الْمُعْتَزلَة غیر مقلدین اور عذاب قبر

غیر مقلدین جن کا عقائد میں ارتقاء جاری ہے ان کے ایک علم کلام کے ماہر ابو جابر دامانوی کتاب عذاب قبر میں لکھتے ہیں

اس امت میں خوارج اور معتزلہ وغیرہ پیدا ہوئے جو عذاب قبر کا انکار کر چکے ہیں اور موجودہ دور میں ڈاکٹر عثمانی صاحب ان پرانے فرقوں کی بازگشت ہیں۔  عذاب القبر کے متعلق اہل اسلام کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ قبر کی راحت و آرام اور قبر کا عذاب حق ہے اور قبر میں دفن میت کے بعد دو فرشتوں منکر و نکیر کا آنا اور ان کا میت سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے متعلق سوال کرنا مومن کا راحت و آرام میں رہنا اور اس پر صبح و شام جنت کا پیش کیا جانا جب کہ کفار و مشرکین اور منافقین کا قبر میں عذاب میں مبتلا ہونا فرشتوں کا انہیں لوہے کے گرز سے مارنا میت کا چیخنا و چلانا اور ہیبت ناک آوازیں نکالنا۔غرض احادیث صحیحہ میں قبر کے حالات کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر ایمان لانا لازم اور ضروری ہے اور ایمانیات میں شامل ہے۔جبکہ عذاب قبر کا انکار کفر ہے اس کا انکاری ایمان و توحید سے خالی ہے چاہے وہ اپنے ایمان کو کتنا ہی خالص کیوں نہ کہے۔ 

ائمہ غیر مقلدین مثلا  نذیر حسین جن کو یہ شیخ الکل  کہتے ہیں اور بدیع الدین راشدی اور  قاضی شوکانی  یمنی کا عقیدہ تھا کہ مردہ میں روح واپس پلٹ اتی ہے اور  زندہ حالت میں ہی عذاب ہوتا ہے – امام ابن عبد البر کے مطابق روح قیامت تک افنیہ القبور میں ہی رہتی ہیں یعنی قبرستان  کے میدان میں اور شیخ ابن تیمیہ و ابن قیم کا عقیدہ تھا کہ روح سورج کی شعآع جیسی کوئی شی ہے جو قبر میں  آتی جاتی رہتی ہے   گویا انرجی ہے- عبد الوہاب النجدی  کا عقیدہ بھی ابن تیمیہ جیسا ہے جس میں روح نہ صرف عام آدمی میں انبیاء  میں بھی اتی ہے

غیر مقلدین کا  سن ٢٠٠٠ سے  عقیدہ ہے کہ مردے میں تدفین کے بعد روح کو واپس ڈالا جاتا ہے جس سے میت میں  قوت سماعت آ جاتی ہے وہ قدموں کی چاپ سننے لگتی ہے اور صحیح مسلم کی ایک روایت کی غلط تاویل کے بعد ان کے مطابق مردہ قبر پر موجود افراد سے مانوس ہوتا ہے اور اس دوران فرشتے سوال کرتے ہیں – اس کے بعد روح کو نکال لیا جاتا ہے وہ آسمان منتقل کر دی جاتی ہے  پھر میت پر بلا روح   عذاب ہوتا ہے جس میں پسلیاں ادھر ادھر ہوتی ہیں مردہ چیخیں مارتا ہے جس کو چوپائے سنتے ہیں – اس کے پیچھے  ضعیف و معلول روایات کا انبار ہے جن کو صحیح  روایات سے ملا کر ایک گنجلک عقیدہ بنا دیا گیا ہے  اور اس کو ایسے پیش کیا جاتا ہے گویا یہ سلف سے چلا آ رہا ہو

اس سلسلے میں باربار غیر مقلدین معتزلہ کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ عذاب قبر کے انکاری تھے – معتزلہ اور ان  کی تحاریر تو معدوم ہیں لیکن اہل سنت ان کا کیا عقیدہ عذاب قبر کے حوالے سے بتاتے ہیں اس کو دیکھتے ہیں

تمام  الْمُعْتَزلَة عذاب قبر کے انکاری نہیں تھے

فتح السلام شرح عمدة الأحكام، للحافظ ابن حجر العسقلاني مأخوذ من كتابه فتح الباري از أبو محمد عبد السلام بن محمد العامر کے مطابق

قوله: (من عذاب القبر) فيه ردّ على من أنكره مطلقاً من الخوارج وبعض المعتزلة كضرار بن عمرو وبشر المريسيّ ومن وافقهما.

وخالفهم في ذلك أكثر المعتزلة وجميع أهل السّنّة وغيرهم , وأكثروا من الاحتجاج له. وذهب بعض المعتزلة كالجيّانيّ: إلى أنّه يقع على الكفّار دون المؤمنين.

ابن حجر کا قول (من عذاب القبر) اس میں رد ہے خوارج کا اور بعض الْمُعْتَزلَة کا   جنہوں نے  مطلقا عذاب کا انکار  کیا ہے جیسے  ضرار بن عمرو اور بشر المريسيّ  اور وہ جنہوں نے انکی موافقت کی ہے

كوثَر المَعَاني الدَّرَارِي في كَشْفِ خَبَايا صَحِيحْ البُخَاري از   محمَّد الخَضِر بن سيد عبد الله بن أحمد الجكني الشنقيطي (المتوفى: 1354هـ) کے مطابق

وأنكرت المعتزلة عذاب القبر والخوارج وبعض المرجئة، لكن قال القاضي عبد الجبار رئيس المعتزلة: إن قيل: مذهبكم أدّاكم إلى إنكار عذاب القبر، وقد أطبقت عليه الأمة. قيل: هذا الأمر إنما أنكره ضِرار بن عمرو، ولما كان من أصحاب واصل ظنوا أن ذلك مما أنكرته المعتزلة، وليس الأمر كذلك، بل المعتزلة رجلان: أحدهما: يُجوِّز ذلك كما وردت به الأخبار، والثاني: يقطع بذلك، وأكثر شيوخنا يقطعون بذلك، وإنما يُنْكَر قول جماعة من الجهلة: إنهم يعذَّبون وهم موتى. ودليل العقل يمنع من ذلك.

اور المعتزلة نے عذاب قبر کا انکار کیا اور خوارج اورکچھ مرجیہ نے انکار کیا ہے لیکن قاضی عبد الجبار   المعتزلة  کے سردارکہتے ہیں  کہا جاتا ہے  تمہارا مذھب تم کو عذاب قبر کے انکار پر لے جاتا ہے اور بے شک اس میں امت کو طبقات میں کر دیتا ہے – کہا جاتا ہے کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ اس کا انکار ضِرار بن عمرو نے کیا جبکہ وہ  اصحاب واصل بن عطا  میں سے ہے – اس سے لوگوں نے یہ گمان کیا  المعتزلة اس کے انکاری ہیں جبکہ ایسا نہیں تھا بلکہ المعتزلة میں دو  (بڑے ) اشخاص تھے ایک اس  کے جواز کا قائل ہے  اور یہ بات روایات میں بیان ہوئی ہے  اور دوسرا اس سے الگ ہے  – اور ہمارے اکثر شیوخ اس سے الگ ہی ہیں اور انکی طرف سے ایک  جاہلوں کی اس  جماعت کا  انکار کیا گیا ہے  جو یہ کہتے ہیں کہ ان کو عذاب ہو گا اور یہ مردہ ہوں گے اور عقل کی دلیل اس سے مانع   ہے 

کتاب شرح سنن ابن ماجه – الإعلام بسنته عليه السلام از  مغلطاي بن قليج بن عبد الله البكجري المصري الحكري الحنفي، أبو عبد الله، علاء الدين (المتوفى: 762هـ) کے مطابق

إنّما أنكره أولًا ضرار بن عمرو، ولما كان من

أصحاب واصل ظنوا أن ذلك مما أنكرته المعتزلة، وليس الأمر كذلك بل

المعتزلة رجلان: أحدهما يجوز ذلك كما وردت به الأخبار، والثاني يقطع

بذلك، وأكثر شيوخنا يقطعون بذلك إنّما ينكرون قول طائفة من الجهلة أنّهم

يعذبون وهم موتى، ودليل العقل يمنع من ذلك، وبنحوه قاله أبو عبد الله

المرزباني في كتاب الطبقات أيضًا،

بے شک اس کا شروع شروع میں ضرار بن عمرو نے انکار کیا اور اصحاب واصل نے گمان کیا کہ اس کا انکار المعتزلة نے کیا ہے جبکہ  اصل بات یہ ہے کہ  المعتزلة میں دو اشخاص تھے ایک اس  کے جواز کا قائل ہے  اور یہ بات روایات میں بیان ہوئی ہے  اور دوسرا اس سے الگ ہے  – اور ہمارے اکثر شیوخ اس سے الگ ہی ہیں اور انکی طرف سے ایک  جاہلوں کی اس  جماعت کا  انکار کیا گیا ہے  جو یہ کہتے ہیں کہ ان کو عذاب ہو گا اور یہ مردہ ہوں گے اور عقل کی دلیل اس سے مانع   ہے  –  ابو عبد الله المرزباني کہتے ہیں کتاب الطبقات میں ایسا ہی ہے

معلوم ہوا کہ معتزلہ کے بعض  جہلاء نے وہی عقیدہ اختیار کیا جو آج غیر مقلدین کا ہے کہ مردہ میت کو بغیر روح عذاب ہوتا ہے اسکا رد کیا گیا

المعتزلةِ کی طرف انکار عذاب قبر ثابت نہیں ہے

کتاب   فيض الباري على صحيح البخاري میں  محمد أنور شاه بن معظم شاه الكشميري   الديوبندي (المتوفى: 1353هـ) لکھتے ہیں

وما نُسِب إلى المعتزلةِ أنهم يُنْكِرون عذابَ القَبْر فلم يثبت عندي إلا عن بِشْر المَرِيسي وضِرار بنِ عمروِ. وبِشْرٌ كان يختلف إلى دَرْس أبي يوسف رحمه الله تعالى، فلما بلغه من شأَن بِشْر قال: إني لأَصْلِبنَّك – وكَان قاضيًا – فَفَرَّ المَرِيسي   خائفًا، ثُم رَجَعَ بعد وفاته. أما ضِرارًا فلا أَعْرف مَنْ هو.

اور جو المعتزلةِ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ عذاب قبر کا انکار کرتے ہیں تو یہ میرے نزدیک ثابت ہی نہیں ہے سوائے  ضرار بن عمرو اور بشر المريسيّ کے لئے –   اور بشر المريسيّ امام ابو یوسف سے درس میں اختلاف کرتا تھا پس جب  انکو بشر کی حالت پتا چلی انہوں نے کہا میں تجھ کو صلیب دوں گا اور وہ قاضی تھے پس بشر المریسی فرار ہو گیا ڈر کر پھر پلٹا انکی وفات کے بعد – اور ضرار بن عمرو کو میں نہیں جانتا یہ کون ہے

امام بخاری اور عذاب قبر

  فتح الباري شرح صحيح البخاري از  أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي کے مطابق

لم يتعرض المصنف في الترجمة لكون عذاب القبر يقع على الروح فقط، أو عليها وعلى الجسد، وفيه خلاف شهير عند المتكلمين، وكأنه تركه لأن الأدلة التي يرضاها ليست قاطعة في أحد الأمرين، فلم يتقلد الحكم في ذلك، واكتفى بإثبات وجوده، خلافًا لمن نفاه مطلقًا من الخوارج، وبعض المعتزلة، كضرار بن عمرو وبِشر المريسيّ ومن وافقهما. وخالفهما في ذلك أكثر المعتزلة، وجميع أهل السُنَّة وغيرهم، وأكثروا من الاحتجاج له.وذهب بعض المعتزلة كالجبائيّ إلى أنه يقع على الكفار دون المؤمنين، وبعض الأحاديث الآتية عليهم أيضًا.

مصنف امام بخاری نے یہاں ترجمہ میں  اس پر  زور نہیں دیا (یا ظاہر نہیں کیا)  کہ عذاب قبر صرف روح کو ہوتا ہے یا روح پر اور جسم  (دونوں) پر ہوتا ہے اور اس کے خلاف متکمین میں بہت کچھ مشھور ہے اور گویا کہ (قصدا) انہوں نے ترک کیا کیونکہ دلائل جس سے راضی ہوں وہ قطعی نہیں تھے پس انہوں نے اس پر حکم نہیں باندھا اور صرف اثبات وجود (عذاب قبر) پرہی اکتفآ کیا ہے – یہ خلاف ہے اس نفی مطلق کے  جو خوارج اور بعض المعتزلة نے کی ہے  جیسے ضرار بن عمرو  اور بِشر المريسيّ  اور وہ جنہوں نے انکی دونوں کی موافقت کی اور اس کی (عذاب قبر کے انکار کی ) اکثر المعتزلة  اور اہل سنت نے مخالفت کی  اور  اس سے الاحتجاج   لینے والوں کی اکثریت  ہے اور بعض المعتزلة جیسے الجبائيّ کہتے ہیں یہ (صرف) کفار کو ہو گا مومنوں پر نہیں اور بعض احادیث سے اس پر اخذ کیا ہے 

یہ اقوال ثابت کرتے ہیں کہ تمام المعتزلة   عذاب قبر کے انکاری نہیں تھے بلکہ ایک دو ہی افراد تھے

الْمُعْتَزلَة کا عقیدہ :  الم و عذاب میت کو ہے

کتاب  المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج از  أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى: 676هـ) میں ہے

أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ كَمَا ذَكَرْنَا خِلَافًا لِلْخَوَارِجِ وَمُعْظَمِ الْمُعْتَزِلَةِ وَبَعْضُ الْمُرْجِئَةِ نَفَوْا ذَلِكَ ثُمَّ الْمُعَذَّبُ عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ الْجَسَدُ بِعَيْنِهِ أَوْ بَعْضُهُ بَعْدَ إِعَادَةِ الرُّوحِ إِلَيْهِ أَوْ إِلَى جُزْءٍ مِنْهُ وَخَالَفَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بن كرام وطائفة فقالوا لايشترط إِعَادَةُ الرُّوحِ قَالَ أَصْحَابُنَا هَذَا فَاسِدٌ لِأَنَّ الْأَلَمَ  وَالْإِحْسَاسَ إِنَّمَا يَكُونُ فِي الْحَيِّ

بے شک اہل سنت کا مذھب اثبات عذاب قبر ہے جیسا ہم نے ذکر کیا بر خوارج اور الْمُعْتَزِلَةِ کے بڑوں اور بعض الْمُرْجِئَةِ  کے- یہ لوگ اس کا  انکار کرتے ہیں  – پھر عذاب پانے والا اہل سنت میں پورا جسد ہے   یا اس کا بعض حصہ آعآدہ روح کے  بعد جو  پورے جسد یا اس کے اجزاء میں ہوتا ہے  اور اس کی مخالفت کی ہے امام  ابن جریر طبری نے اور عبد الله بن کرام نے اور ایک گروہ نے اور کہا ہے عذاب کے لئے روح لوٹنا شرط نہیں ہے – ہمارے اصحاب ( اہل سنت جواب میں) کہتے ہیں یہ ( قول یا رائے)  فاسد ہے کیونکہ الم و احساس زندہ کے لئے ہے

وهابي عالم عاصم القریوتی نے  ٣٦ سال قبل لکھا تھا

qaryuti1

سن ١٩٨٤ میں شمارہ محدث میں مضمون روح عذاب قبر اور سماع الموتی میں غیر مقلد عالم عبد الرحمان کیلانی نے اپنا عقیدہ ان الفاظ میں بیان کیا

جب ہم خود اس بات کے قائل ہیں کہ عذاب و ثواب قبر کا بیشر انحصار روح یا روح کے جسم پر ہوتا ہے۔ البتہ اس کی شدت سے کبھی کبھار قبر میں پڑا ہوا جسدِ عنصری بھی متاثر ہو جاتا ہے

یعنی عذاب قبر اصلا روح کو ہے جس کا اثر کبھی کبھار جسد عنصری پر ہوتا ہے

حیرت ہے کہ آج غیر مقلدین نے قریوتی  اور کیلانی صاحب کا عقیدہ چھوڑ  دیا ہے

ابو جابر دامانوی کا عقیدہ ہے کہ عذاب قبر تدفین سے پہلے شروع ہو جاتا ہے  اعادہ روح سے بھی پہلے لہذا کتاب دین الخالص قسط اول و دوم میں لکھتے ہیں

دامانوی عذاب١

غیر مقلدین ٣٠ سال پہلے  عذاب قبر کی ابتداء حالت نزع سے بتاتے تھے یعنی اس کا آغاز قبر میں عود روح سے نہیں ہوتا

روح صرف چند سوالوں کے لئے اتی ہے دامانوی دین الخالص قسط دوم میں لکھتے ہیں

دامانوی عقیدہ٢

یہ کس حدیث میں ہے کہ روح واپس جسم سے نکال لی جاتی ہے ؟ عود روح کی روایت جو شیعہ راویوں المنھال اور زاذان نے البراء بن عازب رضی الله عنہ سے منسوب کی ہے اس میں تو اس سے الٹ لکھا ہے اس کے مطابق  روح جب بھی آسمان کی طرف جائے گی اس کو واپس زمین کی طرف  پھینک دیا جائے گا

دامانوی کے مطابق روح پر عذاب قبر نہیں ہوتا اس پر عذاب جہنم ہوتا ہے دین الخالص قسط دوم میں لکھتے ہیں

دامانوی عقید٣٢

یہ بھی قیاس ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے

اسی کتاب میں دامانوی لکھتے ہیں

دامانوی عقید٤

یعنی روح جہنم میں ہی رہے گی اور جسد بلا روح کو عذاب ہو گا

کہتے ہیں

سانپ نکل گیا لکیر پیٹا کرو

اہل سنت کا یہ عقیدہ نہیں ہے یہ کرامیہ کا عقیدہ ہے جو غیر مقلدین اختیار کر چکے ہیں

شَرْحُ صَحِيح مُسْلِمِ لِلقَاضِى عِيَاض المُسَمَّى إِكمَالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم از قاضی  عياض بن موسى  (المتوفى: 544هـ) کے مطابق

وأن مذهب أهل السنة تصحيح هذه الأحاديث وإمرارها على وجهها؛ لصحة طرقها، وقبول السلف لها. خلافًا لجميع الخوارج، ومعظم المعتزلة، وبعض المرجئة؛ إذ لا استحالة فيها ولا رد للعقل، ولكن المعذب الجسد بعينه بعد صرف الروح إليه أو إلى جزء منه، خلافاً لمحمد بن جرير (3) وعبد الله بن كرام (4) ومن قال بقولهما؛ من أنه لا يشترط الحياة؛ إذ لا يصح الحس والألم واللذة إلا من حى

اور اہل سنت کا مذھب ان احادیث کی تصحیح ہے اور اس کو ظاہر پر منظور کرتے ہیں اس سے صحیح طرق کی وجہ سے اور سلف کے قبول کی وجہ سے  اور خلاف ہے یہ تمام خوارج اور المعتزلة کے بڑوں اور المرجئة کے – کیونکہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں اور عقل کا رد نہیں ہے بلکہ جسد جیسا ہے اس کی طرف روح لانے پر یا اس کے اجزاء پر عذاب ہے اور یہ خلاف ہے امام طبری اور عبد الله بن کرام کے اور وہ جس نے اس جیسا قول کہا  کہ عذاب کی شرط زندگی نہیں ہے – کیونکہ اگر حس صحیح نہیں تو الم و لذت تو نہیں ہے سوائے زندہ کے لئے

کتاب  عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں العینی لکھتے ہیں

 وَقَالَ الصَّالِحِي من الْمُعْتَزلَة وَابْن جرير الطَّبَرِيّ وَطَائِفَة من الْمُتَكَلِّمين يجوز التعذيب على الْمَوْتَى من غير إحْيَاء وَهَذَا خُرُوج عَن الْمَعْقُول لِأَن الجماد لَا حس لَهُ فَكيف يتَصَوَّر تعذيبه

اور (ابو حسین  محمد بن مسلم) الصَّالِحِي  (مصنف كتاب الْإِدْرَاك)  نے الْمُعْتَزلَة میں سے  اور امام طبری نے اور متکمین کے ایک گروہ نے جائز کیا ہے کہ بغیر زندگی کے  مردوں  پر  عذاب ہو   اور یہ عقل سے عاری بات ہے کیونکہ جمادات میں حس نہیں ہوتی تو پھر عذاب کا  تصور کیسے کیا جا سکتا ہے

علامہ عینی کے قول سے ثابت ہے جسد بلا روح پر عذاب الْمُعْتَزلَة کا عقیدہ تھا جس کو غیر مقلدین اختیار کر چکے ہیں

کتاب التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة از  القرطبي (المتوفى: 671هـ) کے مطابق

وقال الأكثرون من المعتزلة: لا يجوز تسمية ملائكة الله تعالى بمنكر ونكير، وإنما المنكر ما يبدو من تلجلجله إذا سئل، وتقريع الملكين له هو النكير، وقال صالح: عذاب القبر جائز، وأنه يجري على الموتى من غير رد الأرواح إلى الأجساد، وأن الميت يجوز أن يألم ويحس ويعلم. وهذا مذهب جماعة من الكرامية.  وقال بعض المعتزلة: إن الله يعذب الموتى في قبورهم، ويحدث فيهم الآلآم وهم لا يشعرون، فإذا حشروا وجدوا تلك الآلام. وزعموا أن سبيل المعذبين من الموتى، كسبيل السكران أو المغشى عليه، لو ضربوا لم يجدوا الآلام، فإذا عاد إليهم العقل وجدوا تلك الآلام، وأما الباقون من المعتزلة.  مثل ضرار بن عمرو وبشر المريسي ويحيى بن كامل وغيرهم، فإنهم أنكروا عذاب القبر أصلاً، وقالوا: إن من مات فهو ميت في قبره إلى يوم البعث وهذه أقوال كلها فاسدة تردها الأخبار الثابتة وفي التنزيل: {النار يعرضون عليها غدواً وعشياً} . وسيأتي من الأخبار مزيد بيان، وبالله التوفيق والعصمة والله أعلم.

اور المعتزلة میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ الله کے فرشتوں کو منکر نکیر نہیں کہنا چاہیے اور  صالح نے کہا عذاب قبر جائز ہے اور یہ مردوں پر ہوتا ہے روحیں لوٹائے بغیر اور میت کے لئے  جائز ہے کہ وہ الم کا احساس کرے اور جانتی ہو اور یہ مذہب کرامیہ کی ایک جماعت کا ہے – اور بعض المعتزلة نے کہا الله مرودں کو قبروں میں عذاب کرتا ہے اور ان پر الم اتا ہے اور وہ اس کا شعور نہیں کرتے لیکن جب حشر ہو گا ان کو اس کا احساس ہو گا اور انہوں نے دعوی کیا کہ مردوں میں عذاب پانے والے ایک بے ہوش اور غشی والے شخص کی طرح ہیں اس پر ضرب لگاو تو اس کو احساس نہیں ہوتا لیکن جب عقل اتی ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے اور المعتزلة میں باقی کہتے ہیں مثلا ضرار اور بشر اور یحیی اور دیگر یہ وہ ہیں جنہوں نے اصلا عذاب کا انکار کیا ہے اور کہتے ہیں جو مرا وہ میت ہے اپنی قبر میں قیامت تک کے لئے اور یہ تمام اقوال فاسد ہیں جو رد ہوتے ہیں ثابت خبروں سے اور قرآن میں ہے ال فرعون اگ پر پیش کیے جاتے ہیں 

قرطبی کے بقول بعض المعتزلة اور کرامیہ کا عقیدہ ایک تھا کہ میت بلا روح عذاب سہتی ہے جو آج کل کے غیر مقلدین کا عقیدہ ہے

الإعلام بفوائد عمدة الأحكام ابن الملقن الشافعي المصري (المتوفى: 804هـ)کے مطابق

وقال بعضهم: عذاب القبر جائز وأنه يجري على [الموتى]   من غير رد أرواحهم إلى أجسادهم وأن الميت يجوز أن يألم ويحس وهذا مذهب جماعة من الكرامية. وقال بعض المعتزلة: إن الله يعذب [الموتى]   في قبورهم ويحدث فيهم الآلام وهم لا يشعرون فإذا حُشروا وجدو تلك الآلام، كالسكران والمغشي عليه، لو ضربوا لم يجدوا ألمًا   فإذا عاد عقلهم إليهم وجدوا تلك الآلام. وأما الباقون سنن المعتزلة مثل ضرار  بن [عمرو]   وبشر   المريسي ويحيى   بن أبي كامل وغيرهم: فإنهم أنكروا عذاب القبر أصلًا.  وهذه أقوال كلها فاسدة تردها الأحاديث الثابتة، والله الموفق.  وإلى الإِنكار أيضًا ذهبت الخوارج وبعض المرجئة. ثم المعذب عند أهل السنة: الجسد بعينه أو بعضه بعد إعادة الروح إليه [أو]  إلى جزء منه، وخالف في ذلك محمد بن [حزم]  وابن كرام   وطائفة، فقالوا: لا يشترط إعادة الروح، وهو فاسد توضحه الرواية السالفة (سمع صوت إنسانين يعذبان) فإن الصوت لا يكون [إلَّا]   من جسم حي  أجوف 

اور بعض کہتے ہیں عذاب قبر جائز ہے اور یہ مردوں کو ہوتا ہے روح لوٹائے بغیر اور یہ میت کے لئے جائز ہے کہ احساس الم کرے اور یہ کرامیہ کی جماعت کا مذھب ہے  اور بعض المعتزلة کہتے ہیں اللہ مردوں کو قبروں میں عذاب کرتا ہے اور ان پر الم ہوتا ہے لیکن انکو اسکا شعور نہیں ہے پس جب حشر ہو گا انکو یہ الم مل جائے گا – (مردوں کی کیفیت ایسی ہے ) جیسے غشی ہوتی ہے کہ انکو مارو تو انکو الم نہیں ملتا پس جب عقل واپس اتی ہے انکو الم ملتا ہے- اور باقی المعتزلة  مثلا  ضرار  بن [عمرو]   وبشر   المريسي ويحيى   بن أبي كامل وغيرهم تو یہ سب اصلا  عذاب کا انکار کرتے ہیں – اور یہ تمام اقوال فاسد ہیں جن کا رد ثابت حدیثوں سے ہوتا ہے اللہ توفیق دینے والا ہے اور اسی انکار کی طرف  خواراج اور بعض المرجئة کا مذھب ہے- پھر معذب اہل سنت کے نزدیک جسد اور اس کے جیسا ہے روح لوٹانے پر یا اجزاء پر اور اسکی مخالفت کی ہے ابن حزم نے ابن کرام نے اور ایک گروہ نے اور کہا کہ اعادہ روح اس کی شرط نہیں ہے اور یہ فاسد ہے انکی وضاحت ہوتی ہے پچھلی حدیثوں سے (دو انسانوں کی آواز سنی جن کو عذاب ہو رہا تھا)  کیونکہ آواز نہیں ہے الا جسم زندہ ہو (مٹی سے) خالی ہو

ابن ملقن کے بقول عذاب   اہل سنت میں حی یا زندہ کے لئے ہے جس کے جسم میں مٹی نہ ہو اور کرامیہ کا مذھب ہے کہ یہ لاش کو بلا روح ہوتا ہے

اہل سنت کی عقیدہ عذاب قبر میں دو آراء

العرف الشذي شرح سنن الترمذي از المؤلف: محمد أنور شاه بن معظم شاه الكشميري الهندي (المتوفى: 1353هـ)

ونسب إلى المعتزلة أنهم ينكرون عذاب القبر، ويرد عليه أن المعتزلة المختار عدم إكفارهم، وإذا كانوا أنكروا عذاب القبر فكيف يكونوا أهل القبلة؟ أقول: يقال أولاً: لعل التواتر نظري، وثانياً: أنه لم ينكر أحد منهم إلا ضرار بن عمرو وبشر المريسي، وإني في هذا أيضاً متردد ما لم ير عبارتهما. ثم لأهل السنة قولان؛ قيل: إن العذاب للروح فقط، وقيل: للروح والجسد والمشهور الثاني، اختاره أكثر شارحي الهداية وهو المختار

اور المعتزلة سے عذاب قبر کا انکار منسوب کیا جاتا ہے اور اس کا رد کیا جاتا ہے کہ  المعتزلة جو  مختار تھے کہ وہ عذاب قبر کا کفر  کرتے ہیں  اور اگر وہ عذاب قبر کے انکاری ہیں تو انکو اہل قبلہ کیسے لیں؟ میں کہتا ہوں پہلی بات تواتر نظری ہے اور دوسری اس کا انکار صرف ضرار بن عمرو وبشر المريسي نے کیا ہے اور میں خود متردد ہوں کیونکہ میں نے اس پر انکی  کوئی عبارت اس پر نہیں پائی- پھر خود اہل سنت میں عذاب قبر پر دو قول ہیں ایک یہ کہ یہ صرف روح کو ہوتا ہے دوسرا یہ کہ یہ جسم و روح کو ہوتا ہے اور دوسرا مشھور ہے اس کو الهداية کے اکثر شارحین نے  لیا ہے اور یہ مختار ہے

امام الأشعري (المتوفى: 324هـ) اپنی کتاب مقالات الإسلاميين واختلاف المصلين میں مسلمانوں کے اختلاف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
واختلفوا في عذاب القبر: فمنهم من نفاه وهم المعتزلة والخوارج، ومنهم من أثبته وهم أكثر أهل الإسلام، ومنهم من زعم أن الله ينعم الأرواح ويؤلمها فأما الأجساد التي في قبورهم فلا يصل ذلك إليها وهي في القبور
اور عذاب القبر میں انہوں نے اختلاف کیا : پس ان میں سے بعض نے نفی کی اور یہ المعتزلة اور الخوارج ہیں – اور ان میں سے کچھ نے اثبات کیا ہے اور یہ اکثر اہل اسلام ہیں اور ان میں سے بعض نے دعوی کیا ہے کہ یہ صرف روح کو ہوتا ہے اور جسموں کو جو قبروں میں ہیں ان تک نہیں پہنچتا

کتاب  إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري از المؤلف: أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، أبو العباس، شهاب الدين (المتوفى: 923هـ) کے مطابق بھی بعض ٩٢٣ ھ میں کہہ رہے تھے کہ یہ صرف روح کا سننا ہے

إما بآذان رؤوسهم، كما هو قول الجمهور، أو بآذان الروح فقط، والمعتمد قول الجمهور، لأنه: لو كان العذاب على الروح فقط، لم يكن للقبر بذلك اختصاص، وقد قال قتادة، كما عند المؤلّف في غزوة بدر: أحياهم الله تعالى حتى أسمعهم توبيخًا أو نقمة.

اور سروں میں موجود کان ہیں وہ سنتے ہیں یہ جمہور کہتے ہیں یا پھر فقط روح کے کان ہیں اور معتمد جمہور کا قول ہے کیونکہ عذاب اگر صرف روح کو ہو تو قبر کی کوئی خصوصیت نہیں ہے اور قتادہ نے غزوہ بدر کے لئے کہا کہ ان مشرکین کو زندہ کیا توبیخ کے لئے

یعنی قسطلانی نے ایک معجزہ کو معمول سمجھ لیا  جبکہ امت میں صرف روح پر عذاب کی رائے بھی چلی آ رہی ہے

لہذا اس  مسئلہ میں دو قول ہیں ایک یہ ہے کہ عذاب صرف روح کو ہوتا ہے جس کا ذکر سلف کرتے ہیں لیکن یہ قول کہ یہ صرف جسد کو بلا روح ہوتا ہے عبد الله بن کرام کے فرقہ کرامیہ اور الْمُعْتَزلَة میں الصالحی کا تھا

خوارج اور غیر مقلدین

ابو جابر دامانوی نے خوارج کے انکار عذاب قبر کا حوالہ دیا ہے- اطلاعا عرض ہے کہ اس میں خوارج مختلف الخیال ہیں اکثر کی رائے میں عذاب کفار و منافق پر ہوتا ہے ایمان والوں کے لئے وہ اس کو جزم سے بیان نہیں کرتے

یہاں ہم ایک خارجی عالم  ناصر بن أبي نبهان  الأباضي المتوفی ١٢٦٣  کی رائے پیش کرتے ہیں

إن الله قادر أن يخلق له نوع حياة، يجوز بها ما يدرك الألم والتنعيم، من غير إعادة الروح إليه لئلا يحتاج إلى نزع حياة جديدة، ويجوز بإعادة الحياة دون إعادة الروح

اور بے شک الله تعالی قادر ہے کہ ایک نوع کی حیات (مردوں میں) پیدا کر دے جس سے ان کو الم و راحت کا ادرک ہو بغیر روح لوٹائے کیونکہ اس کو اس نئی حیات کی ضرورت ہے اور جائز ہے کہ حیات کا لوٹنا ہو بغیر إعادة روح کے

بحوالہ  آراء الشيخ ابن أبي نبهان في قاموس الشريعة

ان کا ترجمہ یہاں دیکھ سکتے ہیں

https://ar.wikipedia.org/wiki/ناصر_بن_جاعد_الخروصي#.D9.85.D8.A4.D9.84.D9.81.D8.A7.D8.AA.D9.87

یہ رائے آج سے ١٧٤ سال پہلے خوارج  کے ایک عالم پیش کر چکے تھے – سن ٢٠٠٠ ع سے اس کی تبلیغ فرقہ غیر مقلدین کر رہے  ہیں

This entry was posted in Aqaid, history. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *