حمورابی کوڈ اور توریت

کیا  توریت کے  احکام اصلا حمورابی  کے احکام کا چربہ ہیں ؟ بعض لوگ کہتے ہیں  موسی علیہ السلام  ایک فرضی کردار ہے کیونکہ قدیم تاریخ  میں ان کا ذکر نہیں اور آرکیالوجی سے بھی کچھ دریافت نہیں ہوا

جواب

حمورابی  نے میسوپوتما یا بابل  پر ١٧٩٢ سے ١٧٥٠  تک ٤٢ سال  حکومت کی یعنی عیسیٰ سے 18 صدیوں پہلے- حمورابی کے ٣٥٠ سال بعد پیدا ہونے والے بنی اسرائیلی نبی موسی علیہ السلام  یہودی روایات کے مطابق  ١٣٩٣ ق م میں پیدا ہوئے اور ١٢٧٣ ق م میں وفات پا گئے

حمورابی کوڈ ٣٠٠ قوانین پر مشتمل  ایک تحریر ہے جو  ستون پر درج  ہے جس کے تین مختلف ٹکڑے تھے ان hamurabiCodeکو سوس ایران  کے شہر سے فرانسیسی محققین نے دریافت کیا – ستون پر حمورابی بابلی  خدائے سما و ارض شمس کے سامنے ہاتھ باندہے کھڑا ہے اور احکام لے رہا ہے –

 حمورابی کا کوڈ بابلی عقیدے کے مطابق خدا شمس کا عطا کردہ ہے نہ کہ حمورابی کی ذاتی کاوش لہذا یہ بابل کا الہامیادب ہے –  توریت کے احکام الله تعالی یا یہوی کے عطا کردہ ہیں – بعض احکام میں مماثلت ہے مثلا

حمورابی کوڈ توریت کے احکام 
 ١٢٩ اور ١٤ زنا اور اغوا  خروج باب ٢١ آیت ١٠ ، لاوی باب ٢٠  آیت ١٦
١٩٦ آنکھ کے بدلے آنکھ لاوی باب ٢١ آیات ٢٣ تا ٢٥
٢٠٦ خروج باب ٢١ آیت  ١٨ تا ١٩

شروع میں کہا گیا کہ  توریت حمورابی کے قوانین کا ایک چربہ ہے لیکن اب اس   تھیوری کو رد کر دیا گیا ہے اس کی وجہ ہے تین چار کے علاوہ حمورابی کوڈ میں سخت سزایں  توریت سے زیادہ ہیں مثلا   چوری کی سزا ١٠  سے ٣٠ گنا مال واپس دینا بصورت دیگر قتل ہے- توریت میں ایسا نہیں ہے – اس میں سخت قوانین ہیں لیکن حمورابی  کوڈ اس سے بھی سخت ہے

جو چیز ایک دور میں قبولیت عامہ اختیار کر لے اس کو معروف کہا جاتا ہے اور ابراہیمی ادیان میں اسی معروف پر بھی عمل ہوتا ہے اور یہی قانونی شکل لیتا ہے – حمورابی کوڈ یا توریت ایک ایسے دور میں ہیں جن میں معاشروں کی بقا کے لئے سخت قوانین کو اپنانا ضروری تھا اور یہی اس دور میں انسانی ذہن کے لئے قابل قبول تھا – ملحدین کہہ سکتے ہیں کہ موسی کو دشت میں بنی اسرائیل پر کنٹرول کے لئے سخت قوانین درکار تھے لیکن بابل  کے کشادہ و فارغ البال  ملک میں اس قسم کے سخت احکام کیوں  لگائے گئے ؟ اس کے جواب میں یہی مضمر ہے کہ اس دور میں قبولیت عامہ اسی جیسے قواینن کو تھی  لہذا چند قوانین میں مماثلت اصلا نقل یا سرقه نہیں

موسی علیہ السلام پر فراعنہ مصر کی تحریریں خاموش ہیں-  نہ کتبوں پر کچھ ملا نہ تابوتوں پر نہ دیواروں پر نہ کھنڈرووں میں ان کے بارے میں کچھ ملا – ایسا کیوں ہوا ؟ اس کا جواب ہے کہ  موسی ایک فرد ہیں اور فرعونوں کے خاندان سے نہیں – کیا فراعنہ مصر کے علاوہ  کسی اور شخصیت کا ذکر  ملا؟  نہیں ملا – کیونکہ بادشاہتوں میں رویل فیملی ہی کی اہمیت ہوتی ہے اور مخالفین کا ذکر نہیں ہوتا الا یہ کہ وہ کوئی مشھور بادشاہ ہو- موسی علیہ السلام ایک غریب و غلام قوم کے شخص تھے  ان کا نام و نسب فرآعنہ مصر کیوں لکھواتے؟  کہا جاتا ہے  یونانی مورخ ہیروڈوٹس

Herodotus

  جو تاریخ مصر میں طاق تھے انہوں بھی موسی کا ذکر نہیں کیا- لیکن کیا ہیروڈوٹس   جو ٤٨٤ ق م میں پیدا ہوئے کیا تمام مصر کی تاریخ لکھ گئے یا صرف اپنے زمانے کی ہی لکھ پائے اور ان یونانی مورخین نے جو تاریخی غلطیاں کی ہیں ان کا ذکر ہم کیوں بھول جاتے ہیں ؟ ہیروڈوٹس کو جھوٹ کا باپ بھی کہا جاتا ہے – اس کے بقول ایران میں لومڑی کے سائز کی چونٹی ہوتی ہے جو سونا  پھیلاتی ہیں جب زمین میں سوراخ کرتی ہیں تاریخ کتاب 3 اقتباس ١٠٢  تا ١٠٥ – اسی قسم  کے  قول  کو مفسرین نے سوره  النمل میں سلیمان علیہ السلام سے کلام کرنے والی چیونٹی کی  تفسیر  کے لئے استمعال کیا (ابن کثیر تفسیر میں لکھتے ہیں أَوْرَدَ ابْنُ عَسَاكِرَ مِنْ طَرِيقِ إِسْحَاقَ بْنِ بِشْرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ اسْمَ هَذِهِ النَّمْلَةِ حَرَسُ، وَأَنَّهَا مِنْ قَبِيلَةٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو الشَّيْصَانِ، وأنها كانت عرجاء، وكانت بقدر الذئب ابن عساکر نے اسحاق بن بشر عن سعید عن قتادہ عن حسن کی سند سے روایت کیا ہے کہ وہ چیونٹی لومڑی کے سائز کی تھی- یہ ابن کثیر کی غلطی ہے کیونکہ اس کی سند میں اسحاق بن بشر ہے جو قصہ گو ہے اور ضعیف ہے بلکہ محدثین کہتے ہیں موضوعآت بیان کرتا ہے)–  بابل اور مصر کے حوالے سے موصوف نے کافی زمین و آسمان کے قلابے ملائے اور ارکیلوجی سے ثابت ہوا کہ یہ سب فرضی قصے تھے – لق و دق  میسوپوتما کے شہروں کو ٹروپیکل جزیروں کی شکل میں پیش کرنا انہی کا فن تھا – بحر الحال قصہ مختصر بندر کی بلا طویلے کے سر کا مقولہ مشھور ہے –

pyramids

آرکیالوجی سے ثابت ہو چکا ہے کہ مصر میں غلامی زوروں پر تھی اور تقریبا تمام دنیا میں ہی غلامی تھی – بعض عرب مفکروں مثلا دکتور نديم عبد الشافى السيار نے یہ شوشہ چھوڑا کہ مصر میں بنی اسرائیل غلام نہیں تھے اور قدماء فراعنہ مصر موحد تھے –  مصر پر تحقیق کرنے والے مغربی محققین کے خیال میں صرف ایک فرعون بنام اخناتوں

Akhenaten

میں اس عقیدے کا اثر تھا اس کی موت کے بعد اس کی تصویریں مقابر و مندروں میں توڑی گئیں اور اس کی توحید یہ تھی کہ صرف  اتان  دیوتا کی پوجا ہو – اس سے پہلے اوربعد میں کسی فرعون کے لئے یہ عقیدہ نہیں ملتا-  الغرض اگر کسی ممی کے سر کی ہڈی پردراڑ ہو تو محققین اس پر پوری قتل کی کہانی بنا دیتے ہیں اور یہ مصر پر تحقیق کا انداز ہے اس میں کوئی چیز حتمی نہیں ہے بلکہ تھیوری ہے – ایک نشان سے رائی کا پربت بنا دیا جاتا ہے- قدیم تاریخ لکھنے سے بھی پہلے کی باتیں ثابت نہ ہوں تو ان کا انکار نہیں کیا جا سکتا – دوم جتنی بھی قدیم تاریخیں ہیں  وہ سب بائبل سے لی گئی ہیں زمین کی عمر یہود کے مطابق ٦٠٠٠ سال کے قریب  ہے  لہذآ جو بھی واقعہ قدیم دور کا بتایا جاتا ہے وہ اسی مدت کے اندر کا ہی ہوتا ہے اس کی وجہ ہے کہ مغربی محققین چاہے ملحد ہوں یا لا دین یا بے دین یا عقیدہ رکھنے والے ان  کے پاس قدیم تحریروں میں بائبل ہی ایک ذریعہ ہے جس سے  یہ تمام تواریخ مقرر کی گئی ہیں- لہذا  جملہ معترضہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ کیا انصاف ہے کہ بائبل کے نام نہاد مصنف موسی   کو فرضی کہا جائے اور ان کی کتاب سے قدیم تاریخ مقرر کی جاتی ہے- قدیم مصر کی تواریخ

Manetho

سے منسوب ہے جو 3 قبل مسیح کا ایک مصری پروہیت  تھا اور کہا جاتا ہے  فراعنہ مصر کے دین پر تھا – اس دور میں آرکیالوجی نہیں تھی لیکن اس کی مقرر کردہ تاریخ میں کھینچ تان کر کے اس کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ ایک مستند ذریعہ ہو- کہنے کا مقصد ہے جس چیز میں خود جھول ہو اس کی بنیاد پر الہامی کتب کو رد کرنا سفیہانہ عمل ہے

This entry was posted in history. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *