دعا میں وسیلہ کرنا – شرک یا توحید؟

وسیلہ کرنا     کتاب

=======================================================

فہرست

———— التوسل بذوات الصالحین———–

زندگی میں   ولی  یا نبی سے دعا کروانا= التوسل بالدعا

یعقوب علیہ السلام کا دعا کرنا

عمر رضی الله عنہ کا عباس رضی الله عنہ سے دعا کروانا

فوت شدہ اولیاء سے وسیلہ لینا

قوم نوح اور  ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر

————– التوسل بالنبی ————-

ولادت النبی سے قبل التوسل بالنبی کے دلائل

آدم علیہ السلام کا   نبی صلی الله علیہ وسلم کے وسیلہ سے  دعا کرنا

خیبر کے یہود کا     جنگ میں فتح کے   لئے  رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کا وسیلہ لینا

حیات النبی میں  التوسل بالنبی کے دلائل

عبد المطلب  کا   رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے وسیلہ سے بارش طلب کرنا

منافقین  کے لئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا دعا کرنا

بعد وفات النبی  ، التوسل بالنبی کے دلائل

ایک بدو کا واقعہ

ایک نابینا کا واقعہ

قبر النبی  اور آسمان سے  بارش برسنا

مالک الدار والی روایت

ابو ایوب انصاری رضی الله عنہ کا قبر النبی سے وسیلہ لینا

———— التوسل بالاستغاثہ کے دلائل ———

جنگ یمامہ میں اصحاب رسول کا یامحمداہ کی پکار لگانا

اعینوا یا عباد الله؟

یا عباد الله : احسبوا علی؟

———— التوسل پر علماء کی متضاد آراء ———

=======================================

پیش لفظ

قرآن میں ہے کہ قوم نوح   نے کہا  ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر  کو مت چھوڑو

وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آَلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا 23

اور انہوں نے  کہا تم اپنے الہ  کو مت چھوڑنا   د، سواع، یغوث، یعوق اور نسر  کو

صحیح بخاری میں ابن عباس سے مروی ہے کہ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ    یہ لوگ قوم نوح کے صالح لوگ تھے –

اور پھر  یہ لوگ عربوں میں بھی پوجے گئے

صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِى كَانَتْ فِى قَوْمِ نُوحٍ فِى الْعَرَبِ

عرب میں قوم نوح کے بت پھیل گئے

یعنی عربوں میں توسل اور وسیلہ لینا معروف تھا – لیکن انہوں نے ان شخصیات کو بت کی شکل دی لیکن مقصد توسل ہی تھا  لہذا مشرک کہتے   یہ اولیاء الله ہیں جن کے بت ہیں ان کی اس پوجا کا مقصد تقرب الی الله ہے – سوره الزمر میں ہے


أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ

خبردار دین خالص الله کے لئے ہو، اور وہ جنہوں نے اس کے علاوہ دیگر ولی اختیار  کیے ہیں – (وہ کہہ رہے ہیں) ہم عبادت نہیں کرتے سوائے اس کے کہ  الله کا قرب ملے –  الله ان کا فیصلہ کرے گا جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں – الله جھوٹے  کفار کو ہدایت نہیں کرتا

مشرکین  کے اولیاء الله سے وسیلہ لینے پر جرح کی گئی  اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والوں الله سے ڈرو اور اس کی طرف الوسیلہ تلاش کرے اور اس کی راہ میں کوشش کرو تاکہ فلاح پاؤ

ظاہر ہے اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ  انبیاء اور اولیاء کی وفات کے بعد ان کا وسیلہ مسلمان لے سکتے ہیں لیکن یہی کام مشرک کریں تو صحیح نہیں – آیت میں وسیلہ سے مراد الله کا قرب حاصل کرنا ہے جو نیکی  میں سبقت سے حاصل ہوتا ہے  اگر ایمان صحیح ہو – قرآن میں ہے

لَّيْسَ الْبِـرَّ اَنْ تُـوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِـرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلَآئِكَـةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّيْنَۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّآئِلِيْنَ وَفِى الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلَاةَ وَاٰتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِـمْ اِذَا عَاهَدُوْا ۖ وَالصَّابِـرِيْنَ فِى الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۗ اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ صَدَقُوْا ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُتَّقُوْنَ (177)

یہی نیکی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو بلکہ نیکی تو یہ ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر، اور اس کی محبت میں رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے چھڑانے میں مال دے، اور نماز پڑھے اور زکوٰۃ دے، اور جو اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کرلیں، اورتنگدستی میں اور بیماری میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ  هم  جو أولياء کا  ان کی وفات کے بعد دعا میں وسیلہ لیتے ہیں یا اللہ کو واسطہ دیتے ہیں یا بحق   محمد یا بجاہ محمد   کہتے ہیں تو  یہ شرک نہیں ہے کیونکہ   نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امت شرک نہ کرے گی اور بخاری کی روایت پیش کرتے ہیں

وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي

اور الله کی قسم مجھے اس کا خوف نہیں کہ تم شرک کرو گے

یہ روایت صحیح ہے لیکن اس کو اس کے سیاق و سباق میں ہی سمجھا جا سکتا ہے

بخاری میں یہ حدیث عقبہ بن عامر رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی الله علیہ  وسلم ایک روز  پہلے اصحاب کے ساتھ مقام احد گئے اورشہداء کے لئے دعا  کی پھر آپ منبر پر تشریف لے گئے اور  یہ  الفاظ فرمائے- یہ الفاظ صحابہ کے لئے مخصوص ہیں نہ کہ ساری امت کے  لئے . اگر نبی صلی الله علیہ وسلم امت کے حوالیے سے بالکل مطمین ہوتے تو وہ یہ نہ کہتے کہ قرآن حلق سے نیچے نہ اترے گا وہ یہ نہ کہتے کہ ایمان اجنبی ہو جائے گا وہ یہ نہ کہتے کہ بہتر فرقے جہنم کی نذر ہوں گے-

الله تعالی پر مخلوق کا حق نہیں ہے – مخلوق پر الله کا حق ہے- اسی وجہ سے الله کی عبادت خالص ہونی چاہئیے –

  قرآن میں ہے  الله تعالی سب کی سنتا ہے اور انسان کے شہ رگ سے بھی قریب ہے تو پھر سوال ہے کہ آیت میں وسیلہ سے کیا مراد ہے

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

امام طبری تفسیر میں لکھتے ہیں

وابتغوا إليه الوسيلة”، يقول: واطلبوا القربة إليه بالعمل بما يرضيه

اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو  کہا اس کی قربت طلب کرو اس عمل سے جس سے وہ خوش ہو

عبد الله بن كثير، مجاہد، حسن بصری ، قتادہ سب نے اس کو تقرب الی الله قرار دیا ہے جو نیکی کرنے سے حاصل ہوتا ہے

یعنی وسیلہ تلاش کرو سے مراد کسی بزرگ کو تلاش کرنا نہیں ہے جس سے دعا کرا سکیں اس سے مراد ہے الله کا تقرب حاصل کرو اور شرح کی کہ اس کی راہ میں جہاد سے یہ حاصل ہو گا یا نیک عمل سے

سوره بنی اسرائیل یا  الإسراء: 57 میں ہے

أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا

وہ   (مشرک و اہل کتاب) جن کو پکار رہے  ہیں وہ   (خود)الله  کا وسیلہ چاہتے ہیں جو ان کو الله کا   قرب دے اور وہ اللہ  سے رحمت کی امید رکھتے  ہیں اور اس کے  عذاب سے ڈرتے ہیں کہ ان کے  رب کا عذاب ایسا ہے جس سے ڈرا جائے

یعنی فرشتے اور انبیاء جن کو مشرک اور اہل کتاب پکارتے  ہیں وہ فرشتے اور انبیاء خود  الله کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں

تفسیر یحیی بن سلام میں ہے

سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنَ الْعَرَبِ كَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِذَلِكَ النَّفَرُ مِنَ الْعَرَبِ.

[أخرج عبد الرَّزَّاق وَالْفِرْيَابِي وَسَعِيد بن مَنْصُور وَابْن أبي شيبَة وَالْبُخَارِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن جرير وَابْن الْمُنْذر وَابْن أبي حَاتِم وَالطَّبَرَانِيّ وَالْحَاكِم وَابْن مرْدَوَيْه وَأَبُو نعيم فِي الدَّلَائِل عَن ابْن مَسْعُود رَضِي الله عَنهُ]

ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عربوں کے ایک ٹولے کے لئے نازل ہوئی جو جنوں کی عبادت کرتا اور جنات ایمان لائے اور ان کے ایمان کی خبر پجاریوں کو نہیں ہوئی

قرون ثلاثہ کے اندر مفسرین وسیلہ سے مراد نیک عمل ہی لیتے تھے اس سے مراد ولی الله سے دعا کروانا بھی نہیں تھا بلکہ اس کا وسیلہ سے تعلق بھی نہیں ہے – کیونکہ دعا ایک دوسرے کے لئے کرنا معلوم ہے

یہ قول کہ آیت   (اتقوا الله وابتغوا اليه الوسيلة) میں وسیلہ سے مراد شخصی وسیلہ  ہے یہ  اہل تشیع نے بیان کیا اور تفسیر قمی میں ہے

فقال تقربوا اليه بالامام

امام کے ذریعہ قربت حاصل کرو

اس کے برعکس علی رضی الله عنہ سے منسوب الکافی کی روایت ہے جس کو خطبہ الوسیلہ کہا جاتا ہے اس میں صریحا لکھا ہے کہ علی نے کہا

أيها الناس إن الله تعالى وعد نبيه محمدا صلى الله عليه وآله الوسيلة ووعده الحق ولن يخلف الله وعده، ألا وإن الوسيلة على درج الجنة

اے لوگوں الله  تعالی نے اپنے نبی محمد صلی الله علیہ و الہ سے الوسیلہ کا وعدہ کیا ہے اس کا وعدہ سچا ہے خبردار وسیلہ جنت کا درجہ ہے

کتاب نہج البلاغہ میں علی سے منسوب خطبہ ہے

إِنَّ أفضلَ ما توسلَ بِهِ المتوسلون إِلى الله سبحانه وتعالى، الإِيمان بِهِ وَبِرَسُولِهِ، والجهادُ في سبيله، وأقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وَصومُ شهرِ رمضان، وَحج البيت واعتمارُه، وَصلة الرحم، وصدقة السّر، وصدقة العلانية

سب سے افصل توسل الی الله  یہ ہے اس کے رسول پر ایمان لایا جائے اور اس کی راہ میں جہاد کیا جائے اور نماز قائم کی جائے اور زكاة   دی جائے اور رمضان کے روزے رکھے جائیں اور حج بیت الله کیا جائے  اور اس کا  اعتمارُ کیا جائے (یعنی نظم و نسق) اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کی جائے اور چھپ کر صدقه کیا جائے اور اعلانیہ بھی

اس میں وہ تمام نیکیاں آ گئیں جو معروف ہیں – علی نے اپنی ذات کے وسیلہ کا حکم نہیں کیا-

لیکن  بعض  شیعہ اور اہل سنت  نے وسیلہ کو جائز قرار دے دیا ہے کہ  الإِمام یا نبی کی ذات کا وسیلہ لیا جا سکتا ہے

الله تعالی  نے قرآن میں بیان کیا کہ ابناء یعقوب کے لئے یعقوب علیہ السلام نے مغفرت کی دعا کی – معلوم ہوا نیک لوگوں سے ان کی زندگی میں دعا کی درخواست کی جا سکتی ہے- راقم اس کو وسیلہ قرار نہیں دیتا  – قرانی لفظ الوسیلہ سے مراد  علی  رضی الله عنہ کے نزدیک نیکیاں کرنا ہے  – راقم اسی کا قائل ہے کہ کسی سے دعا کروانا  ایک مسلمان کا دوسرے کے حق میں دعا کرنا ہے وسیلہ نہیں ہے-

بعد وفات الانبیاء و صلحاء و اولیاء ان کے ناموں  کو دعا میں استعمال کرنا کہ الله پر ان کا حق جتلانا بلا ثبوت ہے – اس عمل کے وجوب  پر نہ کوئی قرانی آیت ہے نہ حدیث معلوم ہے  بلکہ شرک  ہے اور عمل مشرکین مکہ  سے مماثلت رکھتا ہے  جو اولیاء قوم نوح کو پکارتے تھے

اس کتاب میں ان روایات پر تبصرہ ہے جو دعا میں انبیاء و اولیاء کے  وسیلہ لینے  کے حق میں پیش کی جاتی ہیں

ابو شہر یار

٢٠١٧

 

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

6 Responses to دعا میں وسیلہ کرنا – شرک یا توحید؟

  1. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی زبردست آپ نے زبردست رد کیا شیعہ اور اہلسنت کے غلط عقائد کا – الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمین

    آپ نے اس کتاب کے صفحہ ٥١ پر صحیح لکھا ہے کہ امام ذھبی کا روایت کو بلا جرح نقل کرنا انکے کمزور عقیدے کی نشانی ہے اور یہ محدثین کے اوپر بھی سوالیہ نشان ہے

    امام ذھبی اپنی کتاب معجم الشیوخ الکبیر للذهبی میں لکھتے ہیں کہ

    عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ کَانَ یَکْرَهُ مَسَّ قَبْرِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: کَرِهَ ذَلِکَ لأَنَّهُ رَآهُ إِسَاءَةَ أَدَبٍ، وَقَدْ سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ مَسِّ الْقَبْرِ النَّبَوِیِّ وَتَقْبِیلِهِ، فَلَمْ یَرَ بِذَلِکَ بَأْسًا، رَوَاهُ عَنْهُ وَلَدُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ.فَإِنْ قِیلِ: فَهَلا فَعَلَ ذَلِکَ الصَّحَابَةُ؟ قِیلَ: لأَنَّهُمْ عَایَنُوهُ حَیًّا وَتَمَلَّوْا بِهِ وَقَبَّلُوا یَدَهُ وَکَادُوا یَقْتَتِلُونَ عَلَى وُضُوئِهِ وَاقْتَسَمُوا شَعْرَهُ الْمُطَهَّرَ یَوْمَ الْحَجِّ الأَکْبَرِ، وَکَانَ إِذَا تَنَخَّمَ لا تَکَادُ نُخَامَتُهُ تَقَعُ إِلا فِی یَدِ رَجُلٍ فَیُدَلِّکُ بِهَا وَجْهَهُ، وَنَحْنُ فَلَمَّا لَمْ یَصِحْ لَنَا مِثْلُ هَذَا النَّصِیبِ الأَوْفَرِ تَرَامَیْنَا عَلَى قَبْرِهِ بِالالْتِزَامِ وَالتَّبْجِیلِ وَالاسْتِلامِ وَالتَّقْبِیلِ، أَلا تَرَى کَیْفَ فَعَلَ ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ؟ کَانَ یُقَبِّلُ یَدَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَیَضَعُهَا عَلَى وَجْهِهِ وَیَقُولُ: یَدٌ مَسَّتْ یَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

    http://s5.picofile.com/file/8140718300/uyjfellr78ktplbyen77.jpg

    اسی طرح
    أحمد بن محمد بن إسماعیل الطهطاوی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ

    قوله: “فيتوسل إليه بصاحبيه” ذكر بعض العارفين أن الأدب في التوسل أن يتوسل بالصاحبين إلى الرسول الأكرم صلى الله عليه وسلم ثم به إلى حضرة الحق

    http://shamela.ws/browse.php/book-11993/page-595

    =====

    اسی طرح احمد بن حنبل بھی توسل کے قائل تھے جیسا کہ آپ نے اس کتاب میں ثابت کیا

    ===

    آپ نے کتاب کے صفحہ نمبر ٤٨ پر ائمہ احناف اور وسیلہ کا رد پیش کیا ہے – آپ نے ان کی ایک کتاب کا فتویٰ تو لکھ دیا لیکن دوسری کتاب کا حوالہ بھی ہے جس میں وہ وسیلہ کے قائل ہیں

    ابن عابدین اپنی کتاب رد المحتار کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ

    وإنی أسأله تعالی متوسلا إلیه بنبیه المکرم (ص) وبأهل طاعته من کل ذی مقام علیّ معظم، وبقدوتنا الإمام الأعظم، أن یسهل علی ذلک من إنعامه ویعیننی علی إکماله وإتمامه

    http://s5.picofile.com/file/8165513892/001.png

    http://s4.picofile.com/file/8165513934/002.png

    اسی وجہ سے آج کل احناف کی بھی کی اقسام ہیں

    بریلوی
    دیوبندی حیاتی
    وسیلہ کے قائل
    ====

    دیوبندی مماتی
    یہ وسیلہ کا انکار کرتے ہیں
    =====

    اسی طرح اہلحدیث حضرات کے علماء بھی ہیں جو قائل بھی ہیں اور انکار بھی کرتے ہیں – آپ نے اپنے بلاگ میں تفصیل سے ان پر تھریڈ بنایے ہیں

    =======

    کیا ان کے عقیدے کفریہ اور شرکیہ نہیں – قرآن اور احادیث میں واضح فرما دیا گیا ہے کہ شرک کی کوئی بخشش نہیں لیکن پھر بھی ہم ان کی کتابوں کے محتاج ہیں اپنی تحقیق میں – جرح و تعدیل میں اسما رجال میں

    اور معذرت کے ساتھ یہ بد عقیدگی دونوں طرف ہے اہلسنت میں بھی اور شیعہ میں بھی

    الله ہمیں سچ سمجھنے، سچ کہنے، سچ لکھنے اور سچ پر عمل کی توفیق عطا کرے – آمین ثم آمین

    • Islamic-Belief says:

      ان حوالہ جات کا شکریہ
      ان کو کتاب میں شامل کر دیا ہے

      کتاب دوبارہ داؤن لوڈ کریں
      اس میں کوئی نکتہ یا حوالہ ڈالنا ہو تو ذکر کریں

  2. anum shoukat says:

    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ هم جو أولياء کا ان کی وفات کے بعد دعا میں وسیلہ لیتے ہیں یا اللہ کو واسطہ دیتے ہیں یا بحق محمد یا بجاہ محمد کہتے ہیں تو یہ شرک نہیں ہے کیونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امت شرک نہ کرے گی اور بخاری کی روایت پیش کرتے ہیں

    وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي

    اور الله کی قسم مجھے اس کا خوف نہیں کہ تم شرک کرو گے

    یہ روایت صحیح ہے لیکن اس کو اس کے سیاق و سباق میں ہی سمجھا جا سکتا ہے

    بخاری میں یہ حدیث عقبہ بن عامر رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ایک روز پہلے اصحاب کے ساتھ مقام احد گئے اورشہداء کے لئے دعا کی پھر آپ منبر پر تشریف لے گئے اور یہ الفاظ فرمائے- یہ الفاظ صحابہ کے لئے مخصوص ہیں نہ کہ ساری امت کے لئے . اگر نبی صلی الله علیہ وسلم امت کے حوالیے سے بالکل مطمین ہوتے تو وہ یہ نہ کہتے کہ قرآن حلق سے نیچے نہ اترے گا وہ یہ نہ کہتے کہ ایمان اجنبی ہو جائے گا وہ یہ نہ کہتے کہ بہتر فرقے جہنم کی نذر ہوں گے-

    اگر یہ صحابہ کرام کیلئے مخصوص ہے تو پھر حدیث کے اگلا حصہ بھی صحابہ کیلئے ماننا پڑے گا کہ وہ دنیا کے پیچھے پڑ گے تھے یعنی ابو بکر اور باقی صحابہ کے لیے۔تو کیا یہ گستاخی نہیں ہو گی۔

    • Islamic-Belief says:

      حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ “إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ خَزَائِنَ مَفَاتِيحِ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ بَعْدِي أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا”.
      مجھ سے سعید بن شرحبیل نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے، ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے باہر نکلے اور شہداء احد پر نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں (حوض کوثر پر) تم سے پہلے پہنچوں گا اور قیامت کے دن تمہارے لیے میر سامان بنوں گا۔ میں تم پر گواہی دوں گا اور اللہ کی قسم میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں، مجھے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا داری میں پڑ کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو۔

      ———

      قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا داری میں پڑ کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو۔

      نبی صلی الله علیہ وسلم نے خطرہ کا اظہار کیا کہ ممکن ہے اصحاب رسول دنیا کو طلب کریں گے – حدیث میں اس کو خوف کہا گیا ہے یہ نہیں کہ ایسا ہی ہونا شدنی ہے

      ———–
      ان الفاظ سے یہ کیسے ثابت ہوا جو اپ کہہ رہی ہیں
      اگر یہ صحابہ کرام کیلئے مخصوص ہے تو پھر حدیث کے اگلا حصہ بھی صحابہ کیلئے ماننا پڑے گا کہ وہ دنیا کے پیچھے پڑ گے تھے یعنی ابو بکر اور باقی صحابہ کے لیے۔
      ——–

      • jawad says:

        قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم دنیا داری میں پڑکر کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو۔

        صحابہ کرام رضوان الله اجمعین سے یہ تو بعید نہیں کہ مکمل دنیا داری میں پڑ جاتے لیکن بہر حال وہ بھی انسان تھے اور ان سے اجتہادی غلطیاں بھی ہوئیں بعض نے تو خلافت کی تمنّا بھی کی اور اس کا اظھار بھی کیا جب کہ خلافت کی آرزو بڑی ذمہ داری تھی- جن میں حسین رضی الله عنہ اور ابن زبیر رضی الله عنہ وغیرہ بھی سر فہرست ہیں -خود حضرت علی رضی الله عنہ خلافت کی تمنا رکھتے تھے – جب آنحضرت صل الله علیہ و الہ وسلم کا وصال نزدیک تھا – تو حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت علی رضی الله عنہ سے فرمایا کہ آو نبی کریم سے خلافت کے بارے میں حکم لے لیں کیوں کہ بنو ابو عبدلمطلب کے چہروں پر جو رزدی موت کے وقت ہوتی ہے وہی میں آنحضرت صل الله علیہ و الہ وسلم کے چہرے پر دیکھ رہا ہوں- لگتا ہے وہ اب ہمارے درمیان زیادہ دیر نہیں رہیں گے -اس پر حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ “نہیں میں نہیں جاؤں گا – اگر نبی صل الله علیہ و الہ وسلم نے انکار کردیا تو عمر بھر خلافت ہمیں (بنو ہاشم) کو نہیں ملے گی” – (بخاری)- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علی رضی الله عنہ خلافت کی آرزو دل میں لئے ہوے تھے – ہاں ان پاک ہستیوں میں لالچ یا حسد کا عنصر نہیں تھا یہ لوگ صرف نیک مقصد کے لئے دنیا کو حاصل کرنے کی تمنا کرتے تھے- آپ صل الله علیہ و آ له وسلم کا یہ اندیشہ کسی حد تک صحیح بھی تھا کہ کہیں آگے چل کر یہ اماممت کی آرزو فتنہ کا باعث بن سکتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہوا بھی

        اور عقائد کے معاملے میں بھی نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کا فرمان اپنے اصحاب کے بارے میں بلکل صحیح تھا کہ “قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔” عقائد کے معامله میں تو اصحاب کرام رضوان الله اجمعین اپنی مثال آپ تھے – ان جیسے توحیدی عقائد نہ کسی کے تھے اور نہ ہو سکتے ہیں-

  3. anum shoukat says:

    آپکی بات بالکل صحیح ہے اس حدیث کے دوسرے حصے میں خوف کا بیان ہے نہ کہ ایسا ہی کرے گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *