دم و تعویذ

تعویذ کی ممانعت سے متعلق  احادیث  حسن   اور صحیح لغیرہ درجہ کی ہیں-  یہ ممانعت قولی احادیث میں ہے یعنی بزبان نبوی اس سے منع کیا گیا ہے – تعویذ  کے جواز سے متعلق بیشتر روایات میں اہل مکہ کا تفرد ہے اور ممانعت کی روایت فقہائے عراق سے نقل لی گئی ہے – اس بنا پر تعویذ  چاہے قرانی ہو یا غیر قرانی اس کو استعمال نہ کیا جائے   کیونکہ قولی حدیث میں اس کی ممانعت مل گئی ہے-

دم کی اسلام میں اجازت ہے لیکن یہ دم اگر شرکیہ ہوں تو مطلقا حرام ہیں – اس کتاب میں   دم اور تعویذ سے متعلق مباحث ہیں

دم اور تعویذ


 قارئین سے درخواست ہے  کہ مشہور علماء کے تعویذ کے جواز سے متعلق فتووں کے اسکین درکار ہیں

تاکہ اس کتاب میں شامل کر کے بحث کی جائے اور تابوت میں کیل ٹھونکی جائے

اپ امیج فائل یہاں ای میل کریں

islamic-belief@live.co.uk

 

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

10 Responses to دم و تعویذ

  1. shahzad khan says:

    بھائی آپ نے کتاب میں بخاری کی حدیث کا حوالہ دیا جس میں اونٹ کو نظر لگنے کا ذکر ہے سوال یہ ہے کہ کیا صحابہ کرام رضی کی نظر کو بھی نظر بد ہی کہا جائے گا؟جس کا ذکر اس روایت میں آیا ہے

    • Islamic-Belief says:

      حدیث میں نظر کو بد قرار نہیں دیا گیا
      العین حق کہا گیا ہے

      اردو میں ماں بیٹی سے کہتی ہے کہیں میری نظر نہ لگ جائے
      تو ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ بد نظر ہے

      نظر میرے نزدیک انسانوں کا کسی چیز کی خوبی پر ہم رائے ہونا ہے یہاں تک کہ الله تعالی اس خوبی میں عیب دکھا دیتا ہے

      عموما یہ خوبی وہبی ہوتی ہے یعنی الله ہی کی عطا کردہ ہوتی ہے مثلا
      حسین و خوبصورت ہونا
      ہمت و طاقت رکھنا
      صحت مند ہونا
      زہین ہونا

      یہ تمام الله کی عطا کردہ نعمت ہیں لیکن انسان سمجھتے ہیں کہ یہ اس چیز میں بذات موجود ہے اس وجہ سے ان چیزوں پر نظر لگتی ہے اور الله اس میں عیب پیدا کرتا ہے کہ لوگ پھر دیکھیں – کہیں اور سمجھیں سبحان الله
      ——–

      صحیح بخاری
      حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ المِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ، وَيَقُولُ: ” إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ
      النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ کو پناہ میں کرتے کہ کہتے: پناہ مانگتا ہوں الله کے تمام کلمات کی – ہر شیطان و زہر سے اور بیماری والی نظر سے

      اس سے کہا جا سکتا ہے کہ نظر بد ہوتی ہے لیکن ظاہر ہے نظر صحابی کی صحابی کو بھی لگی ہے اور رسول الله کے گھوڑے کو بھی لہذا تمام نظر لگنے کو بد نظر نہیں کہا جائے گا صرف نظر لگنا کہا جائے گا

  2. shahzad khan says:

    جزاک اللہ بھائی اللہ تعالیٰ آپکے علم میں مزید اضافہ فرمائےآمین

  3. shahzad khan says:

    بخاری کی روایت نظر کے متعلق جو ابو ہریرہ سے مروی ہے جس میں نظر حق ہے ۔۔اس میں اک راوی عبدالرزاق ہے جس کے بارے میں ابو داؤد نے کہا کہ عبدالرزاق معاویہ رضی پر بدگوئی کرتا تھا، عباس عنبری نے کہا کہ وہ بہت جھوٹا ہے اور واقعی کذاب اس سے سچا ہے ۔۔عبدالرزاق جھوٹا تھا اور حدیث چوری کرتا تھا ….تہذیب التہذیب جلد نمبر 6 ص نمبر 28…..
    بھائی تحقیق چاہیے

    کہتے ہیں کہ محدثین واقدی کے جھوٹا ہونے پر متفق تھے اور عبدالرزاق تو واقدی سے زیادہ جھوٹا ہے ۔۔۔بخاری اور مسلم میں نظر کے بارے میں جو ایک روایت ہے امام دارقطنی نے اس کا تعاقب کیا ہے ۔۔۔۔شرح مسلم النووی ص 223.جلد2جلد

    • Islamic-Belief says:

      صحیح مسلم میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ

      صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «العَيْنُ حَقٌّ

      موطا امام مالک میں ہے
      وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: …..فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ….إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ،
      اس سند میں عبد الرزاق نہیں ہے

      مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ، وَإِذَا اسْتُغْسِلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْتَسِلْ»
      اس میں عبد الرزاق نہیں ہے

      سنن ابن ماجہ میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ»
      اس سند میں بھی عبد الرزاق نہیں ہے

      ————

      عبد الرزاق کا اس روایت میں تفرد نہیں ہے

  4. shahzad khan says:

    جزاکم اللہ خیرا

  5. anum shoukat says:

    اس کتاب میں پنجہ کیا وغیرہ کے ٹوپک میں محسن سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

    • Islamic-Belief says:

      محسن سے مراد شیعہ کہتے ہیں فاطمہ کے بیٹے تھے جو حمل میں تھے لیکن عمر رضی الله عنہ نے ان کو دھکا دیا تو فاطمہ کا حمل گر گیا – محسن شہید ہو گئے

  6. shahzad khan says:

    بھائی ۔۔۔ بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و حسین رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کرتے تھے اللہ کی پناہ میں لیتے تھے ہر شیطان وزہر اور بیماری والی نظر سے ۔۔۔بیماری والی نظر کو کس طرح سمجھا جائے گا ۔جیسا جہ آج کل بہت سننے میں آتا ہے کہ کسی کس بچہ اگر کھانا پینا چھوڑ دے تو ماں کہتی ہے میرے بچے کو کسی کی نظر لگ گئی ۔۔۔منکرین نظر کا کہنا ہے کہ نظر کو نافع و ضار سمجھنا شرک ہے

    • Islamic-Belief says:

      نظر کو نافع و ضار سمجھنا شرک ہے صحیح بات ہے کوئی بھی نقصان من جانب الله ہے – لیکن گولی یا چاقو سے کیا نقصان نہیں ہوتا ؟
      لہذا نظر میں کچھ نہیں صرف لوگوں کا مجموعی فہم ہے کہ اس شخص میں یا عورت میں خوبی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *