ابن خزیمہ اور عذاب قبر کا عقیدہ

محمد بن إسحاق بن خزيمة بن المغيرة بن صالح بن بكر السلمي النيسابوري الشافعي  المتوفی ٣١١  ہجری   سن ٢٢٣ ہجری میں پیدا ہوئے –  سترہ سال کی عمر کے پاس انہوں نے قتیبہ بن سعید سے قرآن سیکھنے کے لئے سفر کیا

 کتاب طبقات الشافعية الكبرى از  تاج الدين عبد الوهاب بن تقي الدين السبكي (المتوفى: 771هـ) کے مطابق ابن خزیمہ سے بخاری و مسلم نے بھی روایت لی جو صحیحین سے باہر کی کتب میں ہیں لکھتے ہیں

روى عَنهُ خلق من الْكِبَار مِنْهُم البخارى وَمُسلم خَارج الصَّحِيح

ابن خزیمہ  سے کبار مثلا بخاری و مسلم نے صحیح سے باہر روایت لی

امام بخاری کی وفات ٢٥٦ ہجری میں ہوئی اس وقت ٣٣ سال کے ابن خزیمہ تھے –  صحیح بخاری امام بخاری کی آخری تصنیف ہے – ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بخاری ان سے سنی گئی روایات اس میں ذکر کرتے اس کے برعکس  دوسری طرف عجیب بات ہے صحیح ابن خزیمہ میں امام  بخاری سے کوئی روایت نہیں لی گئی – معلوم ہوتا ہے یار دوستوں نے ان کو کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے

اس کی مثال ہے کہ ابن خزیمہ سے ایک قول منسوب ہے کہا جاتا  ہے امام ابن خزیمہ  فرماتے ہیں

ما تحت أديم السماء أعلم بحديث رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، ولا أحفظ من محمد بن إسماعيل البخاري

آسمان کی چھت کے نیچے حدیث رسول  صلی الله علیہ وسلم کا محمد بن اسماعیل البخاری سے بڑھ کر علم رکھنے والا اور حفظ کرنے والا کوئی نہیں ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس علم کی جھلک صحیح ابن خزیمہ میں ہوتی لیکن امام بخاری سے صحیح ابن خزیمہ میں ایک بھی روایت نہیں ہے

المليباري کتاب عُلوم الحديث في ضوء تطبيقات المحدثين النقاد میں لکھتے ہیں

ولا ابن خزيمة يروي عن البخاري ولا عن مسلم

أور ابن خزيمة نے نہ امام بخاری سے روایت لی نہ امام مسلم سے

بحر الحال ابن خزیمہ نے کتاب التوحید لکھی جس میں جنت و جہنم کا انکار کرنے والے جھمیوں کا رد کیا اور چلتے چلتے عذاب قبر کا بھی ذکر چھڑ گیا یہاں اس کا ترجمہ  پیش کیا جاتا ہے جو غیر مقلد عالم ابو جابر دامانوی نے دین الخا لص قسط دوم میں پیش کیا

ibn-khuzaimah-azab

اہل حدیث جو سلف کو اپنآ ہم عقائد بتاتے ہیں وہ یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا عقیدہ کس حد تک ابن خزیمہ جیسا ہے

ابن خزیمہ کے بقول بغیر روح عذاب قبر نہیں ہوتا جبکہ اہل حدیث کا عقیدہ ہے  عود روح صرف ایک دفعہ ہوتا ہے پھر روح  کو جسد سے نکال لیا جاتا ہے

ابن خزیمہ کہتے ہیں قبر والا قبر میں زندہ ہوتا ہے جبکہ اہل حدیث کا عقیدہ ہے وہ میت ہے جو مردے کو کہتے ہیں

بحر الحال ہمارے نزدیک صحیح عقیدہ ہے کہ روح جسم سے نکلنے کے بعد اب قیامت کے دن ہی آئی گی اور جسد مٹی میں تبدیل ہو جائے گا عذاب کا مقام البرزخ ہے نہ کہ ارضی قبر

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *