جادو برج فرشتے اور محدثین ٢

قرآن میں سوره البقرہ میں ہے  کہ بابل میں یہود سحر کا علم حاصل کرتے تھے جو ان کی آزمائش تھا آیات ہیں

واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما أنزل على الملكين ببابل هاروت وماروت وما يعلمان من أحد حتى يقولا إنما نحن فتنة فلا تكفر فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء وزوجه وما هم بضارين به من أحد إلا بإذن الله ويتعلمون ما يضرهم ولا ينفعهم ولقد علموا لمن اشتراه ما له في الآخرة من خلاق ولبئس ما شروابه أنفسهم لو كانوا يعلمون

اور  (یہود) لگے اس  (علم) کے پیچھے جو شیطان مملکت سلیمان کے حوالے سے پڑھتے تھے اور سلیمان  نے تو کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے کفر کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے اور جو بابل میں فرشتوں هاروت وماروت پر نازل ہوا تھا تو (وہ بھی) اس میں سے کسی کو نہ سکھاتے تھے حتی کہ کہتے ہم فتنہ ہیں، کفر مت کر!  لیکن وہ (یہودی) پھر بھی سیکھتے، تاکہ مرد و عورت میں علیحدگی کرائیں اور وہ کوئی نقصان نہیں کر سکتے تھے الا یہ کہ الله کا اذن ہو-  اور وہ ان سے (سحر) سیکھتے جو نہ فائدہ دے سکتا تھا نہ نقصان- اوروہ جانتے تھے کہ وہ کیا خرید رہے ہیں،  آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا اور بہت برا سودا کیا اگر ان کو پتا ہوتا

سحر کا علم ان کو فرشتوں هاروت وماروت  سے ملا  تھا لیکن ان کو پتا تھا کہ یہ فتنہ ہے لیکن اپنی سابقہ حرکتوں کو توجیہ دینے کے لئے انہوں نے تمام علوم کا مخزن چاہے ( شرک و سحر ہی کیوں نہ ہو ) سانپ کو  قراردیا – یہود کے مطابق یہ سب اس شجر علم میں چھپا تھا جو جنت عدن کے بیچوں بیچ تھا –  واضح رہے کہ موجودہ  توریت کی  کتاب پیدائش میں سانپ سے مراد شیطان نہیں ہے بلکہ انسانوں کا ہمدرد ایک مخلوق ہے جو چھپ کر انسان کو علم دیتا ہے جبکہ الله تعالی کا ارادہ انسان کو کم علم رکھنے کا تھا – یہ سب کیوں لکھا گیا اس پر آپ تفصیل

http://www.islamic-belief.net/muslim-belief/satan/ابراہیمی-ادیان-میں-شیطان-کا-تصور/

میں پڑھ سکتے ہیں

سحر کا علم دنیا میں ہاروت و ماروت سے پہلے مصریوں کے پاس بھی تھا جس کا ذکر موسی علیہ السلام کے حوالے سے قرآن میں موجود ہے کہ جادو گرووں نے موسی علیہ السلام اور حاضرین  کا تخیل تبدیل کر دیا اور ایک عظیم سحر کے ساتھ ائے جس میں لاٹھیاں اور رسیاں چلتی ہوئی محسوس ہوئیں

یہاں سوره البقرہ میں بتایا گیا کہ بابل میں یہود کا ذوق شادی شدہ عورتوں کو حاصل کرنے کی طرف ہوا جس میں ان کو طلاق دلانے کے لئے سحر و جادو کیا جاتا – اگر سحر صرف نظر بندی ہوتا تو یہ ممکن نہ تھا لہذا اس کو ایک شیطانی عمل  کہا جاتا ہے جس میں شریعت کی پابندی کو رد کیا جاتا ہے اور حسد انسان کو سحر کی طرف لے جاتا ہے

اس میں گرہ لگا کر پھونکا جاتا ہے سوره الفلق

تیسری صدی میں جب معتزلہ کا زور تھا انہوں نے مجوسیوں کی طرح الله کی طرف شر کو منسوب کرنے سے انکار کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا حسن کی طرح قبیح و سحر و شر کی نسبت الله کی طرف درست ہے ؟ کیا الله خالق سحر و شر ہے ؟

علماء نے اس کا جواب دیا کہ قرآن سے ثابت ہے کہ الله ہی شیطان کا خالق ہے اور تمام گناہ اس نے لکھ دیے ہیں لہذا وہی شر کا خالق ہے – کسی بھی علم کا اثر انگیز ہونا بھی اسی حکم کے تحت ہے لہذا اگرچہ سحر شرک و ناپسندیدہ ہے اس کی تاثیر من جانب الله ہے

 ہاروت و ماروت الله کے دو فرشتے تھے جو سحر کا علم لے کر بابل میں اترے اور یہود کی آزمائش بنے- اگر ہاروت و ماروت نے جادو نہیں سکھایا تو وہ یہ کیوں کہتے تھے کہ ہم فتنہ ہیں کفر مت کرو

دوسری صدی ہجری

سابقہ یمنی یہودی کعب الاحبار ایک قصہ سناتے

تفسیر عبد الرزاق  المتوفي ٢١١ هجري کی روایت ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَال – نا الثَّوْرِيُّ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ كَعْبٍ , قَالَ: «ذَكَرَتِ الْمَلَائِكَةُ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ , وَمَا يَأْتُونَ مِنَ الذُّنُوبِ» فَقِيلَ لَهُمْ: «اخْتَارُوا مَلَكَيْنِ , فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ» قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا: «إِنِّي أُرْسِلُ رُسُلِي إِلَى النَّاسِ , وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمَا رَسُولٌ , انْزِلَا وَلَا تُشْرِكَا بِي شَيْئًا , وَلَا تَزْنِيَا , وَلَا تَسْرِقَا» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ كَعْبٌ: «فَمَا اسْتَكْمَلَا يَوْمَهُمَا الَّذِي أُنْزِلَا فِيهِ حَتَّى عَمِلَا مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا»

کعب نے کہا : ذکر کیا فرشتوں کا ان کا جو نبی آدم پر نگہبان تھے اور جو ان کے گناہوں کے بارے میں ہے پس ان فرشتوں سے کہا گیا کہ چن لو فرشتوں کو انہوں نے ہاروت و ماروت کو چنا اور ہاروت و ماروت سے کہا میں اپنے سفیر بنی آدم کی طرف بھیج رہا ہوں اور میرے اور تمھارے درمیان کوئی اور نہیں ہو گا بنی آدم  پر نازل ہو اور شرک نہ کرنا نہ زنا اور نہ چوری – ابن عمر رضی الله عنہ نے کہا کہ کعب نے کہا انہوں نے وہ کام نہ کیا جس پر نازل کیا گیا تھا یہاں تک کہ حرام کام کیا

اسنادی حیثیت سے قطع نظر ان روایات میں یہود کی کتاب

Book of Enoch

Book of Jubilees

کا قصہ نقل کیا گیا ہے ہبوط شدہ فرشتے

Fallen Angels

یا

Watchers

اپنے ہی ہبوط شدہ فرشتوں میں سے دو کو انسانوں کو سحر سکھانے بھیجتے ہیں

یہود کے مطابق انوخ اصلا ادریس علیہ السلام  کا نام ہے

ایک روایت قتادہ بصری سے منسوب ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ نا مَعْمَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «كَتَبَتِ الشَّيَاطِينُ كُتُبًا فِيهَا كُفْرٌ وَشِرْكٌ , ثُمَّ دَفَنَتْ تِلْكَ الْكُتُبَ تَحْتَ كُرْسِيِّ سُلَيْمَانَ , فَلَمَّا مَاتَ سُلَيْمَانُ اسْتَخْرَجَ النَّاسُ تِلْكَ الْكُتُبَ» فَقَالُوا: هَذَا عِلْمٌ كَتَمَنَاهُ سُلَيْمَانُ فَقَالَ اللَّهُ: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ} [البقرة: 102]

شیاطین نے کتابیں لکھیں جس میں کفر و شرک تھا پھر ان کو سلیمان  کے تخت کے نیچے چھپا دیا پھر جب سلیمان کی وفات  ہوئی تو لوگوں نے ان کو نکالا اور کہا یہ وہ علم ہے جو سلیمان نے ہم سے چھپایا پس الله نے کہا{وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ} [البقرة:

تذكرة الحفاظ از الذھبی کے مطابق مفسر مجاہد نے تحقیق کی

ذكر محمد بن حميد أخبرنا عبد الله بن عبد القدوس عن الأعمش قال: كان مجاهد لا يسمع بأعجوبة إلا ذهب لينظر إليها. ذهب الى حضرموت ليرى بئر برهوت وذهب الى بابل وعليه وال فقال له مجاهد: تعرض على هاروت وماروت فدعا رجلا من السحرة فقال: اذهب به فقال اليهودي بشرط ألا تدعو الله عندهما قال فذهب به الى قلعة فقطع منها حجرا ثم قال خذ برجلى فهوى به حتى انتهى الى جوبة فإذا هما معلقين منكسين كالجبلين فلما رأيتهما قلت سبحان الله خالقكما فاضطربا فكأن الجبال تدكدكت فغشي على وعلى اليهودي ثم أفاق قبلى فقال قد أهلكت نفسك وأهلكتنى.

الأعمش نے کہا کہ مجاہد عجوبہ بات نہیں سنتے یہاں تک کہ اس کو دیکھتے وہ حضر الموت گئے تاکہ برهوت کا کنواں دیکھیں اور بابل گئےوہاں افسر تھا اس سے کہا مجھ پر ہاروت و ماروت کو پیش کرو پس  جادو گروں کو بلایا گیا ان سے کہا کہ وہاں تک لے چلو ایک یہودی نے کہا اس شرط پر کہ وہاں ہاروت و ماروت کے سامنے اللہ کو نہیں پکارو گے  – پس وہ وہاں گئے قلعہ تک اس کا پتھر نکالا گیا پھر یہودی نے پیر سے پکڑا اور لے گیا جہاں دو پہاڑوں کی طرح ہاروت و ماروت معلق تھے پس ان کو دیکھا  (تو بے ساختہ مجاہد بولے) سبحان الله جس نے ان کو خلق کیا – اس پر  وہ (فرشتے) ہل گئے اور مجاہد  اور یہودی غش کھا گئے پھرجب  افاقہ ہوا تو یہودی بولا:  تم نے تو اپنے آپ کو اور مجھے مروا ہی دیا تھا

تیسری صدی ہجری

امام احمد اس قصے  کو منکر کہتے تھے – الكتاب: أنِيسُ السَّاري في تخريج وَتحقيق الأحاديث التي ذكرها الحَافظ ابن حَجر العسقلاني في فَتح البَاري از آبو حذيفة، نبيل بن منصور بن يعقوب بن سلطان البصارة الكويتي

وقال أحمد بن حنبل: هذا منكر، إنما يروى عن كعب” المنتخب لابن قدامة ص 296 ہ

امام احمد نے کہا یہ منکر ہے اس کو کعب نے روایت کیا ہے

چوتھی صدی ہجری

تفسیر ابن ابی حاتم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبِي ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ- يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ- عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو وَيُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ مُجَاهِدٍ. قَالَ: كُنْتُ نَازِلا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَالَ لِغُلامِهِ. انْظُرْ طَلَعَتِ الْحَمْرَاءُ لَا مَرْحَبًا بِهَا وَلا أَهْلا وَلا حَيَّاهَا اللَّهُ هِيَ صَاحِبَةُ الْمَلَكَيْنِ- قَالَتِ الْمَلائِكَةُ: رَبِّ كَيْفَ تَدَعُ عُصَاةَ بَنِي آدَمَ وَهُمْ يَسْفِكُونَ الدَّمَ الْحَرَامَ، وَيَنْتَهِكُونَ مَحَارِمَكَ، وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ؟  قَالَ: إِنِّي قَدِ ابْتَلَيْتُهُمْ فَلَعَلِّي إِنِ ابْتَلَيْتُكُمُ بِمِثْلِ الَّذِي ابْتَلَيْتُهُمْ بِهِ فَعَلْتُمْ كَالذي يَفْعَلُونَ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَاخْتَارُوا مِنْ خِيَارِكُمُ اثْنَيْنِ، فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ فَقَالَ لَهُمَا إِنِّي مُهْبِطُكُمَا إِلَى الأَرْضِ وَعَاهِدٌ إِلَيْكُمَا أَنْ لَا تُشْرِكَا وَلا تَزْنِيَا، وَلا تَخُونَا. فَأُهْبِطَا إِلَى الأَرْضِ، وَأَلْقَى عَلَيْهِمَا الشَّبَقَ وَأُهْبِطَتْ لَهُمَا الزُّهْرَةُ فِي أَحْسَنِ صُورَةِ امْرَأَةٍ فَتَعَرَّضَتْ

مجاہد کہتے ہیں ہم سفر  میں آبن عمر رضی الله عنہ کے ساتھ تھے  پس جب رات ہوئی انہوں نے لڑکے سے کہا دیکھو الْحَمْرَاءُ کا طلوع ہوا اس میں خوش آمدید نہیں ہے نہ اس کے اہل کے لئے … یہ ان فرشتوں کی ساتھی ہے – فرشتوں نے کہا اے رب ہم انسانوں کے گناہوں کو کیسے دور کریں وہ خون بہا رہے ہیں اور زمین پر فساد برپا کر رہے ہیں؟ کہا : بے شک میں ان کی آزمائش کروں گا جس طرح میں نے تم کو آزمائش میں ڈالا اور دیکھوں گا کیسا عمل کرتے ہیں ؟ … پس اپنے فرشتوں میں سے چنوں دو کو – انہوں نے ہاروت و ماروت کو چنا ان سے کہا زمین پر ہبوط کرو اور تم پر عہد ہے نہ شرک کرنا نہ زنا اور نہ خیانت پس وہ زمین پر اترے اور ان پر شہوانیت القی کی گئی اور الزہرا کو بھی اترا یا ایک حسین عورت کی شکل میں اور ان کا دیکھنا ہوا

سياره الزهراء يا

Venus

کو الْحَمْرَاءُ کہا گیا ہے یعنی سرخی مائل اور اس کو ایک عورت کہا گیا ہے جو مجسم ہوئی اور فرشتوں ہاروت و ماروت کی آزمائش بنی  خبر دی گئی کہ فرشتے انسانوں سے جلتے تھے اس تاک میں رہتے کہ الله تعالی کے سامنے ثابت کر سکیں کہ ہم نے جو پہلے کہا تھا کہ یہ انسان فسادی ہے اس کو صحیح ثابت کر سکیں – اس پر الله نے کہا کہ تم فرشتوں سے خود دو کو چنوں اور پھر وہ فرشتے کیا آزمائش بنتے وہ خود الزہرا پر عاشق ہو گئے

کتاب العلل از ابن ابی حاتم میں ابن ابی حاتم نے اپنے باپ سے اس روایت پر سوال کیا

وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ معاذ بن خالد العَسْقلاني عَنْ زُهَير (1) بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَير (2) ، عَنْ نَافِعٍ، عن عبد الله بْنِ عُمَرَ؛ أنَّه سَمِعَ النبيَّ (ص) يقول: إِنَّ آدَمَ [لَمَّا] (3) أَهْبَطَهُ (4) اللهُ إلَى الأَرْضِ، قَالَتِ المَلاَئِكَةُ: أَيْ رَبِّ! {أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ} (5) ، قَالُوا: رَبَّنَا، نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ … وذكَرَ الحديثَ: قِصَّةَ (6) هاروتَ وماروتَ؟

قَالَ أَبِي: هذا حديثٌ مُنكَرٌ

میرے باپ نے کہا یہ منکر ہے

ابن ابی حاتم اپنی تفسیر کے ج 10، ص 3241-3242 پر ایک واقعہ نقل کرتے ہیں

قَوْلُهُ تَعَالَى: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ
18355 – وَبِسَنَدٍ قَوَيٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَرَادَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلامُ أَنْ يَدْخُلَ الْخَلاءَ فَأَعْطَى الْجَرَادَةَ خَاتَمَهُ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ، وَكَانَتْ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ فَجَاءَ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا: هَاتِي خَاتَمِي فَأَعْطَتْهُ فَلَمَّا لَبِسَهُ دَانَتْ لَهُ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَالشَّيَاطِينُ، فَلَمَّا خَرَجَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ الْخَلَاءِ قال لها: هَاتِي خَاتَمِي فَقَالَتْ: قَدْ أَعْطَيْتُهُ سُلَيْمَانَ قَالَ: أَنَا سُلَيْمَانُ قَالَتْ: كَذَبْتَ لَسْتَ سُلَيْمَانَ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي أَحَدًا يَقُولُ: أَنَا سُلَيْمَانُ إِلا كَذَّبَهُ حَتَّى جَعَلَ الصِّبْيَانُ يَرْمُونَهُ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَامَ الشَّيْطَانُ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ.
فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُدَّ عَلَى سليمان عليه السلام سلطانه ألْقَى فِي قُلُوبِ النَّاسِ إِنْكَارَ ذَلِكَ الشَّيْطَانِ فَأَرْسَلُوا إِلَى نِسَاءِ «1» سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالُوا لهن أيكون من سليمان شيء؟ قلنا: نَعَمْ إِنَّهُ يَأْتِينَا وَنَحْنُ حُيَّضٌ، وَمَا كَانَ يَأْتِينَا قَبْلَ ذَلِكَ

قوی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کیا گیا ہے کہ جب سلیمان علیہ السلام بیت الخلاء میں جاتے، اپنی انگوٹھی جرادہ کو دیتے، جو کہ ان کی بیوی تھی، اور سب سے عزیز تھی۔ شیطان حضرت سلیمان کی صورت میں اس کے پاس آیا، اور کہا کہ مجھے میری انگوٹھی دو۔ تو اس نے دے دی۔ جب اس نے پہن لی، تو سب جن و انس و شیطان اس کے قابو میں آ گئے۔ جب سلیمان علیہ السلام نکلے، تو اس سے کہا کہ مجھے انگوٹھی دو۔ اس نے کہا کہ وہ تو میں سلیمان کو دے چکی ہوں۔ آپ نے کہا کہ میں سلیمان ہوں۔ اس نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تم سلیمان نہیں۔ پس اس کے بعد ایسا کوئی نہیں تھا کہ جس سے انہوں نے کہا ہو کہ میں سلیمان ہوں، اور ان کی تکذیب نہ کی گئی ہو۔ یہاں تک کہ بچوں نے انہیں پتھروں سے مارا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا امر ہے۔ شیطان لوگوں میں حکومت کرنے لگا- جب اللہ نے اس بات کا ارادہ کیا کہ حضرت سلیمان کو ان کی سلطنت واپس کی جائے تو انہوں نے لوگوں کے دلوں میں القا کیا کہ اس شیطان کا انکار کریں۔ پس وہ ان کی بیویوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ آپ کو سلیمان میں کوئی چیز نظر آئی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! اب وہ ہمارے پاس حیض کے دونوں میں بھی آتے ہیں، جب کہ پہلے ایسا نہیں تھا۔

یہاں اس پر قوی سند لکھا ہوا ہے راقم کہتا ہے

تفسیر ابن حاتم ٩٠٠ صفحات کی کتاب ہے اس میں کسی بھی روایت پر سند قوی یا ضعیف یا صحیح نہیں ملتا
یہ واحد روایت 18355 ہے جس پر وَبِسَنَدٍ قَوَيٍ سند قوی ملتا ہے لیکن حیرت ہے کہ اس کی سند ابن ابی حاتم نے نہیں دی
لگتا ہے اس میں تصرف و تحریف ہوئی ہے جب سند ہے ہی نہیں تو قوی کیسے ہوئی؟

اس کی سند ہے
ومن أنكرها أيضًا ما قال ابن أبي حاتم: حدثنا علي بن حسين، قال: حدثنا محمد بن العلاء وعثمان بن أبي شيبة وعلي بن محمد، قال: حدثنا أبو معاوية، قال: أخبرنا الأعمش، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس -رضي الله عنهما- في قوله – تعال ى-: {وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ}، قال: أراد سليمان -عليه الصلاة والسلام- أن يدخل الخلاء وكذا وكذا؛ ذكر الرواية التي سبق ذكرها

اس کی سند میں المنهال بن عمرو ہے جو ضعیف ہے

چوتھی صدی کے ہی  ابن حبان اس روایت کو صحیح ابن حبان المتوفی ٣٥٤ ھ  میں نقل کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكير عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:  (إِنَّ آدَمَ ـ لَمَّا أُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ ـ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ! {أَتَجْعَلُ فِيهَا مِنْ يُفسد فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ ونُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: 30] قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ قَالُوا: رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ قَالَ: فَاهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ قَالَ: فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزُّهْرةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ فَجَاءَاهَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تكَلِّما بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ قَالَا: وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بصبيٍّ تَحْمِلُه فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ فَقَالَا: لَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُه فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ مَا تركتُما مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِلَّا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُما فخُيِّرا ـ عِنْدَ ذَلِكَ ـ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخرة فاختارا عذاب الدنيا)

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الزُّهرة ـ هَذِهِ ـ: امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، لَا أَنَّهَا الزُّهرة الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ، الَّتِي هِيَ مِنَ الخُنَّسِ.

ابن عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا فرمایا: جب آدم کا زمین کی طرف ہبوط ہوا فرشتوں نے کہا اے رب کیا اس کو خلیفہ کیا ہے کہ اس میں فساد کرے اور خون بہائے اور ہم آپ کی تعریف کرتے ہیں اور تقدس کرتے ہیں ؟ فرمایا : میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے – فرشتوں نے کہا  ہمارے رب ہم انسانوں سے بڑھ کر آپ کے اطاعت گزار ہیں الله تعالی نے فرشتوں سے کہا : فرشتوں کو لو پس دیکھیں یہ کیا عمل کرتے ہیں- فرشتوں نے کہا : آے رب ہاروت و ماروت ہیں- حکم الہی ہوا : زمین کی طرف ہبوط کرو – وہاں الزہرا انسانوں میں سے ایک حسن عورت ان کو ورغلائے گی پس وہ ان فرشتوں کے پاس گئی اور نفس کے  بارے میں سوال کیا (یعنی زنا کی ہاروت و ماروت نے ترغیب دی) اور بولی : نہیں الله کی قسم میں نہیں کروں گی یہاں تک کہ تم شرکیہ کلمات ادا کرو – ہاروت و ماروت نے کہا و الله ہم یہ کلمات نہیں بولیں گے پس وہ لوٹ گئی ایک لڑکے کے ساتھ اور واپس انہوں نے  نفس کا سوال کیا  وہ بولی میں اس لڑکے کو مار ڈالوں گی فرشتوں نے کہا نہیں مارو وہ لوٹ گئی پھر آئی ایک قدح لے کر شراب کا اس پر سوال کیا فرشتوں نے کہا ہم نہیں پییں گے یہاں تک کہ وہ پی گئے پس وہ واقعہ ہوا (زنا) اور لڑکے کو قتل کیا – جب افاقہ ہوا عورت بولی الله کی قسم میں نے تم کو کہیں کا نہ چھوڑا گناہ میں کوئی چیز نہیں جو تم نہ کر بیٹھے ہو اور تم نے نہیں کیا جب تک شراب نہ پی لی  … تم نے دنیا و آخرت میں سے دنیا کا  عذاب چنا

ابو حاتم ابن حبان نے کہا الزہرہ یہ اس دور میں عورت تھی وہ وہ نہیں جو آسمان میں ہے جو الخنس ہے

ابن حبان نے اس روایت کو صحیح میں لکھا اس میں اختلاف صرف یہ کیا کہ الزہرہ کو ایک مسجم عورت کی بجائے ایک حقیقی عورت کہا

البدء والتاريخ  از المطهر بن طاهر المقدسي (المتوفى: نحو 355هـ)  قصة هاروت وماروت،  اختلفوا المسلمون [1] فيه اختلافا كثيرا

القدسی نے تاریخ میں لکھا کہ مسلمانوں کا اس پر اختلاف ہے

یعنی ابن ابی حاتم اس کو منکر کہتے ہیں اور ابن حبان صحیح

العلل دارقطنی از امام دارقطنی المتوفی ٣٨٥ ھ  میں ہے

وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وسلم: أن آدم لما أهبطه الله إلى الأرض قالت الملائكة: أي رب: {أتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء} ، قالوا: ربنا، نحن أطوع لك من بني آدم، قال الله للملائكة: هلموا ملكين … فذكر قصة هاروت وماروت.

فقال: اختلف فيه على نافع:

فرواه موسى بن جبير، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

وَخَالَفَهُ مُوسَى بْنُ عقبة، فرواه عن نافع، عن ابن عمر، عن كعب الأحبار، من رواية الثوري، عن موسى بن عقبة.

وقال إبراهيم بن طهمان: عن موسى بن عقبة، عن سالم، عن أبيه، عن كعب.

دارقطنی نے العلل میں اس کی اسناد نقل کیں لیکن رد نہیں کیا

پانچویں صدی ہجری

امام حاکم  المتوفی ٤٠٥ ھ مستدرک میں اس قصہ  کو صحیح کہتے ہیں

آٹھویں صدی ہجری

الذھبی سیر میں لکھتے ہیں

قُلْتُ: وَلِمُجَاهِدٍ أَقْوَالٌ وَغَرَائِبُ فِي العِلْمِ وَالتَّفْسِيْرِ تُسْتَنْكَرُ، وَبَلَغَنَا: أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَابِلَ، وَطَلَبَ مِنْ مُتَوَلِّيْهَا أَنْ يُوْقِفَهُ عَلَى هَارُوْتَ وَمَارُوْتَ.

میں کہتا ہوں : مجاہد کے اقوال اور علم و تفسیر میں غریب باتیں ہیں جن کا انکار کیا جاتا ہے اور ہم تک پہنچا ہے کہ یہ بابل گئے اور وہاں کے متولی سے کہا کہ ہاروت و ماروت سے ملاو

لیکن  الذھبی مستدرک حاکم کی تلخیص میں ہاروت و ماروت کے  اس قصہ  کو صحیح کہتے ہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ وَكَانَ ثِقَةً، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ} [البقرة: 102] الْآيَةُ. قَالَ: ” إِنَّ النَّاسَ بَعْدَ آدَمَ وَقَعُوا فِي الشِّرْكِ اتَّخَذُوا هَذِهِ الْأَصْنَامَ، وَعَبَدُوا غَيْرَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَتِ الْمَلَائِكَةُ يَدْعُونَ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا خَلَقْتَ عِبَادَكَ فَأَحْسَنْتَ خَلْقَهُمْ، وَرَزَقْتَهُمْ فَأَحْسَنْتَ رِزْقَهُمْ، فَعَصَوْكَ وَعَبَدُوا غَيْرَكَ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ يَدْعُونَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُمْ فِي غَيْبٍ فَجَعَلُوا لَا يَعْذُرُونَهُمْ ” فَقَالَ: اخْتَارُوا مِنْكُمُ اثْنَيْنِ أُهْبِطُهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، فَآمُرُهُمَا وَأَنْهَاهُمَا ” فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ – قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِيهِمَا – وَقَالَ فِيهِ: فَلَمَّا شَرِبَا الْخَمْرَ وَانْتَشَيَا وَقَعَا بِالْمَرْأَةِ وَقَتَلَا النَّفْسَ، فَكَثُرَ اللَّغَطُ فِيمَا بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ الْمَلَائِكَةِ فَنَظَرُوا إِلَيْهِمَا وَمَا يَعْمَلَانِ فَفِي ذَلِكَ أُنْزِلَتْ {وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ، وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ} [الشورى: 5] الْآيَةُ. قَالَ: فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ الْمَلَائِكَةُ يَعْذُرُونَ أَهْلَ الْأَرْضِ وَيَدْعُونَ لَهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

[التعليق – من تلخيص الذهبي]  3655 – صحيح

نویں صدی ہجری

هیثمی  المتوفی ٨٠٧ ہجری کتاب مجمع الزوائد میں لکھتے ہیں

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا – قَالَ: اسْمُ الْمَلَكَيْنِ اللَّذَيْنِ يَأْتِيَانِ فِي الْقَبْرِ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ، وَكَانَ اسْمُ هَارُوتَ وَمَارُوتَ – وَهُمَا فِي السَّمَاءِ – عَزَرًا وَعَزِيزًا ..  رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

اس کی اسناد حسن ہیں

ابن حجر المتوفي ٨٥٢ هجري  فتح الباری میں کہتے ہیں

قال الحافظ: وقصة هاروت وماروت جاءت بسند حسن من حديث ابن عمر في مسند أحمد

اور ہاروت و ماروت کا قصہ حسن سند سے مسند احمد میں ہے ابن عمر کی سند سے

دسویں صدی ہجری

التخريج الصغير والتحبير الكبير  ابن المِبْرَد الحنبلي (المتوفى: 909 هـ)

حديث: “هَارُوتَ وَمَارُوتَ” الإمام أحمد، وابن حبان، بسند صحيح.

ابن المِبْرَد  کے مطابق مسند احمد اور صحیح ابن حبان میں اس کی سند صحیح ہے

الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة از عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)

قصة هاروت وماروت.  وفي مسند أحمد، وصحح ابن حبان من حديث ابن عمر بسند صحيح.

قلت: لها طرق عديدة استوعبتها في التفسير المسند، وفي تخريج أحاديث الشفاء، انتهى.

قصہ ہاروت و ماروت کا یہ مسند احمد صحیح ابن حبان میں ہے صحیح سند سے ابن عمر رضی الله عنہ کی

میں السيوطي کہتا ہوں اس کے بہت سے طرق مسند احمد کی تفسیر میں ہے اور احادیث کتاب الشفاء کی تخریج میں

کتاب  تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة  المؤلف: نور الدين، علي بن محمد بن علي بن عبد الرحمن ابن عراق الكناني (المتوفى: 963هـ)

” وَمن طَرِيقه (خطّ) من حَدِيث ابْن عمر، وَفِيه قصَّة لنافع مَعَ ابْن عمر وَلَا يَصح، فِيهِ الْفرج بن فضَالة، وسنيد ضعفه أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ (تعقبه) الْحَافِظ ابْن حجر فِي القَوْل المسدد فَقَالَ: أخرجه أَحْمد فِي مُسْنده وَابْن حبَان فِي صَحِيحه من وَجه آخر، وَله طرق كَثِيرَة جمعتها فِي جُزْء مُفْرد يكَاد الْوَاقِف عَلَيْهَا لكثرتها وَقُوَّة مخارج أَكْثَرهَا يقطع بِوُقُوع هَذِه الْقِصَّة، انْتهى قَالَ السُّيُوطِيّ: وجمعت أَنا طرقها فِي التَّفْسِير الْمسند وَفِي التَّفْسِير الْمَأْثُور فَجَاءَت نيفا وَعشْرين طَرِيقا مَا بَين مَرْفُوع وَمَوْقُوف، وَلِحَدِيث ابْن عمر بِخُصُوصِهِ طرق مُتعَدِّدَة.

اور جو طرق حدیث ابن عمر کا ہے اور اس میں نافع کا ابن عمر کے ساتھ کا قصہ ہے صحیح نہیں ہے اس میں فرج بن فضالہ ہے اور سنید ہے جس کی تضعیف کی ہے ابو داود نے اور نسائی نے اس کا تعقب کیا ہے ابن حجر نے کتاب القول لمسدد میں اور کہا ہے اس کی تخریج کی ہے احمد نے مسند میں ابن حبان نے صحیح میں  دوسرے طرق سے اور اس کے کثیر طرق ہیں جو سب مل کر ایک جز بن جاتے ہیں اور واقف جان جاتا ہے اس کثرت پر اور مخارج کی قوت پر … السُّيُوطِيّ نے کہا اور میں نے جمع کر دیا ہے اس کے طرق تفسیر میں اور … خاص کر ابن عمر کی حدیث کے تو بہت طرق ہیں

تذكرة الموضوعات میں محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي (المتوفى: 986هـ) لکھتے ہیں

قِصَّةُ هَارُوتَ وَمَارُوتَ مَعَ الزَّهْرَةِ وَهُبُوطِهِ إِلَى الأَرْضِ امْرَأَةً حَسَنَةً حِينَ طَغَتِ الْمَلائِكَةُ وَشُرْبِهِمَا الْخَمْرَ وقتلهما النَّفس وزناهما» عَن ابْن عمر رَفعه وَفِيه مُوسَى ابْن جُبَير مُخْتَلف فِيهِ وَلَكِن قد توبع، وَلأبي نعيم عَن عَليّ قَالَ «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّهْرَةَ وَقَالَ إِنَّهَا فتنت الْملكَيْنِ» وَقيل الصَّحِيح وَقفه على كَعْب وَكَذَا قَالَ الْبَيْهَقِيّ، وَفِي الْوَجِيز قصتهما فِي الْفرج بن فضَالة: ضَعِيف قلت قَالَ ابْن حجر لَهَا طرق كَثِيرَة يقطع بوقوعها لقُوَّة مخارجها.

قصہ ہاروت و ماروت کا الزہرا کے ساتھ اور ان کا زمین پر ہبوط کرنا ایک حسین عورت کے ساتھ اور فرشتوں کا بغاوت کرنا اور شراب پینا اور قتل نفس کرنا اور زنا کرنا جو ابن عمر سے مروی ہے ان تک جاتا ہے اور اس میں موسی بن جبیر ہے مختلف فیہ ہے لیکن اس کی متابعت کی ہے ابو نعیم نے علی کی روایت سے کہ الله کی لعنت ہو الزہرا پر اور کہا اس نے فرشتوں کو آزمائش میں ڈالا اور کہا ہے صحیح ہے کعب پر موقوف ہے اور اسی طرح کہا ہے البیہقی نے اور فرج کےقصہ پر کہا ضعیف ہے میں کہتا ہوں ابن حجر نے کہا ہے کہ اس کے طرق بہت سے ہیں

ابن کثیر نے تفسیر میں لکھا

ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر، ج 7، ص 59-60 میں درج کیا ہے۔ سند کے بارے میں انہوں نے بھی یہی کہا ہے کہ

إسناده إلى ابن عباس رضي الله عنهما قَوِيٌّ، وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ إِنَّمَا تَلَقَّاهُ ابْنُ عباس رضي الله عنهما إِنْ صَحَّ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَفِيهِمْ طائفة لا يعتقدون نبوة سليمان عليه الصلاة والسلام فَالظَّاهِرُ أَنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَيْهِ، وَلِهَذَا كَانَ فِي هذا السِّيَاقِ مُنْكَرَاتٌ مِنْ أَشَدِّهَا ذِكْرُ النِّسَاءِ فَإِنَّ المشهور عن مجاهد وغير واحد من أئمة السلف أَنَّ ذَلِكَ الْجِنِّيَّ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى نِسَاءِ سليمان بل عصمهن الله عز وجل منه تشريفا وتكريما لنبيه عليه السلام. وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ مُطَوَّلَةً عَنْ جَمَاعَةٍ من السلف رضي الله عنهم كَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَجَمَاعَةٍ آخَرِينَ وَكُلُّهَا مُتَلَقَّاةٌ مِنْ قَصَصِ أَهْلِ الْكِتَابِ، والله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب.

اس کی سند ابن عباس تک قوی ہے۔ لیکن بظاہر یہ ان کو اہل کتاب سے ملی جسے انہوں نے صحیح مانا۔ جب کہ ان میں ایک گروہ تھا جو کہ حضرت سلیمان کی نبوت کا منکر تھا۔ اور بظاہر ان کی تکذیب کرتا تھا۔ اور اس میں شدید منکر باتیں ہیں خاص کر بیویوں والی۔ اور مجاھد اور دیگر ائمہ سے مشہور ہے کہ جن ان کی بیویوں پر مسلط نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اللہ نے ان کی عصمت رکھی اور شرف و تکریم بخشا۔ اور یہ واقعہ سلف میں ایک جماعت نے نقل کیا جیسا کہ سعید بن مسیت، زید بن اسلم، اور بعد کی ایک جماعت نے بھی جن کو یہ اہل کتاب کے قصوں سے ملا

راقم کہتا ہے ابن کثیر کا قول باطل ہے یہ کام ابن عباس رضی الله عنہ کا نہیں کہ اہل کتاب سے روایت کریں بلکہ اس میں جرح منہال بن عمرو پر ہے

چودھویں صدی ہجری

کتاب التحرير والتنوير از محمد الطاهر بن محمد بن محمد الطاهر بن عاشور التونسي (المتوفى : 1393هـ) کے مطابق

وَلِأَهْلِ الْقِصَصِ هُنَا قِصَّةٌ خُرَافِيَّةٌ مِنْ مَوْضُوعَاتِ الْيَهُودِ فِي خُرَافَاتِهِمُ الْحَدِيثَةِ اعْتَادَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ ذِكْرَهَا مِنْهُمُ ابْنُ عَطِيَّةَ وَالْبَيْضَاوِيُّ وَأَشَارَ الْمُحَقِّقُونَ مِثْلُ الْبَيْضَاوِيِّ وَالْفَخْرِ وَابْنِ كَثِيرٍ وَالْقُرْطُبِيِّ وَابْنِ عَرَفَةَ إِلَى كَذِبِهَا وَأَنَّهَا مِنْ مَرْوِيَّاتِ كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَقَدْ وَهِمَ فِيهَا بَعْضُ الْمُتَسَاهِلِينَ فِي الْحَدِيثِ فَنَسَبُوا رِوَايَتَهَا عَنِ النَّبِيءِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ بِأَسَانِيدَ وَاهِيَةٍ وَالْعَجَبُ لِلْإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ أَخْرَجَهَا مُسْنَدَةً لِلنَّبِيءِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَعَلَّهَا مَدْسُوسَةٌ عَلَى الْإِمَامِ أَحْمَدَ أَوْ أَنَّهُ غَرَّهُ فِيهَا ظَاهِرُ حَالِ رُوَاتِهَا مَعَ أَنَّ فِيهِمْ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ وَهُوَ مُتَكَلَّمٌ فِيهِ

اور اہل قصص کے لئے اس میں بہت سے یہودیوں کے گھڑے ہوئے قصے ہیں جس سے مفسرین دھوکہ کھا گئے ان میں ابن عطیہ اور بیضاوی ہیں اور محققین مثلا بیضاوی اور فخر الرازی اورابن کثیر اور قرطبی اور ابن عرفہ نے ان کے کذب کی طرف اشارہ کیا ہے  جو  بے شک کعب الاحبار کی مرویات ہیں اور اس میں وہم ہے بعض متساهلین کا حدیث کے لئے تو انہوں نے ان قصوں کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا ہے  یا بعض اصحاب رسول کی طرف واہیات اسناد کے ساتھ اور عجیب بات ہے کہ امام احمد بن حنبل الله رحم کرے نے ان کو کیسے مسند میں لکھا اور ہو سکتا ہے وہ بہک گئے ہوں اس کے ظاہر حال پر اس میں موسی بن جبیر ہے اور متکلم فیہ ہے

یہ بھی لکھتے ہیں

وَ (هَارُوتَ وَمَارُوتَ) بَدَلٌ مِنَ (الْمَلَكَيْنِ) وَهُمَا اسْمَانِ كَلْدَانِيَّانِ دَخَلَهُمَا تَغْيِيرُ التَّعْرِيفِ لِإِجْرَائِهِمَا عَلَى خِفَّةِ الْأَوْزَانِ الْعَرَبِيَّةِ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَارُوتَ مُعَرَّبُ (هَارُوكَا) وَهُوَ اسْمُ الْقَمَرِ عِنْدَ الْكَلْدَانِيِّينَ وَأَنَّ مَارُوتَ مُعَرَّبُ (مَا رُودَاخَ) وَهُوَ اسْمُ الْمُشْتَرِي عِنْدَهُمْ وَكَانُوا يَعُدُّونَ الْكَوَاكِبَ السَّيَّارَةَ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ الْمُقَدَّسَةِ الَّتِي هِيَ دُونَ الْآلِهَةِ لَا سِيَّمَا الْقَمَرِ فَإِنَّهُ أَشَدُّ الْكَوَاكِبِ تَأْثِيرًا عِنْدَهُمْ فِي هَذَا الْعَالَمِ وَهُوَ رَمْزُ الْأُنْثَى، وَكَذَلِكَ الْمُشْتَرِي فَهُوَ أَشْرَفُ الْكَوَاكِبِ السَّبْعَةِ عِنْدَهُمْ وَلَعَلَّهُ كَانَ رَمْزَ الذَّكَرِ عِنْدَهُمْ كَمَا كَانَ بَعْلٌ عِنْدَ الْكَنْعَانِيِّينَ الْفِنِيقِيِّينَ.

اور ہاروت و ماروت فرشتوں کا بدل ہیں اور یہ نام کلدانی کے ہیں ان کو شامل کیا گیا ہے تبدیل کر کے عربیوزن پر اور ظاہر ہے ہاروت معرب ہے ہاروکا کا جو چاند کا نام ہے کلدانیوں کے نزدیک اور ماروت معرب ہے ماروداخ کا جو مشتری کا نام ہے ان کے ہاں – اور یہ کواکب کو مقدس معبودات میں شمار کرتے تھے  خاص طور پر چاند کو کیونکہ یہ کواکب میں سب سے بڑھ کر تاثیر رکھتا ہے ان کے نزدیک تمام عالم میں اور یہ رمز ہے مونث پر اور اسی طرح مشتری سات کواکب میں سب سے با عزت ہے جو اشارہ ہے مذکر پر ان کے نزدیک جیسا کہ بعل تھا فونشیوں  اور کنعآنیوں کے نزدیک

صحیح ابن حبان کی تعلیق میں  شعيب الأرنؤوط   لکھتے ہیں

قلت: وقول الحافظ ابن حجر في “القول المسدد” 40-41 بأن: للحديث طرقاً كثيرة جمعتها في جزء مفرد يكاد الواقف عليه أن يقطع بوقوع هذه القصة لكثرة الطرق الواردة فيها وقوَّة مخارج أكثرها، خطأ مبين منه -رحمه الله- ردَّه عليه العلامة أحمد شاكر -رحمه الله- في تعليقه على “المسند” (6178) فقال: أمَّا هذا الذي جزم به الحافظ بصحة وقوع هذه القصة صحة قريبة من القطع لكثرة طرقها وقوة مخارج أكثرها، فلا، فإنها كلها طرق معلولة أو واهية إلى مخالفتها الواضحة للعقل، لا من جهة عصمة الملائكة القطعية فقط، بل من ناحية أن الكوكب الذي نراه صغيراً في عين الناظر قد يكون حجمه أضعاف حجم الكرة الأرضية بالآلاف المؤلفة من الأضعاف، فأنَّى يكون جسم المرأة الصغير إلى هذه الأجرام الفلكية الهائلة!

  شعيب الأرنؤوط نے ابن حجر کی تصحیح کو ایک غلطی قرار دیا اور احمد شاکر نے بھی ابن حجر کی رائے کو رد کیا

بابل کا مذھب

بابل میں مردوک

Marduk

 کی پوجا ہوتی تھی – بابلی زبان میں مردوک کو

Marutuk

ماروتک

بولا جاتا تھا

 Frymer-Kensky, Tikva (2005). Jones, Lindsay, ed. Marduk. Encyclopedia of religion 8 (2 ed.). New York. pp. 5702–5703. ISBN 0-02-865741-1.

https://en.wikipedia.org/wiki/Marduk

بعض مغربی محققین اس بات تک پہنچے ہیں کہ یہ بابلی دیوتا اصلا فرشتے تھے تصاویر میں بھی اس کو پروں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے

جادوگروں نے اس قصے میں  سیارہ الزہرا یعنی وینس ، چاند اور مشتری کا  اثر  تمثیلی انداز میں سکھایا  ہے کہ یہ چاند اور مشتری کا جادو الزہرا کی موجودگی میں بڑھ جاتا ہے – چاند کی بہت اہمیت ہے کیونکہ اس کی ٢٧ منزلیں  ہیں جن میں چاند گھٹتا اور بڑھتا ہے اور عبرانی کے بھی ٢٧ حروف ہیں لہذا کلمات شرکیہ کو ان سے ملا کر اخذ کیا جاتا  تھا

In general, though not always, the zodiac is divided into 27 or 28 segments relative to fixed stars – one for each day of the lunar month, which is 27.3 days long

https://en.wikipedia.org/wiki/Lunar_mansion

بابل کی اسیری سے پہلے بنی اسرائیل جو عبرانی استمال کرتے تھے اس کو

Palaeo-Hebrew alphabet

کہا جاتا ہے جس میں ٢٢ حروف تھے جو ابجد حروف کہلاتے ہیں

یہود کے مطابق بابل کی اسیری میں کسی موقع پر ان  کی زبان تبدیل ہوئی جس میں اشوری اور بابلی زبان سے حروف لئے گئے

بائیس حروف کو ٢٧ میں بدلنے کے پیچھے کیا چاند کی ٢٧ منازل تھیں ؟ راقم کے نزدیک اس کا جواب ہمارے اسلامی جادو یا سحر کی کتب میں ہے جس پر کسی اور بلاگ میں بحث ہو گی

This entry was posted in Aqaid, history, Mysticism. Bookmark the permalink.

54 Responses to جادو برج فرشتے اور محدثین ٢

  1. shahzad khan says:

    کیا جادو کا وجود ہے کیا جادو اثر رکھتا ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا جیسا کہ کہ اک روایت میں آتا ہے کہ اک یہودی جادوگر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا ۔۔۔کیا بابل شہر میں ہاروت و ماروت کو فرشتوں نے جادو کا علم سکھایا تھا جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 102 کا ترجمہ کیا جاتا ہے برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں

    • Islamic-Belief says:

      جادو وجود رکھتا ہے اس کا ذکر قرآن میں ہے کہ جادوگروں نے فرعون کے حکم پر ایک سحر عظیم تیار کیا اس سے مجمع کو مبہوت کر دیا ان کو لاٹھیاں رسیاں چلتی ہوئی محسوس ہوئیں
      اسی طرح بابل میں فرشتوں کو بنی اسرائیل کی آزمائش کے لئے بھیجا انہوں نے ان کو وہاں جادو سکھایا سوره بقرہ میں جیسا ہے

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر جادو کا ذکر صحیحین میں ہے لیکن یہ وقتی تھا
      تفصیل دیکھیں
      http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2013/06/sahar-ki-Haqiqat.pdf

      جادو گر اگر جادو کر رہا ہے تو اس میں تاثیر کس کے حکم سے ہے ؟ کہ اس جادو سے کسی کو رسی اڑتی محسوس ہو ؟ الله نے جو خلق کیا اس میں شر بھی رکھا ہے

      یاد رہے

      من شر ما خلق
      اس کے شر سے جو الله نے خلق کیا

      جب الله نے خلق کیا تو اس میں شر بھی خلق کر دیا؟ سحر جادو اسی شر میں سے ہے
      مثلا ہر شخص کاہن نہیں بن سکتا لیکن بعض لوگ جو شر کے قریب خلق ہوتے ہیں ان میں قدرتی اس کی استعداد ہوتی ہے کہ کاہن بن جاتے ہیں شیطان کا القا انے لگتا ہے روایات میں ابن صیاد کا ذکر ہے جو اسی نوع کا ایک مسلمان تھا

      جادو اسی قبیل کا ایک علم ہے اس میں اسماء الہی کو استعمال کر کے الله تعالی کے ناموں کو اعداد سے جوڑا جاتا ہے پھر اس کو نجوم کے مدارووں سے اور پھر چاند کی منازل سے – یہ سب کرنے کے بعد اس میں تاثیر من جانب الله اتی ہے لیکن چونکہ یہ ممنوع عمل ہے اس کو شیطانی عمل کہا جاتا ہے لیکن یہ ضرروی نہیں کہ اس میں شیطان کا نام لیا جائے یا اس کو پکارا جائے

  2. shahzad khan says:

    اسلام و علیکم بھائی آپ نے منکرین حدیث پر کتاب لکھی ہو تو اس کا لنک بھیج دیں جذاک اللہ خیرا

    • Islamic-Belief says:

      السلام علیکم

      منکرین حدیث کئی طرح کے گروہ میں بٹے ہوئے ہیں

      ایک پرویزی ہیں جو مطلق حدیث کو نہیں مانتے
      اس کے علاوہ ان میں سے بعض جادو اور بعض نزول مسیح کو نہیں مانتے
      اس میں الگ تحریرات ہیں اپ کس مسئلہ کے حوالے سے سوچ رہے ہیں؟

  3. shahzad khan says:

    پرویزی اور جادوکا انکار کرنے والوں کے بارے میں

    • Islamic-Belief says:

      جادو کے حوالے سے تحریر کا لنک اپ کو دیا ہے
      پرویز پر تحریر کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ علماء میں اس کی گمراہی پر کوئی اختلاف نہیں

  4. shahzad khan says:

    سوال ۔۔۔۔بھائی کچھ لوگوں سے جادو کے متعلق بحث ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے اور ہم فرشتوں کو نازل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ تو جادو، تو شر ہے حق نہیں ہے اور ہاروت و ماروت فرشتے نہیں تھے بلکہ اس قوم کے سردار تھے تو کیا اللہ فرشتوں کے ذریعے شر یعنی جادو سکھائے گا براہ کرم اس کے بارے میں رہنمائی فرما دیں جذاک اللہ خیرا

    • Islamic-Belief says:

      بات سیاق و سباق میں سمجھی جاتی ہے

      سوره الحجر میں ہے
      مَا نُنَزِّلُ الْمَلائِكَةَ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَا كَانُواْ إِذًا مُّنظَرِينَ (8) إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
      ہم فرشتوں کو صرف حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں اور ہم چھوٹ نہیں دیتے اور ہم نے اس نصیحت کو نازل کیا ہے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے

      مشرکین کا کہنا تھا کہ قرآن اگر رسول الله پر نازل ہوا تو ہم پر بھی کیا جائے اس پر کہا گیا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ آخری منظر ہو گا کہ فرشتے عذاب کے ساتھ ہوں گے

      حق عربی میں سچ اور حقیقت سب کے لئے استعمال ہوتا ہے – ایک کام جب الله کا حکم ہو تو اس وقت وہی حق ہوتا ہے مثلا الله کے سوا کسی کو غیر کو سجدہ کرنا حق نہیں لیکن الله خود حکم کرے کہ آدم کو سجدہ کرو تو یہی حق بن جاتا ہے
      معصوم کا قتل منع ہے لیکن الله حکم کرے کہ اس کو قتل کیا جائے تو یہی حق بن جاتا ہے خضر کو اس پر عمل کرنا پڑتا ہے
      الله نے فرشتوں کو حسین مردوں کی صورت قوم لوط کے پاس بھیجا لوط ان کو اپنے گھر میں مہمان کر رہے تھے اور قوم کا مجمع لگ گیا کہ ان کو حوالے کیا جائے
      فرشتے مردوں کی صورت کیوں بھیجے گئے؟

      الله نے بتایا کہ فرشتے سحر کے ساتھ نازل ہوئے جو الله کا اس وقت کا حکم تھا اور وہی حق تھا
      جادو شر انسانوں کے لئے ہے فرشتوں کے لئے یہ شر نہیں ہے فرشتے جادو کا علم لے کر اترے

      جادو کیسے کرتے ہیں ؟ جتنے لوگ اس پر کلام کرتے ہیں ان کو خود نہیں پتا کہ جادو کیسے کرتے ہیں ؟ راقم کہتا ہے
      پہلے جا کر جادو سمجھیں کہ کیا ہے پھر کلام کریں
      ایک علم ہے اس میں تاثیر کس کے حکم سے ہے ؟ اگر الله نے جادو میں تاثیر نہیں پیدا کی تو پھر اس میں کہاں سے آئی؟
      جادو میں “ہمیشہ” شرک یا کلمات خبیثہ نہیں ہوتا بلکہ خالص اسما الحسنی سے بھی جادو ہو جاتا ہے
      اسما الحسنی کو اعداد میں تبدیل کرنا الله کے ناموں میں الحاد ہے جو کفر ہے اسی لئے ہاروت و ماروت کہتے کفر مت کرو
      راقم اسی لئے ٧٨٦ کو جادو کہتا ہے جو خالص الله کے نام سے شروع ہونے والے کلمات ہوں لیکن ان کو اعداد میں بدلنا الحاد ہے

      جب موسی کا عصا ساحروں کا جادو توڑتا ہے تو وہ کہتے ہیں

      إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
      هم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہمارے گناہوں کی مغفرت کر دے اور ہم کو (اے فرعون) تم نے جادو پر مجبور کیا اور الله ہی خیر و باقی رہنے والا ہے

      جادو گروں کو مجبور کیا گیا کہ جادو کریں؟ سوچیں کہ وہ خود اس کام کو نہیں کرنا چاہ رہے تھے لیکن فرعون کے عذاب کا سوچ کر مجبورا انہوں نے کیا اور وہ بھی سحر عظیم بن گیا

      کیا جادو مداری کا کھیل ہے ؟ نہیں اگر ایسا ہوتا تو اس کو الله خود سحر عظیم نہیں کہتا
      قَالَ أَلْقُوا فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُن النَّاس وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيم

      اس سے مجمع مبہوت نہیں ہوتا
      اس سے لوگوں کے دل میں خوف پیدا نہیں ہوتا
      ——–

      ہاروت و ماروت سردار تھے کس نے خبر دی ؟

      آیات میں جو آیا ہے ان کو ویسا مان لیں پھر سمجھیں کہ کیا کہا گیا نہ کہ اس طرح کلام الله کی اپنی پسند سے ” تصحیح ” کریں

  5. shahzad khan says:

    کہتے ہیں ہاروت و ماروت عبرانی نسل سے تھے ہاروت ماروت طالوت جالوت ۔۔۔۔۔۔ہاروت و ماروت فرشتے تھے اس کی کیا دلیل ہے

    • Islamic-Belief says:

      ہاروت و ماروت فرشتے تھے یہ صاف صاف قرآن میں ہی لکھا ہے یہی اس کی دلیل ہے

      فرشتوں کے نام کیا کیا ہیں ہم کو مکمل علم نہیں قرآن میں جبریل ہے میکائیل ہے لیکن اسرافیل نہیں ہے عزرائیل نہیں ہے یہ ہم کو اسرائیلایات سے ملے ہیں کہ یہ بھی فرشتوں کے نام تھے

      طالوت یا جالوت عبرانی کے الفاظ نہیں ہیں – کیا جالوت عبرانی نسل ہے ؟ نہیں یہ تو کنعانی تھا -عبرانی تو بنی اسرائیلی تھے جو جالوت سے لڑ رہے تھے یہ نام عبرانی کیسے ہو گیا؟
      اسی سے ثابت ہوا کہ دور قدیم میں مشرق وسطی میں ناموں میں غیر عبرانی زبانوں میں بھی اسم ت پر ختم ہوتا تھا

      بنو اسرائیل کو جب غلام بنا کر بابل لے گئے تو وہاں الله نے دو فرشتے ان پر بھیجے ان کے نام وہاں بابل میں ہاروت و ماروت تھے جو بابل کی زبان معلوم ہوتی ہے – یہ فرشتے اپنی اصل صورت پر نہیں انسان بن کر گئے تھے تو ظاہر ہے وہاں بازار میں ان کے نام وہی تھے جو لوگ سن کر قبول کر لیں ان کو شک نہ ہو کہ یہ دو کون ہیں

      خیال رہے کہ ناموں کو عبرانی یا عربی میں جب لکھا گیا ہے تو وہ اصل سے ممکن ہے ہٹ گئے ہوں مثلا کیا ابراہیم عربی کا لفظ ہے یا عبرانی کا ؟ نہ تو یہ عربی ہو سکتا ہے نہ عبرانی کیونکہ ابراہیم نہ عرب تھے نہ عبرانی تھے وہ تو بابل کے تھے
      اسی طرح لوط بھی عربی یا عبرانی کا لفظ نہیں ہو سکتا یہ بھی قدیم بابل کا نام ہو گا کیونکہ لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام پر وہاں ایمان لائے تھے

      کہنے کا مقصد ہے کہ نام بدل بھی سکتے ہیں ایک زبان سے دوسری میں جاتے ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے
      الله نے عیسیٰ کو خبر دی کہ ایک نبی احمد نام کا آئے گا یہ سریانی میں تھا لیکن عربی میں یہی احمد بدل کر محمد ہو گیا
      ==========

      قرآن نے اس واقعہ کا ذکر کیوں کیا ؟ یقینا مدینہ کے یہود اپس میں اس میں جھگڑ رہے ہوں گے کہ ہاروت و ماروت کون تھے تبھی اس کی وضاحت کی گئی کہ فرشتے تھے ورنہ جادو کا وجود تو بابل کی اسیری سے بھی پہلے کا ہے – دنیا میں اس وقت بھی مصر میں جادو معروف تھا
      یہود کے نزدیک جو جادو کو پسند کرتے ہیں یہ علم چونکہ من جانب الله بھی آیا ہے لہذا مدینہ کے یہود اس کے جواز کے فتوی دے رہے ہوں گے – الله تعالی نے ان کا در کیا کہ یہ فرشتوں سے آیا لیکن اس کا مقصد وہاں آزمائش تھا تبھی وہ کہتے کفر مت کر

      ورنہ کیا بابل میں الله کی عبادت ہوتی تھی وہ تو تھا ہی بت پرست مقام وہاں کوئی سردار کیوں کہتا کفر مت کر

  6. shahzad khan says:

    آپ کی اس تحریر پر مخالف کا جواب یہ ہے ۔۔۔۔۔ یہ جس کی بھی تحریر ہے اس سے کہو مجھ پر مافوق الاسباب کچھ کر کے دکھاؤ ہاں یا نا یعنی مافوق الاسباب کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی جا سکتی

    • Islamic-Belief says:

      راقم گلی کے لونڈوں کے منہ لگنے کے موڈ میں نہیں ہے
      مافوق الاسباب یا ما تحت الاسباب ان صاحب نے الفاظ سکیھ لئے ہیں مطلب ان کو خود بھی پتا کیا بول رہے ہیں ؟
      بنی آدم میں کوئی کام ما فوق الاسباب نہیں ہوتا
      جب ایک کاہن کو آسمان کی خبر ملتی ہے تو کیا وہ موبائل سے ملتی ہے یا دوربین لگا کر دیکھتا ہے ؟ ما فوق الاسباب تو کچھ بھی نہیں ہوتا
      شیطان کی مدد سے کہانت ہوتی ہے اورجادو میں بھی ما تحت الاسباب ہی کام ہوتا ہے “سبب” یہاں شیطان ہی ہے – سادہ چیز ہے کہ ایک مخلوق دوسرے کی مدد کرتی ہے

  7. shahzad khan says:

    مخالف جواب دیتا، ہے کہ کاہن کو آسمان کی خبر ملتی ہے یہ کس نے کہہ دیا اور جادو میں کونسے اسباب استعمال کیے جاتے ہیں کیا اک کنگی کے ذریعے جادو کیا جا سکتا ہے

    • Islamic-Belief says:

      عَن مُعَاوِيَة بن الحكم قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ: «فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ» قَالَ: قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ: «ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلَا يصدَّنَّكم» . قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاك» . رَوَاهُ مُسلم

      معاویہ ابن حاکم سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم چند کام زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے فرمایا تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ فرماتے ہیں میں نے کہا ہم پرندے آڑاتے تھے فرمایا یہ ایسی چیز ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتا ہے تویہ اسے روک نہ دے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ ہم سے بعض لوگ خط کھینچتے ہیں فرمایا حضرات انبیاء میں ایک نبی خط کھینچتے تھے تو جوان کے خط کے موافق ہوجائے تویہ درست ہے

      قالَتْ عَائِشَةُ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سَأَلَ أُنَاسٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْکُهَّانِ فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَیْسُوا بِشَیْءٍ، فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ یُحَدِّثُونَ بِالشَّیْءِ یَکُونُ حَقًّا قَالَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: تِلْکَ الْکَلِمَةُ مِنْ الْحَقِّ یَخْطَفُهَا الْجِنِّیُّ فَیُقَرْقِرُهَا فِی أُذُنِ وَلِیِّهِ کَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجَةِ فَیَخْلِطُونَ فِیهِ أَکْثَرَ مِنْ مِائَةِکَذْبَةٍ۔ (بخاری، رقم ۷۵۶۱)
      ”عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا:یہ لوگ کچھ بھی نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول وہ (بعض اوقات) ایسی باتیں بیان کر دیتے ہیں جو سچ ہو جاتی ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات سچی ہوتی ہے، جسے کسی جن نے (فرشتے سے) اچکا ہوتا ہے اور پھر وہ اُس بات کو مرغی کی طرح کٹ کٹ کر کے اپنے (کاہن) دوستوں کے کان میں ڈال دیتا ہے اور یہ لوگ اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتے ہیں

      حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْکُهَّانَ کَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّيْئِ فَنَجِدُهُ حَقًّا قَالَ تِلْکَ الْکَلِمَةُ الْحَقُّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ وَيَزِيدُ فِيهَا مِائَةَ کَذْبَةٍ
      عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، یحیی بن عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کاہن ہمیں بعض چیزیں بیان کرتے تھے جنہیں ہم ویسا ہی پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک سچی بات ہوتی ہے جس کو کوئی جن اچک لیتا ہے پھر اسے اپنے ولی کے کان میں ڈال دیتا ہے اور وہ کاہن اس میں سو جھوٹ کی زیادتی کر دیتا ہے۔
      http://www.hadithurdu.com/02/2-3-1319/
      ——–

      حدیث کے الفاظ وہ بات سچی ہوتی ہے، جسے کسی جن نے (فرشتے سے) اچکا ہوتا ہے کا کیا مطلب ہے ؟
      —-
      سوره الجن
      وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَشُهُبًا (8)
      اور ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے سخت پہروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔
      وَاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْـهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْـعِ ۖ فَمَنْ يَّسْتَمِـعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَـهٝ شِهَابًا رَّصَدًا (9)
      اور ہم اس کے ٹھکانوں (آسمانوں) میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس جو کوئی اب کان دھرتا ہے تو وہ اپنے لیے ایک انگارہ تاک لگائے ہوئے پاتا ہے۔

      اس میں آیت کے الفاظ اور ہم اس کے ٹھکانوں (آسمانوں) میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے کا کیا مطلب ہے ؟
      ——-

      الله تعالی کتاب الله میں کہتے ہیں

      ﴿ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ (221) تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ (222) يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ

      کیا ہم تم کو خبر دیں کہ شیاطین کس پر نازل ہوتے ہیں ؟ نازل ہوتے ہیں ہر گناہ گار جھوٹے پر جو سنتے ہیں اس میں بات ملاتے اور اکثر جھوٹے ہیں

      آیت کے الفاظ نازل ہوتے ہیں جھوٹے پر کا کیا مطلب ہے ؟

      حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا سالم بن نوح ، عن الجريري ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد ، قال:‏‏‏‏ لقيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر في بعض طرق المدينة، ‏‏‏‏‏‏فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ” اتشهد اني رسول الله؟، ‏‏‏‏‏‏فقال هو:‏‏‏‏ اتشهد اني رسول الله، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ” آمنت بالله وملائكته وكتبه، ‏‏‏‏‏‏ما ترى؟ “، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ارى عرشا على الماء، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ” ترى عرش إبليس على البحر، ‏‏‏‏‏‏وما ترى؟ “، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ارى صادقين وكاذبا او كاذبين، ‏‏‏‏‏‏وصادقا، ‏‏‏‏‏‏فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ” لبس عليه دعوه “،‏‏‏‏
      سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ملے مدینہ کی بعض راہوں میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے اس بات کی کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے کہا: تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر، بھلا تجھ کو کیا دکھائی دیتا ہے؟“ وہ بولا: میں ایک تخت دیکھتا ہوں پانی پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو ابلیس کا تخت ہے سمندر پر اور کیا دیکھتا ہے؟“ وہ بولا: دو سچے میرے پاس آتے ہیں اور ایک جھوٹا یا دو جھوٹے اور ایک سچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو اس کو، اس کو شک ہے اپنے باب میں۔“ (کہ وہ سچا ہے یا نہیں)۔

      ابن صیاد نے کہا ایک سچا اتا ہے اور اس کو جنت کی مٹی کی صحیح خبر ملی اسی طرح ابلیس کے تخت کی- کس طرح؟
      ———
      بال تو صرف اشارات ہیں اسباب نہیں ہیں- کیا فرعون کے جادو گروں نے جب جادو کیا ان کے پاس بھی لوگوں کے بالوں کی کنگھی تھی؟

      لوگوں کی نگاہ پر بھی جادو ہوا
      قَالَ أَلْقُوا ۖ فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ

      اشارات یعنی بال ناخن یا کھال یا ہڈی ہو یا نہ ہو جادو میں شیطان کی مدد حاصل کی جاتی ہے جس طرح کہانت میں شیطان مدد کرتا ہے

  8. shahzad khan says:

    مخالف جواب دیتا ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ جادو کی شروعات سلیمان علیہ السلام کے دور میں ہوئی اور فرشتوں نے جادو کا علم لایا تو اس کی نفی اس بات سے ہوتی ہے کہ جادو موسیٰ علیہ السلام کے دور میں بھی تھا اور موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ سلیمان علیہ السلام سے پہلے کا تھا

    • Islamic-Belief says:

      ان “مخالف” کو یہ مغالطہ ہوا ہے کہ راقم الحروف یہ منوانا چاہ رہا ہے کہ جادو سلیمان علیہ السلام کے دور سے شروع ہوا
      جادو کا وجود تو موسی علیہ السلام کے دور سے ہے

      اور چلو

      کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

      یہ یہ تو مان گئے کہ جادو تھا-

      قرآن میں بھی ایسا یہود کا ذکر کے کہا گیا

      واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما أنزل على الملكين ببابل هاروت وماروت وما يعلمان من أحد حتى يقولا إنما نحن فتنة فلا تكفر فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء وزوجه وما هم بضارين به من أحد إلا بإذن الله ويتعلمون ما يضرهم ولا ينفعهم ولقد علموا لمن اشتراه ما له في الآخرة من خلاق ولبئس ما شروابه أنفسهم لو كانوا يعلمون

      اور (یہود) لگے اس (علم) کے پیچھے جو شیطان مملکت سلیمان کے حوالے سے پڑھتے تھے اور سلیمان نے تو کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے کفر کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے اور جو بابل میں فرشتوں هاروت وماروت پر نازل ہوا تھا تو (وہ بھی) اس میں سے کسی کو نہ سکھاتے تھے حتی کہ کہتے ہم فتنہ ہیں، کفر مت کر! لیکن وہ (یہودی) پھر بھی سیکھتے، تاکہ مرد و عورت میں علیحدگی کرائیں اور وہ کوئی نقصان نہیں کر سکتے تھے الا یہ کہ الله کا اذن ہو- اور وہ ان سے (سحر) سیکھتے جو نہ فائدہ دے سکتا تھا نہ نقصان- اوروہ جانتے تھے کہ وہ کیا خرید رہے ہیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا اور بہت برا سودا کیا اگر ان کو پتا ہوتا

      راقم کے نزدیک اس کی تفسیر یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد حشر اول تک ہزار سال ہیں اس دوران بنی اسرائیل میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ سلیمان ایک جادو گر تھے یہ بات یہود نے اپنی تاریخ کی کتب میں لکھ دی- پھر قرآن حشر اول کے بعد بابل کی غلامی کا ذکر کرتا ہے کہ جس سلیمان کو یہ جادو گر کہتے تھے اسی جادو میں یہ خود مبتلا ہو گئے
      اور الله تعالی نے اس کا رد کیا کہ سلیمان کوئی جادو گر کافر تھے قرآن میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ جادو کی شروعات سلیمان علیہ السلام کے دور سے ہوئی

      بات یہ ہو رہی ہے کہ موسی علیہ السلام کے دور میں بھی مصری جادو کرتے تھے اور مصری مذھب سارا تھا ہی سحر جیسا فرعون نے کہا
      لعلنا نتبع السحرة إن كانوا هم الغالبين
      هم جادو گروں کی اتباع کریں اگر یہ غالب آ جائیں

      مصری مذھب کوئی ابراہیمی مذھب نہ تھا لہذا ان کا جادو سراسر کلمات شیطانی پر مشتمل تھا
      اس کے علاوہ مصر میں مذھب کی اصل تعلیمات خفیہ رکھی جاتی تھیں- ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اصلا مصری دھرم کیا تھا اس کی کھوج میں یونانی رہے اور آج تک مغربی محققین اس پر تحقیق ہی کر رہے ہیں لیکن کسی متفقہ نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں

      اس کے برعکس وہ جادو جو بابل میں ہاروت و ماروت سکھا رہے تھے اس میں اسماء الحسنی کو استعمال کیا گیا – یہ دعوی راقم کا ہے کیونکہ راقم یہودی و اسلامی سحر کی کتب دیکھ چکا ہے اور سمجھ چکا ہے کہ اسماء الحسنی سے بھی جادو کیا جاتا تھا اور ہے

      یہود میں آج بھی جادو کو نا پسند بھی کیا جاتا ہے جو ان کے احبار ہیں لیکن ان کے متصوفین میں جادو کو قبول کیا جاتا ہے ہم تک جو روایات پہنچی ہیں جن کا اس بلاگ میں ذکر ہے وہ اصلا اس یہودی صوفیوں کی ہیں اور کعب الاحبار کا ان کو بیان کرنا اشارہ کر رہا ہے کہ کعب الاحبار حبر امت کے لقب سے جو شخص تھا یا تو یہ کوئی سطحی سوچ کا رجل تھا یا یہ بھی کوئی باطنی صوفی قسم کا شخص تھا جس نے ان روایات کو بلا جرح بیان کر کے امت میں پھیلا دیا لہذا اگر “مخالف” کو کچھ سمجھ میں آیا ہو تو راقم اس بلاگ میں یہودی تصوف کا رد کر رہا ہے کہ اس کی جڑیں بابل میں ہیں لیکن جادو کوئی شعبدہ بازی نہیں اس سے آگے کی چیز ہے

  9. shahzad khan says:

    ماشاء اللہ ۔۔۔جذاک اللہ خیرا ذبردست

  10. shahzad khan says:

    بھائی جو احادیث ہیں جادوگروں کے متعلق ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جادوگر کو جہاں دیکھو تلوار سے قتل کر ڈالو اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی اس حکم کو جاری رکھا اور ان کے دور میں تین جادوگر قتل کیے گئے ان روایات کی کیا حیثیت ہے برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں

    • Islamic-Belief says:

      ان روایات کو البانی نے ضعیف قرار دیا ہے
      (ضعيف – الضعيفة 1446، المشكاة 3551 / التحقيق الثاني (ضعيف الجامع الصغير 2699))

      امام ترمذی نے بھی اس کے تحت لکھا ہے
      والصحيح عن جندب موقوف
      صحیح جندب رضی الله عنہ پر موقوف ہے

      ——–

      ساحر کو قتل کیا جائے گا امام مالک کا قول ہے

      امام شافعی کا کہنا ہے
      قال الشافعي: إنما يقتل الساحر إذا كان يعمل من سحره ما يبلغ الكفر، فإذا عمل عملا دون الكفر فلم ير عليه قتلا.
      اگر ساحر وہ عمل کرے جو کفر ہو تو قتل کیا جائے گا ورنہ نہیں

  11. shahzad khan says:

    صحیح بخاری میں بجالہ بن عبدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ نے حکم دیا جادوگر مرد ہو یا عورت قتل کر دو اس روایت کی کیا حیثیت ہے

    • Islamic-Belief says:

      ایک روایت ہے کہ اپنی وفات سے دو سال قبل عمر نے اپنے گورنر جَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ التميمي کو حکم دیے جو الأَحْنَفِ بن قیس کے چچا تھے- جن کو کاتب گورنر نے پڑھا جس کا نام بَجَالَة ابن عَبَدَةَ التميمي العنبري البصري تھا
      تین حکم تھے
      جادو گر کو قتل کر دو
      مجوس کے محرم کو الگ کر دو
      الزَّمْزَمَةِ کھانے سے منع کیا
      بَجَالَة کے بقول تین جادو گر اس حکم پر قتل ہوئے

      یہ روایت مصنف عبد الرزاق، مسند احمد میں ہے

      الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر میں ہے کہ جز بن معاویہ کے لئے لکھا
      قال أبو عمر: كان عامل عمر على الأهواز . وقيل: له صحبة، ولا يصح.
      قلت: وقد تقدم غير مرة أنهم كانوا لا يؤمرون في ذلك الزمان إلا الصحابة.
      واقدی نے کہا یہ عمر کا الأهواز پر گورنر تھا اور کہا جاتا ہے صحابی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے
      ابن حجر نے کہا میں کہتا ہوں اس دور میں گورنر صرف اصحاب رسول کو کیا جاتا تھا

      امام شافعی کے نزدیک اس نام کا عمر کا کوئی گورنر نہ تھا
      ———

      امام بخاری نے اس کو صحیح میں ح ٣١٥٦ پر نقل کیا لیکن جادو گر کے قتل والی بات نہیں ہے
      حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ فَحَدَّثَهُمَا بَجَالَةُ، – سَنَةَ سَبْعِينَ، عَامَ حَجَّ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأَهْلِ الْبَصْرَةِ عِنْدَ دَرَجِ زَمْزَمَ -، قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَمِّ الأَحْنَفِ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ، فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ المَجُوسِ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الجِزْيَةَ مِنَ المَجُوسِ،

      اس میں مجوس سے جزیہ لینے کا ذکر ہے جادو گر کے قتل کی کوئی حدیث صحیح بخاری و مسلم میں نہیں کیونکہ امام مسلم نے بجاله کی حدیث نہیں لی اور امام بخاری نے مجوس سے جزیہ لینے والی لکھی ہے اس کی جادو والی حدیث نہیں لکھی

      بجاله کون تھا؟
      کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي کے مطابق
      في كتاب «المعرفة» لأبي بكر البيهقي: روى الربيع بن سليمان عن الشافعي أنه قال: بجالة مجهول، ولسنا نحتج بمجهول.
      کتاب معرفة السنن والآثار میں بیہقی نے امام شافعی کا قول نقل کیا ہے بجاله مجھول ہے اور ہمارے لئے نہیں کہ ایک مجہول سے دلیل لیں

      اس کے برعکس سنن الکبری بیہقی میں ہے
      قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ بَجَالَةَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ , وَإِنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , وَكَانَ رَجُلًا فِي زَمَانِهِ كَاتِبًا لِعُمَّالِهِ
      شافعی نے کہا حدیث بجاله متصل ثابت ہے اس نے عمر کو پایا اور ان کے گورنروں کا کاتب تھا

      سنن الکبری میں بہیقی نے شافعی کا قول نقل کیا
      قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ تُقْتَلَ السُّحَّارُ , وَاللهُ أَعْلَمُ إِنْ كَانَ السِّحْرُ شِرْكًا , وَكَذَلِكَ أَمْرُ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
      عمر رضی الله عنہ نے جادوگروں کے قتل کا حکم کیا و اللہ اعلم اگر مشرک ہوں اور یہ حفصہ رضی الله عنہا کا حکم تھا

      راقم کہتا ہے امام شافعی کی کتاب الام میں بھی بجاله کو مجہول کہا گیا ہے
      الأم 6: 125 قال: “بجالة رجل مجهول ليس بالمشهور، ولا يعرف أن جزء بن معاوية كان لعمر بن الخطاب عاملا

      بیہقی نے کتاب السنن الكبرى میں لکھا
      وَكَأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَقِفْ عَلَى حَالِ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عَبْدَةَ، حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْحُدُودِ، ثُمَّ وَقَفَ عَلَيْهِ حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْجِزْيَةِ، إِنْ كَانَ صَنَّفَهُ بَعْدَهُ
      شافعی بجاله کو نہیں جان سکے جب کتاب الحدود لکھی لیکن جن کتاب الجزیہ لکھی تب جان گئے

      بیہقی کہتے ہیں
      فَتَرَكَهُ مُسْلِمٌ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ
      اس کو مسلم نے ترک کر دیا اور بخاری نے حدیث لے لی

      یعنی امام شافعی کے اقوال میں ان کی ایک ہی کتاب میں تضاد ہے ایک مقام پر بجاله کو مجہول کہا دوسرے پر معروف

      قال الدَّارَقُطْنِيّ: لم يسمع من عمر، وإنما يأخذ من كتابه، وهو حجة في قبول المكاتبة، ورواية الإجازة. «الإلزامات والتتبع» صفحة 291.
      دارقطنی نے کہا اس بجالہ کا سماع عمر سے نہیں ہے بلکہ ان کا کاتب تھا اور خطوط کے حوالے سے اس کی بات لی جا سکتی ہے جو اجازہ ہے

      اس مسئلہ کو ارتاد کے تحت سمجھا جا سکتا ہے اگر ایک مسلمان شخص جادو کرے جس میں شرک و کفر ہو تو اس کو مرتد سمجھ کر قتل کیا جائے گا لیکن اگر وہ غیر شرکیہ کام کر رہا ہے تو قتل نہ ہو گا – حفصہ رضی الله عنہا نے اپنی باندی کے قتل کا حکم کیا جو ان پر جادو کر رہی تھی لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم نے لبید یہودی کے قتل کا حکم نہیں دیا
      اسی طرح اہل کتاب کو جادو پر قتل نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ اس میں ذمی کے احکام میں کسی حد والے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی ہو مثلا کسی کا قتل کیا-

  12. shahzad khan says:

    بھائی یہودی و اسلامی سحر کی کتب کا لنک مل سکتا ہے جن میں اسماء حسنہ کے ذریعے سحر کا بیان ہے اور دوسری بات کیا ییودی کتب اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں

    • Islamic-Belief says:

      یہودی کتاب میں صرف کتاب الله کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ تبدیل ہوئی ہیں ان کی تمام کتب کو تحریف زدہ قرار نہیں دیا جاتا

      جادو برج فرشتے اور محدثین کی قسط اول کیا اپ نے دیکھ لی ہے ؟
      http://www.islamic-belief.net/جادو،-برج،-فرشتے/

      اصل میں اس بلاگ کی تیسری قسط کافی عرصہ سے تیار ہے جو بہت تفصیلی اور دقیق ہے لیکن راقم متذبذب ہے کہ کیا کرے کیونکہ کہیں ایسا تو نہ ہو جائے کہ جادو سکھا دوں؟

      اس بنا پر تیسری قسط ابھی تک نہیں آئی ہے

  13. shahzad khan says:

    جادو، کو نا ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ہاروت ماروت انسان تھے فرشتے نہیں اور ان کے بارے میں جتنی رویات ہیں جن میں انہیں فرشتہ کہا گیا ہے وہ سب ضعیف ہیں اور سورہ بقرہ کی آیت نمبر 102 میں وما جن مقامات میں آیا ہے. ان میں ما نافیہ ہے موصولہ نہیں اس کی دلیل کے طور پر وہ ابن کثیر قرطبی ابن عباس کی تفاسیر کے حوالہ جات دیتے ہیں

    • Islamic-Belief says:

      بھائی مقولہ مشہور ہے
      مرغی کی ایک ٹانگ

      —–

      آیت میں الْمَلَكَيْنِ ہے اس کو کسر لام سے پڑھا جائے (الْمَلِكَيْنِ) تو یہ سردار یا بادشاہ بن جاتا ہے کہ بابل میں دو بادشاہ تھے جو جادو سکھاتے تھے لیکن پھر اس پہلے ما کو موصولہ ماننا ہو گا کہ
      اور وہ جو بابل میں دو بادشاہوں ہاروت و ماروت پر نازل کیا گیا (ما نافیہ) اور وہ کسی کو نہ سکھاتے یہاں تک کہ کہتے ہم فتنہ ہیں

      کہا جاتا ہے کہ یہ قرات ( بكسر اللام الْمَلِكَيْنِ) ابن عباس، والحسن البصری، وأبى الأسود الدؤلي، والضحاك، وابن أبزى کی تھی

      لیکن ابن عباس أور عبد الرحمن بن أبزي تک اس کی صحیح سند ابھی تک نہیں ملی-
      تفسیر ابن ابی حاتم میں اس کی سند ہے
      أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَطِيَّةَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيَّ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا عَمِّي حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ فَإِنَّهُ يَقُولُ: لَمْ يُنْزِلِ اللَّهُ السِّحْرَ.

      ابن عباس نے کہا الله نے جادو نازل نہیں کیا
      لیکن یہ سند سخت ضعیف ہے اس میں عطیہ العوفی ہے

      عطیہ العوفی کا اپنا قول تھا
      حُدِّثْتُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ: وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ قَالَ: مَا أُنْزِلَ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ السِّحْرُ
      الله نے جبریل و میکائیل پر جادو نازل نہیں کیا

      باقی جو افراد ہیں یہ تابعین ہیں اور ان کی یہ قرات دس مشہور قرات میں سے نہیں
      الضحاك خود ضعیف ہے
      أبو الأسود ظالم بن عمرو بن سفيان الدؤلي الكناني شیعہ ہیں اور انہوں نے قرآن پر اعراب لگائے تھے لیکن ہم تک جو جمہور کی قرات پہنچی ہے اس میں ان کو فرشتے ہی کہا گیا ہے
      عبد الرحمن بن أبزي رضی الله عنہ صحابی ہیں لیکن ان کی تفسیر کی سند ابن ابی حاتم نے دی ہے
      حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ شَاذَانَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ثنا بَكْرُ بْنُ مصَعْبٍ ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبْزَى كَانَ يَقْرَؤُهَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ.

      الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ نے کہا کہ پڑھا کرتے وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ.
      اور نہیں نازل ہوا دو داود و سلیمان پر

      اس کی سند میں الحسن بن أبى جعفر کو ضعیف الحدیث کہا گیا ہے

      قرطبی کا کہنا ہے کہ ابن ابزی نے کہا کہ دو بادشاہوں سے مراد
      قَالَ ابْنُ أَبْزَى: وَهُمَا دَاوُدُ وَسُلَيْمَانُ
      داود و سلیمان ہیں
      یعنی ترجمہ ہوا

      اور وہ جو بابل میں دو بادشاہوں ہاروت و ماروت (یعنی داود و سلیمان) پر (ما نافیہ) نہیں نازل کیا گیا (ما نافیہ) اور وہ کسی کو نہ سکھاتے یہاں تک کہ کہتے ہم فتنہ ہیں

      نوٹ : اس رائے کو ابن کثیر نے بھی تفسیر میں بیان کیا ہے
      قَالَ ابْنُ أَبْزَى: وَهُمَا دَاوُدُ وَسُلَيْمَانُ، قَالَ الْقُرْطُبِيُّ: فَعَلَى هَذَا تَكُونُ مَا نَافِيَةً أَيْضًا
      ابن ابزی نے کہا دو سے مراد داود و سلیمان ہیں اور قرطبی نے کہا اس پر ما نافیہ ہو گی
      لیکن یہ بات بھی کوئی معقول نہیں داود و سلیمان کی حکومت بابل پر کب تھی؟

      یعنی اس آیت میں جو اختلاف قرات تھا اس میں قاری فرشتوں کو بادشاہ کہتے اور پھر ہاروت و ماروت کو داود و سلیمان قرار دیتے تھے
      لیکن اس سے بھی قرآن کی آیت کا مفہوم عجیب و غریب ہو جاتا ہے

      دوسری طرف وہ مشہور قراتین جو ہم کو ملی ہیں ان میں اس الْمَلَكَيْنِ کو فرشتے ہی لیا گیا ہے بادشاہ نہیں -اپ خود غور کریں کہ ما نافیہ لیں اور ترجمہ کریں

      واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما أنزل على الملكين ببابل هاروت وماروت وما يعلمان من أحد حتى يقولا إنما نحن فتنة فلا تكفر
      اور (یہود) لگے اس (علم) کے پیچھے جو شیطان مملکت سلیمان کے حوالے سے پڑھتے تھے اور سلیمان نے تو کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے کفر کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے اور بابل میں دو فرشتوں هاروت وماروت پر (کچھ) نازل نہیں ہوا تھا تو (وہ بھی) اس میں سے کسی کو نہ سکھاتے تھے حتی کہ کہتے ہم فتنہ ہیں، کفر مت کر

      غور کریں فرشتے سکھاتے اور کہتے کہ کفر مت کر – فرشتوں پر نازل کچھ بھی نہیں ہوا تھا لیکن وہ لوگوں کو کفر بھر بھی سکھا رہے تھے تو یہ باغی فرشتے کون تھے
      یہ نظریہ اہل کتاب کا ہے کہ فرشتوں میں باغی ہیں ان کو
      Fallen Angels
      کہا جاتا ہے

      روایات یقینا ضعیف ہیں جو اسرائیلیات میں سے ہیں لیکن ما نافیہ ماننے سے بھی وہی نتیجہ نکل رہا ہے جو اہل کتاب کا فرشتوں کے حوالے سے ہے کہ وہ کفر سکھا رہے تھے

      اب جو ما نافیہ مانتے ہیں ان کے آوٹ پٹانک ترجمے دیکھتے ہیں

      مولوی بشیر کتاب تنزیل القرآن فی رد سحر الشیطان میں ترجمہ کرتے ہیں
      نہ سلیمان نے کفر کیا اور نہ دو فرشتوں پر سحر اتارا گیا بلکہ یہ کافرانہ کام شیاطین یعنی بابل شہر میں ہاروت و ماروت نامی جادو گر کرتے تھے وہ لوگوں کو جادو کی تعلیم دیتے تھے

      نوٹ : ہاروت و ماروت دو جادو گر ہیں
      ——–
      غیر مقلد عالم ثنا الله امرتسری تفسیر میں ترجمہ کرتے ہیں
      اور نہ اتارا گیا دو فرشتوں پر (شہر) بابل میں اور وہ کسی کو جادو نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو خود مبتلا ہیں پس تو کافر مت ہو

      نوٹ امرتسری کا کمال دیکھیں – ہاروت و ماروت کا نام ہی ترجمہ سے غائب کر دیا کہتے ہیں نہ ہو گا بانس نہ بجے کی بانسری – مزید کہ فرشتے مبتلا ہیں؟ ایک ہوتا ہے فتنہ میں مبتلا کرنا یہ مکلف مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے دوسرا ہوتا ہے فتنہ نازل کرنا یہ فرشتے بحکم الہی کرتے ہیں
      ان دونوں کا امرتسری کو فرق معلوم نہیں اور لگے ترجمہ کرنے
      ——

      غیر مقلدین کے شیخ عرب و عجم محمد بدیع الدین راشدی نے اس کا ترجمہ کیا ہے

      وہ کفر سلیمان نے نہیں کیا بلکہ شیطانوں (ہاروت و ماروت) نے کیا کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے حالانکہ یہ حکم بابل (شہر) میں دو فرشتوں پر نازل نہیں کیا گیا تھا اور وہ دونوں ہاروت و ماروت کسی کو بھی جادو نہیں سکھاتے جب تک کہ ان کو یہ نہ کہتے تھے کہ ہم تو خود اس کفر میں مبتلا ہیں پھر تم کافر نہ بنو

      نوٹ: یھاں ہاورت و ماروت کو شیطان قرار دے دیا گیا ہے جو قرآن کی لفظی تحریف ہے پھر تضاد دیکھیں ہاروت و ماروت شیطان ہیں لیکن کسی کو بھی جادو نہیں سیکھاتے؟
      —–
      قرطبی نے تفسیر میں لکھا ہے

      کلام میں تھوڑی تقدیم و تاخیر ہے یعنی عبارت اس طرح ہو گی کہ وما کفر سلیمان وما انزل علی الملکین و لکن الشیاطین کفروا

      نوٹ: راقم کہتا ہے تحریف قرآن کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے

      ==========

      ان ترجموں میں اختلاف ہے اور تضاد بھی ہے ایسا ہونا کتاب الله کی شان نہیں ہے – یہ کوئی معمولی فرق نہیں یا الفاظ کے چناو کا فرق نہیں معنی کلام کا فرق ہے یہاں تک کہ منحرفین اس آیت میں الفاظ کو اگے پیچھے کر رہے ہیں تاکہ اپنی پسند کا مفہوم کشید کر سکیں

      قرآن کے لئے الله تعالی کا فرمان ہے
      اس میں باطل نہ آگے سے اتا ہے نہ پیچھے سے

      آپ تحریف میں مبتلا نہ ہوں یہ بھی کفر ہے
      يسمعون كلام الله ثم يحرفونه من بعد ما عقلوه وهم يعلمون
      انہوں نے کلام الله سنا پھر تحریف کی بعد اس کے کہ سمجھا اور وہ جانتے تھے
      =======================

  14. shahzad khan says:

    مخالف جواب دیتا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اگر، کوئی ایسا کلام ہوتا جس سے پہاڑ چلنے لگتے زمین ریزہ ریزہ ہو جاتی یا مردے، بولنے لگتے تو ان سب سے متصف ہو کر قرآن ہوتا ۔۔۔ قرآن کوئی جادوئی کتاب نہیں ہے جب کلام اللہ میں یہ تاثیر نہیں ہے تو کلمہ خبیثہ میں یہ تاثیر کہاں سے آئی

    • Islamic-Belief says:

      بھائی کیا جادو سے پہاڑ چلنے لگتے زمین ریزہ ریزہ ہو جاتی یا مردے، بولنے لگتے ہیں؟ ایسا ہو نہیں ہے
      کیا جادو سے رسی چلتی نظر نہ آئی؟ قرآن میں ہی ہے جنتا ہے اتنا ہم مانیں گے

  15. shahzad khan says:

    بھائی تیسری صدی میں جو معتزلہ نے انکار کیا تھا کہ فرشتوں کی ذریعے جادو نازل نہیں ہوا اور شر کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی جا سکتی تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے ملائکہ کے ذریعے جادو کے نازل ہونے سے انکار کیا یا سرے سے جادو ہی کا انکار کیا

    • Islamic-Belief says:

      مجوس کے مطابق اس کائنات میں دو متضاد قوتیں کار فرما ہیں ایک اہرمن ہے اور ایک یزداں ہے- یزداں انسان کا ہمدرد ہے وہ شر کا خالق نہیں – اہرمن شر کا خالق ہے

      اس مذھب کے اثرات معتزلہ پر ہوئے اور فلسفہ یونان سے بھی یہ متاثر تھے جس میں جو چیز عقل میں نہ آئے وہ غلط تھی لہذا فلاسفہ یونان تخلیق کائنات کے قائل نہیں تھے اور نہ قیامت کے قائل تھے
      رومی و یونانی توہم پرست تھے ان میں متھالوجی مذھب تھا اس میں سحر کا وجود بھی تھا لیکن ان کے فلسفی اس کا انکار کرتے ان کے نزدیک نبوت بھی کوئی چیز نہیں تھی بلکہ دماغی خلل تھا
      معتزلہ مسلمان تھے لیکن وہ تطبیق کی صورت دیکھتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے قرآن و حدیث کی وہ تشریح کی جائے تو فلسفہ سے میل کھا رہی ہو

      معتزلہ نے جادو کا سرے سے انکار کیا مثلا الزمخشری تفسیر میں آیت
      قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى (66)
      پر لکھتے ہیں

      يروى أنهم لطخوها بالزئبق فلما ضربت عليها الشمس اضطربت واهتزت، فخيلت ذلك.
      روایت کیا ہے کہ انہوں نے ان لاٹھی رسیوں کو مرکری لگا رکھا تھا پس جب سورج کی روشنی پڑی تو اس میں حرکت ہوئی اور یہی تخیل ہوا

      موسی علیہ السلام کو اس جادو کا رد کرنے کے لئے کوئی اژدھا درکار نہیں تھا وہ ان رسیوں کو اٹھا کر لوگوں پر پھینک دیتے اور کہتے اس پر تو مرکری لگا رکھا ہے

      =======

      هاروت ماروت کے سلسلے میں زمخشری کہتے ہیں
      والذي أنزل عليهما هو علم السحر ابتلاء من اللَّه للناس
      ان پر سحر نازل ہوا تاکہ لوگوں کی آزمائش الله تعالی کریں

      لیکن ہاروت و ماروت کو بادشاہ قرار دیا

      اس طرح جادو کو ایک شعبدہ بازی قرار دے دیا جس کو لوگوں نے سکھایا یا گھڑا – لیکن اس تفسیر میں بہت جھول رہ گیا کیونکہ زمخشری نے کہا سحر نازل ہوا ؟ تو کس نے بادشاہوں پر نازل کیا ؟ کیا شیطان نے القا کیا ؟
      ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیتے

      معتزلہ کے بارے میں جو مشہور قول ہے وہ یہی ہے کہ وہ سحر کی تاثیر کا انکار کرتے تھے یعنی سرے سے جادو کا انکار کیا
      اور فرشتوں کے بجائے اس کو بادشاہوں پر کہا نازل ہوا

  16. shahzad khan says:

    بھائی کیا یہودیوں میں اب بھی وہ جادو، کیا جارہا ہے؟ اسماء حسنا سے الحاد کر کے ۔۔۔۔ یا کفریہ کلمات والا جادو بھی کہیں کیا جا رہا ہے ؟ کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے کبھی زندگی میں اس فعل کا مشاہدہ نہیں کیا جسکی وجہ سے یقین نہیں کر پاتے؟

    • Islamic-Belief says:

      اہل کتاب میں اسماء الحسنی پر اور کلام الله سے جادو کیا جا رہا ہے اور باقی ادیان میں کفریہ کلمات سے بھی کیونکہ وہ ان کے عقائد کا حصہ ہیں
      قرآن کے حروف مقطعات کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ تو اپ کے علم میں ہے

  17. shahzad khan says:

    جادو کا مفصل جائزہ ،،

    جادو کی حقیقت !

    یہ روایت بخاری شریف سمیت ساری حدیث کی کتابوں میں آئی ھے،، اور راوی سارے ثقہ ھیں،، روایت کے لحاظ سے اس پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی ،مگر اس پر کچھ سوال وارد ھوتے ھیں جن کا جواب تو کوئی دیتا نہیں، مگر راویوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش ضرور کی جاتی ھے ! ایک تھے ھشام ابن عروہ ابن زبیرؓ،، جنہوں نے اپنی عمر کے آخری ایام میں عراق میں جا کر اس حدیث کو140ھ میں بیان کیا،، ان کے ماضی کی اتھارٹی پر امام بخاری نے اس حدیث کو لے لیا،،اور ان کی آخری کیفیت کو نہیں دیکھا،،جب کہ وہ سٹھیا گئے تھے – اب امام بخاریؒ کے بعد تو پھر دوسرے محدثین ان کی روایت پر ٹوٹ پڑے،جب کہ امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے جو براہ راست ان کے شاگرد تھے ان دونوں نے ان سے جادو کی حدیث نہیں لی،، بلکہ امام مالک نے تو صاف کہہ دیا کہ ھشام کی عراقی روایات سے بُو آتی ھے،، امام ابو حنیفہ کے اصولِ حدیث میں یہ بات طے شدہ ھے اور امام ابوحنیفہ کا حدیث لینے کے معاملے میں رویہ تمام ائمہ سے زیادہ سخت اور منطقی ھے،، آپ فرماتے ھیں کہ جو واقعہ عقلاً اپنے وقوع پر بہت سارے افراد کا مطالبہ کرتا ھے،، اس کو کوئی ایک آدھ بندہ روایت کرے تو وہ حدیث مشکوک ھو گی،، اب آپ غور فرمایئے کہ ںبیﷺ پر جادو ھوا،، 6 ماہ رھا،،بعض روایات میں ایک سال رھا،، اور کیفیت یہ بیان کی گئی ھے کہ ،،کان یدورُ و یدورُ لا یدری ما اصابہ او ما بہ،، آپ چکر پر چکر کاٹتے مگر آپﷺ کو سمجھ نہ لگتی کہ آپ کو ھوا کیا ھے،، بعض دفعہ آپ اپنی بیویوں کے پاس نہ گئے ھوتے مگر آپ کو خیال ھوتا کہ آپ گئے تھے،، اور بعض دفعہ دیگر معاملات میں بھی اس قسم کا مغالطہ لگا،،

    اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اس وقت نبیﷺ کی 9 بیویوں تھیں،، اگر یہ معاملہ اس حد تک خراب تھا تو یہ سب بیویوں کی طرف سے آنا چاھئے تھے،، جب کہ یہ صرف ایک بیوی حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب ھے،، اگر یہ واقعہ ایسے ھی تھا تو عقل کہتی ھے کہ حضرت عائشہؓ کو سب سے پہلے اپنے والد کو خبردار کرنا چاھیئے تھا کہ آپ کے خلیل کے ساتھ یہ ھو گیا ھے،یوں یہ تمام صحابہ میں مشہور ھو جانا چاھئے تھا،،نبی ﷺ پر جادو قیامت تھی کوئی معمولی زکام کا واقعہ نہیں تھا،، نبوت اور وحی داؤ پر لگی ھوئی تھی،،مگر یہ نہیں ھوا، خیر حضرت عائشہؓ کو دوسرے نمبر پر اپنی سوکنوں کے ساتھ اس کو شیئر کرنا چاھئے تھا اور ان سے بھی تصدیق کرنی تھی کہ کیا ان کو بھی نبیﷺ کی ذات میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نظر آئی ھے،، وہ بھی نہیں ھوا ، حضرت عائشہؓ نے ذکر بھی کیا تو صرف ایک بندے سے یعنی اپنے بھانجے عروہ سے،، عروہ نے بھی اسے چھپائے رکھا اور کسی سے ذکر نہیں کیا سوائے اپنے ایک بیٹے کے،، وہ بیٹا بھی اسے 70 سال سینے سے لگائے رھا اور جب حضرت عائشہؓ سمیت کوئی صحابی اس کی تصدیق کرنے والا نہ رھا تو 90 سال کی عمر میں عراق جا کر یہ واقعہ بیان کیا،، اور مدینے والوں کو عراق سے خبر آئی کہ نبیﷺ پر جادو بھی ھوا تھا،،اب اس پر میں اپنی زبان میں تو کچھ نہیں کہتا مگرفقہ حنفی کے امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی احکام القرآن میں اس پر جو تبصرہ کیا ھے اسی پر کفایت کرتا ھوں ” کہ اس حدیث کو زندیقوں نے گھڑا ھے،، اللہ انہیں قتل کرے،، نبیﷺ پر ایمان اور اس حدیث پر یقین ایک سینے میں جمع نہیں ھو سکتے،، اگر آپﷺ پر جادو ھو گیا ھے تو پھر نبوت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ھے اور اگر نبی تھے تو پھر جادو کا امکان تک نہیں” افسوس یہ ھے کہ امام ابوحنیفہ کے اس حدیث کو مسترد کر دینے اور امام ابوبکر الجصاص کے انکار کے باوجود ،ماشاء اللہ احناف ھی اسے اولمپک کی مشعل کی طرح لئے دوڑ رھے ھیں ،کیونکہ اس سے ان کی روٹیاں جُڑی ھیں،، یہ کالے کے مقابلے میں چٹا جادو کر کے کماتے ھیں،، اور یوں کالے اور چٹے جادو کے تال میل سے جادو کی سائیکل کے یہ دو پیڈل چل رھے ھیں،،

    یہ ایک بہت بڑا سوال ھے کہ شرک کے یہ اڈے جو زیادہ تر زندیقوں کے قبضے میں ھیں،، عیسائی جادوگر اور بدقماش عامل اپنی دکانیں اسی حدیث اور ھمارے بزرگوں کے تعاون سے ھی چلا رھے ھیں،، جہاں نہ صرف ایمان لٹتا ھے بلکہ مال کے ساتھ عصمتیں بھی بھینٹ چڑھتی ھیں،، ھم آخر لوگوں کو کیسے روکیں اور کیسے یقین دلائیں کے اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتا،، اس صحیح حدیث کو بھی ھم آنکھ میں آنکھ ڈال کر نہیں سنا سکتے کہ ” سارے زمین والے اور سارے آسمان والے، تیرے پچھلے جو مر گئے وہ بھی جو قیامت تک آنے والے ھیں وہ بھی ملکر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاھئیں تو نہیں پہنچا سکتے ،سوائے اس کے جو اللہ نے رحم مادر میں تیرے مقدر میں لکھ دیا تھا،، اور اگر یہ سارے تجھے نفع دینا چاھیئں تو رائی کے دانے کے برابر نفع نہیں دے سکتے سوائے اس کے جو رحم مادر میں اللہ نے تیرے لئے لکھ دیا ھے،، سیاھی خشک ھو گئی ھے اور قلم روک لیا گیا ھے،،، جو اللہ اپنے رسول کی

    • Islamic-Belief says:

      اس اقتباس میں مفروضہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر جادو کیا گیا اس کو صرف ھشام بن عروہ نے روایت کیا ہے
      ———–

      ہشام بن عروہ نے ہی صرف ان روایات کو بیان نہیں کیا آوروں نے بھی کیا ہے مثلا زید بن ارقم سے روایت کیا گیا ہے
      طبقات ابن سعد میں ہے
      أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ. أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ ثُمَامَةَ الْمُحَلَّمِيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: عَقَدَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ. يَعْنِي لِلنَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – عُقَدًا وَكَانَ يَأْمَنُهُ وَرَمَى بِهِ فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا. فَجَاءَ الْمَلَكَانِ يَعُودَانِهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَدْرِي مَا بِهِ؟ عَقَدَ لَهُ فُلانٌ الأَنْصَارِيُّ وَرَمَى بِهِ فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا وَلَوْ أَخْرَجَهُ لَعُوفِيَ. فَبُعِثُوا إِلَى الْبِئْرِ فَوَجَدُوا الْمَاءَ قَدِ اخْضَرَّ فَأَخْرَجُوهُ فَرَمَوْا بِهِ فَعُوفِيَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَمَا حَدَّثَ بِهِ وَلا رُئِيَ فِي وَجْهِهِ.

      ثمامة بن عقبة المحلمى نے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک شخص نے گرہ لگائی یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم پر اور اس کو ایک کنواں میں ڈالا -پس دو فرشتے آئے عیادت کے لئے اور ایک نے دوسرے سے کہا ان کو کیا ہوا ہے ؟ ان پر فلاں انصاری نے گرہ باندھی ہے جو اس کنواں میں ہے اس کو نکالا جائے تو شفا مل جائے گی- پس لوگوں کو اس کنواں تک بھیجا جس کا پانی ہرا تھا پس اس کو نکالا اور اس گرہ کو وہاں پایا اور پھینکا گیا

      اس کو ثمامة بن عقبة المحلمى الكوفى نے روایت کیا ہے جس کو ثقہ کہا گیا ہے

      مصنف ابن ابی شیبه میں ہے
      يزيد بن حيان التيمى ، الكوفى ثقہ ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حِيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: ” سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَاشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ أَيَّامًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَذَا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ، عَقَدَ لَكَ عُقَدًا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، فَاسْتَخْرَجَهَا فَجَاءَ بِهَا، فَجَعَلَ كُلَّمَا حَلَّ عُقْدَةً وَجَدَ لِذَلِكَ خِفَّةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْيَهُودِيَّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ ”
      يزيد بن حيان التيمى نے زید رضی الله عنہ سے روایت کیا کہ نبی پر سحر کیا گیا یہود میں سے ایک شخص نے ….

      اس کو شیعوں نے بھی روایت کیا ہے
      بحار الأنوار
      المؤلف محمد باقر المجلسيى ” ”
      الناشر : مؤسسة الوفاء – بيروت – لبنان

      عن محمد بن سنان، عن المفضل (8)، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: قال أمير المؤمنين صلوات الله عليه: إن جبرئيل (عليه السلام) أتى النبي (صلى الله عليه وآله) وقال له: يا محمد، قال: لبيك يا جبرئيل، قال: إن فلان اليهودي سحرك، وجعل السحر في بئر بني فلان، فابعث إليه – يعني إلى البئر – أوثق الناس عندك، وأعظمهم في عينك (9)، وهو عديل نفسك، حتى يأتيك بالسحر، قال: فبعث النبي (صلى الله عليه وآله) علي بن أبي طالب (عليه السلام) وقال: انطلق إلى بئر ذروان فإن فيها سحرا سحرني به لبيد بن أعصم اليهودي فأتني به، قال علي (عليه السلام): فانطلقت في حاجة رسول الله (صلى الله عليه وآله)
      علی علیہ السلام نے کہا جبریل ، رسول الله صلی الله علیہ و اله کے پاس آئے اور کہا اے محمد اپ نے فرمایا لبیک یا جبریل- جبریل نے کہا فلاں یہودی نے اس پر جادو کیا ہے اور اس کو فلاں کنواں میں رکھا ہے پس اپ نے وہاں لوگ بھیجیں یعنی کنواں کی طرف وہ لوگ جو سب میں ثقہ ہوں اپ کے نزدیک اور اپ کی نگاہ میں سب سے بہتر ہوں … پس نبی صلی الله علیہ وسلم نے علی کو بھیجا اور کہا اس کنواں ذروان تک جاؤ اس میں جادو ہے – مجھ پر لبید بن اعصم یہودی نے سحر کیا ہے

      ============

      لہذا اس کو روایت کرنے میں ہشام کا تفرد نہیں ہے
      ہشام سے اس کو ان لوگوں نے لیا
      عِيسَى بْنُ يُونُسَ
      أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ
      أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ
      وُهَيْبٌ
      عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ
      يحيى القطان
      الليث بن سعد
      مرجي بن رجاء
      سُفْيَانُ بن عيينة
      معمر بن راشد
      أنس بن عياض
      مسلمة بن سعيد
      عبد الله بن نمير

      اس میں سُفْيَانُ بن عيينة اور یحیی القطان جیسے محدثین بھی ہیں-
      اس دور میں معتزلة اور الجهمية کی وجہ سے سحر کا ہی سرے انکار ہو رہا تھا لہذا جو اس واقعہ کو جانتے تھے انہوں نے اس کو بیان کیا
      —-

      امام مالک کو ہشام کی عراق والی روایات پر اعتراض تھا کیونکہ انہوں نے روایات بیان کرنے میں غلطیاں کی ہیں نہ کہ سحر والی روایت کی وجہ سے-
      غلطیاں کس قسم کی تھیں ان کو سمجھنے کے لئے اس بلاگ کو دیکھیں
      http://www.islamic-belief.net/دين-میں-عقل-و-فکر-کی-اہمیت/

      راقم خود بھی کہتا ہے کہ ہشام نے عراق میں غلطیاں کی ہیں لیکن یہ الفاظ کی تبدیلی ہے – ان کو آگے پیچھے کرنا ہے

      امام مالک نے بہت سی روایات کو لکھنے سے منع کیا ان میں کہیں بھی سحر کی روایت کا ذکر نہیں ہے

      ——
      الجصاص نے کہا : حدیث کو زندیقوں نے گھڑا ھے

      تبصرہ : کس نے گھڑا ؟ کیونکہ اس میں ہشام کا تفرد نہیں ہے اور لوگ بھی ہیں اور تحقیق کریں اور سارا ملبہ ہشام پر گرا دیں تو پھر الجصاص کو اور منکرین تاثیر جادو کو ہشام کی تمام روایات کو رد کر دینا چاہیے کیونکہ یہ زندقہ ہے نہ کہ بدعتی رائے- مثلا محدثین کا اصول ہے کہ راوی اگر اپنی بدعتی رائے کی حدیث بیان کرے تو رد ہو گی – یہ اصول رافضی راویوں کے لئے استمعال کیا جاتا ہے- لیکن جب کسی راوی کو زندیق قرار دیا جائے تو یہ کفر کا فتوی ہے اس سے عدالت ساقط ہوتی ہے اب اس کی تمام روایات رد ہوں گی- لہذا ان لوگوں کو ہشام سے برات کا اظہار کرنا چاہیے

      دوم : اگر منکرین تاثیر سحر سمجھتے ہیں ہشام سٹھیا گئے تھے تو ان کو وہ تمام روایات رد کرنا ہوں گی جو عراقی ہشام سے روایت کریں لہذا ان کو تحقیق کرنا ہوں گی کہ ہشام سے بصری کوفی کون روایت کر رہا ہے

      لیکن راقم کے علم میں ہے ایسا یہ نہیں کرتے کتاب أحكام القرآن میں أحمد بن علي أبو بكر الرازي الجصاص الحنفي (المتوفى: 370هـ) نے ٢٠ سے اوپر بار هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ کی روایت سے دلیل لی ہے یہ کھلا تضاد ہے

  18. shahzad khan says:

    اسلام وعلیکم ۔۔۔ بھائی اک سوال ہے سورہ یونس میں ہے وما انتم بمعجزین۔۔۔ اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو ۔۔۔۔اور سورہ بقرہ میں ہے وما انزلنا ۔۔۔ اور جو نازل ہوا ۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں وما آیا ہے اک جگہ نافیہ ہے اور اک جگہ موصولہ ۔۔اب اس کی پہچان کیسے کی جائے کہ کس مقام پر وما نافیہ ہوتا ہے اور کس مقام پر موصولہ ہوتا ہے ۔۔ کیا عربی قواعد میں کوئی قاعدہ ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں ۔۔ جذاک اللہ خیرا

    • Islamic-Belief says:

      کلام میں اس طرح کا کوئی قاعدہ نہیں جس سے حتما متعین ہو جائے کہ ما کون سی ہے ؟ موصولہ ہے یا نافیہ – یہ تو ذہن خود طے کرتا چلا جاتا ہے کہ بولنے والا کیا کہہ رہا ہے لیکن جب اس قسم کی بحث ہو جہاں کلام کو تبدیل کیا جائے تو پھر یہ مباحث جنم لے لیتے ہیں
      ایسا اردو میں بھی ہوتا ہے کہ اپ کہتے ہیں
      اٹھو مت بیٹھو
      اس میں جس کو کہا گیا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ اٹھنے کا حکم دیا جا رہا ہے یا بیٹھنے کا

      لہذا جب اپ تعصب سے بری ہو کر کتاب الله کو دیکھیں تو اس میں ما کو زبردستی بدلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے

  19. shahzad khan says:

    بھائی جادو کے متعلق اک سوال آیا ہے ۔۔ کہ رسولؐ پر جادو ہوا تو وہ چند چیزوں پر کیا گیا جنہیں کنویں میں پھینک دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اس جگہ کی نشاندہی کرا دی اور ان اشیاء کو جن پر جادو تھا غیر موثر کر دی گئیں ۔۔ سوال یہ ہے کہ جادو زائل کرنے کے لیے ان اشیاء تک رسائی ضروری ہے جن پر عمل کیا گیا ہو ؟۔۔لیکن اگر اک عام انسان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آجائے تو وہ ان اشیاء تک رسائی کیسے حاصل کرے

    • Islamic-Belief says:

      الله ہی ہے جو کسی بھی عمل میں تاثیر پیدا کر رہا ہے یا اس کو زائل کر دیتا ہے
      لہذا اگر اشیاء تک رسائی نہ بھی ہو تو الله کی پناہ سے اثر نہیں ہو سکے گا

      راقم سمجھتا ہے کہ جادو کے عمل کو شروع کرنے کے لئے ان اشارات کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس پر کیا جا رہا ہے اس کے جسم کے بال یا ناخن یا ہڈی یا کوئی اور چیز لی جاتی ہے
      پھر اس کا اثر ختم ہونا الله کے حکم پر ہے

  20. مبشر says:

    اہل تشیع کا کہنا ہے کہ ہاروت و ماروت پر جادو نازل نہیں کیا گیا تھا کیا یہ درست ہے ؟

    • Islamic-Belief says:

      اس قسم کی ایک روایت شیعہ تفسیر میں امام حسن عسکری سے منسوب کی گئی ہے جو آخری ظاہر امام تھے

      مسند امام رضا میں ہے
      قال يوسف بن محمد بن زياد وعلي بن محمد بن يسار عن أبويهما أنهما قالا: قلنا للحسن بن علي عليهما السلام: فإن قوما عندنا يزعمون أن هاروت وماروت ملكان اختارهما الله من الملئكة لما كثر عصيان بنى آدم وأنزلهما مع ثالث لهما إلى دار الدنيا وأنهما افتتنا بالزهرة و أرادا الزنا بها وشربا الخمر وقتلا النفس المحرمة وأن الله عز وجل يعذبهما ببابل وأن السحرة منهما يتعلمون السحر، وأن الله تعالى مسخ تلك المرأة هذا الكوكب الذى هو الزهرة. فقال الإمام عليه السلام: معاذ الله من ذلك ! إن ملئكة الله معصومون محفوظون من الكفر والقبائح بألطاف الله تعالى، قال الله عز وجل فيهم (لا يعصون الله ما أمرهم و يفعلون ما يؤمرون
      يوسف بن محمد بن زياد اور علي بن محمد بن يسار نے اپنے اپنے باپوں سے روایت کیا کہ ہم نے امام حسن بن علی علیہما السلام سے کہا کہ ہم میں سے (یعنی شیعوں میں سے) ایک قوم دعوی کرتی ہے کہ ہاروت و ماروت فرشتوں میں سے الله نے چنے جب نبی آدم میں گناہ بڑھے ، ان کو ایک تیسرے کے ساتھ دنیا میں بھیجا اور ان کو الزہرہ سے فتنہ میں ڈالا گیا اور انہوں نے زنا کا ارادہ کیا اور شراب پی اور محرم قتل نفس کیا اور الله نے ان کوعذاب دیا بابل میں اور جادو گر ان سے جادو سیکھتے تھے – اور الله نے اس عورت کو مسخ کر دیا یہ وہی ستارہ ہے جس کو الزہرہ کہا جاتا ہے – پس امام علیہ السلام نے فرمایا الله کی پناہ اس سب سے – فرشتے تو معصوم ہیں محفوط ہیں کفر سے اور الله کی جانب میں قبیح کرنے سے کیونکہ الله تعالی نے خبر دی یہ الله کی نافرمانی نہیں کرتے اس پر جو حکم کیا جاتا ہے اور کرتے ہیں جو امر کیا جاتا ہے

      ————
      راقم کہتا ہے یہ روایت شیعہ علماء رجال کے نزدیک غیر ثابت ہے
      يوسف بن محمد بن زياد ایک مجہول شخص ہے اسی طرح علي بن محمد بن يسار بھی مجہول ہے
      کتاب معجم رجال الحديث از السيد ابوالقاسم الموسوى الخوئي کے مطابق
      أقول : التفسير المنسوب إلى الامام العسكري عليه السلام ، إنما هو برواية
      هذا الرجل وزميله يوسف بن محمد بن زياد ، وكلاهما مجهول الحال ، ولا يعتد
      برواية أنفسهما عن الامام عليه السلام
      تفسیر جو امام حسن عسکری سے منسوب ہے وہ اس شخص (علي بن محمد بن يسار) اور يوسف بن محمد بن زياد سے منسوب ہے اور دونوں مجہول الحال ہیں

      اسی کتاب میں الخوئي کہتے ہیں
      في الحديث 1 ، من الباب 27 ، فيما جاء عن الرضا عليه السلام ، في هاروت وماروت من العيون : الجزء 1 ، وغير بعيد أن تكون كلمة عن أبويهما
      اور وہ حدیث جو ہاروت ماروت کے حوالے سے امام رضا سے اتی ہے … ان میں بعید نہیں کہ یہ یہ الفاظ انہوں نے اپنے باپوں سے لئے ہوں

      اسی کتاب میں ابوالقاسم الموسوى الخوئي کہتے ہیں
      يوسف بن محمد بن زياد … أقول : إنه رجل مجهول الحال
      میں کہتا ہوں یہ مجہول الحال ہے
      ===============

      دوسری طرف شروع کی تفسیر مثلا القمی میں پوری ہاروت ماروت اور الزہرہ والی روایت بلا جرح نقل کی گئی ہے

      وقوله (واتبعوا ما تتلوا الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما انزل على الملكين ببابل هاروت وماروت وما يعلمان من احد حتى يقولا انما نحن فتنة فلا تكفر فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء وزوجه إلى قوله – كانوا يعلمون) فانه حدثنى ابي عن ابن ابي عمير عن ابان بن عثمان عن ابي بصير عن ابي جعفر عليه السلام قال ان سليمان بن داود امر الجن والانس فبنوا له بيتا من قوارير قال فبينما هو متكئ على عصاه ينظر إلى الشياطين كيف يعملون وينظرون اليه إذا حانت منه التفاتة فاذا هو برجل معه في القبة، ففزع منه وقال من انت؟ قال انا الذي لا اقبل الرشى ولا اهاب الملوك، انا ملك الموت، فقبضه وهو متكئ على عصاه فمكثوا سنة يبنون وينظرون اليه ويدانون له ويعملون حتى بعث الله الارضة فاكلت منساته وهى العصا فلما خر تبينت الانس ان لو كان الجن يعلمون الغيب ما لبثوا سنة في العذاب المهين فالجن تشكر الارضة بما عملت بعصا سليمان، قال فلا تكاد تراها في مكان الا وجد عندها ماء وطين فلما هلك سليمان وضع ابليس السحر وكتبه في كتاب ثم طواه وكتب على ظهره ” هذا ما وضع آصف بن برخيا للملك سليمان بن داود من ذخاير كنوز العلم من اراد كذا وكذا فليفعل كذا وكذا ” ثم دفنه تحت السرير ثم استثاره لهم فقرأه فقال الكافرون ما كان سليمان عليه السلام يغلبنا الا بهذا وقال المؤمنون بل هو عبدالله ونبيه فقال الله جل ذكره ” واتبعوا ما تتلوا الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما انزل على الملكين ببابل هاروت وماروت ” إلى قوله (فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء وزوجه وما هم بضارين به من احد الا باذن الله) فانه حدثني ابي عن الحسن بن محبوب عن علي بن رياب عن محمد بن قيس عن ابي جعفر عليه السلام قال سأله عطاء ونحن بمكة عن هاروت وماروت فقال ابوجعفر ان الملائكة كانوا ينزلون من السماء إلى الارض في كل يوم وليلة يحفظون اوساط اهل الارض من ولد آدم والجن ويكتبون اعمالهم ويعرجون بها إلى السماء قال فضج اهل السماء من معاصي اهل الارض فتوامروا(1) فيما بينهم مما يسمعون ويرون من افترائهم الكذب على الله تبارك وتعالى وجرء تهم عليه ونزهوا الله مما يقول فيه خلقه ويصفون، فقال طائفة من الملائكة ” يا ربنا ما تغضب مما يعمل خلقك في ارضك ومما يصفون فيك الكذب ويقولون الزور ويرتكبون المعاصي وقد نهيتهم عنها ثم انت تحلم عنهم وهم في قبضتك وقدرتك وخلال عافيتك ” قال ابوجعفر (ع) فاحب الله ان يرى الملائكة القدرة ونافذ امره في جميع خلقه ويعرف الملائكة ما من به عليهم ومما عدله عنهم من صنع خلقه وما طبعهم عليه من الطاعة وعصمهم من الذنوب، قال فاوحى الله إلى الملائكة ان انتخبوا منكم ملكين حتى اهبطهما إلى الارض ثم اجعل فيهما من طبايع المطعم والمشرب والشهوة والحرص والامل مثل ما جعلته في ولد آدم ثم اختبرهما في الطاعة لي، فندبوا إلى ذلك هاروت وماروت وكانا من اشد الملائكة قولا في العيب لولد آدم واستيثار غضب الله عليهم، قال فاوحى الله اليهما ان اهبطا إلى الارض فقد جعلت فيكما من طبايع الطعام والشراب والشهوة والحرص والامل مثل ما جعلته في ولد آدم، قال ثم اوحى الله اليهما انظرا ان لا تشركا بي شيئا ولا تقتلا النفس التي حرم الله ولا تزنيا ولا تشربا الخمر قال ثم كشط عن السماوات السبع ليريهما قدرته ثم اهبطهما إلى الارض في صورة البشر ولباسهم فهبطا ناحية بابل فوقع لهما بناء مشرق فاقبلا نحوه فاذا بحضرته امرأة جميلة حسناء متزينة عطرة مقبلة مسفرة نحوهما، قال فلما نظرا اليها وناطقاها وتأملاها وقعت في قلوبهما موقعا شديدا لموقع الشهوة التي جعلت فيهما فرجعا اليها رجوع فتنة وخذلان وراوداها عن نفسهما فقالت لهما ان لي دينا ادين به وليس اقدر في ديني على ان اجيبكما إلى ما تريدان إلا ان تدخلا في ديني الذي ادين به فقالا لها وما دينك؟ قالت لي آله من عبده وسجد له كان لي السبيل إلى ان اجيبه إلى كل ما سألني، فقالا لها وما الهك قالت الهي هذا الصنم قال فنظر احدهما إلى صاحبه فقال هاتان خصلتان مما نهانا عنهما الشرك والزنا لانا ان سجدنا لهذا الصنم وعبدناه اشركنا بالله وانما نشرك بالله لنصل إلى الزنا وهو ذا نحن نطلب الزنا وليس نخطأ الا بالشرك فائتمرا بينهما
      [57]
      فغلبتهما الشهوة التي جعلت فيهما، فقالا لها فانا نجيبك ما سألت، فقالت فدونكما فاشربا هذا الخمر فانه قربان لكما عنده به تصلان إلى ما تريدان، فائتمرا بينهما فقالا هذه ثلاث خصال مما نهانا ربنا عنها الشرك والزنا وشرب الخمر وانما ندخل في شرب الخمر والشرك حتى نصل إلى الزنا فائتمرا بينهما، فقالا ما اعظم البلية بك قد أجبناك إلى ما سألت، قالت فدونكما فاشربا من هذا الخمر واعبدا هذا الصنم واسجدا له، فشربا الخمر وعبدا الصنم ثم راوداها من نفسها فلما تهيأت لهما وتهيئا لها دخل عليهما سائل يسأل، فلما رء اهما ورأياه ذعرا منه فقال لهما انكما لامرء ان ذعران فدخلتما بهذه المرأة العطرة الحسناء، انكما لرجلا سوء وخرج عنهما فقالت لهما لا والهي لا تصلان الآن الي وقد اطلع هذا الرجل على حالكما وعرف مكانكما ويخرج الآن ويخبر بخبركما ولكن بادرا إلى هذا الرجل فاقتلاه قبل ان يفضحكما ويفضحني ثم دونكما فاقضيا حاجتكما وانتما مطمئنان آمنان، قال فقاما إلى الرجل فادركاه فقتلاه ثم رجعا اليها فلم يرياها وبدت لهما سوء اتهما ونزع عنهما رياشهما واسقط في ايديهما، قال فاوحى الله اليهما انما اهبطتكما إلى الارض مع خلقي ساعة من النهار فعصيتماني باربع من معاصي كلها قد نهيتكما عنها فلم تراقباني فلم تستحيا مني وقد كنتما اشد من نقم على اهل الارض للمعاصي واستسجز اسفى وغضبى عليهم، ولما جعلت فيكما من طبع خلقي وعصمني اياكما من المعاصي فكيف رأيتما موضع خذلاني فيكما، اختارا عذاب الدنيا او عذاب الآخرة، فقال احدهما لصاحبه نتمتع من شهواتها في الدنيا اذ صرنا اليها إلى ان نصير إلى عذاب الآخرة، فقال الآخر ان عذاب الدنيا له مدة وانقطاع وعذاب الآخرة قائم لا انقضاء له فلسنا نختار عذاب الآخرة الدائم الشديد على عذاب الدنيا المنقطع الفاني قال فاختارا عذاب الدنيا وكانا يعلمان الناس السحر في ارض بابل ثم لما
      علما الناس السحر رفعا من الارض إلى الهواء فهما معذبان منكسان معلقان في الهواء إلى يوم القيامة
      ——
      قمی نے اس تفسیر میں پوری روایت
      حدثنى ابي عن ابن ابي عمير عن ابان بن عثمان عن ابي بصير عن ابي جعفر عليه السلام
      کی سند سے بیان کی ہے

      یہ سند اہل تشیع کے ہاں سلسلہ الذھب کی حیثیت رکھتی ہے یہ اور بات ہے کہ ابان بن عثمان امامیہ شیعہ نہیں تھے الناووسية تھے
      کتاب رجال علي الخاقاني کے مطابق الناووسية سے مراد ہیں
      الناووسية وهم القائلون بالامامة الى الصادق عليه السلام الواقفون عليه لزعمهم انه حى ولن يموت حتى يظهر ويظهر امره وهو القائم المهدى (قيل) نسبوا الى رجل يقال له ناووس (وقيل) الى قرية يقال لها ذلك ولكن المعروف هو الاول واما الفعل فكونه يروى عن الثقات أو الاجلة أو يروى الاجلة عنه سيما اهل الاجماع وخصوصا مثل ابن ابى عمير
      الناووسية وہ ہیں جو صادق علیہ السلام کی امامت کے قائل ہیں انہی پر رکنے والے کہ ان کا دعوی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور مرے نہیں حتی کہ ظاہر ہوں اور ان کا امر ظاہر ہو اور یہی قائم المہدی ہیں – کہا جاتا ہے یہ ایک شخص سے منسوب ہیں جس کو ناووس کہا جاتا تھا اور کہا جاتا ہے ایک بستی سے منسوب ہیں لیکن اول قول معروف ہے

  21. shahzad khan says:

    سورہ طہٰ ۔۔۔ جادوگر جس شان سے بھی آئے کامیاب نہیں ہو سکتا ۔۔ اسی آیت کی بنیاد پر منکرین جادو سوال اٹھاتے ہیں کہ جب اللہ فرما رہا ہے کہ جادوگر جس شان سے بھی آئے کامیاب نہیں ہو سکتا تو لبید بن عاصم کیسے جادو کرنے میں کامیاب ہو گیا رسول صلی علیہ وسلم پر تین مہینے تک؟؟؟

    • Islamic-Belief says:

      ولا يفلح الساحر حيث أتى
      أور ساحر جس رخ سے بھی آئے فلاح نہیں پاتا

      اس میں سحر ناکام ہو جاتا ہے کا ذکر ہی نہیں- اول تو پہلے اپ فیصلہ کریں سحر اگر ایک شعبدہ بازی ہے تو اس میں کامیاب یا نا کامیاب کیا ہوتا ہے ؟ شعبدہ بازی کی کیا حدود ہیں پہلے اس پر غور کریں- کیا اس سے کسی کو ٹھگا جا سکتا ہے ؟ مثلا کسی کا مال لے لیا جیب کاٹ لی – کیونکہ شعبدھ بازی اسی کو کہتے ہیں اگر ٹھگ لیا تو شعبدہ باز دنیا میں کامیاب ہوا

      جو سحر کا انکار کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ شعبدہ بازی ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں گویا مداری کا کھیل ہے – ان انکاری سحر کے نزدیک فرعون کے ساحرون نے بھی ٹیوب میں کیمکل بھر رکھا تھا اس پر جب دھوپ پڑی تو وہ ٹیوب ہلنے لگی
      لہذا اس کا ترجمہ ان کے حساب سے یہ ہو گا
      أور شعبدہ باز جس رخ سے بھی آئے فلاح نہیں پاتا

      ان کو یہ ترجمہ کرنا چاہیے کہ نہیں – کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ

      —————
      دوسری مثال بابل میں الله کا حکم ہوا کہ ایک شادی شدہ جوڑا طلاق دے گا – لیکن اس سے پہلے ایک یہودی وہاں ہاروت سے سحر سیکھے گا اور پھر عورت اس یہودی کو مل جائے گی
      آیت میں ایسا ہے کہ نہیں؟ کہ کوئی نقصان دہ ہو سکتا ہے اگر الله کا حکم ہو

      کیا یہودی جو چاہ رہا تھا وہ اس کو ملا کہ نہیں کہ اس نے سحر کیا دوسرے کی بیوی مل گئی اور الله کا حکم بھی تھا؟

      اس بنا پر اس آیت کا ترجمہ میں فلاح سے مراد دنیا کی کامیابی نہیں اخروی فلاح ہے

  22. shahzad khan says:

    قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى (59)
    کہا تمہارا وعدہ جشن کا دن ہے اور دن چڑھے لوگ اکٹھے کیے جائیں۔
    فَـتَوَلّـٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهٝ ثُـمَّ اَتٰى (60)
    پھر فرعون لوٹ گیا اور اپنے مکر کا سامان جمع کیا پھر آیا۔
    قَالَ لَـهُـمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَـرُوْا عَلَى اللّـٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَـرٰى (61)
    موسٰی نے کہا افسوس تم اللہ پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہیں ہلاک کر دے گا، اور بے شک جس نے جھوٹ بنایا وہ غارت ہوا۔
    بھائی اس میں ہے کہ فرعون نے اپنے مکر کا سامان جمع کیا اور پھرآیا ۔ ۔مکر کاسامان سے کیا مراد

  23. shahzad khan says:

    تعویذ اور سحر کا گہرا ناتا ہے جیسا کہ آپ کی کتاب میں پڑھا ۔۔۔بھائی سوال یہ ہے کہ تعویذ لٹکانا شرک ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ تعویذ کو نافع وضار سمجھنا شرک ہے اب سوال یہ ہے کہ جو جادوئی تعویذ ہوتے ہیں ان کو کسی شر کا باعث سمجھا جا سکتا ہے یعنی کے ان تعویذات میں جو کلمات لکھے جاتے ہیں ان کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا یہ صرف اشارات کے طور پر ہوتے ہیں

    • Islamic-Belief says:

      صحیح کہا اپ نے تعویذ کو نافع وضار سمجھنا شرک ہے اور یہ اصول ہے کسی بھی چیز کو نافع وضار سمجھنا شرک ہے اب چاہے یہ ایٹم بم ہو یا مشن گن
      نافع وضار صرف الله تعالی ہیں تمام عالم پر ان کا کنٹرول ہے

      اب کوئی اپ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو انسانوں میں سے بعض ہو سکتا ہے اپ پر چھپ کر وار کریں گھات لگا کر اپ کو قتل کرنے کی کوشش کریں
      اور بعض لوگ ہو سکتا ہے جادو ٹونا کریں
      اپ کو تو علم نہیں ہو گا کہ اپ کے لئے یہ کیا جا رہا ہے لیکن الله کو سب علم گا وہ اپ کو چاہے گا تو بچا لے گا اور اگر اس کا حکم الگ ہوا تو اپ کو نقصان ہو گا

      جادو کس طرح اثر انداز ہو گا ؟ ہو سکتا ہے جادو بنگال میں کیا جا رہا ہے جبکہ اپ پاکستان میں ہوں؟
      میں سمجھتا ہوں اس میں شیاطین کا عمل ہو گا وہ اپ پر وسوسہ اندازی کریں گے اپ ڈپریشن کا شکار ہوں گے – اپ کو علم ہے ڈپریشن سے بہت سی جسمانی بیماریان منسلک ہیں جیسا ڈاکٹر کہتے ہیں یعنی شیطان اگرچہ اپ کے جسم کو کچھ نہیں کر سکتا لیکن اپ کو بھلا سکتا ہے وسوسہ یا وہم ڈال ڈال کر اپ کو پریشان کر سکتا ہے – دماغ اس اسٹریس کو جسم کی کسی بیماری میں بدل سکتا ہے جو خالص جسم کا عمل ہے شیطان کا عمل نہیں ہے – غور کریں

      واضح رہے جو یہ کہتے ہیں کہ شیطان طاعون یا استحاضہ کی بیماری لاتا ہے وہ غلط کہتے ہیں- بیماری من جانب اللہ ہے لیکن شیطان کو جو چھوٹ ملی ہے اس میں وہ اس حد تک جائے گا جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے

      آخر میں اصول وہی چلے گا کہ نقصان اللہ کی طرف سے ہے اگر الله کا حکم ہوا تو اپ کا دماغ اس اسٹریس کو نہیں لے گا اپ کا جسم بھی صحیح رہے گا

  24. shahzad khan says:

    بھائی یہاں اک سوال ذہن میں آتا ہے کہ شیطان تو آلریڈی انسان کو وسوسہ ڈالتا رہتا ہے تو عمل جادو کے بعد بھی شیطان وسوسہ ہی ڈالتا ہے یعنی کہ اک ے اک بندے کے لئے شیطان کو خاص آرڈر دیا جاتا ہے یا سپاری دی جاتی ہے جبکہ شیطان آلریڈی یہ کام کر رہا ہے

    • Islamic-Belief says:

      شیطان وسوسہ اندازی کرتا ہے لیکن جادو گر سے اس کی خاص دوستی ہو جاتی ہے کیونکہ جادو گر اس کا پجاری ہوتا ہے اس وجہ سے ابلیس خوش ہو کر ایک طرح سپاری لے کر یہ کام کرتا ہے کہ مسلسل اس مسحور سے چمٹ جاتا ہے
      وقتی نظر بندی کا علم ہے کہ جیسے مجمع کو لاٹھی چلتی لگی ہم کو معلوم ہے جادو فورا ختم ہوا کیونکہ موسی نے عصا پھیکا – اگر موسی نہیں ہوتے تو معلوم نہیں اس کی مدت کس قدر ہوتی
      و الله اعلم

  25. shahzad khan says:

    جزاک اللہ

  26. shahzad khan says:

    بخاری جلد سوم باب الذبائخ 486 میں گدھ حرام ہے؟؟ بخاری جلد سوم باب الذبائخ نمبر491 گدھ حلال ہے؟؟ بھائی تحقیق چاہیے اک صاحب کا کہنا ہے کہ بخاری کی روایات میں یہ تضاد ہے

  27. shahzad khan says:

    پر میں نے سرچ کیا لیکن بخاری کی ایسی روایت نہیں ملی بھائی کوئی اچھی سی ویب سائٹ ہو حدیث سرچ کرنے کی تو لنک دے دیں؟؟ Hatithurdu software

  28. shahzad khan says:

    جزاک اللہ بھائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *