترتیب میں اتے ہیں

مچھلی – برج حوت

پانی – برج دلو

چٹان – برج الحمل

چکنے بیل کے سینگ – برج ثور

الحمل کے عربي میں کئی مفھوم ہیں ان میں دنبہ اور وزن بھی ہے اسی سے  عربی اور اردو میں  حمل ٹہرنا کہا جاتا ہے  پاؤں بھاری ہونا کہا جاتا ہے لہذا چٹان کو وزن کی وجہ سے  برج الحمل سے نسبت دی گئی ہے

زمین کسی دور میں گول نہیں سمجھی جاتی تھی بلکہ چپٹی سمجھی جاتی تھی اور اس کے نیچے سمجھا جاتا تھا کہ برج ہیں جو آسمان پر نمودار ہوتے ہیں – اوپر روایات میں  برجوں کی ترتیب تمثیلی انداز میں سمجھائی گئی ہے

الغرض نہ المعتزلہ کا طریقه صحیح تھا نہ روایت پسند علماء کا اور یہ بات آج ہم سمجھ سکتے ہیں – افسوس  جب ابن کثیر اس قسم کی روایت کو لکھ رہے تھے وہ اس کو سمجھ نہیں سکے

گرمی سردی کا سورج اور سورج کا قطر

مفسرین مثلا قرطبی الوسی وغیرہ نے ایک اثر نقل کیا ہے جس کے مطابق

تفسیر القرطبی، تفسیر آیت 71:16
وقيل لعبد الله بن عمر: ما بال الشمس تَقْلِينا أحياناً وتَبْرُد علينا أحياناً؟ فقال: إنها في الصيف في السماء الرابعة، وفي الشتاء في السماء السابعة عند عرش الرحمن، ولو كانت في السماء الدنيا لما قام لها شيء.
اور عبداللہ ابن عمر سے سورج کے متعلق پوچھا گیا کہ یہ بعض مرتبہ جھلسا دینے والا گرم ہوتا ہے اور کبھی راحت پہنچانے والی گرمی دے رہا ہوتا ہے۔ اس پر ابن عمر نے کہا: بے شک گرمی کے موسم میں سورج چوتھے آسمان میں ہوتا ہے ، جبکہ سردیوں کے موسم میں یہ ساتویں آسمان پر اللہ کے عرش کے قریب چلا جاتا ہے۔ اور اگر سورج اس دنیا کے آسمان میں آ جائے تو اس دنیا میں کوئی چیز نہ بچے۔

اس اثر کو و جعل الشمس سراجا کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے لیکن اس کی سند نہیں ملی

اسی طرح ایک اور قول تفسير القرطبي میں  ہے

وحكى القشيري عن ابن عباس أن الشمس وجهها في السموات وقفاها في الأرض

اور القشیری نے حکایت کیا ہے  ابن عباس سےکہ سورج کا چہرہ آسمانوں کی طرف اور پشت زمین کی طرف ہے

اسکی سند  کتاب العظمة از ابو الشیخ ، مستدرک الحاکم میں ہے

 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا} [نوح: 16] قَالَ: «قَفَاهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ، وَوَجْهُهُ مِمَّا يَلِي السَّمَاءَ

اس کی سند میں  يوسف بن مهران ہے الميموني کہتے ہیں امام احمد اس کے لئے کہتے لا یعرف نہیں جانتا

یعنی یہ ایک مجھول شخص ہے جس سے صرف  علي بن زيد نے روایت لی ہے

امام الحاکم اس کو امام مسلم کی شرط پر کہتے ہیں جو صحیح نہیں اور حاکم غلطیاں کرنے کے لئے مشھور ہیں

امام بخاری تاریخ الکبیر میں یوسف کے لئے لکھتے ہیں وكَانَ يهوديا فأَسلَمَ. یہ یہودی تھے پھر مسلمان ہوئے

بہت سے اقوال یہود کی کتب کے ہمارے پاس اس وجہ سے آئے اور ان کو اسرائیلیت کہا جاتا ہے اگر وہ کسی نبی کی عجیب و غریب خبر ہو لیکن جب کائنات و تکوین کی خبر ہوتی تھی تو اس کو مفسرین لکھ لیتے تھے کیونکہ اس پر تفصیل کم  تھی

اسی کتاب العظمة کی دوسری روایت ہے

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا} [نوح: 16] قَالَ: «وَجْهُهُ يُضِيءُ السَّمَاوَاتِ، وَظَهْرُهُ يُضِيءُ الْأَرْضَ

قتادہ ابن عبّاس سے روایت کرتے ہیں کہ چاند  کا چہرہ آسمانوں کو روشن کرتا ہے اور اسکی پشت زمین کو روشن کرتی ہے

سند میں قتادہ مدلس ہے عن سے روایت کرتا ہے لہذا روایت ضعیف ہے

مفسرین نے ان روایات کو تفسیر میں لکھا ہے جبکہ یہ صحیح نہیں ہیں

شیعہ کتاب علل الشرائع میں ہے

سأل رجل من أهل  الشام أميرالمؤمنين عليه السلام عن مسائل فكان فيما سأله أن سأله عن أول ما خلق الله تعالى  قال : خلق النور ، وسأله عن طول الشمس والقمر وعرضهما ، قال : تسعمائة فرسخ  في تسعمائة فرسخ

اہل شام میں سے کسی شخص نے علی علیہ السلام سے پوچھا کہ سورج اور چند کا عرض کتنا ہے؟ علی نے کہا ٩٠٠ فرسنگ

ایک فرسنگ ٥.٧ میٹر کا ہوتا ہے اور سورج و چاند کا یہ عرض نہیں ہے

تفسیر قمی میں ہے علی نے کہا سورج والشمس ستون فرسخا في ستين فرسخا یعنی ٦٠ فرسنگ اس کا قطر ہے

جس دور میں یہ کتب لکھی جا رہی تھیں اس دور میں ان مخصوص روایات کو رد کرنے کی کوئی دلیل نہیں تھی لہذا ان کو لکھ دیا گیا آج ہم سمجھ سکتے ہیں کہ رآویوں نے غلطیاں کی ہیں

 افسوس بعض جہلاء  کہتے ہیں کہ یہ تفسیری ضعیف روایات رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے گھڑیں! محدثین نے اگر تین ہزار روایات لکھی ہیں تو ٥٠ ہزار سے اوپر رد بھی کی ہیں اور یہ بات معروف ہے کہ لوگوں نے رسول الله پر جھوٹ باندھا اور راویوں کا حافظہ خراب ہوا  کیا- آج لوگوں کا حافظہ خراب نہیں ہوتا یا وہ اختلاط کا شکار نہیں ہوتے ؟

شہاب ثاقب

قرآن کہتا ہے

تم کو کا پتا طارق کیا ہے؟ ایک بھڑکتا ہوا تارہ ہے

اس پر ایک ملحد لکھتے ہیں کہ یہ غلط ہے شہاب ثاقب   صرف ٹوٹے ہوئے تارے ہیں

آج سے ١٤٠٠ سال پہلے عربی زبان اتنی وسیع نہیں تھی کہ اس طرح کی تمام جزیات کو وہ اسی سائنسی پیرائے میں بیان کرتی جس طرح ہم سننے کے عادی ہیں

جو  چٹان بھی زمین کے گرد تھی اور اس کی فضا میں داخل نہیں تھی وہ تارہ کہی گئی کیونکہ عربی میں اس کا متبادل لفظ نہیں تھا

سورج کا پانی میں ڈوبنا

قرآن میں سوره الکھف میں ہے کہ ذو القرنین زمین فتح کرتے کرتے ایک ایسے مقام تک آیا جہاں

 حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِ‌بَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُ‌بُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ

یہاں تک کہ جب سورج غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے

 اس پر بعض کا اعتراض ہے کہ یہ غیر سائنسی بات ہے- جی بات غیر سائنسی ہے لیکن ادبی ہے –  یہ آیت  شاہد یا آبزرور کی اپروچ سےبیان ہو رہی ہے ایسا سائنس میں بھی ہوتا ہے کہ آبزرور کس مقام سے دیکھ رہا ہے اور اس سے کیا سمجھا جا سکتا ہے

خود ہمارے سامنے ہر روز سورج غروب ہوتا ہے جو زمین یا سمندر میں اترتا لگتا ہے  ادب میں بھی اس کو لکھا جاتا ہے

ذو القرنین جس ندی پر پہنچے اس  کی وسعت اس قدر تھی کہ یہ منظر دیکھا

زمین کو بچھایا

قرآن 15:19

والارض مددناها والقينا فيها رواسي وانبتنا فيها من كل شئ موزون

ترجمہ: اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس پر پہاڑ رکھ دیے اوراس میں ہر چیز اندازے سے اگائی

 قرآن 20:53

الذي جعل لكم الارض مهدا وسلك لكم فيها سبلا وانزل من السماء ماء فاخرجنا به ازواجا من نبات شتى

ترجمہ: جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس میں طرح طرح کی مختلف سبزیاں نکالیں

 قرآن 43:10

الذي جعل لكم الارض مهدا وجعل لكم فيها سبلا لعلكم تهتدون

ترجمہ: وہ جس نے زمین کو تمہارا بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ

قرآن 50:7

والارض مددناها والقينا فيها رواسي وانبتنا فيها من كل زوج بهيج

ترجمہ: اور زمین کو بچھایا ہم نے اور ڈال دیے اس میں (پہاڑوں کے) لنگر اور اگائیں اس میں ہرطرح کی خوش منظر نباتات۔

 قرآن 51:48

والارض فرشناها فنعم الماهدون

ترجمہ: اور زمین کو بچھایا ہے ہم نے اور کیا ہی اچھے ہموار کرنے والے ہیں ہم۔

 قرآن 71:19
والله جعل لكم الارض بساطا
ترجمہ: اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا۔

قرآن 78:6
الم نجعل الارض مهادا
ترجمہ: کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا۔

 قرآن 88:20
والى الارض كيف سطحت
ترجمہ: اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟

 قرآن 91:6
والارض وماطحاها
ترجمہ: اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا۔

الله نے زمین کو  ہموار بھی کیا تاکہ انسان اس پر آرام سے چل سکیں اگر چاہتا تو تمام زمین اوپر نیچے کر دیتا اور انسان پہاڑوں کو عبور کرتے رہتے لہذا الله اپنا احسان بتا رہا ہے کہ اس نے انسانوں کے لئے آسانی کی دی

ہم جانتے ہیں اس زمین پر پہاڑ ہیں سمندر ہیں جن پر ہم چل نہیں سکتے لیکن ان کے اپنے فوائد ہیں

الغرض  سائنس ایک تجرباتی و مشاہداتی و ارتقائی علم ہے اس کو اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے – قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کو عرب کے فضلا سے لے کر  عام عربی بد و تک نے قبول کیا تھا  قرآن نظم کائنات کا وہ نظریہ پیش کرتا ہے جو اس کو دین سے جوڑتا ہے نہ یہ فلسفہ کی بات کرتا ہے نہ منطق کی نہ سائنس کی

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *