رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ

الله تعالی نے فرمایا

ومِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کوخلق کیا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو

اور الله تعالی  نے  سوره الحج میں فرمایا

الَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ

کیا تم دیکھتے نہیں الله کو سجدہ کر رہے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے ایسے جن پر عذاب ثبت ہو چکا …

قرآن میں اصول بیان ہوا ہے کہ غیر الله کو سجدہ حرام ہے اور یہ اس وقت بھی حرام تھا جب انسان نہ تھا –  بعض گمراہ لوگ اس آیت کی تاویل کرتے ہیں کہ اگر سجدہ تعظیمی کیا جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم الله کی عبادت کرتے ہیں اور سجدہ تعظیمی کرتے وقت ہماری نیت عبادت کی نہیں ہوتی

یہ بھی کہتے ہیں کہ  سجدہ تعظیمی تقوے سے بھرپور ایک عمل تھا جس کی گواہی خود قرآن نے یوسف کو سجدہ کرنے سے دی

سوره یوسف میں بیان ہوا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا

قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ

اے میرے والد! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے دیکھا وہ مجھے  سجدہ کررہے ہیں

یعقوب علیہ السلام نے اس خواب کو سننے کے بعد یہ نہیں کہا کہ ہماری شریعت میں سجدہ جائز ہے یہ کوئی خاص چیز نہیں بلکہ آپ علیہ السلام نے اندازہ لگا لیا کہ الله کی طرف سے یوسف کی توقیر ہونے والی ہے. یعقوب علیہ السلام نے خواب چھپانے کا حکم دیا

قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ

کہا اے بیٹے اس خواب کا تذکرہ اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے خلاف سازش کریں گے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

پھر یوسف کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینکا وہاں سے الله نے مصر پہنچایا اور الله نے عزیز مصر کا وزیر بنوایا  پھر قحط پڑنے کی وجہ سے بھائیوں کو مصر آنا پڑا اور بلاخر ایک وقت آیا کہ خواب سچ ہوا

رَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ ھ۔ذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا

اور احترام سے بٹھایا اس نے اپنے والدین کو تخت پر اور جھک گئے سب اس کے لئے سجدے میں۔ (اس وقت) یُوسف نے کہا: ابّا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی (جو میں نے دیکھا تھا) پہلے۔ کر دکھایا ہے اسے میرے رب نے سچّا

یہ ایک خاص واقعہ تھا اور اس کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا لیکن عوام میں اس سجدے کے حوالے سے اشکال رہتا ہے کہ سجدہ کس نے کس کو کیا – آیت میں  سجدہ کرنے کے حوالے سے کئی آراء پائی جاتی ہیں

اہل تشیع کی ایک رائے : سجدہ الله کو تھا

ابي الحسن علي بن ابراهيم القمي المتوفی ٣٢٩ ھ کی تفسیر میں ہے کہ  اس آیت میں سجدہ الله  کے لئے ہے

حدثني محمد بن عيسى عن يحيى بن اكثم وقال سأل موسى بن محمد بن علي بن موسى مسائل فعرضها على ابي الحسن عليه السلام فكانت احديها اخبرني عن قول الله عزوجل ورفع ابويه على العرش وخروا له سجدا سجد يعقوب وولده ليوسف وهم انبياء، فاجاب ابوالحسن عليه السلام اما سجود يعقوب وولده ليوسف فانه لم يكن ليوسف وإنما كان ذلك من يعقوب وولده طاعة لله وتحية ليوسف كما كان السجود من الملائكة لآدم ولم يكن لآدم إنما كان ذلك منهم طاعة لله وتحية لآدم فسجد يعقوب وولده وسجد يوسف معهم شكر الله لاجتماع شملهم

محمّد بن عيسى عن يحيى بن أكثم سے روایت ہے  کہ بے شک موسی بن محمّد نے سوال کیے جن کو علی نے  ابی حسن علی بن محمّد پر پیش کیا پس ان میں سے کسی نے کہا مجھ کو خبر دیں یعقوب اور ان کی اولاد کی یوسف کو سجدے کے بارے میں کہ انہوں نے یوسف کو سجدہ کیا جبکہ انبیاء ہیں ؟ پس امام ابو حسن نے جواب دیا یعقوب اور ان کے بیٹوں کا سجدہ یوسف کے لئے نہ تھا ان کا سجدہ الله کی اطاعت اور یوسف کا ادب تھا جیسے فرشتوں کا سجدہ الله کی اطاعت اور آدم کی تکریم تھا پس یعقوب کا سجدہ اور ان کی اولاد کا سجدہ الله کا شکر تھا اس وقت ساتھ ملنے پر

محمد حسن النجفي الاصفهاني  کتاب جواهر الكلام   ج 10 – ص 126 – 129 میں کہتے ہیں

وخروا له سجدا ” قيل : إن السجود كان لله شكرا له كما يفعل الصالحون عند تجدد النعم ، والهاء في قوله تعالى ” له ” عائدة إلى الله ، فيكونون سجدوا لله وتوجهوا في السجود إليه كما يقال صلى للقبلة ، وهو المروي  عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) وفي المحكي عن تفسير علي بن إبراهيم عن محمد  بن عيسى عن يحيى بن أكثم   ” إن موسى بن محمد سئل عن مسائل فعرضت على أبي الحسن علي بن محمد ( عليهما السلام ) فكان منها أن قال له : أخبرني عن يعقوب وولده اسجدوا ليوسف وهم أنبياء ؟ فأجاب أبو الحسن ( عليه السلام ) سجود يعقوب وولده لم يكن ليوسف ، إنما كان ذلك منهم طاعة لله وتحية ليوسف ، كما أن السجود من الملائكة لآدم كان طاعة لله وتحية لآدم ، فسجود يعقوب وولده شكرا لله لاجتماع شملهم ، ألا ترى أنه يقول في شكر ذلك الوقت رب قد آتيتني من الملك ” الآية   وفي المحكي عن تفسير العسكري  عن آبائه عن النبي ( عليهم الصلاة والسلام ) قال : ” لم يكن سجودهم يعني الملائكة لآدم ، إنما كان آدم قبلة لهم يسجدون نحوه لله عز وجل ، وكان بذلك معظما مبجلا ، ولا ينبغي أن يسجد لأحد من دون الله يخضع له كخضوعه لله ، ويعظمه بالسجود له كتعظيم الله ، ولو أمرت أحدا أن يسجد هكذا لغير الله لأمرت ضعفاء شيعتنا وسائر المكلفين من شيعتنا أن يسجدوا لمن توسط في علوم علي وصي رسول الله ( عليهما الصلاة والسلام ) ومحض ‹ صفحة 127 › وداد خير خلق الله علي ( عليه السلام ) بعد محمد رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) ” إلى غير ذلك من النصوص ، فاللائق حينئذ لزائري أحد المعصومين ( عليهم السلام ) أن يتركوا هذا الصورة التي يفعلها السواد إلا إذا قرنت بأحد الوجوه التي سمعتها في النصوص مما ينفي كونها لغير الله ، ويشبه ما يقع من الاستحسان من بعض الناس بجعل السجود لأمير المؤمنين ( عليه السلام ) زيادة في تعظيم الله باعتبار أن وعوعه له من جهة مرتبته عند الله وعظمته وعبوديته – فالسجود له حينئذ زيادة في تعظيم الله – ما وقع في أذهان المشركين الذين حاجهم النبي ( صلى الله عليه وآله ) بما سمعت ، والله أعلم

وخروا له سجدا کہا جاتا ہے ان کا سجدہ ایسا ہی تھا جیسا الله کو شکر کرنے کے لئے  صالح لوگ کرتے ہیں نعمت ملنے پر اور اس میں الھا جو قول میں له ہے الله کے لئے ہے کہ پس الله کے لئے سجدے میں گئے اور اور سجدے میں متوجہ ہوئے اس کی طرف جیسا کہا جاتا ہے قبلے کے لئے نماز پڑھو اور یہ مروی ہے امام جعفر علیہ السلام سے اور بیان ہوا ہے تفسیر علی بن ابراہیم عن  محمّد بن عيسى عن يحيى بن أكثم سے کہ بے شک موسی بن محمّد نے سوال کیے جن کو علی نے  ابی حسن علی بن محمّد پر پیش کیا پس ان میں سے کسی نے کہا مجھ کو خبر دیں یعقوب اور ان کی اولاد کی یوسف کو سجدے کے بارے میں کہ انہوں نے یوسف کو سجدہ کیا جبکہ انبیاء ہیں ؟ پس امام ابو حسن نے جواب دیا یعقوب اور ان کے بیٹوں کا سجدہ یوسف کے لئے نہ تھا ان کا سجدہ الله کی اطاعت اور یوسف کا ادب تھا جیسے فرشتوں کا سجدہ الله کی اطاعت اور آدم کی تکریم تھا پس یعقوب کا سجدہ اور ان کی اولاد کا سجدہ الله کا شکر تھا اس وقت ساتھ ملنے پر- کیا تم نے دیکھا نہیں؟ انہوں نے شکر میں اس وقت کہا الله نے بے شک مجھ کو ملک دیا آیت  اور  المحكي ، امام عسکری کی تفسیر میں ہے اپنے ابا سے وہ رسول الله سے کہ ان فرشتوں کا سجدہ آدم کے لئے نہ تھا بلکہ آدم ان کے لئے قبلہ نما تھا سجدے کے لئے الله کی طرف سے اور اس میں عظمت و جلالت تھی اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ غیر الله کو سجدہ کرے اس سے خضوع کرے جیسا الله سے کیا جاتا ہے اور سجدہ کر کے تعظیم کرےجیسے الله کی کی جاتی ہے  اور اگر اس کا حکم کرتا کہ کوئی غیر الله کو سجدہ کرے تو اپنے کمزور شیعوں کو اور تمام مکلفین کو کرتا کہ ان کو سجدہ کرو جن کے توسط سے الله کے  وصی علی کے علوم ملے

تفسیر نور الثقلين  از عبد على بن جمعة  کے مطابق

عن ابن ابي عمير عن بعض أصحابنا عن أبي عبدالله عليه السلام في قول الله

ورفع ابويه على العرش قال : العرش السرير ، وفي قوله : وخروا له سجدا قال كان سجودهم ذلك عبادة لله .

أبي عبدالله عليه السلام نے الله کے قول اور اس نے والدین کو عرش پر بلند کیا کہا عرش تخت اور قول اس کے لئے سجدے میں گر گئے کہا ان کا سجدہ تھا الله کی عبادت کے لئے

اہل تشیع کی دوسری رائے: سجدہ یوسف کو تھا

أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي  تفسیر تبیان میں کہتے ہیں

الثاني انهم سجدوا إلى جهة يوسف على وجه القربة إلى الله، كما يسجد إلى الكعبة على وجه القربة إلى الله.

انہوں نے سجدہ کیا یوسف کی طرف الله کے قرب پانے کے لئے جیسا الله کا تقرب پانے کے لئے  کعبه رخ ہوتے ہیں

اہل سنت کی ایک رائے: سجدہ الله کو تھا

التجريد لنفع العبيد = حاشية البجيرمي على شرح المنهج (منهج الطلاب اختصره زكريا الأنصاري من منهاج الطالبين للنووي ثم شرحه في شرح منهج الطلاب) کے مطابق

(قَوْلُهُ: وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا) تَحِيَّةً وَتَكْرِمَةً فَإِنَّ السُّجُودَ عِنْدَهُمْ كَانَ يَجْرِي مَجْرَاهَا وَقِيلَ مَعْنَاهُ خَرُّوا لِأَجْلِهِ سُجَّدًا لِلَّهِ شُكْرًا، وَقِيلَ الضَّمِيرُ لِلَّهِ وَالْوَاوُ لِأَبَوَيْهِ وَإِخْوَتِهِ وَالرَّفْعُ مُؤَخَّرٌ عَنْ الْخُرُورِ وَإِنْ قُدِّمَ لَفْظًا لِلِاهْتِمَامِ بِتَعْظِيمِهِ لَهُمَا

الله تعالی کا قول وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا یہ تحیت ہے اور تکریم ہے کیونکہ سجدہ ان  کی طرف سے ہو گیا اور کہا جاتا ہے کہ معنی ہے کہ وہ جھکے سجدے کے لئے تو یہ الله کا شکر بجا لانے کے لئے تھا اور کہا گیا ہے کہ ضمیر الله کی طرف ہے اور واو ان کے باپ اور بھائیوں کے لئے … اور یہ لفظ ان کی تعظیم کے لئے ہے

کتاب النكت الدالة على البيان في أنواع العلوم والأحكام از  أحمد محمد بن علي بن محمد الكَرَجي القصَّاب (المتوفى: نحو 360هـ) دار النشر: دار القيم – دار ابن عفان کے مطابق

وأما الذي عندي في: (وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا) أي: خر يوسف وإخوته وأبوه وخالته سجدا لله حيث جمع شملهم بعد تبديده.

اور جو میرے نزدیک ہے کہ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وہ یہ ہے کہ  یوسف جھک گئے اور ان کے بھائی اور ان کے باپ اور خالہ  بچھڑنے کے بعد ملنے پر الله  کے لئے سجدہ میں

کتاب  فتح الرحمن بكشف ما يلتبس في القرآن از  زكريا بن محمد بن أحمد بن زكريا الأنصاري، زين الدين أبو يحيى السنيكي (المتوفى: 926هـ)   دار القرآن الكريم، بيروت – لبنان 1403 هـ – 1983 م کے مطابق

قوله تعالى: (وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً. .) الآية.

إن قلتَ: كيف جاز لهم أن يسجدوا ليوسف، والسجودُ لغير الله حرامٌ؟!

قلتُ: المرادُ أنهم جعلوه كالقِبْلَةِ، ثم سجدوا للهِ تعالى، شكراً لنعمة وُجْدَان يوسف، كما تقول: سجدتُ وصلَّيتُ للقِبْلة.

الله تعالی کا قول ہے وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً وہ سب سجدے میں جھک گئے آیت ہے

میں السنيكي کہتا ہوں اس سے مراد ہے کہ انہوں نے ان کو قبلہ کیا پھر الله تعالی کے شکر کے لئے سجدہ کیا یوسف کو پانے کی نعمت پر جیسا کہ کہا جاتا ہے سجدہ کیا اور قبلہ کے لئے نماز پڑھی

کتاب معاني القرآن  أبو زكريا يحيى بن زياد بن عبد الله بن منظور الديلمي الفراء (المتوفى: 207هـ) کے مطابق

سُجود تَحيَّة وطاعة لا لربوبيّة وهو مثل قوله فى يوسف (وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً) «5» .

سجدے تحیت اور رب کی اطاعت پر ہیں اور یہ یوسف کے لئے قول ہے اس کے لئے سجدے میں جھک گئے

اہل سنت میں دوسری رائے ہے کہ یہ سجدہ بشکل  رکوع  یوسف  تھا

کتاب  حاشيتا قليوبي وعميرة ج١ ص  ٣٩  از أحمد سلامة القليوبي وأحمد البرلسي عميرة ، دار الفكر – بيروت الطبعة: بدون طبعة، 1415هـ-1995م کے مطابق

قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: صُورَةُ الرُّكُوعِ الْوَاقِعَةُ مِنْ الْعَوَامّ بَيْنَ يَدَيْ الْمَشَايِخِ حَرَامٌ وَيَأْثَمُ فَاعِلُهَا وَلَوْ بِطَهَارَةٍ وَإِلَى الْقِبْلَةِ، وَهِيَ مِنْ الْعَظَائِمِ، وَأَخْشَى أَنْ تَكُونَ كُفْرًا، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} [يوسف: 100] أَيْ رُكَّعًا إمَّا مَنْسُوخٌ أَوْ أَنَّهُ شَرْعُ مَنْ قَبْلَنَا

ابن حجر نے کہا : عوام میں (غیر الله کے لئے) رکوع کی صورت جو ہے یہ مشائخ کے نزدیک حرام ہے اور اس کو کرنے والے پر گناہ ہے چاہے طہارت کے بغیر ہو قبلہ رخ نہ بھی ہو اور یہ الْعَظَائِمِ میں سے ہے اور خوف ہے کہ یہ کفر ہے  اور الله تعالی کا قول وہ سجدے میں جھک گئے یعنی رکوع میں تو یا تو یہ منسوخ ہے یا یہ پچھلی شریعت میں تھا

اسی طرح اس کتاب  میں ج١ ص ١٨٠ پر ہے

قَوْلُهُ: (السُّجُودُ) وَهُوَ لُغَةً التَّطَامُنُ وَالذِّلَّةُ وَالْخُضُوعُ وَشَرْعًا مَا سَيَأْتِي، وَقَدْ يُطْلَقُ عَلَى الرُّكُوعِ، وَمِنْهُ {وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} [يوسف: 100] كَمَا مَرَّ

اور الله کا قول السُّجُودُ تو یہ لغت میں کم ہونا یہ ذلت ہے اور ْخُضُوعُ ہے … اور اس کا اطلاق رکوع پر بھی ہے اور الله تعالی کا قول  {وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} [يوسف: 100]  میں

یعنی أحمد سلامة القليوبي وأحمد البرلسي عميرة کے نزدیک یہ سجدہ رکوع جیسا تھا یہ یوسف کو ہوا لیکن اس میں اغلبا یہ انکی شریعت میں تھا

اہل سنت میں تیسری رائے :  سجدہ یوسف کو ہوا ، پچھلی شریعت کے مطابق

محدث عثمان بن عبد الرحمن، أبو عمرو، تقي الدين المعروف بابن الصلاح (المتوفى: 643هـ)  فتاوى میں کہتے ہیں جب مسئلہ پیش ہوتا ہے

مَسْأَلَة طَائِفَة من الْفُقَرَاء يَسْجُدُونَ بَعضهم لبَعض ويزعمون أَن ذَلِك تواضع لله وتذلل للنَّفس ويستشهدون بقوله تَعَالَى وَرفع أَبَوَيْهِ على الْعَرْش وخروا لَهُ سجدا فَهَل يجوز أَو يحرم وَهل يخْتَلف بِمَا إِذا كَانَ يسْجد مُسْتَقْبل الْقبْلَة أم لَا وَهل الْآيَة فِي ذَلِك مَنْسُوخَة فِي مثل ذَلِك أم لَا

أجَاب رَضِي الله عَنهُ لَا يجوز ذَلِك وَهُوَ من عظائم الذُّنُوب ويخشى أَن يكون كفرا وَالسُّجُود فِي الْآيَة مَنْسُوخ أَو يتَأَوَّل وَالله أعلم

مَسْأَلَة : فقراء (صوفیوں) کا ایک گروہ ایک دوسرے کو سجدہ کرتا ہے اور دعوی کرتا ہے کہ الله سے لو لگانا ہے اور نفس کی تذلیل کرنا ہے اور وہ استشھاد کرتے ہیں الله تعالی کے قول سے وَرفع أَبَوَيْهِ على الْعَرْش وخروا لَهُ سجدا اور والدین کو عرش پر بٹھایا اور جھک گئے ان کے لئے سجدے میں ، تو کیا جائز ہے یا حرام ہے اور کیا یہ اس سے مختلف ہے جب قبلہ کو آگے کیا جائے یا نہیں یا یہ آیت منسوخ ہے یا نہیں

عثمان بن عبد الرحمن، أبو عمرو، تقي الدين المعروف بابن الصلاح (المتوفى: 643هـ) رضی الله عنہ نے جواب دیا یہ جائز نہیں ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور خوف ہے کہ کفر ہے اور اس آیت میں سجدے منسوخ ہیںانکی تاویل کی جائے

الكتاب: فتاوى نور على الدرب از  عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ) کے مطابق

قال: {وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} (2)، وكانت السجدة ذلك الوقت مباحة للإكرام والتحية وليست للعبادة، وكما سجد الملائكة لآدم إكراما، وتعظيما لا عبادة، فهذه السجدة ليست من باب العبادة، بل هي من باب التحية والإكرام، وهي جائزة في شرع من قبلنا، ولكن في شريعة محمد عليه الصلاة والسلام ممنوع ذلك، ولهذا ثبت عنه عليه الصلاة والسلام أنه قال: «لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها، لعظم حقه  عليها (1)»

بن باز نے کہا : الله کا قول {وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} اس دور میں سجدہ  اکرام و تحیت کے لئےمباح تھا اور یہ عبادت نہ تھا جیسا کہ فرشتوں نے آدم عليه الصلاة والسلام  کی تکریم کے وقت کیا اور تعظیم کے  لئے کیا نہ کہ عبادت کے لئے پس یہ سجدہ عبادت کے باب میں نہیں بلکہ تکریم میں ہے ، اور یہ پچھلی شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمد عليه الصلاة والسلام میں ممنوع ہے اور یہ ثابت ہے عليه الصلاة والسلام سے فرمایا اگر میں کسی کو سجدے کا حکم کرتا تو عورت کو کرتا کہ وہ شوہر کو کرے اس حق کی تعظیم پر جو شوہر کو اس پر ہے

اہل سنت میں چوتھی  رائے : سجدہ خود بخود بس مشیت الہی کے تحت ہو گیا

کتاب  منهج شيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب في التفسير از  مسعد بن مساعد الحسيني الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة کے مطابق

كذا قوله عند قول الله تعالى إخباراً عن يوسف عليه السلام: {وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً … } الآية إلى قوله: {إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} 7. رد هذه المسألة الجزئية إلى القاعدة الكلية وهي: إنه ربه تبارك وتعالى لطيف لما يشاء، فلذلك أجرى ما أجرى

الله تعالی نے یوسف علیہ السلام کے حوالے سے خبر دی {وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً … } الآية إلى قوله: {إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} … بے شک الله تعالی غیر محسوس انداز میں چاہتا ہے پس یہ سجدہ جاری ہوا جو ہو گیا

اہل سنت میں ایک رائے یہ ہے کہ سجدہ یوسف کو ہی ہوا اس کی تاویل کرنا صحیح نہیں

 مجلة جامعة أم القرى کے مطابق

السجود المذكور في الآية الأولى رؤيا منام، والمذكور في الآية الأخرى هو وقوعها، وأبواه: يعقوب عليه السلام وأم يوسف وقيل بل خالته، وظاهر القرآن أنها أمه (2) ، والذين خروا له سجدا أبواه، وذلك مصداق رؤيا الشمس والقمر، وإخوته الأحد عشر وذلك مصداق رؤيا الأحد عشر كوكبا.

اس آیت میں جو سجدے مذکور ہیں وہ نیند میں دیکھے اور دوسری آیت میں یہ واقعہ ہوئے اور والدین سے مراد یعقوب علیہ السلام اور ام یوسف ہیں اور کہا جاتا ہے انکی خالہ لیکن قرآن کا ظاہر ہے کہ یہ والدہ ہیں اور وہ جو سجدہ میں جھکے وہ والدین ہیں جو سورج و چاند کا مصداق تھے اور ان کے بھائی گیارہ ستارے ہیں

اسی مجلہ کے مطابق

وقد أجمع المفسرون أن سجود أبوي يوسف وإخوته على أي هيئة كان فإنما كان تحية لا عبادة (6) ، والأظهر أنه كان على الوجوه وليس انحناء ولا إيماء لقوله تعالى {وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} (7) ، قال الجوهري (ت393هـ) : ((وخرَّ لله ساجدا يّخِرُّ خُرُورا أي: سقط)) (8) .

وقيل الضمير في {لَهُ} لله عز وجل وهو قول مردود (1) ، ولا يلتئم مع السياق، ولا يتوافق مع الرؤيا (2) في قوله تعالى: {إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ} (يوسف/4) .

وقال الزمخشري (ت538هـ) : ((وقيل معناه: وخروا لأجل يوسف سجدا لله شكرا وهذا أيضا فيه نَبْوة)) (3) .

وكل هذه التأويلات الضعيفة لأجل الخروج من أن يكون السجود لغير الله، ومن استبان له تاريخ السجود زالت عنه هذه الإشكالات.

مفسرین کا اجماع ہے کہ یوسف کے والدین اور بھائیوں کا سجدہ تکریم کے تحت تھا نہ کہ عبادت کے لئے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ سجدہ چہرے پر تھا اور یہ ذرا جھکنا یا سر ہلانا نہ تھا کہ الله تعالی کا قول ہے اس کے لئے سجدے میں جھک گئے اور الجوهري (ت393هـ) نے کہا اور سجدے میں الله کے لئے جھک گئے گرے یعنی گر پڑے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں  {لَهُ} کی ضمیر الله تعالی کے لئے ہے اور یہ قول مردود ہے یہ سیاق و سباق سے نہیں ملتا نہ خواب سے موافقت رکھتا ہے کیونکہ الله کا قول ہے یوسف نے کہا میں نے دیکھا گیارہ ستارے اور سورج و چاند میرے لئے سجدہ کر رہے ہیں اور الزمخشري (ت538هـ) نے کہا وہ گرے یوسف کی وجہ سے الله کو سجدے کرتے ہوئے اور یہ بھی بشارت میں تھا اور یہ تمام تاویلات کمزور ہیں کہ اس سے یہ نکالنا کہ یہ سجدے غیر الله کو تھے اور جو تاریخ سے واقف ہو تو یہ تمام اشکالات ختم ہو جاتے ہیں


بحث

سجدہ الله تعالی کے لئے ہوا یا یوسف علیہ السلام کو قبلہ مانتے ہوئے ہوا  یہ  قرآن میں صریحا نہیں آیا اور جو سیاق و سباق ہے اس میں کوئی قرینہ اس تاویل کے لئے نہیں ہے البتہ بعض  لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ مان لیا کہ یہ سجدہ یوسف علیہ السلام کو ہوا تو یہ شرک ہے جس کا صدور انبیاء سے ممکن نہیں ہے – یہ بات درست ہے کہ  انبیاء وہ عمل نہیں کرتے جس سے الله نے منع کیا ہے لیکن بے ساختہ و بلا ارادہ کسی عمل کا ہو جانا   ممکن ہے –

قرآن کے الفاظ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک بے اختیاری فعل تھا کیونکہ سب بلا قیل و قال جھک گئے. یہ سب الله کی مشیت کے تحت ہوا کیونکہ یہ خواب کی عملی شکل تھا جو یوسف نے دیکھا اور اس خواب کے حوالے سے وہ خود خلجان میں تھے کہ انہوں نے یہ کیا دیکھا ہے اسی لئے انہوں نے اس کا تذکرہ صرف اپنے والد سے خفیہ کیا. اگر اس زمانے کی شریعت میں اس کی اجازت ہوتی تو پھر یہ کوئی عجیب بات بھی نہیں تھی اور اتنا خفیہ اس کو رکھنے کی ضرورت بھی نہیں تھی

انبیاء کے خواب: تمثیل یا حقیقی کا فرق

کہا جاتا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے جو خواب دیکھا وہ تمثیل تھا – سوره یوسف میں چار خواب بیان ہوئے ہیں ایک نبی کا ہے اور تین غیر نبی پر ہیں یعنی بادشاہ اور دو قیدی – اس میں  غیر نبی پر انے والے خواب تمثیل کے انداز کے تھے اوران کی تاویل کوئی نہ کر سکا سوائے  یوسف علیہ السلام کے –  قرآن و حدیث سے ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء پر تمثیلی خواب بھی اتے ہیں اور ایسے بھی جو روز روشن کی طرح عیاں ہوتے ہیں مثلا نبی صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا وہ کعبه کا طواف کر رہے ہیں لہذا اس کو اس کے ظاہر پر لیا اور مکہ گئے لیکن حدیبیہ پر کفار نے روک لیا لیکن الله نے خبر دی کہ خواب یقینا سچا ہے ان شاء الله اپ مسجد الحرام میں داخل ہوں گے- اسی طرح اپ صلی الله علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ میں لیلہ القدر کی رات کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں اور ایسا ہی ہوا کہ موسلا دھار بارش ہوئی اور اپ صلی الله علیہ وسلم نے کیچڑ میں سجدہ کیا – اس کے علاوہ سمرہ بن جندب کی روایت کو بھی ظاہر پر علماء نے لیا ہے کہ عالم البرزخ میں یہ سب اسی طرح قیامت تک ہو گا جس کی آج فرقہ پرست تاویل کرتے ہیں کہ یہ تمثیلی انداز تھا – انبیاء پر خواب تمثیلی بھی ہوتے ہیں جس کی بہت سی مثالیں ہیں لیکن جب بھی تمثیل خواب ہوتا ہے اسی روایت میں اس کی شرح بھی ہوتی ہے لہذا جب خواب بیان ہو اور ساتھ کوئی شرح نہ ہو تو ایسا خواب حقیقی سمجھا جاتا ہے- سوره یوسف میں بادشاہ خواب دیکھتا ہے اس کے بعد اس کے اس تمثیلی خواب کی فورا تعبیر دی گئی ہے – اسی سوره میں دو قیدی خواب دیکھتے ہیں اور فورا ان کے تمثیلی خواب کی تاویل دی گئی ہے – لیکن جب یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر ہوتا ہے تو دونوں انبیاء یوسف و یعقوب علیھما السلام اس کو فورا تمثیلی قرار نہیں دیتے اس کو اس کے ظاہر پر ہی لیتے ہیں اور چھپا دیتے ہیں – یعقوب علیہ السلام انداز لگا لیتے ہیں کہ یوسف کی توقیر ہو گی اور وہ یوسف کو حکم کرتے ہیں کہ بھائیوں سے اس کا ذکر مت کرنا –  یوسف علیہ السلام کے خواب کو تمثیل قرار دینے کا کوئی قرینہ نہیں ملتا

بچھڑے لوگوں کا ملنا

کہا جاتا ہے کہ جب بچھڑے ہوئے لوگ ملتے ہیں تو لوگ الله کا شکر کرتے ہیں نہ کہ ایک دوسرے کو سجدہ کریں – یہ بات نہایت سرسری ہے اور کہنے والے کی طفولیت کی نشاندھی کرتی ہے – یوسف علیہ السلام کسی میلہ میں یا بازار میں نہیں کھوئے تھے ان کے بھائیوں نے اقدام قتل کیا تھا – یوسف سے ملنے کی بھائیوں کو کوئی خواہش بھی نہیں تھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہوتا ہے جس کو قتل کر دیا تھا وہ تو زندہ نکلا اور اس کے بعد یوسف علیہ السلام کے مقام و مرتبہ نے ان پر ایسی ہیبت طاری کی کہ تمام بھائی ان کے سامنے شرمندگی سے گر پڑے

یہ تفسیر کہ آیت میں له کی ضمیر الله کی طرف ہے اہل تشیع میں محمد هادى الهمدانى کتاب مصباح الفقيه  میں پیش کرتے ہیں

قيل ان السجود كان لله شكرا له كما يفعل الصالحون عند تجدد النعم والهاء في قوله له عائدة إلى الله فيكونون سجدوا لله وتوجهوا في السجود اليه كما يقال صلى للقبلة

کہا جاتا ہے کہ ان کے سجدے الله کا شکر ادا کرنے کے لئے تھے جیسا صالحین نعمت ملنے پر کرتے ہیں اور اس آیت میں (له کی) الھا  الله کی طرف ہے  … جیسا کہتے ہیں قبلہ کے لئے نماز پڑھو

یہ قول اوپر پیش کیا گیا ہے کہ اہل سنت میں بھی مقبول رہا ہے لیکن اس قول میں سیاق و سباق نہیں دیکھا گیا کہ یوسف یقینا یعقوب علیہ السلام کے نزدیک بچھڑے ہوئے تھے لیکن بھائیوں کے لئے وہ ایک مردہ شخص تھے جس کو وہ کنواں میں پھینک کر آئے تھے

کتاب الجدول في إعراب القرآن الكريم از محمود بن عبد الرحيم صافي  کے مطابق

آیت فَلَمَّا دَخَلُوا عَلى يُوسُفَ آوى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ آمِنِينَ (99) وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً میں له کی ضمیر کی طرف ہے جو آیت ٩٩ میں ہے

و (الهاء) ضمير في محلّ جرّ متعلّق ب (خرّوا) ، (سجّدا) حال منصوبة من فاعل خرّوا

 اور (الهاء) ضمیر ہے جو جر کے مقام میں ہے اور یہ متعلق ہے خرّوا سے اور سجدا یہ حال منصوبہ ہے فاعل خروا کا

یعنی یہ ضمیر الله کی طرف نہیں اور سجدا حال ہے

راغب الأصفهانى  کتاب المفردات في غريب القرآن میں  کہتے ہیں

 وقوله: وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً [يوسف/ 100] ، أي: متذلّلين، وقيل: كان السّجود على سبيل الخدمة في ذلك الوقت سائغا

یعنی وہ کم تر ہوئے اور کہا جاتا ہے یہ سجدے (خدام کی طرح)  بر سبیل خدمت  اس وقت کے اثر کے تحت ہوئے

خر کا مطلب کیا ؟

کہا جاتا ہے کہ قرآن میں ہے کہ انبیاء

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا

جب وہ آیات رحمان کی تلاوت کرتے ہیں گرتے ہیں سجدے میں اور روتے ہیں

 کیا جب بھی کسی کے گرنے کا ذکر ہوتا ہے تو کیا وہ عبادت کے تحت ہو رہا ہوتا ہے ؟ جبکہ خر گرنے کا لفظ عام ہے ان آیات میں موجود ہے کہ جب وہ تلاوت کرتے ہیں تو خشوع سے گرتے ہیں جبکہ سوره یوسف میں بھائیوں پر عبادت والے خشوع کا ذکر نہیں ہے بلکہ شرم و ندامت کا ذکر ہے

قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ (97) قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

انہوں نے کہا اے والد ہمارے لئے مغفرت طلب کریں ہم سے غلطی ہو گئی (یعقوب نےکہا) کہا میں تمہارے لئے استغفار کروں گا اپنے رب سے بے شک وہ غفور و رحیم ہے

قرآن میں داود علیہ السلام کا ذکر ہے کہ انہوں نے توبہ کی تو

وَخَرَّ رَاكِعًا

اور وہ رکوع میں جھک گئے

یہاں خر کا لفظ ہے اور اس کا مطلب یہاں گرنا نہیں کیا جا سکتا البتہ اس جھکنے میں یک دم پوشیدہ ہے کہ وہ فورا رکوع میں چلے گئے

کتاب الزاهر فى معانى كلمات الناس از  أبو بكر محمد بن القاسم الأنباري کے مطابق

قول الله عز وجل ( وخروا له سُجَّداً ) ( 82 ) فيه ثلاثة أقوال ( 20 ب ) أحدهن أن تكون الهاء تعود على الله تعالى فهذا القول لا نظر فيه لأن المعنى خروا لله سجدا وقال آخرون الهاء تعود على يوسف ومعنى السجود التحية كأنه قال وخروا ليوسف سجداً سجود تحية لا سجود عبادة قال أبو بكر سمعت أبا العباس يؤيد هذا القول ويختاره وقال الأخفش معنى الخرور في هذه الآية المرور قال وليس معناه الوقوع والسقوط

  الله تعالی کا قول  ( وخروا له سُجَّداً ) میں تین اقوال ہیں ایک یہ ہے الھا کی ضمیر الله کی طرف ہے تو اس قول میں کوئی نظر نہیں کیونکہ معنی ہوا کہ کہ الله کو سجدہ کیا اور دوسروں نے کہا کہ الھا کی ضمیر یوسف کی طرف ہے اور یہ سجدہ تحیت ہے جیسے کہا جائے کہ یوسف کے لئے سجدہ کیا نہ کہ عبادت کے لئے اور ابو بکر نے ابو العباس سے سنا انہوں نے اس قول کو لیا اور الأخفش نے کہا کہ اس آیت میں الخرور (گرنا)  کا مطلب (المرور ) گزرنا ہے اور اس کا مطلب  گرنا نہیں ہے

الأخفش عربی کے مشھور نحوی ہیں اور ان کے نزدیک اس آیت میں خر کا مطلب گرنا نہیں ہے الأخفش کے الفاظ کا مطلب ہے کہ آیت میں عربی مفھوم ہے کہ وہ اس طرح داخل ہوئے کہ گویا سجدہ ہو

عربی لغت تاج العروس من جواهر القاموس از الزَّبيدي  کے مطابق سجد کا ایک مطلب إِذا انْحَنى وتَطَامَنَ إِلى الأَرضِ زمیں کی طرف جھکنا  بھی ہے – لغت مجمل اللغة لابن فارس  کے مطابق وكل ما ذل فقد سجد ہر کوئی جو نیچے آئےاس نے سجد کیا –  آیت میں  لہذا خر کا لفظ اشارہ کر رہا ہے کہ یہ فعل یک دم ہوا – اس سجدہ کو نماز و عبادت والے سجدہ سے ملانے کی کوئی دلیل نہیں ہے – مفسرین میں سے بعض نے کہا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ سجدہ نماز کے سجدے جیسا نہیں تھا اور صرف ہلکا سا جھکنا تھا تو خر کا لفظ یعنی گرنا یا جھکنا اس کے خلاف ہے- جبکہ یہ بھی زبر دستی ہے خر کا مطلب صرف بے ساختگی کی طرف اشارہ کرتا ہے قرآن میں ہے خر موسى صعقا موسی علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر گئے-  موسی جان بوجھ کر نہیں گرے تھے وہ آنا فانا گرے تھے – قرآن میں ہے فَخَرَّ عَلَيْهِمْ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ پس ان پر چھت اوپر سے گری- خر (گرنے) کے مفہوم میں یک دم اور بے ساختگی  پوشیدہ ہے

تفسیری اقوال کی صحت

– اس حوالے سے کسی صحابی کا کوئی تفسیری قول ثابت نہیں ہے

الرازي  نے اپنی تفسیر میں قول بیان کیا ہے

 وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةِ عَطَاءٍ أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُمْ خَرُّوا لَهُ أَيْ لِأَجْلِ وِجْدَانِهِ سَجَدَا للَّه تَعَالَى

اور یہ قول ابن عباس کا ہے  عَطَاءٍ کا روایت کردہ کہ اس میں گرنے سے مراد ہے کہ ان کو پانے پر الله کا شکر بجا لائے

لیکن باوجود تلاش کے اس کی سند نہیں ملی

تفسیر ابن ابی حاتم میں دوسرا قول قتادہ کا ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا قَتَادَةُ وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَكَانَ تَحِيَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ السُّجُودُ بِهَا يُحَيِّي بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَأَعْطَى اللَّهُ هَذِهِ الأُمَّةَ السَّلامَ، تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ كَرَامَةً مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً.

اس کے مطابق یہ سجدہ اس دور میں تحیت تھا

تفسیر طبری کے مطابق

حدثني محمد بن سعد، قال: حدثني أبي، قال: حدثني عمي، قال: حدثني أبي، عن أبيه، عن ابن عباس: (وخرُّوا له سجدًا) ، يقول: رفع أبويه على السرير، وسجدا له، وسجد له إخوته.

ابن عباس کا قول ہے کہ سجدہ یوسف کو کیا گیا

اوپر والے  یہ تین اقوال ہیں جو ایک ہی سجدے سے متعلق ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی مفسرین بھی اس میں اختلاف کر رہے تھے – واضح رہے کہ ان اقوال کی اسناد بھی مضبوط نہیں ہیں چہ جائیکہ ان کو اصحاب رسول کی تشریحات قرار دیا جائے

لہذا اس سلسلے میں کوئی صحیح السند تفسیری قول نہیں ہے

سجدہ کی کیفیت

–  قرآن میں اس آیت میں سجدہ کی نوعیت کا علم نہیں دیا گیا کہ یہ چہرہ والا ہی سجدہ ہے یا صرف جھکنا ہے جیسا عموما بادشاہوں اور امراء عجم کے سامنے پیشی پر ہوتا تھا- اس کے علاوہ یہ دعوی کرنا کہ اس دور میں نماز والا سجدہ بادشآہوں کوتمام دنیا میں کیا جاتا تھا بھی بلا دلیل ہے  – قرآن میں سجدہ کا لفظ سورج چاند شجر پہاڑ کے لئے بھی آیا ہے جو ہم کو معلوم ہے کہ اس سجدے جیسا نہیں ہے جو ہم نماز میں کرتے ہیں لہذا زبردستی اس آیت میں سجدے کو نماز والا سجدہ کہنا اسراف ہے- عربی میں سجد زمین کی طرف جھکنے کے لئے ہے اور یہ جھکنا اتنا بھی ہو سکتا ہے جو رکوع جیسا نہ ہو ایسا آج کل بھی جاپان میں معروف ہے جو ان کا سلام کا طریقه ہے – کہا جاتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے اتے ہیں تو ان کو سلام کرتے ہیں نہ کہ اس طرح جھکتے ہیں-  ابراہیم علیہ السلام نے وہ کیا جو الله کی طرف سے ان کو حکم تھا اگر یوسف علیہ السلام کی ملاقات یعقوب علیہ السلام سے کنعان میں ہوتی تو وہ بھی ایک دوسرے کو سلام ہی کرتے لیکن جب ان کے بھائی مصر کے دربار میں پہنچے تو یوسف کے بھائی  شرم و ندامت سے  جھک  گئے اور اس طرح وہ خواب حق ہو گیا جو دیکھا تھا – یہ سجدہ تعظیمی نہ تھا یہ صرف زمین کی طرف  جھکنا تھا جس کو الانحناء بھی کہا جاتا ہے

یوسف علیہ السلام نے جب یہ دیکھا تو فرمایا

وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ۖ

اے باپ یہ میرے پچھلے خواب کی تاویل تھی (آج) میرے رب نے اس کو حق کر دیا

ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ سجدہ کی یہ کیفیت الله کے  شکر و سپاس کے تحت نہیں ہوئی بلکہ شرم و ندامت کے تحت بھائیوں کا جھکنا ہوا اور چونکہ وہ سب بڑے بھائی تھے ان تمام  کا ایک ساتھ یوسف کے سامنے جھکنا ممکنات میں سے نہ تھا  -یوسف علیہ السلام کو الله تعالی تاویل خواب کا علم بہت پہلے دے چکے تھے لہذا یوسف جان چکے تھے کہ ان کے خواب کا کیا مطلب ہے اور آگے کیا ہو گا لیکن صرف منتظر تھے کہ ایسا کب ہوتا ہے

This entry was posted in Aqaid, قرآن. Bookmark the permalink.

4 Responses to رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ

  1. anum shoukat says:

    یوسف علیہ السلام کو یوسف علیہ السلام کے والدین نے سجدہ نہیں کیا کیا ؟ یوسف علیہ السلام نے انکو تخت پر بٹھایا سے کسی نے نکالا ہے اسکا مطلب کہ خواب کے مطابق والدین نے سجدہ نہیں کیا اسکی وضاحت کر دیجیے ۔

    • Islamic-Belief says:

      رَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ ھ۔ذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا

      اور احترام سے بٹھایا اس نے اپنے والدین کو تخت پر اور جھک گئے سب اس کے لئے سجدے میں۔ (اس وقت) یُوسف نے کہا: ابّا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی (جو میں نے دیکھا تھا) پہلے۔ کر دکھایا ہے اسے میرے رب نے سچّا
      ——-
      یوسف یقینا یعقوب علیہ السلام کے نزدیک بچھڑے ہوئے تھے لیکن بھائیوں کے لئے وہ ایک مردہ شخص تھے جس کو وہ کنواں میں پھینک کر آئے تھے

      عربی لغت تاج العروس من جواهر القاموس از الزَّبيدي کے مطابق سجد کا ایک مطلب إِذا انْحَنى وتَطَامَنَ إِلى الأَرضِ زمیں کی طرف جھکنا بھی ہے – لغت مجمل اللغة لابن فارس کے مطابق وكل ما ذل فقد سجد ہر کوئی جو نیچے آئےاس نے سجد کیا – آیت میں لہذا خر کا لفظ اشارہ کر رہا ہے کہ یہ فعل یک دم ہوا – اس سجدہ کو نماز و عبادت والے سجدہ سے ملانے کی کوئی دلیل نہیں ہے

      تفسیر ابن ابی حاتم میں قول قتادہ کا ہے

      حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا قَتَادَةُ وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَكَانَ تَحِيَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ السُّجُودُ بِهَا يُحَيِّي بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَأَعْطَى اللَّهُ هَذِهِ الأُمَّةَ السَّلامَ، تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ كَرَامَةً مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً.

      قتادہ کے مطابق یہ سجدہ اس دور میں تحیت تھا

      میری رائے بھی یہی ہے کہ یہ سجدہ – انحنا تھا ایسا آج کل بھی جاپان میں معروف ہے جو ان کا سلام کا طریقه ہے
      لہذا والدین نے تخت پر سے اور بھائیوں نے سامنے سے تحیہ تھوڑا جھک کر یوسف کو سلام کیا – اس کیفیت کو قرآن میں سجدے میں جھکنا کہا گیا ہے

  2. Aysha butt says:

    Kya adam a.s ko fariston ka sajda b aisa hi tha… Jesa yousaf a.s ko hoa k wo ibdat wala tha…. Q k namz k 2 sajdon ko fariston se jora jata hai k ik to adam ko hoa or dosra farishton ne izhar e tassukur mn kia

    Sajda tazeemi kya hota hai

    • Islamic-Belief says:

      اس سجدے کی کیفیت کا علم نہیں ہے

      یہ سجدہ عبادت تھا کیونکہ یہ الله کا حکم تھا – الله کے حکم پر عمل عبادت ہے – جس طرح آج الله نے مقرر کیا کہ پتھر کے کعبہ کو سجدہ کرو تو کیا وہ عمارت کو سجدہ ہے ؟ ظاہر ہے الله کا اس وقت یہی حکم ہے کہ اس کو سجدہ کرنا ہے تو قبلہ مقرر ہے
      میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آدم کو قبلہ مقرر کیا میں کہہ رہا ہوں کہ الله نے جو حکم دیا اس پر عمل ہوا اس کو سجدہ تعظیمی یا سجدہ تشکر کی تخصیص مجھے کسی نص سے معلوم نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *