ابراہیم بن ادھم

مسلمان متصوفین کی ایک اہم شخصیت ابراھیم بن ادھم ہیں – طبقات الصوفیہ میں ابراہیم بن ادھم المتوفی ١٦٥ ھ  کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے

إبراهيم بن أدهم، أبو إسحاق. من أهل بَلْخ كان من أبناء الملوك و المَياسير. خرج متصيِّداً، فهتف به هاتف، أيقظه من غَفْلَتِه. فترك طريقته، في التَّزَيُّن بالدنيا، و رَجَع إلى طريقة أهل الزُّهْد و الورع. و خرج إلى مكة، و صحب بها سفيان الثَّوري، و الفُضَيْل بن عِياض. و دخل الشام، فكان يعمل فيه، و يأكل من عمل يده

ابو اسحاق ابراہیم بن ادھم بلخی تھے شاہی خاندان سے تعلق تھا.  شکار کے لیے نکلے اور ایک آواز سنی، غفلت سے بیدار ہوۓ ، دنیا کی زینت کا راستہ چھوڑ دیا ، زہد و تقویٰ کی طرف مائل ہوۓ  اور مکہ کی طرف رخ کیا.  امام سفیان ثوری اور امام الفُضَيْل بن عِياض کے ساتھ رہے،  داخل شام  ہوۓ ، پس وہاں ہاتھ سے کام کیا  اور اپنے باتھ کا کھایا ۔

 ابراہیم بن ادھم  کے لئے ایک انگریز شاعر نے نظم کہی  جس کی ترجمانی اردو میں کی جاتی ہے

 

Abou Ben Adhem (may his tribe increase!)

Awoke one night from a deep dream of peace,

And saw, within the moonlight in his room,

Making it rich, and like a lily in bloom,

An angel writing in a book of gold:—

Exceeding peace had made Ben Adhem bold,

And to the Presence in the room he said

“What writest thou?”—The vision raised its head,

And with a look made of all sweet accord,

Answered “The names of those who love the Lord.”

“And is mine one?” said Abou. “Nay, not so,”

Replied the angel. Abou spoke more low,

But cheerly still, and said “I pray thee, then,

Write me as one that loves his fellow men.”

 

The angel wrote, and vanished. The next night

It came again with a great wakening light,

And showed the names whom love of God had blessed,

And lo! Ben Adhem’s name led all the rest.

 

James Henry Leigh Hunt

 

ابو بن ادھم (اس کا گروہ بڑھے)

اک روز گہرے خواب امن سے بیدار ہوا

اور چاندنی میں اپنے حجرہ میں دیکھا

جس نے اس کو بھرا ہوا تھا جیسے سوسن کھلا  ہو

اک فرشتہ سنہری کتاب میں لکھ رہا تھا

بڑھتے امن نے بن ادھم کی ہمت بندھائی

اور وہ گویا ہوئے

تم کیا لکھ رہے ہو؟  فرشتے نے سر اٹھایا اور نگاہ واحد میں معاملہ کر لیا

 

ان لوگوں کے نام جو خدا سے محبت کرتے ہیں

کیا میرا نام ہے اس میں؟ بن ادھم نے پوچھا

نہیں فرشتہ بولا

 

ابو بن ادھم نے دھیمی لیکن خوشی کی آواز میں کہا

میں تم سے گزارش کرتا ہوں مجھ کو بھی ان میں لکھ دو

جو اسکے بندوں سے محبت کرتے ہیں

 

فرشتہ نے لکھا اور غائب ہوا-

اگلی رات پھر ظاہر ہوا

 

اب وہ ایک بیدار کر دینے والی روشنی کے ساتھ آیا

اور ان کو وہ نام دکھائے جن کو محبوب ربانی کی سند ملی

 

اور خبردار! ابو بن ادھم کے بعد دوسروں کے نام تھے

 

جمیز ہینری لائح ہنٹ

جمیز ہینری لائح ہنٹ   انجہانی ١٨٥٩ ع  کو ابراھیم بن ادھم کی شخصیت میں ایسی کیا کشش نظر آئی کہ ان پر ایک نظم کہہ ڈالی؟  اس سوال کا جواب کافی عرصۂ تلاش کیا لیکن  کافی دن بعد ملا جب ایک کتاب  روحانی باغ پڑھی – یہ کتاب ان عیسائیوں کی ہے جو دور بنوی میں غاروں میں رہتے اور سخت مشقتیں کر رہے تھے – وہ اس معبود برحق کی تلاش میں تھے جس کو ان کے نزدیک کسی بھی وحی کے بغیر سمجھا جا سکتا  تھا – شام عراق مصر اردن کے پہاڑوں کے غاروں میں بیٹھے ان اہل کتاب صوفیا کا مقصد کشف تھا- وہ پردہ غیب میں جھانک کر حقیقت کو چھونا چاہتے تھے – اس کاوش کو قرآن ان کی ذاتی ایجاد کہتا ہے- الله تعالی سوره الحدید  ٢٧ میں کہتا ہے

 ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الإنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ

پھر اس کے بعد ہم نے  اپنے انبیاء  اور عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اس کو انجیل دی اور ان ماننے والوں کے دلوں میں رحم اور رقت ڈال دی اور رہبانیت کو انہوں نے شروع کیا تاکہ الله کی رضا حاصل کریں ،  ہم نے اس کا حکم نہ دیا تھا،   لیکن وہ اس کو کما حقہ ادا نہ کر سکے پس ہم نے ایمان والوں کو اجر دیا اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں

عیسائیوں کے کے ایک مشھور راہب یوحنا مسکوس (المتوفی ٤ ھ/  ٦١٩ع )   تھے جن کا ذکر نصرانی کتب میں ملتا ہے.  ان کی پیدائش ٥٥٠ ع کی ہے یعنی یہ دور بنوی کے ہیں . یوحنا مسکوس  ، صوفرونئوس (المتوفی ١٧ ھ/  ٦٣٨ ع) کے استاد تھے جو یروشلم کے   پیٹرآرک بنے اور  یہ صوفرونئوس ہی تھے جنہوں نے ١٦ ھ میں عمر رضی الله عنہ کو یروشلم کا فتح ہونے کے بعد دورہ کرایا تھا. صوفرونئوس اور انکے شیخ  یوحنا مسکوس نے  شام، مصراور عراق میں راہبوں کی حکایات جمع کی ہیں جن سے ان کے متصوفانہ طرز حیات کا پتا چلتا ہے

درج ذیل اقتباس کتاب  روحانی باغ

  Pratum Spirituale

سے لیا گیا ہے . یہ سب ایک کی کتاب کے نام ہیں یونانی اور لاطینی زبانوں میں لیکن

Spiritual Meadow

کے نام سے چھپی ہے

When we were in Alexandria we visit Abba Theodoulos who was at the church of Saint Sophia holy wisdom by the Lighthouse. He told us:  It was in the community of our saintly father Theodoulos which is  in the wilderness of the city of Christ our God that I renounced the World there I met a great elder named Christopher, a Roman by race. One day I prostrated myself before him and said of your  charity Abba tell how you have spent your life from youth up I persisted in my request and because he knew I was making it for the benefit of my soul. He told me saying When  I renounced the World child I was full of ardour for monastic way of life. By day I would carefully observe the rule of prayer and at night I would go to pray in the cave where the saintly Theodoulos and the other holy fathers are buried. As I went down into the cave I would make a hundred prostrations to God at each step: there were eighteen steps. Having gone down all the steps, I would stay there until they struck the wood at which time I would come back up for the regular office. After ten years spent in that way with fastings and continence and physical labour, one night I came as usual to go down into the cave. After I had performed my prostrations on each step, as I was about to set foot on the floor of the cave I felt into the trance. I saw the entire floor of the cave covered with  lamps, some of which were lit and some were not. I also saw two men, wearing  mantles and clothed in white, who tended those lamps. I asked them why they had set those lamps out in such way that we could not go down and pray. They replied: These  are the lamps of the fathers. I spoke  to them again: Why some of them lit while others are not?  Again they answered those who wished to do so lit there own lamps. Then I said to them: Of your charity is my lamp lit or not? Pray they said and we will light it. Pray I immediately retorted and what I have been doing until now? With these words I returned to my senses and, and when I turned round, there was not a person to be seen. Then I said to myself Christopher , if you want to be saved,  then yet greater effort is required. At dawn  I left monastery and went to Mount Sinai. I had nothing with me but the clothes I stood up in, after I had spent fifty years of monastic endeavours. There, a voice came to me Christopher, go back to your community in which you fought in the good fight so that you may die with your fathers.

جب ہم اسکندریہ میں تھے تو ہم ابّا تھودولوس سے ملے جو نور مینارکے پاس  سینٹ صوفیا پاک حکمت والے  کلیسا میں تھے. انہوں نے بتایا: میں بزرگ تھودولس جو ہمارے آقا (عیسیٰ علیہ السلام) کے شہر کے بیابان میں رہتے ہیں، کی معیت میں تھا،  وہاں میں ایک بزرک کرسٹوفر سے ملا جو نسلا رومی تھے ایک دن میں نے ان کو سجدہ کیا اور کہا ابا آپ مجھے اپنی زندگی کے بارے میں بتائے جوانی سے آج تک اور میں مسلسل اصرار کرتا رہا چونکہ وہ جانتے تھے کہ میں اپنی روح کے فائدے کے لئے ایسا کر رہا ہوں انہوں نے مجھ کو بتایا کہ جب میں نے دنیا ( کی آسائش) کوخیرباد کہا ، بیٹا اس وقت میں خانقاہی زندگی کے حوالے سے بہت جوش میں تھا. دن میں،  میں بہت لگن سے عبادت کے اصول پر عمل کرتا اور رات میں غار میں جس میں بزرگ تھودولوس اور دوسرے بزرگ دفن ہیں، میں عبادت کرتا. جب میں غار میں اترتا تو میں الله کو ١٠٠ سجدے ہر قدم پر کرتا، کل ١٨ قدم پڑتے تھے.  میں وہی رہتا حتیٰ کہ یہ لوگ لکڑی پر ضرب لگاتے اور میں واپس دفتر اتا.  قریب ١٠ سال اسی طرح صوم و عبادت کی مشقت میں گزارنے کے بعد ، ایک رات میں حسب روایت غار کے فرش پر قدم رکھنے لگا تو میں غرق مکاشفہ ہوا. میں نے دیکھ کہ غار کا سارا فرش دیوں سے  بھرا ہے جس میں سے کچھ جل رہے ہیں  اور کچھ بجھے ہیں . میں نے دو آدمیوں کو بھی دیکھا کہ سفید لباس میں ہیں جو ان دیوں کو لگا رہے ہیں میں نے پوچھا کہ آخر اس طرح کیوں دیے لگانے گئے ہیں کہ ہم اندر جا بھی نہ سکیں؟  انہوں نے جواب دیا کہ یہ دیے بزرگوں کے ہیں . میں نے دوبارہ بات کی: ایسا کیوں ہے کہ کچھ جل رہے ہیں اور کچھ بجھے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جن کو جلانا ہو وہ خود جلاتے ہیں. میں نے پوچھا کہ میرا دیا جل رہا ہے یا بجھا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا عبادت کرو ہم اسکو جلائیں گے. میں نے کہا عبادت! تو بھی تک میں کیا کر رہا تھا؟  اس کے بعد مکاشفہ کی کفیت ختم ہوئی. اور میں نے دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا. پھر میں نے اپنے آپ سے کہا کرسٹوفر، اگر تم نجات پانا چاہتے ہو تو اس سےزیادہ  کاوش چاہیے.  واپس اپنے لوگوں میں جاؤ  جن میں تم (شیطان کی اکساہٹوں سے) لڑو پھر جب مرو گے تو بزرگوں کے ساتھ ھو گے.

ابراہیم بن ادھم ، ابّا تھودولوس سے بڑھ کر صوفی تھے ان میں اختلاف نہ صرف عقیدے کا تھا بلکہ فرشتہ نے ابّا تھودولوس کو کہا کہ اور محنت کرو لیکن ابو بن ادھم ان سے آگے نکل گئے

کسی دور میں متصوفین میں یہ جھگڑا پیدا ہوا کہ کون اور کہاں کے صوفیاء بہتر ہیں؟ کیا عرب کے یا افغانستان و سینٹرل ایشیا کے ؟  کیونکہ اسلام پھیل رہا تھا اور کئی علاقوں میں صرف تصوف کو ہی اصلی اسلام سمجھا جاتا تھا –

ابراہیم بن ادھم اغلبا ایک فرضی کردار تھا جس میں بدھآ کی حکایات پر ابراھیم بن ادھم کا اسلامی کردار تراشا گیا-  عرب متصوفین نے بلخ کے اس راہب کا کردار گھڑا – ابراہیم بن ادھم اغلبا  ابراہیم بن آدم ہے یعنی ابن آدم کی اولاد میں سے – ابراہیم سے نسبت دی گئی ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے وحی الہی کے بغیر مشاہدے سے کائنات کی حقیقت کو جانا تو گویا یہ کوئی بھی عام صوفی  کر سکتا ہے – نہ صرف یہ بلکہ بدھآ نے بھی نروان اسی وقت حاصل کیا جب کائنات میں موجود جبر و قدر نے اس کو الجھا دیا – لہذا بلخ ایک مناسب جگہ تھی جہاں سے ایک اسلامی بدھآ کو نکالا جاتا ہے جس نے بدھآ کی طرح بادشاہت کو خیر باد کہا اور بدھ مت کے سادھوں کی طرح ہر دو قدم پر سجدہ کرتے  خدا کے لئے کعبه کے قصد سے نکلا

حکایت بیان کرنے والا جانتا ہے کہ وہ   بدھ مت کے کس طرز کی بات کر رہا ہے آپ شاید نہ جانتے ہوں لہذا یہ دیکھیں

https://www.youtube.com/watch?v=6-hsCfIOasM

اب کہانی آگے بڑھتی ہے ابراہیم بن ادھم ١٤ سال میں مکہ پہنچتے ہیں لیکن کیا ہوتا ہے-   انیس الارواح  از عثمان ہارونی مرتبہ  معین الدین چشتی، ص ١٧، ١٨ پر حکایت لکھی ہے کہ عثمان ہارونی نے

ibraheemBinAdham

اس حکایت میں ضعیفہ ، رابعة العدوية (المتوفی ١٣٥ ھ یا ١٨٥ ھ) جن کا مکمل نام   رابعة بنت اسماعيل أم عمرو العدوية ہے. ان کو أم الخير بھی کہا جاتا ہے کا ذکر ہے جو  یہ دعوی کرتی تھیں کہ یہ الله کی عبادت جنّت حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ الله کی خوشنودی کے لئے کرتی ہیں (یعنی باقی صوفی ایسا کرتے تھے مثلا ابراہیم بن ادھم بلخی).

حکایت میں بتایا گیا ہے کہ ایک عربی صوفی بڑھیا رابعة  بلخ کے صوفیوں سے بہتر تھیں اور یہاں تک کہ ابراہیم بن  ادھم  کے حوالے سے پردۂ غیب کو ہٹا بھی سکتی تھیں – ابراہیم کی یہ تمام محنت اکارت گئی کیونکہ وہ اصلی صوفی نہیں تھے اصلی تو عراق میں بصرہ کی ایک بڑھیا تھی

یعنی یہ کہانی گھڑنے والوں نے ابراہیم کا مقابلہ کسی مرد سے نہیں کرایا بلکہ ایک عورت اور وہ بھی بڈھی کو دکھایا کہ ہماری عرب صوفی بڑھیا بھی بلخیوں سے بڑھ کر ہے

ابراہیم بن ادھم بعد میں اپنی غلطی درست کرتے ہیں عرب صوفیا کے ساتھ رہتے ہیں

یہ ان کے کردار کا مرکزی خیال ہے

This entry was posted in Mysticism. Bookmark the permalink.

One Response to ابراہیم بن ادھم

  1. Waheed says:

    Jazakallah khair.

    Allah aap ko jizaiyay khair dayy. Ameen.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *